حضور ﷺ کا مبارک تھوک اور بینی شریف کی ریزش


کوئی کتنا ہی بزرگ اور کیسا ہی محبوب کیوں نہ ہو لیکن طبعی اور فطری طور پر اس کے فضلات بول وبراز، پسینہ، رینٹھ، تھوک وغیرہ موجب نفرت ہی ہوتے ہیں، عقیدت اور چیز ہے، لیکن کثیف اور غلیظ چیزوں سے طبعی طور پر نفرت کا ہونا امر آخر ہے۔
ناظرین کرام پڑھ چکے ہیں کہ صحابہ کرام حضور ﷺ کے فضلات شریفہ بول وبراز پسینہ کو کس طرح رغبت اور چاہت کے ساتھ حاصل کرتے تھے اور اس کے استعمال میں انتہائی راحت لذت وسرور پاتے تھے۔ یہی معاملہ حضور ﷺ کے تھوک مبارک اور بینی مبارک کی ریزش کے ساتھ صحابہ کرام کرتے تھے، دیکھئے بخاری شریف میں ہے :
وﷲ ان تنخم نخامۃ الا وقعت فی کف رجل منھم فدلک بھاوجھہ وجلدہ
(بخاری شریف درسی،قدیمی کتب خانہ کراچی، جلد۱، ص۳۷۹)
خدا کی قسم حضور ﷺ نے بینی مبارک کی کوئی ریزش نہیں پھینکی لیکن وہ کسی صحابی کی ہتھیلی پر پڑی جس کو اس نے اپنے چہرے اور بدن پر مل لیا۔
آپ نے دیکھا ؟ صحابہ کرام کس رغبت اور شوق کے ساتھ حضور کی ریزش بینی کو اپنے بدن اور چہروں پر ملتے تھے کیا اس کے بعد بھی حضور کے بلغم شریف یا ریزش بینی میں کسی مادی کثافت وغلاظت کا تصور ہوسکتا ہے ؟
اسی طرح حضور ﷺ کا تھوک مبارک بھی مادی کثافت وغلاظت سے پاک تھا، بخاری شریف میں ہے کہ غزوۂ خندق کے موقع پر حضرت جابر رضی ﷲ عنہ نے حضور ﷺ کی دعوت کی اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام ان کے گھر میں تشریف لائے:
فاخرجت لہ عجینا فبسق فیہ وبارک ثم عمدالی برمتنا فبسق فیہ و بارک
(بخاری شریف درسی،قدیمی کتب خانہ کراچی، جلد۲، ص۵۸۹)
تو حضرت جابر کی بیوی نے گندھا ہوا آٹا حضور ﷺ کے سامنے پیش کیا حضور ﷺ نے اس میں تھوک دیا اور ساتھ ہی دُعائے برکت بھی عطا فرمائی، حضرت جابر فرماتے ہیں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ہماری ہانڈی کی طرف قصد فرمایا اور اس میں بھی تھوک دیا اور دُعائے برکت فرمائی۔
کیوں عامر صاحب! کیسا مزاج ہے؟ کچھ پتہ چلا آپ کو حضور ﷺ کی ناک مبارک کی ریزش ا طہر کا اور سینۂ اقدس کا جما ہوا بلغم مبارک اور تھوک مقدس کیسا لطیف ونظیف اور طیب وطاہر ہے اور صحابہ کرام اسے کس طرح اپنے چہرے اور بدن پر ملتے تھے اور اپنے آٹے اور ہانڈی میں تھوک مبارک کو مرغوب ومحبوب جان کر کمال رغبت ومحبت کے ساتھ اسے کھاتے تھے، اگر عامر صاحب واقعی حضور ﷺ کو اپنے جیسا بشر سمجھتے ہیں اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے فضلات شریفہ کو معاذ ﷲ اپنے فضلات جیسا مانتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ بھی اپنا تھوک بلغم ناک کی ریزش کسی کے بدن پر ڈالیں کسی کے منہ پر ملیں، روٹی ہانڈی میں کبھی اپنا تھوک ڈال دیا کریں اور نہ سہی اپنے ہی گھر میں تجربہ کرلیں ہانڈی میں ذرا سا تھوک کر دیکھیں اگر ان کے سر اقدس پر ہانڈی نہ ماردی جائے تو میں ذمہ دار ہوں، اچھا اگر وہ خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتے تو اپنے بزرگوں، استادوں اور پیروں مقتدائوں کا تھوک رغبت ومحبت کے ساتھ کھا لیا کریں، کبھی کسی بزرگ کی ناک کی ریزش بلغم، کھنگار اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے منہ پر مل لیا کریں لیکن مجھے اُمید نہیں کہ وہ بڑے سے بڑے مقدس انسانوں کا تھوک کھانا یا اس کی کھنگار وغیرہ کو اپنے منہ پر ملنا گوارہ فرمائیں، سب جانتے ہیں کہ جو شخص جنتی ہو وہ ﷲ تعالیٰ کے نزدیک بڑا مقدس اور مطہر ہوتا ہے، عامر صاحب کے نزدیک یزید کتنا مقدس اور بزرگ ہوگا، لیکن میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر یزید بھی عامر صاحب کے منہ پر تھوک دے یا اپنی ناک سنک کر عامر صاحب کے منہ پر رینٹھ پھینک مارے تو عامر صاحب اسے رغبت کے ساتھ کھانے یا منہ پر ملنے کی بجائے انتہائی نفرت وحقارت کے ساتھ اپنے بدن سے دُور کرنے کی کوشش فرمائیں گے، معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا فضلات شریفہ کا کمال رغبت ومسرت سے پی لینا اور اس کے مزے میں شیرینی، لطافت اور خوشبو محسوس کرنا اس امر کی روشن دلیل ہے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے فضلات مبارکہ بشری کثافتوں اور ہر قسم کی نجاستوں اور غلاظتوں سے قطعاً پاک اور طیب وطاہر تھے۔
عامر صاحب کا بار بار یہ کہنا کہ قرآن کریم میں
"قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ" وار د ہوا ہے مگر یہ لوگ حضور کی بشریت کے منکر ہیں اور ہم حضور کو نورِ محض مانتے ہیں قطعاً غلط اور ہم پر بہتان وافتراء ہے، ہم نے بار ہا کہا کہ حضور ﷺ کی خلقت نور سے ہے لیکن یہ نورانیت بشریت کے منافی نہیں، علامہ شہاب الدین خفا جی حضور ﷺ کی بشریت مطہرہ کا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وکونہ مخلوقا من النورلا ینافیہ کما توھم

(نسیم الریاض، جلد ۲، ص۲۳۸)

اور نبی کریم ﷺ کا نور سے مخلوق ہونا حضور ﷺ کی بشریت کے منافی نہیں جیسا کہ وہم کیا گیا۔
البتہ اس میں شک نہیں کہ ہم حضور ﷺ کو ایسا بشر مانتے ہیں جس میں بشریت کے عیوب ونقائص نہ ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ﷲ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش میں "محمد" پیدا کیا ہے جس کے معنی ہیں "حمد کیاہوا" حمد کے معنی ہیں"تعریف وثنا" ظاہر ہے کہ تعریف وثنا حمد وخوبی پر ہی ہوسکتی ہے، عیب سے اس کا کوئی تعلق نہیں، حضور ﷺ چونکہ اپنے مرتبہ اور مقام میں مطلقاً "محمد" ہیں اس لئے ذاتِ مقدسہ میں کوئی ایسی بات نہیں پائی جاسکتی جو حضور کے حق میں کسی اعتبار سے بھی عیب قرار پائے، لہٰذا واضح ہوگیا کہ نجاست وغلاظت کثافت وثقالت ہر عیب سے حضور ﷺ پاک ہیں اور آپ کی بے عیب بشریت محمدیت کی دلیل ہے، رہا یہ امر کہ لفظ
"مثلکم" سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور ہماری مثل ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں حصر اضافی ہے یعنی " لنسبتہ الی الالوھیۃ" اس لئے آیت کے معنی یہ ہیں کہ میں عدم الوہیت میں تمہاری مثل ہوں، یہ مطلب نہیں کہ معاذ ﷲ بشری کثافتوں اور مادی غلاظتوں میں بھی تمہارے جیسا ہوں۔ معاذ ﷲ ثم معاذ ﷲ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ ہم نے حضور ﷺ کی ذات مقدسہ کا نور سے مخلوق ہونا اور حضور کی بشریت مقدسہ وجسمانیت مطہرہ کا ہر قسم کی مادی کثافت، بدبو، نجاست اور غلاظت وغیرہ سے پاک ہونا ایسے دلائل کثیرہ وبراہین قویہ سے ثابت کردیا جن کا جواب انشاء ﷲ العزیز قیامت تک عامر صاحب کیا ؟ ان کی ذریت سے بھی نہ ہوسکے گا۔
کیوں عامر صاحب؟ آپ نے اپنے دلائل بول وبراز، منی، تھوک وغیرہ کا حشر دیکھ لیا ؟ اَب تو آپ پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ حضور ﷺ کے فضلات شریفہ مادی کثافتیں نہیں بلکہ نورانی لطافتیں ہیں۔
عامر صاحب تو پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ ہم کاظمی کی ایک ایک دلیل کا جواب دیں گے لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ان شاء ﷲ العزیز آپ کا بھی کوئی جواب ایسا نہ ہوگا جسے جواب الجواب کے بعد کوئی شخص جواب کہہ سکے، ہمیں اُمید ہے کہ ہمارے ناظرین کرام ہماری طول نگاری سے ملول نہ ہوں گے اس لئے کہ یہاں جس قدر طول ہوگا فضائل وکمالات رسالت سامنے آتے جائیں گے۔
عامر صاحب لکھتے ہیں :
حیرت ہے کہ نور کا یہی ایک لازمہ انہیں یاد رہ گیا کہ اس کا سایہ نہیں ہوتا، باقی تمام لوازمات ذہن کے کسی خفیہ گوشے میں جا چھپے یہ لوازمات بھی تو پیش نظر رہنے چاہئیں تھے کہ نور حقیقی پاخانہ پیشاب نہیں کرتا، کھانا نہیں کھاتا، شادی کرنے اور باپ بننے سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا، نہ وہ حیز(اپنے محل وقوع)کوبھرتا ہے۔ الخ

(ماہنامہ تجلی، جون ۱۹۶۰ء، ص ۴۷)

ضلالت کی وادیوں میں بھٹکنے کا نتیجہ حیرت کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟ عامر صاحب! اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے کہ نبی کریم ﷺ نور محض نہیں بلکہ بشریت سے بھی متصف ہیں، ہاں اس میں شک نہیں کہ حضور ﷺ کی بشریت معاذ ﷲ ہماری طرح کثیف وغلیظ نہیں، بلکہ انتہائی لطیف اور طیب وطاہر ہے، جس میں بشریت کے کسی عیب کا شائبہ تک متصور نہیں ہوسکتا۔
جب نورانیت اور بشریت دونوں کا وجود ہوا تو ہر ایک کے لوازمات بھی موجود ہوں گے، کھانا پینا اور باپ بننا بشریت کے لوازمات سے قرار پائے گا، اور سایہ نہ ہونا نورانیت کے لوازمات سے ہوگا۔
شاید آپ کہیں کہ سایہ بھی لوازماتِ بشریت سے ہے تو میں عرض کروں گا کہ بے شک سایہ لوازماتِ بشریت سے ہے، لیکن اس بشریت کے لوازمات سے جو نورانیت سے بے بہرہ اور بشریتِ محضہ ہو، جس میں کثافت اور غلاظت وغیرہ نقائصِ بشریت پائے جاتے ہیں، نورانی بشریت اور لطیف وپاکیزہ بشریت کے لوازمات سے سایہ نہیں ہے۔
رہا کھانا پینا اور باپ بننا تو ان صفات کو بایں معنی لوازمات بشریت سے کہا جاتا ہے کہ بشریت میں ان کا پایا جانا امر واقعی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس میں بھی یہ صفات پائے جائیں وہ بشر ہے، دیکھئے بیضاوی شریف میں ہے :
ولان ابن عباس روی ان من الملائکۃ ضربًا یتوالد ون یقال لھم الجن ومنھم ابلیس۔ انتہٰی
(بیضاوی، جلد۱، ص۶۴)
(ابلیس ملائکہ سے تھا) اس لئے کہ ابن عباس رضی ﷲ عنہما سے مروی ہے کہ ملائکہ کی ایک قسم وہ ہے جس میں توالد وتناسل پایا جاتا ہے (وہ اپنے باپ کے بیٹے ہوتے ہیں اور اپنے بیٹوں کے باپ بنتے ہیں) جنہیں جن کہا جاتا ہے، اور انہی میں سے ابلیس ہے۔
اسی مقام پر بیضاوی شریف کے حاشیہ میں ہے:
قولہ ولمن زعم انہ لم یکن من الملائکۃ۔ الخ قالہ الحسن وقتادۃ واشار بلفظ الزعم الی ضعفہ ورحجان الاول (انہٗ من الملائکۃ) لانہ قول علی وابن عباس وعلیہ اکثر المفسرین۔ انتہیٰ
(حاشیہ نمبر۳ بیضاوی، ص۶۴، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی)
(
قولہ ولمن زعم الخ) حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول یہ ہے کہ ابلیس ملائکہ سے نہ تھا مصنف نے لفظ"زعم" سے اس قول کے ضعف کی طرف اشارہ کیا اور ساتھ ہی قول اوّل کے راحج ہونے کی طرف بھی اسی لفظ زعم سے اشارہ فرمایا، قول اوّل یہ ہے کہ ابلیس ملائکہ سے تھا، اس قول کے راحج اور قوی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت علی کرم ﷲ وجہہ اور حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما کا یہی قول ہے اور اکثر مفسرین بھی اسی پر متفق ہیں۔ انتہیٰ
ایک شبہ کا ازالہ
یہاں نور ونار کے اختلاف کا سہارا لینا درست نہ ہوگا اس لئے کہ نورونار کا مادہ ایک ہے، اوصاف زائدہ علی الذات کے اختلاف سے ذاتیات کا مختلف ہونا لازم نہیں آتا۔
حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کی اس روایت سے جہاں بعض فرشتوں کا توالد وتناسل ثابت ہوا وہاں یہ بھی ثابت ہوگیا کہ فرشتوں کے لئے کھانا پینا بھی محال نہیں، بلکہ بعض ملائکہ کے لئے واقع ہواہے، جیسا کہ احادیث کثیرہ میں وارد ہے کہ جنات کھاتے ہیں اور بعض اشیاء خاص طور پر اُن کی غذا ہیں، کھانے پینے کے لئے پیشاب پاخانہ بھی لوازمات سے شمار کیا جاتا ہے، اس لئے جب کھانا پینا ان کے لئے ثابت ہوگیا تو پیشاب پا خانہ بھی منکرین کے اصول پر لازماً اُن کے لئے ماننا پڑے گا۔
عامر صاحب! آپ نے دیکھا حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہما نے جنات کو ملائکہ کی ایک قسم قرار دیا ہے، اور ظاہر ہے کہ بعض اوصافِ زائدہ علی الذات مثلاً حرارت وبرودت کے اختلاف سے قطع نظر کرکے دیکھا جائے تو جن وملائکہ دونوں کا مادہ ایک ہی ہے، لہٰذا ثابت ہوگیا کہ کھانا، پیشاب، پاخانہ، باپ اور بیٹا بننا بشریت میں منحصر نہیں اور نہ یہ اوصاف نورانیت کے خلاف ہیں، ان اوصاف کو سامنے رکھ کر اَب کس منہ سے نورانیت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کا انکار کرسکتے ہیں۔
بیضاوی شریف کی روایت منقولہ بالا سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ جنات ملائکہ کی ایک قسم ہے، نورونار دونوں مصدر ہیں جن کا مادہ ایک ہے یعنی نور، فرق صرف اتنا ہے کہ نور کے مقابلہ میں جسے نار کہا جاتا ہے وہ نور کے ساتھ متحد الماہیۃ ہونے کے باوجود کسی ایسی صفت میں مختلف ہے جس کا ذات اور ماہیت میں کوئی دخل نہیں۔
معلوم ہوا کہ جن وملائکہ ایک ہی نوع کی دو قسمیں ہیں جن میں بشریت کا قطعاً کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا، لیکن اس کے باوجود ملائکہ کی ایک قسم جنات میں وہ تمام اوصاف پائے جاتے ہیں جنہیں اوصاف اورلوازماتِ بشریت کہہ کر اُن کے موصوف کو بشر محض کہا جاتا ہے، اگر فی الواقع اس بات کو صحیح مان لیا جائے تو وہ تمام جنات جنہیں حضرت عبدﷲ بن عباس ؆ نے ملائکہ کی ایک قسم قرار دیا ہے بشر قرار پائیں گے، جو بالکل غلط اور ظاہر البطلان ہے۔
اس مضمون میں اگر اس بات پر بھی غور کرلیا جائے کہ فرشتوں کی ایک قسم جنات ہے جو کھاتے پیتے اور پیشاب وپاخانہ پھرتے ہیں اور اُن کی شادیاں بھی ہوتی ہیں، اور ازدواجی تعلقات سے ان کی نسل بڑھنے اور اولاد پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں، اور اسی ضمن میں ان کا جوہر حیات جسے نطفہ اور منی سے تعبیر کرنا چاہئے ان کے اجسام سے خارج ہوتا ہے جو توالدوتناسل کی اصل ہے، تو یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہوکر سامنے آجائے گی کہ منکرین نورانیت نبی کریم ﷺ کے وہ تمام ہفوات پادر ہوا ہیں جو عامۃ المسلمین کو اپنے دام تزویر میں پھنسانے کے لئے بیان کئے جاتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ بشر محض نہ ہوتے تو وہ کھانا کیوں کھاتے اور اپنے والدین کے گھر کیسے پیدا ہوتے، اور ان کی اولاد کیوں کر ہوسکتی تھی اور معاذ ﷲ ان کے ساتھ پیشاب، پاخانہ، منی اور تھوک وغیرہ کیوں کر متعلق ہو سکتے تھے، ان تمام اوصاف اور امور کا پایا جانا حضور ﷺ کی بشریت اور معاذ ﷲ عنصری کثافت کا بین ثبوت ہے، ایسے لوگ مجھے بتائیں کہ جنات کے یہ تمام اوصاف اور امور کا پایا جانا حضور ﷺ کی بشریت اور معاذ ﷲ عنصری کثافت کا بین ثبوت ہے؟ ایسے لوگ مجھے بتائیں کہ جنات کے یہ تمام اوصاف بھی بشریت اور عنصری کثافت کی دلیل ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو آپ امور مذکورہ واوصاف مرقومہ کو حضور ﷺ کی بشریت محضہ کے ثبوت میں پیش کرنے کی کس طرح جرأت کرتے ہیں؟ کیا یہ طرز عمل حضور ﷺ کی بین عداوت کا ثبوت نہیں؟
فالی ﷲ المشتکی