ایک اشکال اور اس کا حل


شاید آپ کہیں کہ فرشتے کی تعریف یہی ہے کہ و ہ ایک ایسا نورانی جوہر ہے جو اشکال مختلفہ میں متشکل ہوتا ہے اور اس میں مذکرومؤنث نہیں پایا جاتا، اس تعریف سے معلوم ہوا کہ جن امور کو آپ اوصاف بشری اور ملائکہ کے حق میں انہیں محال عادی کہہ رہے ہیں وہ سب اشکال محضہ ہیں جو فرشتوں کے لئے عادت ہیں اور انہیں اوصاف بشریہ قرار دے کر ملائکہ کے حق میں محال عادی کہنا درست نہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ شکل اس ہیئت کو کہتے ہیں جو کسی مقدار کو متناہی کی جہت سے حاصل ہو، اس ہیئت کا حصول ملائکہ کے حق میں قطعاً امر عادی ہے، ہم نے اسے نہ اوصاف بشریہ میں شمار کیا نہ فرشتوں کے لئے محال عادی کہا لیکن ملائکہ کے لئے صرف شکل بشری ہی نہیں بلکہ دیگر اوصاف بشریت بھی ثابت ہیں، صحیحین کی حدیث میں جبرئیل علیہ السلام کے لئے شدید بیاض الثیاب، شدید سواد الشعر کے الفاظ وارد ہیں جن کے معنی ہیں نہایت سفید کپڑوں والے، سخت سیاہ بالوں والے، اور اس کے بعد
اَسْنَدَ رکبتیہ الٰی رکبتیہ ووضع کفیہ علی فخذیہ بھی وارد ہے، جس کے معنی ہیں جبرئیل علیہ السلام نے اپنے دونوں گھٹنے حضور ﷺ کے گھٹنوں سے ملادئیے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی یا اپنی رانوں پر رکھ دیں۔
ظاہر ہے کہ نورانیت محضہ ایسی چیز نہیں جس کے لئے کپڑے پہننا، سیاہ بالوں والا ہونا، اور گھٹنے سے گھٹنہ ملانا اور ہتھیلیوں کا رانوں پر رکھنا متصور ہو، بلکہ نورِ محض کے لئے تو سیاہی، بال، گھٹنا، ہتھیلی اور ان کا وجود ہی ممکن نہیں، اسی طرح شکل محض کے بارے میں بھی یہ امور متحقق نہیں ہوسکتے، لہٰذا ثابت ہوگیا کہ جبرئیل علیہ السلام جو نورِ محض ہیں صرف شکل بشری نہیں بلکہ وصف جسمانیت بھی لے کر آئے تھے، علاوہ ازیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا لطمہ(طمانچہ) بھی اس امر کی دلیل ہے کہ ملک الموت جو ایک مقرب فرشتہ ہے محض شکل بشری میں نہ تھا، کیونکہ شکل تو ایک ہیئت کا نام ہے اس کو مارنا قطعاً امر غیر معقول ہے، پھر ملک الموت کی آنکھ پھوٹنا بھی اس امر کی قوی دلیل ہے کہ وہ محض شکل بشری میں نہ تھے بلکہ وصفِ بشری تھا، کیونکہ شکل کا پھوٹنا کوئی معنی نہیں رکھتا، لہٰذا ثابت ہوگیا کہ ملائکہ محض شکلِ انسانی نہیں بلکہ اوصافِ بشریہ سے بھی بطور خرق عادت متصف ہوسکتے ہیں۔
ایک سوال اور اس کا جواب
اگر سوال کیا جائے کہ توالدوتناسل، کھاناپینا، بول وبراز، خون اور تھوک، صحت ومرض، استقرار فی الارض ایسے امور ہیں جو لوازم وخواص بشریت سے ہیں، انہیں محض مقتضیات ومناسبات یا اوصاف بشریت سے کیوں تعبیر کیا گیا تو میں جواباً عرض کروں گا کہ امور بشریت کے خواص ولوازمات سے نہیں بلکہ محض مقتضیات ومناسبات اور اوصاف بشریت ہی سے ہیں، اس لئے کہ خاصہ کے معنی ہیں
ما توجد فیہ ولا توجد فی غیرہ حالانکہ یہ امور بشریت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ وحوش وبہائم اور دیگر حیوانات میں بھی پائے جاتے ہیں اور ان میں سے اکثر اوصاف جنات میں بھی موجود ہیں، ہر شخص جانتا ہے کہ گائے، بیل، گھوڑا، گدھا، اونٹ، بکری، شیر، ہاتھی، سب جانوروں میں توالدوتناسل، کھانا پینا، بول وبراز، خون، تھوک، صحت ومرض، استقرار فی الارض کے اوصاف پائے جاتے ہیں اور جنات میں توالدوتناسل، کھانا، پینا وغیرہ ہم دلائل سے ثابت کرچکے ہیں، ا گر یہ امور خواصِ بشریت قرار دے دئیے جائیں تو جنات وحیوانات میں ان کا پایا جانا کیونکر صحیح ہوگا۔
رہا یہ امر کہ یہ لوازمات کیوں نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ لازم کی تعریف یہ ہے کہ
مایمتنع انفکاکہ عن الشیء جس کا کسی شئے سے جدا ہونا محال ہو وہ اس کا لازم ہے، ہزاروں افرادِ انسانی ایسے ہیں جن میں توالدوتناسل نہیں پایا جاتا اور ان میں اس کی صلاحیت بھی مفقود ہوتی ہے، عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش میں کسی مرد کو دخل نہیں، حوا علیہا السلام کے پیدا ہونے میں کسی عورت کا وجود نہیں، آدم علیہ السلام کی خلقت مردوعورت دونوں سے لاتعلق ہے، عیسیٰ علیہ السلام باوجود بشریت کے عنصری غذا کھانے پینے، بول وبراز، بیماری وآزاری وغیرہ امور سے بری ہیں اور ان کا استقرار بھی زمین کی بجائے آسمان پر ہے جہاں عنصری اور مادی آلائشوں سے وہ بالکل لا تعلق ہیں، اگر ان امورِ مذکورہ کو لوازم بشریت سے مانا جائے تو کوئی فردِ بشر ان اوصاف میں سے کسی ایک وصف سے بھی کسی وقت خالی نہیں رہ سکتا، لیکن یہ خلو اور انفکاک ثابت ومتحقق ہے، معلوم ہوا کہ امورِ مذکور ہ نہ خواصِ بشریت سے ہیں نہ لوازمات بشریت سے بلکہ مقتضیات اور مناسباتِ بشریت سے ہیں اور بس۔
اور اگر حقائق سے چشم پوشی کرکے امورِ مذکورہ کو خواص اور لوازم مان ہی لیا جائے تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ یہ خواص بشر کے علاوہ جن حیوانات میں پائے جاتے ہیں وہ سب بشر ہیں اور لوازماتِ مذکورہ جن افراد بشر میں نہیں پائے جاتے وہ سب بشریت سے خارج ہیں، اس تقدیر پر جملہ حیوانات بشر ہو جائیں گے اور وہ ہزاروں افراد بشر جن میں یہ اوصاف نہیں پائے جاتے سب بشریت سے خارج متصور ہوں گے، جو صراحۃً باطل ہے۔
اور اگر اس ساری بحث سے قطع نظر کرلی جائے تب بھی حضور ﷺ کی نورانیت پر حرف نہیں آتا، کیونکہ ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے وجود اقدس میں بشریت بھی ہے اور نورانیت بھی، یہ علیحدہ امر ہے کہ بشریت محمدی ہر قسم کی کثافت وغلاظت اور جملہ عیوب و نقائص بشریہ سے پاک ہے لیکن بہر نوع وجود اقدس میں نورانیت کے ساتھ بشریت بھی ضرور پائی جاتی ہے، قرآن مجید میں حضور ﷺ کے متعلق
"قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ" بھی آیا ہے اور "قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ" بھی وارد ہے، لہٰذا بشریت کے لئے مناسبات بشریہ کا ہونا عین حکمت کے مطابق ہے، اسی طرح نورانیت کے لئے مناسبات نورانیت کا ہونا بھی ضروری اور لابدی ہے۔
لیکن اس مقام پر یہ امر ضرور ملحوظ رہے کہ ہر چیز کے مناسبات اس کے لئے عادت کہلاتے ہیں اور جو امور اس کے مناسبات سے نہیں وہ اس کے حق میں خرق عادت قرار پاتے ہیں، کسی چیز میں امور عادیہ کا پایا جانا حیرت کا موجب نہیں ہوتا لیکن خرق عادت کا ظہور یقیناً حیرت کا سبب ہوتا ہے، مثلاً گائے بیل کے لئے زمین پر رہنا عادت ہے اور مچھلیوں کے لئے پانی میں رہنا، اسی طرح پرندوں کے لئے ہوا میں اُڑنا عادت ہے اور چیونٹیوں وغیرہ حشرات الارض کے لئے زمین میں رہنا اور زمین پر چلنا، اَب اگر مثلاً گائے بیل اور مچھلیاں ہوا میں اُڑنے لگیں اور آسمان پر اُڑنے والے پرندے پانی میں دوڑنے لگیں اور چیونٹیاں وغیرہ زمین میں رہنے والے کیڑے پانی میں رہائش اختیار کرلیں یا فضائوں میں اُڑنے لگیں تو یہ امور ان کے لئے خرق عادت ہونے کی وجہ سے حیرت واستعجاب کا موجب ہوں گے، اور یہ اس بات کی علامت قرار پائیں گے کہ ان چیزوں میں غیر معمولی استعداد موجود ہے جو اپنے عواقب ونتائج کے حسن وخوبی کے اعتبار سے ان کی خوبی اور کمال کی دلیل ہوسکتے ہیں۔
بشریت ونورانیت کے مقتضیات ومناسبات کو بھی اسی نہج پر سمجھنا چاہئے، کھانا پینا، توالدوتناسل، بیماری، تندرستی، بھوک پیاس، زمین پر چلنا، جسم کا زخمی ہونا، بدن سے خون نکلنا، پیشاب وغیرہ دیگر فضلات کا پایا جانا، امور بشریت کے مقتضیات اور اس کے مناسبات ہیں جو بشریت کے حق میں قطعاً امور عادیہ ہیں، اس کے برخلاف کھانے پینے، بیماری تندرستی، بھوک پیاس، توالدوتناسل، زخمی ہونے، خون بہنے اور پیشاب وغیرہ سے لا تعلق ہونا نورانیت کے مناسبات و مقتضیات ہیں اور یہ جملہ امور نورانیت کے لئے یقیناً امور عادیہ ہیں، جس طرح بشریت ونورانیت میں سے ہر ایک کے مناسبات اس کے حق میں امور عادیہ ہیں اسی طرح ان میں سے ہر ایک کے مناسبات دوسرے کے لئے غیر عادیہ ہیں، اگر بشریت کے مناسبات نورانیت کے ساتھ پائے جائیں تو وہ اس کے لئے خرق عادت ہوں گے اور اسی طرح نورانیت کے مناسبات بشریت کے ساتھ پائے جائیں تو وہ اس کے لئے خرق عادت قرار پائیں گے۔
جن لوگوں نے حضور سیّد عالم ﷺ کے احوال بشریہ کو دیکھ کر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اپنا جیسا سمجھ لیا انہوں نے انتہائی تنگ نظری کا ثبوت دیا، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات مقدسہ میں جس طرح بشریت پائی جاتی ہے اسی طرح نورانیت بھی پائی جاتی ہے اور جب بشریت ونورانیت دونوں موجود ہیں تو دونوں کے مقتضیات ومناسبات کا پایا جانا بھی ضروری ہے، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں کو پیش نظر رکھا جائے لیکن تنگ نظر لوگوں نے حضور ﷺ کے کھانے پینے کو تو دیکھ لیا اور یہ نہ دیکھا کہ "نہ کھانا پینا" بھی حضور ﷺ کی صفت ہے، چنانچہ صحیحین کی حدیث میں وارد ہے کہ حضور ﷺ پے درپے نفلی روزے اس طرح رکھتے تھے کہ دن کو بھی روزہ رات کو بھی روزہ اور یہ صوم وصال مسلسل کئی دن تک جاری رہتا تھا اور اس نہ کھانے پینے کی وجہ سے حضور ﷺ کی ذات مقدسہ میں ذرہ برابر کمزوری اور ضعف کا اثر پیدا نہ ہوتا تھا، بعض صحابہ کرام نے بھی یہ وصال کا روزہ رکھنا شروع کیا اور دو تین دن میں ایسے کمزور ہوگئے کہ ضعف کی وجہ سے چلتے چلتے گر جاتے تھے، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان کا یہ حال دیکھ کر ارشاد فرمایا "
ابیت عند ربی وھو یطعمنی ویسقینی ایکم مثلی" یعنی میں اپنے رب کے پاس رات گزارتا ہوںوہ مجھے کھلاتا پلاتا ہے، تم میں کون میری مثل ہے، اور بخاری شریف کی ایک حدیث میں اس مقام پر "ایکم مثلی" کی بجائے "لَسْتُ مِثْلَکُمْ" وارد ہے، یعنی میں تمہاری مثل نہیں ہوں۔
دیکھئے جس طرح بشریت کی مناسبت سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا کھانا پینا ثابت ہے بالکل اسی طرح نورانیت کی مناسبت سے نہ کھانا اور نہ پینا بھی ثابت ہے، اسی طرح حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بتقاضائے بشریت بھوک پیاس کے حال سے متصف ہونا اور بیماری وتندرستی کے ماحول سے گزرنا یقیناً ثابت ہے، لیکن بتقاضائے نورانیت حضور ﷺ کے آثار شریفہ سے لوگوں کی بھوک پیاس کا دُور ہوجانا اور بیماریوں کا زائل ہونا بھی ثابت ہے، بلکہ جُبہ مبارکہ کی برکت سے بیماروں کا شفایاب ہونا حقیقت ثابتہ ہے، دیکھئے مسلم شریف میں وارد ہے، حضرت اسماء رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے جبہ سے بیماروں کے لئے شفا حاصل کرتے تھے(مسلم شریف، جلداوّل، کتاب اللباس والزینۃ، مطبوعہ دار المغنی، ریاض سعودی عربیہ، ص ۱۴۷)، پیشاب فرمانے، پسینہ مبارک آنے اور دیگر فضلات شریفہ کے جسم اقدس میں پائے جانے پر تو نظر رکھی مگر یہ نہ دیکھا کہ پسینہ اقدس فضلات شریفہ ایسے معطر ومعنبر اور خوشبو دار تھے کہ دنیا کی کوئی خوشبو ان کی خوشبو کا مقابلہ نہ کرسکتی تھی اور فضلات لطیف ونظیف اور طیب وطاہر تھے، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بتقاضائے بشریت زمین پر چلنا یقیناً حق ہے لیکن بتقاضائے نورانیت آسمانوں پر تشریف فرما ہونا بلکہ عرش الٰہی پر خرام ناز فرمانا بھی ثابت ہے، بے شک مناسبات بشریہ کی وجہ سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام توالدوتناسل کی صفت سے متصف ہیں اور آدم علیہ السلام کی اولاد میں یقیناً شامل ہیں لیکن بتقاضائے نورانیت اوّل خلق بھی حضور ہی ہیں، اور آدم علیہ السلام ودیگر تمام انبیاء علیہم السلام سے قبل حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خلقت واقع ہوئی جیسا کہ حدیث پاک میں واردہوا،
"انا اولھم خلقًا" یعنی میں تمام انبیاء علیہ السلام  سے پہلے پیدا ہوا ہوں، ترمذی شریف کی ایک حدیث میں وارد ہے کہ میں اس وقت نبی تھا، جب آدم علیہ السلام جسم اور روح کے درمیان تھے، گویا بشریت کے اعتبار سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور اپنے والد ماجد حضرت عبدﷲ اور اپنی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کے بیٹے ہیں، لیکن اپنی نورانیت کے لحاظ سے آدم واولاد آدم سب کی اصل ہیں لاریب! حضور ﷺ جہاد کے موقع پر بار ہا زخمی ہوئے اور بتقاضائے بشریت بدن مبارک سے خون اقدس کے قطرے بھی ٹپکے، لیکن کئی بار شق صدر مبارک ہوا اور بتقاضائے نورانیت خون کا ایک قطرہ بھی جسم شریف سے نہیں نکلا نہ زخم ہوا نہ تکلیف ہوئی نہ دوا دارو کی حاجت واقع ہوئی۔
علیٰ ہذا القیاس حضور سرور عالم ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرہ شریفہ میں شب کی نماز پڑھتے تھے، حجرہ مبارکہ میں چراغ نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرا ہوتا تھا، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام جب سجدہ فرماتے تو حضرت اُم المومنین رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے جسم اقدس کو اپنے دست مبارک سے ذرا دبا دیتے تو اُم المومنین حضور کے سجدہ کے لئے جگہ چھوڑ دیتیں، ذات مقدسہ میں باوجود نورانیت ہونے کے اُجالا نہ ہونا بشریت کا مقتضا تھا لیکن حضور سیّد عالم شب کی تاریکی میں جب راستہ پر چلتے تو حضور ﷺ کے نور سے دیواریں روشن ہو جاتیں دیکھئے بیہقی شریف کی حدیث میں ہے:
وقال ابو ھریرۃ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ واذاضحک صلی ﷲ علیہ وسلم یتلا لؤ فی الجد ررواہ البزار والبیہقی ای یضیء فی الجدربضم الجیم والدال جمع جدارٍ وھو الحائط اَی یشرقُ نورہٗ علیھا اشراقًا کاشراقِ الشمس علیھا ۔ انتہیٰ
(مواہب اللد نیہ، جلد اوّل، ص۲۷۱)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا حضور ﷺ جب ہنستے تھے تو حضور کا نور دیواروں پر چمکتا تھا اس حدیث کو امام بزار اور بیہقی نے روایت کیا، امام قسطلانی حدیث کے معنی بیان فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کا نور دیواروں پر ایسا چمکتا اور روشن ہوتا تھا جیسے سورج کی روشنی دیواروں پر پڑتی ہے اور چمکتی ہوئی نظر آتی ہے۔
رات کی تاریکی میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے نور سے دیواروں کا روشن ہونا نورانیت کا مقتضا تھا، رہا یہ امر کہ اُم المومنین کے حجرہ میں اُجالا ظاہر نہ ہونے میں کیا حکمت تھی؟ تو میں عرض کروں گا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے تمام مقتضیات بے شمار حکمتوں پر مبنی ہیں بالخصوص مقتضیات بشریہ میں جوچیز سب سے زیادہ واضح اور روشن ہے، وہ تبلیغ وتعلیم اور تکمیل دین کی حکمت ہے، اُم المومنین رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرہ شریفہ میں اگر اُجالا ظاہر ہوتا تو وہ حضور ﷺ کے سجدہ کے لئے خودبخود جگہ چھوڑ دیتیں اور حضور ﷺ کو بحالت نماز ان کے بدن کو چھونے کی نوبت نہ آتی، جب حجرہ شریفہ میں اُجالا نہ ہوا تو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے بدن کو مس فرمانے کا موقع بہم پہنچا، اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس عمل مبارک سے بادی النظر میں دین کے پانچ مسئلے مکمل ہوگئے اور اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو نہ معلوم اور کتنے مسائل نکلیں گے، وہ مسائل خمسہ حسب ذیل ہیں:
(۱) نماز میں عمل قلیل جائز ہے۔
(۲) عورت کے بدن کو ہاتھ لگنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(۳) عورت کو چھونا مفسد صلوٰۃ نہیں۔
(۴) بوقت ضرورت اندھیرے میں نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے۔
(۵) نمازی کے آگے عورت کے ہونے سے نماز میں فتور نہیں آتا۔
شاید کوئی کہے کہ آپ نے جو امور مقتضیات بشریت کے خلاف بیان کئے ہیں وہ سب حضور ﷺ کے معجزات ہیں، تو میں عرض کروں گا کہ بے شک وہ جملہ امور بشریت کے اعتبار سے معجزات ہیں، لیکن جس طرح یہ امور معجزہ ہیں اسی طرح تمام مقتضیات بشریت حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے حق میں معجزہ قرار پائیں گے، کیونکہ ہر وصف خارق عادت نبی کے حق میں معجزہ کی شان رکھتا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ اوصاف بشریہ حضور ﷺ کی نورانیت کے لئے یقیناً خارق عادت ہیں، لہٰذا اچھی طرح واضح ہوگیا کہ جس طرح حضور ﷺ کا عرش پر جانا بشریت کے اعتبار سے معجزہ ہے اسی طرح فرش پر رہنا نورانیت کے لحاظ سے معجزہ ہے، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا صوم وصال کے وقت مسلسل کئی دن اور کئی راتوں تک کھانے پینے سے لاتعلق رہنا بشریت کی نسبت سے معجزہ ہے اور حکمت تعلیم کے لئے کھانا پینا نورانیت کے اعتبار سے معجزہ ہے، شق صدر مبارک کے اوقات میں حضور ﷺ کے جسم اقدس سے خون مبارک کا نہ نکلنا بشریت کے حق میں معجزہ ہے اور جہاد کے مواقع میں خون اقدس کا نکلنا نورانیت کے لئے معجزہ ہے، پسینہ مبارک ودیگر فضلات شریفہ کا خوشبو دار ومعطر ہونا اور جسم اقدس کے جمیع متعلقات شریفہ کا طیب وطاہر ہونا حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی بشریت کا معجزہ ہے اور نفس فضلات شریفہ کا پایا جانا نورانیت کا معجزہ ہے، لعاب دہن مبارک سے لوگوں کی بھوک پیاس کا زائل ہوجانا اور جُبہ مبارکہ سے بیماروں کا شفایاب ہونا بشریت کی جہت سے معجزہ ہے اور حضور ﷺ پر خود بھوک پیاس اور بیماری کا عارض ہونا نورانیت کی نسبت سے معجزہ ہے، یہ علیحدہ امر ہے کہ اس عالم میں بشریت مطہرہ کے غلبہ اور ظہور تام کے باعث ان مقتضیات بشریہ کا بلحاظ نورانیت معجزہ ہونا غیر ظاہر ہو، لیکن حقیقت واقعیہ کے پیش نظر حضور ﷺ کے تمام اوصاف بشریہ معجزانہ شان رکھتے ہیں، علیٰ ہذا آدم واولاد آدم علیہ السلام کی اصل ہونا بشریت کے لئے خرق عادت ہونے کی وجہ سے حسن وجمال ہے اور نسل بنی آدم میں پیدا ہوکر والدین ماجدین کا بیٹا ہونا نورانیت کے باعث خوبی وکمال ہے، مختصر یہ کہ حضور سیّد عالم ﷺ کے خواص نورانیت بالنسبۃ الی البشریت معجزات وکمالات ہیں اور اوصاف بشریت بالنسبۃ الی النورانیت کمالات ومعجزات ہیں اور ذات محمدیہ ﷺ میں جب بشریت اور نورانیت دونوں جمع ہوگئیں تو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام مجسم معجزہ اور کمال ہیں۔
ا یک شبہ کا ازالہ
فرشتہ نور ہے اور قرآن مجید میں رسول ﷲ ﷺ کی ذات مقدسہ سے فرشتہ ہونے کی نفی وارد ہے چنانچہ ارشاد فرمایا
"وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ" یعنی کہہ دو کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں، جب حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے ملک ہونے کی نفی ہوگئی تو نورانیت کی بھی نفی ہوگئی، اس کا ازالہ یہ ہے کہ ملک اور نور کے مابین تساوی کی نسبت نہیں کہ ایک کی نفی سے دوسرے کی نفی ہوجائے، دوسرے یہ کہ حقیقت قول کی نفی وجودِ مقول کی نفی کو مستلزم نہیں، تیسرے یہ کہ ملک ایک خاص نوری مخلوق کو کہا جاتا ہے جس میں بشریت نہیں ہوتی، اگر حضور ﷺ کو ملک کہا جائے تو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات مقدسہ سے حقیقت بشری منتفی ہوجائے گی، حالانکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام تمام حقائق کائنات کے جامع ہیں، اس لئے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ملک کہناجائز نہیں لیکن ملک نہ ہونے سے نور نہ ہونا لازم نہیں آتا، فرشتوں کے علاوہ بے شمار نوری افراد ہیں جو ملک نہیں مگر نور ہیں اسی طرح حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام بھی ملک نہیں مگر نور ہیں۔
یہ تمام گفتگو عامر صاحب کے من گھڑت لوازمات نور پر تھی، ناظرین کرام نے دیکھ لیا کہ حقائق کی روشنی میں عامر صاحب کے بیان فرمودہ لوازمات میں سے ایک لازمہ بھی صحیح ثابت نہ ہوا، اس سلسلہ میں اگرچہ ہمارا بیان کچھ طویل ہوگیا ہے مگر اس کے ذیل میں ایسے مسائل آگئے ہیں جنہیں پڑھ کر یہ طول باعثِ ملال نہ ہوگا۔
انسان کے لئے بے خبری اور لا علمی کی حالت میں مکھی کیا زہر بھی کھالینا ممکن ہے، لیکن دکھانے اور بتانے کے بعد کوئی ہوشمند ایک معمولی سی مضرت رساں چیز کھانا بھی گوارا نہیں کرتا۔
سایۂ رسول ﷺ کے مسئلے میں عامر صاحب نے السعید کا ظل نمبر پڑھنے کے بعد اس کے تعاقب میں جو زہر کی گولیاں چبائیں اور جیتی مکھیاں کھائی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بصیرت وبصارت کی نعمت سے یکسر محروم ہیں، وہ خوش ہیں کہ ہم نے طعن وتشنیع کی بھر مار کرکے اور چند طنزیہ فقروں کی لوٹ پھیر کا چکر چلا کر عوام کے اذہان کو السعید کے پیش کردہ براہین کے وزن سے خالی کردیا، اور سادہ لوح عوام کو سمجھادیا کہ السعید کے دلائل کچھ نہیں، لیکن جوابِ تعاقب میں ہمارے مضمون کی چار قسطیں پڑھنے کے بعد ناظرین کرام پر واضح ہوگیا ہوگا کہ عامر صاحب کی یہ خوش فہمی کتنی دیر پا ثابت ہوئی،عامر صاحب کو اپنی طرزِ نگارش پر ناز ہے، وہ محض اپنی لفاظی کے بل بوتے پر دلائل وبراہین کی ٹھوس حقیقتوں سے ٹکرا جاتے ہیں، اور یہ نہیں سمجھتے کہ لفظ ِبے معنی جسمِ بے جان کی طرح بے وقعت اور بیکار ہوتا ہے۔
السعید نے دلائل وبراہین کی شمشیر سے عامر صاحب کی ابلہ فریبیوں پر ایسی کاری ضربیں لگائی تھیں جن کی تاب نہ لا کر سسکیاں لئے بغیر ہی ان کا خاتمہ ہوچکا تھا، لیکن عامر صاحب کی جسارت دیکھئے کہ انہیں اپنی لفاظی کا جامہ پہنا کر صرف زندوں کی صف میں نہیں بلکہ بہادر پہلوانوں کے دوش بدوش لا کھڑا کیا اور ان کے سہارے پر ڈھٹائی کے ساتھ خم ٹھونک کر سامنے آگئے۔ ع

آفریں باد بریں ہمتِ مردانۂ تو

عامر صاحب کو المحن بالحجۃ (جھگڑالو)ہونے میں جو کمال حاصل ہے، اس کا اعتراف نہ کرنا ایک حقیقت ثابتہ کو جھٹلانا ہے جس کی روشن دلیل ناظرین کرام كے سامنے موجود ہے کہ انہوں نے اپنی علمی اور استدلالی کمزوریوں اور بے مائیگی کو الفاظ کے جامے میں چھپانے کی انتہائی کوشش کی ہے مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کٹ حجتی حقانیت کی دلیل ہوتی تو ایسے لوگوں کے حق میں زبانِ رسالت سے قِطْعَۃٌ مِّنَ النَّارِ کی وعید صادر نہ ہوتی۔
خدا سے ڈرئیے! اور خوف خدا کو دل میں جگہ دے کر السعید کے ظل نمبر میں پیش کردہ حقائق پر ایک دفعہ پھر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیے اور سوچئے کہ جن بنیادی امور کا آپ سے جواب نہ بن پڑا کس صفائی سے آپ نے انہیں نظر انداز کردیا، نہیں بلکہ آپ انہیں شیر مادر کی طرح ہضم فرماگئے۔
میرے مضبوط دلائل کے سامنے طنزیہ انداز میں پھس پھسے الفاظ آپ نے کہے ہیں اور کمالات رسالت کا انکار کرنے میں جس عناد کا مظاہرہ کیا ہے خوب سمجھ لیجئے کہ وہ زہر کے پیالے ہیں جنہیں آپ نے جان بوجھ کر پیا ہے اور جیتی مکھیاں ہیں جنہیں دیکھ بھال کر آپ نے کھایا ہے۔
آپ نے میری پیش کردہ ایک آیت
قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْنٌ کے مقابلے میں بائیس آیات قرآنیہ اور اکیس عبارات مختلفہ بالکل بے محل پیش کرکے حق چھپانے کی ناکام کوشش کی اور تقریباً چودہ صفحے کی طول نگاری میں صرف اتنی بات کہی ہے کہ جس طرح دیگر آیات میں لفظ"نور" بطور استعارہ مستعمل ہے، اسی طرح اس آیت میں بھی استعارہ ہے، اور نور سے مراد نور حِسّی حقیقی نہیں بلکہ علم وہدایت کا نور ہے۔
انشاء ﷲ اگلے صفحات میں آپ کے استعارے پر مفصل گفتگو ہوگی، اور آپ کو معلوم ہوگا کہ اس بحث کو چھیڑ کر آپ کیسی دلدل میں پھنسے ہیں اور آپ کی اُلٹی منطق کنکھجورا بن کرکس طرح آپ کو چمٹی ہے۔
سر دست آپ کو یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ میرے تعاقب میں آپ نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا، لیکن جس نکتہ پر میں نے اپنے استدلال کی بنیاد رکھی تھی وہ ایسا سنگ گراں ثابت ہوا کہ آپ کسی طرح اسے نہ ہلا سکے، بلکہ آپ کے مضمون سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ اس کے قریب ہوکر بھی نہیں گزرے۔
عامر صاحب حضور ﷺ کے علم وہدایت کا نور ہونے میں اختلاف نہیں، وہ کون سا شقی ہے جو ہادیٔ عالم اور علم کائنات ﷺ کو علم وہدایت کا نور نہیں مانتا، اختلاف اس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نورانیت فقط علم وہدایت میں منحصر ہے یا حسی حقیقی نورانیت کو بھی شامل ہے، جسے ضیاء، لمعان، روشنی اور چمک کہا جاتا ہے۔
عامر صاحب اگر سچ پوچھیں تو بتا دوں کہ آپ لوگ فی الحقیقت حضور ﷺ کو علم وہدایت کا نور بھی نہیں مانتے کیونکہ شب وروز آپ حضور ﷺ کے علم کی تنقیص میں لگے رہتے ہیں کہ حضور ﷺ کو برأت صدیقہ کا علم نہ تھا، لیلۃ القدر کا علم نہ تھا، روح کا علم نہ تھا، مغیبات خمسہ کا علم نہ تھاوغیرہ، بے شمار جزئیات اور واقعات کے علم کی آپ لوگ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات سے نفی کرتے رہتے ہیں، نیز ابو طالب کے ہدایت یافتہ نہ ہونے کو آپ لوگ حضور ﷺ کے ہادی نہ ہونے کی دلیل قرار دیا کرتے ہیں، جب علم وہدایت دونوں کا انکار ہوگیا تو آپ کس منہ سے کہتے ہیں کہ ہم حضور کو علم وہدایت کا نور مانتے ہیں۔
بفضلہٖ تعالیٰ میں نے احادیث صحیحہ اور اقوال مفسرین کی روشنی میں اس حقیقت کو آفتاب سے زیادہ روشن کرکے دکھا دیا تھا کہ حضور ﷺ کا نور ہونا صرف ایک قسم کی نورانیت (علم وہدایت) میں منحصر نہیں بلکہ تمام قسم کی نورانیتیں حضور ﷺ کے لئے ثابت ہیں۔
حضور ﷺ کے جسم اقدس کی روشنی سے دیواروں کا روشن اور منور ہوجانا، دندان مبارک سے نورانی شعاعوں کا نظر آنا، چہرۂ انور اور پیشانی مقدسہ سے نور کی شعاعوں کا چمکنا یہ سب کچھ احادیث صحیحہ سے بحوالہ کتب وصفحات"السعید" کے ظل نمبر میں لکھ چکا ہوں، اور تشریح مزید کے لئے شارحین ومفسرین وعلماء متبحرین کے واضح اقوال نقل کرچکا ہوں، میرے مضمون میں (تفسیر)روح المعانی کی یہ عبارت بھی آپ نے پڑھی ہوگی جو میری پیش کردہ آیت کریمہ
قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْنٌ کے تحت روح المعانی پ ۶،ص۸۷ پر مرقوم ہے۔
"(
قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ) ای نور الانوار والنبی المختار محمد صلی ﷲ علیہ وسلم
یعنی حضور ﷺ صرف نور نہیں بلکہ نور الانوار یعنی "سب نوروں کا نور" ہیں، "الانوار" نور کے تمام اقسام وافراد کو شامل ہے اور لفظ نور اس کی طرف مضاف بہ اضافت استغراقیہ ہے، جو مضاف الیہ کے جمیع افراد کو شامل ہے اور اس کا مفاد یہ ہے کہ عالم کا کوئی نور نہیں جس کا نور حضور ﷺ نہ ہوں، حضور صرف نور نہیں بلکہ"نورالانوار" ہیں، بتائیے آیۂ کریمہ میں لفظ نور ہر قسم کی نورانیت کو شامل ہے یا نہیں؟
عامر صاحب کی افتاد طبع سے بعید نہیں کہ وہ اس تفسیری کلمہ کا معارضہ اصول فقہ کی مشہور کتاب"نورالانوار" کے نام سے کر بیٹھیں، تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہاں یہ لفظ ایک کتاب کے لئے استعمال کیا گیا ہے جو "انوار" اس کتاب کے لئے عقل سلیم کی روشنی میں تسلیم کئے جاسکتے ہیں ان سب کا مجموعہ لفظ "نور الانوار" سے مراد ہوسکتا ہے، اور صاحب روح المعانی کے کلام میں یہ لفظ "نور الانوار" کلام الٰہی کے ایک لفظ "نور" کی تفسیر میں وارد ہے جس کا مصداق ذاتِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ ہے، اس لئے یہاں وہ تمام حقائق نوریہ مراد لئے جائیں گے جن کا حضور نبی کریم ﷺ کی ذات مقدسہ میں ہونا ممکن اور دلائل شرعیہ سے ثابت ہے، عامر صاحب کا یہ استدلال بالکل ایسا ہوگا جیسے کوئی احمق کسی صحابی یا غیر صحابی کے متعلق حدیث میں لفظِ رسول(بمعنی قاصد) دیکھ لے اور کہنے لگے کہ معاذ ﷲ حضرت محمد ﷺ کی طرح یہ بھی رسول ہے کیونکہ قرآن میں "
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ" آیا ہے اور اس شخص کے لئے بھی یہی لفظ رسول موجود ہے لہٰذا دونوں کی رسالت یکساں ہے، معاذ ﷲ ثم معاذ ﷲ، اور اگر عامر صاحب کے لئے اتنی بات کا فی نہ ہو تو میں ان سے پوچھوں گا کہ اصول فقہ کی کتاب کا نام بھی نورالانوار ہے، اور رسول ﷲ ﷺ بھی "نور الانوار" ہیں، کیا آپ کے نزدیک دونوں کے انوار یکساں ہیں؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو سمجھ لیجئے کہ آپ کا معارضہ باطل ہے۔
المرام
خلاصۃ الکلام یہ کہ نبی کریم ﷺ ایسے کامل نور ہیں جس کے دامن میں تمام عالم کے تمام حقائق نوریہ مستور ہیں، حضور ﷺ جہاں علم وحکمت، ایمان وعرفان اور ہدایت واسلام کے نور ہیں وہاں حِسّی حقیقی نور بھی ہیں، عامر صاحب! آیات قرآنیہ اور عبارات مختلفہ سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نور ہدایت اور نور علم وحکمت ثابت کرنا ہمارے دعویٰ کے خلاف نہیں، ہاںحقیقی حِسّی نور نہ ہونا یقیناً ہمارے دعویٰ کے منافی ہے لیکن آپ نے اَب تک جتنی آیات وعبارات پیش کی ہیں ان میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے حضور ﷺ کے نورِ حِسّی حقیقی ہونے کی نفی ثابت ہوتی ہو، عامر صاحب نے اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کردیا کہ آیۂ کریمہ کی تفسیر میں علماء نے علم وہدایت کے الفاظ تو ضرور لکھے ہیں لیکن یہ کسی نے نہیں لکھا کہ یہاں لفظ نور علم وہدایت کے معنی میں منحصر ہے اور یہ نور حِسّی حقیقی نورانیت کے منافی ہے، خوب یاد رکھئے "نور ہدایت" اور "صرف نور ہدایت" ان دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے، ہم حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نور ہدایت مانتے ہیں مگر صرف نور ہدایت جس سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی حِسّی حقیقی نورانیت کی نفی ہوتی ہو نہیں مانتے، بائیس آیتیں کیا آپ سارا قرآن پڑھ جائیے آپ کو ایسا ایک لفظ نہ ملے گا جس میں حصر ہو، نہ آج تک کسی مفسر نے حصر کا قول کیا، علیٰ ہذا احادیث کی طرف آئیں تو ان شا ء ﷲ قیامت تک ایک ضعیف سے ضعیف حدیث بھی آپ کو نہ مل سکے گی جس میں نبی اکرم ﷺ کے حِسّی حقیقی نور نہ ہونے کی اور محض علم وہدایت میں منحصر ہونے کی تصریح ہو، اسی طرح بجز کسی بد عقیدہ مصنف کے کسی عالم دین متقدم یا متاخر کے کلام میں نور حِسّی کی نفی اور علم وہدایت میں انحصار کا ثبوت نہ مل سکے گا،
ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ۔ اس کے بر خلاف ہم نے وہ احادیث واقوال علمائے مفسرین پوری تفصیل وتشریح کے ساتھ پیش کردئیے جن سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا نور حِسّی ہونا بھی ثابت ہے۔
عامر صاحب سے یہ امر بھی بعید نہیں کہ وہ اپنی ترنگ میں آکر
اِنَّمآ اَنَا بَشَرٌ پڑھ دیں اور کہہ دیں کہ دیکھئے یہاں بشریت میں حصر موجود ہے تو میں پہلے سے ان کی خدمت میں عرض کردوں کہ اِنَّمآ اَنَا بَشَرٌ کے ساتھ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ کو بھی پڑھ لیجئے، اگر وہاں بشریت میں حصر ہے تو یہاں رسالت میں ہے، ظاہر ہے کہ رسالت بشریت کا غیر ہے ورنہ ہر رسول بشر ہوگا جو بداہۃً باطل ہے، کیونکہ فرشتے بشر نہ ہونے کے باوجود رسول ہیں، معلوم ہوا کہ وہاں آپ نے جو حصر سمجھا ہے، وہ درست نہیں، ان شاء ﷲ حصر کی یہ پوری بحث اپنے وقت پر آئے گی۔