لفظ نور کے معانی

 

یہ صحیح ہے کہ ﷲ تعالیٰ طبعیاتی نور سے پاک ہے لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ لفظِ نور سے جہاں طبعیاتی نور مراد نہ ہو وہاں تمثیل وتشبیہ متعین ہوجائے ؟ کیا مصدر مبنی للفاعل نہیں ہوا کرتا ؟ اور کیا اس طرح نور بمعنی منور نہیں ہوسکتا ؟ کیا مجازمرسل کے طور پر لفظِ نورکا استعمال ممکن نہیں ؟ افسوس عامر صاحب نے اپنے جنون کے جوش میں خدائے قدوس کی بے مثلی کی شان کو بھی نسیاً منسیا کردیا اور ان کے ذہن میں نور کے صرف ایک طبعیاتی معنی خلش پیدا کررہے ہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ لفظِ نور کتنے معنی میں مستعمل ہے اور ﷲ تعالیٰ کے لئے لفظ نور کا استعمال تمثیل وتشبیہ سے دُور کا تعلق بھی نہیں رکھتا، آئیے ہم آپ کو بتائیں کہ لفظِ نور کے مندرجہ ذیل معانی کتب لغت وتفاسیر میں مرقوم ہیں:
(۱)
النور فی اللغۃ الضیاء۔ "نور لغت میں روشنی کو کہتے ہیں"
(۲)
قالت الفلاسفۃ النور اجسام صغار تنفصل عن المضیء وتتصل بالمستضیء۔
 فلاسفہ نے کہا "نور" ایسے چھوٹے چھوٹے اجسام ہیں جو (کسی) روشن چیز سے جدا ہوکر روشنی حاصل کرنے والے سے متصل ہوجاتے ہیں۔
(۳) النور عرض من الکیفیات المحسوسۃ۔
 نور کیفیاتِ محسوسہ میں سے ایک عرض ہے۔
(۴) النور غنی عن التعریف کسائر المحسوسات۔
 نور باقی محسوسات کی طرح تعریف سے مستغنی ہے۔
(۵) النور کمال اوّل للشفاف من حیث انہٗ شفاف۔
نور کمال اوّل ہے کسی شفاف چیز کے لئے اس حیثیت سے کہ وہ شفاف ہے۔
(۶) النور کیفیۃ لا یتوقف الابصار بھا علی الابصار بشیء اٰخر تعریف بما ھو اخفیٰ۔
نور ایک ایسی کیفیت ہے جس کا دیکھنا کسی دوسری چیز کے دیکھنے پر موقوف نہیں۔
(۷) النور نفس ظہور اللون۔
نور، کسی چیز کے نفس ظہورِ رنگ کو کہتے ہیں۔
(۸) النور مغائر النفس ظہور اللون۔
 نور، نفسِ ظہورِ رنگ کے(ساتھ بعض اوصاف میں مشترک ہونے کے باوجود اس کے) مغائر کوکہتے ہیں۔
(۹) النور الظاہر بذاتہٖ والمظہر لغیرہ۔
 نور ایسی چیز کو کہتے ہیں جو اپنی ذات سے ظاہر ہو اور اپنے غیر کو ظاہر کرنے والی ہو۔
(۱۰) النور نور عقلی۔
نور، عقلی روشنی کو بھی کہتے ہیں (علم وہدایت، ایمان وعرفان وغیرہ تمام انوارِ عقلیہ اس میں شامل ہیں)
(۱۱) النور نور نفسی۔
 نور کے معنی نور نفسی بھی آتے ہیں۔
(۱۲) النور نور جسمی۔
نور، جسمی روشنی کو بھی کہا جاتا ہے۔
(۱۳) النور موجد۔
نور، موجد(ایجاد کنندہ) کو بھی کہتے ہیں۔
(۱۴) النور الظہور بنفسہٖ والاظہار لغیرہ۔
نور، خود بخود ظاہر ہونے اور اپنے غیر کو ظاہر کرنے کے(لازمی) معنی میں بھی آتا ہے۔
(۱۵) النور منزہ من کل عیب ومن ذٰلک قولھم امرأۃ نوارای بریئۃ من الریبۃ بالفحشاء۔
 نور کے معنی"ہر عیب سے منزہ" ہیں اور اسی سے عرب کا مقولہ ہے "اِمرأۃ نوار" یعنی یہ عورت بے حیائی کے کاموں کے شک وشبہ سے پاک ہے۔
(۱۶) النور منور۔
نور کے معنی روشن کرنے والے کے بھی آتے ہیں۔
(۱۷) نور نوّرَ ماضی بد لیل والارض بالنصب۔
آیت کریمہ "اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ" میں نور فعل ماضی ہے جس کے معنی ہیں روشن کردیا، اس کی تائید اسی آیت میں (ایک قرأت کے مطابق) "وَالْاَرْضَ" کے نصب سے ہوتی ہے۔
ان تمام معنی کا ماخذ روح المعانی کے حسب ذیل اقتباسات ہیں:
روح المعانی پ ۱۸، ص ۱۴۴ (مطبوعہ بیروت، ص۱۵۹) پر "
اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ" کے تحت مرقوم ہے۔
 النور فی اللغۃ علی ما قال ابن سکیت الضیاء۔
نور" لغت میں ابن سکیت کے قول کے موافق ضیاء(روشنی) ہے"۔
 
واعلم ان الفلاسفۃ اختلفوا فی حقیقۃ النور فمنھم من زعم انہ اجسام صغار تنفصل عن المضیء وتتصل بالمستضیء۔ (تفسیر روح المعانی،پ ۱۸،ص۱۴۵)
جاننا چاہئے کہ فلاسفہ نے نور کی حقیقت میں اختلاف کیا اور ان میں سے بعض نے گمان کیا کہ نور چھوٹے چھوٹے اجسام ہیں جو کسی روشن چیز سے جدا ہوکر روشنی حاصل کرنے والی چیز سے متصل ہو جاتے ہیں۔
(تفسیر روح المعانی،پ ۱۸، ص۱۴۵۔مطبوعہ بیروت، ص۱۶۰)
 
وذھب بعضھم الی انہ عرض من الکیفیات المحسوسۃ وقالوا ھو غنی عن التعریف کسائر المحسوسات وتعریفہ بانہ کمال اول للشفاف من حیث انہ شفاف او بانہ کیفیۃ لا یتوقف الابصار بہا علی الابصار بشی اٰخر تعریف بما ھو اخفی وکان المراد بہ التنبیہ علی بعض خواصہ ومن ھٰٓؤ لاء من قال انہ نفس ظہور اللون ومنھم من قال بمغائر تھما۔
(تفسیر روح المعانی،ص ۱۴۵۔مطبوعہ بیروت، ص۱۶۱)
بعض فلاسفہ اس طرف گئے کہ نور عرض ہے اور کیفیات محسوسہ میں سے ہے، اور انہوں نے کہا کہ وہ تعریف سے بے نیاز ہے، جیسے باقی محسوسات تعریف سے بے نیاز ہیں، اور اس کی یہ تعریف کہ وہ کمال اوّل ہے کسی شفاف چیز کا اس حیثیت سے کہ وہ شفاف ہے یا وہ ایک ایسی کیفیت ہے جس کا دیکھنا کسی دوسری شے کے دیکھنے پر موقوف نہیں، نور کی یہ تعریف ایسی چیز کے ساتھ ہے جو اس سے زیادہ خفی اور پوشیدہ ہے (حالانکہ تعریف اجلیٰ اور اطہر کے ساتھ ہونی چاہئے) یہ تعریف دراصل تعریف نہیں بلکہ نور کے خواص میں سے اس کی بعض خاصیتوں پر تنبیہ ہے، اور ان ہی لوگوں میں سے بعض نے کہا کہ وہ نور، رنگ کے نفس ظہور کا نام ہے، اور بعض نے اُن دونوں کی مغایرت کا قول کیا ۔ (تفسیر روح المعانی، پ۱۸، ص ۱۴۵)
 ولھم فی النور اطلاق اٰخر وھم الظاھر بذاتہ والمظہر لغیرہ وقالوا ھو بھٰذا المعنی مساو للوجود بل نفسہ فیکون حقیقۃ بسیطۃ کالموجود منقسمًا کانقسامہ فمنہ نور واجب لذاتہ قاھر علی ماسواہ ومنہ انوار عقلیۃ ونفسیۃ وجسمیۃ والواجب تعالٰی نور الانوار۔ الخ
(تفسیر روح المعانی،ص ۱۴۷۔مطبوعہ بیروت، ص۱۶۳)
 اور فلاسفہ کے لئے نور میں ایک اور اطلاق بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ نور ایسی چیز ہے جو خود اپنی ذات سے ظاہر ہو، اور اپنے غیر کو ظاہر کرنے والی ہو، اور انہوں نے کہا کہ وہ اس معنی میں"وجود" کا مساوی ہے بلکہ نفس وجود ہے تو اس صورت میں نور وجود کی طرح حقیقت بسیط ہوگا اور وجود کی طرح اس کی بھی تقسیم ہوگی تو اس میں سے ایک نور واجب لذات کا ہے جو اپنے ماسوا پر غالب ہے اور اس میں سے انوار عقلیہ ہیں اور بعض اس میں سے انوار نفسیہ اور
جسمیہ ہیں اور واجب تعالیٰ نورالانوار ہے۔ الخ
(تفسیر روح المعانی،، ص۱۴۷)
 
اذا علمت ھذا فاعلم ان اطلاق النور علی ﷲ سبحانہ وتعالٰی بالمعنی اللغوی والحکمی السابق غیر صحیح لکمال تنزھہ جل وعلا عن الجسمیۃ والکیفیۃ ولوازمھما واطلاقہ علیہ سبحانہ بالمعنی المذکور وھو الظاھر بذاتہ والمظھر لغیرہ قد جوزہ جماعۃ منھم حجۃ الاسلام الغزالی (تفسیر روح المعانی،پ۱۸،ص۱۴۷)
جب یہ بات معلوم ہوگئی تو اَب جاننا چاہئے کہ ﷲ سبحانہٗ و تعالیٰ پر لفظ نور کا اطلاق باعتبار معنی لغوی اور حکمی کے جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں کسی طرح صحیح نہیں، کیونکہ ﷲ تعالیٰ جسمیت اور ہر قسم کی کیفیت اور ان کے تمام لوازمات سے کامل طور پر منزہ ہے اور ﷲ تعالیٰ پر باعتبار معنی مذکور
"ظاھر بذاتہ مظھر لغیرہ" کے لفظ نور کا اطلاق ایک جماعت نے جائز رکھا ہے ان میں سے حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ ﷲ علیہ بھی ہیں۔ (تفسیر روح المعانی،پ۱۸، ص۱۴۷)
 
وجوز بعض المحققین کون المراد من النور فی الایۃ الموجد کانہ قیل: ﷲ موجد السمٰوات والارض ووجہ ذٰلک بانہ مجاز مرسل باعتبار لازم معنی النور وھوالظہور فی نفسہٖ اظہارا لغیرہ۔
(تفسیر روح المعانی،پ۱۸،ص۱۴۸۔مطبوعہ بیروت، ص۱۶۴)
اور بعض محققین نے آیت کریمہ
اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ میں نور سے موجد کا مراد ہونا جائز قرار دیا ہے گویا اس آیت کریمہ میں یہ کہا گیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ زمین وآسمان کا موجد ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ مجاز مرسل ہے باعتبار لازم معنی نور کے جو ظہور فی نفسہٖ اور اظہار لغیرہ ہےیعنی خود بخود ظاہر ہونا اور اپنے غیر کو ظاہر کرنا)۔
(تفسیر روح المعانی، پ۱۸، ص۱۴۸)
 وقیل المراد بہ المنزہ من کل عیب ومن ذٰلک قولھم امرأۃ نوار ای بریئۃ من الریبۃ بالفحشاء۔
(تفسیر روح المعانی،پ ۱۸، ص ۱۴۸۔مطبوعہ بیروت، ص۱۶۴)
ایک قول یہ بھی ہے کہ لفظِ نور سے مراد (کبھی) ہر عیب سے منزہ ہوتا ہے، اور اسی سے اہل عرب کا یہ مقولہ ہے "امرأۃ نوار" یعنی یہ عورت بے حیائی کے کاموں کے شک وشبہ سے پاک ہے۔
(تفسیر روح المعانی،پ ۱۸، ص۱۴۸)
 
وقیل نور بمعنی منور وروی ذٰلک عن الحسن وابی العالیۃ والضحاک وعلیہ جماعۃ من المفسرین ویؤیدہ قرأۃ بعضھم منور وکذا قراۃ علی کرم ﷲ وجہہٗ وابی جعفر وعبدالعزیز المکی وزید بن علی وثابت ابن ابی حفصۃ والقورصی ومسلمۃ بن عبد الملک وابی عبد الرحمن السلمی وعبد ﷲ بن عباس بن ابی ربیعۃ نور فعلا ماضیًا والارض بالنصب۔ (روح المعانی، پ۱۸، ص۱۴۸)
 آیت کریمہ
اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ میں ایک قول یہ ہے کہ یہاں نور بمعنی منور ہے یعنی روشن کرنے والا، یہ مروی ہے حسن بصری سے، ابوالعالیہ سے اور ضحاک سے اور اسی قول پر مفسرین کی ایک جماعت ہے اور تائید کرتی ہے اس قول کی اس آیت میں بعض علماء کی قرأت ﷲ منور السمٰوات" اسی طرح اس کو حضرت علی کرم ﷲ وجہہ اور ابوجعفر، عبدالعزیز مکی، زید بن علی، ثابت بن ابی حفصہ، قورصی، مسلمہ بن عبدالملک، ابو عبدالرحمن السلمی اور عبداﷲ بن عباس ابن ابی ربیعہ نے نَوَّرَ فعل ماضی اور الارض کو نصب (زبر) کے ساتھ پڑھا۔ (روح المعانی، پ۱۸، ص۱۴۸)
عامر صاحب ذرا سوچیں کہ قرآن کریم کی جس آیت (
اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ، الآیۃ) کے لفظ "نور" کو وہ ﷲ تعالیٰ کے لئے معاذ ﷲ تمثیل وتشبیہ قرار دے رہے ہیں اس کے سترہ معنی منقولہ میں سے ایک معنی بھی انہیں ایسے نظر نہ آئے جنہیں تمثیل وتشبیہ کے بغیر مراد لیا جاسکے ؟ کیا خدائے قدوس کے حق میں تمثیل وتشبیہ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے انہیں ذرا بھی خوف خدا محسوس نہیں ہوا، مفسرین کرام کی تصریحات جلیلہ منقولہ بالامیں انہیں یہ نظر نہیں آیا کہ ﷲ تعالیٰ صفاتِ حدوث اور صفاتِ مخلوقہ سے منزہ ہے اور مثل وشبہ سے پاک اور تمثیل وتشبیہ سے مقدس ہے۔
شاید عامر صاحب کو بعض تفاسیر میں یہ دیکھ کر مغالطہ ہوگیا کہ (
اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ) ﷲ تعالیٰ کے نور کی مَثَل ہے اس لئے انہوں نے تمثیل وتشبیہ کو ﷲ تعالیٰ کے لئے درست سمجھ لیا، اس مغالطہ کو دُور کرنے کے لئے انہیں "مفردات امام راغب" کی حسب ذیل عبارت کو غور سے پڑھنا چاہئے جس میں ان کے مغالطہ کو جڑ بنیاد سے اُکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہے اور ﷲ تعالیٰ کے تمثیل وتشبیہ سے مبرہ ومنزہ ہونے کو آفتاب سے زیادہ روشن کرکے دکھایا گیا ہے، ملاحظہ فرمائیے:
والتمثال" الشیء المصور " والمثل عبارۃٌ عن قول فی شیء یشبہ قولاً فی شیء آخر بینھما مشابھۃٌ لیبین احدھما الاخر ویصورہ " والمثل یقال علی وجھین احدھما بمعنی المثل نحو شبہ وشَبہ ونِقضٍ ونَقضٍ، قال بعضھم وقد یعبر بھما عن وصف الشیء نحو قولہ (مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ) والثانی: عبارۃ عن المشابھۃ لغیرہ فی معنی من المعانی ای معنی کان وھواعم الالفاظ الموضوعۃ للمشابھۃ وذٰلک ان النِدَّ یقال فیما یشارک فی الجوھر فقط، والشبہ یقال فیما یشارک فی الکیفیۃ فقط، والمساوی یقال فیما یشارک فی الکمیۃ فقط، والشکل فیما یشارکہ فی القدر والمساحۃ فقط، والمثل عام فی جمیع ذٰلک ولہٰذا لما اراد ﷲ تعالیٰ نفی التشبیہ من کل وجہ خصہ بالذکر فقال (لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْء)، واما الجمع بین الکاف والمثل فقد قیل ذٰلک لتاکید النفی تنبیھاً علی انہ لا یصح استعمال المثل ولا الکاف فنفی بلیس الامرین جمیعًا وقیل المثل ھھنا ھو بمعنی الصفۃ ومعناہ لیس کصفتہ صفۃ تنبیھًا علی انہ وان وصف بکثیر مما یوصف بہ البشر فلیس تلک الصفات لہٗ علی حسب مایستعمل فی البشر۔
تمثال" شی مصور کو کہتے ہیں "
مَثَل" عبارت ہے قول سے کسی شے میں جو مشابہ ہو قول کے شی آخر میں کہ ان دونوں کے درمیان مشابہت ہو تاکہ ایک دوسرے کو بیان کردے اور اسے مصور کردے اور " مَثَل" کا استعمال (مزید) دو طریقوں پر بھی ہوتا ہے، ایک مثل کے معنی میں جیسے شِبْہٌ و شَبْہٌ اور نِقْضٌ و نَقْضٌ، بعض نے کہا ان دونوں کے ساتھ کبھی وصف شے کو بھی تعبیر کردیا جاتا ہے جیسے ﷲ تعالیٰ کا قول مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ، اور دوسرے طریقہ پر اس طرح کہ لفظ مَثَل عبارت ہوتا ہے اپنے غیر کے ساتھ مشابہت سے معانی میں سے کسی معنی میں بھی کیوں نہ ہو، اور وہ مشابہت کے معنی میں ان تمام الفاظ سے اعم ہے جو مشابہت کے معنی کے لئے وضع کئے گئے ہیں مثلاً لفظ نِدّ کا استعمال صرف ان چیزوں میں ہوتا ہے جو فقط جوہر میں باہم شریک ہوں اور "شبہ" کا اطلاق اِن اشیاء پر ہوتا ہے جو صرف کیفیت میں باہم مشارک ہوں اور لفظ "مساوی" کا استعمال صرف ان چیزوں میں ہوتا ہے جو فقط مقدار میں شریک ہوں، اور شکل" کا لفظ وہاں بولا جاتا ہے جہاں دو چیزیں صرف اندازے اور پیمائش میں مشارک ہوں، اور لفظ "مِثل"ان سب میں عام ہے، یہی وجہ ہے کہ جب ﷲ تعالیٰ نے (اپنی ذات مقدسہ سے) من کل وجہ (ہر طرح سے تشبیہ) کی نفی کا ارادہ فرمایا تو اسی لفظ "مِثل" کو ذکر کے ساتھ خاص کیا اور فرمایا لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ، رہا یہ سوال کہ ﷲ تعالیٰ نے یہاں مثل کے ساتھ کاف تشبیہ کو کیوں جمع فرمایا تو بعض نے اس کا جواب دیا کہ تاکیدِ نفی کے لئے ایسا کیا، گویا اس بات پر تنبیہ فرمائی کہ ﷲ تعالیٰ تمثیل وتشبیہ سے ایسا پاک ہے کہ اس کے حق میں لفظِ مثل کا استعمال جائز ہے نہ کاف تشبیہ کا، لہٰذا لَیْسَ کے ساتھ کاف تشبیہ اور مثل دونوں کی نفی فرمادی اور ایک قول یہ بھی ہے کہ لفظ مثل یہاں صفت کے معنی میں ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ ﷲ تعالیٰ کی صفت کی طرح کوئی صفت نہیں اور اس کا مقصد اس بات پر تنبیہ کرناہے کہ اگرچہ (قرآن مجید میں) ﷲ تعالیٰ ان چیزوں سے بکثرت موصوف کیا گیا ہے جن سے بشر موصوف کئے جاتے ہیں (جیسے سمع، بصر، علم، رحم، ید، وجہ وغیرہا) لیکن اس کے باوجود ﷲ تعالیٰ کے لئے ان صفات کا استعمال ایسا نہیں جیسے بشر کے حق میں ہے، بلکہ ﷲ تعالیٰ تمثیل وتشبیہ سے مطلقاً پاک ہے اور اس ذات وصفات کی مثل کوئی شیٔ اور کسی کی صفت نہیں ہوسکتی۔
(مفردات امام راغب اصفہانی، ص۴۷۸)
اقتباسات وعبارات مرقومہ بالا سے عامر صاحب کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں اور ان پر یہ امر واضح ہو جانا چاہئے کہ ﷲ تعالیٰ تمثیل وتشبیہ سے پاک ہے اور
مَثَلُ نُورِہٖ میں لفظ مَثَل سے صفت مراد ہے اور بس۔
عامر صاحب تو اپنے آپ کو عالم دین تصور کرتے ہیں، میرے نزدیک تو کوئی ادنیٰ درجہ کا معمولی پڑھا لکھا مسلمان بھی آیت کریمہ سے ﷲ تعالیٰ کے لئے تمثیل وتشبیہ کے معنی نہیں سمجھ سکتا۔
اس کے بعد عامر صاحب کی علمی قابلیت کا ایک ایسا بے مثل وبے نظیر نمونہ ناظرین کرام کو ہم دکھاتے ہیں جو ان کے خصوصیات سے ہے اور وہ یہ کہ ایک طرف تو لفظ نور کو وہ ﷲ تعالیٰ کے لئے تمثیل وتشبیہ کے اسلوب پر قرار دیتے ہیں جیسا کہ ابھی تفصیل سے گزر چکا ہے اور دوسری طرف ﷲ تعالیٰ کو خود حقیقی اور واقعی نور تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ وہ اسی بیان میں آیت کریمہ
"وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّہَا" الآیۃ لکھ کر ارقام فرماتے ہیں :
یہاں ﷲ جل شانہ نے خود اپنے نورِ مقدس کا ذکر فرمایا ہے وہ چونکہ واقعی بہمہ وضوح وہ نور ہی نور ہیں اس لئے لفظ کو اس کے حقیقی ووضعی معنی پر محمول کرنے میں کوئی دقت نہ ہوگی۔
(ماہنامہ تجلی، بابت مئی جون ۱۹۶۰ء، ص ۵۳)
ا قول : دروغ گو را حافظہ نہ باشد،
ابھی تو لفظِ نور کو ﷲ تعالیٰ کے لئے بطور تمثیل وتشبیہ مانا تھا اور ابھی اتنی جلدی ﷲ تعالیٰ کو واقعی اور حقیقی نور کہہ کر ذاتِ باری تعالیٰ کے لئے اسی لفظِ نور کو حقیقی اور وضعی معنی میں تسلیم کرلیا، عامر صاحب کی اس تضاد بیانی پر سخت حیرت اور تعجب ہے، انہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ کوئی لفظ اپنے حقیقی اور وضعی معنی میں تمثیل و تشبیہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا، مثلاً لفظ اسد کے حقیقی وضعی معنی شیر اور حیوان مفترس کے ہیں تو اس لفظ کو شیر کے معنی میں تمثیل وتشبیہ کے طور پر استعمال کرنا جائز نہیں کیونکہ تمثیل و تشبیہ غیر ما و ضع لہٗ میں ہر گز تمثیل وتشبیہ کے لئے استعمال نہیں ہوا کرتا، لیکن عامر صاحب نے کمال کردکھایا کہ وہ ایک ہی لفظ نور کو ﷲ تعالیٰ کے لئے تمثیل وتشبیہ کے طور پر بھی قرار دیتے ہیں اور اسی کو ماوضع لہ میں بھی مستعمل مانتے ہیں۔ ع

ناطقہ سر بہ گر یباں ہے اسے کیا کہئے

عامر صاحب نے رسول ﷲ ﷺ کی ذات مقدسہ سے حِسّی نورانیت کی نفی کے جوش میں قرآن کریم کی بکثرت آیات نقل فرمادیں، میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس سے انہیں کیا فائدہ پہنچا، بجز اس کے کہ انہوں نے اپنے خیال میں یہ سمجھ لیا کہ اور کچھ نہ سہی مگر پڑھنے والا اتنا تو ضرور اثر لے گا کہ کاظمی کے پیش کردہ دلائل کثیرہ کے جواب میں عامر صاحب نے اتنی آیات قرآنیہ سے حضور ﷺ کا تاریک سایہ ثابت کردیا۔
رہا یہ امر کہ شرع(نہیں بلکہ فقہ) ان کے اس کارنامہ کو عذاب وثواب کے کس خانہ میں رکھے گی ؟ تو ہمیں اس سے سروکار نہیں، ہم تو صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عامر صاحب نے اس مقام میں دین ودیانت اور علم وعقل سے یکسو ہوکر محض اپنی ملاہٹ کا مظاہرہ فرمایا ہے۔
اس کا کون منکر ہے کہ عربی محاورات اور قرآن وحدیث میں استعارات مستعمل نہیں ہوتے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک لفظ اگر کسی جگہ بطور استعارہ استعمال ہوا ہے تو وہ ہر جگہ استعارہ ہی قرار پائے، عامر صاحب نے لفظِ نور کو استعارہ ثابت کرنے کے لئے جتنی آیات پیش کی ہیں ان میں بعض وہ آیات بھی نقل کردیں جن میں لفظِ نور استعارہ نہیں بلکہ حِسّی اور حقیقی روشنی کے معنی میں مستعمل ہے۔
دیکھئے عامر صاحب نے اپنی منقولہ آیات کے ذیل میں مندرجہ ذیل دو آیتیں تحریر فرمائی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ اس میں لفظِ نور استعارہ ہے، حالانکہ ان کا یہ دعویٰ قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے، جیسا کہ ہم اس کا ثبوت پیش کریں گے، پہلی آیت اور اس کے متعلق عامر صاحب کا دعویٰ ملاحظہ فرمائیے:
یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ یَسْعٰی نُورُہُم بَیْنَ أَیْدِیْہِمْ وَبِأَیْمَانِہِم بُشْرٰکُمُ الْیَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہٰرُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ پ۲۷
جس دن تو دیکھے گا مومن مردوزن کو اس حال میں کہ دوڑتی ہوئی چل رہی ہوگی ان کے آگے اور دائیں بائیں روشنی خوشخبری تم کو آج کے دن باغوں کی کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں سدا رہو اُن میں، یہی تو ہے عظیم کامیابی۔
یہاں بھی "نور" کو استعارہ ہی ماننا پڑے گا۔

(تجلی، ماہ جون۱۹۶۰ء، ص۵۲)

اقول: اگر آپ زبردستی منوانا چاہتے ہیں تو آپ کی بات وہی مانے گا جس پر آپ کی زبردستی چل سکے، اور اگر دلیل سے ماننے کی بات ہو تو پھر ہماری بات آپ کو ماننا پڑے گی کہ لفظ "نور" یہاں استعارہ نہیں بلکہ اپنی حقیقت پر ہے، دیکھئے تفسیر روح المعانی میں اسی آیت کے تحت ارقام فرماتے ہیں:
(
یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ) والرؤیۃ بصریۃ
(جس دن تو دیکھے گا ایمان والے مردوزن کو) اور یہ رویت بصریہ ہے یعنی آنکھ سے دیکھنا مراد ہے۔
اس کے بعد صاحب روح المعانی فرماتے ہیں :
(یَسْعٰی نُوْرُھُمْ) حال من مفعول (تری) والمراد بالنور حقیقۃ علی ماظھر من شموس الاخبار والیہ ذھب الجمہور والمعنی یسعی نور ھم اذاسعوا۔ انتہیٰ
(روح المعانی، پ۲۷، ص۲۵۱)
(دوڑتی ہوئی جارہی ہے ان کے آگے دائیں بائیں روشنی) یہ جملہ حال ہے مفعول سے اور "نور" (استعارہ نہیں بلکہ) اس کی حقیقت مراد ہے، جیسا کہ روایات واخبار کے چمکتے ہوئے سورجوں سے یہ بات ظاہرہے اور اسی کی طرف جمہور گئے ہیں اور معنی یہ ہیں کہ مومنین ومومنات جب دوڑیں گے تو ان کی روشنی ان کے آگے اور دائیں بائیں دوڑتی ہوگی۔ انتہیٰ (روح المعانی، پ۲۷، ص۲۵۱)
کس قدر واضح الفاظ میں صاحب روح المعانی نے روایات و اخبار کے چمکتے ہوئے سورجوں کی روشنی میں فرمایا ہے کہ یہاں لفظِ نور استعارہ نہیں بلکہ اپنی حقیقت پر ہے اور اس نور سے حِسّی روشنی مراد ہے۔
عامر صاحب! خدا لگتی کہئے، اس آیت میں اَب بھی استعارہ منوائیں گے ؟
دوسری آیت عامر صاحب نے اس طرح لکھی:
یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَکُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا (پ ۲۷، آیت ۱۳)
جس دن کہیں گے منافق مردوزن مومنوں سے کہ ہمارا انتظار کرو ہم بھی تمہارے نور سے روشنی لیں گے، کہا جائے گا کہ لوٹ جائو پیچھے پھر ڈھونڈ لو روشنی۔
اس کے بعد چند آیات لکھ کر تمام منقولہ آیات میں استعارہ کی رَٹ لگاتے ہوئے عامر صاحب لکھتے ہیں:
جب قرآن کی اتنی بہت سی نظیریں آپ کے سامنے آگئیں تو انصاف کیجئے کہ ایک آیت سے نور کے معنی محمد رسول ﷲ لینا اور پھر تعبیرواستعارہ کے حدود پھلانگ کر پورے قرآن سے آنکھیں پھیر کر زبان وادب کے معلوم ومعروف تقاضے نظر انداز کرکے جسدِ رسول کا سایہ غائب کردینا تلعب با لقرآن اور دھاندلی نہیں تو اور کیا ہے ؟ (تجلی، جون ۱۹۶۰ء، ص۵۳)
اقول: عامر صاحب! مسائل کے لئے پہلے دلائل درکار ہیں، اس کے بعد نظائر پیش کئے جاسکتے ہیں، مگر آپ نے دلائل سے اعراض فرماکر محض نظائر سے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کی سعی ناتمام کی ہے، پھر اس میں بھی آپ کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی، جن آیات میں لفظ نور استعارہ نہ تھا انہیں بھی آپ نے استعارہ قرار دے دیا، پہلی آیت پر کلام کرچکا ہوں، اس دوسری آیت کی تفسیر بھی روح المعانی میں ملاحظہ فرمالیجئے اور دیکھئے کہ یہاں لفظِ نور استعارہ ہے یا حِسّی حقیقی نور کے معنی میں مستعمل ہے، دیکھئے صاحب روح المعانی اس دوسری آیت کے تحت ارقام فرماتے ہیں:
لانھم اذا نظروا الیھم استقبلو ھم بوجوھھم والنور بین اید یھم فیستضیئون بہ۔
(تفسیر روح المعانی، پ۲۷، ص۲۵۲)
مومن جب منافقین کی طرف دیکھیں گے تو مومنین کے آگے نور ہوگا جس کی روشنی سے منافق روشن ہوجائیں۔
کیوں عامر صاحب! مومنین کی جس روشنی سے منافقین ضیاء حاصل کریں گے وہ حِسّی حقیقی نور نہ ہوگا تو منافقین کا اس سے ضیاء حاصل کرنا اور روشن ہونا کیا معنی رکھتا ہے ؟ ثابت ہوا کہ اس آیت میں نور سے حقیقی حِسّی نور مراد ہے استعارہ نہیں۔
رہا یہ امر کہ آپ نے آیت کریمہ
قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ ﷲِ نُوْرٌ میں لفظ "نور" سے حضور ﷺ کو مراد لینا اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نورانیت کو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بے سایہ ہونے کی دلیل سمجھنا تلعب بالقرآن قرار دیا ہے اور اسے دھاندلی کہا ہے تو آپ کا یہ فتویٰ عبداﷲ بن عباس سے لے کر جلال الدین سیوطی تک تمام اعلام اُمت پر چسپاں ہوتا ہے، نہ صرف یہ بلکہ آپ کے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی متعلب بالقرآن اور دھاندلی کرنے والے قرار پاتے ہیں جیسا کہ ہم ان کی مفصل عبارات پہلے نقل کرچکے ہیں۔
اَب استعارہ کی اس بحث میں حرف آخر کے طور پر آپ کے مسلم علماء مفسرین میں سے حضرت قاضی ثناء ﷲ پانی پتی کی ایک عبارت تفسیر مظہری سے پیش کرتا ہوں۔
قاضی ثناء ﷲ رحمۃ ﷲ علیہ آپ کی منقولہ آیت کریمہ "
اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ" میں مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
قال کعب ھذا مثل ضربہ ﷲ لنبیہ
حضرت کعب نے فرمایا
"مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ" میں ﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی مَثَل بیان فرمائی ہے۔
(تفسیر مظہری، جلد۶، ص۵۲۴)
آگے چل کر اسی آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے حضور سیّد عالم ﷺ کے چہرۂ انور کی حِسّی حقیقی روشنی کا بیان فرماتے ہیں، سنئے:
وفی شمائل محمد یہ قالت حلیمۃ ماکنا نحتاج الیٰ سراج من یوم اخذ ناہ لان نور وجھہ کان انور من السراج فاذا احتجنا الی السراج فی مکان جئنابہ فتنورت الا مکنۃ ببرکتہٖ ﷺ ۔ انتہیٰ
(تفسیر مظہری، جلد۶، ص۵۲۸)
اور شمائل محمدیہ میں ہے حضرت حلیمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا، جس دن سے ہم نے حضور ﷺ کو لیا اس دن سے ہمیں چراغ کی حاجت نہ رہی اس لئے کہ حضور ﷺ کے چہرۂ انور کا نور چراغ سے زیادہ روشن تھا، چنانچہ جب کسی جگہ ہمیں چراغ کی ضرورت ہوتی تو وہاں ہم حضور ﷺ کو لے آتے اور اس مکان کی ہر جگہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی برکت سے روشن ومنور ہوجاتی۔
آپ تفسیر مظہری کے حوالے بہت دیا کرتے ہیں، ذرا یہ عبارت بھی اسی تفسیر مظہری میں ملاحظہ فرمالیتے تو آپ کو معلوم ہوجاتا کہ قرآن کریم میں ﷲ تعالیٰ نے مثل نورفرما کر جو لفظ نور اپنے حبیب ﷺ کے لئے ارشاد فرمایا ہے وہ استعارہ نہیں، بلکہ اس سے مراد حِسّی اور حقیقی نور ہے جس کے ہوتے ہوئے چراغ کی حاجت نہ رہے۔
آپ نے حضور ﷺ کے حق میں لفظ نور کو محض استعارہ قرار دینے کے لئے جتنے پاپڑ بیلے تھے تفسیر مظہری کی اس عبارت نے ان سب پر پانی پھیر دیا، اور اس حقیقت کو آفتاب سے زیادہ روشن کردیا کہ حضور ﷺ کی نورانیت صرف علم وہدایت میں منحصر نہیں بلکہ حِسّی حقیقی روشنی کو بھی شامل ہے۔
اے کاش عامر صاحب ٹھنڈے دل سے غور فرماتے کہ ان جلیل القدر مفسرین کی روشن تصریحات کے ہوتے ہوئے حضور ﷺ کی نورانیت کا انکار قرآن و اسلام اور فضائل ومناقب مصطفیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ استہزا اور ہٹ دھرمی نہیں تو اور کیا ہے۔
السعید کے ظل نمبر میں دلائل کے انبار نے منکرین کی ایسی کمر توڑی کہ انہیں سیدھا ہونے کی ہمت نہ ہوسکی۔
عامر صاحب ازراہِ عناد کچھ بھی کہیں لیکن بالآخر انہیں ہمارے دلائل کے وزن کا اعتراف کرنا ہی پڑا۔
انہوں نے اس حقیقت کو اچھی طرح محسوس کرلیا کہ نفی الظل کے دلائل نے ان کی ساری محنت برباد کردی اور بزعم خویش نفی الظل کے عقیدہ کی جو بیخ کنی انہوں نے کی تھی وہ سب اکارت ہوگئی، چنانچہ وہ خود تجلی میں ارقام فرماتے ہیں :
ہمارا دل نہیں مانتا کہ دلائل کا جو انبار منکرین ظل نے جمع کردیا ہے اسے یوں ہی چھوڑدیں، اگر یوں ہی چھوڑ دیا تو بیخ کنی کا وہ عمل جو ہمارے گزشتہ اجمالی نقد نے انجام دیا تھا بیکار چلا جائے گا۔

(تجلی، دیوبند، بابت جولائی ۱۹۶۰ء، ص۲۶)

اَب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے دلائل کے انبار کو عامر صاحب نے ہاتھ لگایا ہے یا محض جھنجھلا کر چند طنزیہ فقرے کس دئیے اور جواب کے میدان سے دامن بچا کر چلتے نظر آئے۔
ناظرین کرام پر ظاہر ہے کہ نفی الظل کے دلائل کے انبار کو ہاتھ لگانا تو درکنار، عامر صاحب اس کے قریب سے ہوکر بھی نہیں گزرے، بلکہ اسی گزشتہ اجمالی نقد کو نقل کرکے وہی پرانا راگ دوبارہ الاپتے ہوئے اس حقیقت کو تسلیم کرلیا کہ:
بیخ کنی کا وہ عمل جو ہمارے گزشتہ اجمالی نقد نے انجام دیا تھا بیکار چلا گیا
قسط اوّل میں تفسیروں کے اکیس، بائیس حوالوں پر عامر صاحب کو بہت ناز ہے، ناظرین کرام نے ان کی حقیقت ہمارے جواب کی گزشتہ قسطوں میں بخوبی معلوم کرلی ہوگی جن میں عامر صاحب کی خوش فہمیوں اور تعلیوں کو پوری طرح بے نقاب کردیا گیا ہے۔
حضور سیّد عالم ﷺ کے سایہ نہ ہونے کی بحث میں عامر صاحب شرک وتوحید اور افراط وغلو کے الفاظ بار بار لاتے ہیں، جس سے قارئین کے اذہان میں وہ یہ تاثر پیدا کرنے کے درپے ہیں کہ حضور سیّد عالم ﷺ کے جسمانی سایہ کو تسلیم نہ کرنا شرک وغلو اور افراط ہے اور اسے مان لینا خالص توحید، لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس مسلک کو شرک اور افراط وغلو قرار دینے سے خود ان کے اکابر واسلاف حتیٰ کہ حضرت مجدد الف ثانی اور مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں جن کی مفصل عبارات مکتوبات امام ربانی، جلد سوم، ص۱۸۷ اور امداد السلوک، ص ۸۵، ۸۶ سے ہم السعید کے صفحات میں نقل کرچکے ہیں، اور عامر صاحب آج تک اس کے جواب سے ساکت وصامت ہیں۔
پھر تعجب ہے کہ حضور ﷺ کو جسمانی سایہ سے معریٰ تسلیم کرنا عامر صاحب کے نزدیک حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو عیسیٰ ؈ کی طرح بڑھانے چڑھانے کے مساوی کیونکر قرار پاگیا، عیسائی تو حضرت عیسیٰ ؈ کو معاذ ﷲ ابن ﷲ اور اِلٰہ مانتے تھے، کیا جسمانی سایہ نہ ہونا بھی عامر صاحب کے نزدیک الوہیت ہے، اگر اس کو الوہیت مان لیا جائے تو وہ تمام خلائق لطیفہ معاذ ﷲوصف الوہیت سے متصف قرار پائیں گی جو سایہ نہیں رکھتیں، کیا کسی مومن وموحد کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے ؟
رہا یہ امر کہ "جھوٹی حدیثیں جو عقل کے نزدیک بھی قابل قبول نہ ہوں کسی طرح لائق احتجاج نہیں ہوسکتیں اور ایسی خلاف عقل وضعی روایات کو مان لینا محبت رسول نہیں بلکہ جہالت وغلو ہے"، یقیناً درست اور صحیح ہے اور ہم بھی اسے تسلیم کرتے ہیں، لیکن غیر موضوع کو موضوع کہنا، سچ کو جھوٹ بتانا اور معقول کو غیر معقول کہہ دینا بھی انتہائی جہالت اور پرلے درجے کی نامعقولیت ہے، کج فہمی کو عقل سمجھ لینا نادانی اور کم عقلی نہیں تو اور کیا ہے ؟
حضور ﷺ کے فضائل ومحامد کے دلائل کو کذب محض اور خلاف عقل کہہ دینا کس قدر جرأت اور بے باکی ہے۔ (العیاذ باللہ)
کتب صحاح سے ہماری پیش کردہ احادیث(جن سے رسول ﷲ ﷺ کی حِسّی اور حقیقی نورانیت روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے) کے جواب سے عاجز ہوکر عامر صاحب نے ہتھیار ڈال دئیے اور تسلیم کرلیا کہ حضور ﷺ حِسّی اور ظاہری نور سے خالی نہ تھے، دیکھئے وہ تجلی میں لکھتے ہیں:
اس تمہید کے بعد یہ خوب ذہن نشین رکھئے کہ اختلاف کیا ہے، ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ حضور ﷺ ہر قسم کے نور حِسّی وظاہری سے بالکل خالی تھے، آپ کے چہرے پر جس حسن وجمال اور طلعت وتابانی کا تذکرہ محدثین کرتے ہیں اس سے انکار کی کسے اور کیوں مجال ہے ؟ یہ بھی ہم مانتے ہیں کہ بعض مرتبہ بعض حضرات نے آپ کے کسی عضو یا چند اعضاء سے ایک ایسی روشنی خارج ہوتے دیکھی جو ان کے خیال میں حِسّی اور مرئی تھی، یہ بھی ناممکن نہیں کہ باطنی علوم ومعارف اور اعلیٰ درجہ کی نبوت منورہ کے نتیجے میں آپ کے جسدِ مطہر سے غیر معمولی نور وطلعت کا مشاہدہ کیا گیا ہو۔

(تجلی، دیوبند، بابت جولائی ۱۹۶۰ء، ص۲۷)

عامر صاحب نے اس عبارت میں ہمارے مسلک کو بے چون وچرا تسلیم کرلیا، یہ اور بات ہے کہ آگے چل کر وہ اس پر قائم رہیں یا نہ رہیں، لیکن ان کے رسالے کے پیش نظر اقتباس میں صاف مذکور ہے کہ حضور ﷺ کے وجود اقدس میں نور حِسّی وظاہری موجو تھا، لیجئے کہ باطنی علوم ومعارف وانوار نبوت حِسّی وظاہری نور کی صورت میں جسم اقدس سے محسوس ومشاہد ہوئے اور اعضاء مقدسہ سے اس کی روشنی کا نکلنا دیکھا گیا۔
اَب اس کے بعد ایک یا چند اعضاء کی تخصیص اور بقیہ کی نفی اپنی بات کی اپچ نہیں تو کیا ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس نور حِسّی کو باطنی علوم ومعارف اور نبوت منورہ کی روشنی مان رہے ہیںاور ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کی پوری ذات مقدسہ وصف نبوت کے ساتھ متصف ہے، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ معاذ ﷲ حضور ﷺ کا ایک عضو یا چند اعضاء میں نبوت کی صفت پائی جاتی تھی، باقی اعضاء مقدسہ اور وجود مبارکہ میں نبوت نہ تھی، پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ بعض اعضاء میں وہ نور چمکے اور بعض بالکل بے نور رہیں، کیا عامر صاحب کے نزدیک یہ بھی نوامیس فطرت کا مقتضا ہے ؟
نیز اسی عبارت میں اس حقیقت کو بھی تسلیم کرلیا کہ جسم اقدس اتنا مصفیٰ اور شفاف تھا کہ اندرونی انوار اس سے باہر آتے اور دیکھنے والوں کو محسوس ہوتے تھے، کیونکہ غیر شفاف اور کثیف جسم سے اندرونی روشنی باہر نہیں آسکتی، لالٹین کی روشنی سے مکان اسی وقت منور ہوسکتا ہے کہ اس میں صاف شیشے کی چمنی رکھی جائے اور اگر چمکتے ہوئے چراغ پر مٹی کا گھڑا اوندھا دیا جائے تو اس کی روشنی اس حال میں اسی طرح محسوس ومشاہد نہیں ہوسکتی۔
عامر صاحب نے یہ سب کچھ ہمارے دلائل سے مجبور ہوکر تسلیم کیا ہے ورنہ میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ ۱۹۶۰ء ؁سے پہلے کسی اپنی تحریر کے حوالے سے بھی یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ انہوں نے حضور ﷺ کے لئے اس قسم کی حِسّی اور ظاہری نورانیت کو مانا ہے جس کی روشنی جسم اقدس سے چمکتی ہوئی نظر آتی ہو۔