حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی


(علوم شریعت و طریقت کے جامع تھے)

حضرت شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شخصیت نہ صرف برصغیر بلکہ دُنیائے اِسلام میں علم و عمل اور ظاہری و باطنی کمالات کے اعتبار سے مسلم ہے۔ ان کے کسی ایک کارنامے کو اگر موضوع قرار دیا جائے تو اس کی تفصیل کے لیے سینکڑوں صفحات بھی کافی نہ ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب علوم شریعت و طریقت کے جامع تھے۔تمام علوم میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔ دینی علوم بالخصوص علم حدیث سے آپ کو انتہائی شغف تھا اور آپ کی علمی خدمات علمی دنیا میں انتہائی قدر و منزلت کی نگاہوں سے ہمیشہ دیکھی جاتی رہیں گی۔
شاہ صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کے متعلق بعض حضرات کا خیال ہے کہ آخر عمر میں وہ مسلک اہلسنت سے منحرف ہو گئے تھے جیسا کہ ان کی آخری تصنیفات مثلاً "تفہیمات الٰہیہ" وغیرہ کی بعض عبارات سے ظاہر ہوتا ہے لیکن فقیر کے نزدیک یہ صحیح نہیں۔ شاہ صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کا مسلک و عقیدہ آخر تک وہی تھا جو انہوں نے اپنی تصنیفات "فیوض الحرمین انتباہ فی سلاسل اولیاء اللّٰہ" اور "انفاس العارفین" وغیرہ میں اپنے کابر سے نقل فرمایا اور خود بھی اسی کی تائید فرمائی۔ شاہ صاحب کی ایسی عبارات کے اقتباسات ماہنامہ "السعید" ملتان میں فقیر شائع کرتا رہا ہے بلکہ دیوبندی مکتب فکر کا جریدہ "الفرقان" بریلی شاہ ولی اللّٰہ نمبر میں اس قسم کا مواد شائع کر چکا ہے جس سے فقیر کی اس رائے کی تائید ہوتی ہے۔ تفہیمات وغیرہ کی جن عبارات سے بعض حضرات کو شبہ پیدا ہوا وہ صحیح نہیں۔ اس لیے کہ شاہ ولی اللّٰہ رحمۃ اللّٰہ علیہ کے سامنے ایک ایسے طبقے کے کثیر التعداد لوگ بھی تھے جو اَن پڑھ، جاہل، کٹر مزاج ہندوؤں میں سے مسلمان ہو
گئے تھے اور ہندوانہ رسم و رواج ان کے رگ و پئے میں راسخ تھے۔ ان کے عقائد میں بھی ہندوانہ جاہلیت کے اثرات کے ساتھ ان کی عقیدت میں جاہلیت کا رنگ پایا جاتا تھا۔ وہ ان کے مزارات پر جاتے اور استقلال ذاتی کے اعتقاد سے ان کی منتیں مانتے اور اسی انداز سے ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھاتے تھے اور اسی جاہلانہ عقیدے سے اپنی حاجتیں اور مرادیں ان سے طلب کرتے تھے اور اسلام لانے کے باوجود وہ مشرکانہ عقائد میں مبتلا تھے۔ انہی مشرکانہ عقائد کے ساتھ بزرگوں کی قبروں پر جانے اور استمداد وغیرہ کو شاہ صاحب نے شرک قرار دیا۔اس میں شک نہیں کہ یہ شرک ہے۔ مشرکانہ عقائد کے بغیر بزرگوں کے مزارات پر جانے اور ان کو وسیلہ ماننے اور صحت اعتقاد کے ساتھ ان کی نذر و نیاز کو انہوں نے اپنے بزرگوں خصوصاً اپنے والد ماجد حضرت شاہ عبد الرحیم رحمۃ اللّٰہ علیہ سے جابجا اپنی کتابوں میں نقل فرمایا۔ اگر تفہیمات" وغیرہ کی عبارات کو مسلک اہلسنت سے ان کا انحراف قرار دیا جائے تو شاہ ولی اللّٰہ رحمۃاللّٰہ علیہ کے نزدیک ان کے والد ماجد سمیت ان کے وہ سب بزرگ مشرک قرار پائیں گے اور ایسی صورت میں ان کے وہ تمام سلاسل جو انہی لوگوں سے وابستہ ہیں سب جاہلیت قرار پائیں گے جو صراحۃ باطل ہے۔
بعض فقہی مسائل میں شاہ ولی اللّٰہ صاحب کا تفرد ان کی ذاتی تحقیق پر مبنی ہے جس سے اہل علم کے لیے اختلاف کی گنجائش ہے لیکن اس تفرد کو مسلک اہلسنت سے انحراف پر محمول کرنا صحیح نہیں۔


سید احمد سعید کاظمی امروہی
ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیۃ العلماء پاکستان
مہتمم مدرسہ عربیہ انوار العلوم، ملتان