اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَکی تشریح

بمقام: مدینہ منورہ

الحمد للّٰہ وکفٰی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی اما بعد فاعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ o اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَo فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْo اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْاَبْتَرُo صدق اللّٰہ مولانا العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم الامین و نحن علٰی ذالک لمن الشاہدین والشاکرین۔ اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد وعلٰی اٰل سیدنا محمد وبارک وسلم
 

۱۔ ادب حرم نبوی
محترم حضرات!
ہم سب حرم نبوی کے سامنے بیٹھے ہیں۔ مبارک وقت ہے یہ وہ بارگاہِ اقدس ہے، جہاں فرشتے آسمان سے آ کر سلام پیش کرتے ہیں۔ یہ وہ زمین ہے، جس کا مقام آسمانوں سے بلند ہے۔ وہ خوش نصیب ہیں جو دیارِ حرم کی تعظیم و تکریم بجا لاتے ہیں اور وہ لوگ محروم القسمت ہیں جو اس نعمت عظمیٰ سے غافل ہیں۔
نہایت ادب کا مقام ہے ادب کہتا ہے خاموش رہوں محبت کہتی ہے کہ کچھ کہوں۔ عجیب کش مکش ہے۔ اے مدینے والو! میرے لئے دعا کرنا میرا خاتمہ ایمان پر ہو جائے اور اے اللہ! کچھ باقی رہے نہ رہے میری یہ نسبتیں ہمیشہ باقی رہیں۔ (آمین)
 

۲۔ لفظاِنَّاصرف و نحو کی رو سے
محترم حضرات!
میں نے قرآن پاک کی چھوٹی سی سورۃ
اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ پڑھی۔ وقت میں اتنی گنجائش نہیں کہ لفظ اِنَّا پر کلام کر سکوں۔ اِنَّا ایک ایسی ضمیر ہے۔ جو متکلم مع الغیر کے لئے وضع کی گئی ہے۔ جس میں جمعیت کے معنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ جل مجدہ واحد حقیقی ہے۔ جبکہ جمع میں کثرت ہے۔ معنون واحد حقیقی (اللہ تعالیٰ) اور تعبیر اور عنوان جمع ہے۔ معنون واحد ہے تو عنوان بھی واحد ہونا چاہئے تھا۔ اس کی وحدت اور وحدانیت کی شان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ عنوان بھی وحدت پر دلالت کرے۔ لیکن جمع کے صیغے کے ساتھ ارشاد ہوتاہے۔ اِنَّا اے محبوب ہم! کیا مطلب؟ میری ذات میرے تمام صفات، تمام اسماء، تمام افعال جو حقائق کائنات کا مبداء ہیں، کی تمام برکات کو تیرے دامن اقدس میں رکھ دیا۔ اس میں ذات بھی آگئی اور تمام صفات بھی، اس میں تمام اسماء بھی آگئے اور تمام افعال بھی، اللہ جل مجدہ اپنے حبیب کو اِنَّاکے صیغے کے ساتھ اپنی عطائے عظیم کا ذکر کہ اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ نہ کہ اِنِّیْ اَعْطَیْتُ فرمایا۔ تو پتہ چلا کہ عطا بڑی عظیم اور معظم ہے۔ کیونکہ عنوان کی تعظیم معنوں کی تعظیم و تکریم پر دلالت کرتی ہے۔ کیا مقصد؟ میرے محبوب! اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ یہ عطا بڑی کثیر ہے۔ اور کوثر کے کیا معنی ہیں؟
محترم حضرات !
سید المفسرین سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ نعہ جو نمازتہجد کے وقت زبان رسالت کے ان کلمات طیبات
اللھم علمہ الکتاب۔ اللھم فقہہ فی الدین کے مصداق تھے، (۱) سے کسی نے کوثر کے معنی پوچھے تو آپ نے فرمایا۔ الکوثرالخیر الکثیر کوثر تو خیر کثیر ہے تو پھر کسی نے کہا کوثر تو جنت میں ایک حوض کا نام ہے۔ تو فرمایا ہو من الخیر الکثیر وہ بھی تو خیر کثیر میں شامل ہے۔ تو وہ کون سی خیر ہے جو اس کے عموم سے باہر چلی جائے گی۔
محترم حضرات!
ابو جہل کا بیٹا حضرت عکرمہ اور حضرت امام مجاہد جو سیدالمفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے تلمیذ رشید ہیں کا قول میں نے تفسیر ابن جریر میں پڑھا کہ حضرت عکرمہ اور امام مجاہد ث تفسیر ابن جریر میںفرماتے ہیں
الکوثر الخیر الکثیر کوثر خیر کثیر ہے اور خیر کثیر کیا ہے؟ الخیر کلہ۔ خیر الدنیا والآخرۃ تو پتہ چلا، اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کی کوئی خیر کثیر باقی نہیں چھوڑی جو مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کے دامن میں نہ رکھ دی ہو۔ اے حبیب ()! ہم نے آپ کو کوثر عطا فرما کر سب کچھ دے دیا۔ دنیا میں جو چیز خیر ہو سکتی ہے، مال کے اعتبار سے، حال کے اعتبار سے، کسی اعتبار سے، وہ سب نعمتیں خیرِ کثیر میں شامل ہیں۔ زمین و آسمان کی تمام بھلائیاں اور دنیا اور عقبیٰ کی تمام نعمتیں، تمام عالمِ امکان اور صانع وجود کے سب جلوے اور حسن الوہیت کے تمام جلوے اللہ نے اپنے حبیب کے دامن میں رکھ دیئے۔
 

۳۔ ایک شبہ کا ازالہ
اس کے بعد اگر کوئی آپ کے دماغ کو خراب کرنے کے لئے یہ کہے کہ خدا نے تو یہ فرمایا ہے
قُلْ لَّا اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَلَا اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَا اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ (پ۷ الانعام آیت ۵۰)
آپ فرمائیں (اے مشرکو!) میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں خود غیب جانتا ہوں اور نہ تمہیں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔
تو پتہ چلا حضور کے پاس کوئی خزانہ نہیں، علم غیب بھی حضور میں نہیں۔ ملکوتیت بھی حضور میں نہیں۔ تو آپ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب خیر حضور کے دامن میں رکھ دی۔ یہ کیا بات ہوئی؟ کیا خزانے علم غیب اور ملکوتیت خیر میں شامل نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بات مانیں یا آپ کی بات مانیں؟
 

۴۔ قرآن و حدیث میں اختلاف نہیں
میں حیران ہوں کہ لوگوں کا ذہن کیسا ہے؟ خدا رسول کو لڑاتے ہیں۔ قرآن کو قرآن سے ٹکراتے ہیں۔ حدیث کو حدیث سے ٹکراتے ہیں اور حدیث کو قرآن سے ٹکراتے ہیں۔ لیکن واللّٰہ باللّٰہ ثم تا اللّٰہ نہ خدا اور رسول ٹکراتے ہیں، نہ قرآن، قرآن سے ٹکراتا ہے۔ نہ حدیث، حدیث سے ٹکراتی ہے۔ نہ قرآن حدیث سے ٹکراتا ہے۔
لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلاَ فًا کَثِیْرًا (النساء: آیت ۸۲)
قرآن اللہ کا کلام ہے اور حدیث خدا کے رسول کی ہے۔ حدیث بھی وحی الٰہی ہے اور قرآن بھی وحی الٰہی ہے۔ مگر فرق اتنا ہے کہ حدیث وحی غیر متلو ہے اور قرآن وحی متلو ہے۔ اس میں کوئی تعارض نہیں ہے اور نہ کوئی تضاد۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اختلاف ہے تو ہماری عقل کے اندر ہے۔ اب لوگوں کے ذہن میں اس اختلاف کا تصور قائم ہو گیا تو ذرا اس کو ہٹا دوں۔
محترم عزیزو!
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کہہ دو کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کا کوئی خزانہ نہیں بلکہ فرمایا
قل ان کو کہہ دے؟ ایمان والوں کو نہیں۔ اپنے غلاموں سے نہیں، امت اجابت سے نہیں، ان کو کہہ دے جو تیرے دشمن ہیں۔ جو تیرے دامن میں کوئی خزانہ نہیں مانتے جو تیری نبوت اور رسالت کے قائل نہیں۔ ان کو کہہ دے! میں تم سے نہیں کہہ رہا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔
 

۵۔ ایک شبہ کا ازالہ
آپ سے میں ایک بات عرض کرتا ہوں۔ اگر اس آیت کا یہ مطلب ہوتا کہ یہ کہہ دو۔ میرے پاس اللہ کا کوئی خزانہ نہیں ہے تو حضور خدا کے حکم کی تعمیل میں ضرور یہ کہتے کہ میرے پاس خدا کا کوئی خزانہ نہیں ہے کیونکہ خدا کے حکم کی تعمیل نبی نہیں کرے گا تو اور کون کرے گا؟ اس لئے خدا نے جب حکم دیا
اَقِمِ الصَّـلٰوۃَ تو حضور نے اقامت صلٰوۃ فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، قُلْ ہُوَ اللّٰہُ کہہ اللہ ایک ہے۔ تو جس بات کا اللہ نے کہنے کا حکم دیا حضور نے پورا کیا۔ اگر مذکورہ آیت کا یہ مطلب ہوتا کہ میرے پاس اللہ کا کوئی خزانہ نہیں تو حضور ضرور فرما دیتے کہ لوگو! سن لو! میرا دامن بالکل خالی ہے۔ میرے پاس اللہ کا کوئی خزانہ نہیں۔ مگر اللہ کی قسم! میرے آقانے یہ نہیں فرمایا بلکہ میرے آقا نے فرمایا
اعطیت مفاتیح خزائن الارض
اللہ تعالیٰ نے تمام خزانے کی چابیاں مجھے عطا فرما دیں۔ (۱)
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محبوب! ان سے کہہ دو! میرے پاس کوئی خزانہ نہیں ہے اور سرکار فرماتے ہیں، تمام خزانوں کی کنجیاں مجھے عطا فرما دی گئیں۔ اور کنجی کے معنی اختیار کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اختیارات اپنے حبیب کو عطا فرمادئیے۔ حضور جس کو جو چاہیں جب چاہیں عطا فرمائیں اور جس کو چاہیں نہ دیں۔ تو پتہ چلا یہ ان لوگوں سے کہنے کی نفی ہے جو اس کے اہل نہیں۔ خزانے کے ہونے کی نفی نہیں ہے اور ہر بات اس سے کہی جاتی ہے جس کا وہ اہل ہوتا ہے۔ ہر بات ہر کسی سے نہیں کہی جاتی یعنی جس بات کا باپ اہل ہوتا ہے وہی بات باپ سے کہی جاتی ہے جس بات کا بیٹا اہل ہوتا ہے وہی بات بیٹے سے کہی جاتی ہے، جس بات کی اہل بیوی ہوتی ہے وہی بات بیوی سے کہی جاتی ہے۔ حاکم کے شان کے لائق بات حاکم سے کہی جاتی ہے اور جس بات کا دوست اہل ہوتا ہے وہی بات دوست سے کہی جاتی ہے اور جس بات کا دشمن اہل ہوتا ہے وہی بات دشمن سے کہی جاتی ہے۔
پیارے حبیب! جب کافر، منافق اور مشرک سامنے آئیں تو ان سے کہہ دے کہ میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور جب ابو بکر و عمر اور عثمان و علی سامنے ہیں تو ان سے فرما دے
اعطیت مفاتیح خزائن الارض خزانے تو خزانے، کنجیا ں بھی مجھے دے دی گئیں۔ یہ بات کافر، منافق اور مشرک سے اس لئے نہیں کہی گئی کہ وہ اس کے مستحق نہیں۔ وہ چور ہیں اور چوروں کو خزانے بتائے نہیں جاتے۔ خزانے تو دوستوں کو بتائے جاتے ہیں۔ تو پتہ چلا الجھاؤ ہمارے ذہنوں میں ہے۔ حدیث اور قرآن میں تو ٹکراؤ نہیں ہے۔ اگر اس کے معنی یہی لئے جائیں کہ واقعی حضور پاک کے پاس خزانے نہیں ہیں اور حضور فرمائیں، میرے پاس تمام خزانوں کی کنجیاں ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی بات پر عمل تو نہ ہوا بلکہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی۔ تو جو رسول، اللہ کی نافرمانی کرے، کیا وہ رسول ہو سکتا ہے؟ ہرگز رسول نہیں ہو سکتا۔ تو صد افسوس ہے ایسی فہم اور عقل پر، اور ایسی فکر اور نظر پر
محترم حضرات! ہمارا تو ایمان ہے کہ
اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ
پیارے حبیب! ہم نے ساری خیر کثیر تیرے دامن میں رکھ کر ساری کائنات کو تیرا در دکھا کر، یہ اعلان فرما دیا
وَمَا اَتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا
اور رسول جو کچھ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں رک جاؤ۔
اس لئے میرے آقا نے فرمایا
واللّٰہ یعطی وانا قاسم (۲)
اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور میں بانٹتا ہوں۔
 

۶۔ اللہ یعطی واناقاسم صرف و نحو کی رو سے
یعطی فعل ہے اور قاسم صیغہ اسم فاعل۔ اسم فاعل اور اسم مفعول یہ سب شبہ فعل ہوتے ہیں۔ یعطی فعل ہے اور قاسم شبہ فعل اور قاعدہ ہے کہ کبھی شبہ فعل کا مفعول حذف کیا جاتا ہے فصاحت و بلاغت کی کتابوں جیسے مختصر المعانی بیان کی شرحیں آپ پڑھیں تو فعل و شبہ فعل کے مفعول کو حذف کرنے کی وجوہات کا پتہ چل جائے گا۔ کبھی فعل اور شبہ فعل کے مفعول کو اس لئے حذف کیا جاتا ہے کہ مفعول عام ہو جائے اور کبھی فعل اور شبہ فعل کے عموم کو ثابت کرنے کے لئے مفعول کو حذف کیا جاتا ہے۔
حضور نے فرمایا،
واللّٰہ یعطی اللہ دیتا ہے۔ اللہ کیا دیتا ہے؟ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یعطی کا مفعول ذکر نہیں کیا کہ اللہ کیا دیتا ہے؟ کیونکہ اللہ ہر چیز دیتا ہے۔ کس کس چیز کا ذکر کیا جائے۔ لہٰذا ان چیزوں کا ذکر نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ دیتاہے وہ عام ہے۔ کبھی مفعول کے عام ہونے پر دلالت کرنے کے لئے مفعول کو حذف کر دیا جاتا ہے۔ جس طرح یعطی کا مفعول عام ہے اور اسی طرح وانا قاسم کا مفعول بھی عام ہے یعنی اللہ تعالیٰ سب کچھ دیتا ہے اور میں سب کچھ بانٹتا ہوں۔ نہ اللہ تعالیٰ کے دینے میں کمی ہے اور نہ میرے تقسیم کرنے میں کوئی کمی ہے۔ اس کی عطا بھی عام ہے، میری تقسیم بھی عام ہے۔ وہ دنیا بھی دیتا ہے، میں دنیا بھی بانٹتا ہوں۔ وہ دین بھی دیتا ہے، میں دین بھی تقسیم کرتا ہوں۔ علم، اولاد، ایمان غرض یہ کہ دین و دنیا کی ہر نعمت وہ دیتا ہے اور میں بانٹتا ہوں۔
 

ایک سوال
سوال: اسی دوران سامعین میں سے کسی نے سوال کیا کہ یہ بات
واللّٰہ یعطی وانا قاسم تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کی حیات دنیاوی کے ساتھ خاص تھی۔
جواب: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جو شخص حضور کی حیات کو نہ مانتا ہو، کیا وہ مومن بھی ہے؟ کیونکہ
یعطی میں استمرار ہے اور استمرار میں دوام کے معنی ہیں۔ جب حیات ختم ہو گئی تو عطا میں دوام کیسے ہوا؟ معلوم ہوا نہ حیات ختم ہوئی اور نہ عطا۔ عطا مستمر ہے تو حیات بھی، اگر عطا منقطع ہو جائے تو حیات بھی منقطع ہو گئی۔ عطا منقطع ہوتی نہیں کیونکہ عطا میں استمرار ہے۔ لہٰذا زندگی بھی منقطع نہیں ہو ئی۔ جس وقت حضور نبی کریم کی حیات کا انکار کریں گے تو عمل رسالت کا انکار کرنا پڑے گا اور عمل رسالت کا انکار ہم کر ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا
بڑی برکت والا ہے وہ جس نے فیصلہ کرنے والی کتاب اپنے (مقدس) بندے پر اتاری تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔ میرے آقا اس میں العالمین کے لئے نذیراور رسول ہیں۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ
اور ہم نے تمہیں نہیں بھیجا مگر (اے محبوب!) سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر
العالمین کے اندر دنیا بھی ہے عقبیٰ بھی۔ العالمین کے اندر عالمِ برزخ بھی ہے اور عالمِ آخرت بھی۔ العالمین کے اندر عالمِ بیداری بھی ہے اور عالمِ نوم بھی۔ الغرض زمین، آسمان، ظاہر، باطن، تمام عالمِ خلق، تمام عالمِ امر، عالمِ اجسام، عالمِ ارواح، عالمِ جواہر، عالمِ اعراض، عالمِ معانی سب کچھ العالمین کے عموم میں شامل ہیں اور میرے آقا تمام عالموں کے رسول ہیں اور رسول کے معنی ہیں پیغام پہنچانے والا۔ پیغام پہنچانا ایک عمل ہے اور عمل حیات پر دلیل ہے۔ جہاں عمل ختم ہو جاتا ہے وہاں حیات ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک کسی کی نبض چلتی رہے، دل کی حرکت قائم رہتی ہے۔ تو حیات باقی ہے کیونکہ دل کا حرکت کرنا، نبض کا چلنا یہ ایک عمل ہے۔ جب تک عمل ہے تو حیات ہے عمل نہیں تو حیات نہیں۔ لہٰذا میرے آقا ہر آن اور ہر وقت رسول ہیں۔

۸۔ ایک شبہ کا ازالہ
اگر میرے آقا ہر آن اور ہر وقت رسول نہیں ہیں تو وہ وقت بتاؤ جس وقت حضور رسول نہیں ہیں؟ جب کوئی ایسا وقت نہیں ہے کہ جس وقت عملِ رسالت نہ ہو اور جس وقت عملِ رسالت نہیں ہوگا، اس وقت حضور رسول نہیں ہوں گے اور جس وقت سرکار رسول نہیں ہوں گے، اس وقت ہم آپ کے رسول ہونے کا کلمہ کیسے پڑھ سکتے ہیں۔ اس لئے ہر وقت اس کلمہ کا ہمارے اندر ہونا ضروری ہے۔ تو پتہ چلا ہر وقت آپ کا رسول ہونا ضروری ہے اور یہ اس وقت ہو گا جب ہر وقت آپ کا عملِ رسالت جاری ہو اور عملِ رسالت تب جاری رہے گا جب حیات جاری رہے گی کیونکہ عمل بغیر حیات کے ہو نہیں سکتا۔ جہاں عمل ختم ہو گیا وہاں حیات ختم ہو گئی اور حضور کا عملِ رسالت تا قیامت جاری ہے اور جاری رہے گا۔ حضور کی سخا اور عطا کی کوئی حد نہیں، اپنے امتیوں میں اللہ کی عطا کردہ تمام نعمتوں کو بانٹ رہے ہیں۔
 

۹۔ ایک اور سوال
ایک طالبہ نے حضور کی سخا اور حاتم طائی کی سخاوت کے بارے میں ایک رقعہ لکھا اورکہا کہ اس کا جواب دیں یا نہ دیں لیکن پڑھ کر لوگوں کو ضرور سنا دیں ! رقعہ یہ تھا کہ
ایک مسلمان عالم نے عرب کی تہذیب اور تمدن کو اونچا ثابت کرنے کے لئے ایک تاریخی واقعہ سے حاتم طائی جو کہ قبیلہ بنی طی کا سردار تھا، کے حوالے سے عربی بڑے سخی اور کریم لوگ ہوتے ہیں اور حاتم طائی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے ایک مکان جس کے آٹھ دروازے تھے، بنوایا ہوا تھا اس میں مال و زر و جواہر لے کر بیٹھ جاتا اور جو کوئی جس دروازے سے آتا، مانگتا، اس کو دے دیتا خواہ سائل آٹھوں دروازوں سے لینے کے بعد پہلے دروازے پر آتا خالی نہ جاتا۔ مگر میرا سوال یہ ہے کہ آپ مسلمانوں کا مذہب یہ ہے کہ ہمارے رسول ساری دنیا کے سخیوں سے زیادہ سخی تھے اور حاتم سے بھی زیادہ سخی تھے تو آپ کسی اپنی اسلامی کتاب سے ہی اپنے رسول کی سخاوت کا واقعہ بیان کر دیں کہ حاتم طائی کی طرح مکان بنوایا ہو اور اس کے آٹھ دروازے رکھے ہوں اور اسی طرح سخاوت کی ہو۔ اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو کم از کم حاتم طائی کو زیادہ سخی مان لیں۔
میں نے یہ واقعہ لوگوں کو سنا دیا اور پھر لوگوں کو بتایا کہ سرکار کا حاتم طائی سے مقابلہ کرنا، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

چہ نسبت خاک رابا عالم پاک

میں نے کہا، میرے آقا کی سخاوت کامل تھی اور حاتم طائی کی سخاوت ناقص تھی۔ کیونکہ حاتم کے پاس جب کوئی سائل پہلے دروازے پر کچھ لیتا مطمئن نہ ہوتا تو دوسرے دروازے پر آ جاتا اور سائل ہر دفعہ ہر دروازے پر آتا اور سائل ہر دفعہ ہر دروازے پر مطمئن نہ ہوتا اور اس کی سخاوت کے ناقص ہونے پر مہر لگا دیتا کہ تیری سخاوت اب بھی ناقص ہے اور پھر میرے آقا کی شان چہ نسبت خاک را با عالم پاک کتب تاریخ و حدیث میں بے شمار حضور کے جود و سخا کے واقعات ہیں۔ ان میں سے میں آپ کو ایک مسلم شریف کی حدیث سناتا ہوں
عن ربیعۃ بن کعب الاسلمی قال کنت ابیت مع رسول اللّٰہ ا فاٰ تیہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی سل فقلت اسئلک مرافقتک فی الجنۃ قال او غیر ذالک قلت ہو ذاک قال فاعنی علی نفسک بکثرت السجود
یعنی ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے وضو کا پانی اور جس چیز کی آپ کو ضرورت ہوا کرتی تھی (مسواک مصلّٰی وغیرہ) لایا کرتا تھا۔ (ایک دفعہ دریائے رحمت جوش میں آیا) آپ نے فرمایا، اے ربیعہ مجھ سے مانگو ، کیا مانگتے ہو(جو جی میں آئے مجھ سے مانگو) میں تجھے عطا کروں گا۔ انہوں نے کہا، حضور میں آپ سے یہی مانگتا ہوں کہ بہشت میں آپ کی رفاقت نصیب ہو۔ آپ نے فرمایا کچھ اور بھی مانگتے ہو۔ حضرت ربیعہ نے کہا، بس حضور یہی مانگتا ہوں۔ آپ نے فرمایا، پس تم کثرت سجود سے میری مدد کرو۔ (۳)
حضور نے یہ نہیں فرمایا کہ کیا مانگ؟ کیا نہ مانگ؟ کیا دے سکتا ہوں؟ اور کیا نہیں دے سکتا؟ سرکار نے
سل کا مفعول ذکر نہیں فرمایا۔ جیسا یعطی کا مفعول ذکر نہیں فرمایا اور قاسم کا مفعول ذکر نہیں، سل کا مفعول ذکر نہیں ہے۔ اس لئے محدثین شارحین نے جیسا کہ شاہ عبد الحق محدث دہلوی صاحب نے اشعۃ اللمعات میں صاف صاف فرمایا کہ سرکار کا سل فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ جو مرضی آئے مانگ لے سب کچھ میرے دست کرم میں ہے کیونکہ اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ دنیا اور آخرت کی ہر خیر میرے ہاتھ میں ہے اور حضرت ربیعہ کا یہ کہنا کہ حضور! بس یہی مانگتا ہوں اور مطمئن ہو جانا سرکار کی سخاوتِ کاملہ پر دلالت کرتا ہے۔ فاعنی علٰی نفسک بکثرت السجود اے ربیعہ کثرت سجود سے میری مدد کرو۔ اے ربیعہ تجھے جنت میں میری رفاقت تو نصیب ہو گئی اب اگر تو رکوع سجود چھوڑ دے تو لوگ بھی رکوع سجود چھوڑ دیں گے۔ اس طرح میرے دین میں خلل آئے گا اور میرے دین کو نقصان پہنچے گا۔ لہٰذا سجدے کرتے رہو، نمازیں پڑھتے رہو (اعنی دینی) میرے دین کی مدد کرو کے معنے یہ ہیں کہ ان تنصروا اللّٰہ ینصرکم اگر تم (اللہ کے دین) کی مدد کرو گے (تو) وہ تمہاری مدد فرمائے گا یعنی اللہ بھی دین کی مدد طلب کر رہا ہے اور اللہ کا رسول بھی دین کی مدد طلب کر رہا ہے۔ اگر اس سے رسول کی کمزوری ثابت ہوتی ہے تو پہلے اللہ کو کمزور ثابت کرو۔ اللہ کمزوری سے پاک ہے اور رسول بھی۔

وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج