اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ کا تیسرا پہلو

بمقام: عید گاہ، ملتان

محترم حضرات!
قرآن مجید اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ کی وہ آخری ہدایت ہے کہ جس کے بعد آسمان سے کسی مزید ہدایت کے آنے کا تصور نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام آسمانی ہدایتیں جو ابتداء سے لے کر زمانہ رسالت جناب محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ تک آئیں، قرآن ان سب تعلیمات اور پیغاماتِ ربانی کا مجموعہ ہے۔ لوگ اس کو نہ سمجھیں تو اس میں نہ قرآن کا قصور ہے اور نہ ہمارا۔ قرآن نے بار بار فرمایا
ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی (توبہ: آیت ۳۳)
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا۔
یہاں
اَلْہُدٰی پر الف، لام ہے اور نحو اور معنوی اصول و قواعد سے واقف لوگ تو بخوبی سمجھتے ہیں۔ مگر جو لوگ نہیں جانتے، ان کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اَلْہُدٰی پر الف، لام نے ھُدٰی کے ہر فرد کو اپنے اندر لے لیا۔ کوئی فرد ایسا نہیں رہا جو اس ھُدٰی کے ضمن میں نہ آ گیا ہو، کون سے اَلْہُدٰی ہیں جس کا ذکر قرآن نے کیا اور فرمایا
ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی (پ۱۰: توبہ: آیت ۳۳)
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا۔
اور وہ
ھُدٰی آدم علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام تک جتنے نبیوں کو خدا نے جو ہدایات دیں، ہر ہدایت کو اپنے محبوب کے دامن میں رکھ کر بھیج دیا۔ لہٰذا کل ھُدٰی کا مجموعہ قرآن ہوا۔ اور اس ھُدٰی کا مرکز اور ھُدٰی کے نازل ہونے کا مقدس مقام جناب محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کا سینہ پاک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے نبی کو لفظ ہادی سے تعبیر کیا ہے اور قرآن نے فرمایا، لِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ
یہاں
ہَادٍ سے مراد نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کے متعلق فرمایا
ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی
تمام
ھُدٰی کا مرکز و محور ذاتِ پاک جناب محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ ہیں اور جو لوگ حضور کی ذاتِ مقدسہ کے متعلق یہ تصور ذہن میں رکھتے ہیں کہ وہ کسی کو ھُدٰی نہیں دے سکتے اور پھر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ حضور کے آنے کا وہ کیا مقصد سمجھتے ہیں؟
قرآن کی آیت پر ہمارا ایمان ہے لیکن ان آیات کو آپس میں مت ٹکراؤ۔ ٹھیک ہے قرآن نے کہا
اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ
بے شک آپ (اسے) ہدایت یافتہ نہیں کرتے، جس کا ہدایت یافتہ ہونا آپ کو پسند ہو۔
تو معلوم ہوا حضور جس کو چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے۔
محترم عزیزو!
اگر اللہ تعالیٰ یہ فرماتا کہ آپ کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے تو پھر تو کوئی بات تھی۔ لیکن بات یہ نہیں کہ آپ ہدایت نہیں دے سکتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَائُ (القصص: ۵۶)
بے شک آپ (اسے) ہدایت یافتہ نہیں کرتے، جس کا ہدایت یافتہ ہونا آپ کو پسند ہو۔ لیکن اللہ ہدایت یافتہ کرتا ہے (آپ کے طفیل) جسے چاہے۔
اس کا کیا مطلب ہوا؟ بھئی میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جس کی ہدایت رسول اکرم ﷺ کی وجہ سے محبوب ہو اور حضور ﷺ ہدایت کو پسند فرمائیں اور اللہ تعالیٰ ہدایت کو پسند نہ فرمائے یہ ممکن نہیں۔ کیونکہ قرآن نے مطلقاً ہدایت کو محبوب قرار دیا ہے اور قرآن نے کہا کہ
وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ (الحجرات: آیت ۷)
لیکن اللہ نے تمہیں ایمان کی محبت دے دی اور اسے تمہارے دلوں میں مزین فرما دیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے متنفر کر دیا۔
تو پتہ چلا کہ ایمان محبوب ہے اور ایمان کو محبوب بنانے والا کون ہے؟ وہ اللہ ہے۔ تو معلوم ہوا کہ سب سے پہلے ہدایت اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب ہدایت اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے تو اللہ تعالیٰ نے ابو جہل، عتبہ، شبیہ کو ہدایت کیوں نہیں دی؟ تو کیا اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دے سکتا؟ پھر تو بات ہی ختم ہو گئی۔ نہ آپ کا محبوب ہدایت دے سکتا ہے اور نہ اللہ۔ یہ تو کوئی مسلمان بھی نہیں کہہ سکتا۔
تو پتہ چلا کہ ہدایت کا تعلق حب سے نہیں بلکہ مشیت اور ارادہ سے ہے۔ حب اور چیز ہے، مشیت اور ارادہ اور چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی گناہ محبوب نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں پوچھتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ کا اذن نہ ہو تو کائنات کا کوئی ذرہ ہل سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ لیکن اس کے باوجود کائنات میں لوگ جھوٹ بول رہے ہیں اور برائیاں کر رہے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو برائیاں محبوب نہیں ہیں۔ معلوم ہوا، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور علم کے مطابق ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ازل سے جانتا تھا کہ ابو جہل کو جتنی بھی ہدایت کی جائے گی وہ قبول نہیں کرے گا۔ لہٰذا مشیت علم کے مطابق ہوئی اور اس کا ظہور مشیت کے مطابق ہوا۔ تو پتہ چلا ہدایت کا تعلق حب سے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بڑا کرم فرمایا۔ کیا مطلب؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے محبوب! تو جس کو محبوب رکھے، اس کو ہدایت نہیں کر سکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ جس کی مشیت فرمائے اس کو ہدایت دے سکتا ہے۔ اس کا مطلب کیا تھا؟
مطلب یہ تھا کہ جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہدایت پر آنے والے نہیں ہیں، اگر حضور کی مشیت پر ہدایت رکھ دی جاتی تو پھر بھی وہ ہدایت پر نہ آتے تو اس کے بعد ہوتا کیا؟ ہوتا یہ کہ وہ لوگ یہ کہہ دیتے کیونکہ ہدایت رسول اللہ ﷺ کے علم اور مشیت پر موقوف تھی اور ابو جہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ کہتے ہمیں تو آپ کے علم نے محروم رکھا۔ اگر آپ ہماری ہدایت کی مشیت فرما لیتے تو ہم ہدایت پر آ جاتے۔ تو اس طرح حضورﷺ پر الزام آتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے پیارے حبیب! تجھ پر الزام ہی نہ آنے دوں گا۔ اس لئے میں نے ہدایت کا تعلق اپنی مشیت سے رکھا، تیری مشیت سے نہیں۔ اگرچہ تیری اور میری مشیت ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَا تَشَآئُ وْ نَ اِلَّا اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ (پ۲۹: دہر: آیت ۲۹)
اور تم نہیں چاہ سکتے، جب تک اللہ نہ چاہے۔
خدا کی قسم! مصطفی کی وہ مشیت نہیں ہوتی، جب اللہ کی مشیت نہ ہو۔ تو اس لئے خدا کے رسول کی مشیت، خدا کی مشیت ہے اور رسول کی ذات مظہر جمال الوہیت ہے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ لفظ اللہ کے جمال کا ظہور لفظ محمد میں ہے یعنی کوئی اللہ کا جمال دیکھنا چاہے تو محمد میں دیکھ لے۔
محترم حضرات!
تو اب
اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ کے کیا معنی ہوں گے۔ معنے یہ ہوں گے کہ اے پیارے حبیب! ہدایت کا تعلق حب سے نہیں بلکہ مشیت سے ہے اور تیری اور میری مشیت میں اختلاف نہیں ہے۔ مگر میں نے مشیت کو اپنی ذات سے متعلق کیا تاکہ لوگ آپ پر اعتراض نہ کریں اور اے میرے محبوب! لوگ مجھ پر اعتراض کر ہی نہیں سکتے۔ اس لئے کہ میں تو سُبْحَانَ اللّٰہ ہوں۔ اور جو سُبْحَانَ اللّٰہ ہو اس پر اعتراض کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایک اخباری خبر پر تبصرہ
کل ایک بیان میں آیا کہ نظامِ مصطفی کی اصطلاح غلط ہے بلکہ اسے نظام الٰہی کہنا چاہئے۔ اس لئے کہ ہم مسلمان ہیں، محمدی نہیں۔ مجھے یہ بیان پڑھ کر بڑا دکھ ہوا اور میرا ایمان ہے کہ جب تک ہم محمدی نہ ہوں، ہم مسلمان ہو ہی نہیں سکتے۔ ورنہ مسلمان کے معنی صرف یہ لئے جائیں کہ جو خدا کو مان لے تو وہ مسلمان ہے۔ اور میرا ایمان یہ ہے کہ جب تک کوئی مصطفی کو نہ مانے اس وقت تک وہ خدا کو مان ہی نہیں سکتا اور وہ مسلمان ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ بھی اس بارے میں یہ فرمائیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہوا اور میں بھی یہ کہتا ہوں کہ یہ ٹھیک نہیں ہوا۔ ہاں البتہ اس شخص نے ہم پر احسان ضرور کیا کہ اس نہایت محنت اور جانفشانی کے ساتھ دلائل قائم کر کے انتہائی ظالم اور جابر کے ظلم و جبر کی زنجیروں کو کاٹ کر ہماری مدد کی ہے۔ ہم اس کے ممنون ہیں۔ اس کا ہم انکار نہیں کرتے۔ مگر اس کا یہ کہنا کہ ہم محمدی نہیں۔ تو اس نے یہ ٹھیک نہیں کہا۔
بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مرکز ہدایت قرار دیا اور اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ حضور ہدایت نہیں دے سکتے اس کا مطلب یہ ہے کہ
اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَائُ
کیونکہ ہدایت کا تعلق مشیت سے ہے اور مشیت اس کی ہے جو خالق
اِہْتِدَاء ہے۔ اور جو مشیت خالق اِہْتِدَاء کی ہو گی وہی مشیت مصطفی کی ہو گی۔ واللّٰہ باللّٰہ ثم تاللّٰہ مصطفی کی مشیت خالق اِہْتِدَاء کی مشیت سے مختلف ہوتی ہی نہیں۔ باقی اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ کے معنی صاف ہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ ازل سے جانتا ہے کہ ہدایت قبول کرے گا، اس کے لئے ہدایت پانے کی صورت پیدا کر دیتا ہے۔
تو صفت
اِہْتِدَاء کیا ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ جس میں ہدایت یافتہ ہونے کی صلاحیت پیدا کرے گا، وہی ہدایت قبول کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے میرے پیارے محبوب! یہ خلق اِہْتِدَاء میرا کام ہے۔ اگر یہ کام تیرا ہو تو جس کو ہدایت نہیں ملے گی وہ اعتراض کرے گا۔ میرے پیارے مجھے تیرے حق میں اعتراض گوارہ نہیں۔
اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ کے معنی واضح ہو گئے اور یہ قرآن ہے اور میرا قرآن کے ایک ایک لفظ پر ایمان ہے لیکن میرے محترم عزیزو! قرآن میں فقط ایک ہی آیت تو نہیں ہے اور بھی تو بہت سی آیتیں ہیں۔ ان کو بھی ذرا دیکھ لیا ہوتا۔ کیا یہ قرآن نہیں۔

اِنَّکَ لَتَہْدِیْ کی تشریح
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اِنَّکَ لَتَہْدِیْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(س شوریٰ: آیت ۵۲)
(اے حبیب!) بے شک آپ ضرور سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرماتے ہیں۔
رہا طریق ارسال المطلق یہ خود معتزلہ کی اصطلاحیں ہیں اور جو اہلِ حق ہیں ان کا مقام ان سے بہت اونچا ہے۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ
اراء الطریق ثواب بعین طریق الثواب
ہدایت کے حقیقی صریح معنی ہیں اور اہلِ سنت کہتے ہیں کہ
خلق الاھتداء ہدایت کے حقیقی صریح معنی ہیں۔ اب اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ کے کیا معنی ہوئے؟ یہاں یہ حقیقت صریحاً میں مستعمل ہے کہ اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ فرماتا ہے کہ اے میرے محبوب! خلق اہتِداء میرا کام ہے اور جس کے لئے میں خلق اہتِداء فرما دوں اس کو ہدایت دینا تیرا کام ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ
اِنَّکَ لَتَہْدِیْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اے پیارے حبیب! تخلیق میں کر رہا ہوں اور تقسیم تو کر رہا ہے۔ یعنی تخلیق میرا کام ہے اور تقسیم تیرا کام ہے۔ اس لئے ساری نعمتیں اور ہدایتیں قرآن میں جمع ہیں اور قرآن تمام سابقہ کتب آسمانی کا جامع ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مرکزِ ہدایت حضور کی ذات کو فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام سابقہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی خصوصیات و کمالات کو حضور کی ذاتِ اقدس میں جمع فرما دیا اور تمام شریعتوں کے کمالات حضور کی شریعت میں جمع ہیں۔ یعنی شریعت محمدی جامع الشرائع ہے اور قرآن جامع الکتاب ہے اور حقیقت محمدیہ تمام حقائق کائنات کی جامع ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدَا ہُمُ اقْتَدِہْ
یہ وہی لوگ ہیں، جن کو اللہ نے ہدایت دی تو آپ (بھی) ان کے طریقے پر چلیں۔ (آیت ۹۰: سورئہ انعام)
میرے محبوب! یہ تمام انبیاء جن کا ذکر ہم نے قرآن میں کیا ہے اور وہ جن کا ذکر نہیں کیا سب کو میں نے
ہُدٰی دی ہے اور نبوت کی سیرت ان کے اندر رکھی ہے۔ ہَدَی اللّٰہُ اور فَبِہُدَا ہُمُ اقْتَدِہْ۔ میرے محبوب! تو آخری نبی ہے اور وہ سب کے سب آپ سے پہلے آ گئے ہیں۔ اب تو سب کے بعد آ کر ہر ایک نبی کی سیرت دکھا کر چلا جا کیونکہ فَبِہُدَا ہُمُ اقْتَدِہْ اللہ اکبر! اور لوگوں نے کہا کہ اے محبوب! تو سب نبیوں کا مقتدی بن جا۔ یعنی حضور مقتدی اور تمام انبیاء امام! کیسی عجیب بات ہے کہ مقتدی موجود ہو اور امام نہ ہوں یعنی سب انبیاء آ کے چلے گئے اور پھر لطف کی بات یہ کہ لاکھوں امام ہوں اور مقتدی ایک ہو۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر امام ہیں اور ایک سرکار مقتدی ہوں۔ یہ عجیب فلسفہ ہے۔ یہ بات عقل میں بھی نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ نے آقا ا کو یہ فرمایا کہ فَبِہُدَا ہُمُ اقْتَدِہْ اس کا کیا مقصد ہے؟ اس کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح میرے محبوب امام آگے ہوتا ہے او رصفوں میں مقتدی پیچھے ہوتے ہیں۔
زمانہ کے اعتبار سے وہ انبیاء پہلے آ کے چلے گئے اور تو زمانہ کے اعتبار سے آخر میں آیا اور جب تو آخر میں آیا تو جو کمال ہر نبی اپنے دور میں دکھا کے چلا گیا ہے۔ پیارے حبیب تو اپنے دورِ نبوت میں ہر نبی کا کمال دکھا دے۔ اسی لئے قرآن نے فیصلہ کیا
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ
(اے محبوب!) فرما دیجئے، اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری فرمانبرداری کرو۔ اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا۔
یعنی اگر اللہ سے محبت ہے تو مصطفی کے پیچھے چلو۔ ان کے پیچھے چلنا ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر کے پیچھے چلنا ہے۔

قومی اتحاد
محترم حضرات! میں اتنی بات عرض کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ جو اتحاد باقی رہ گیا ہے، اللہ تعالیٰ اسے باقی رکھے اور اللہ پھر بہت جلد وہ وقت لائے کہ نظامِ مصطفی کے جلوے نظر آئیں اور جو لوگ ہم سے الگ ہو گئے ہیں اس سے ہمیں بڑا دکھ ہوا اور پھر ان کا یہ کہنا کہ ہم نے محض بھٹو کو ہٹانے کے لئے اتحاد کیا تھا، چنانچہ ہمارا مقصد پورا ہو گیا۔ تو معلوم ہوا ان کا مقصد اقتدار حاصل کرنے کے سوا کچھ تھا ہی نہیں۔ تو میں حیران ہوں۔
اسلامی جہاد ہونے کا فتویٰ
محترم حضرات!
لاہور میں تحریک نظام مصطفی کے اسلامی جہاد ہونے کا سب سے پہلے فتویٰ فقیر نے دیا تھا۔
تیس، بتیس علماء سب سوچ رہے تھے اور دلائل پر غور کر رہے تھے تو ان علماء کی موجودگی میں، میں نے فتویٰ جہاد مرتب کیا اور سب نے اس پر تصدیق کی۔ مگر ہمارا مقصد کیا تھا اور ہم نے تحریک کی حمایت کیوں کی تھی؟ اس لئے نہیں کہ صرف بھٹو ہٹ جائے بلکہ ہمارا مدعا اور مقصد یہ تھا کہ نظامِ مصطفی آ جائے۔ مگر لوگ نظامِ مصطفی آنے سے پہلے ہی ہم سے جدا ہو گئے۔ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ کچھ ساتھی ملتان سے لاہور کا ٹکٹ لے کر گاڑی پر سوار ہو جائیں مگر ان میں ایک شخص ساہیوال پر اتر جائے تو معلوم ہوا، وہ شخص تمہارا ساتھی نہیں تھا۔ تو اچھا ہی ہو گیا کہ وہ اتر گیا ورنہ راستے میں نہ جانے وہ کیا خرابی مچاتا اور میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جس کے دل میں نظامِ مصطفی کے لئے کھوٹ ہے تو وہ چلا جائے اور کوئی بھی ہمارے ساتھ نہیں رہے گا تو یقین جانئے کہ اہلِ سنت کی تعداد اتنی کثیر ہے کہ انشاء اللہ خود ہی میدان کے اندر کامیاب ہو جائیں گے۔ اگر ہم سب متحد ہو جائیں تو پھر ہمیں مزید کسی اتحاد کی ضرورت نہیں۔ لیکن مجھے دکھ ہے کہ اتحاد کے ساتھ رہے، نظامِ مصطفی کا نام لیتے رہے، مگر جب اقتدار کا وقت آیا تو نظام مصطفی نہیں۔ تو پھر تم نے یہ نام کیوں لیا؟ ہمارا مقصد نظامِ مصطفی کے سوا اور کچھ نہیں۔ بلکہ میں نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ جس شخص کو آج خدا نے اس کی بد اعمالیوں، بد کرداریوں اور مظالم کی وجہ سے اقتدار سے محروم کر دیا ہے، اگر اس کے ہاتھوں سے نظامِ مصطفی نافذ ہو جاتا تو واللّٰہ باللّٰہ ثم تاللّٰہ کسی تحریک چلانے کی ضرورت نہیں تھی۔ ہم کسی کرسی اور اقتدار کے بھوکے نہیں ہیں او رنہ ہم کوئی رخنہ اور فساد ڈالنا چاہتے ہیں۔ ہم تو خدائے قدوس کی ذات پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارے دل میں کسی قسم کا کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ اگر نظامِ مصطفی کے لئے کسی کے دل میں ذرّہ برابر بھی کھوٹ ہے تو ہمیں ضرور چھوڑ کر چلا جائے۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ! ہمیں متحد کر دے۔ اگر ہم متحد اور متفق ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے شاملِ حال ہو گی اور پھر نظامِ مصطفی ہمیں نصیب ہو جائے گا۔ اے اللہ! ہم گنہگار، عاجز اور روسیاہ ہیں۔ تو کریم رؤف رحیم ہے۔ ہمارے حال پر رحم فرما!

اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ
 

پچھلا صفہ

ہوم پیج