اظہارِ حق


از: حضرت مولانا سید احمد حبیب شاہ صاحب کاظمی
ناظم اعلیٰ مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوارالعلوم ملتان
ماہنامہ "قائد" بابت محرم و صفر ۱۳۷۰ھ میں شہادت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذِکر کرتے ہوئے علماء مؤرخین کی تصریحات کی روشنی میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق جو عبارتیں میں نے لکھی ہیں اور بعض احباب نے ان پر نکتہ چینی فرمائی ہے۔ حاشاو کلا ان سے میرا مقصد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توہین و تنقیص اور ان پر طعن و تشنیع ہر گز نہیں۔ کوئی مسلمان کسی صحابی رسول اللہ ﷺ کے حق میں ایسی جرأت نہیںکرسکتا۔
چونکہ ہمارے علماء نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعض کاموں کو خطاء اجتہادی منکر قرار دیا ہے اور خطاء منکر پر انکار کرنے کی تصریح فرمائی ہے اس لئے میں نے ان امور پر محض انکار کیا ہے او رجن عبارتوں میں میں نے انکار کیا ہے وہ میری اپنی نہیں بلکہ اجلہ صحابہ کرام و علماء اعلام سے منقول ہیں۔ جیسا کہ میں جواب استفسار میں ان کے حوالہ جات نقل کرچکا ہوں۔ بایں ہمہ متعدد احباب کے اصرار کی وجہ سے میں نے ان عبارات پر غور کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ صحابہ کرام میں سے جن حضرات نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خطاء اجتہادی پر شدید الفاظ و عبارات میں انکار فرمایا وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمعصر اور نفس صحابیت میں مساوی طور پر شریک اور ہم پایہ تھے اور ہمعصر و ہم پایہ بزرگوں کے آپس میں اگر اس قسم کی باتیں ہوجائیں یا ایک بزرگ سے دوسرے کی شان میں کوئی اونچ نیچ یا کمی بیشی ہوجائے تو ہمیں حق نہیں پہنچتا کہ ان بزرگوں کے متعلق ہم بھی وہی روش اختیار کریں اور وہی الفاظ ان کے حق میں بولیں جو کسی بزرگ نے استعمال کئے ہیں۔ مثال کے طور پر سیدنا موسیٰ و ہارون علیہما الصلوٰۃ و السلام کا واقعہ کافی ہے کہ سیدنا
موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سیدنا ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سر اقدس اور ریش مبارک کے نورانی بالوں کو جلال کی حالت میں پکڑ لیا تھا، جس پر حضرت ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ
لَا تَأْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَلَا بِرَاْسِیْ ۔ سب مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام دونوں نبی ہیں۔ لیکن اس واقعہ کی بناء پر حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نبی کی توہین کا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا، نہ ان کے اس فعل کو کوئی شخص اپنے لئے دلیل جواز بنا سکتا ہے۔ علیٰ ہذا القیاس۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما یا کسی دوسرے صحابی نے اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں کوئی سخت کلمہ کہہ دیا تو نہ اس کہنے والے صحابی پر کوئی الزام عائد ہوسکتا ہے نہ اس کے قول کو ہم اپنے لئے دلیل جواز بناسکتے ہیں۔ اس بناء پر باوجودیکہ ان عبارات سے میری نیت ہر گز حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توہین نہ تھی، لیکن اس کے باوجود میں صدقِ دل کے ساتھ ان عبارتوں سے رجوع کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ و عم نوالہٗ کی بارگاہ اقدس میں انتہائی خشوع و خضوع اور خلوص و تضرع کے ساتھ دُعا کرتا ہوں کہ اے میرے معبودِ حقیقی! تو میری نیت کو خوب جانتا ہے۔ اپنے حبیب ﷺ کے طفیل میری اس لغزش اور غلط فہمی کو معاف فرماکر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روح مبارک کو مجھ سے راضی کردے، تاکہ آخرت میں تیرا یہ بندۂ عاصی تیری رحمتوں سے محروم نہ ہو۔ وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللہِ بِعَزِیْزٍ۔ اس کے بعد میں اپنے ان احباب کا شکریہ ادا کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا جن کے توجہ دلانے سے میں نے اس مسئلہ پر غور کیا اور بعونہٖ تعالیٰ امر حق تک پہنچ کر اسے قبول کرنے کے شرف سے مشرف ہوا۔ فجزاہم اللہ احسن الجزاء فی الدنیا والاخرة وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی حبیبہ ورسولہ محمد المطصفٰی وعلٰی آلہ وصحبہ البررۃ التقی


فقیر سید احمد حبیب کاظمی غفرلہٗ
ناظم مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوارالعلوم ملتان