اولیاء اللہ کا بیک وقت کئی مقامات پر پایا جانا


ترجمہ: الحاوی للفتاویٰ:- از مدیر مسئول
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اپنے رسالہ "المنجلی فی تطور الولی" میں فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک سوال آیا کہ ایک شخص نے حلف بالطلاق کے ساتھ کہا کہ حضرت شیخ عبدالقادر طشطوطی فلاں رات میرے پاس رہے۔ دوسرے آدمی نے بھی طلاق کی قسم کھا کر کہا کہ رات حضرت عبدالقادر طشطوطی میرے پاس رہے ہیں۔ تو کیا ان دونوں میں سے کسی کی عورت پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
میں نے اپنا قاصد حضرت شیخ عبدالقادر طشطوطی کے پاس بھیج کر اس واقعہ کی تحقیق طلب کی۔ انہو ںنے جواب دیا کہ اگر چار آدمی بھی کہیں کہ عبدالقادر طشطوطی ایک ہی رات الگ ہمارے گھر رہے تو وہ سب سچے ہوں گے۔ یہ جواب سن کر میں نے فتویٰ دے دیا کہ ان دونوں میں کوئی بھی اپنی قسم میں جھوٹا نہیں۔ لہٰذا کسی کی عورت پر بھی طلاق واقع نہ ہوگی۔
اور اس کی تقریر از روئے فقہ یہ ہے کہ یہ صورت واقعہ تین حال میں سے کسی ایک سے خالی نہ ہوگی۔ یا یہ کہ ان دونوں میں سے ہر شخص اپنے دعوے پر عینی شہادت پیش کردے یا دونوں میں سے کوئی بھی شہادت شرعیہ پیش نہ کرسکے یا کوئی ایک پیش کردے اور دوسرا پیش نہ کرے۔
پہلے دونوں حال ایسے ہیں کہ ان میں ہر دو قسم کھانے والوں کا ایک ساتھ جھوٹا ثابت نہ ہونا ظاہر ہے۔ اس لئے کہ دونوں کا معاً جھوٹا ہونا ممکن نہیں، شہادت شرعیہ قائم کرنے کی صورت میں تو اس لئے کہ اقامۃ بینہ اور شہادت شرعیہ موجب تصدیق ہے۔ تصدیق کا موجب ہوتے ہوئے تکذیب کیسے ہوسکتی ہے؟ اور عدم اقامہ بینہ کی صورت میں اس لئے کہ دونوں میں سے کسی کی تکذیب کا موجب نہیں پایا جاتا اور بغیر موجب تکذیب کے مسلمان کی تکذیب شرعاً جائز نہیں اور اگر ایک کی تصدیق اور دوسرے کی تکذیب کی جائے تو یہ تحکم ہوگا اور ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی جو باطل ہے۔ البتہ تیسرا حال جس میں ایک نے اپنے دعوے پر شہادت شرعیہ قائم کردی اور دوسرا نہ کرسکا۔ اس میں ایسے لوگوں کو نزاع کا موقع ہاتھ آئے گا جو شخص واحد کے وجود کو بیک وقت دو جگہ پائے جانے کو ناممکن اور محال کہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا یہ کہنا محض ایک توہم ہے۔ اس لئے کہ ائمہ اعلام نے تصریح کی ہے کہ یہ جائز اور ممکن ہے۔ لہٰذا جب شخص واحد کے وجود کا بیک وقت ایک سے زیادہ مقامات میں پایا جانا ازروئے تصریحات ائمہ اعلام جائز و ممکن ہو تو ان دونوں میں سے جو اقامۃ بینہ نہ کرسکا۔ اپنی قسم میں کیونکر جھوٹا قرار دیا جاسکتا ہے اور محض شک کی بناء پر اس کی عورت کس طرح مطلقہ ہوسکتی ہے؟ اور یہ ایسا امر ہے جس کے اثبات کی حاجت نہیں۔ امر محلوف علیہ کا صرف امکان ثابت ہوجانا کافی ہے اور وہ تصریح ائمہ سے ثابت ہے۔ یہ ایسا سوال ہے جو قدیم زمانہ سے ہوتا چلا آیا ہے اور علماء نے اس میں عدم حنث کا وہی فتویٰ دیا جو میں نے دیا ہے۔
اور علماء نے جو اپنے اس قول میں ایک شخص کے بیک وقت بہت سے مقامات پر پائے جانے کے امکان کی طرف استناد کیا ہے۔ تو میں کہتا ہوں کہ اس امکان پہ جن ائمہ اعلام نے تصریح فرمائی ہے ان میں علامہ علاؤ الدین قونوی شارح حاوی ہیں اور شیخ تاج الدین سبکی اور کریم الدین مکی اور شیخ الخانقاہ الصلاحیہ سعید السعداء اور صفی الدین بن ابی المنصور اور عبدالغفار بن نوح القوصی صاحب الوحید اور عفیف الیافغی اور شیخ تاج الدین بن عطاء اللہ اور سراج بن الملقن اور برہان الابناسی اور شیخ عبداللہ المتوفی اور ان کے شاگرد شیخ خلیل المالکی صاحب المختصر اور ابو الفضل محمد بن ابراہیم التلمسانی المالکی اور ان کے علاوہ بہت سے بندگانِ خدا ہیں جنہوں نے تصریح فرمائی ہے کہ ایک شخص کا بیک وقت کئی جگہ پایا جانا ممکن ہے۔
(الحاوی للفتاویٰ جلد اول ص ۲۱۷ للامام الجلال الدین السیوطی
(ماہنامہ "السعید" ملتان ماہ مارچ، اپریل ۱۹۶۱ء، جلد ۲/۳، شمارہ ۱۲، ص ۱۳ / ۱۱)