مجددمائتہ حاضرہ محدث اعظم امام احمد رضا خان بریلوی

بمقام: ملتان شریف

اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مَحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ عَلَیْہِ

قابل صد احترام حضرات علماء کرام، بزرگانِ قوم، برادرانِ اہلِ سنت!
السلام علیکم!
اگرچہ میں یہاں بڑی تکلیف سے پہنچا ہوں۔ مگر یہ عظیم اجتماع دیکھ کر میری تکالیف دور ہو گئیں۔ میں اپنے آپ کو تقریر کے قابل نہیں پاتا۔ کیونکہ گذشتہ رات سے میں نے مسلسل تین تقریریں بسلسلہ یومِ اعلیٰ حضرت کراچی میں کیں۔ آخری تقریر ساڑھے چار بجے صبح کراچی میں کی۔ بیٹی بیمار تھی۔ ساڑھے پانچ بجے تک اس کے ساتھ بیٹھا رہا۔ ساڑھے چھ بجے ائر پورٹ کراچی سے ملتان ساڑھے سات پونے آٹھ بجے پہنچا۔ ملتان آتے ہی مجھے ایک جگہ تقریر کے لئے جانا پڑا۔ میں نے ساڑھے گیارہ بجے تقریر ختم کی۔ پھر جمعہ کا وقت ہو گیا۔ جمعہ پڑھایا۔ پوری رات آنکھوں میں گزر گئی اور اسی طرح دن بھی مصروفیت سے گزرا۔ اب تقریر اور سفر کے قابل نہیں تھا۔ مگر سعد اللہ جو کہ میرے شاگرد بھی ہیں، کی محبت نے مجھے یہاں حاضر کر دیا۔
محترم حضرات!
سنّی حضرات صفر کے مہینے کے آخری ایام میں اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں پورے ملک میں یورپ کے تمام ممالک میں ایشیا کے تمام ممالک میں امریکہ، برطانیہ اور دیگر مختلف ممالک میں آپ کا عرس مناتے ہیں۔ آپ کا یومِ وصال ۲۵ صفر ۱۳۴۰ ھ ہے اور یہی عرس کا دن مقرر ہے۔
عزیزانِ محترم!
اعلیٰ حضرت کے کارناموں کا ہم احاطہ نہیں کر سکتے۔ ان کا علم، ان کی قابلیت، ان کا تقویٰ، ان کی ذہانت، کسی ایک پر بھی گفتگو کی جائے تو ختم نہ ہو۔ اعلیٰ حضرت دنیا کے تمام علوم پر حاوی تھے۔ علوم عقلیہ ہوں یا نقلیہ، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تمام علوم آپ کی بارگاہ میں دست بستہ کھڑے ہیں۔ اعلیٰ حضرت کے علوم کی کوئی انتہا نہیں۔ آپ کی کتابوں کو پڑھا جائے اور بالخصوص فتاویٰ رضویہ کو ہمارے مدارس میں پڑھا دیا جائے تو ایسے ایسے عالم نکلیں گے کہ ان کا کوئی جواب نہیں ہو گا کیونکہ خود فتاویٰ رضویہ کئی علوم کا خزینہ ہے۔
اب اعلیٰ حضرت کے کارناموں کے بارے میں بعض لوگوں نے کہا کہ آپ انگریز کے حامی تھے۔(۱) استغفر اللّٰہ! میں عرض کرتا ہوں کہ اعلیٰ حضرت نے بدمذہبوں سے چو طرفہ جنگ فرمائی ہے اور انگریزوں سے الگ جنگ فرمائی۔ جنہوں نے مسلمانوں کو اپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور سب سے پہلے انگریزوں کے خلاف فتویٰ دینے والے مولانا فضل حق خیر آبادی ہی تھے، جو فکری اور علمی صلاحیتوں کے لحاظ سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کے نمونہ تھے۔ یعنی اعلیٰ حضرت کو دیکھ لو اور مولانا فضل حق خیر آبادی کو دیکھ لو۔ دونوں اپنے مکتب فکر کے لحاظ سے ایک دوسرے کا نمونہ اور عکس ہیں۔ لیکن آپ کے علم میں ہے کہ انگریزوں نے اپنی طرف سے لوگوں کا رخ ہٹانے کے لئے ایسی چال چلی کہ لوگ یہ سمجھیں کہ سکھوں کے خلاف جہاد ہو رہا ہے۔
لیکن دراصل انگریزوں کے لئے ایک بچاؤ کی صورت پیدا کی جا رہی تھی اور جب ان سے پوچھا گیا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا کیسا ہے تو انہوں نے کہا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا جائز نہیں۔ یہ ایک ڈھونگ تھا اور ایک چال تھی جو لوگوں نے چلی۔

دوقومی نظریہ کی ضرورت

اعلیٰ حضرت کی ذاتِ گرامی تو شمشیرِ عریاں تھی۔ آپ حق کی تلوار تھے کوئی بھی باطل آپ کے سامنے آتا۔ آپ کی شمشیر خار شگاف سے دو ٹکڑے ہو جاتا۔ اعلیٰ حضرت نے یہ چال کامیاب نہ ہونے دی اور اعلیٰ حضرت نے انگریزوں کی غلامی کے بندھن کو توڑنے کے لئے سب سے پہلے دو قومی نظریہ پیش کیا۔ اس لئے کہ اس وقت لوگ ہندو مسلم بھائی بھائی کے نعرے لگا رہے تھے اور یہ ایک ایسی تحریک تھی کہ اچھے اچھے حضرات و افراد اس تحریک کے دھارے میں سیلاب کی طرح بہہ گئے تھے اور اعلیٰ حضرت نے کسی کو معاف نہیں کیا اور ہر ایک پر مواخذہ کیا اور فرمایا، ہندو مسلم بھائی بھائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ کافر ہیں اور ہم مسلمان ہیں۔ وہ مشرک ہیں اور ہم موحد۔ کیسے ایک مشرک کافر، مسلمان موحد کا بھائی ہو سکتا ہے۔ اعلیٰ حضرت میں سیاسی بصیرتِ عظیم تھی اور جن لوگوں کی مخالفت فرمائی، وہ اس بناء پر کہ آپ کو اعتماد تھا کہ یہ لوگ شریعت، دین اور اسلام کی بالادستی قائم نہیں کریں گے اور حالات اور واقعات نے یہ صحیح ثابت کر دیا کہ اعلیٰ حضرت اپنے موقف پر بالکل صحیح تھے۔ پاکستان کے مخالفین میں شمار کرنا اعلیٰ حضرت پر بہتان ہے جبکہ ایک طرح پاکستان کے بانیوں میں آپ کا نامِ نامی صف اوّل میں ہے اور اعلیٰ حضرت نے اس دو قومی نظریہ کو بنیاد قرار دے کر پاکستان کے لئے اساس فراہم کر دی۔

اعلیٰ حضرت نے حق و باطل کو واضح کیا

اعلیٰ حضرت نے ہم کو بتا دیا کہ تم اہلِ حق ہو، اہل باطل کے ساتھ تمہارا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ حق حق ہے اور باطل باطل۔ اللہ تعالیٰ نے قانون مقرر فرمادیا
مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ط (پ۴، آل عمران، آیت ۱۷۸)
(اے لوگو!) اللہ ایمان والوں کو اس حال پر نہ چھوڑے گا، جس پر تم ہو۔ یہاں تک کہ جدا کر دے ناپاک کو پاک سے
مومن اور کافر، پاک اور ناپاک مخلوط رہیں اور یہ مخلوط رہنا اللہ تعالیٰ کا قانون نہیں ہے۔ یہ خدا کے قانون کے خلاف ہے۔
حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ط
اعلیٰ حضرت نے ہمیشہ خبیث کو طیب سے جدا کیا اور باطل کو حق سے جدا کیا اور دنیا کو بتایا کہ یہ حق ہے، اسے قبول کر لو اور یہ باطل ہے اس کو رد کر دو۔ اس لئے ہم اعلیٰ حضرت کا شکریہ ادا کر ہی نہیں سکتے۔
اعلیٰ حضرت نے قرآنِ پاک کا ایسا شاہکار ترجمہ لکھا جو اہلِ علم اور اہلِ قدر کو تمام تفاسیر سے مستغنی کر دینے والا ہے اور پھر آپ نے تمام مسائل میں حق کو واضح فرمایا اور خاص طور پر عقائد اہلِ سنت کو، غیر عقائد اہلِ سنت سے منقیٰ (مصفیٰ) فرمایا اور پھر عقائد اہلِ سنت کو مبرھن فرمایا اور ان کے دلائل مرتب فرمائے اور سنیوں کے ہاتھ میں دلیلوں کی تلوار دے دی اور فرمایا، یہ تمہارا دعویٰ ہے اور یہ تمہاری دلیل اور یہ تمہارا عقیدہ ہے اور یہ اس کی دلیل۔ اے اعلیٰ حضرت اللہ تعالیٰ کی آپ پر بے شمار رحمتیں ہوں۔

ایک اعتراض

لوگ کہتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت نے نیا دین پیش کیا۔
خدا کی قسم! اعلیٰ حضرت نے نیا دین پیش نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ (پ۳ آل عمران، آیت ۱۹)
بے شک اللہ کے نزدیک اسلام ہی دین ہے۔
ہاں! اعلیٰ حضرت نے اتنا ضرور کیا کہ لوگوں نے دین کے حسین چہرے کو غبار آلود کر دیا، اس کو صاف کیا اور یاد رکھیئے کہ یہ کام انبیاء علیہم السلام کا ہے۔ کیونکہ ایک نبی اللہ تعالیٰ کے دین کو لے کر آتا، جب جاتا تو لوگ نبی کی لائی ہوئی تعلیمات کو اپنی جاہلیت اور گمراہی کی ظلمتوں میں چھپا دیتے، پھر دوسرا نبی آتا، پھر ان کی جاہلیت اور گمراہی کی ظلمتوں کے غبار کو دور فرماتا، اسی طرح پھر اور نبی آیا اور اس نے لوگوں کی جاہلیت کے پردوں کو دور کیا۔ یہاں تک کہ خدا نے ہر قوم کے لئے ایک ہادی بھیجا اور وہ ہدایت کرنے والے خدا کے نبی تھے۔ ہر نبی نے اللہ تعالیٰ کے دین کو بے غبار کر کے پیش کیا۔ دین ایک ہی ہے جو حضرت آدم علیہ السلام اللہ سے لے کر آئے تھے۔ تمام انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام وہی دین لے کر آئے جو حضرت آدم علیہ السلام لے کر آئے تھے۔ مگر لوگ کیا کرتے؟ ان کی تعلیمات میں اپنی خرافات کو مخلوط کر دیتے اور دین کے خوبصورت چہرے کو اپنی جاہلیت اور گمراہی کے غبار سے غبار آلود کر دیتے۔ پھر نبی تشریف لاتے، دین کے حسین چہرے کو بے غبار کرتے، جہالت کے پتلے پھر اپنی جہالت کو اس میں شامل کر دیتے اور دین کو مکدر کر دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا۔ ان کدورتوں کو دور کرنے کی غرض سے یہ سلسلہ عیسیٰ علیہ السلام تک جاری رہا۔ معلوم ہوا اللہ کے دین کو مصفیٰ کر کے پیش کرنا انبیاء کا کام ہے۔ حضور سید عالم کے بعد نبوت کا سلسلہ بند ہو گیا اور دین کو غبار آلود کرنے والے اب بھی موجود تھے اور سرکار نے ان کے لئے فرمایا تھا۔
سیاتی علی الناس زمان لا یبقی من الدین الا اسمہ ولا یبقٰی من القرآن الا رسمہ، یقرء ون القرآن ولا یجاوز عن حناجرہم یحقر احدکم صلٰوتہ مع صلاتہم وصیامہ مع صیامہم
فرمایا، لوگوں پر ایک دن آنے والا ہے کہ اسلام (دین) کا نام رہ جائے گا، قرآن کی رسم رہ جائے گی، لوگ قرآن پڑھیں گے مگر حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور پھر ان کا حال کیا ہو گا؟ ان کی نمازوں کے سامنے تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے اور تم اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے سامنے حقیر سمجھو گے۔ فرمایا،
مساجدہم عامرۃ ان کی مسجدیں نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوں گی۔
مسجدیں تو آباد ہوں گی مگر حال کیا ہو گا؟
خراب من الہدٰی ہدایت سے ویران ہوں گی۔
ہدایت کا نام و نشان نہ ہو گا۔ پھر سرکار نے فرمایا
یمرقون من الدین
وہ دین میں داخل ہو کر دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے
یمرق السہم من الرمیۃ
تیر شکار کے جانور میں داخل ہو کر پھر باہر نکل جاتا ہے۔
فرمایا،
فایاکم وایاہم ولا یفتنونکم ولا یضلونکم
خبردار خبردار! تم اپنے آپ کو ان سے دور رکھو اور ان کو اپنے سے دور رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو فتنہ میں ڈال دیں اور گمراہ کر دیں۔
کیونکہ وہ خود فتنوں میں مبتلا ہیں اور گمراہ ہیں۔ لہٰذا تمہیں اپنے آپ کو بچانا ہے۔ (تین دفعہ زور دے کر اس جملہ کو حضرت اقدس نے دہرایا) حضور نبی کریم نے اس قوم کی نشان دہی فرمائی اور یہ قوم اللہ کے دین کے حسین چہرے کو غبار آلود کرنے والی تھی۔ ارے خروج کا طوفان اٹھا۔ قدریہ، جبریہ اور اعتزال کے طوفان اٹھے۔ اعتزال کا طوفان تو طاعون تھا، جس نے لوگوں کو زہریلا کر دیا اور وہ ہلاک ہو گئے۔ خروج بظاہر ایک فتنہ تھا، مگر وہ کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ اعتزال لوگوں کو ایک فتنہ نظر آتا تھا، مگر ان کے اندر بے شمار فرقے پیدا ہو گئے۔ جبریہ ایک فتنہ نظر آتا تھا لیکن اس کے اندر بھی کئی ایک فرقے پیدا ہوئے۔ اسی طرح قدریہ میں بھی۔ یہ سب کے سب گمراہ تھے۔ انہوں نے دین کے حسین چہرے کو غبار آلود کیا۔ حضور خاتم الانبیاء ہیں۔ اب کسی نبی نے آنا نہیں تھا۔ دین کے چہرے کو آلودگی سے پاک کرنے والا کوئی بھی تو ہو گا۔

مجددین کی علامات

چنانچہ سرکار کا ارشاد ہے
عن ابی ہریرہ فما اعلم رسول اللّٰہ ا قال ان اللّٰہ یبعث لہذا الامۃ علی رأس کل مائۃ سنۃ من یجدد لہا دینہا (۲)
کہ وہ حضور کے لئے، حضور کے دین کو سرکار کی امت کے لئے بے غبار کرکے پیش کر دیتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ  کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ان مجددین کا سلسلہ جاری رہا۔ پہلے مجدد عمر بن عبد العزیز تھے اور ان کے بعد تمام ائمہ مجتہدین اجتہاد کے ساتھ ساتھ مجددین بھی تھے اور مجددین کا سلسلہ جاری رہا اور چلتا رہا اور پھر ایک ایسا وقت آیا کہ حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی پیدا ہوئے۔ ہر صدی کے بعد مفتنون لوگوں نے دین کو غبار آلود کیا اور ان مجددین نے اس کو صاف کیا اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں جس زمانے میں پیدا ہوئے، اس زمانے میں ان لوگوں نے دین کو اس قدر غبار آلود کیا ہوا تھا کہ اہلِ بصیرت کے سوا کسی کو حق نظر ہی نہیں آتا تھا۔ اعلیٰ حضرت نے تمام غبار سے اس دین کے حسین چہرے کو صاف کیا۔ لوگ بھٹک گئے تھے۔ کسی نے توحید کا نام لے کر لوگوں کو گمراہ کیا، کسی نے فقط قرآن کا نام لے کر گمراہ کیا اور کسی نے حدیث کا نام لے کر لوگوں کو اپنی طرف بلایا۔ جنہوں نے حدیث کا نام لیا، انہوں نے سنتِ رسول سے لوگوں کو متنفر کیا۔ جنہوں نے قرآن کا نام لیا، انہوں نے حدیث سے لوگوں کا رُخ موڑا۔ توحید کا نام لے کر لوگوں کو اپنی طرف بلانے والوں نے رسالت سے نفرت دلائی۔ خوب یاد رکھو، وہ توحید ہی نہیں جو رسالت سے نفرت دے۔ وہ قرآن نہیں جو حدیث پاک سے بیزار کرے اور وہ حدیث نہیں جو سنت سے لوگوں کو دور رکھے۔ قرآن اور حدیث، توحید اور رسالت، یہ سب ایک ہی چشمہ کے انوار ہیں۔
عزیزانِ محترم!
اعلیٰ حضرت نے کیا کیا نہ کیا؟ اعلیٰ حضرت نے ان اہلِ زیغ کو پہچانا اور دیکھا کہ کہاں کہاں سے فتنے نکل رہے ہیں اور ہر فتنہ کے سوراخ کو متعین کیا۔ سب سے پہلا اور بھاری فتنہ لوگوں نے توحید کے نام پر کھڑا کیا۔ توحید کا نام لے کر رسالت سے نفرت دلائی۔ مگر اعلیٰ حضرت نے کیا کیا؟ ان لوگوں کو کہا، ارے توحید کا نام لے کر رسالت سے نفرت دلانے والو! توحید کی نعمت زبانِ رسالت ہی سے ملی ہے اور اگر زبانِ رسالت نہ ہوتی تو ہمیں توحید کہاں نصیب ہوتی؟ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اعلیٰ حضرت نے لوگوں کو بتایا کہ توحید کا نام لے کر رسالت سے بے تعلق کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث سے نفرت دلانا، حدیث کا نام لے کر سنت سے دور رکھنا دین نہیں، بے دینی ہے۔ کیونکہ مرکز توحید مرکز قرآن، مرکز حدیث مرکز سنت اور محبت رسالت مصطفی
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ ہیں۔ اگر حضور کی زبان نہ کھلتی تو ہمیں توحید کا کیسے پتہ چلتا؟
عزیزانِ محترم!
اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ ازل سے ہے۔ واحد، احد اور لاشریک ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے احد، واحد اور لا شریک ہونے کو لوگوں نے کیسے جانا؟
قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ (میرے محبوب! ) کہہ دے، اللہ ایک ہے۔
قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔
تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔
نُزِّلَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ جو محمد ـ(ا) پر نازل کیا گیا۔
اگر حضور کو الگ کر لو تو قرآن اور توحید سے محروم ہو جاؤ گے۔سارا دین مصطفی کے سینے میں ہے۔ توحید کے چشمے یہاں پھوٹ رہے ہیں۔ قرآن، شریعت اور دین کے چشمے یہاں سے پھوٹ رہے ہیں۔

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
گر باو نرسیدی، تمام بو لہبی است

عزیزانِ محترم!
اعلیٰ حضرت نے دین کو محفوظ اور مستحکم کیا۔ جب کسی چیز کی بنیاد کمزور کی جائے تو وہ مستحکم نہیں ہوتی! اعلیٰ حضرت نے ہمیں بتایا کہ توحید نصیب ہونے کی بنیاد زبانِ رسالت ہے اور قرآن ملنے کی بنیاد بھی زبانِ اقدس ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قرآن ہی اللہ کا کلام ہے۔
تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔
مگر
اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ بے شک یہ (قرآن) ضرور قول ہے رسول کریم کا
یہ آیت قرآن میں دو جگہ آئی ہے۔ ایک جگہ رسولِ کریم سے جبریل مراد ہیں اور ایک جگہ بالاتفاق حضرت محمد رسول اللہ کی ذاتِ مقدسہ مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میرے محبوب کے سامنے جبریل نے آ کر قرآن پیش کیا اور جبریل نے کہا، یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔
اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ
(اے محبوب!) پڑھیئے، اپنے رب کے نام سے، جس نے پید کیا۔
پہلے جبریل نے قرأت کی، تلاوت کی اور تلفظ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ بے شک یہ (قرآن) ضرور قول ہے رسول کریم کا
میرے محبوب کی بارگاہ میں قرآن جبریل کا قول ہو کر آیا۔
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اے ایمان والو!
اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ
بے شک یہ (قرآن) ضرور قول ہے رسول کریم کا
تمہارے پاس قرآن میرے محبوب کا قول بن کر آیا۔ اگر میرے محبوب تلاوت نہ فرماتے، تلفظ نہ فرماتے تو تمہیں قرآن کہاں سے نصیب ہوتا؟ جبریل تو تمہارے پاس نہیں آئے تھے۔ تم نے جبریل کو دیکھا ہی نہیں۔ جبریل ں نے تمہارے کانوں میں قرآن پڑھا ہی نہیں۔ جبریل تو میرے حکم سے میرے محبوب کے پاس آیا۔
نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ جسے روح الامین (جبریل) نے اتارا
یعنی روح الامین نے اس قرآن کو نازل کیا مگر کہاں نازل کیا؟ تم پر نہیں۔
عَلٰی قَلْبِکَ آپ () کے قلب (مبارک) پر
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، کلام میرا ہے اور قول نبی کریمﷺ  کا ہے۔ عزیزانِ محترم! اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ص نے یہ کہا کہ سارا دین تو حضور کے پاس ہے۔ توحید یہاں سے آئی۔ قرآن، حدیث آپ سے حاصل ہوا۔ حرمت کے احکام، امر کے احکام، نواہی کے احکام آپ پر نازل ہوئے۔ سارا دین تو آپ سے ملا۔ جب تک آپ کی ذات پاک کے کمالات کا تحفظ نہ ہو دین کیسے بچے گا؟ دین ایک عمارت ہے اور مصطفی اس کی بنیاد ہیں اور جو عمارت کا دشمن ہوتا ہے، وہ بنیادوں کا بھی دشمن ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت نے جب دیکھا کہ دین کی بنیادوں کو کمزور کیا جا رہا ہے اور آپ کے کمالات اور علم کا انکار ہو رہا ہے اور کہیں آپ کی قدرت اور اختیار کا، کہیں آپ کی طرف غلطیاں اور خطائیں منسوب کی جا رہی ہیں اور کہیں لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں موقع پر حضور کو ڈانٹ پلائی، فلاں موقع پر عتاب کیا اور حضور پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ اس طرح دین کی بنیادوں پر ہر طرف سے تیر چل رہے تھے۔
محترم حضرات!
اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ نبوت کا کمال تو کمالِ علمی ہے کیونکہ علم کا ظہور اور علم کا نشان عمل سے ہوتا ہے اور علم کا وجود قدرت اور اختیار سے ثابت ہوتا ہے اور دین کی بنیادوں کو گرانے والوں نے حضور کے علم کا انکار کر کے یہ کہا کہ حضور کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں اور انہیں کوئی قدرت اور اختیار نہیں۔ وہ تو فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کو نہ بچا سکے وغیرہ۔ جب کمالاتِ نبوت اور علم کا انکار ہوا اور حضور کے تصرف اور قدرت کا انکار ہوا تو اعلیٰ حضرت تڑپ گئے کہ دین کی بنیادوں کو نہ بچایا گیا تو دین نہیں بچے گا۔
عزیزانِ محترم!
پھر لطف کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے حضور کے علم کا انکار کیا اور شیطان کی وسعتِ علمی کا اقرار کیا۔ حضور کی قدرت اور تصرف کا انکار اور شیطان کی قدرت اور تصرف کا اقرار، اگر ان باتوں کو تسلیم کر لیں تو کیا دین باقی رہے گا؟ ہرگز نہیں۔
اے اعلیٰ حضرت! آپ پر کروڑوں سلام ہوں۔ آپ نے ان فتنوں کے سوراخوں اور جڑوں کو تلاش کیا اور دلائل اور برہان کی روشنی میں ایسی کاری ضرب لگائی کہ باطل کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔

 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج