اسلامی معاشرے میں طلباء کا کردار

غزالی زماں، رازی دوراں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی مدظلہ ٗ کی وہ تقریر جو انہوں نے انجمن طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی اجتماع منعقدہ کراچی میں بروز اتوار ۷ اپریل ۱۹۶۸ء کو فرمائی۔

نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد وعلٰی اٰل سیدنا محمد وبارک وسلم

عزیز طلبا!
یہاں حاضر ہو کر اور آپ کا اجتماع دیکھ کر میں اس قدر مسرور ہوں کہ میں اپنے ان جذباتِ مسرت کو ظاہر کرنے کے لئے نہ الفاظ پاتا ہوں نہ اس کے لئے وقت کی گنجائش محسوس کرتا ہوں۔ رسمی گفتگو کا میں عادی نہیں اور اس کے لئے بھی وقت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا یہ اجتماع اگرچہ بہت بڑا نہیں لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بڑے بڑے اجتماعات کے مقابلے میں آپ کا یہ اجتماع میرے لئے انتہائی مسرت کا باعث ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں یہ جانتا ہوں کہ قوم کا متاعِ عزیز آپ حضرات ہی ہیں۔ قوم کی نشو ونما قوم کی فلاح، قوم کی صلاح، قوم کی بقا، یہ آپ حضرات کے دامنوں سے وابستہ ہے۔ معاشرے میں طلباء کا کیا کردار ہے اور انہیں کیا کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہ ایک بہت وسیع موضوع ہے۔ اس کو نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔
آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ حیاتِ انسانی کے دو ستون ہیں، ایک علم اور دوسرا عمل۔ علم بنیاد ہے اور عمل اس بنیاد کی تعمیر۔ علم ایک درخت ہے اور عمل اس درخت کے پھول۔ حضور تاجدارِ مدنی جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے دین متین کا جو نقشہ پیش فرمایا ہے یقین کیجئے کہ اس میں جمود و خمود نہیں ہے۔ اس کے اندر استنباط کے لئے، سوچنے کے لئے اور صحیح لائنوں پر غور و فکر کے لئے بڑی وسعتیں ہیں۔ مگر افسوس کہ ہماری اپنی تنگ نظری نے ان وسعتوں کو محدود کر دیا۔ ہم یہ سمجھے کہ حقائق کائنات پر غور کرنا اور حقائق کے علم کا حصول بے کار سی بات ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کے جس ذرّہ کا آپ علم حاصل کریں گے وہ آپ کے حق میں نور ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ علم کا مقصد کیا ہے؟ علم کے معنی ہیں جاننا۔ کس چیز کا جاننا؟ جو چیز ہے اس کو جاننا لیکن نہ ہونے والی چیز کو ہم جانیں کہ وہ ہے تو یہ علم نہ ہو گا، جہل ہو گا۔ مثلاً اب رات نہیں ہے اور اگر کوئی شخص جانے کہ یہ رات ہے تو یہ جاننا کہاں ہے یہ تو نہ جاننا ہے جو چیز ہے نہیں اس کو ہم جانیں کہ ہے اور جو چیز ہے اس کو ہم جانیں کہ نہیں ہے۔ تو یقین کیجئے کہ ہست کو نیست جاننا اور نیست کو ہست جاننا یہ دونوں جہل ہیں۔ علم کے معنی یہ ہیں کہ نیست کو نیست اور ہست کو ہست جانیں یہ ہے علم۔

حقیقت کائنات

عزیزانِ گرامی!
آج دنیا جس چیز کو علم قرار دے رہی ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدائے قدس جل مجدہٗ کی ذات ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی اور ساری کائنات میں جو کچھ ہے اسی کی صفات کا ظہور ہے، اسی کے اسماء کا ظہور ہے اور اسی کے افعال کا ظہور ہے اور یوں کہیے کہ حقائق کائنات اٹھارہ ہزار عالم یہ سب کچھ اسی ذات واجب الوجود کا ظہور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا ہے اورخدا کے سوا کچھ نہیں۔ جس چیز کو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہے، خدا کی قسم! اس کا کوئی مستقل وجود نہیں۔ مستقل وجود اگر ہے تو صرف خدا کا ہے۔ واجب الوجود کا ہے اور جس قدر کائنات کا وجود ہے، ہمیں نظر آ رہا ہے، سب اسی کے وجود کے ظلال ہیں۔ اسی کے وجود کا ظہور ہے۔ اسی کے وجود کی حقیقتوں کی نمائندگی کائنات کا ہر موجود ذرّہ کر رہا ہے۔ میں کائنات کے وجود کی نفی نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی عاقل کر سکتا ہے۔ اس لئے کہ ہمارے علم کلام کی بنیاد ہی حقائق کائنات کا ثبوت ہے۔ کیونکہ جب تک ہم حقائق کائنات کو ثابت نہیں مانیں گے تو اس وقت تک ہم مخلوق کو خالق پر دلیل کیسے بنائیں گے؟ ہمارا تو نظریہ یہ ہے کہ زمین اور آسمان کی جس چیز کو دیکھو، اسے دیکھ کر خدا کی ہستی کو پہچانو اور کائنات کے ہر ذرّہ کو دلیل قرار دو اور کہو کہ سورج خدا کے ہونے کی دلیل ہے۔ چاند خدا کے ہونے کی دلیل ہے اور زمین و آسمان خدا کے ہونے کی دلیل ہیں۔ ہم تو تمام حقائق کائنات کو خدا کی ہستی کی دلیل بناتے ہیں اور اگر یہ چیزیں ہیں نہیں تو پھر دلیل کس کو بنائیں گے؟ عدم کو تو دلیل بنا نہیں سکتے۔ اس لئے ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حقائق کائنات موجود ہیں لیکن ان کا وجود مستقل نہیں۔ مستقل وجود اگر ہے تو فقط واجب کا وجود ہے۔ تمام کائنات کے حقائق اسی واجب کا ظہور ہیں لیکن آج اس علم کا مفاد دنیا میں ہمارے سامنے علم کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جو کچھ ہے وہ صرف مادہ ہے اور خدا کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ جو ہے اس کو نیست قرار دے دیا۔ نیست کو ہست بنا لیا اور ہست کو نیست سمجھ لیا۔ کائنا ت کا وجود کوئی مستقل وجود نہ تھا اور وجود مستقل صرف فقط خالقِ کائنات کا تھا لیکن آج اس مادہ پرستی کی دنیا میں، علم و فضل کے اس دعوے کی دنیا میں اس علم کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو تھا اس کو کہہ دیا کہ نہیں ہے اور جو نہیں تھا اس کوکہہ دیا کہ ہے کسی سچ کہا ہے

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

علم کا مقتضا یہ ہے کہ عدم کو عدم جانے، وجود کو وجود جانے، ہست کو ہست جانے اور نیست کو نیست جانے اور یقین کیجئے کہ اس علم کا سرچشمہ فقط حضرت سیدنا محمد مصطفی ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔ اس راہ میں لوگوں کو بڑی ٹھوکریں لگتی ہیں۔ یہ وادی پر خطر ایسی نہیں کہ جہاں سے انسان آسانی سے گزر جائے۔ بڑے دشوار گزار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور نبی کریم ﷺ نے جو شاہراہ ہمارے لئے متعین کی ہے اس کے متعلق زبانِ رسالت نے فرمایا

ترکتکم علٰی ملۃ بیضاء
لیلہا و نہارہا
سواء

میں نے تمہارے لئے وہ شاہراہ بنائی ہے کہ تم آنکھیں میچ کر گزر جاؤ اس کے دن رات برابر ہیں مگر شرط یہ ہے کہ راہ سے ہٹنے نہ پاؤ۔ اگر راہ سے ہٹ گئے تو ادھر بھی ہلاکت کے گڑھے ہیں اور ادھر بھی ہلاکت و تباہی کے گڑھے ہیں۔ اگر تم نے اس راہ کو اختیار کئے رکھا، راہ پر رہے تو آنکھیں بند کر کے چلتے رہو۔ لیکن اگر راہ کو چھوڑ دیا تو پھر خواہ تمہاری دس آنکھیں بھی ہو جائیں کچھ کام نہیں ہو گا کیونکہ وہاں تو ہلاکت کے گڑھوں کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔ اگر راہ پر استقامت اختیار کرو تو آنکھیں بند کر کے چلتے رہو۔ یہ راہ وہ ہے جس کے اندر کوئی کانٹا نہیں اور کوئی خطرہ اور خدشہ نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس صراطِ مستقیم پر خدا کے پیارے رسول ا نے ہم کو لگایا ہے وہ ہمارے لئے شاہراہِ علم و عمل ہے۔ ہماری زندگی کا پہلا ستون علم ہے جو کہ بنیاد ہے۔ عمل اسی بنیاد پر تعمیر ہے۔

حقیقتِ علم

طلباء کی شخصیت کیا ہوتی ہے؟ طلباء کا مقام کیا ہے؟ میں گوشت پوست کو طلباء کی شخصیت قرار نہیں دیتا۔ میرے نزدیک طلباء کا وجود اس ذہن کا نام ہے جو علم کے طلب کرنے والا ذہن ہے۔ علم ایک نور ہے اور نور جہاں آتا ہے ظلمت دور ہو جاتی ہے اور جہاں ظلمت دور نہ ہو سمجھ لو کہ وہاں نور آیا ہی نہیں، طلباء کا معیار، طلباء کے وجود کی علامت اور طلباء کے راہِ راست پر ہونے کی جو نشانی ہے وہ یہ ہے کہ جن طلباء کا ذہن صاف و روشن ہے، سمجھ لیجئے کہ وہ طلباء ہیں، علم کے طالب ہیں۔ علم کی راہوں پر چل رہے ہیں اور انہیں علم حاصل ہو رہا ہے۔ جو طالب علم اپنے ذہن کے اندر کوئی روشنی نہیں پاتا وہ سمجھ لے کہ میں علم سے محروم ہوں۔
علم ایسا نور ہے جو ذہن کو روشن کرتا ہے جو دل کو روشن کرتا ہے جو دماغ کو روشن کرتا ہے۔ جو طلباء اس نور سے محروم ہیں، ان کو ان امور کی طرف نظر کرنی چاہئے جو اس کی راہ میں مانع ہیں اور جو نور علم کے لئے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان رکاوٹوں کو دور کرے اور ان راہوں کو صاف کرے جن راہوں سے ذہن اور دل کے اندر نور آتا ہے۔ مطلب یہ کہ طلباء وہ ہیں جن کا ذہن علم کے نور سے منور اور روشن ہو گا تو پھر ان کا عمل اور کردار بھی روشن ہو گا کیونکہ عمل کی عمارت تو ہمیشہ علم کی بنیادوں پر قائم ہوا کرتی ہے۔تاریک کردار اس کا ہوگا جس کا دماغ تاریک ہو گا۔ طلباء کا معاشرے میں مقام یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کو روشن کر کے قوم کے ذہن کو روشن کریں۔ طلباء کی جس جماعت کا ذہن روشن نہیں، سمجھئے وہ اپنے مؤقف پر نہیں ان کا وہ مقام نہیں ہے۔ تو طلباء کا پہلا مقام یہ ہے کہ وہ علم کے نور سے اپنے ذہن کو روشن کریں اور پھر وہی روشنی قوم تک پہنچا کر قوم کی ذہنی تاریکیوں کو روشنی میں بدل دیں۔ یہ ہے طلباء کا معیاری اور بنیادی کردار۔ اس کردار کو ادا کئے بغیر طالب علم کا نہ کوئی ابتدائی مقصد قرار پاتا ہے، نہ انتہائی، اور یہ روشنی جو تمہارے دماغوں کو صاف کرے گی، مادی علوم سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس کا حاصل کرنا اسلامی علوم کے بغیر ناممکن ہے۔ اس لئے کہ مادے میں تاریکی ہے۔ مادہ خود تاریک ہے۔ تاریکی سے تاریکی کے سوا کیا مل سکتا ہے۔ اگر آپ کو یہ نور حاصل کرنا ہے تو آپ اسلامی علوم کی طرف بھی توجہ دیں۔
میں آپ کو یہ بھی بتادوں کہ اسلامی علوم کیا ہیں؟ آپ شاید یہ کہیں کہ یہ ہمیں سائنس سے ہٹاتے ہیں۔ دنیا کے علوم سے ہٹاتے ہیں۔ لیکن خدا کی قسم! کائنات کا کوئی علم ایسا نہیں جو غیر اسلامی ہو۔ اسلامی علم سے کیا مراد ہے؟ اسلامی علم سے مراد یہ ہے کہ جس چیز کا علم تم حاصل کرو، یہ سمجھو کہ وہ چیز خدا نے بنائی ہے۔ اس کے اندر یہ صفت، یہ خصوصیت، یہ کیفیت اسی نے پیدا کی ہے۔ اس چیز کے اثرات کو دیکھتے جاؤ۔ اس کی خصوصیات کا تجزیہ کرتے جاؤ جن چیزوں کے اندر حرارت ہے اس چیز کی حرارت کو دیکھ کر حرارت کے پیدا کرنے والے کو پہچانو۔ کسی چیز کے اندر تم نے دیکھا کہ برودت ہے تو پھر اس سے برودت پیدا کرنے والے کو پہچانو۔ کیونکہ کسی پیدا کرنے والے کے بغیر کوئی چیز نہیں ہوا کرتی۔ اگر تمہارا دماغ رطوبت و برودت کے اندر پھنس کر رہ گیا تو سمجھو کہ تاریکی میں مبتلا ہو گئے۔ اگر یہ سمجھا کہ وہ ٹھنڈک ہے، یہ گرمی ہے، یہ خشکی ہے اس چیز میں فلاں صفت ہے، یہ تاثیر ہے، یہ اثر ہے، یہ خصوصیت ہے، ان تمام اثرات و خصوصیات کو معلوم کرتے چلے جاؤ اور حقائق کائنات سے واقف ہو تے چلے جاؤ اور جب کبھی حقیقت کا انکشاف ہو، سمجھ لو کہ حقیقت بنانے والے کے بغیر اس حقیقت کا وجود نہیں ہو سکتا۔
یہاں مجھے ایک بات سمجھانا ضروری ہے کہ وہ طلباء جن کے ذہن مادی علوم میں گھرے ہوئے ہیں اور اسلامی علوم کی ہوا نہیں لگی، ان کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو گئی ہے کہ یہ خدا کا تصور اور خدا کی ذات کا عقیدہ محض ایک توہم ہے۔ لوگوں نے یوں ہی لوگوں کو ڈرانے کے لئے خدا کا تصور لوگوں کے ذہنوں میں ڈال دیا ہے۔ جیسے بچوں کو کہتے ہیں کہ ہوا آ گیا۔ ارے بھائی! اگر خدا نہیں تو یہ نظامِ کائنات آخر کیا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ مادے کے اندر یہ صفات خود بخود موجود ہیں۔ ایک مادہ ایک وقت میں ایک حال میں ہے۔ پھر وقت گزرا دوسرے حال پر آیا۔ پھر وقت گزرا تیسرے حال پر آیا۔ اس طرح مادے کے اندر جو خواص چھپے ہوئے ہیں، وہ ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ مادے کے اندر تمام ترقیات کے اثرات ہیں اور مادہ اپنے اپنے وقت میں ترقی کی منازل طے کرتا جاتا ہے۔ تو یہ تو تمام مادی خواص ہیں۔ مادی اثرات ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گندم کا دانہ ہوتا ہے۔ اس کو ہم زمین میں ڈال دیتے ہیں وہ ایک نرم ونازک شاخ کی صورت میں نمودار ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ہم کئی گندم کی بالیاں حاصل کر لیتے ہیں۔ تو یہ تو مادے کی خصوصیات اور اثرات ہیں جو اپنے اپنے موقعوں پر جیسا ماحول ان کی کیفیات کے ظہور کے لئے مہیا ہوتا جاتا ہے۔ اس کے مطابق وہ مادے کے اثرات قائم ہوتے جاتے ہیں۔ یہ تو مادے کے اپنے ذاتی اثرات ہیں۔ ان کی خصوصیات ہیں، جو خود بخود ظاہر ہوتی جاتی ہیں۔ اس کے لئے یہ نہیں کہ کسی بنانے والے نے بنائے ہوں یا پیدا کرنے والے نے پیدا کئے ہوں۔ اس کے متعلق میں ایک ذرا سی بات عرض کرنا چاہتا ہوں اور اپنے عزیز طلباء سے کہوں گا کہ خاص طور پر اپنے ذہن کو متوجہ کریں۔ دیکھئے! یہ ایک ایسی بات ہے جس کا جواب مشاہدات کی دنیا میں نہیں دیا جا سکتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مشاہدات کی دنیا میں یہ سوال بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن میں نے ارخاء عنوان کے طور پر یہ بات تسلیم کر لی اور اس کے بعد پھر میں جواب کی طرف آتا ہوں۔

مادہ پرستوں کا عقیدہ

بات یہ ہے کہ تمام نظامِ کائنات کے بارے میں خدا کے منکروں کا مادہ پرستوں کا، مادی علوم کے ماہرین کا بنیادی نظریہ یہی ہے کہ مادے کے اندر یہ اثرات و خواص ہیں اور وقت آنے پر وہ ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اب ہم نے ان سے پوچھا کہ بھئی یہ بتاؤ کہ مادے کے اندر ان اثرات و خواص کا مختلف مقامات پر مختلف صورتوں میں پایا جانا جو کہ فعل و ظہور ہے تو اس کا تعلق کسی امر خارج کے ساتھ ہے یا یہ بھی مادے کی طرح ہے؟ انہوں نے کہا کہ بھئی بات یہ ہے کہ یہ اثرات تو مادے ہی کے ہیں لیکن ان کا ظہور کسی سے متعلق نہیں بلکہ وہ ایک امر اتفاقی ہے۔ جیسا کہ قضیہ اتفاقیہ ہوتا ہے یعنی اتفاق سے ایک مادہ سورج بن گیا، اتفاق سے ایک مادہ چاند بن گیا، اتفاق سے مادے کے کچھ اجزاء جو تھے انہوں نے درخت کی شکل اختیار کر لی۔ تو یہ تو بالکل قضیہ اتفاقیہ ہے کہ کچھ اجزاء جو مادے کے تھے وہ اونٹ بن گئے اور کچھ گھوڑے بن گئے اور کچھ گدھے بن گے، کچھ بکریاں بن گئیں اور کچھ انسان بن گئے۔ یہ تو محض ایک اتفاقی بات ہے۔ یہ نہیں کہ اس کا تعلق کسی خارجی حقیقت کے ساتھ ہو۔ رہا یہ کہ ان کا اس نوعیت کے ساتھ ظاہر ہونا۔ تو اس ظاہر ہونے میں کسی ظاہر کرنے والے کا کوئی دخل نہیں ہے، بلکہ یہ قضیہ اتفاقیہ ہے۔ جیسے اتفاق ہو گیا کہ آپ یہاں بیٹھے ہیں اور میں آیا، میں نے آپ کو دیکھ لیا۔ آپ نے مجھ کو دیکھ لیا۔ میں نے کچھ کہا۔ آپ نے میری باتیں سن لیں۔ گویا قضیۂ اتفاقیہ ہے۔ یہ ہے ان مادہ پرستوں کا نظریہ۔ اب میں اس نظریہ کو توڑتا ہوں ایک دلیل سے اور اپنے عزیز طلباء کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔
دیکھئے صاحب، جو چیز محض اتفاقی ہو، اس کا کیا حال ہوتا ہے؟ اور اس نظامِ عالم کا کیا حال ہے؟ ذرا دونوں کے حال پر ایک نظر ڈالیئے تو آپ دیکھیں گے کہ ۱۸۰۰۰ کائنات کا جو نظام ہے وہ اتنا منظم، اتنا مربوط اور مستحکم ہے کہ ایک کی کڑی دوسرے کی کڑی سے جدا نہیں کی جا سکتی۔ چاند، سورج، ہوا، آگ اور پانی یہ عناصر و جواہر ہیں۔ اسی طرح دیگر جتنے بھی اجزائے عالم ہیں ان کا باہمی کتنا ربط ہے، کیسا عظیم ربط ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر ہوا نہ ہو تو ہم سانس نہیں لے سکتے۔ اگر حرارت نہ ہو تو ہمارے اندر حیات کا کوئی اثر باقی نہیں رہ سکتا۔ پانی نہ ہو تو ہماری حیات باقی نہیں رہ سکتی۔ زمین نہ ہو تو ٹھہریں گے کہاں؟ اور چاند سورج نہ ہوں تو ان کی طرف سے جو اثرات و خواص نباتات و جمادات پر مرتب ہوتے ہیں وہ مرتب کہاں ہوں گے؟ درختوں، پھلوں اور غلوں کی مختلف لذتیں اور گوناگوں مزے اور پھر ہر چیز کا مختلف رنگ اور مختلف حالت۔ یہ سب کیا ہیں؟ یہ سب چاند اور سورج کی گردشوں کے اثرات ہیں، جن سے یہ چیزیں رونما ہوتی ہیں، کھیتیاں پکتی ہیں، پھل پکتے ہیں۔ کہیں حیوانات ہیں، کہیں درخت ہیں، کہیں پانی ہے، کہیں آگ ہے، کہیں ہوا ہے، کوئی نظامِ ارضی ہے، کوئی نظامِ سماوی ہے۔ اسی طرح اگر ہم اپنے وجودپر بھی نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ سر سے لے کر پاؤں تک اتنا ربط ہے کہ اللہ اکبر! ہمارے بالوں کا رابطہ ہماری کھال کے ساتھ ہے۔کھال کا رابطہ ہمارے گوشت کے ساتھ ہے اور گوشت کا ربط ہماری استخوان کے ساتھ ہے اور پھر ایک ایک رگ کا تعلق نیچے سے لے کر اوپر تک کہاں کہاں جاتا ہے۔ اگر ہماری انگلیوں کے جوڑ نہ ہوں تو نہ ہم کھول سکتے اور نہ بند کر سکتے۔ اگر یونہی ایک سیدھی سی ہڈی رکھ دی جاتی تو پھر یہ انگلیاں سیدھی ہی کھڑی رہتیں۔ اگر ہماری پشت کے اندر مہرے نہ رکھے جاتے تو اٹھنا بیٹھنا ممکن نہ تھا۔ جسم ایک تختے کی طرح رہ جاتا جسے چاہو تو کھڑا کر دو چاہو تو لٹا دو۔ ہمارے گھٹنے کے جوڑ اس نوعیت کے ساتھ پیدا کئے گئے ہیں کہ ہم ان کو سکیڑنا چاہیں تو سکیڑ سکتے ہیں، موڑنا چاہیں تو موڑ سکتے ہیں، سیدھا کرنا چاہیں تو سیدھا کر سکتے ہیں۔ ہماری آنکھیں، ہمارے کان، ہماری زبان، ہمارے دانت سب اپنی اپنی مخصوص جگہوں پر لگے ہوئے ہیں، اب بتائیے کہ یہ دانت جو اللہ تعالیٰ نے منہ میں پیدا کئے ہیں، اگر سر کے اوپر پیدا کر دیتا! بھئی یہ بھی تو قضیہ اتفاقیہ ہے نا! اتفاق سے کسی کے دانت سر پر ہی ہو جاتے تو کون سی بات تھی؟ لیکن دیکھئے کہ ہمارے دانت اس مقام پر ہیں جہاں ہونا چاہئیں تھے۔ کسی کی زبان آپ کان کی جگہ نہیں دیکھیں گے۔ کسی کے کان آپ آنکھ کی جگہ نہیں دیکھیں گے۔ کسی کی آنکھ آپ پاؤں کی جگہ نہیں دیکھیں گے۔ کسی کا پاؤں سر پر نہیں دیکھیں گے۔ کسی کا ہاتھ آپ پیٹھ پر نہیں دیکھیں گے۔ یہ بات کیا ہے؟ ہمارے وجود کا جو نظام ہے، اتنا منظم ہے، اتنا مربوط ہے اور اتنا مستحکم ہے کہ ایک کا تعلق دوسرے سے ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ کار ہی نہیں ہے۔

نظامِ کائنات

لیکن میرے دوستو!
اگر اس تمام نظام کو ہم قضیہ اتفاقیہ قرار دے دیں تو خوب سمجھ لیجئے کہ جو عمل اتفاقاً ہو جائے اس کے اندر نظم و ضبط نہیں ہوا کرتا۔ یہ ارتباط اس بات کی دلیل ہے کہ کسی ارتباط پیدا کرنے والے نے ارتباط پیدا کیا ہے۔ کسی نظام قائم کرنے والے نے نظام قائم کیا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب آپ بازار میں چلتے ہیں تو آپ کس انداز سے چلتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کی رفتار غلط نہ ہو، آپ کا قدم زیادہ آگے نہ بڑھ جائے۔ آپ چھوٹا قدم نہ اٹھائیں، اتنی تیزی سے نہ بھاگیں کہ لوگ دیکھ کر آپ پر ہنسنے لگیں اور نہ اتنے آہستہ چلیں کہ لوگ سمجھیں کہ شاید زمین پر چپکے ہوئے ہیں تو آپ اتنا آہستہ نہیں چلتے، اتنا تیز نہیں چلتے، قدم آپ کا نہایت ہموار ہوتا ہے اور آپ کے جسم کی حرکات بالکل معتدل ہوتی ہیں اور آپ کے جسم کے تمام اعضاء بالکل اعتدال کے ساتھ متحرک ہوتے ہیں۔ آپ تو بڑے نظم کے ساتھ چل رہے تھے، لیکن اتفاقاً اگر چلتے چلتے اندھیرے میں کہیں کیچڑ آ گئی اور آپ کو پتہ نہ چلا یا اتفاق سے کہیں کیلے کے چھلکے پر پاؤں پڑ گیا اور دھڑام سے آپ گرے تو ایمان سے کہنا کہ آپ کا گرنا اتفاقی ہے یا نہیں! اب اس گرنے کو قضیہ اتفاقیہ کہئیے اور اس نظم و ضبط کے ساتھ چلنے کو آپ مربوط نظام کے تحت لایئے۔ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب آپ گریں گے تو گرنا تو اتفاقی ہے نا۔ لیکن گرنے میں کیا وہ نظم و ضبط باقی رہے گا؟ بتایئے! اگر اس منظم کائنات کو اتفاقیہ مان لیا جائے تو پھر گرنے میں نظم و ضبط ہونا چاہئیے۔ کیونکہ کائنات کا نظم و ضبط تو ہمارے سامنے ہے۔ اس لحاظ سے گرتے وقت آپ خوب سنبھل کر گریں کہ پاؤں جہاں ہونے چاہئیں، وہیں ہوں، ہاتھ بالکل غیر محل پر نہ ہوں اورپاؤں بالکل نا مناسب جگہ پر نہ ہوں اور سر کہیں ایسی نا مناسب جگہ پر نہ ہو، جہاں سر کی توہین ہو جائے۔ لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ سر جہاں پڑ گیا پڑ گیا، ہاتھ جہاں گر گئے، گر گئے اور پاؤں جہاں پڑے گئے پڑ گئے، کوئی اس کے اندر نظم و ضبط نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ جو قضیہ اتفاقیہ ہوتا ہے، اس میں نظم و ضبط نہیں ہوا کرتا۔ چونکہ ساری کائنات میں نظم و ضبط ہے، اس لئے پتہ چلا کہ جہاں نظم و ضبط نہ ہو وہ اتفاقی بات ہوتی ہے اور جہاں نظم و ضبط ہو وہ کسی پیدا کرنے والی کی پیدائش پر ہوا کرتی ہے اور کسی ضبط قائم کرنے والے کی انضباط پر ہوا کرتی ہے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ کائنات کے ذرے ذرے کو دیکھو اورنظام قائم کرنے والے کی دلیل قائم کر کے اس ہستی کو پہچانو۔ کائنات کا ہر نظام دعویٰ ہے اور نظم اس کی دلیل ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ مادے کے اندر خواص ہوتے ہیں۔ پانی جو ہے وہ بارد، راطب ہے۔ آگ جو ہے وہ حار، یابس ہے۔ حار کے معنی ہیں گرم اور یابس کے معنی ہیں خشک، بارد کے معنی ہیں ٹھنڈا اور راطب کے معنی ہیں تر۔ آگ اور پانی دونوں متضاد ہیں۔ ایک خشک ہے دوسرا تر ہے۔ ایک گرم ہے، دوسرا سرد ہے لیکن یہ دونوں طرح کے اثرات مادہ اپنے گھر سے نہیں لایا۔ آگ کو حرارت دینے والا وہ خدا ہے جس نے اپنے ابراہیم ں کے لئے فرما دیا
یَا نَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلَامًا عَلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ
کیونکہ حرارت میں نے دی ہے، اس لئے جب چاہوں گا، حرارت رکھوں گا، جب چاہوں گا سلب کر لوں گا۔ پانی کے اندر جو خواص رکھے ہیں، میں نے رکھے ہیں۔ پانی کا کام ہے سیال ہونا۔ لیکن میں جب چاہوں گا، کہہ دوں گا کہ اے نیل! ٹھہر جا میرے کلیم گزرنے والے ہیں۔ پانی کا سیلاب، پانی کی سیالی، پانی کا بہنا، یہ میری دی ہوئی صفت ہے۔ یہ نہیں کہ وہ مادے کا اپنا ذاتی خاصہ ہے بلکہ میری پیدا کی ہوئی ہے تو جو چیز میری پیدا کی ہوئی ہے، وہ پیدا کرنے سے پہلے بھی میری قدرت میں تھی اور پیدا کرنے کے بعد بھی میری قدرت میں ہے۔ میں چاہوں تو اس کو باقی رکھوں اور چاہوں تو فنا کر ڈالوں۔
یہ ہے وہ بنیادی نکتہ جس پر سارے علم کا دار و مدار ہے۔ اس لئے میں کہوں گا کہ سائنس کا علم غیر اسلامی نہیں ہے۔ آپ دنیا کے کسی علم کو لے لیں، وہ ریاضیات سے متعلق ہو یا ارضیات سے، فلکیات سے متعلق ہو یا وہ علم حقائق کائنات سے متعلق ہو۔ وہ علم اثرات و خواصِ اشیاء سے متعلق ہو یا کائنات کا کوئی بھی علم ہو، میں کہتا ہوں کہ ہر علم اسلامی ہے۔ مگر اسلامی جب ہو گا کہ جب ہر چیز کو جان کر اور ہر علم کو حاصل کر کے خدا کا علم حاصل کیا جائے۔ آپ سائنس پڑھیں یا ریاضی، آپ جغرافیہ پڑھیں یا تاریخ، ان تمام علوم کا جو مرکز و محور ہو تو وہ خدا کی معرفت ہو اور خدا کی ذات پر یقین ہو۔ یہ ایک بنیادی بات ہے۔ اگر آپ نے اپنی اسلامی تعلیمات کے محور کو چھوڑ دیا تو آپ کے ذہن کو آوارہ کر دیا جائے گا۔
اسلامی تعلیمات کا مقصد صرف یہی نہیں کہ آپ قرآن کے ترجمہ کے سوا کچھ نہ پڑھیں۔ آپ قرآن کا ترجمہ بھی پڑھیں اور جن چیزوں کا ذکر آپ نے قرآن میں پڑھا، ان کی حقیقتوں کو جاننے کے لئے آپ جدید علوم کی طرف بھی توجہ کریں۔ قرآن نے کہا
وَالسَّمَآئِ وَالطَّارِقِ
تو تم آسمان کی حقیقتوں کو جاننے کے لئے جیسی بھی جدو جہد کرو گے وہ بھی اسلامی اور قرآنی علم قرار پائے گا۔ آسمان سے رات کو آنے والے جو لطیف اثرات ہیں، جو زمین کے کُرّہ میں پیوست ہوتے ہیں اور پھر اس سے معدنیات کا ظہور ہوتا ہے۔ کہیں نباتات کا ظہور ہوتا ہے۔ کہیں سنکھیا پیدا ہو رہی ہے۔ کہیں تریاق پیدا ہو رہا ہے۔ کہیں لوہا پیدا ہو رہا ہے اور کہیں کوئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ اسی زمین میں لوہے کی کانیں ہیں۔ کہیں سونے کی کانیں ہیں۔ کہیں چاندی کی کانیں ہیں۔ کہیں سے پٹرول نکل رہا ہے۔ یہ جتنی چیزیں ہیں، یہ سب
والسَّمَآئِ وَالطَّارِقِ کے اندر مذکور ہیں۔ تو جب آپ قرآن کے لفظ و معنی دونوں کو پڑھیں تو پھر جو کچھ آپ نے قرآن میں پڑھا، اس کی ماہیت کو پہچاننے کے لئے آپ علوم جدیدہ کو اختیار کریں۔ آپ کا ہر علم اسلامی قرار پائے گا۔ جب تک آپ کا مرکز قرآن ہو گا۔ عزیز طلبا! آپ کا ایک بہت بڑا مقام ہے۔ آپ کو چاہیے کہ خود اپنے ذہن کو علم کے نور سے روشن کریں اور اس روشنی سے قوم کے ذہن کو روشن کریں۔ قوم کا بہترین سرمایہ تم ہو۔ آج اگر ہمارے عزیز طلبا کے اندر کچھ کوتاہیاں ہیں تو یہ صرف میرے عزیز طلبا کا قصور نہیں اور نہ والدین کا قصور ہے، یہ اس گہوارے کا قصور ہے جس گہوارے کے اندر ہمارے طلباء کو تربیت دی گئی ہے۔ کیونکہ گہوارے کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ ہماری قوم کی ماؤں اور بہنوں کی گود میں امام ابو حنیفہ جیسے لعل کھیلا کرتے تھے۔ ایک وہ دور تھا کہ ہماری قوم کی ماؤں اور بہنوں کی گود میں امام غزالی جیسے بچے پیدا ہوتے ہیں، غزالی، رازی، بو علی سینا، بڑے بڑے فلسفی اور حکماء، بڑے بڑے علماء، صوفیاء، زہاد، عباد اور محدثین و مفسرین، یہ سب ہماری قوم کی ماؤں کی گودوں میں تربیت پانے والے ہوئے۔ تصوف کی طرف آیئے۔ حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کیسی مقدس ہستی ہیں۔ اسی قوم کی ماؤں اور بیٹیوں نے ایسے بچوں کو جنم دیا اور اپنی مبارک آغوش میں پالا اور اپنی تربیت سے ان کے ذہنوں کو روشن کیا۔
عزیزانِ گرامی!
یاد رکھئے کہ ہماری تربیت کا جو گہوارہ ہے وہ بھی بڑا غلط ہے۔ گہوارے کے اثرات کے متعلق مجھے ایک تاریخی واقعہ یاد آیا۔ حضرت عمر فاروق کی خلافت کا زمانہ ہے۔ عیسائی سلطنت روم کو فتح کرنے کے بعد مجاہدین نے روم کی گوری چٹی عیسائی عورتوں سے نکاح کرنا چاہا۔ امیرِ لشکر کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں تم کو اجازت نہیں دوں گا۔ حالانکہ قرآن کی رو سے جائز ہے۔ لیکن بہت سی جائز چیزیں بعض اوقات مضر ہو جاتی ہیں۔ مثلاً انار کھانا کوئی حرام نہیں، جائز ہے لیکن ایک شخص ایسے مرض میں مبتلا ہے کہ انار کھائے تو اس کو بہت نقصان پہنچے گا۔ اس لئے ڈاکٹر منع کرے گا کہ انار مت کھانا۔ حالانکہ وہ جائز ہے۔ اسی طرح بیشک عیسائی عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ مگر بعض حالات ایسے ہوتے ہیں، بعض ماحول ایسے ہوتے ہیں کہ جائز چیز اس میں مضر ہو جاتی ہے۔ تو امیر لشکر نے کہا کہ میں تم کو اجازت نہیں دوں گا۔ جب تک امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب سے مشورہ نہ لے لوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا گیا تو آپ نے جواب دیا۔ کیا پیارے الفاظ ہیں۔ فاروقِ اعظم آپ پر خدا کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں۔ فاروقِ اعظم نے فرمایا کہ خدا کی قسم! عمر خدا کے حلال کو حرام نہیں کر سکتا اور خدا کے حرام کو حلال نہیں کر سکتا جو اللہ نے حلال کیا، اللہ کے رسول نے حلال کیا حلال ہے لیکن اے میرے عرب کے مجاہدو اور بہادرو! میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ تم روم کی گوری چٹی عیسائی عورتوں سے نکاح نہ کرو، اس لئے کہ اگر تم نے ان سے نکاح کیا تو ہو گا یہ کہ بچے تمہارے ہوں گے اور ان کی گودوں میں پلیں گے۔ فاروقِ اعظم نے فرمایا کہ تم ایسا نہ کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمہارے بچے جب روم کی عورتوں کی آغوش میں تربیت پائیں گے تو مجھے خطرہ ہے کہ کہیں عرب کی تہذیب روم میں گم نہ ہو جائے۔
اس واقعہ سے یہ بتانا مقصود تھا کہ تربیت کے ماحول کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ ہمارے عزیز طلباء کے اندر بڑی اچھی اچھی صلاحیتیں ہیں اور اگر یہ صلاحیتیں نہ ہوتیں تو وہ طلبِ علم کے میدان میں کیسے آتے، ان کا طلبِ علم کے میدان میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے اندر بڑی بڑی عظیم صلاحیتیں موجود ہیں۔ اب اس کے باوجود بھی اگر کچھ کوتاہیاں پائی جاتی ہیں تو ان سب کو طلبا کے سر نہ تھوپا جائے بلکہ ان کو یہ بتایا جائے کہ جس آغوش میں یہ پل کر آئے ہیں، اس آغوش میں کچھ خامیاں ہیں۔ ہماری قوم کے وہ ماں باپ جن کی گود میں پل کر یہ بچے طالبِ علمی کی صف میں آئیں ان کا کردار ایسا پیارا ہو، ان کی آغوش اتنی پاک ہو کہ اس آغوش میں پلے ہوئے بچے آگے چل کر قوم کی کایا پلٹ دیں۔
عزیز طلبا!
اگر تمہارا ذہن گمراہ ہو گیا تو یقین کرو کہ ساری قوم گمراہ ہو جائے گی۔ اگر تمہارا دماغ روشن نہ ہوا تو قوم کا دماغ روشن نہیں ہو سکتا۔ اگر تمہارا کردار غلط ہوا تو قوم کا کردار صحیح نہیں ہو سکتا۔ قوم کے کردار کو تم نے بچانا ہے۔ قوم کے دماغ کو تم نے روشن کرنا ہے، ملک کا مستقبل تمہارے دامن سے بندھا ہوا ہے۔ تمہاری قوم کی فلاح، تمہاری قوم کی نجات، تمہاری قوم کی ذہنی نشو ونما اور تمہاری قوم کے تمام ذہنی ارتقاء کا دار ومدار تمہارے اپنے ذہنی ارتقاء پر ہے۔ قوم کے کردار کا مدار تمہارے اپنے کردار پر ہے۔ اس لئے تمہارا ذہن روشن ہونا چاہئے اور تمہارا کردار بلند ہونا چاہئے۔ تم اپنی اس روشن دماغی اور خوش کرداری کے ساتھ اپنی قوم کی وہ بہترین خدمت انجام دے سکتے ہو کہ جو خدمت معاشرے میں کوئی دوسرا گروہ انجام نہیں دے سکتا، تم اپنے ملک کی فلاح کے لئے، اپنی ملت کی فلاح کے لئے، اپنی قوم کی فلاح کے لئے وہ سب کچھ کر سکتے ہو جو تمہارے سوا کوئی اور گروہ نہیں کر سکتا۔
یہ مختصر سا میرا خطاب تھا، میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ خدا میرے عزیز طلبا کو اس کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنے ذہنوں کو روشن کریں اور اپنے کردار کو بہتر بنائیں۔
 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج