علوم قرآن پر تحقیقی نظر

ہر کلام اپنے متکلم کے علم کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اِس لئے ضروری ہے کہ قرآنِ کریم (جو کلامِ الٰہی ہے) اللہ تعالیٰ کے علوم کا مظہر ہو۔ اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ تمام مخلوقات کے علوم اس کے علم کے سامنے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ابتدائے عالم سے ابد تک جتنے علوم پائے جائیں گے اللہ تعالیٰ کو اُن سب کا علم ہے اور اُن کے علاوہ علومِ باری تعالیٰ بے شمار اور غیر متناہی بالفعل ہیں۔ قرآن کریم کلامِ الٰہی ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے علومِ غیر متناہیہ کا حامل ہے۔
لیکن اِن علوم تک انسان کی رسائی طاقت بشری کی حد تک ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ، جن کے قلبِ اطہر پر قرآن نازل ہوا، اور جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن تعلیم فرمایا، جن کی شان یہ ہے کہ اُن کے علوم کی زیادتی ۱؎ عین مطلوبِ ایزدی ہے اور جن کے علوم بلکہ کمالات ہر آن بڑھ ۲؎ رہے ہیں، باوجودیکہ علم الاولین والآخرین اور علوم ماکان ومایکون آپ کے علمِ اقدس کا ایک ادنیٰ ترین ذرہ ۳؎ ہیں۔ لیکن حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے علومِ غیر متناہیہ کا احصاء و احاطہ نہیں فرمایا کیونکہ مخلوق کے لئے بالفعل غیر متناہی علوم کا حاصل کرلینا محال ہے، حالانکہ علومِ مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنا ہر آن زیادہ ہورہے ہیں اور ابد تک زیادہ ہوتے رہیں گے۔ کسی حد پر آپ کے علوم کا ٹھہرجانا صحیح نہیں تاہم جب بھی سرکار ابد قرار ﷺکے علوم کو دیکھا جائے محدود اور متناہی بالفعل ہی ہوں گے۔
اِس تفصیل کے بعد ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ قرآن مجید میں مخلوقات سے متعلق جس قدر علوم واصول مذکور ہیں خواہ وہ کتنے ہی کثیر کیو ںنہ ہوں، مگر چونکہ وہ متناہی ہیں اس لئے اُن کا احصاء و احاطہ حضور سید عالم ﷺ کے لئے ثابت ہے۔ اِس لئے کہ وہ تمام علوم قرآن مجید میں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآن اپنے حبیب ﷺکو تعلیم فرمایا اور ان علوم مذکورہ کا حصول حضور ﷺ کے لئے کسی دلیل سے محال ثابت نہیں ہوا۔ بخلاف علوم غیر متناہیہ کے کہ ان کا حصول بالفعل ممکن نہیں۔ بہر حال دائرہ امکان میں قرآن مجید کے علم کا حصول حضور ﷺ کے لئے ضروری ہے اور علومِ قرآن کی وسعت حضور ﷺ کے علومِ مبارکہ کے وسیع ہونے کی روشن دلیل ہے۔
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر اتقان میں قرآن سے علومِ مستنبطہ کے بیان کے لئے ایک مستقل نوع قائم کرکے فرماتے ہیں۔
قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی مَافَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْءٍ وَقَالَ تَعَالٰی وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ "اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے کتاب میں کچھ کمی نہ فرمائی۔ نیز فرمایا اور نازل کی ہم نے آپ پر کتاب در آنحالیکہ وہ ہر شئے کا بیان واضح ہے۔" رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب فتنے ہوں گے۔ عرض کیا گیا، حضور! ان سے بچ کر نکلنے کی کونسی جگہ ہے؟ ارشاد فرمایا۔ کتاب اللہ! کیونکہ اس میں تم سے پہلے اور تمہارے بعد کی تمام خبریں اور تمہارے درمیان کے تمام احکام ہیں۔ اِس حدیث کو ترمذی وغیرہ نے روایت کیا اور حضرت سعید بن منصور نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ آپ نے فرمایا جس شخص نے علم کا ارادہ کیا اُسے چاہئے کہ قرآن مجید کو اپنے اوپر لازم پکڑے۔ کیونکہ اس میں اولین و آخرین کی خبریں ہیں۔ بیہقی نے کہا کہ اصول علم مراد ہیں۔
 

امام بیہقی کی روایت
بیہقی حضرت حسن سے روایت کرتے ہیں حضرت حسن (بصری) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں نازل فرمائیں۔ سو کتابوں کے علوم اُن میں سے چار کتابوں (توراۃ، زبور، انجیل، فرقان) میں رکھ دیئے۔ پھر ان میں سے تین کتابوں کے علوم "فرقان مجید" میں جمع فرما دئیے۔
 

امام شافعی کا ارشاد
امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔ اُمت ِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ کے جمیع اقوال سنت ِ مبارکہ کی شرح ہیں اور تمام سنت مطہرہ قرآن کریم کی شرح ہے۔ نیز امام موصوف فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جس قدر احکام نافذ فرمائے ان سب کو قرآن مجید ہی سے سمجھا تھا۔ میں (جلال الدین سیوطی) کہتا ہوں کہ امام شافعی رضی اللہ عنہ کے اس مقولہ کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں صرف اسی چیز کو حلال قرار دیتا ہوں، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور صرف اسی چیز کو حرام کرتا ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام کیا۔ اس حدیث کو ان لفظوں سے امام شافعی رضی اللہ عنہ نے اُمّ میں روایت کیا۔
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ کسی وجہ پر مجھے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث نہیں پہنچی۔ مگر میں نے اس کا مصداق قرآن مجید میں پالیا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں تم سے کوئی حدیث بیان کروں تو اس کی تصدیق کتاب اللہ سے پیش کرسکتا ہوں۔ ان دونوں حدیثوں کو ابن ابی حاتم نے روایت کیا۔
ایک مرتبہ امام شافعی رضی اللہ عنہ نے مکہ معظمہ میں فرمایا جس چیز کے متعلق چاہو مجھ سے سوال کرو۔ میں تمہیں قرآن مجید سے اس کی خبر دوں گا۔
ابو سراقہ کتاب الاعجاز میں ابو بکر بن مجاہد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو بکر بن مجاہد نے ایک دِن فرمایا کہ ما من شیء فی العلم الا وہو فی کتاب اللہ ۔ عالم میں کوئی شئے نہیں، مگر اس کا ذِکر کتاب اللہ میں موجود ہے۔ ان سے کہا گیا کہ خانات (خیموں) کا ذِکر کتاب میں کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا قرآن مجید کی اِس آیت میں خانات کا ذِکر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْہَا مَتَاعٌ لَّکُمْ۔ بیوت غیر مسکونہ (وہ گھر جن میں سکونت یعنی مستقل اور دائمی رہائش نہ ہو) خانات کو شامل ہیں۔
بعض دیگر آئمہ و اکابر ملت نے فرمایا۔ عالم  میں کوئی شئے ایسی نہیں جس کا استخراج قرآن مجید سے اہل فہم کے لئے ممکن نہ ہو۔ یہاں تک کہ بعض اہل فہم نے حضور سید عالم ﷺ کی تریسٹھ سال عمر اقدس کا استنباط سورۃ منافقین کی اس آیت سے کیا۔
وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللہُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُہَا۔ وجہ استنباط یہ ہے کہ سورۃ منافقین (جس میں آیت اجل وارد ہے) تریسٹھویں سورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد سورۃ تغابن کو رکھا تاکہ رسول اللہ ﷺ کے فقدان میں تغابن ظاہر ہوجائے۔
 

حضرت مرسی کا قول
حضرت ابن ابی الفضل مرسی رضی اللہ عنہ نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ قرآن مجید نے (غیر متناہی) علوم اوّلین و علوم آخرین کو جمع کرلیا۔ اِس حیثیت سے کہ ان علوم کا احاطۂ حقیقی اللہ تعالیٰ (جو متکلم قرآن ہے) کے سوا کسی نے نہیں کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان علوم کا احاطہ کیا۔ بجز ان علوم کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاص فرمالیا ہے۔ (سابقاً) مذکور ہوچکا ہے کہ غیر متناہی مرتبہ میں رسول اللہ ﷺ نے احاطۂ علوم نہیں فرمایا البتہ ماکان ومایکون کے علوم جو متناہی ہیں حضور ﷺ کے احاطہ میں شامل ہیں۔ پھر ان علوم کا بہت بڑا حصہ اجلہ صحابہ مثلاً حضرات خلفاء راشدین و عبداللہ بن مسعود و عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کو ملا۔ حتیٰ کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا۔ لَوْضَاعَ لِی عقال بعیرٍ لَوَجَدْ تُہٗ فی کتاب اللہ تعالٰی۔ اگر میرے اونٹ کی رسی ضائع ہوجائے تو میں اُسے بھی کتاب اللہ میں پالوں گا۔ ان کے بعد اس علم کے وارث تابعین کرام ہوئے۔ تابعین کے بعد ایسا دَور آیا کہ لوگوں کی ہمتیں علومِ قرآن سے قاصر ہونی شروع ہوگئیں اور وہ ان علوم کے اٹھانے سے عاجز و قاصر ہوگئے، جنہیں صحابہ کرام اور تابعینِ عظام نے اپنے سینوں میں اُٹھایا تھا۔ تابعین کے بعد علماء کرام نے قرآن مجید کے علوم و فنون کی انواع قائم کیں اور ایک ایک گروہ نے ایک ایک نوع کو اپنالیا اور وہ اُسی میں مشغول ہوگئے۔
بعض لوگ لغاتِ قرآن اور اس کے کلمات کی تحریر اور اس کے حروف کے مخارج کی معرفت اور اعداد حروف و کلمات و آیات و سُوَر میں مشغول ہوگئے اور اس کے پاروں اور نصفوں اور ربعوں وغیرہ کا کام شروع کردیا۔ نیز کلمات متشابہ اور آیات متماثلہ کے حصر میں منہمک ہوگئے۔ انہوں نے معانی قرآن سے کچھ تعرض نہ کیا۔ انہوں نے اس فن کا نام قرأت رکھ دیا۔
نحوی قرآن کے معرب، مبنی، اسماء، افعال، حروف عاملہ و غیر عاملہ میں مستغرق ہوگئے اور انہوں نے اسماء اور ان کے توابع اور ضروب افعال و لازم و متعدی اور رسوم خط کلمات اور ان کے متعلقات میں نہایت وسیع کلام کیا۔ مفسرین نے اپنا کام کیا کہ الفاظ کی دلالت پر غور کرکے دیکھا کہ کس لفظ کی دلالت ایک معنی پر ہے اور کس کی دلالت ایک سے زیادہ پر ہے۔ آیات محکمہ کتنی ہیں اور ان سے کیا کیا احکام ثابت ہوتے ہیں۔ اصولیوں نے قرآن مجید کے دلائل عقلیہ کی طرف توجہ کی اور شواہد اصلیہ و نظریہ پر غور کیا اور بکثرت آیاتِ قرآنیہ سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی بقاء اور قدم اور علم و قدرت پر استدلال کیا اور عیوب و نقائص سے اس کی تنزیہ پر دلیلیں قائم کیں اور اس کا نام علمِ اصولِ دین رکھا۔
ایک قوم نے اس کے معانی خطاب میں غور کیا کہ کونسا کلمہ مقتضی عموم ہے اور کونسا مقتضی خصوص۔ اور انہوں نے اس سے احکام نعت، مثلاً حقیقت، مجاز کا استنباط کیا، اور تخصیص و اخبار، نص، ظاہر، مجمل، محکم، متشابہ، امر، نہی، فسخ وغیرہ میں کلام کیا اور قیاسوں پر گفتگو کی اور استصحابِ حال و استقراء پر بحث کی۔ اس فن کا نام انہوں نے اصولِ فقہ رکھا۔
ایک جماعت نے نظر صحیح اور فکر ِ صادق سے کام لیکر حلال و حرام اور باقی احکام قرآن کریم سے حاصل کئے اور اس کا نام علم "فرع" اور علمِ فقہ رکھا۔
الغرض علمِ تاریخ و قصص، وعظ و خطابت، اصول تعبیر، علم حساب، علم نجوم و بروج، علم المواقیت، معانی، بیان، بدیع، تصوف، طب، جدل، ہیئت، ہندسہ، جبر و مقابلہ، علم صنائع اور باقی تمام علوم قرآن مجید سے مستنبط ہوئے۔
قاضی ابوبکر بن عربی قانون التاویل میں فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں ۷۷ ہزار ۴ سو ۵۰ علم ہیں۔ (تفسیر اتقان جلد ثانی مصری ص ۱۲۶، ۱۲۷، ۱۲۸)
اخرج ابن ابی حاتم من طریق الضحاک وعن ابن عباس قال کل شیء فی القراٰن لو فاتہٗ شیء لا یکون ابدا ط
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ ہر چیز قرآن مجید میں ہے۔ اگر کوئی چیز قرآن مجید سے فوت ہوجائے تو ابد تک نہ ہو۔
(تفسیر اتقان جلد اول مصری ص ۱۷۴، ۱۷۵)
 

امام جلال الدین سیوطی کا ارشاد
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ صرف اَعُوْذُ بِاللہِ اور بِسْمِ اللہِ سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں۔
اب امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان اور ان کی احادیث و آثار و اخبار منقولہ سے علومِ قرآن کی جو وسعت ثابت ہوئی وہ ناظرین کرام کے پیش نظر ہے۔
پھر یہ کہ صحابہ کرام بلکہ تابعین عظام کی قوتِ علمیہ کا یہ حال ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس اپنے اونٹ کی گم شدہ رسی کو قرآن کریم میں پاسکتے ہیں اور ابو بکر بن مجاہد ہر چیز کا علم قرآن کریم میں پاتے ہیں۔ علومِ قرآنیہ پر جب حضور سید ِ عالم ﷺ کے غلاموں کی نظر اس قدر حاوی ہے تو سرکارِ دو عالم نورِ مجسم ﷺ کی نظر علمی اور قوتِ علمیہ کا کیا عالم ہوگا اور نگاہِ رسالت کس وسعت کے ساتھ علومِ قرآن کی حامل ہوگی۔
اِس بیان کو ذہن نشین کرتے ہوئے اُن لوگوں کے قول پر ایک نظر ڈالیں جو کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہ تھا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے نہ تو قرآن کی وسعت کو جانا، نہ حضور ﷺ کی قوتِ علمیہ کو تسلیم کیا۔ قرآن مجید کو عام کتابوں کی طرح جانا اور حبیب اکرم ﷺ کو عام انسانوں پر قیاس کیا۔
مَا قَدَ رُوا اللہَ حَقَّ قَدْ رِہٖ فَاعْتَبِرُوْا یٰٓا اُولِی الْاَ بْصَارِ ط
(ماہنامہ السعید ملتان ستمبر / اکتوبر، پانچواں سال، شمارہ ۵/۶، ص ۵ تا ۸)

1

وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا

2

وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی

3

فَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّنْیَا وَضَرَّتَہَا وَمِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمٖ
بے شک آپ کی بخشش کا ادنیٰ کرشمہ دُنیا و آخرت ہے اور آپ کے علوم کا بعض حصہ لوح اور قلم کا علم ہے۔ (قصیدہ بردہ شریف