کلمہ طیبہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ
ترجمہ: نہیں ہے کوئی معبود اللہ کے سوا حضرت محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔


لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
توحید: یہ کلمہ طیبہ توحید پر مشتمل ہے۔توحید کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کو معبود برحق، وحدہٗ لاشریک لہٗ ماننا اور یہی دین کی بنیاد ہے۔
الوہیت: استحقاقِ عباد۱ت یا وجوب کو الوہیت کہتے ہیں۔جو ذات مستحق واجب الوجود کے لیے مستحق عبادت ہونا ضروری ہے۔
مشرکین کی سفاہت ہے کہ وہ اپنے بتوں اور معبودوں کو ممکن الوجود مان کر معبود اور مستحق عبادت سمجھتے ہیں۔
عبادت: غایت تعظیم اور انتہاء تذلل کو عبادت کہتے ہیں جس کی اصل یہ ہے کہ عبادت کرنے والا جس کی عبادت کرتا ہے اس کے لیے ذاتی اور مستقل صفت مانتا ہے جس میں کسی کی قدرت و مشیت کو کسی قسم کا کوئی دخل نہ ہو۔
اصل عبادت اسی اعتقاد کو کہتے ہیں۔اس اعتقاد کے ساتھ کسی کی اطاعت و محبت یا اس کے لیے کوئی عمل کرنا اس کی عبادت ہے۔ بغیر عمل کے کسی کے لیے صرف اعتقاد کا ہونا بھی اس کی عبادت قرار پائے گا۔
استعانت: الوہیت اور عبادت کے معنی واضح ہونے کے بعد استعانت کے معنی خود بخود سمجھ میں آجاتے ہیں اور وہ یہ کہ کسی کے لیے عون کی ایسی صفت مستقلہ مان کر جو مقہوریت اور مغلوبیت سے بالا تر ہو اس سے طلب عون کو استعانت (حقیقیہ) کہا جاتا ہے ایسی استعانت صرف معبود حقیقی کی شان کے لائق ہے، لہٰذا مستعان وہی ہوسکتا ہے اس کے غیر سے استعانت دراصل اس کی الوہیت و معبودیت کے اعتقاد کے منافی ہے۔
فائدہ: چوں کہ الوہیت اور معبودیت استقلال ذاتی کے بغیرمتصور نہیں، اس لیے کسی کو مجازی معبود و الٰہ نہیں کہہ سکتے بخلاف استعانت،محبت اور اطاعت وغیرہ کے کہ یہاں مستعان مجازی اور محبوب مجازی کہہ سکتے ہیں۔ کیوں کہ مظاہر کائنات میں خالق حقیقی نے یہ اوصاف پیدا کیے ہیں او رجو چیزپیدا کی ہوئی ہو اس میں استقلال ذاتی ممکن نہیں جس طرح استقلال ذاتی میں حدوث و مکان کا شائبہ نہیں پایا جاتا۔ لہٰذا الٰہ اور معبود کو مجازی کہنا بالکل ایسا ہوگا جیسے واجب الوجود کو حادث کہہ دیا جائے۔
مختصر یہ کہ الوہیت کے مفہوم کا خلاصہ، غلبہ اور استقلال ذاتی ہے جو ذات اس سے متصف ہوگی اس کے لیے استحقاق عبادت و استعانت اور وجوب وجود بداہۃضروری ہوگا اور یہ ملازمت و ضرورت کا سلسلہ ایسا ہے کہ معبود برحق کے تمام اوصاف واقعیہ کو اعتقاد کے سامنے لے آتا ہے اور ایک مومن و مصدق اس کی روشنی میں معبودِ حقیقی کے تمام اوصاف کو بلاتامل تسلیم کرلیتا ہے۔
مثلاً استحقاق عبادت کے لیے ضروری ہے کہ معبود سب سے بڑا اور عظمت والا ہو نیزاس کے لیے واجب الوجود ہونا بھی ضروری ہو کیوں کہ امکان کی صورت میں احتیاج لازم آئے گی اور محتاج غایت تعظیم کا مستحق نہیں ہوسکتا، اسی طرح واجب الوجود ہونے کے لیے صانع عالم ہونا لازم ہے کیوں کہ سلسلہ ممکنات کا غیر متناہی ہونا محال ہے،لامحالہ کسی واجب پر ختم ہوگا وہی صانع قرار پائے گا۔ پھر صانع کا تعدد امکان تمانع کو مستلزم ہے اور امکان تمانع اجتماع نقیضین کو مستلزم ہے اور ظاہر ہے کہ اجتماع نقیضین ممکن نہیں بلکہ محال ہے اور مستلزم محال یقینا محال ہوتا ہے۔اس لیے امکان تمانع باطل قرار پائے گا اور تعدد صانع ممتنع ہوگا۔معلوم ہوا کہ صانع کا ایک ہونا ضروری ہے۔جب صانع کا وجود ضروری ہو تو اس کے لیے حیات علم و قدرت،سمع و بصر، کلام ارادہ اور حکمت و مشیت تمام اوصاف کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ صانع نہیں ہوسکتا۔اسی طرح صانع کے لیے کائنات کا رب ہونا اور ربوبیت کے لیے رحمان و رحیم ہونا سب کچھ ضروریات و لوازمات سے ہے کہ لزوم و ضرورت کا یہ سلسلہ ایسا ہے کہ ایک صفت کے ساتھ دوسری اور دوسری کے ساتھ تیسری اور اسی طرح ہر صفت ملزومہ کے ساتھ صفت لازمہ ثابت ہوتی چلی جائے گی۔
شرک: توحید کی نقیض شرک ہے، چونکہ توحید امر واجب لذاتہٖ کا اعتقاد ہے اور واجب لذاتہٖ کا نقیض ممتنع  لذاتہٖ ہے۔لہٰذا جب تک کسی امر ممتنع لذاتہٖ کا اعتقاد نہ ہو اس وقت تک شرک مستحق نہ ہوگا۔مثلاً اللہ تعالیٰ کا مستقلاً بالذات قادر مطلق ہونا واجب لذاتہٖ ہے اور اس کا اعتقاد توحید ہے اور اللہ تعالیٰ کے غیر کا مستقلاً بالذات قادر مطلق ہونا ممتنع لذاتہٖ ہے تو جو شخص غیر خدا کے حق میں ایسا اعتقاد رکھے وہ شرک ہے اور اس کا یہ اعتقاد شرک قطعی ہے۔خواہ وہ ایسی قدرت بعطاء خداوندی ہی کیوں نہ مانتا ہو۔کیوں کہ صفت مستقلہ اوصاف الوہیت سے ہے اور وصف الوہیت کی عطاء ممتنعات ذاتیہ سے ہے۔لہٰذا اعطائے الوہیت کا معتقد بھی امر ممتنع لذاتہٖ کا اعتقاد رکھنے کی وجہ سے مشرک قرار پائے گالیکن اگر کسی غیر خدا کے حق میں کوئی شخص یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تمام ممکنات پر غیر مستقل قدرت عطا کردی ہے تو یہ اعتقاد شرک نہ ہوگا کیوں کہ غیر مستقل قدرت عطا کرنا تحت قدرت ہے اور جو چیزتحت قدرت ہو ممکن بالذات ہے اور کسی ممکن بالذات کا ممتنع لذاتہٖ ہونا محال ہے اور جب تک کسی امر ممتنع لذاتہٖ کا اعتقاد نہ ہو مشرک نہیں ہوسکتا۔لہٰذا تمام ممکنات پر اللہ تعالیٰ کا اپنے کسی محبوب کو غیر مستقل قدرت عطا کرنے کا اعتقاد ہر گز شرک نہ ہوگا۔
قدرت کی طرح علم،سمع،بصر کو بھی سمجھ لیجیے۔اگر کوئی شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی محبوب کو تمام مخلوقات کا غیرمستقل یعنی ممکن اورحادث علم عطا کردیا ہے یا دور و نزدیک کی ہر شے اور ہر آواز کے سننے دیکھنے کی غیر مستقل صفت کا عطا کرنا تحت قدرت ہونے کی وجہ سے ممکن ہے اور امر ممکن کا اعتقاد شرک نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا استقلال ذاتی ہی کا عقیدہ شرک ہوگا۔کیوں کہ استقلال و الوہیت کی عطا ممتنع لذاتہٖ ہے اور اسی کا اعتقاد شرک ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ توحید و الوہیت اور عبادت و شرک کے ان مفاہیم کو ذہن نشین کرلینے کے بعد یہ حقیقت بے غبار ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ الٰہ برحق صرف وہی ذات واجب الوجود ہے جو ہر صفت کمال سےمتصف اور ہر عیب و نقص سے پاک ہو اور اسی ذات مقدسہ کا نام اللہ ہے اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں۔ یہ معنی ہیں
لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ کے اور اصل دین بھی یہی ہے۔
 

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ
محمد (ﷺ) اللہ (تعالیٰ) کے رسول ہیں۔
محمد: لفظ محمد کا مادہ حمد ہے اور التحمید مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ ہے جس میں مبالغہ کے معنی پائے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول خاتم النبیین ﷺ کا نام مبارک اور اسمائے مبارکہ میں سے اسم ذات ہے اس کے معنی ہیں بہت زیادہ بار بار حمد کیا ہوا،بے شمار تعریف کیا ہوا، مطلقاً سراہا ہوا۔
مواہب اللدنیہ میں امام قسطلانی رحمۃاللہ علیہ نے ایک حدیث کا مضمون ارقام فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آسمانوں میں حضور ﷺ کا مشہور نام مبارک احمد ہے اور زمین میں محمد (ﷺ)۔
احمد: لفظ "احمد" کا مادہ بھی حمد ہے۔احمد مصدر سے اسم تفضیل کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بہت زیادہ حمد کرنے والا۔ حمد کرنے والا ضرور قابل تعریف ہوتا ہے اور جو قابل تعریف ہو وہ یقیناً مستحق حمد کی تعریف کرتا ہے۔لہٰذا حمد ہونے کے لیے محمد ہونا ضروری ہے اور محمد ہونے کے لیے احمد ہونا لازمی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے "احمد و محمد" دونوں کو حضور ﷺ کے اسماء ذاتیہ سے شمار کیا ہے اور بعض نے دونوں کو ہم معنی بھی قرار دیا ہے۔


بشارت عیسیٰ علیہ السلام اور ایک شبہ کا ازالہ
قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک بشارت ان الفاظ میں مذکور ہے:
وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ
ترجمہ: میں بشارت دیتا ہوا آیا ہوں اس رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہے۔
اس مقام پر ایک شبہ وارِد ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن مجید میں چار جگہ حضور ﷺ کا نامِ مبارک محمد آیا ہے (ﷺ)۔اسی طرح اذان، نماز، کلمہ اور درود سب میں حضور علیہ الصلوٰة والسلام کا نام مبارک محمد ہی وارد ہے تو ایسی صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسمہٗ احمد کی بجائے اسمہٗ محمد کیوں نہیں فرمایا۔ لفظ "احمد" کے ساتھ بشارت میں یہ خدشہ لاحق ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے احمد کے آنے کی بشارت دی ہے اور حضور "محمد" ہیں۔ لہٰذا ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی کا مصداق کوئی اور ہو جس کا نام "احمد" ہو۔
اس کے متعدد جواب ہوسکتے ہیں لیکن سرِدست ہم صرف ایک جواب پر اکتفاکرتے ہیں۔وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانی الاصل ہیں اور وہ اس طرح کہ ان کی تخلیق نفخ جبرئیل علیہ السلام سے ہوئی یعنی اس کے بغیر کہ نفخ جبرائیل علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے مادہ تسلیم کیا جائے بلکہ محض سبب اولین ہونے کی حیثیت سے اور اس اعتبار سے کہ جبرائیل علیہ السلام کا نفخ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حضرت مریم علیہ السلام کے حاملہ ہونے کا ذریعہ بنا۔لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی اصل نفخ جبرائیل علیہ السلام قرار پایا اور نفخ جبرائیل ذاتِ جبرائیل علیہ السلام سے متعلق ہے اور ذاتِ جبرائیل علیہ السلام آسمانی ہے۔اس لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانی الاصل قرار پائے۔
اور ہم سابقاً عرض کرچکے ہیں کہ حضور ﷺ کا نام مبارک احمد آسمانی ہے،لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام نے اسی نام پاک کے ساتھ بشارت دی تاکہ اس بشارت سے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانی الاصل ہونے پر روشنی پڑ جائے کیوں کہ بہترین کلام وہی ہوتا ہے جس سے متکلم کی حیثیت نمایاں ہوجائے تو گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لفظ "احمد" کے ساتھ بشارت دے کر بتادیا کہ میں آسمانی الاصل ہوں۔اسی لیے آسمانی بولی بول رہا ہوں۔جو جہاں کا ہوتا ہے وہیں کی بولی بولتا ہے۔
اب لفظ "محمد" کی طرف آئیے اور کلمہ طیبہ میں اس کے وارد ہونے پر غور كیجئے۔ کلمہ طیبہ دراصل دین متین کی بنیاد ہے۔ اسے پیشِ نظر رکھنے سے معلوم ہوگا کہ یہاں لفظ "محمد" (ﷺ) کی حیثیت کس قدر عظیم و جلیل ہے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ یہ کلمہ طیبہ کا جزو اول جو توحید اور اللہ تعالیٰ کی الوہیت و معبودیت کے مضمون پر مشتمل ہے۔ بمنزلہ دعویٰ کے ہے جسے تسلیم کرنے کے لیے ہر انسان دلیل کا محتاج تھا اور وہ دلیل کلمہ طیبہ کا جزوِ ثانی "
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ" ہے۔
ابھی عرض کرچکا ہوں کہ "محمد" کے معنی ہیں بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور تعریف ہمیشہ خوبی اور حسن و جمال کی ہوتی ہے۔ عیب کی تعریف نہیں ہوتی بلکہ اس کی مذمت کی جاتی ہے۔معلوم ہوا کہ جس ذات پاک کو "محمد" کہا گیا ہے وہ عیب و نقص اور برائی و ذم سے پاک ہے اور مجسمہ حسن و جمال ہے اور یہ اس لیے کہ وہ دلیل ہے دعویٔ توحید کی،توحید کا دعویٰ بالکل بے عیب ہے اس لیے اس کی دلیل بھی بے عیب ہونی چاہیے۔،اسی بے عیب دلیل کا نام "محمد رسول اللہ ﷺ" ہے۔


وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْنِ