ہما را مسلک


ہم نے آج سے پہلے بارہا کہا کہ ہم حضور سیّد عالم ﷺ کی ذات مقدسہ کو نور ماننے کے باوجود حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بشریت مطہرہ پر ایمان رکھتے ہیں، السعید کے صفحات اور ہماری دیگر تصنیفات اس دعویٰ پر شاہد وعادل ہیں کہ ہم لوگ سیّد عالم ﷺ کو نورانیت اور بشریت دونوں سے متصف مانتے ہیں، ہمارے نزدیک حضور ﷺ کی بشریت ونورانیت مطہرہ عناصر اربعہ آگ، پانی، ہوا، مٹی سے مرکب ہے لیکن خمیر جسد مبارک جو میاہِ جنت، کوثر وتسنیم اور سلسبیل کے پانی سے گوندھ کر تیار کیا گیا تھا، اتنا لطیف اور پاکیزہ تھا کہ تمام عنصری کثافتوں سے پاک اور صاف ہوکر اتنا شفاف ہوگیا تھا کہ نور محمدی کی شعائیں اس جسم اقدس سے چمکتی تھیں، جسے عامر صاحب نے بھی واضح طور پر پیش کردہ اقتباس میں تسلیم کرلیا ہے، اور ظاہر ہے کہ جسم شفاف میں جب نور چمک رہا ہو تو اس جسم کا سایہ نہیں پڑتا خواہ وہ جسم عنصری ہی کیوں نہ ہو، دیکھئے لالٹین کی چمنی، بجلی، گیس کا شیشہ بالکل مادی اور عنصری جسم ہے لیکن جب ان میں روشنی چمکتی ہے تو ان اجسام عنصری کے شفاف شیشوں کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا، عامر صاحب نے جب حضور ﷺ کے اندرونی انوار کی روشنی کو جسم اقدس سے چمکتا ہوا محسوس ومشاہد تسلیم کرلیا تو اَب سایہ نہ ہونے کو تسلیم نہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ یہ سب کچھ مان کر یہ کہنا کہ:
گفتگو اس نکتہ میں ہے کہ منکرین ظل کہتے ہیں کہ رسول ﷲ کا پورا جسم مبارک طبعی وحقیقی معنوں میں نور مستقل تھا۔

(تجلی، دیوبند، بابت جولائی ۱۹۶۰ء، ص۲۷)

خلط مبحث اور حق پوشی کی اس سے واضح مثال شاید کہیں نہ مل سکے، ہم نے کب کہا ہے کہ رسول ﷲ ﷺ کا جسم مبارک طبعی اور حقیقی معنوں میں نور مستقل تھا، (اور اس میں عنصریت اور مادیت کا کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا تھا) ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ۔
اقتباس بالا کو غور سے پڑھئے اور دیکھئے کہ عامر صاحب سب کچھ مان کر بھی اپنے دلی عناد کے اظہار سے باز نہ رہ سکے، لکھتے ہیں:
آپ کے چہرے پر جس حسن وجمال اور طلعت وتابش کا تذکرہ محدثین کرتے ہیں اس سے انکار کی کسے اور کیوں مجال ہے۔
صحیح بخاری اور ترمذی کی احادیث صحیحہ کو محض تذکرہ محدثین کے لفظ سے تعبیر کردینا کتنی جرأت اور دیدہ دلیری ہے، گویا پڑھنے والوں کے ذہن میں یہ تاثر پیدا کرنا مقصود ہے کہ جسم اقدس سے تابش نور کا مضمون صرف محدثین کی ذکر کی ہوئی بات ہے اور بس، حق کو چھپانے اور اس پر پردہ ڈالنے کی اس سے زیادہ اور کیا کوشش کی جاسکتی ہے، اور سنئے! فرماتے ہیں:
یہ بھی ہم مانتے ہیں کہ بعض مرتبہ بعض حضرات نے آپ کے کسی عضو یا چند اعضاء سے ایک ایسی روشنی خارج ہوتے ہوئے دیکھی جو ان کے خیال میں حِسّی اور مرئی تھی۔
جب آپ یہ مان چکے کہ بعض حضرات نے حضور کے اعضاء سے روشنی خارج ہوتے ہوئے دیکھی تو اس کے بعد یہ کہنا کہ جو ان کے خیال میں حِسّی اور مرئی تھی، کیا معنی رکھتا ہے ؟ دیکھی ہوئی چیز کا دیکھنے والے کے خیال میں مرئی ہونا عجیب بات ہے، مرئی کہہ کر پھر اسے خیال میں مرئی قرار دینا علاوہ مہمل اور لغو ہونے کے پڑھنے والوں کے لئے ایک زبردست مغالطہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اس عبارت کو پڑھنے والا اس دھوکے میں مبتلا ہوسکتا ہے کہ شاید وہ روشنی دیکھنے والے کے صرف خیال میں مرئی ہو اور حقیقت میں مرئی نہ ہو، عامر صاحب کا مطلب بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔
حیرت ہے کہ دیکھنے والوں کے نزدیک وہ روشنی حقیقی مرئی ہو اور نہ دیکھنے والوں کے نزدیک محض خیالی مرئی، کیا اس سے بڑھ کر بھی قلبی عناد کا مظاہرہ ہوسکتا ہے؟
حضور ﷺ کے حسن وجمال کے بارے میں صحابۂ کرام کے تاثرات کی بحث میں عامر صاحب لکھتے ہیں:
ذرا اندازہ کیجئے، اہل کفر کو بھی اس تاثر میں شامل کرلیا گیا جو خالص ایمان کا ثمرہ تھا، ظالمو اگر یہی حقیقت ہوتی تو تمام ہی لوگ اہل ایمان کی طرح مومن نہ ہوگئے ہوتے۔
طرزِ کلام ملاحظہ فرمائیے! معلوم ہوتا ہے کہ کمالات رسالت کے خلاف عناد کا ایک طوفان ہے جو اُمڈا چلا آرہا ہے، جس نے عقل وخرد، ہوش وحواس سب پر پردے ڈال دئیے ہیں، دانشمندو! اتنا نہیں سوچتے کہ یہ نورانیت محمدیہ اگر پائی جائے تو آیات الٰہیہ میں سے ایک آیت ہوگی، جن کے دلوں پر ﷲ تعالیٰ نے مہر لگادی ہے وہ روشن سے روشن ترین آیات اور معجزات کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے، موسیٰ ؈ کا ید بیضاء، عیسیٰ ؈ کے مشہور معجزات احیائے موتیٰ وغیرہ، اور حضور ﷺ کا معجزہ شق القمر دیکھ کر بھی اگر کفار ایمان نہیں لائے اور ﷲ تعالیٰ کی روشن آیات ومعجزات کو جادو کہہ کر انکار کردیا تو نورانیت محمدیہ کو دیکھ کر ایمان نہ لاناکون سے تعجب کی بات ہے، ظالمو قرآن کی یہ آیت بھی بھول گئے ہو:
وَاِنْ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْ لُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِر
اور اگر کافر خدا کی قدرت کا کوئی نشان دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو ایک ایسا جادو ہے جو ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے۔
عامر صاحب نے ہمارے مسلک پر یہ اعتراض بھی کیا ہے:
اگر حضور کا سورج اور چاند سے زیادہ روشن ہونا ظاہری اور طبعی معنی میں درست ہے تو پھر یہ لازماً ہونا چاہئے تھا کہ پورا عرب نہ سہی، مکہ یا مدینہ سہی، یہ بھی نہ سہی تو وہ راستے اور مکان سہی جن میں حضور موجود ہوتے تھے اس طرح روشن رہا کرتے جس طرح دن میں ہوتے ہیں۔ (تجلی دیوبند، بابت ماہ جولائی ۱۹۶۰ء، ص۲۸،۲۹)
اس کا جواب ظل نمبر کے صفحات پر نہایت تفصیل اور پوری تحقیق کے ساتھ دیا جا چکا ہے جسے عامر صاحب سمجھ نہیں سکے یا جان بوجھ کراس کے جواب میں لا یعنی باتوں کا ایک طومار باندھ دیا، ہم نے جواباً عرض کیا تھا کہ نفیٔ ظہور نفیٔ وجود کو مستلزم نہیں، ظہور دو طرح سے ہوتا ہے، نفسِ ظہور اور ظہور عند الناظر، دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے، مگر عامر صاحب اس کو نہیں سمجھ سکے، انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں بچکانہ اور بے مغز باتیں کہی ہیں جو قطعاً لائق التفات نہیں، لیکن ہم ان کے زعم باطل کو توڑنے کے لئے عرض کرتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ کے ظاہری معنی میں نور ہونے کے لئے یہ لازماً ہونا چاہئے تھا کہ پورا عرب یا مکہ اور مدینہ یا وہ راستے اور مکان جن میں حضور موجود ہوتے تھے سب روشن ہو جاتے تو ملائکہ کرام خصوصاً ملائکہ مقربین جبرئیل، میکائیل، اسرافیل، عزرائیل علیہم السلام (جن کے ظاہری اور حقیقی نور ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں) کے نور حقیقی ہونے کے لئے لازماً یہ چاہئے تھا کہ زمین سے آسمان تک تمام جہان ظلمت اور تاریکی کے موقع پر اور رات کے وقت بھی دن کی طرح روشن رہتا، کیونکہ ہر انسان کے ساتھ فرشتے موجود رہتے ہیں، نیز زمین سے آسمان تک شب وروز فرشتوں کی آمدو رفت حقیقت ثابتہ اور مسلم بین الفریقین ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا، تو کیا ملائکہ کے نور یا اس کے فی نفسہٖ ظہور کا انکار کیا جاسکتا ہے ؟ ہاں یہ ضرور کہا جائے گا کہ ملائکہ کے نور ہونے اور اس کے فی نفسہٖ ظہور کے باوجود دیکھنے والوں پر بھی اس کا ظہور ہمیشہ نہیں ہوتا البتہ ﷲ تعالیٰ بعض اوقات دیکھنے والوں پر بھی فرشتوں کے نور کو ظاہر فرمادیتا ہے جیسا کہ بخاری شریف میں صریح حدیث وارد ہے کہ حضرت اسید بن حضیررضی ﷲ تعالیٰ عنہ رات کے وقت سورئہ بقرہ کی تلاوت فرمارہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، قریب تھا ان کے بیٹے یحییٰ کو پامال کردے، اچانک ان کی نظر آسمان کی طرف اُٹھی، بادل کی طرح ایک سائبان نظر آیا جس میں بے شمار چراغ روشن دکھائی دئیے، صبح کو رسول ﷲ ﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ اے اسید بن حضیر! تم جانتے ہو کہ یہ چراغ کیسے تھے ؟ عرض کیا حضور مجھے معلوم نہیں، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا! یہ ملائکہ تھے جو قرآن سننے کے لئے قریب ہوگئے تھے، اگر تم پڑھتے رہتے تو فرشتے غائب نہ ہوتے اور دوسرے لوگ بھی صبح کو انہیں اسی طرح دیکھ لیتے۔
(دیکھئے بخاری شریف، جلد ثانی، ص۷۵۰)
اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ ملائکہ کی نورانیت کا ظہور دیکھنے والوں کے لئے ایک وقت خاص میں ہوا، حالانکہ ملائکہ قطعاً نوری مخلوق ہیں اور ان کی نورانیت ہر وقت ظاہر ہے، ثابت ہوا کہ ظہور بنفسہٖ کے لئے ظہور للناظر ضروری نہیں، اسی طرح حضور ﷺ کے شفاف اور لطیف جسم اقدس سے نورانیت کا نفس ظہور ہر وقت متحقق ہے لیکن ناظرین کے لئے اس کا ظہور اوقات مخصوصہ میں ہوا جو نفسِ ظہور کے منافی نہیں، حضور کا سایہ نہ ہونے کے لئے نورانیت محمدیہ کا نفسِ ظہور کافی ہے، ظہور للناظر ضروری نہیں، اگر عامر صاحب کے دماغ میں فکر صحیح کی ادنیٰ صلاحیت بھی موجود ہے تو ہمارے اس بیان کو سمجھنے میں انہیں کوئی دقت واقع نہ ہوگی اور اگر وہ اَب بھی نہ سمجھے تو ہم سمجھ لیں گے کہ وہ فکر سلیم اور طبع مستقیم سے بالکل عاری ہیں۔
ہمارے اس بیان کی روشنی میںحضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کی اس حدیث کا مفہوم بھی واضح ہوگیا ک
ہ لم یقم مع الشمس الا غلب ضوء ہ ضوء ھا، الحدیث یعنی عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما یہ نہیں فرمارہے کہ حضور ﷺ کی نورانی روشنی دیکھنے والوں کی نظر میں سورج کی روشنی پر غالب ہوگئی بلکہ نفسِ واقعہ بیان فرمارہے ہیں، بایں طور کہ اگر غلبۂ نور محمدی کا ظہور دیکھنے والوں کے لئے ہو تو وہ یہی دیکھیں گے کہ نور محمدی کی روشنی سورج اور چراغ کی روشنی پر غالب ہے کیونکہ اصل واقعہ یہی ہے، یہ اور بات ہے کہ کسی کو دیکھنا میسر نہ ہو، ذٰلِکَ فَضْلُ ﷲِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ۔ ﷲ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے اس پر غلبۂ نور کے ظہور کو مرئی فرمادیتا ہے۔
حضور سیّد عالم ﷺ کی نورانیت فرشتوں کی نورانیت سے بدرجہا افضل واعلیٰ اور برترو بالا ہے، جس طرح ان کی نورانیت باوجود ظاہر ہونے کے ہر ایک کو ہر وقت محسوس نہیں ہوتی اسی طرح حضور ﷺ کی نورانیت بھی باوجود ظاہر ہونے ہر شخص کو ہر جگہ اور ہر وقت محسوس نہیں ہوتی، لیکن جس طرح یہ عدم احساس فرشتوں کی نورانیت اور ان کے ظہور کے منافی نہیں اسی طرح حضور ﷺ کی نورانیت اور اس کے نفس ظہور کے منافی نہیں۔
حضور ﷺ کے نور مبارک کے فی نفسہٖ ظہور کا ناظرین کے لئے محسوس نہ ہونا اور اس کے باوجود اس کا تسلیم کرنا اس حدیث سے بھی واضح ہے کہ حضور ﷺ تاریکی میں اس طرح دیکھتے تھے جس طرح اُجالے میں دیکھتے تھے، یہ حدیث حسن ہے اور اسے بیہقی نے روایت کیا، دیکھئے زرقانی، جلد۴، ص۸۳۔
نیز صحاح کی اس حدیث سے بھی یہ حقیقت واضح ہوتی ہے جسے حضور ﷺ نے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا "
وﷲ انی لا راکم من وراء ظھری" الحدیث، یعنی خدا کی قسم میں تمہیں پیچھے سے اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے آگے سے دیکھتا ہوں، جماعت متقدمین سے تو یہاں تک منقول ہے کہ حضور ﷺ ہر طرف دیکھتے تھے۔
(زرقانی شرح مواہب، جلد۴، ص۸۴)
ظاہر ہے کہ یہ رؤیت نور کے بغیر ناممکن ہے اور ہر طرف سے رؤیت کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ حضور ﷺ کے تمام جسم اقدس میں نور موجود تھا، جس کی وجہ سے حضور ہر طرف دیکھتے تھے لیکن ناظرین کے لئے یہ نور محسوس نہ تھا باوجود اس کے انہوں نے اس کو تسلیم کیا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ رسول ﷲ ﷺ کے جسم مبارک کو ہم اس معنی میں ہرگز نور نہیں سمجھتے کہ جسم اقدس بشریت اور عنصریت سے خالی تھا بلکہ ہمارا مسلک یہ ہے کہ جسم اقدس عناصراربعہ سے مرکب ہونے کے باوجود عنصریت اور مادیت کے تمام نقائص اور بشریت کے جملہ عیوب سے مبرہ اور منزہ تھا، ﷲ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے جسم اقدس کو اتنا صاف اور شفاف مخلوق فرمایا تھا کہ ذات مقدسہ کے باطنی نور کی چمک بدن مبارک سے ظاہر ہوتی تھی لیکن خارج میں اس کے ظہور کا احساس حکمت ومشیت ایزدی کے مطابق ہی ہوتا تھا۔
عامر صاحب نے میری پیش کردہ احادیث پر کلام کرتے ہوئے عجیب متضاد باتیں کی ہیں، ایک طرف تو وہ یہ مانتے ہیں کہ حضور ﷺ کا جسم مبارک نور حِسّی اور ظاہری سے بالکل خالی نہ تھا، دوسری طرف وہ تشبیہ کی آڑ لے کر اپنی تکذیب آپ فرمارہے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ طلعت رسالت کو نور حِسّی مان کر پھر اسی طلعت کو نور حِسّی سے تشبیہ دینا کس قدر لغو اور بے معنی ہے، پھر انہوں نے دیدہ ودانستہ دھوکا دینے کے لئے بعض شارحین مثلاً قسطلانی وزرقانی کے کلام سے تشبیہات کا لفظ بالکل بے محل نقل کردیا، جن حدیثوں میں حضور ﷺ کے چہرہ انور کے متعلق "
کان الشمس تجری فی وجہ رسول ﷲ ﷺ" اور "کانہ قطعۃ من القمر" جیسے الفاظ میں تشبیہات وارد ہوتی ہیں، ان کی شرح کرتے ہوئے شارحین نے ان تشبیہات واردہ پر کلام فرمایا ہے جس کا ہمارے مستدل سے کوئی واسطہ نہیں، ہمارا استدلال تو ان احادیث سے ہے جنہیں دیکھ کر عامر صاحب کو بھی کہنا پڑا کہ ہم حضور ﷺ کے جسم مبارک کو حِسّی اور ظاہری نور سے خالی نہیں مانتے۔
پھر لطف یہ کہ عامر صاحب نے حافظ ابن حجر کی ایک عبارت نقل کرکے عجیب نکتہ آفرینی فرمائی ہے، کہتے ہیں:
حضور کو جب چاند سے تشبیہ دی جاتی ہے تو وجہ شبہ صرف روشنی ہوتی ہے نہ کہ چاند کے دیگر خواص و اوصاف۔

(تجلی دیوبند، بابت جولائی ۱۹۶۰ء، ص۳۲)

دانشمند سے کوئی پوچھے کہ جب تم خود مان رہے ہوکہ چاند سے "حضور کی تشبیہ میں وجہ شبہ صرف روشنی ہوتی ہے" تو حضور ﷺ کے لئے روشنی ثابت ہوئی یا نہیں؟ کیا تم اتنا بھی نہیں جانتے کہ وجہ شبہ مشبہ اور مشبہ بہ دونوں میں مشترک ہوتی ہے اور جب روشنی یعنی نور حِسّی کو وجہ شبہ مان لیا گیا توحضور ﷺ کے جسم اقدس میں اس کا پایا جانا ایسا ضروری ہوگیا جیسا کہ چاند میں ضروری ہے۔
حضور ﷺ کے جسمانی سایہ کے ثبوت میں عامر صاحب کی ایک اور گلفشانی ملاحظہ ہو، بخاری شریف کی طویل حدیث کا ایک جملہ نقل کیا ہے اور ساتھ ہی اس کا ترجمہ بھی لکھ دیا ہے جو حسب ذیل ہے:
فلما قیل ان رسول ﷲ ﷺ قد اظل قادما زاح عنی الباطل وعرفت انی لن اخرج منہ ابدًا بشیء فیہ کذب۔
پس جب خبر ملی کہ حضور مدینہ سے اس قدر قریب آچکے ہیں کہ ان کا سایہ ارض مدینہ پر پڑ سکتا ہے تو معاً میرے دل سے غلط سلط بہانے بازی کا خیال کافور ہوگیا اور میں نے یقین کرلیا کہ حیلے بہانے مجھے میری موجودہ پوزیشن سے ہر گز عہدہ برآ نہ کرسکیں گے۔

(تجلی دیوبند، جولائی ۱۹۶۰ء، ص۳۳)

عامر صاحب نے اظل قادما کا ترجمہ کیا ہے کہ "ان کا سایہ ارض مدینہ پر پڑ سکتا ہے" اور اسی فقرہ سے وہ حضور ﷺ کا سایہ ثابت کررہے ہیں، مگر لطف یہ ہے کہ اس کے بعد متصلاً خود ہی لکھتے ہیں:
ہم خوب جانتے ہیں کہ اظل قادمًا ایک اصطلاحی فقرہ ہے جس کے معنی فی الحقیقت یہ نہیں ہوتے کہ سچ مچ آنے والی شے کا سایہ پڑرہا ہے بلکہ یہ بہت قریب آجانے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔

(تجلی دیوبند، جولائی۱۹۶۰ء، ص۳۳)

عامر صاحب کی ان دونوں عبارتوں کو ملائیے اور سر دھنئے

   ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے

اس کے بعد عامر صاحب چھچھوندر چھوڑنا کہ"جب منکرین ظل نے یہ اندھیر مچا رکھا ہے" تو کیوں نہ ہمیں بھی اجازت ہو کہ تمثیل کو حقیقی معنی میں لے لیں"۔ گوز شتر سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا! اگر آپ کے زعم باطل میں منکرین ظل دوزخ کی طرف جارہے ہوں تو کیا آپ بھی جہنم کے گڑھے میں گرنے کی اجازت طلب کریں گے ؟
حضور ﷺ کی نورانیت کے منکرین کا پُرانا ہتھکنڈا یہ ہے کہ جہاں کسی آیت یا حدیث میں حضور ﷺ کی ذات مقدسہ کے لئے لفظ ِ نور دیکھا، بلا تامل محض ہدایت کے معنی پر محمول کردیا اور لفظ ِ نور کو ہدایت ِ محضہ قرار دے دیا۔
السعید کے ظل نمبر (ظل النبی) میں منکرین کے اس پرانے ہتھکنڈے کا صفایا کیا گیا تھااور نہایت تفصیل سے اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی گئی تھی، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ استعارہ کے معنی تو یہ ہیں کہ مشبہ بہ بول کر علاقہ تشبیہ کی بنا پر مشبہ مراد لیا جائے۔
اس میں شک نہیں لفظ ِ نور قرآن وحدیث میں استعارہ کے طور پر کئی جگہ استعمال ہوا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ حقیقی معنی میں کسی جگہ وارد نہ ہوا ہو۔
استعارہ وہیں ہوسکتا ہے جہاں اس لفظ سے مشبہ مراد لینا ممکن ہو لیکن جہاں اس لفظ کے ساتھ مشبہ بہ کے ایسے اوصاف مذکور ہوںجن کے ہوتے ہوئے تشبیہ مراد لے کر مشبہ پر حمل نا ممکن ہو تو ایسی صورت میں وہ لفظ استعارہ نہیں ہوسکتا ! اس مفہوم کو واضح کرنے کے لئے کہا گیا تھا کہ اگر کوئی شخص
رَاَیْتُ اَسَدًا کہے تو اسے استعارہ قرار دینا ممکن ہے لیکن جب کسی نے رَاَیْتُ اَسَدًا یَفْتَرِسُ کہا تو آپ اسے استعارہ نہیں کہہ سکتے۔
عامر صاحب کی ذکاوت طبع ملاحظہ کیجئے ! دانشمند نے پورے مضمون سے آنکھ چُرا کر صرف لفظ یَفْتَرِسُ کو مد نظر رکھ لیا اور یہ نہ سمجھا کہ اس سے وہ صفات مراد ہیں جو حقیقی وصفِ افتراس کو متعین کردیں جس کے بعد حیوانِ مفترس کے سوا کسی دوسرے پر اس لفظ کا حمل ممکن نہ ہو، اس غلط فہمی کی بنیاد پر کئی غلط مثالیں لکھ گئے ! لیکن بالآخر اس کا انجام کیا ہوا ؟ وہی جو ہونا چاہئے تھا: یعنی

وہی کہنا پڑا آخر انہیں بھی ہم جو کہتے تھے
ہماری بات کی اوّل بڑی تردید ہوتی تھی

چنانچہ اسی استعارہ کی بحث میں "نور" سے نور حِسّی مراد لینے کے لئے السعید میں جو دلائل پیش کئے گئے تھے ان کے جواب سے عاجز ہوکر عامر صاحب کو حضور ﷺ کے جسم اقدس میں نور حِسّی ماننا پڑا، اور یہ کہ انہوں نے حضور ﷺ کے بعض اعضاء مبارکہ میں بعض اوقات اس نور حِسّی کا ظہور تسلیم کیا، اسی استعارہ کی بحث میں "السعید" کی پیش کردہ روایات کے جواب میں فرماتے ہیں:
دانتوں کی ریخوں سے نکلنے والا نور یا ناک کا نور یا انبساط کے وقت پیشانی کے خطوط کی چمک یا وہ نور جس کی جھلک کبھی دیوار پر دیکھی گئی اگر یہ استعارہ نہیں بلکہ حِسّی طور پر ہی نور ہو تو اس سے پورے جسد اطہر کا مستقل طور پر ایسا نور حقیقی کیونکر ثابت ہوسکتا ہے کہ اس کا سایہ بھی نہ پڑتا ہو۔
چند سطر بعد لکھتے ہیں:
لیکن روایات تو خود ہی بتا رہی ہیں کہ سراپا نور کا ذکر نہیں بلکہ ایک انسان کا تذکرہ ہے جس کے بعض اعضاء جسم سے خاص اوقات میں اخراج۱ نور کا مشاہدہ کیا گیا۔ (تجلی دیوبند، جولائی۱۹۶۰ء، ص۳۹)
ناظرین کرام غور فرمائیں "کوہ کندن وکاہ برآوردن" اور کسے کہتے ہیں، جب ہماری پیش کردہ روایات کے بعد آپ مان چکے کہ حضور ﷺ کا جسم اقدس نور حِسّی سے بالکل خالی نہیں (جیسا کہ اس سے پہلے تجلی کاا قتباس ہدیۂ ناظرین ہوچکا ہے) اور اَب استعارہ کی بحث میں بھی آپ کا آخری فیصلہ یہ ہی ہے کہ حضور ﷺ کے اعضاء ِ جسم اقدس سے نور کے نکلنے کا مشاہدہ کیا گیا، تو اَب یہ کہنا کہ"اگریہ استعارہ نہیں" الخ کس قدر بے معنی اور دورازکار ہے، نور حِسّی مان کر "اگر" "مگر" کرنا عامر صاحب کی شکست خوردہ ذہنیت کا مظاہرہ ہے، یہ اور بات ہے کہ وہ صاف لفظوں میں اس کا اقرار نہ کریں اور ضد پر اَڑے رہیں۔
اَب اتنی گفتگو باقی رہی کہ حضور ﷺ کا پورا جسم اقدس نورانی تھا یا صرف بعض اعضاء مبارکہ ! تو اس کے متعلق سابقاً لکھ چکا ہوں، سردست اتنا اور عرض کروں گا کہ عامر صاحب جو بار بار فطرت کو سامنے لا کر حضور ﷺ کے کمالات نورانیت کا انکار کرتے ہیں، ذرا بتائیں کہ وہ کون سے قانون فطرت کی رو سے اپنے اس مسلمے کو ثابت کریں گے کہ علوم ومعارف کا نور معنوی "حِسّی نور" کی صورت میں تبدیل ہوسکتا ہے، پھر اس تبدیلی کے بعد عالم وعارف کے بعض اعضاء سے اس کا ظہور ہو اور بعض سے نہ ہوسکے جب کہ تمام اعضاء اور پورا جسم ایک ہی نوعیت کا ہو۔
لا محالہ آپ یہی کہیں گے کہ ﷲ تعالیٰ نے بطور خرق عادت اس نور معنوی کو حِسّی حقیقی نور کی صورت میں تبدیل فرمادیا، جو حضور ﷺ کے جسم مبارک سے چمکا، جب بعض اعضاء مبارکہ سے اس کا چمکنا خرق عادت کے طور پر ثابت ہوگا تو کل اعضاء مقدسہ سے اس کے ثبوت میں کون سا امر مانع ہے جب کہ لفظ نور حضور ﷺ کے پورے وجود اقدس کے لئے دلائل شرعیہ اور کلام اکابر میں وارد ہوا۔
رہا یہ امر کہ جن روایات میں ظہور نور کا بیان ہے ان میں بعض اعضاء ہی کا ذکر ہے، تمام اعضاء مبارکہ مذکور نہیں، مثلاً چہرۂ انور، دندان مبارک، بینی! پیشانی مقدسہ! لہٰذا ان اعضاء کے سوا دیگر اعضاء کا منور ہونا منفی رہے گا، تو عجیب مضحکہ خیز بات ہے، اگر کوئی شخص اپنے محبوب کا حسن بیان کرنے کے لئے یہ کہہ دے کہ میرے محبوب کا چہرہ چاند کی طرح چمکتا ہے تو کیا اس چہرہ کا لفظ آجانے کی وجہ سے کوئی کہہ سکے گا کہ چہرے کے سوا باقی تمام جسم کالا سیاہ ہے، اگر عام انسانوں کے لئے چہرہ کا ذکر باقی اعضاء کے حسن کی نفی نہیں کرتا تو رسول ﷲ ﷺ کے چہرۂ انور کاذکر جمیل حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے باقی اعضاء مقدسہ کے نور کی نفی کس طرح کرسکتا ہے؟بالخصوص ایسی صورت میں جب کہ دیگر اعضاء مقدسہ کا ذکر بھی احادیث میں صراحۃً وارد ہے۔
نوٹ
یہ مکمل مضمون ماہنامہ "السعید" ملتان کے درج ذیل شماروں میں شائع ہوا
(۱)ماہنامہ السعید، شمارہ اپریل مئی ۱۹۶۰ء (۲)ماہنامہ السعید، شمارہ جولائی ۱۹۶۰ء (۳)ماہنامہ السعید، شمارہ اگست، ستمبر ۱۹۶۰ء (۴)ماہنامہ السعید، شمارہ اکتوبر ۱۹۶۰ء (۵)ماہنامہ السعید، شمارہ نومبر۱۹۶۰ء (۶) ماہنامہ السعید، شمارہ دسمبر ۱۹۶۰ء (۷)ماہنامہ السعید، شمارہ جنوری ۱۹۶۱ء (۸) ماہنامہ السعید، شمارہ مارچ، اپریل ۱۹۶۱ء (۹)ماہنامہ السعید، شمارہ مئی ۱۹۶۱ء (۱۰) ماہنامہ السعید، شمارہ نومبر ۱۹۶۱ء۔ (خلیل احمد رانا)