عرضِ ناشر

غزالیٔ زماں رازی دوراں کے الفاظ زبان پر آتے ہی عالمِ اسلام کی جس عبقری اور نابغۂ روزگار شخصیت کا تصور فوراً ذہن میں آتا ہے وہ ہیں ضیغم اسلام قطب الارشاد حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃاللہ علیہ

آپ کی ہمہ جہت با کمال ذات برصغیر کے مشہور خطہ مراد آباد (امروہہ) کے ان نفوسِ قدسیہ میں ایک ممتاز مقام کی حامل ہے جنہوں نے پورے عالم اسلام پر اپنے ہمہ گیر و گہرے اثرات چھوڑے۔ آپ صرف مدرسہ و مکتب کی فضا میں تحلیل یا کنزو ہدایہ میں گم ہو جانے والے مدرس نہ تھے بلکہ مسند تدریس کی وجاہت میں اضافہ کرنے والے معقول و منقول کے ایک اصولی اور خالص بے مثل مکتبی استاد بھی تھے اور علمی، تدریسی، مذہبی، سیاسی، سماجی، رفاہی خدمات سرانجام دینے کے لیے ہمہ وقت مستعد رہنے والے ایک عظیم المرتبت شیخ اور امامِ ملت اِسلامیہ بھی تھے آپ کی فکر کی ضیاء اور عمل کا فیض اگر سالکانِ طریقت و معرفت کے لئے مینارئہ نور ہے تو ان کی اصابت رائے،فکری جودت اور خداداد علمی قابلیت و صلاحیت متلاشیانِ جادئہ حق کے لیے دلیل راہ تھی۔ صائب رائے اور تعصب سے پاک آفاقی نکتۂ نظر رکھنے کی بناء پر ہر مشکل گتھی سلجھانے کے لیے بلا امتیاز تمام مکاتب کی نظر آپ کی طرف اٹھتی تھی۔
کیونکہ آپ صرف محراب و منبر کی زینت بننے والے واعظ خوش بیان نہ تھے بلکہ ہمیشہ اپنے سحر انگیز حسن گفتار سے دلوں کو موہ لینے والے ایسے مسیحا تھے جن کے پاس ہر درد کی دوا تھی اور بے رُوح ملت کے قالب میں حقیقی حرارتِ حیات منتقل کرنے کا سب سامان بھی تھا۔
رازی دوراں علیہ الرحمۃ نے ویسے تو دینی،قومی، ملی تمام سلگتے اور دہکتے موضوعات پر قلم اٹھایا اور اپنے دور میں ہر شعبہ زندگی سے متعلق ابھرنے والے تمام مسائل کا کافی و شافی جواب دیکر ہر باطل کے بے ربط طوفان کے سامنے بند باندھ دیا کیونکہ آپ احقاقِ حق کے لیے ہر وقت کمر بستہ اور ابطالِ باطل کے لیے ہمہ وقت پابہ رکاب رہتے اور سر پر کفن سجائے ہر طاغوتی فکر کے سامنے مثل جبل شامخ کھڑے نظر آتے۔
بالخصوص آپ کے احوال و اقوال اپنے آقا و مولا محبوبِ دو عالم نور مجسم ﷺ کی محبت کے سچے ترجمان تھے۔ آپ وہ محب ِ صادق اور عاشق رسول تھے جو زندگی بھر خیمۂ محبوب کی نگہداشت کا فریضہ سرانجام دیتے اور حق دِفاع ادا کرتے رہے۔
آقائے دو عالم ﷺ کے تصرف و اختیار،حسن و جمال اور نورانیت و کمال کو ایسے مضبوط اور واضح دلائل و براہین سے ثابت کیا کہ فِرقِ باطلہ کی ظلمت سے متاثر ہونے والوں کو بغیر نغمۂ رسول گنگنائے اور اسیرِ زلف رسول ہوئے چارہ نہ رہا۔

ذِکر روکے فضل کاٹے،نقص کا جویاں رہے
پھر کہے مردکہ ہوں امت رسول اللہ کی

کے مصداق فریقِ مخالف جو دلیل اپنی ظلمت ایمانی کے ثبوت میں پیش کرتا حضرت غزالیٔ زماں اسی دلیل سے حسن رخسارِ مصطفیٰ ﷺ ثابت کرتے۔ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ سنگ و خشت سے تو ہر شخص جہاں تعمیر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اپنے خارا شگاف قلم کی نوک سے علم و عرفان کے شہر آباد کرنے کا فن کوئی حضرت غزالیٔ زماں سے سیکھے۔
حضرت غزالیٔ زماں نے اپنی حیاتِ مستعار کو سرکارِ دو عالم ﷺ کی حدیث پڑھاتے، آپؐ کی گفتار و رفتار اور شمائل و کردار کی تشریح کرتے کرتے گزار دی۔ گویا آپ کی ہر تحریر و تقریر حق و انصاف اور عشق و محبت سرکارِ ابد قرار ﷺ کا ایک نیا شہر آباد کرتی نظر آتی ہے کہ جب آپ فرمانِ الٰہی
بَلْ نَقْذِ فُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْ مَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ (بلکہ ہم حق کے ساتھ باطل پر کاری ضرب لگاتے ہیں تو وہ اس کا سر کچل دیتا ہے۔ تو ناگہاں باطل نیست و نابود ہو جاتا ہے) کے بمصداق روحانی و علمی ہتھیاروں سے لیس ہوکر اپنی کاری ضرب لگاتے تو اپنے حلقہ میں علم کا کوہِ گراں کہلانے والا مدِ مقابل صرف بونا ہی نہیں بلکہ خمیدہ کمر اور ماؤف ذہن بھی نظر آتا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اصل حقیقت یہ ہے کہ اپنے جوار میں روحانیانِ ملتان نے رسول خدا و اولیاء اللہ کے باغیوں کے ڈیرے دیکھ کر اظہارِ نفرت کیا اور ناموسِ رسالت کے تحفظ و دفاعِ پاکانِ اُمت کے لیے اس بطل جلیل کو اپنی ڈیوڑھی پر لاکھڑاکیا۔ جس نے ہر قدم پر تُعَزِّرُوْہُ (رسول کی تعظیم و توقیر بجا لاؤ) کا علم بلند فرمایا اور عظمت رسول کے خلاف ہر اُٹھنے والی ایمان سوز صدا اور فتنہ کا آخری سرحد تک مقابلہ کیا۔ اس سے زیادہ کیا کہا جاسکتا ہے کہ

سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے

ملک التحریر علامہ ارشد القادری رحمۃاللہ علیہ نے حضرت غزالیٔ زماں کے علمی تبحر و فیضان پر کیا خوبصورت تبصرہ فرمایا ہے۔فرماتے ہیں۔ مانا کہ ہدایت کسب سے نہیں، فضل الٰہی سے حاصل ہوتی ہے۔ لیکن علم تو کسبی شے ہے پھر فن حدیث کی جو کتابیں کاظمی صاحب کا ہاتھ پکڑ کر روضۂ رسول تک لے گئیں۔ آخر تھانوی (و عامر عثمانی) کو دشت ِ نامرادی میں بھٹکنے کے لیے کیوں چھوڑ دیا۔
یہ دراصل ظاہری قیل و قال سے حاصل ہونے والا علم نہ تھا
بلکہ وَاتَّقُواللہَ وَیُعَلِّمُكُمُ اللہ (اللّٰہ سے ڈرو اللّٰہ تمہیں سکھائے گا) کا مظہر عطیۂ الٰہی علم لدنی اور فیضانِ نبوت تھا۔
حضرت غزالیٔ زماں نے دشمنانِ اسلام کے ایمان سوز اور فتنہ ساز منصوبوں کے جوابات کتنے مضبوط شواہد اور ٹھوس دلائل سے دیئے ہیں اس کا اندازہ تو آپ کے دینی، علمی و آفاقی فکر کے حامل مقالات کے مطالعہ سے حضرات قارئین خود ہی کرسکیں گے۔ ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ

تازہ خواہی داشتن گردان ہائے سینہ را
گاہے گاہے باز خواں ایں قصۂ پارینہ را

کہ آپ کے علمی جواہر پاروں کو جمع کرکے منظرِ عام پر لایا جائے تاکہ عشق و محبت ِ رسول کا جو چراغ آپ نے جلایا ہے اس کی لو کو مزید تیز کیا جائے اور تحفظِ ناموسِ محبوبِ جاں نواز ﷺ کا جو سبق آپ نے پڑھایا ہے اس کو آگے بڑھایا جائے۔اسی سلسلہ کی ایک کڑی مقالاتِ کاظمی کا یہ حصہ بھی ہے۔ طویل عرصہ بعد جس کا خواب شرمندئہ تعبیر ہورہا ہے۔اس جلد میں جو مضامین شامل کئے گئے ان میں بطورِ خاص، علومِ قرآن پر تحقیقی نظر، تاریخ غلافِ کعبہ، مسئلہ ظل النبی پر عامر عثمانی صاحب کا تعاقب اور رَد اور حضور ﷺ کے جسمِ اقدس کے تاریک سایہ کے عدم اور نورِ حسی و حقیقی کے ثبوت میں معرکۃ الآراء ایک تحقیق نذرِ قارئین ہے اور اربابِ فکر و دانش کی سہولت اور عام افادہ و استفادہ کے لئے رِسالہ ظل النبی بھی مقالاتِ دوم سے یہاں نقل کر دِیا گیا ہے۔ برِ صغیر کی مشہور علمی شخصیت حضرت شاہ ولی اللہ پر ایک اجمالی مضمون اور ان کے نظریۂ تصوف و عقائد کی اصل ترجمان کتاب انفاس العارفین سے کچھ اقتباسات کا حضرت غزالیٔ زماں کے قلم سے ترجمہ شامل ہے (کہ آج کل تحفۃ الموحدین، بلاغ المبین، تفہیمات جیسی فرضی کتابوں کے مصنف و مصلح کی حیثیت سے تو اِنہیں متعارف کرایا جاتا ہے لیکن انفاس العارفین، الدر الثمین، القول الجمیل، اطیب النعم فی مدح سید العرب و العجم کے مؤلف اور ایک عظیم صوفی و شیخِ طریقت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا تذکرہ ناروا سمجھا جاتا ہے حالانکہ جماعت اہل حدیث سمیت فکر شاہ ولی اللہ کے بڑے بڑے علمبرداروں کو اِس بات سے بھی مجالِ اِنکار نہیں کہ شاہ صاحب کی کتب کا جو حصہ تصوف سے متعلق ہے اس میں ایسا مواد ملتا ہے جس سے بریلویت کی خاصی تائید ہوتی ہے، اِسی سے مسلک اہلسنّت کی عظمت کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے) اسلام بالخصوص فقہ حنفی کے نفاذ کے لیے آسان آفاقی حکمتِ عملی پر مشتمل کل پاکستان سنی کانفرنس 1978ء کا خطبہ استقبالیہ، معاشرتی خرابیاں اور علماء کا فرض، الادلۃ الشرعیہ (کتاب، سنت، اجماع، قیاس) سمیت کئی اہم اور نادر تحریریں شامل ہیں۔اس میں تمام مضامین کو بغیر کسی ترمیم و اضافہ کے اصل حالت میں برقرار رکھا گیا ہے (متعلقہ حوالوں سمیت)۔
فقیر اپنے دیرینہ کرم فرماؤں اور مخلص ترین احباب جناب ادیبِ شہیر محترم خلیل احمد رانا صاحب اور فاضل جلیل حضرت علامہ ابو البیان محمد جمیل الرحمٰن سعیدی صاحب مرتب کتاب "لمعاتِ کاظمی" کا شکر گزار ہے جنہوں نے قلمی مواد کی فراہمی اور ترتیب میں خصوصی تعاون فرمایا۔ اِن شاء اللہ العزیز بہت جلد حضرت غزالیٔ زماں کے اب تک دستیاب ہونے والے فتاویٰ جات کو بھی احسن ترتیب کے ساتھ ہدیۂ قارئین کیا جائے گا۔
اس کتاب کی کتابت و طباعت میں حتی الوسع احتیاط سے کام لیا گیا ہے۔ پھر بھی اگر کہیں کوئی غلطی رہ گئی ہو تو اس سے آگاہ فرمائیں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اس کی تصحیح کی جاسکے۔
 

            شکریہ
حافظ نقشبندی