حرف آخر


حضور ﷺ کا نور ہدایت ہونا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے نور حِسّی ہونے کے ہرگز منافی نہیں جیسا کہ چاند سورج کا نور حِسّی ہونا ان کے (حسبِ حال) نور ہدایت ہونے کے منافی نہیں، اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے
وَ بِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْن، یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ ستارے بھی موجب ہدایت ہیں، علاوہ ازیں اگر چاند سورج کو اس حیثیت سے دیکھا جائے کہ وہ اپنے صانع کی دلیل ہیں تو دینی ہدایت کا بھی وہ سبب قرار پاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ھُوَالَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا کی تفسیر میں آج تک کسی مفسر نے نُوْرًا و ضِیَآءً کے تحت ہدایت کی روشنی کے معنی نہیں لکھے، لیکن اس سے ان کے نور ہدایت ہونے کی نفی نہیں ہوتی، اسی طرح اگر کسی مفسر نے قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ ﷲِ نُوْرٌ کے تحت نورحِسّی کے معنی نہیں لکھے تو اس کی وجہ سے حضور ﷺ کے نور حِسّی ہونے کی بھی نفی نہیں ہوسکتی، پھر غور سے سُن لیجئے، آپ کا یہ شبہ ہے کہ آیت کریمہ "قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ ﷲ نُوْرٌ" کے تحت مفسرین نے حضور ﷺ کے نو رحِسّی ہونے کی تصریح نہیں فرمائی اور حضور کے نور ہونے کو حضور کے سایہ نہ ہونے کی دلیل نہیں ٹھہرایا، مگر یہ شبہ کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا کیونکہ مفسرین نے یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا کہ ہم قرآن کریم کی آیات وکلمات کے تمام معنیٰ بیان کردیں گے، قرآن کریم کے علوم غیر متناہی ہیں، غیر متناہی کا احصاء کون کرسکتا ہے، مولائے کائنات حضرت علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں لَا تُحْصیٰ عَجَائِبُہٗ، قرآن کے معانی عجیبہ کبھی ختم نہیں ہوسکتے۔
علاوہ ازیں علم تجوید وقرأت، علم تصوف، علم کلام اور علم فقہ کے تمام مسائل آج تک کسی مفسر نے اپنی تفسیر میں جمع نہیں کئے، بلکہ ہر فن کا مسئلہ اسی فن میں آیات واحادیث کی روشنی میں علماء دین بیان کرتے چلے آئے، فقہ وفتاویٰ، علم الاسانید، اسماء الرجال، مسائل کلامیہ مستقل فنون ہیں، اسی طرح حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا سایہ نہ ہونا ابوابِ مناقب سے متعلق ہے اور مناقب ایک مستقل فن ہے، جس کا تعلق علماء کے ایک خاص طبقہ سے ہے جو فضائل وشمائل اور سیرت مقدسہ کے ابواب وفصول کی تدوین وتالیف کا کام انجام دیتا ہے، اور بحمد ہٖ تعالیٰ ہم نے کتب فضائل وشمائل اور سیَر کے اتنے بے شمار حوالوں اور عبارتوں سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا سایہ نہ ہونا ثابت کردیا ہے کہ عامر صاحب کی آنکھیں کھل گئی ہوں گی، اس کے بعد بھی ان کا یہ کہنا کہ
"قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ ﷲ نُوْرٌ" کی تفسیر میں مفسرین نے سایہ نہ ہونے کا مسئلہ نہیں لکھا ایسا ہے جیسے بے وقوف یہ کہہ دے کہ مبسوط، فتح القدیر، فتاویٰ شامی، عالمگیری، دُرمختار اور قاضی خاں کے جملہ ابواب وفصول چونکہ مفسرین نے نہیں لکھے، اس لئے میں تسلیم نہیں کرتا، یا شرح مواقف، شرح مقاصد اور شرح عقائد وغیرہ کتب علم کلام کے جملہ مسائل مفسرین نے آیات متعلقہ کے تحت ارقام نہیں فرمائے اس لئے وہ غلط ہیں، یا علم تصوف واخلاق کے وہ تمام مسائل جو (کشف المحجوب)، فتوحات مکیہ، احیاء العلوم، کیمیائے سعادت، طریقہ محمدیہ، حدیقہ ندیہ وغیرہ کتب اخلاق وتصوف میں مرقوم ہیں آج تک کسی مفسر نے اُن آیات کے تحت ارقام نہیں فرمائے جن سے وہ مستنبط ہیں، لہٰذا وہ سب غلط اور ناقابل قبول ہیں۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جب صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین حضور ﷺ کے جسم اقدس میں نور حِسّی کا وجود اپنے مشاہدہ سے بیان کررہے ہیں اور صاف الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ حضور ﷺ کے نور سے دیواریں روشن ہوجاتی تھیں تو آپ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ محض اپنی اُپچ، ہٹ دھرمی اور ضد کو پورا کرنے کے لئے چمکتی ہوئی اور روشن احادیث کو نظر انداز کرکے اتنی بات پر اَڑ جائیں کہ اس آیت کی تفسیر میں کسی مفسر نے نور حِسّی کا لفظ نہیں لکھا اس لئے میں نہیں مانتا، ارے بندۂ خدا کسی مفسر نے نور حِسّی کا انکار کیا ہے یا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نورانیت کو ایک قسم کی نورانیت میں منحصر مانا ہے، اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو تمہارا ادعائے حصر تمام مفسرین کے خلاف اور تفسیر بالرائے نہیں تو کیا ہے ؟
آپ تو دلیلِ حصر کے بغیر حصر مان رہے ہیں اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے نور حِسّی کا انکار کررہے ہیں کہ مفسرین نے آیت
قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ کی تفسیر میں نور علم وہدایت کے سوا نور حِسّی کا ذکر نہیں کیا اور آپ کے مقتداء مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے تو آیت کریمہ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ کی تفسیر میں ختم زمانی کے علاوہ ختم ذاتی اور ختم مکانی کے معنی بھی لکھ دئیے اور اسی لفظ خاتم النبیین کے عموم میں ختم ذاتی اور ختم مکانی کے معنی کو شامل کرلیا، حالانکہ عہد رسالت سے لے کر آج تک کسی مفسر نے اس آیت کی تفسیر میں ختم ذاتی اور مکانی کے معنی نہیں لکھے، "ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ" بلکہ ساری اُمت کا اس بات پر اجماع ہے کہ آیت کریمہ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ کے معنی ختم زمانی میں منحصر ہیں، دیکھئے قاضی عیاض رحمۃ اﷲ علیہ نے اس اجماع کو اپنی مشہور کتاب شفاء میں نقل کیا، اور مرزائیوں کے مقابلہ میں آپ کے مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی نے اس اجماع علی الحصر کو بڑے زور شور سے پیش فرمایا، ملاحظہ فرمائیے ختم النبوۃ فی الآثار، ص۱۰۹۔
لیکن اس کے باوجود آپ نے یا آپ کے ہم خیال کسی شخص نے مولوی نانوتوی صاحب کے خلاف قلم نہیں اُٹھایا اور ان سے نہیں پوچھا کہ جناب آیہ کریمہ
وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ کی تفسیر میں تو آج تک کسی مفسر نے ختم ذاتی اور مکانی کے معنی نہیں لکھے، نہ آیت کے یہ معنی کسی حدیث میں وارد ہیں بلکہ ان دونوں معنی کی نفی اور صرف ختم زمانی کے معنی پر حصر اجماع سے ثابت ہے، آپ کے ہم خیال تمام علماء نانوتوی صاحب کی اس انوکھی، نرالی اور ان کی اپنی تفسیر کو شیر مادر کی طرح ہضم کرگئے اور قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْنٌ کی تفسیر میں باوجودیکہ کسی مفسر نے ادعاء حصر نہیں کیا اور حضور ﷺ کی نورانیت حِسّیہ کے ثبوت میں روشن احادیث بھی موجود ہیں لیکن عامر صاحب یہی رَٹ لگائے چلے جارہے ہیں کہ اس آیت میں لفظ نور کی تفسیر کرتے ہوئے کسی مفسر نے حضور کے حِسّی نور ہونے کا ذکر نہیں کیا لہٰذا یہ لفظ محض استعارہ ہے حِسّی نورانیت کی دلیل نہیں۔
آخری تمام حجت کے لئے عرض کردوں کہ علماء نے اسی آیہ کریمہ
قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْنٌ کی تفسیر میں حضور ﷺ کو نہ صرف نورحِسّی بلکہ نور حِسّی کی اصل مانا ہے، علامہ صاوی مالکی مصری، تفسیر صاوی، جلد اوّل، ص۲۳۹ میں فرماتے ہیں:
لانہ صلی ﷲ علیہ وسلم اصل کل نور حِسّی ومعنوی
ترجمہ۔ اس لئے کہ حضور ﷺ ہر نور حِسّی اور معنوی کی اصل ہیں۔