ایک اعتراض کا جواب


اگر اس مقام پر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا، حضور ﷺ کے مبارک کپڑے سے حضور کے خشک مادہ منویہ کو کھرچ دیتی تھیں اور تر ہونے کی صورت میں دھو دیا کرتی تھیں کہ اگر حضور کی منی پاک ہوتی تو یہ کھرچنا اور دھونا کس لئے تھا، نیز حضور سیّد عالم ﷺ حوائج ضروریہ سے فراغت پاکر وضو اور غسل کیوں فرماتے تھے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ حضور ﷺ کا بول وبراز اور منی وغیرہ فضلات طیب وطاہر اور پاک ہیں، جیسا کہ ہم بکثرت دلائل وبراہین سے اس دعویٰ کو ثابت کرچکے ہیں اس کے باوجود حکمت تعلیم کی بنا پر خود حضور ﷺ کے حق میں وہ فضلات شریفہ نواقض وضو اور موجبات غسل کا حکم رکھتے ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو اُمت کو غسل ووضو کے مسائل اور لباس وبدن کے پاک کرنے کے طریقے کیسے معلوم ہوتے ؟ چنانچہ فتاویٰ اسعدیہ فی فقہ الحنفیہ میں مفتی الانام علامہ سیّد اسعد المدنی الحسینی انبیاء علیہم السلام کی منی کے پاک ہونے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں
الجواب۔
اعلم ھداک ﷲ الی اصوب الصواب ان منی نبینا ﷺ وکذٰلک سائر فضلاتہ طاہرۃ عند علمائنا الحنفیۃ کما سنذکرہ۔
جاننا چاہئے کہ ﷲ تعالیٰ تمہیں راہ صواب کی طرف ہدایت بخشے، ہمارے نبی کریم ﷺ کی منی مبارک اور اس کے علاوہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے تمام فضلات شریفہ ہمارے علمائے حنفیہ کے نزدیک طیب وطاہر ہیں جیسا کہ ہم عنقریب ذکر کریں گے۔
چند سطور کے بعد فرماتے ہیں :
قولنا بالطہارۃ لیس ھو علی اطلاقہ بل ھو فی حق غیرہ ﷺ واما فی حق نفسہ ﷺ فھو باق علی حکمہ الاصلی۔ انتہیٰ
حضور ﷺ کے فضلات شریفہ کی طہارت کا قول اپنے اطلاق پر نہیں بلکہ حضور ﷺ کے غیر کے حق میں ہے، اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے حق میں وہ اپنے حکم اصلی پر باقی ہے۔ انتہیٰ
گویا جو فضلات شریفہ اُمت کے حق میں طیب وطاہر ہیں ان کا حضور ﷺ کے حق میں حکماً غیر طاہر ہونا ایسا ہے جیسا حسنات الابرار سیأت المقربین۔
اس کے بعد طہارت فضلات شریفہ پر دلیل قائم فرماتے ہوئے ان احادیث کو علامہ اسعد الحسینی نے ارقام فرمایاجو اس سے پہلے ہم پیش کرچکے ہیں، مثلاً ایک قریشی غلام اور مالک بن سنان اور عبدﷲ بن زبیر اور حضرت ابو طیبہ کا مختلف اوقات میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا خون مبارک پینا اور حضور کا ان پر انکار نہ فرمانا بلکہ ان کے اس فعل پر انہیں جنت کی خوشخبری سنانا اور بعض کے حق میں دوسرے الفاظ تعریف وستائش ارشاد فرمانا نیز حضرت اُم ایمن اور اُم سلیم کا حضور ﷺ کا بول مبارک کو پی لینا اور یہ سن کر حضور کا مسکرانا اور صحت وشفا کی خوشخبری ارشاد فرمانا بیان فرماکر صاحبِ الفتاویٰ الاسعدیہ نے فرمایا کہ یہ احادیث حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے تمام فضلات شریفہ کے پاک ہونے کو ثابت کرتی ہیں اور یہی قول ہے امام ابو حنیفہ رضی ﷲ عنہ کا۔ انتہی (فتاویٰ اسعدیہ،جلد۱، ص۴)
الحمد ﷲ فتاویٰ اسعدیہ کے اس بیان سے ہمارا مسلک اچھی طرح واضح ہوگیا اور جو اعتراض وارد کیا گیا تھا اس کا شافی جواب بھی ناظرین کے سامنے آگیا۔