نعمت کبریٰﷺ

بمقام: عید گاہ
بتاریخ: ۱۰؍مارچ ۱۹۷۸ء

محترم حضرات!
اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ نے فرمایا
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا
بے شک اللہ نے بڑا احسان کیا ایمان والوں پر، جب اس نے ان میں عظمت والا رسول بھیجا۔ (آل عمران: آیت ۱۶۳)
اللہ رب العزت نے اپنے رسول معظم تاجدارِ مدنی جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کا ذکرِ جمیل اگر چہ سارے قرآن میں فرمایا لیکن اس آیت مبارکہ میں عظیم شان سے ذکرِ حبیب وارد ہوا۔ قبل اس سے کہ میں آیت مبارکہ کا مفہوم بیان کروں۔ چند گزارشات بطورتمہید عرض کروں گا۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ
لم یزل ولا یزال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر عدم اور نیست کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ اس سے پاک ہے۔ اس کی صفت اَلْحَیُّ الْْقَیُّوْم ہے۔ اس کی ذات پاک ایسی ہے کہ وہاں ہمارا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا۔ وہاں ہماری عقل نہیں جا سکتی۔ وہاں ہمارے حواس کی رسائی نہیں ہو سکتی۔ خدائے لم یزل کی بارگاہِ الوہیت تک ہمارا ادراک نہیں ہو سکتا۔ وہاں ہمارا علم عاجز ہے۔ اس صورت میں بندوں کو یہ حکم ہوتا ہے کہ قُوْلُوْا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت ہے کہ جو بات اس کی سمجھ میں نہ آئے اس کا علم اس کے ادراک اس کے حواس، جہاں نہ پہنچیں، وہ اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص آپ سے یہ کہے کہ اس حوض میں جبل احد ہے، اس میں شہداء احد کی قبور ہیں تو آپ ماننے کے لئے تیار نہیں ہو ں گے۔ کیونکہ آپ کی عقل، آپ کا علم، آپ کے حواس، آپ کا ادراک اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ یا آپ سے کوئی یہ کہے کہ اس پتھر پر ایک آدمی کھڑا ہے، جس کے بیس ہزار سر ہیں اور ہر سر میں پچیس ہزار زبانیں ہیں اور وہ نظر نہیں آ رہا اور کہنے والا یہ کہے کہ بھائی اس کو مان لو۔ تو آپ کہیں گے کہ بھائی اس بات کو کیسے مان لیں، جہاں نہ علم،نہ عقل، نہ حواس، نہ ادراک جاتا ہو؟ اور پھر اللہ تعالیٰ کی ذات تو ایسی ہے کہ وہ خود فرماتا ہے
لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ط (انعام، آیت ۱۰۳)
سارے جہاں کی آنکھیں مل جائیں، اللہ کو دیکھ نہیں سکتیں، عقل وہاں جا نہیں سکتی، ادراک کی وہاں رسائی نہیں، علم وہاں پہنچتا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا علم محدود، ہماری عقل محدود، اور پھر اللہ رب العزت کی ذات لا محدود۔ تو رب لا محدود تک محدود کی رسائی کیونکر ہو۔ ایسی صورت میں جب ہم سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ
قُوْلُوْا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تو اب اس مطالبے کو کون مانے، کون خدا کی ہستی کا اقرار کرے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے ایسے خداؤں کو مانا، جن کو ان کی آنکھیں دیکھ سکتی تھیں۔ جن تک عقل پہنچ سکتی تھی اور جن کو وہ چُھو سکتے تھے۔ اس لئے ان میں سے کسی نے آگ کو خدا سمجھا۔ کسی نے سورج کو خدا سمجھا۔ کسی نے چاند کو خدا خیال کیا۔ کسی نے پتھروں کو خدا کہہ دیا۔ تو انہوں نے جن چیزوں کو حواس سے محسوس کیا یا ان کے علم اور ان کے ادراک کی رسائی ہوئی تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ خدا ہے۔
لیکن جس ذات کو وہ خدا منوانا چاہتا ہے، وہ تو جسم سے پاک ہے، صورت سے پاک ہے، وہ لا محدود ہے، اس کی کوئی انتہا نہیں۔ شیخ سعدی کہتا ہے

اے برتر از قیاس و خیال و گمان و وہم
وز ہر چہ گفتہ اند شنیدیم و خواندہ ایم
دفتر تمام گشت بپایاں رسید عمر
ہم چناں در اولِ وصفِ تو ماندہ ایم

تو اب کیسے کہیں کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کیونکہ وہ حواس سے بالاتر، علم سے بالا تر۔ یہ سب چیزیں محدود، وہ لا محدود، یہ سب چیزیں حادث ہیں، وہ قدیم ہے۔ یہ سب ممکن ہیں، وہ واجب الوجوب۔ یہ سب عبد ہیں، وہ معبود۔ یہ سب مخلوق ہیں، وہ خالق ہے۔ وہ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ، لم یزل ولا یزال، سَمِیْع و بَصِیْر و قَدِیْر ہے۔ یہاں انسان کی عقل بالکل عاجز ہو کر رہ جاتی ہے اور خدا کی ہستی کے مانے بغیر چارہ نہیں۔ نہ مانیں گے تو نجات نہیں۔ ہماری نجات کا دارومدار اس نکتے پر رکھ دیا کہ نہ مانو گے تو ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہو گے۔ تو اب میں پوچھتا ہوں کہ اگر انسان کو نجات نہ ملے۔ کیونکہ وہ خدا کو نہ مانے گا تو نجات نہیں ملے گی۔ تو کیا خدا کا انسان پر کوئی احسان ہو سکتا ہے؟ نہیں ہو سکتا۔ انسان پر سب سے بڑا احسان یہ ہو گا کہ اس کو آخرت کے ابدی عذاب سے نجات مل جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے، تمہاری مجھ تک رسائی ممکن نہیں کیونکہ تم محدود، میں لا محدود۔ لیکن میں تمہیں دوزخ سے ہمیشہ کے لئے نجات دینا چاہتا ہوں۔ لہٰذا میں نے اپنی قدرت سے، اپنی حکمت سے، اپنی سماع سے، اپنی بصر سے، اپنی صفات سے، اس جلوے کو ظاہر کیا، جس میں امکان بھی ہے اور وجوب بھی۔ یہ دو لفظ میں کہہ گیا۔ جن کو اہل علم سن کر پریشان ہوں گے کہ امکان بھی ہے وجوب بھی۔ تو میں اس جملے کی وضاحت کر دوں کہ امکان سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ نے اس ذات مقدسہ کو اپنی قدرت کاملہ سے عالم امکان میں ذات واجب کا آئینہ بنا دیا کہ میرے علم کا جلوہ اس میں ہے، میری قدرت کا جلوہ اس میں ہے۔ میری سماع کا جلوہ اس میں ہے۔ میری بصر کا جلوہ اس میں ہے۔ میرے خبیر ہونے کا جلوہ اس میں ہے۔ یوں کہو کہ میرا جلوہ اس میں ہے۔ مجھے تو تم نے نہیں دیکھا مگر ان کو دیکھ لو اور اگر تم نے ان کو چشمِ بصیرت سے دیکھ لیا تو گویا مجھے دیکھ لیا۔ اسی لئے بخاری شریف کی حدیث میں ہے
جس نے مجھے دیکھا، پس تحقیق اس نے حق تعالیٰ کو دیکھا۔
مگر دیکھا کس نے؟ جس کے اندر دیکھنے کی طاقت، قوت اور بصیرت تھی اور وہ یہ آنکھیں نہیں تھیں۔ یہ آنکھیں تو ابو جہل کے پاس بھی تھیں۔ یہ آنکھیں ابولہب، عتبہ اور شیبہ کے پاس بھی تھیں۔ تو ان آنکھوں سے تو وہ نہیں دیکھا گیا۔ اگر آپﷺ  کو ان آنکھوں سے دیکھا جاتا تو ابو لہب، ابو جہل، عتبہ اور شیبہ دیکھ لیتے۔ مگر محبوب غیروں کو دکھائے نہیں جاتے۔ اللہ نے اپنی معرفت کا نور اپنے جس بندے کے دل میں پیدا فرمایا، اسی بندے نے اپنے دل کے نور کی روشنی میں مصطفیﷺ کے جمال میں خدا کے حسن کو دیکھ لیا اور جب تک آپﷺ  کو نہیں دیکھا، اس وقت تک بات نہیں بنتی اور جب آپ کو دیکھ لیا تو خدا کو دیکھ لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نجات کی راہ پیدا ہو گئی۔

ایک شبہ کا ازالہ

آپ کے ذہن میں ایک زبردست سوال پیدا ہو گا کہ یہ بات تو حضور اکرمﷺ  کے زمانے کے لئے ہے۔ حضور تو آخری نبی ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر عیسی علیہ السلام تک حضور کسی زمانہ میں نہ تھے۔ تو اس شبہ کا ازالہ میں عرض کر دوں۔
اصل بات یہ ہے کہ جب تک اہل سنت کا مسلک تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ نہ قرآن کی بات سمجھ آئے گی، نہ حدیث کی اور نہ ایمان کا نکتہ تمہارے ہاتھ میں آئے گا۔ وہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ مقصودِ کائنات فقط محمد مصطفی
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ ہیں اور یقین کیجئے کہ مادی موجودات کل مخلوقات محمدیت کی تعبیر ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے خلیفہ ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نجی اللہ ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود ہی اس بات کی حقیقت کو واضح فرما رہے ہیں
وَمُبَشِّرًا م بِرَسُوْلٍ یَّاتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ
اور ایک (عظمت والے) رسول کی خوشخبری سناتا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے، ان کا نام احمد ہے۔ (سورۂ صف، پ ۲۸)
کہ جمالِ احمدی کا آئینہ حضرت عیسی علیہ السلام میں چمکا۔ جمالِ محمدی کا آئینہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ذات قرار پائی۔ حضرت خلیل اللہ حُسنِ مصطفوی کا جلوہ ہے اور حُسنِ محمدی کا جلوہ حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔ تمام انبیاء سابقین سب کے سب میرے آقا کے حسن و جمال کے آئینہ دار ہیں۔ جس نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، اس نے جمالِ محمدی کو دیکھا، جس نے عیسی علیہ السلام کو دیکھا اس نے جمالِ احمدی کو دیکھا۔ جس نے خلیل اللہ کو دیکھا اس نے جمالِ مصطفوی کا مشاہدہ کیا۔ جس نے حضرت نوح علیہ السلام کو دیکھا اس نے حُسنِ محمدی کو دیکھا کیونکہ مقصودِ کائنات حضور ہیں۔ ہر نبی حضرت محمد رسول اللہ
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کے حسن و جمال کا آئینہ بن کر آیا۔ کسی نے کیا خوب کہا

حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

گویا ہر نبی کا کمال آپ کے جمال کا جلوہ ہے۔ اس لئے آپ نے فرمایا
کُنْتُ نَبِیًّا وَّ آدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ
میں اس وقت بھی نبی تھا، جب آدم ابھی جسم اور روح کے درمیان تھے۔ یعنی آدم علیہ السلام کا ابھی جسم اور روح بھی نہیں بنے تھے، اس وقت میں نبی تھا۔

امکان وجوب

اب بات کھل کر سامنے آگئی۔ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ مقصودِ کائنات آپ کی ذات ہے۔ آپ کا حسن و جمال ایک لاکھ یا غالباً دو لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں چمکا اور جو جس نبی کو دیکھ کر مسلمان ہوا، وہ اس حسنِ الوہیت کے جلوے کو دیکھ کر مسلمان ہوا۔ معلوم ہوا کہ امکان کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ پیدا نہ کرتا تو مصطفیﷺ نہ ہوتے۔ وجوب کا مطلب یہ ہے کہ جلوہ ہائے حُسن وجوب کا آئینہ مصطفیﷺ کی ذاتِ پاک ہے۔ میں نے ہزاروں دفعہ کہا ہے، کہتا ہوں اور کہتا رہوں گا اور خدا کرے یہ کہتے کہتے مر جاؤں کہ حُسنِ ازل کی تجلی اول مصطفیﷺ ہیں اور یہی نکتہ تمہارے آگے میں نے رکھ دیا۔ وہ نکتہ کیا ہے؟ وہ نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ
بے شک اللہ نے بڑا احسان کیا، ایمان والوں پر، جب اس نے ان میں ایک عظمت والا رسول بھیجا، انہی میں سے۔
اگر ہم اتنا بڑا احسان نہ کرتے تو اے مومنو! تمہیں نجات کا راستہ مل ہی نہیں سکتا تھا اور پھر یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ میں نے اپنے حسن کا جلوہ مصطفی کی شان میں تم کو دکھا کر اپنے آپ کو، اپنی ذات کو منوایا۔ مجھے مجدد صاحب کا وہ قول بہت پسند ہے۔ اپنے مکتوبات شریف میں فرماتے ہیں۔

من خدا را ازاں می پرستم کہ وے خدائے محمد است

ارے میں خدا کو مانتا ہی اس لئے ہوں کہ وہ محمد کا خدا ہے۔
میں اللہ کی پوجا اس لئے کرتا ہوں کہ وہ محمد
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کا خدا ہے۔ اگر وہ محمد کا خدا نہ ہوتا تو ہماری عقل وہاں نہ جاتی۔ ہمارے حواس وہاں نہ جاتے، ہمارا علم وہاں نہ جاتا۔ پھر ہم مانتے کیسے؟ ہم کیسے عبادت کرتے؟ جب مانتے ہی نہیں، عبادت ہی نہ کرتے تو ہماری نجات کیسے ہوتی؟
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ
بے شک اللہ نے بڑا احسان کیا مومنین پر
عربی زبان کے لحاظ سے
رسولًا میں جو دو زبر ہیں، ان کو تنوین کہتے ہیں۔ کیونکہ ان کو پڑھنے میں نون کی آواز پیدا ہوتی ہے اور یہ تنوین تنکیر ہے۔ عربی قاعدہ کے لحاظ سے دال علی التعظیم ہے۔
کیا مطلب؟بہت بڑی عظمت کے معنی ان دو زبروں سے نکلتے ہیں۔ بڑی عظمت والا تو وہ خود ہے۔ مگر بتانا مقصود یہ ہے کہ اگر یہ بڑی عظمت والا نہ ہوتا تو مجھ بڑی عظمت والے کو کون پہچانتا۔ اس نے اس لئے اس کو بنایا کہ اس کو دیکھ کر میری کبریائی کو مان لیں۔
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ
ایمان والوں پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے۔

محبت کی حقیقت

دلائل الخیرات بہت بڑی مشہور کتاب ہے۔ اس میں ایک حدیث
اَسْمَعُ صَلَاۃَ اَہْلِ مُحَبَّتِیْ وَ تُعْرَضُ عَلَیَّ صَلٰوۃُ غَیْرِہِمْ
فرمایا، میں محبت والوں کا درود خود سنتا ہوں اور دوسروں کا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ (۴) کیا مطلب؟ مطلب یہ ہے کہ محبت والوں کی طرف میری خود توجہ ہوتی ہے۔ پتہ چلا کہ حضور کو علم ہے کہ میری محبت والا کہاں ہے؟ سرکار تو ہر دل کی حرکت کو ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ ویسے تو حضور کے علم سے، حضور کی آنکھوں سے، حضور کے کانوں سے، حضور کے ادراک سے کون سی چیز دور ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ سرکار کسی سے دور نہیں ہیں۔ یہ غلط ہے کہ مصطفی دور ہیں۔ ہم خود دور ہو جائیں تو یہ ہماری مرضی اور یہ خیال کرنا کہ جب سرکار ہم سے دور نہیں ہوتے تو ہم کیسے دور ہو سکتے ہیں؟

ایک شبہ کا ازالہ

اس کا جواب یہ ہے کہ جب سورج نکلتا ہے تو سب جگہ اپنی کرنیں برابر ڈالتا ہے۔ مگر جو یہ کہہ کر کہ گرمی زیادہ ہو ری ہے۔ شامیانہ لگا لے اور اس کے نیچے چلا جائے تو سچ کہتا ہوں کہ سورج کی کرنیں تو شامیانہ پر پڑیں گی لیکن مجھے بتاؤ کہ سورج اس سے دور ہوا یا وہ خود سورج سے دور ہوا؟ تو یہ ہماری غفلت کے شامیانے ہیں۔ ان کی وجہ سے ہم سرکار سے دور ہو گئے۔ ورنہ سرکار کسی سے دور نہیں ہیں۔
بہر حال میں عرض کر رہا تھا کہ محبت ہی سب کچھ ہے اور وہ حدیث بھی سامنے آتی ہے
کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ (۵)
محبت کے سوا اور ہے ہی کیا؟ جہاں محبت نہیں وہاں کچھ نہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں، تم میلاد مناتے ہو، تم سلام پڑھتے ہو، گیارہویں شریف مناتے ہو، بزرگوں کی فاتحہ واتحہ کرتے ہو۔ یہ تو حضور نے نہیں کیا، صحابہ نے نہیں کیا۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ تو میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں کہ سرکار نے حدیث پڑھانے کی تنخواہ لی تھی؟ کیا سرکار نے شعبہ تجوید قائم کر کے اور کسی قاری کی کوئی تنخواہ مقرر کی تھی؟ مجھے حیرت ہے کہ یہ لوگ اپنے مدرسوں میں پانچ پانچ سو ہزار ہزار روپے حدیث پڑھانے، تفسیر پڑھانے کی تنخواہیں لیتے ہیں۔ یہ سب دین کے کام ہیں، مگر اس وقت تمہیں بالکل یاد نہیں آتا کہ سرکار نے یہ کام کیا ہی نہیں تھا۔ خلفائے راشدین نے ایسا کام نہیں کیا۔ یہ تمام سلسلے تم نے خود بنائے ہوئے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ یہ کام دین سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ تمہارے نفس سے تعلق رکھتا ہے۔ تمہیں اپنے نفس سے محبت ہے تواپنے نفس کے لئے سب کچھ جائز ہے اور جو رسول کی محبت نہیں تو منبر رسول پر کھڑے ہو کر کہتے ہو، صلٰوۃ وسلام پڑھنا، میلاد منانا جائز نہیں ہے۔

قرآنی قانون

بہرحال، اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں آپ کو ایک بنیادی بات بتا دوں! اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ نے جتنے ناجائز کام تھے، بتا دئیے۔ جائز کاموں کا شمار نہیں۔ اس لئے شریعت کا یہ اصول ہے کہ جس کام کے نا جائز ہونے کی دلیل قرآن و حدیث میں مل گئی وہ نا جائز ہے۔ جس کے ناجائز ہونے کی دلیل کہیں نہیں ہے یعنی اس کو نہ خدا نے ناجائز قرار دیا نہ رسول نے ناجائز قرار دیا اور اس کے اندر کوئی خیر کا پہلو موجود ہے، اس کو نا جائز نہیں کہہ سکتے۔ وہ جائز ہے۔ جن عورتوں سے نکاح نا جائز ہے، قرآن نے ان کا ذکر کر دیا
حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّہٰـتُکُمْ وَبَنٰـتُکُمْ وَاَخَوَاتُکُمْ وَعَمّٰتُکُمْ وَخٰلٰـتُکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّہٰتُکُمُ الّٰتِیْ اَرْضَعْنَکُمْ وَ اَخَوَاتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّہٰتُ نِسَائِکُمْ وَرَبَآئِکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِ کُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ وَحَلَائِلُ اَبْنَائِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَاقَدْ سَلَفَط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (۲۳، سورۃ النسا، پ۴)
حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری رضاعی بہنیں اور تمہاری عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں۔ تمہاری ان بیویوں سے جن سے تم محبت کر چکے ہو تو اگر تم نے ان سے محبت نہ کی ہو تو (ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں) تم پر کوئی گناہ نہیں اور (حرام کی گئیں تم پر) تمہارے نسلی بیٹوں کی بیویاں اور یہ کہ تم جمع کرو دو بہنوں کو مگر جو گزر چکا۔ بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بے حد رحم فرمانے والا ہے۔
لیکن جن عورتوں سے نکاح جائز ہے، ان کا ذکر کہیں بھی نہیں کیا ہے۔ تو اس لئے اصول یہ ٹھہرا کہ جس کام کے ناجائز ہونے کی دلیل قرآن و حدیث میں مل گئی، وہ نا جائز ہے۔ اس کو اگر کوئی جائز کرتا ہے، وہ جہنمی ہے اور اسی کے لئے حضورﷺ  نے فرمایا ہے

مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ہٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌ (۶)
لہٰذا صلوٰۃ وسلام کھڑے ہو کر پڑھنا اور میلاد منانا خدا کی قسم! اگر محبت سے یہ کام کئے جائیں تو یہ کام نہ صرف جائز ہیں بلکہ عبادت ہیں۔ اصل چیز محبت ہے اور اس کی دلیل میں آپ کو بتا دوں۔

ناطق دلیل

بخاری شریف میں ایک حدیث ہے۔ ایک صحابی کو حضور نے ایک قوم کا امام مقرر فرمایا۔ وہ صحابی بہت نیک تھا۔ نماز پڑھانے لگا اور مقتدی یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں لیکن امام صاحب نماز میں ایسا کام کرتے تھے جو نہ رسول نے کیا نہ دیگر صحا بہ نے۔ وہ کام یہ تھا کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد کوئی سورۃ ملاتے اور پھر سورۃ اخلاص پڑھتے۔ مقتدیوں کو اس فعل سے شکایت ہوئی اور حضور تاجدار مدینہ ا سے عرض کی۔ حضور! یہ امام ایسا کام کرتا ہے جو آپ نے بھی کبھی نہیں کیا۔ چنانچہ حضور نے امام کو بلایا اور پوچھا، تو ایسا کیوں کرتا ہے؟ صحابی نے عرض کیا، سرکار! میں الحمد کے بعد کئی سورتیں پڑھوں، مگر جب تک سورۃ اخلاص نہ پڑھوں چین نہیں آتا۔ میرے آقا محبت کے سوا اور کوئی بات نہیں۔ سرکار نے فرمایا
حُبُّکَ اِیَّاہُ اَدْخَلَکَ الْجَنَّۃَ
اس کی محبت نے تجھے جنت میں داخل کر دیا۔
ورنہ حضور یہ فرماتے
کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ وَکُلُّ ضَلَالَۃٍ فِی النَّارِ (بخاری شریف) (۷)
ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی دوزخ میں لے جاتی ہے۔
سرکار نے یہ نہیں فرمایا، تو دوزخ میں جائے گا۔ اگر یہ خود ساختہ اصول کہ ہر کام لکھا ہوا ہو تو مانا جائے تو اس کے لئے مجھے ایک چھوٹا سا واقعہ یا د آیا۔ ایک شخص نے کسی امیر کی نوکری کرنا چاہی اور نوکر نے کہا، جناب! میں نے بہت لوگوں کی نوکری کی ہے۔ مگر مجھے کسی کی نوکری راس نہیں آئی اور میں آپ کے ہاں بھی ایک شرط پر نوکری کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ جو کام بھی مجھ سے لینا چاہیں، لکھوا دیں۔ خواہ ہزاروں کام ہوں، لکھے ہوئے کام کروں گا مگر دوسرا کام ہر گز نہ کروں گا۔ امیر آدمی مجبور تھا، اس کے ذہن میں جتنے کام آئے، اس نے اس کی ڈائری میں لکھوا دئیے اور ملازمت ہو گئی۔ سب کاموں میں یہ کام بھی تھا کہ وہ شکار پر بھی ساتھ جائے گا۔ چنانچہ اب ایک دن آقا شکار پر روانہ ہوا تو نوکر بھی ساتھ تھا۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ گھوڑے کو جو تیز دوڑایا تو گھوڑا کسی پولی زمین میں دھنس گیا۔ اب گھوڑا ایسی جگہ پھنسا کہ آقا نیچے اتر نہیں سکتا تھا۔ اب امیر آدمی نے نوکر کو پکارا کہ میں زمین میں دھنسا جا رہا ہوں اور تو ایک طرف کھڑا دیکھ رہا ہے۔ نوکر نے کہا، آقا! پہلے میں یہ تو دیکھوں کہ یہ کام میری ڈائری میں لکھا ہوا بھی ہے یا نہیں۔ میں تو وہی کام کروں گا جو لکھا ہوا ہو گا کیونکہ یہ بات طے ہو چکی ہے۔ اب بھائی تم لکھا ہوا دیکھتے رہو تو تمہاری مرضی۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ سب سے بڑی دلیل محبت ہے۔

وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج