عامر صاحب کی علمی استعداد اور قرآن دانی کا بہترین نمونہ


عامر صاحب کی عبارت کا اقتباس جو ہم نے ابھی ہدیۂ ناظرین کیا ہے اس میں ہمارے ناظرین کرام نے ملاحظہ فرمالیا ہوگا کہ نور کا ایک لازمہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے حیز(محل وقوع) کو نہیں بھرتا۔
حیز کا ترجمہ "محل وقوع" عامر صاحب کی علمی استعداد کا شاندار نمونہ ہے، انہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ حیز متکلمین کی اصطلاح میں وہ فراغِ متوہم ہے جس کو کوئی شئے ممتد وغیر ممتد بھرلے۔ (شرح عقائد نسفی، ص )
نیز عامر صاحب نے نور کا یہ لازمہ بیان کرکے اپنے مبلغ علم کا ایک عجیب نمونہ پیش فرمایا ہے، انہیں اتنا بھی پتہ نہیں کہ تمام ملائکہ اجسام نوریہ ہیں، اور ہر جسم خواہ نوری ہو یا غیر نوری محل وقوع کو پُر کئے بغیر نہیں پایا جاتا، کیوں کہ ہر جسم مکان کا محتاج ہوتا ہے، اور مکان حیز سے اخص ہے، اور اخص کا وجود اعم کے بغیر ممکن نہیں، لہٰذا ہر جسم کے لئے مکان کا ہونا ضروری ہے، اور مکان کا حیز کے بغیر پایا جانا محال ہے، بنا بریں ہر جسم نوری ہو یا غیر نوری حیز کے بغیر نہیں ہوسکتا اور حیز کے معنی ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ وہ ایسا فراغ متوہم ہے کہ جسے کوئی شئے ممتد یا غیر ممتد بھرلے، عامر صاحب محل وقوع کے نہ بھرنے کو نور کا لازمہ قرار دیتے ہیں، تو وہ بتائیں کہ اجسام نوریہ اُن کے نزدیک مکان میں ہیں یا لا مکان میں ؟ کیا وہ کہہ سکیں گے کہ نوری جسم مکان کے بغیر لامکان میں پایا جاتا ہے، نہیں اور ہرگز نہیں، پھر یہ کیا بات ہوئی کہ :
"نور کے لوازمات سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے حیز (محل وقوع) کو نہ بھرے" ملخصًا
دیکھئے جبرئیل علیہ السلام نوری ہیں اور وہ جب اپنی اصلی نوری شکل میں ظاہر ہوئے تو انہوں نے اپنے محل وقوع کو بھرلیا، ہماری بات تو آپ کیا مانیں گے، اپنے چچا جان مولوی شبیر احمد صاحب عثمانی دیوبندی کی عبارت پڑھ لیجئے، وہ سورۂ النجم کی آیۂ کریمہ
وَھُوَ بِالْاُفُقِ الْاَ عْلٰی پر حاشیہ نمبر ۷ میں ارقام فرماتے ہیں:
نبی کریم ﷺ کو ابتدائے نبوت میں ایک مرتبہ حضرت جبرئیل اپنی صورت میں ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آئے، اس وقت آسمان ایک کنارہ سے دوسرے کنارے تک اُن کے وجود سے بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔
کیوں عامر صاحب! وہ آپ کا لازمہ کہاں گیا، یا آپ جبرئیل علیہ السلام کو نور حقیقی نہیں مانتے، جبرئیل علیہ السلام کے وجود سے آسمان کا ایک کنارہ سے دوسرے کنارہ تک بھر جانا آپ کے نزدیک جبرئیل علیہ السلام کی بشریت کی دلیل ہے یا نورانیت کی ؟ یا چچا جان بڑھاپے میں غلط لکھ گئے؟
حقیقت یہ ہے کہ آپ ہمارے تعاقب میں آنکھیں بند کرکے ایسے بے تحاشا دوڑے ہیں کہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھائی ہیں اور منہ کے بل گرے، مگر آپ کی جرأت قابل داد ہے کہ حق وصداقت کیخلاف اپنی جدوجہد اور تعاقب سے باز نہیں آئے۔ ع

آفریں باد بریں ہمت مردانۂ تو

عامر صاحب نے نور کے لوازمات بیان کرتے ہوئے ارقام فرمایا ہے کہ:
یہ لوازمات بھی تو پیش نظر رہنے چاہئیں تھے کہ نور حقیقی پیشاب پاخانہ نہیں کرتا، کھانا نہیں کھاتا، شادی کرنے اور باپ بننے سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
نور کے اکثر افراد کا کھانے پینے، پیشاب پاخانہ کرنے اور توالدوتناسل سے بے تعلق ہونا تو مسلمات سے ہے، لیکن نور کی حقیقت اور اس کی جنس کے لئے مطلقاً ان امور کو لوازمات قرار دینا دلائل شرعیہ کی روشنی میں غلط اور باطل محض ہے، بیان سابق میں ہم اس حقیقت کو واضح کرچکے ہیں کہ ملائکہ نور حقیقی ہیں اور ملائکہ کی ایک قسم میں توالدوتناسل موجود ہے، وہ کھاتے پیتے بھی ہیں اور کھانا پینا پیشاب پاخانہ کو مستلزم ہے، عامر صاحب کو لازم کی تعریف بھی معلوم نہیں، لازم کے معنی ما یمتنع انفکاکہ عن الشیء، اگر یہ امور لوازم نور سے ہوتے تو ان کا انفکاک اس سے محال ہوتا، لیکن ایسا نہیں، تو معلوم ہوا کہ امور مذکورہ کو لوازمات نور کہنا لغو اور بے بنیاد ہے۔
تفسیر بیضاوی سے حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کی روایت جو اس سے پہلے ہم نقل کرچکے ہیں، ہمارے بیان کی تائید میں کافی ہے جس میں یہ الفاظ موجود ہیں:
ان من الملائکۃ ضربا یتوالد ون یقال لھم الجن و منھم ابلیس
 فرشتوں کی ایک قسم وہ ہے جن میں توالدوتناسل ہوتا ہے، یعنی ان کی نسل چلتی ہے اور ان کے اولاد ہوتی ہے، انہیں جن کہا جاتا ہے اور ان ہی میں سے ابلیس ہے۔
لیکن تفصیل مزید کے لئے ہم اس مسئلہ میں حضرات مفسرین کرام کی تصریحات پیش کرتے ہیں، تاکہ ہر قسم کے شکوک وشبہات کا ازالہ ہوجائے اور مسئلہ کا کوئی پہلو تشنۂ تکمیل نہ رہے۔
بیان سابق میں ہم کہہ چکے ہیں کہ بعض مفسرین جیسے حضرت حسن بصری وغیرہ رضی ﷲ عنہم کا یہ مسلک ہے کہ ابلیس ملائکہ سے نہ تھا لیکن یہ قول ضعیف ہے، جمہور مفسرین حضرات صحابہ کرام وتابعین کا یہی مذہب ہے کہ ابلیس ملائکہ سے تھا۔
(۱) تفسیر روح المعانی میں ہے :
واختلف الناس فیہ ھل ھو من الملائکۃ ام من الجن فذھب الی الثانی جماعۃ
اس مسئلہ میں لوگوں کا اختلاف ہے کہ ابلیس ملائکہ سے ہے یا جن سے ایک جماعت شق ثانی کی طرف گئی ہے۔
چند سطر بعد فرماتے ہیں :
وذھب جمہور العلماء من الصحابۃ والتابعین الی الاوّل۔ انتہیٰ (تفسیر روح المعانی، پ ۱ ص۲۱۰)
جمہور علماء، صحابہ وتابعین کا مذہب یہ ہے کہ ابلیس ملائکہ سے تھا۔
(۲) تفسیر روح البیان میں ہے:
واکثر المفسرین علی ان ابلیس من الملائکۃ لان خطاب السجود کان مع الملائکۃ قال البغوی وھو الاصح۔ انتہیٰ (تفسیر روح البیان، جلد۱، ص۱۰۴)
اکثر مفسرین اسی پر ہیں کہ ابلیس ملائکہ سے تھا اس لئے کہ سجدہ کا خطاب ملائکہ سے تھا، امام بغوی نے فرمایا یہی اصح ہے۔
(۳) تفسیر بیضاوی میں ہے:
والایۃ تدل علی ان اٰدم علیہ السلام افضل من الملائکۃ المامورین بالسجودلہ ولو من وجہ وان ابلیس کان من الملائکۃ والا لم یتناولہ امرھم ولم یصح استثناءہ منھم۔
(بیضاوی شریف، جلد۱، مطبوعہ فاروقی، دہلی، ص۶۴)
اور آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آدم علیہ السلام ان ملائکہ سے افضل ہیں جو آدم علیہ السلام کے لئے سجدہ کرنے پر مامور تھے، اگرچہ یہ فضیلت من وجہ ہو اور آیۂ کریمہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ ابلیس ملائکہ سے تھا، ورنہ فرشتوں کا امر اسے شامل نہ ہوتا نہ اس کا استثناء فرشتوں سے صحیح ہوتا۔
(۴) تفسیر کبیر میں امام فخرالدین رازی رحمۃ ﷲ علیہ فرماتے ہیں:
(المسئلۃ الثالثۃ) اختلفوا فی ان ابلیس ھل کان من الملائکۃ قال بعض المتکلمین ولا سیما المعتزلۃ انہ لم یکن منھم وقال کثیر من الفقہاء انہ کان منھم۔
(تفسیر کبیر، جلداوّل، ص۴۲۷)
(تیسرا مسئلہ) لوگوں نے اختلاف کیا کہ ابلیس ملائکہ سے تھا یا نہیں، چنانچہ بعض متکلمین خصوصاً معتزلہ اس طرف گئے ہیں کہ وہ ان میں سے نہ تھا، اور اکثر فقہاء نے کہا کہ بے شک وہ اُن ہی میں سے تھا۔
اس کے بعد امام رازی رحمۃ ﷲ علیہ نے علی الترتیب جانبین کے دلائل نقل فرمائے اور آخر میں ارقام فرمایا :
فھذا ما عندی فی الجانبین وﷲ اعلم بحقائق الامور۔ انتہیٰ
(تفسیر کبیر، جلد اوّل، ص۴۳۰)
جانبین کی طرف سے میرے پاس جو کچھ تھا وہ یہی ہے جو میں نے بیان کردیا اور حقائق امور کو ﷲ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے۔
(۵) علامہ ابن کثیر تفسیر ابن کثیر میں لکھتے ہیں:
 
عن ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما قال کان ابلیس من حی من احیاء الملائکۃ یقال لھم الجن خلقوا من نار السموم من بین الملائکۃ وکان اسمہ الحارث وکان خازنامن خزان الجنۃ قال وخلقت الملائکۃ کلھم من نور غیر ھذا الحی قال وخلقت الجن الذین ذکروافی القراٰن من مارج من نار الحدیث۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد اوّل، ص۷۵)
حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ ابلیس ملائکہ کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ سے تھا، جسے جن کہا جاتا ہے، جو ملائکہ کے درمیان نار سموم سے پیدا ہوئے ہیں، ان کا نام حارث تھا، اور جنت کے خازنوں میں سے ایک خازن تھا، فرمایا کہ اس قبیلہ کے علاوہ تمام ملائکہ نور سے مخلوق ہوئے ہیں اور "جنات" جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے وہ نار کے شعلہ سے پیدا ہوئے ہیں۔
اس مقام پر یہ شبہ کرنا صحیح نہ ہوگا کہ عبارت منقولہ بالا سے فرشتوں کا اپنی ماہیت میں جنات سے مبائن ہونا ثابت ہوتا ہے، کیونکہ فرشتے نور سے مخلوق ہیں اور جنات نار سے، اس لئے کہ عبارت منقولہ میں صاف موجود ہے کہ ابلیس فرشتوں کے قبیلے سے تھا، اور ظاہر ہے کہ کسی قوم کا ایک قبیلہ دوسرے قبائل سے جنسیت اور ماہیت میں مختلف اور مبائن نہیں ہوا کرتا، رہا یہ امر کہ فرشتے نور سے پیدا ہوئے اور جنات نار سے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ نورونار دونوں میں صرف عوارض کی وجہ سے تفاوت ہے، ورنہ ماہیت دونوں کی متحد ہے، جیسا کہ عنقریب دلائل سے ثابت کیا جائے گا۔
آگے چل کر علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں:
لما فرغ ﷲ من خلق ما احب استوی علی العرش فجعل ابلیس علی ملک السماء الدنیا وکان من قبیلۃ من الملائکۃ یقال لھم الجن۔ الخ
(تفسیر ابن کثیر، جلد اوّل، ص۷۶)
ﷲ تعالیٰ کو جو کچھ پیدا کرنا تھا، جب وہ پیدا کردیا تو پھر وہ عرش پر مستوی ہوا، اور ابلیس کو آسمان دنیا کے ملک پر مقرر کردیا، اوروہ فرشتوں کے ایک قبیلہ سے تھا جسے جن کہا جاتا ہے۔
(۶) تفسیر"سراج منیر" میں خطیب شربینی نے ارقام فرمایا ہے :
وخلق الملائکۃ والجن فاسکن الملائکۃ فی السماء واسکن الجن فی الارض فمکثوا فیھا دھرا طویلا ثم ظھر فیھم الحسد والبغی فافسدوا فیھا فبعث ﷲ تعالٰی الیھم جندا من الملائکۃ یقال لہُ الجن وھم خزان الجنان اشتق لھم اسم من الجنۃ راسھم ابلیس فکان رئیسھم ومن اشدھم واکثر ھم علما۔انتہٰی
(تفسیر سراج منیر، جلد اوّل، ص۴۱)
ﷲ تعالیٰ نے ملائکہ اور جن کو پیدا فرمایا پھر ﷲ تعالیٰ نے ملائکہ کو آسمان میں اور جن کو زمین میں ٹھہرایا تو وہ ایک طویل زمانہ تک زمین میں ٹھہرے رہے، پھر ان میں حسد اور بغاوت کا ظہور ہوا، تو انہوں نے زمین میں فساد کیا، ﷲ تعالیٰ نے ان کی طرف فرشتوں کا ایک لشکر بھیجا جسے جن کہا جاتا تھا اور وہ سب لشکری جنت کے خازن تھے، ان کا نام بھی لفظِ جنت سے مشتق تھا، ان کا بڑا ابلیس تھا جو ان کا سردار تھا، اور سب سے زیادہ قوت والا اور سب سے زیادہ علم والا تھا۔
اس کے بعد خطیب شربینی اسی تفسیر سراج منیر کے صفحہ ۴۵ پر فرماتے ہیں:
فان قیل لہٗ ذریۃ والملائکۃ لا ذریۃ لھم اجیب بان ابن عباس رضی ﷲ عنھما روی ان من الملائکۃ نوعایتو الدون یقال لھم الجن ومنھم ابلیس۔
(تفسیر سراج منیر، جلداوّل، ص۴۵)
اگر اعتراض کیا جائے کہ شیطان کی اولاد ہے، حالانکہ ملائکہ کی اولاد نہیں ہوتی تو جواب دیا جائے گا کہ حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے مروی ہے کہ ملائکہ میں ایسی نوع بھی ہے جس کی اولاد ہوتی ہے، انہیں جن کہا جاتا ہے اور ان ہی میں سے ابلیس ہے۔
(۷) تفسیر ابن جریر میں علامہ ابن جریر فرماتے ہیں :
عن قتادۃ قولہٗ اِلَّآ اِبْلِیْسَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ قال کان من قبیل الملائکۃ یقال لھم الجن۔
(تفسیر ابن جریر، جلد اوّل، ص۱۷۳)
حضرت قتادہ ؄ سے ﷲ تعالیٰ کے قول
اِلَّا اِبْلِیْسَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ کی تفسیر میں مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ابلیس ملائکہ کے قبیل سے تھا، جنہیں جن کہا جاتا ہے۔
(۸) تفسیر معالم التنزیل میں امام بغوی رحمۃ ﷲ علیہ فرماتے ہیں:
واختلفوا فیہ فقال ابن عباس واکثر المفسرین کان ابلیس من الملائکۃ۔ انتہیٰ
(تفسیر معالم التنزیل، جلد اوّل، ص ۴۱)
ابلیس کے بارے میں اختلاف ہے اکثر مفسرین اور ابن عباس رضی ﷲ عنہما کا قول ہے کہ ابلیس ملائکہ میں سے تھا۔
(۹) تفسیر خازن میں ہے :
قال ابن عباس رضی ﷲ عنہما کان ابلیس من الملائکۃ بدلیل انہ استثناء منھم۔ انتہیٰ
(تفسیر خازن)
حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما نے فرمایا کہ ابلیس ملائکہ سے تھا، جس کی دلیل ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے
اِلَّآ اِبْلِیْسَ فرما کر اسے ملائکہ سے مستثنیٰ فرمایا (اور استثنیٰ میں اصل متصل ہے)۔
(۱۰) تفسیر مدارک میں امام نسفی مقتدائے احناف فرماتے ہیں :
(فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ) الا ستثناء متصل لانہ کان من الملائکۃ کذا قالہ علی وابن عباس وابن مسعود رضی ﷲ تعالیٰ عنھم ولان الاصل ان الا ستثناء یکون من جنس المستثنیٰ منہ۔ الخ
 ﷲ تعالیٰ کے قول اِلَّا اِبْلِیْسَ میں استثناء متصل ہے اس لئے کہ ابلیس ملائکہ سے تھا یہی قول حضرت علی مرتضیٰ، عبدﷲ بن عباس اور عبد ﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہم کا ہے اور اس لئے بھی کہ استثناء میں اصل یہ ہے کہ مستثنیٰ منہ کی جنس سے ہو۔
آگے چل کر فرماتے ہیں:
وعن الجاحظ ان الجن والملائکۃ جنس واحد فمن طھر منھم فھو ملک ومن خبث فھو شیطان ومن کان بین بین فھو جن۔
جاحظ سے مروی ہے کہ جن اور فرشتے جنس واحد ہیں ان میں جو پاک رہا وہ فرشتہ ہے، اور جو خبیث ہوگیا وہ شیطان ہے، اور جو بین بین رہا یعنی پاکیزگی اور خباثت کے درمیان رہا وہ جن ہے۔
(تفسیر مدارک، جلد اوّل، ص۳۴)
ان تمام عبارات ائمہ تفسیر سے اچھی طرح واضح ہوگیا کہ جمہور علماء، صحابہ مثلاً حضرت علی مرتضیٰ، حضرت عبدﷲ بن مسعود، حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہم وتابعین و اکثر مفسرین کا قول یہی ہے کہ ابلیس ملائکہ سے تھا، اور جن وفرشتہ جنسِ واحد سے ہیں، فرشتوں اور جنات کا مادہ اور ان کی حقیقت ایک ہے، ان میں جو پاک رہا فرشتہ کہلایا اور جو خبیث ہوگیا وہ شیطان بنا، اور جو خباثت وپاکیزگی کے درمیان رہا وہ"جن" قرار پایا، شیطان، جن اور فرشتے تینوں کی حقیقت وماہیت میں کچھ فرق نہیں ہے، صرف عارضی صفات کا فرق ہے اور بس، نیز یہ فرق بھی عبارات منقولہ بالا سے ثابت ہوگیا کہ ملائکہ کی ایک قسم ایسی ہے جس میں توالدوتناسل پایا جاتا ہے، اور وہ کھاتے پیتے ہیں، اور کھانے پینے کی وجہ سے پیشاب اور پاخانہ پھرتے ہیں، اور اگر جمہور علماء صحابہ وتابعین واکثر مفسرین کے خلاف بھی مان لیا جائے کہ جنات ملائکہ کی قسم نہیں تب بھی ہمارا مدعا ثابت ہے، اس لئے کہ نورونار متحد المادہ اور ایک جنس سے ہوتے ہیں، اور جنات کا توالدوتناسل اور کھانا پینا بھی حقیقت ثابتہ ہے، لہٰذا نور کے مادہ اور اس کی جنس کے بعض افراد سے توالدوتناسل اور کھانے پینے کا منفی ہونا ثابت نہ ہوا، ایسی صورت میں ان تمام امور کے ہونے کو علی الاطلاق بشریت کے لئے ضروری اور نہ ہونے کو نورانیت کے لئے لازمی قرار دینا جہالت وضلالت قرار پایا۔
اس کے بعد اس شبہ کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ فرشتے نور سے مخلوق ہیں اور جنات نار سے نیز یہ کہ نور کا مقتضیٰ عصمت ہے اور نار کا تقاضا معصیت، اگر جنات کو بھی ملائکہ قرار دے دیا جائے تو ملائکہ کی عصمت باطل ہوگی، کیونکہ جنات میں فسوق وعصیاں پایا جاتا ہے اور ملائکہ کا معصوم ہونا قرآن پاک کی متعدد آیتوں سے ثابت ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ علم صرف اور لغت کی رُو سے نورونار متحد المادہ ہیں، چنانچہ نور، بنور، نورًا ونارًا اس پر دلیلِ روشن ہے، نورونار دونوں ایک ہی باب کے مصدر ہیں اور دونوں کا مادہ اور ماہیت ایک ہے، فرق صرف عوارض سے ہے، ذاتیات کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں، اور ملائکہ یقیناً معصوم ہیں، مگر سب نہیں، بلکہ اکثرو بیشتر، اور ان میں بعض افراد غیر معصوم بھی ہیں، قرآن مجید میں جہاں ملائکہ کی عصمت کا بیان ہے وہاں ان کے ایک خاص گروہ کا ذکر ہے، جمیع افرادِ ملائکہ کی عصمت پر کوئی دلیل قائم نہیں، بلکہ بعض کی عدمِ عصمت ثابت ہے، قاضی بیضاوی رحمۃ ﷲ علیہ بیضاوی شریف میں فرماتے ہیں:
وان من الملائکۃ من لیس بمعصوم وان کان الغالب منھم العصمۃ کما ان من الانس معصومین والغالب فیھم عدم العصمۃ۔ انتہیٰ
اور آیت کریمہ
"فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ" اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ ملائکہ کے بعض افراد معصوم نہیں ہیں، اگرچہ ان کا وصف غالب عصمت ہے، جیسا کہ بعض انسان(حضرات انبیائے کرام) یعنی جس طرح انسانوں میں بعض معصوم ہیں اور اکثر غیر معصوم، اسی طرح اس کے برعکس فرشتوں میں بھی بعض غیر معصوم اور اکثر معصوم۔
قاضی بیضاوی رحمۃ ﷲ علیہ اس مسئلہ میں نفیس بحث کرتے ہوئے آگے چل کر فرماتے ہیں:
لا یقال کیف یصح ذلک والملائکۃ خلقت من نوروالجن من نار لما روت عائشۃ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا انہ علیہ السلام قال خلقت الملائکۃ من النور وخلق الجن من مارج من نار لانہ کا لتمثیل۱ لما ذکرنا فان المراد بالنور الجوھر المضیء والنار کذلک غیر ان ضوءھا مکدر مغمور بالدخان محذور عنہ بسبب ما یصحبہ من فرط الحرار ۃ والاحراق فاذا صارت مھذبۃ مصفاۃ کانت محض نور۔ الخ (بیضاوی شریف، جلد اوّل، ص۶۴)
اعتراض نہ کیا جائے کہ جنات کا ازقبیل ملائکہ ہونا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے؟ حالانکہ ملائکہ نور سے پیدا ہوئے ہیں، اور جنات آگ کے شعلہ سے، اس لئے کہ ہم جواب دیں گے کہ ملائکہ کے لئے لفظِ نور اور جنات کے لئے لفظِ نار اس چیز کی تمثیل کے طور پر مستعمل ہے جو ہم ذکر کرچکے ہیں(کہ ملائکہ نیک اور پاکیزہ ہیں، اور جنات فاسق اور گنہگار) یعنی ملائکہ کے لئے نورونار کا لفظ ان کی استعداد خیروشر کی تمثیل کے لئے ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ نور سے مراد جوہر مضیٔ (روشن جوہر) ہے اور نار کے معنی بھی یہی ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ نار کی روشنی مکدر اور دھوئیں سے مخلوط ہوتی ہے اور اس سے پرہیز کیا جاتا ہے، اس لئے کہ اس میں شدید حرارت اور احراق(جلانا) پایا جاتا ہے، جب وہ صاف اور ستھری ہوجائے تو وہی نار نورِ محض ہوجاتی ہے۔
اسی طرح تفسیر روح المعانی میں صاحبِ روح المعانی فرماتے ہیں:
وکون الملائکۃ لا یستکبرون وھو قداستکبر لا یضرا ما لان الملائکۃ من لیس بمعصوم وان کان الغالب فیھم العصمۃ علی العکس منا وفی عقیدۃ ابی معین نسفی مایوئد ذلک واما لان ابلیس سلبہ ﷲ تعالیٰ الصفات الملکیۃ والبسہ ثیاب الصفات الشیطانیۃ فعصی عند ذلک والملک مادام ملکا لا یعصی الخ۔
اور فرشتوں کا متکبر نہ ہونا اور ابلیس کا متکبر ہونا اس دعویٰ کے لئے مضر نہیں کہ شیطان ملائکہ سے تھا، اس لئے کہ ملائکہ میں بعض افراد ایسے بھی ہیں جو معصوم نہیں اگرچہ غالب ان میں عصمت ہی ہے، ہمارے برعکس اور عقیدۂ ابی معین نسفی سے اس کی تائید ہوتی ہے، یا اس لئے کہ ﷲ تعالیٰ نے ابلیس سے صفات ملکیہ کو سلب کرکے اسے صفاتِ شیطانیہ کا لباس پہنادیا تھا، اس لئے اس نے عصیاں کیا، اور فرشتہ جب تک لباس ملکیت میں رہے عصیاں نہیں کرتا۔
اس کے بعد فرماتے ہیں:
وکونہ مخلوقًا من نار وھم مخلوقون من نور غیر ضار ایضا ولا قادح فی ملکیتہ لان النار والنور متحدا المادۃ بالجنس واختلافھما بالعوارض علی ان مافی اثر عائشۃ رضی ﷲ تعالیٰ عنھا من خلق الملائکۃ من النور جار مجری الغالب والاخالفہ کثیر من ظواہر الاٰثار اذ فیھا ان ﷲ تعالیٰ خلق ملائکۃ من ناروملائکۃ من ثلج وملائکۃ من ھذا وھذہ الخ (تفسیر روح المعانی، پ۱، ص۲۱۱)
نیز ابلیس کا نار سے مخلوق ہونا، حالانکہ ملائکہ نور سے مخلوق ہیں ابلیس کی ملکیت میں ضرروقدح پیدا نہیں کرتا، اس لئے کہ نارونور جنس میں متحد المادہ ہیں، ان کا اختلاف محض عوارض سے ہے، علاوہ ازیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں جو وارد ہوا ہے کہ ملائکہ نور سے مخلوق ہیں، اکثریت کے لحاظ سے ہے ورنہ بہت سے ظواہر آثار اس کے خلاف ہیں، کیونکہ روایات کثیرہ میں وارد ہوا ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے بعض فرشتوں کو نار سے پیدا کیا، اور بعض کو برف، اور بعض کو اس چیز سے، اور بعض کو اس چیز سے۔
اور تفسیر مظہری میں قاضی ثناء ﷲ پانی پتی رحمۃ ﷲ علیہ فرماتے ہیں :
(اِلَّا اِبْلِیْسَ) ھذا یدل علی ان ابلیس کان من الملائکۃ لصحۃ الاستثناء کما مر عن ابن عباس فعلی ھذا لا یکون الملائکۃ کلھم معصومین بل الغالب منھم العصمۃ کما ان بعضا من الانس معصومون والغالب منھم عدم العصمۃ۔ (تفسیر مظہری، جلد اوّل، ص۵۶)
آیۂ کریمہ(
فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ) اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ابلیس ملائکہ سے تھا کیونکہ یہاں استثناء(متصل) صحیح ہے جیسا کہ حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ قول گزر چکا ہے، اس تقدیر پر کل ملائکہ معصوم نہیں ہوں گے، بلکہ ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ ان میں غالب عصمت ہے، جیسا کہ بعض انسان (حضرات انبیاءعلیہ السلام) معصوم ہیں، اور اکثروبیشتر انسان غیر معصوم ہیں۔
اس کے بعد صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں :
او یقال النور والنار حقیقۃ واحدۃ والامتیاز بینھما بالتھذیب والصفأ وبدونہ قولہ تعالیٰ وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا وھو قولھم الملائکۃ بنات ﷲ دلیل علی اتحاد حقیقتھما وﷲ اعلم بحقیقۃ الحال۔ انتہیٰ
(تفسیر مظہری، پ ۱، ص۵۶)
یا یہ کہا جائے کہ نورونار حقیقت واحدہ ہیں اور ان کے درمیان جو امتیاز ہے وہ محض تہذیب وصفا کے ہونے اور نہ ہونے سے ہے، یعنی نور صاف ستھرا مہذب ومصفیٰ ہوتا ہے، اور نار میں وہ پاکیزگی اور صفائی نہیں ہوتی اور ﷲ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ مشرکین نے ﷲ تعالیٰ اور جنات کے درمیان نسب قائم کردیا، اور وہ نسب قائم کرنا یہ ہے کہ مشرکین نے کہا تھا کہ فرشتے ﷲ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، اس بات پر روشن دلیل ہے کہ جنات اور ملائکہ کی حقیقت ایک ہے، اور ﷲ تعالیٰ ہی حقیقت حال کو خوب جانتا ہے۔ انتہیٰ
ان تمام عبارات سے وہ تمام شکوک اور شبہات زائل ہوگئے جو ہمارے بیان میں پیدا ہوسکتے تھے، دلائل کی روشنی میں جنات کا ازقبیل ملائکہ ہونا اور ان میں توالدوتناسل کا پایا جانا ہم ثابت کرچکے ہیں، اَب ہم اس بات پر دلیل لاتے ہیں کہ جنات(جو دراصل ملائکہ ہیں) کھانا بھی کھاتے ہیں اور ان کے لئے طعام کا ہونا حدیث شریف سے ثابت ہے، بخاری شریف میں ہے:
عن ابی ھریرۃ انہ کان یحمل مع النبی اداوۃ لوضوءہٖ وحاجتہ فبینھا ھو یتبعہٗ بھا فقال من ھذا فقال انا ابو ھریرۃ فقال النبی احجارااستنفض بھا ولا تأتنی بعظم ولا بروثۃ فاتیتہ باحجار احملھا فی طرف ثوبی حتٰی وضعت الی جنبہ ثم انصرفت حتی اذا فرغ مشیت فقلت مابال العظم والروثۃ قال ھما من طعام الجن وانہٗ اتانی وفد جن نصیبین ونعم الجن یسألونی الزاد فدعوت ﷲ لھم ان لا یمروابعظم ولا بروثۃ الا وجدواعلیھا طعاما۔ انتہیٰ (بخاری شریف، جلد اوّل، ص۵۴۴)
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ وہ حضور ﷺ کے ساتھ حضور کی حاجت اور وضو کے لئے پانی کا برتن اُٹھا کر چلا کرتے تھے، اس اثناء میں کہ وہ حضور ﷺ کے پیچھے چل رہے تھے، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا ! یہ کون ہے؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا حضور ! میں ابوہریرہ ہوں، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا ! میرے لئے ڈھیلے تلاش کروجن سے میں استنجا کروں اور ہڈی اور لید نہ لانا، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے کپڑے کے کنارے میں ڈھیلے رکھ کر لایا اور حضور کے قریب رکھ کر واپس چلا گیا، جب حضور فارغ ہوگئے تو میں حضور کے ساتھ چلا اور میں نے عرض کیا کہ حضور ہڈی اور لید کا کیا حال ہے کہ حضور نے ان کے لانے سے منع فرمایا، فرمایا یہ دونوں چیزیں جنات کا طعام ہیں، میرے پاس(شہر) نصیبین کے جنات کا ایک وفد آیا اور وہ جنات بہت اچھے ہیں، انہوں نے مجھ سے کھانا مانگا تو میں نے ﷲ تعالیٰ سے دُعا کی کہ وہ کسی ہڈی اور لید پر نہ گزریں مگر اس پر طعام پائیں۔
ظاہر ہے کہ کھانے کے ساتھ پینا اور کھانے پینے کے لئے پیشاب پاخانہ کرنا لوازمات ومسلمات سے ہے، اَب عامر صاحب بتائیں کہ نور کے وہ من گھڑت لوازمات جو انہوں نے بیان کئے ہیں ان کا کیا حال ہے؟
جو لوگ ملائکہ کی مثال دے کر حضور سرور عالم ﷺ کی نورانیت پر حملہ آور ہوتے ہیں اور یہ کہا کرتے ہیں کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام اگر نور ہوتے تو فرشتوں کی طرح کھانے پینے، شادی کرنے، توالدوتناسل ودیگر اوصافِ بشریت سے لا تعلق ہوتے۔
بر تقدیرِ تسلیم عرض کروں گا کہ انہیں اس حقیقت پر غور کرنا چاہئے کہ فرشتوں کے لئے یہ سب امور محالِ عقلی نہیں بلکہ محال عادی ہیں، جن کا وقوع بطور خرق عادت ممکن ہے، دیکھئے جن فرشتوں کے لئے کھانا پینا اور شادی کرنا محال ہے ان کے لئے باقی اوصاف بشریت سے متصف ہونا بھی محال ہے، لیکن اس کے باوجود ان کا بعض اوصاف بشریہ سے متصف ہوکر دنیا میں آنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلامکے پاس حضرت اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری لے کر بوصف بشری فرشتے دنیا میں آئے تھے، اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس حضرت عزرائیل (ملک الموت) علیہ السلام جامۂ بشریت میں حاضر ہوئے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان کو طمانچہ مارا جس کی وجہ سے ان کی ایک آنکھ پھوٹ گئی، جیسا کہ بخاری ومسلم میں وارد ہوا، یہ ضروری ہے کہ وہ صدمہ ان کی بشریت پر آیا تھاجس سے ان کی ملکیت متاثر نہیں ہوئی، لیکن احوال بشریہ کا فرشتوں پر طاری ہونا اور اوصاف بشریت سے نوری فرشتے کا متصف ہونا بہر حال اس واقعہ سے ثابت ہوگیا۔
حضرت لوط علیہ السلام کے پاس انسانی لباس میں فرشتے آئے، علیٰ ہذا حضرت مریم علیہا السلام کے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام لباس بشریت میں تشریف فرماہوئے، اور حضور سیّد عالم حضرت محمد رسول ﷲ ﷺ کی خدمت اقدس میں بصورت حضرت دحیہ کلبی ؄ اور بعض اوقات اجنبی صورت میں حاضر ہوئے جیسا کہ صحیحین کی روایت میں وارد ہے، اس حدیث میں "شد ید سوادالشعر" کے الفاظ بھی موجود ہیں جس کے معنی ہیں سخت سیاہ بالوں والے، ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ سیاہی کو ظلمت سے اور سپیدی کو نور سے مناسبت ہے، جبرئیل علیہ السلام کا لباس نہایت سپید تھا اور بال نہایت کالے تھے، بتائیے جبرئیل علیہ السلام نوری ہیں یا نہیں ؟ جب وہ نوری ہیں تو نور میں سیاہی کیسی ؟ کیا کوئی عقل مند انسان نور کو سیاہ سمجھ سکتا ہے، ہرگز نہیں بلکہ یہی کہنا پڑے گا کہ نور میں سیاہی محال ہے، اور سیاہ بالوں والا ہونا بشری اوصاف میں سے ہے، مگر اس کے باوجود جبرئیل علیہ السلام اس سے متصف ہوئے اور محال عادی واقع ہوا۔
جب یہ اوصاف بشریہ نورانی مخلوق میں خرق عادت کے طور پر پائے جاسکتے ہیں تو کھانا، پینا،توالدوتناسل، باپ بیٹا ہونا کیوں نہیں پایا جاسکتا؟ آپ کہیں گے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جب فرشتے لباس بشری میں آئے تو ابراہیم علیہ السلام ان کے لئے گائے کا ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے، اور کھانے کے لئے ان کے آگے رکھ دیا، جب دیکھا کہ یہ نہیں کھاتے تو ابراہیم علیہ السلام اپنے دل میں خوفزدہ ہوئے، فرشتوں نے کہا آپ خوفزدہ نہ ہوں ہم ﷲ تعالیٰ کی طرف سے قوم لوط پر عذاب لے کر آئے ہیں، اگر فرشتوں کے لئے کھانا پینا ممکن تھا تو انہوں نے کیوں نہ کھایا؟
میں عرض کروں گا کہ نہ کھانا اس بات کی دلیل نہیں کہ ان کے لئے کھانا عقلاً محال تھا، عدم وقوع سے عدم امکان ثابت نہیں ہوتا، اگر حکمت ایزدی اور مشیت ایزدی اس کی مقتضی ہوتی تو ضرور اس کا وقوع ہوجاتا، اصل بات یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ کا ہر کام حکمت کے مطابق ہوتا ہے، فرشتے جس کام کے لئے بشری اوصاف لے کر آئے تھے اس کام کو انجام دینے کے لئے اسی قدر اوصاف بشریت کا ہونا مقتضائے حکمت تھا، جو انہیں دئیے گئے تھے اور نبی کریم ﷺ کو جس کام کے لئے بھیجا گیا تھا اس کی انجام دہی کے لئے ان تمام اوصاف بشریت کا ہونا حکمت کے مطابق تھا جو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام لے کر تشریف لائے۔
ہر شخص جانتا ہے کہ حضور ﷺ خداوند تعالیٰ کی طرف سے معلم بن کر تشریف لائے، نوع بشر کو اپنی بشریت کے ہر شعبہ میں اور حیات کے ہر مرحلہ پر ایک نمونہ اور اسوہ درکار تھا اس لئے حکمت الٰہیہ اس بات کی مقتضی ہوئی کہ نوع بشر کے ہر شعبہ حیات میں تعلیم دینے کے لئے حضور سیّد عالم ﷺ کو بشریت کے وہ تمام اوصاف دیئے جائیں جو اس حکمت کے پورا ہونے کے لئے ضروری ہیں، اگر فرشتے بھی اسی منصب تبلیغ وتعلیم پر مامور ہوکر آتے تو یقیناً انہیں بھی بشریت کے وہ جملہ اوصاف دئیے جاتے جو حضور نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائے گئے، اسی لئے ﷲ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے
وَلَوْ جَعَلْنَاہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنَاہُ رَجُلًا (الانعام) اگر ہم کسی فرشتے کو نبی بنا کر بھیجتے تو اسے بھی رجل ہی بناتے رجل مرد بالغ کو کہتے ہیں جو نوع بشر کا فرد ہے، معلوم ہوا کہ نوری مخلوق کو حکمت تعلیم کے لئے بشری اوصاف ملنا اس کے نوری ہونے کے منافی ومعارض نہیں۔
ا یک شبہ کا ازا لہ
رہا یہ شبہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرشتوں کا علم نہ ہوا اور وہ خوف زدہ ہوئے، اس سے ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام(معاذ ﷲ) بے علم اور کمزور دل ہوتے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لاعلمی نہیں بلکہ بے توجہی ہے، ﷲ تعالیٰ کے محبوبوں پر جب کسی خاص حالت کا غلبہ ہوتا ہے تو اُن کا دھیان بعض اوقات کسی امر معلوم کی طرف نہیں ہوتا، ابراہیم علیہ السلام انتہائی کریم النفس اور مہمان نواز تھے، آنے والے فرشتے چونکہ بشکل مہمان آئے تھے، انہیں دیکھتے ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وصف کریمی اور جذبۂ اکرام ضیف یعنی مہمان نوازی کا ذوق قوت سے فعل میں آگیا اور اس وصف جمیل کا ان کی ذات مقدسہ پر ایسا غلبہ ہوا کہ اس وقت اس غلبۂ حال میں ان کی توجہ آنے والوں کی ملکیت کی طرف مبذول نہ ہوئی اور ظاہر ہے کہ یہ حال اور یہ وصف حال محمود اور وصف جمیل ہے جو موجب تعریف اور باعث مدح ہے اس لئے اس وصف جمیل کا غلبہ ابراہیم علیہ السلام کے حق میں (معاذ ﷲ) کسی جرح وقدح کا موجب نہیں ہوسکتا بلکہ مدح وثناء اور ان کی تعریف کا باعث ہوگا، تعجب اس امر پر ہے کہ جہاں کوئی لفظ لا علمی پر دلالت نہیں کرتا وہاں ان لوگوں کو لاعلمی نظر آگئی، مگر قرآن مجید ہی کے اندر انہیں یہ آیت نظر نہ آئی، ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ۔ (سورة الانعام)
اور اسی طرح ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو تمام آسمانوں اور زمینوں کے ملک دکھائے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔
یہ لوگ ذرا غور کریں کہ وہ فرشتے جو انسانی لباس میں آئے تھے مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں شامل تھے یا نہیں ؟ جب شامل تھے تو ابراہیم علیہ السلام کے احاطۂ رویت سے انہیں کس طرح خارج کیا جاسکتا ہے ؟ پھر لطف یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کا یہی واقعہ جس میں فرشتوں کے آنے کا ذکر ہے اس امر کی روشن دلیل ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام اور ان کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام کے ارحام میں آنے سے پہلے ہی ان کی پیدائش کا علم نہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلکہ ان کی اہلیہ محترمہ حضرت سارہ علیہا السلام کو بھی ہوگیا تھا، جو دلیل محبوبان خدا کے کمال کی مثبت ہو اُسے(معاذ ﷲ) عیب ثابت کرنے کے لئے پیش کیا جانا ع

بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبی ست

اس عدم التفات کی مفصل بحث ان شاء ﷲ ہم کسی دوسری فرصت میں کریں گے، سردست اتنا عرض کردینا کافی ہے کہ مومن بسا اوقات معتقدات دینیہ اور احکام الٰہیہ(جن پر وہ ایمان رکھتا ہے) کی طرف متوجہ نہیں ہوتا، مثلا کھانے پینے یا دیگر حوائج بشریہ کے پورا کرنے میں مصروف ہے یا نیند کی حالت میں ہے، یا خدانخواستہ کسی رنج والم اور صدمہ وتکلیف کے حال میں مبتلا ہے، اس وقت اس کی توجہ قیامت، حشرونشر، دوزخ وجنت، جزاوسزا وغیرہ امور کی طرف مبذول نہیں، مگر اس کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس وقت اسے ان چیزوں کا علم بھی نہیں، کیونکہ علم کی نفی تصدیق کی نفی کو مستلزم ہے اور تصدیق کی نفی ایمان کی نفی ہے تو(معاذﷲ) ایسے حال میں وہ مومن نہ رہیگا؟ بلکہ کافر قرار پائے گا ؟ حالانکہ وہ اس وقت بھی مومن ہے، معلوم ہوا کہ کسی حال کے غلبہ کے باعث اگر کسی امر معلوم کی طرف توجہ نہ رہے تو اس سے علم کی نفی لازم نہیں آتی، اسی طرح حضور سیّد عالم ﷺ کو بے شمار واقعات پیش آئے لوگوں نے علم کی نفی سمجھی حالانکہ صرف توجہ اور التفات کی نفی تھی، چونکہ انبیاء علیہم السلام کی توجہ اور عدم توجہ دونوں ﷲ تعالیٰ کی خاص حکمتوں سے وابستہ ہیں اس لئے کبھی عدم التفات کا حال جلدی ختم ہوجاتا ہے اور کبھی دیر تک باقی رہتا ہے، کچھ بھی ہو بہر نوع توجہ کی نفی سے علم منتفی نہیں ہوتا، یہی حال حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تھا جس کو لوگوں نے نہیں سمجھا اور اپنی لا علمی کا اقرار کرنے کی بجائے سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کو لا علم کہہ دیا۔
اَب خوفزدہ ہونے کے پہلو کو سامنے لائیے، بے شک ابراہیم علیہ السلام خوفزدہ ہوئے، مگر یاد رکھئے کہ یہ خوف کسی مخلوق سے نہیں جو کہ کمزور دل ہونے کی دلیل بن جائے بلکہ اس کا منشاء یہ تھا کہ جب سیّدنا ابراہیم علیہ السلام پر یہ امر منکشف ہوا کہ یہ آنے والے فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب لے کر آئے ہیں اور عذاب الٰہی اگرچہ نافرمانوں کے لئے تھا لیکن انبیاء علیہم السلام چونکہ قرب ومعرفت الٰہی کے اعلیٰ مقام پر ہوتے ہیںاس لئے خوف اور خشیت الٰہی جس قدر انہیں لاحق ہوتا ہے کسی دوسرے کو لاحق نہیں ہوتا، ہمارے آقا حضرت محمد رسول ﷲ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں
"انا اعلمکم باللہ واخشاکم منہ" (بخاری)
میں تم سب سے زیادہ ﷲ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ ﷲ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، اور اسی لئے ﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ ربِّہٖ جَنَّتٰنِ۔ (سورة الرحمٰن)
جو شخص ﷲ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔
لہٰذا سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کا خوف الٰہی سے متاثر ہونا بھی ان کے کمزور دل ہونے کا مثبت نہیں بلکہ ان کے کمال قرب ومعرفت کی دلیل ہے۔

خلاصۂ کلام
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو فرشتے کھانے پینے، توالدوتناسل سے بے تعلق ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ نور کے لئے یہ چیزیں عقلاً محال ہیں بلکہ صرف یہ وجہ ہے کہ ان کے لئے ان امور کا ہونا مقتضائے حکمت کے خلاف ہے اور نبی کریم ﷺ کی ذات مقدسہ میں ان امور کا پایا جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ حضور ﷺ نورانیت سے خالی ہم جیسے بشر ہیں، بلکہ نور ہونے کے باوجود جملہ اوصاف بشریہ جو مذکور ہوئے منصب نبوت کے مناسب اور حکمت تعلیم وتکمیل دین کے لئے ضروری تھے۔