با ئیس آیات اور اکیس عبارات


جس طرح مرزائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
تَوَفی کو موت کے معنی میں ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم کی وہ سب آیات نقل کردیں جہاں واقعی لفظ "توفٰی" بمعنی موت وارد ہے، اور اسی ذیل میں بعض عبارات کو مفید مدعا سمجھ کر نقل کردیا اور ان تمام دلائل وبراہین کی طرف سے آنکھیں بند کرلیں جو حیات مسیح علیہ السلام پر قائم ہیں بالکل اسی طرح عامر صاحب نے وہ سب آیتیں نقل کردیں جن میں نور بمعنی ہدایت یا علم وارد ہوا ہے اور اسی طرح وہ عبارات لکھ ڈالیں جن میں یہ معنی مرقوم ہیں، اور ان تمام دلائل وشواہد سے آنکھوں کو بند کرلیا جن میں حضورنبی اکرم ﷺ کے نور حِسّی ہونے کا روشن ثبوت موجود ہے۔
ہم نے نہ کبھی یہ کہا کہ لفظ نور علم وہدایت کے لئے نہیں آتا اور نہ یہ کہا کہ رسول اﷲ ﷺ کے لئے (معاذ ﷲ) علم وہدایت کا نور ثابت نہیں، پھر ان دونوں باتوں کو ثابت کرنے کے لئے عامر صاحب کا سارا زور لگا دینا لغو اور بے معنی نہیں تو اور کیا ہے؟ ہاں اگر ان میں کچھ ہمت تھی تو وہ یہ ثابت کرتے کہ لفظ نور بجز علم وہدایت کے نور حِسّی کے معنی میں نہیں آتا، نیز یہ کہ حضور نبی کریم ﷺ کے لئے قرآن وحدیث میں جہاں لفظ نور آیا ہے وہاں صرف علم وہدایت ہی کے معنی میں منحصر ہے، حِسّی نورانیت کے معنی وہاں منفی ہیں، جب وہ ثابت نہ کرسکے اور نہ قیامت تک ثابت کرسکتے ہیں تو اپنے گریبان میں خود منہ ڈال کر دیکھیں کہ وہ حق کے مقابلہ میں کس قدر ہٹ دھرمی پر اَڑے ہوئے ہیں۔
علاوہ ازیں ایک اور اہم نکتہ عامر صاحب نے نظر انداز کردیا، اور وہ یہ کہ آیت کریمہ
قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْنٌ کو حضور ﷺ کے نور خالص ہونے، اور نور ہونے کی وجہ سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا سایہ نہ ہونے کا تمام مضمون آپ کے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے امداد السلوک میں لکھا ہے، ان کی اصل عبارات مع تشریح ظل نمبر میں پیش کرچکا ہوں اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے بیان پر بجز تشریح کے کچھ اضافہ نہیں کیا، لیکن آپ اسے بھی شیر مادر کی طرح ہضم فرماگئے، السعید کے ظل نمبر میں بھی میں نے کہا تھا اور اَب پھر کہتا ہوں کہ قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْنٌ سے حضور ﷺ کا نور خالص ثابت کرنا اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے نور خالص ہونے کو حضور ﷺ کا سایہ نہ ہونے کی دلیل قرار دینا آپ کے مقتداء اور دیوبندیت کے ستون مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کا کارنامہ ہے، اس لئے آپ کے طعن وتشنیع کا نشانہ سب سے پہلے گنگوہی صاحب ہی بنتے ہیں، گمراہی، بے دینی، عیسائیت ونصرانیت اور کفروشرک کے جتنے فتوے آپ نے اس مسلک والوں پر جڑے ہیں وہ آپ کے گنگوہی صاحب پر ہیں، لہٰذا آپ کا فرض اوّلیں ہے کہ صاف اور واضح الفاظ میں اعلان کردیں کہ ہمارے نزدیک مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اس مسئلہ میں یکساں مجرم ہیں، کیونکہ دونوں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نور خالص مان کر حضور ﷺ کو بے سایہ مانتے ہیں، لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا نہ آپ سے یہ اُمید کی جاسکتی ہے، پھر آپ ہی بتائیں کہ حق پرستی اور دیانت اسی کا نام ہے ؟ دین پسندی اور ایمانداری اسی کو کہتے ہیں؟ کیا مولوی رشید احمد صاحب احکام شرع سے مستثنیٰ ہیں ؟ خدا کے خوف کو دل میں جگہ دے کر سوچیں کہ آپ کا یہ اغماض اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ کا مصداق ہے یا نہیں؟
عامر صاحب فرماتے ہیں:
حد یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ خود اپنی ذات کے لئے بھی لفظ نور استعمال فرماتے ہیں تو تمثیل وتشبیہ ہی کے اسلوب میں، نہ کہ طبعیات کے نقطۂ نظر سے، ملاحظہ ہو سورۂ نور، رکوع ۵، پارہ ۱۸
اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌ۔ (الآیہ)

(ماہنامہ تجلی، بابت ماہ جون ۱۹۶۰ء، ص۵۲)

اقول: سچ ہے کسی چیز کی محبت ہو یا عداوت، انسان کو اندھا کئے بغیر نہیں چھوڑتی، حضور ﷺ کی نورانیت کی عداوت میں ذاتِ مقدسہ کے لئے معاذ ﷲ تاریک سایہ ثابت کرنے کے لئے حضور ﷺ کے متعلق قرآن وحدیث میں وارد شدہ لفظ "نور" کو حقیقت نورانیت کے معنی سے پھیر کر تشبیہ وتمثیل پر محمول کرنے کا عامر صاحب پر ایسا بھوت سوار ہے کہ انہوں نے اﷲ تعالیٰ جل مجدہٗ کی بے مثل وبے تشبیہ ذاتِ مقدسہ کے لئے بھی اپنے زعم باطل میں اسی قرآن عظیم سے تشبیہ وتمثیل ثابت کردی جو ببانگ دہل اعلان فرمارہا ہے، لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ اﷲ تعالیٰ مثل وشبہ سے پاک ہے، اس کی کوئی شی مثل نہیں۔
عامر صاحب ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ اﷲ تعالیٰ کے لئے جو لفظ نور کو وہ تمثیل وتشبیہ پر محمول فرمارہے ہیں تو کیا اس کے یہ معنی نہیں کہ نور کو وہ اﷲ تعالیٰ کی مثل اور اس کے مشابہ قرار دے رہے ہیں، کیا اس کے علاوہ تمثیل وتشبیہ کے کوئی اور معنی بھی ہو سکتے ہیں ؟ جب نہیں اور یقیناً نہیں تو نور کو اﷲ تعالیٰ کی مثل اور اس کے مشابہ کہہ کر انہوں نے قرآن پاک کی صاف وصریح آیت
لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ کی معاذ اﷲ تکذیب کی یا نہیں ؟