جسم اقدس، پسینہ مبارک اور خون مبارک کا خوشبو دار ہونا


حضور ﷺ کے جسم اقدس کا مادی کثافتوں سے پاک ہونا ان احادیث شریفہ سے بھی روز روشن کی طرح واضح ہے جن میں وارد ہوا کہ حضور کی خوشبو کا مقابلہ دنیا کی کوئی خوشبو نہ کرسکتی تھی، حضرت انس فرماتے ہیں:
(۱)
ماشممت عنبرا قط ولا مسکا ولا شیئا اطیب من ریح رسول ﷲ ﷺ۔ (مسلم شریف، جلد ۲، ص۳۵۷)
میں نے کوئی مشک وعنبر یا کوئی شئے حضور ﷺ کی خوشبو مبارک جیسی نہیں سونگھی147۔148
(۲)  اور حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب حضور ﷺ مدینہ کی راہوں میں سے کسی راہ سے گزرتے تو اہل مدینہ ان راہوں میں مہکتی ہوئی خوشبو پاتے تھے اور کہتے تھے کہ اس راستے سے رسول ﷲ ﷺ گزرے ہیں، اس حدیث کو ابو یعلی اور بزار نے صحیح سند سے روایت کیا ۔ (مواہب اللدنیہ، جلد ۱، ص۲۸۲)

(۳) حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ان کے رخسار کو چھوا تو انہوں نے حضور کے دست اقدس کی ٹھنڈک محسوس کی اور ایسی تیز خوشبو پائی گویا کہ حضور ﷺ نے عطر فروش کے عطر کے کپے سے اپنے مبارک ہاتھ کو نکالا ہے اور ان کے غیر نے کہا کہ حضور ﷺ خوشبو لگائیں یا نہ لگائیں بہر صورت حضور سے مصافحہ کرنے والا اپنے ہاتھ میں تمام دن حضور ﷺ کے دست مبارک کی خوشبو پاتا تھا اور حضور ﷺ کسی بچے کے سر پر اپنا دست مبارک رکھ دیتے تھے تو حضور ﷺ کی خوشبو کی وجہ سے دوسرے بچوں میں پہچان لیا جاتا تھا۔ (مواہب اللدنیہ، جلد۱، ص۲۸۳)
(۴) حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور دوپہر کو آرام فرمایا، سوتے میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو پسینہ آرہا تھا، میری والدہ ایک شیشی لے آئیں اور اس میں حضور ﷺ کے پسینہ مبارک کو جمع کیا، حضور ﷺ بیدار ہوگئے اور فرمایا کہ اے اُم سلیم یہ کیا کررہی ہو؟ میری والدہ نے عرض کیا حضور ! یہ آپ کا پسینہ ہے ہم اسے اپنی خوشبو بنا رہے ہیں اور یہ سب خوشبوؤں سے اعلیٰ درجہ کی خوشبو ہے۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا۔
(مواہب اللدنیہ، جلد۱، ص۲۸۳)
(۵) امام قسطلانی شارح بخاری مواہب اللدنیہ میں فرماتے ہیں:
واما طیب ریحہ ﷺ وعرقہ وفضلاتہ فقد کانت الرائحۃ الطیبۃ صفتہ ﷺ وان لم یمس طیبا۔
(مواہب اللدنیہ، جلد۱، ص۲۸۳)
ترجمہ۔ بہر نوع حضور ﷺ کی ریح مبارک، پسینہ مقدس اور حضور کے فضلات شریفہ کی مہکتی ہوئی خوشبوئیں سب حضور کی ذات مقدسہ کی صفات تھیں، خواہ حضور خوشبو لگائیں یا نہ لگائیں۔
(۶) ابویعلی اور طبرانی نے ایک شخص کا قصہ روایت کیا کہ اس کے پاس کچھ نہ تھا اور اسے اپنی بیٹی کی شادی کرنا تھی، اُس نے حضور ﷺ سے استعانت کی، حضور نے اس سے ایک شیشی منگائی اور اس میں اپنا مبارک پسینہ بھر کر اُسے دے دیا اور فرمایا اپنی لڑکی سے کہو کہ وہ اپنے بدن پر میرے پسینہ کو بطور خوشبو استعمال کرے، جب وہ لڑکی حضور کے مبارک پسینہ کو بطور خوشبو استعمال کرتی تو تمام اہل مدینہ اس کی خوشبو سے معطر ہوجاتے تھے اس لئے لوگوں نے اس گھر کا نام بیت المطیبین خوشبو والوں کا گھر رکھ دیا۔ (مواہب اللدنیہ، جلد۱، ص۲۸۳)
(۷)
وروی انہ کان یتبرک ببولہ ودمہ ﷺ۔
روایت ہے کہ حضور ﷺ کے پیشاب اور خون مبارک سے برکت حاصل کی جاتی تھی۔ (مواہب اللدنیہ، جلد۱، ص۲۸۴)
(۸)
وفی کتاب الجوھر المکنون فی ذکر القبائل والبطون: أنہ لما شرب، ای عبد ﷲ ابن الزبیر، دمہ تضوع فمہ مسکًا، وبقیت رائحتہ موجودۃ فی فمہ الی أن صلب رضی ﷲ عنہ۔ (مواہب اللدنیہ، جلد۱، ص۲۸۴) ۱
کتاب جوہر مکنون میں ہے کہ جب عبداﷲ بن زبیر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے (حضور ﷺ کے بدن سے پچھنوں کے ذریعہ نکالا ہوا) خون پیا تو ان کے دہن مبارک سے مشک کی خوشبو مہکی اور وہ خوشبو ان کے منہ سے ہمیشہ مہکتی رہی یہاں تک کہ ان کو سولی دی گئی(رضی اﷲ عنہ)