آمد محسن اعظمﷺ کا بیان

بمقام: ملتان شریف
بموقع: عید میلاد النبیﷺ

محترم حضرات!
چند گزارشات پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کلمۃ الحق میری زبان پر جاری فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق سننے، حق سمجھنے، حق قبول کرنے اور حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
محترم حضرات!
رسول اللہ ﷺ! کی ولادتِ با سعادت کا عنوان اتنا وسیع ہے کہ اس پر سیر حاصل گفتگو ہو ہی نہیں سکتی۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ جا بجا حضور کی تشریف آوری کا ذکر فرماتا ہے۔
۱۔
لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ
(حضورﷺ کی تشریف آوری کا بیان ہے)
۲۔
قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتَابٌ مُّبِیْنٌ
(حضور ﷺ کی تشریف آوری کا بیان ہے)
۳۔
یٰاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا
پیارے نبی(ﷺ)! ہم نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا۔
(حضورﷺ کے تشریف لانے کا بیان ہے)
۴۔ وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ
یہ سرکار کی تشریف آوری کا بیان ہے۔ قرآن مجید و فرقان حمید، حضور کی آمد، حضور کی بعثت، حضور کے ارسال اور سرکار کے تشریف لانے کے ذکر سے بھرا ہوا ہے۔
یہ عنوانات جو قرآن کریم نے اختیار فرمائے، یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کی ولادت با سعادت، حضور کی بعثت اور سرکار کے ارسال کے ذکر میں، ان تمام اوصاف کو بیان کیا جائے جو اس ضمن میں اللہ تعالیٰ جل جلالہ و عم نوالہٗ نے بیان فرمائے ہیں۔
اب آپ غور فرمائیں کہ
قَدْ جَآئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری کے ساتھ لفظ نُوْرٌ فرمایا۔ یہ سرکار کی کمال منقبت ہے کہ سرکار نور ہیں اور سرکار ایسا نور ہیں کہ جس میں کوئی قید نہیں۔ آپ ہر اعتبار سے نور ہیں۔یہ نہیں کہ وہ فقط نور ہدایت ہیں یا نورِ نبوت یا نورِ رسالت یا یہ کہ وہ فقط علمی طور پر نور بن کر آئے ہیں یا فقط ایمان اور عمل کے اعتبار سے نور ہیں یا صرف جسمانی اعتبار سے نور یا روحانی اعتبار سے نور ہیں۔ کوئی قید، کوئی تخصیص نہیں اور یہ مطلق ہے۔
اَلْمُطْلَقُ یَجْرِیْ عَلیٰ اِطْلَاقِہٖ
مطلق اپنے اطلاق پر جاری رہتا ہے۔
اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو نور تمہارے پاس جلوہ گر ہوایعنی حضرت محمد رسول اللہ
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ تمہارے پاس تشریف لائے تو آپ کے بارے میں یہ بات مت کہنا کہ وہ فقط جسمانی طور پر نور ہیں۔ نہیں۔ وہ جسمانیت کے اعتبار سے نور ہیں، وہ روحانیت کے اعتبار سے بھی نور ہیں۔ ان کا ہر قول نور، ان کا ہر فعل نور، وہ نورِ علم اور نورِ ایمان سب کے جامع ہیں۔ وہ صرف ظاہری نور نہیں بلکہ وہ باطنی نور بھی ہیں۔ وہ محض حسی نور نہیں بلکہ وہ معنوی نور بھی ہیں۔ وہ صرف عالم دنیا کا نور نہیں بلکہ وہ عالم آخرت اور عالم برزخ کا بھی نور ہیں۔ آپ عالم بیداری اور عالم خواب کا بھی نور ہیں۔ آپ بلا قید، بلا تخصیص نور ہیں۔ آپ نور مطلق ہیں۔
(
قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ اِلٰی آخِرہ) حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ تشریف لائے تو مطلب یہ ہے کہ جب سرکار کے آنے کا ذکر کرو تو ان صفات کو بھی ساتھ ہی بیان کرو کہ حضور کیسے ہیں! آپ نور کامل ہیں، آپ نور اکمل ہیں، آپ نوروں کا بھی نور ہیں۔
علامہ سید محمود الوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر روح المعانی میں اس آیت (
قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ) کا ترجمہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے
نُوْرُ الْاَنْوَارِ وَ نَبِیُّ الْمُخْتَارِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
نوروں کے نور اور مختار نبی محمد رسول اللہ ﷺ
انوار جمع ہے، اس پر الف لام ہے، جمع پر الف لام ہو تو استغراق کے معنی ہوتے ہیں۔ کیا مطلب؟ یعنی کائنات کے ہر نور کا نور محمد مصطفیﷺ ہیں۔ اگر آپ کا نور جسم سے نکال لیں تو جسم بے نور ہو جائے گا۔ میرے آقا وہ نور ہیں، اگر نور سے حضور کے نور کو نکال لو تو نور بھی بے نور ہو جائے گا۔ کائنات میں کسی نور کا ہونا یہ حضور کی نورانیت کا صدقہ ہے۔
عزیزانِ محترم!
سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے کیا اچھی بات کہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں
لَمْ اَرْقَبْلَہٗ وَلَا بَعْدَہٗ مِثْلَہٗ (۱)
ترجمہ: سرکار کی مثل نہ ہم نے کبھی پہلے دیکھا ہے اور نہ حضور کے بعد دیکھا ہے۔
آپ بے مثل نور ہیں اور آپ کی شان یہ ہے کہ رب العزت جل جلالہٗ و عم نوالہٗ نے فقط آپ
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کی ذات کو بے مثل نہیں بنایا بلکہ آپ کی ہر صفت کو بے مثل بنایا ہے۔ آپ حضور کی جس صفت کو لیں گے، بے مثل پائیں گے۔ یہاں تک کہ حضور صفت وجود میں بھی بے مثل ہیں۔ کیا مطلب؟ اس کا مطلب ہے کہ کسی کا وجود، کسی کا پایا جانا ایسا نہیں، جیسا میرے آقا ﷺ کا پایا جانا ہے۔ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد بحوالہ مکتوبات شریف کہ
در عالم امکان مثل او متصور نیست
عالم امکان میں سرکار کی مثل متصور نہیں۔

ایک شبہ کا ازالہ

کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ جب سرکار کی ہر صفت بے مثل ہے تو ممکن ہونا بھی تو ایک صفت ہے۔ وجود بھی ایک صفت ہے۔ وجود اللہ کی صفت ہے اور امکان کائنات کی صفت ہے اور امکان حضور کی بھی صفت ہے۔ تو ہر ممکن کا امکان ایک ہی جیسا ہے تو اس میں حضور کی صفت بے مثل نہ رہی۔
تو مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، جس امکان کے ساتھ حضور ممکن ہیں، اس امکان کا تصور عالم امکان میں نہیں پایا جاتا۔ اب میں اس کی تفصیل کیا بیان کروں؟ یہ ایک علمی نکتہ تھا جو مجدد الف ثانی نے بیان فرما دیا۔ میں اتنا کہہ دیتا ہوں کہ ہر ایک کا امکان اس کی ذات سے متعلق ہوتا ہے لیکن سرکار کا امکان عالم امکان کی پناہ گاہ ہے۔ اگر حضور کا امکان نہ ہوتا تو امکان کسی کی صفت نہ ہوتی۔
یعنی حضور سرور عالم
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کی صفات عالم امکان میں کوئی بھی بیان نہیں کر سکتا۔ بہرحال میں آپ کو بتا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ نے قرآن پاک میں جا بجا سرکار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کا ذکر عجیب انداز میں حضور کی صفات، سرکار کے کمالات، حضور کے فضائل، حضور کے محامد بیان فرمائے اور پھر ہم کون ہیں کہ سرکار کی خوبیاں بیان کریں؟ بقول غالب دہلوی

غالب ثنائے خواجہ بایزداں گزاشتیم
کآں ذات پاک مرتبہ دان محمد است

غالب نے کہا کہ ہم کون ہیں کہ سرکار کی ثنا کریں۔ ہم نے تو سرکار کی ثنا کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا کہ اے اللہ! جیسا تو نے ان کو بنایا ویسا ہی ہم کو بتا دے۔ جو ثنا تو اپنے محبوب کی کرے گا، وہ ہم کر ہی نہیں سکتے۔
حضور
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کا ذکر ولادتِ با سعادت ہے، مجیئت، بعثت، ارسال اور تشریف آوری کے ذکر سے قرآن پاک مملو ہے۔ جیسے
یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا (۲، آیت ۴۶، س احزاب، پ ۲۲)
اے نبی (ﷺ)! بے شک ہم نے آپ کو مشاہدہ کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور (عذاب) سے ڈرنے والا بنا کر بھیجا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن کرنے والا آفتاب۔
کہ جب میرے محبوب کے آنے کا ذکر کرو تو ان سب صفتوں کو بیان کرو اور اب کوئی حضور
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کی ایک صفت بھی بیان کرے تو سارا جہان ختم ہو جائے گا تو ایک صفت کا بیان ختم نہ ہو گا۔
تو جو آیتِ کریمہ شروع میں، میں نے پڑھی، اس کے پیشِ نظر ایک بات عرض کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنین پر بہت بڑا احسان فرمایا۔ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا جب ان میں عظمت والا رسول بھیج دیا۔ یہاں دو باتیں قابلِ توجہ ہیں۔
(۱) ایک بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ احسان کن لوگوں پر جتا رہا ہے؟
علی المؤمنین۔ قیامت تک ہر مومن پر اللہ تعالیٰ کا یہ ایک بہت بڑا احسان ہے اور جو یہ کہے کہ مجھ پر احسان نہیں، وہ مومن ہی نہیں۔

ایک شبہ کا ازالہ

بعض لوگوں نے کہا کہ یہ احسان تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کے زمانہ والوں پر تھا۔ ہم تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کے زمانہ میں نہ تھے۔ ہم پر احسان کیسا؟ یہ لوگ اس آیتِ مبارکہ کو قیامت تک ایمان والوں کے لئے تمام نہیں سمجھتے تو پھر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ
اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا (سورئہ نساء: آیت ۱۰۳)
بے شک نماز ایمان والوں پر، وقت مقرر کیا ہوا (فریضہ) ہے ۔
جس طرح ہم یہاں نہیں کہہ سکتے کہ نماز بھی حضور
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کے زمانہ کے ایمان والوں کے لئے تھی تو وہاں بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ کا احسان حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کے زمانہ کے لئے تھا۔ جس طرح نماز قیامت تک آنے والے ہر مومن پر فرض ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ احسان قیامت تک آنے والے ہر مومن کی گرد ن پر ہے۔
(۲) دوسری بات یہ ہے کہ احسان کے لئے تین چیزیں ضروری ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
۱ ایک احسان کرنے والا (محسن) اللہ ہے۔ کن پر؟
عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ
۲ قیامت تک آنے والے مومنین پر
۳ کس بنیاد پر
اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا وہ احسان کی بنیاد رسول کی ذات ہے۔

ایک اور شبہ کا ازالہ

شاید کوئی یہ کہے کہ احسان کی بنیاد بعثت ہے تو تب بھی ٹھیک ہے۔ کیونکہ بعثت وصف ہے۔ وصف بغیر موصوف کے پایا نہیں جاتا۔ احسان کی بنیاد ہی نعمت (موصوف) حضور سید عالم نورِ مجسم ﷺ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کی ذاتِ مقدسہ ٹھہری۔
محترم حضرات!
اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ احسان جتانے کا حق احسان کے باقی رہنے تک ہے کہ نہیں؟ کیونکہ جب تک احسان (نعمت) باقی ہے، احسان جتانے کا حق باقی ہے یعنی کوئی کسی کو کوئی نعمت دے اور پھر واپس لے لے اور کہے کہ میرا تجھ پر احسان ہے؟ نعمت لینے والا کہے گا، بھائی! آپ نے مجھ پر احسان کیا تھا۔ مگر تم نے وہ نعمت مجھ سے لے لی۔ اب تمہارا مجھ پر کاہے کا احسان؟ معلوم ہوا احسان کی بنیاد نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول معظم
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ (نعمتِ کبریٰ) کی بنیاد پر قیامت تک آنے والے مومنین پر احسان فرمایا۔

ایک اور شبہ کا ازالہ

بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسولِ معظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ تھے۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان کو واپس لے لیا۔
محترم حضرات!
میں پوچھتا ہوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ قیامت تک مومنین کے لئے وہ احسان ہو اور وہ نعمت نہ ہو؟ صفت ہو موصوف نہ ہو؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم کلمہ طیبہ
لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھتے ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ حضرت محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں (تھے نہیں) جب رسول ہیں تو بات ختم ہو گئی۔

احسان کی بنیاد

احسان کی بنیاد نعمت ہے۔ اگر آپ مجھے ایک کھٹا انار یا کوئی گلا سڑا پھل دے دیں اور پھر احسان جتائیں۔ یہ کیا احسان ہوا؟ سوچنے کی بات ہے۔ ہر نعمت، نعمت دینے والے کے شایانِ شان ہوتی ہے۔ اگر میں ایک چھوٹا سا رومال دے کر احسان جتاؤں پھر بھی کچھ ہو سکتا ہے اور اگر بادشاہ وقت کسی کو ایک چھوٹا سا رومال یا ایک پیسہ دے کر احسان جتائے تو یہ اس کی شان کے لائق نہیں۔ اللہ تعالیٰ تو رب العالمین ہے۔ وہ احکم الحاکمین ہے، الرحمن الرحیم ہے۔ وہ جس نعمت کا احسان جتائے گا، وہ نعمت بہت ہی عظیم ہو گی اور وہ نعمت اتنی عظیم ہے کہ اس میں کوئی کمی اور نقص ہے ہی نہیں۔

ایک اور شبہ کا ازالہ

اور پھر لوگوں کا یہ کہنا کہ انہیں دیوار کے پیچھے کا علم نہیں۔ وہ تو مجبور محض ہیں۔ انہیں تو کسی بات کا اختیار ہی نہیں۔ تو میں آپ سے پوچھتا ہوں جو نعمت مجبور محض ہو، کیا احسان جتانے کے قابل ہو سکتی ہے؟ نہیں ہو سکتی۔

بے عیب نعمت

محترم حضرات!
میرے آقائے نامدار
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کی ذاتِ مقدسہ عمل کے اعتبار سے، اختیار کے اعتبار سے، کمالات کے اعتبار سے، حسن کے اعتبار سے، جمال کے اعتبار سے، فضائل کے اعتبار سے، محامد کے اعتبار سے، ظاہرًا، باطنًا، جسمًا، روحًا، علمًا، عملًا ہر اعتبار سے مکمل، اکمل ہیں۔ اگر علم میں، عمل میں نقص ہو تو وہ نعمت احسان جتانے کے قابل نہیں۔ اگر اس کے اندر کوئی عیب ہو تو وہ نعمت احسان جتانے کے قابل نہیں۔ معلوم ہوا کہ بے عیب رب نے ہمیں بے عیب نعمت عطا فرمائی ہے۔ اس لئے تو حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا

خُلِقْتَ مُبَرَّأً مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ
کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَائٗ

سرکار! آپ توہر عیب سے بالکل پاک پیدا ہوئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو تو حسب منشا پیدا کیا گیا ہے۔
اگر پیدا ہونے والے کو حسب منشاپیدا ہونے کا اختیار دے دیا جائے کہ تو جس طرح چاہے حسن و جمال، خوبیاں، کمالات، اختیارات کے ساتھ پیدا ہو تو پیدا ہونے والا کوئی نقص، کوئی عیب، کوئی کمی لے کر پیدا ہوگا؟ ہرگز نہیں۔


عبد اور معبود کا فرق ٭ ایک شبہ کا ازالہ
اب ہم سے لوگ کہتے ہیں کہ بھائی تم تو شرک کی تعلیم کے لئے بیٹھے ہو۔ اب تک تو ہم خدا کا بے عیب ہونا سنتے آئے اور تم نے رسول کو بے عیب کہہ دیا۔ تم نے تو رسول کو اللہ بنا دیا۔ میں نے کہا

سخن شناس نۂ دلبرا خطا ایں جاست

تو بات کو پہچاننے والا نہیں۔ اے دل لینے والے یہی تو خطا ہے۔
انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ اللہ کا بے عیب ہونا اللہ کی شان کے لائق ہے اور مصطفی کا بے عیب ہونا مصطفی کی شان کے لائق ہے۔ اللہ معبود ہو کر بے عیب ہے، حضور عبد ہو کر بے عیب۔ اللہ خالق ہو کر بے عیب ہے، مصطفی مخلوق ہو کر بے عیب۔ اللہ کے لئے اولاد کا تصور عیب ہے۔ قرآن میں ہے، یہودیو! عیسائیو! تم میرے لئے اولاد ثابت کرتے ہو، میں اس سے پاک ہوں۔ کیونکہ یہ تو میرے حق میں عیب ہے۔ لیکن حضور تاجدارِ مدنی محمد مصطفی احمد مجتبیٰ
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کے حق میں اولاد کا نہ ہونا، نسل کا منقطع ہونا عیب تھا۔ تو پتہ چلا اللہ تعالیٰ اپنی شان میں بے عیب ہے اور مصطفی اپنی شان میں بے عیب۔ اللہ تعالیٰ اپنی معبودیت میں بے عیب ہے اور حضور اپنی عبدیت میں بے عیب۔ اللہ تعالیٰ اپنی الوہیت میں بے عیب اور مصطفی اپنی نبوت میں بے عیب۔ اللہ تعالیٰ اپنی الوہیت میں بے عیب ہے اور رسول اپنی رسالت میں بے عیب۔ اللہ تعالیٰ واجب ہو کر بے عیب اور محبوب ممکن ہو کر بے عیب۔ یعنی محترم حضرات! اب بتایئے کہ شرک کا کوئی شبہ باقی رہا، سوائے اس کے کہ مسلمانوں کو بہکایا جائے۔

معلم الاخلاق

محترم حضرات!
میں عرض کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عظمت والا رسول بھیج کر ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا ہے اور اس رسول معظم کی شان یہ ہے کہ
یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ آیَاتِہٖ
ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ کا کلام تلاوت فرما کر اور تلاوتِ آیات الٰہیہ کی ضرب سے ان کے دلوں کے زنگ کو دور کرتا ہے اور جب ان کے دل صاف ہو جاتے ہیں
وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ
پھر ان کے پاک صاف اور ستھرے دلوں میں کتاب اور حکمت کے علم کو بھر دیتا ہے۔ کیونکہ کتاب (قرآن) اور حکمت کا علم بڑا پاک ہے اور پاک چیزیں پاک جگہوں میں ہی رکھی جاتی ہیں۔ اس کے اہل کون تھے؟ اس کے اہل صدیق اکبر، فاروق اعظم، عثمان غنی، علی مرتضیٰ دیگر صحابہ اہل بیت، تابعین، مجتہدین، اولیاء، اغواث، اقطاب، ابدال، نجبا، نقبا، صلحا، شہداء، کاملین، مومنین، راسخین تھے۔
محترم حضرات
یُزَکِّیْ کا فاعل حضور ہیں۔ حضور پاک فرمانے والے ہیں اور ان کے غلام پاک ہونے والے ہیں۔

نجاست کی قسمیں

محترم حضرات!
نجاست کی دو قسمیں ہیں۔ ایک حکمی اور دوسری حسی۔ جیسے شرک حکمی نجاست ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،
اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ (سورۃ توبہ، ۱۰، آیت ۲۷)
اس کے سوا کچھ نہیں کہ مشرک سب ناپاک ہیں۔
کپڑا ناپاک، پانی سے پاک ہو جاتا ہے۔ مگر مشرک کی نجاست سات سمندروں کے پانی اور دنیا بھر کی فیکٹریوں کے صابن سے بھی دور نہیں ہو گی۔ مشرک کی نجاست سچے دل سے ایک دفعہ کلمہ طیبہ پڑھ لینے سے دور ہو جاتی ہے اور اب اگر کوئی ناپاک کپڑے کو کلمہ طیبہ پڑھ کر پاک کرنا چاہے۔ لاکھ دفعہ کلمہ طیبہ پڑھ لے، کپڑا ناپاک ہی رہے گا۔ اس سے پتہ چلا کہ جس عالم کی نجاست ہوتی ہے، اسی عالم کا آلہ طہارت ہوتا ہے۔ کیونکہ شرک کی نجاست عالم محسوسات سے بالاتر ہے، یہ عالم غیر محسوس کی چیز ہے تو اس کے لئے آلہ طہارت بھی عالم غیر محسوس سے ہو گا اور پھر آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ فقط کلمہ طیبہ پڑھ لینے سے مشرک، کافر، منافق کی نجاست دور نہیں ہو جائے گی۔ اس لئے کہ جب تک کلمہ طیبہ کی تصدیق نہ ہو جائے اور
لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کی تصدیق بھی عالم غیر محسوس کی چیز ہے اور اگر نجاست پیشاب میں سے ہے تو اس کپڑے کو پاک کرنے کے لئے عالم محسوسات کا آلہ طہارت ہونا چاہئے اور وہ پانی ہے۔

قرب مصطفوی

میرے آقا کے تزکیہ کا نظام بہت عظیم ہے۔ میرے آقا سرورِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ پاکی کا مرکز ہیں۔ کوئی ظاہر میں ہے، تب بھی پاک ہو رہا ہے اور کوئی باطن میں ہے تب بھی پاک ہو رہا ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ شرک کی نجاست جہاں ہو کلمہ بھی وہاں پہنچ جائے۔ تب دل پاک ہو گا اور جہاں کپڑے پر پیشاب لگ جائے، وہاں پانی پہنچ جائے، تب کپڑا پاک ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا محبوب، اللہ کے کلام کی تلاوت کی ضرب لگا کر ایمان والوں کے دلوں کو پاک کرتا ہے۔ تو جب پاک کرنے والے رسول ہیں تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایمان والا یہاں ہو، رسول وہاں ہوں؟ پاکی تب ہی ممکن ہے، جب مصطفی مومن کے قریب ہوں اور مومن مصطفی کے قریب ہو اور مجھے کہنے دیجئے کہ جب تک آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ مومن کے دل میں جلوہ گر نہ ہو جائیں، مومن پاک ہو ہی نہیں سکتا۔ پاک کرنا تو آپ کا منصب ہے۔ پاک کرنے کے لئے تو آپ تشریف لائے ہیں۔ اور جو اپنے آپ کو حضور سے دور سمجھے، وہ پاکی سے محروم رہے گا۔
محترم عزیزو!
اللہ کے رسول کو قریب سمجھو۔ اپنے دلوں کو حضور کی محبت سے لبریز کر لو۔ میں سمجھتا ہوں
اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ جس سے محبت ہو گی، آدمی اس کے ساتھ ہو گا۔ محبت کامل ہو گی تو معیت بھی کامل ہو گی۔ محبت ناقص ہو گی تو معیت بھی ناقص ہو گی۔ اس لئے میرے آقا نے بالکل حق فرمایا
لَا یُؤْمِنُ اَحَدُ کُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ

 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج