نظامِ مصطفیٰ میں حدیث کی آئینی حیثیت

بمقام: یونیورسٹی میں انجمن طلباء اسلام سے خطاب

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

محترم حضرات!
ایسے ملک میں جس کی بنیاد ہی دین اور اسلام ہے اور پھر تعلیمی اداروں، یعنی سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں بکثرت ایسے اساتذہ موجود ہیں جو الحاد کا پرچار کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کے دل و دماغ کو اسلام سے بیزاری اور نفرت دلائی جا رہی ہے۔ یہ افسوس ہے کہ باوجودیکہ ہم آج اسلام لانے کے مدعی ہیں لیکن ہم نے اس بات کی طرف توجہ نہیں کی کہ ہماری قوم کے جو بچے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں، ان کے ذہنوں کو اس قدر گمراہ کیا جا رہا ہے کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔
میں نہایت غم و الم کے ساتھ اس حقیقت کا اظہار کر رہا ہوں اور میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں سے جو الحاد و گمراہی پھیلا رہے ہیں، بالخصوص حضور اکرم ﷺ کی حدیث مبارکہ کا انکار اور اس کی آئینی حیثیت سے انکار کرنے والوں سے غفلت نہ برتے۔ انکار حدیث اور حدیث کی آئینی حیثیت کا انکار کرنا زہر قاتل اور دین کی جڑوں کو کاٹ دینے والا نظریہ ہے۔ اگر آج ہم نے حدیث کی آئینی حیثیت کو برقرار نہ رکھا تو دنیا کا نظام قیامت تک کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔ کیوں؟ اس لئے کہ قرآن نے خود اس حقیقت کو ہمارے سامنے بیان فرمایا کہ
مَا اٰتٰـکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ (س الحشر: آیت ۷)
رسول جو کچھ تمہیں دے وہ لے لو۔
وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا (س الحشر: آیت ۷)
اور جس سے منع فرمائیں رک جاؤ۔
یعنی سرکار جو دے دیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں، رک جاؤ۔ گویا سرکار اپنے اقوال و افعال سے اور اپنے حرکات و سکنات اور اپنی نورانی اداؤں سے جو عطا فرما دیں وہ دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے
مَا اٰتٰـکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ
فرما کر اپنے حبیب کے افعال و اقوال، حرکات و سکنات اور اداؤں کو آئینی حیثیت عطا فرما دی اور فرمایا
اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ
اطاعت کرو، اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے
اَطِیْعُوْا اور اپنے حبیب کے لئے بھی اَطِیْعُوْا فرمایا۔ اَطِیْعُوْا ایک ہی صیغہ ہے۔ اللہ کی اطاعت فرض اور رسول اللہ کی اطاعت بھی فرض ہے۔ جب تک سرکار کے قول و فعل کو آئینی حیثیت حاصل نہ ہو تو آپ کی اطاعت قرآن و حدیث کی روشنی میں کبھی ہو ہی نہیں سکتی۔ کیونکہ آپ کا قول و فعل واجب الاطاعت ہے اور اسی قول و فعل کا نام حدیث ہے۔ لہٰذا حدیث کی آئینی حیثیت کو قرآن کی روشنی میں ماننا پڑے گا۔ ورنہ ہمیں قرآن سے بھی دست بردار ہونا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا
اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ
دونوں جگہ
اَطِیْعُوْا ارشاد فرما کر دونوں کی اطاعت کو ایک مرتبہ میں رکھا۔ کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اللہ کی اطاعت فرض ہے اور رسول اطاعت واجب۔ یا اللہ کی اطاعت ضروری ہے اور رسول کی اطاعت کم ضروری ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اللہ کی اطاعت کا تصور ہی قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ اللہ کے رسول اطاعت نہ کی جائے کیونکہ اللہ کی ذات کو کسی نے نہیں دیکھا۔ اللہ کے کلام کو کسی نے سنا ہی نہیں اور نہ کسی پر اللہ تعالیٰ کے ارشادات نازل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کلام نازل کیا تو اپنے رسول پر۔ جو حکم دیا تو اپنے حبیب کو دیا اور فرمایا کہ میرے رسول کی اطاعت کرو۔ میں نے تمہیں کچھ نہیں دیا۔ میں نے سب کچھ اپنے حبیب کو دیا ہے۔ لہٰذا میرے حکم کی اطاعت بھی میرے رسول ہی کرائیں گے۔ اللہ نے اقامت صلوٰۃ کا حکم دیا لیکن اقامت صلوٰۃ کی کوئی کیفیت، کوئی نوعیت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مفصل طور پر بیان نہیں فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے اقامت صلوٰۃ کا حکم دیا۔ مگر نماز کی کوئی ترکیب و ترتیب بیان نہیں فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے رکوع ، سجود اور قیام کا حکم دیا۔ مگر رکوع، سجود اور قیام کا وقت نہیں فرمایا۔
اقامت صلوٰۃ اللہ کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرانا، یہ رسول کا کام ہے۔ جس طرح رسول ﷺ نے نماز پڑھی اور جس ترکیب و ترتیب سے رکوع، سجود اور قیام کیا اور اقامت صلوٰۃ کی جو ہیٔت ہمارے سامنے رکھی، وہی قابلِ قبول اور قابلِ اطاعت ہے۔ اس کے بغیر اطاعت کی کوئی صورت ہی نہیں۔
محترم حضرات!
میں عرض کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے خود رسول کے قول و فعل کو آئینی حیثیت عطا فرمائی اور یہاں تک فرمایا
فَلاَ وَرَبِّکَ (اے محبوب!) آپ کے رب کی قسم! لَا یُؤْمِنُوْنَ وہ لوگ مسلمان نہیں ہو سکتے یعنی ایمان کا دعویٰ کرنے والے کبھی مومن ہو ہی نہیں سکتے۔ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ یہاں تک کہ حاکم مانیں آپ کو کس چیز میں؟ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَہُمْ ہر اس جھگڑے میں جو ان کے درمیان پیدا ہو۔ یعنی ہر اس معاملہ اور مسئلہ میں اور ہر نزاع اور پریشانی والے واقعہ میں جس میں تمہیں اختلاف ہو تو اے محبوب آپ کو حاکم اور حکم مانیں اور
ثُمَّ لَا یَجِدُوْافِیْ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
پھر نہ پائیں وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی ہر اس فیصلے سے جو آپ نے کیا اور بخوشی دل سے مان لیں۔ (پ۵: النساء: آیت ۶۵)
یعنی اے محبوب! آپ جو کچھ فیصلہ فرما دیں وہ آپ کے ہر فیصلہ کو سن کر دل کے اندر تھوڑی سی میل بھی نہ لائیں۔ اور تجھے حاکم مان لیں ورنہ وہ مومن نہیں۔ معلوم ہوا رسول کا ہر حکم اور فیصلہ آئینی حیثیت رکھتا ہے اور وہ ایسی آئینی حیثیت رکھتا ہے کہ جو اس کی آئینی حیثیت کو تسلیم نہ کرے، قرآن مجید اس کو مومن ہی تسلیم نہیں کرتا اور یہ مناسب فیصلہ ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا
الا انی اوتیت القراٰن و مثلہ معہ اوکما قال
لوگو! سن لو مجھے قرآن ہی نہیں ملا بلکہ اس کی مثل حدیث بھی عطا کی گئی ہے۔
اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن بھی اللہ تعالیٰ کی وحی ہے اور حدیث بھی اس کی مثل وحی ہے۔ لفظ وحی ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے۔
ہاں البتہ ایک وحی متلو ہے اور ایک غیر متلو۔ متلو اور غیر متلو ہونا اس کا لفظ وحی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ لفظ وحی کے بعد یہ دوسرا مرتبہ ہے کہ ایک وحی کی تلاوت کی جا رہی ہے اور ایک وحی کی تلاوت نہیں کی جا رہی ہے اور خوب یاد رکھئے کہ وحی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ لہٰذا دین کا نظام اس وحی کی بنیاد پر ہو گا۔ خواہ وحی متلو ہو یا غیر متلو یعنی قرآن ہو یا حدیث۔ لہٰذا وحی الٰہی کی حیثیت سے جو آئینی حیثیت قرآن کو حاصل ہے، بعینہٖ وہی آئینی حیثیت حدیث کو بھی حاصل ہے۔ کیونکہ قرآن و حدیث لفظ وحی کے اعتبار سے بلا شبہ ایک ہیں۔

شبہ اور اس کا ازالہ
شاید آپ یہ سوچیں کہ رسول اکرم ﷺ کی حدیث وحی ظنی ہے اور قرآن وحی قطعی۔ تو میں عرض کروں گا کہ یہ فرق لفظ وحی ہونے کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ ہم تک پہنچنے کے اعتبار سے ہے اور میں کہوں گا کہ اس قسم کا اگر فرق نکال کر حدیث کی آئینی حیثیت کا انکار کریں گے تو قرآن کی بھی آئینی حیثیت کا انکار ہو گا۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ سارا قرآن لفظ متواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا اور اس کے الفاظ قطعی الثبوت ہیں لیکن ان میں بعض الفاظ کے معنی قطعی الثبوت نہیں ہیں۔ تو وہاں آپ کیا کہیں گے! وہ بھی تو قرآن ہے پھر وہ قطعی الثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اگر اس کی آئینی حیثیت کا انکار کریں گے تو قرآن کی بہت سی سورتوں کا انکار کرنا پڑے گا۔ مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْئٍ ط (س البقرۃ: آیت ۲۲۸)
اور طلاق پانے والی عورتیں روکے رکھیں اپنی جانوں کو تین حیض۔
یہ آیت قرآن ہے اور نقل متواتر کے ساتھ ہم تک پہنچی جو قطعی الثبوت ہے اور آیت
ثَلٰـثَـۃَ قُرُوْئٍ میں لفظ قُرُوْئٍ کے معنی قطعی طور پر نقل ہو کر ہم تک نہیں پہنچے۔ لہٰذا قُرُوْئٍ کے معنی قطعی الثبوت ہم تک منقول نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ امام شافعی اس کو طہر پر حمل کرتے ہیں اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور ائمہ دین اس کو حیض پر محمول کرتے ہیں۔ تو لفظ قُرُوْئٍ ذو معنی میں مطلق ہے۔ لفظ قُرُوْئٍ قرآن ہے او ریقینا منقول متواتر ہے لیکن کیونکہ اس کے معنی قطعی طور پر منقول ہو کر ہم تک نہیں پہنچے اس لئے معنی میں ظنیت پیدا ہو گئی۔ اگر ظنیت کی بناء پر حدیث کی آئینی حیثیت کا انکار کریں گے تو اس آیت کا بھی انکار کرنا ہو گا اور قرآن میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔

دلائل کی قسمیں
بہرحال دلائل کی کئی قسمیں ہیں
(۱) ایک دلیل شرعی جو قطعی الدلالۃ اور قطعی الثبوت ہے۔ (۲) دوسری وہ دلیل شرعی جو ظنی الثبوت اور ظنی الدلالۃ ہوتی ہے۔ (۳) تیسری وہ دلیل شرعی جو قطعی الثبوت او رظنی الدلالۃ (۴) چوتھی وہ دلیل شرعی جو ظنی الثبوت اور قطعی الدلالۃ ہے۔
اس لئے احکام اربع جو غیر شرعیہ ہیں، ان میں بعض احکام ایسے ہیں کہ ان کی نقل متواتر اور ثبوت قطعی ہے لیکن معنی پر دلالت قطعی نہیں۔ ابھی میں نے عرض کیا کہ
ثَلٰثَۃَ قُرُوْئٍ آیت ثبوت کے اعتبار سے قطعی ہے۔ مگر دلالت کے اعتبار سے قطعی نہیں ہے۔ لفظ قُرُوْئٍ کی دلالت اپنے معنی پر ظنی ہے تو اگر اس ظنیت کے لحاظ سے ہم یہ کہیں کہ اس قسم کی حدیث آئینی حیثیت نہیں رکھتی تو پھر قرآن کے معنی لفظ متواتر کے ساتھ ہم تک نہیں پہنچے۔ لہٰذا ان سب کے اندر ظنیت کا پہلو اتار کر قرآن کو آئینی حیثیت سے خارج نہیں کریں گے۔ اگر کوئی قرآن کو آئینی حیثیت سے خارج کرے گا تو اس حقیقت کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔ اس لئے میں عرض کرتا ہوں کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں حدیث آئینی حیثیت رکھتی ہے۔ جیسا کہ میں نے ابھی آپ کو بتایا۔ اللہ نے صاف صاف بتایا کہ میرے حبیب جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں خواہ قول ہو یا فعل، وہ حدیث ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے لینے کا حکم دیا ہے۔
تو معلوم ہوا کہ قرآن کی روشنی میں رسول کا ہر فعل آئینی حیثیت رکھتا ہے۔
فَلاَ وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ
تو (اے محبوب!) آپ کے رب کی قسم! وہ لوگ مسلمان نہیں ہو سکتے، یہاں تک
کہ حاکم مانیں آپ کوہر اس جھگڑے میں جو ان کے درمیان پیدا ہو۔
اور اے میرے محبوب جب تک آپ کو حاکم مان کر آپ کے ہر فیصلے کو بدل و جان بغیر تنبیہ قلب کے اسے تسلیم نہ کریں، وہ اس وقت تک مومن ہو ہی نہیں سکتے۔ رسول کے ہر فیصلے کا واجب القبول ہونا یہ حدیث کو آئینی حیثیت دیتا ہے۔ یہاں ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے کہ
حرجا مما قضیت میں ما عام ہے یعنی آپ جو فیصلہ کردیں۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے فیصلوں میں اس بات سے پاک ہیں کہ حق کے خلاف کوئی فیصلہ فرمائیں! کیوں؟ اس لئے کہ رسول کے ہر فیصلہ کو قبول کرنا اور ہر فیصلہ کو بدل و جان ماننا اور اس پر عمل کرنا ایمان کی بنیاد ہے۔
عزیزانِ محترم!
میں آپ سے کیا کہوں، دل دکھتا ہے کہ ایک وہ قوم ہے جو حدیث کا انکار کر کے حدیث کی آئینی حیثیت کی منکر ہو گئی اور خود رسول کی ذات کی آئینی حیثیت کا انکار کر دیا۔ یہ کون ہے؟ یہ وہ قوم ہے جو رسول اللہ ﷺ سے غلطیوں کے صدور کی قائل ہے۔ یعنی جو اس کے قائل ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل اور رسول کی اداؤں میں، رسول کی نورانی حرکات و سکنات اور فیصلوں میں غلطی ہو سکتی ہے۔ کبھی زید بن ارقم اور عبد اللہ بن ابی کے معاملہ کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ رسول ﷺ نے زید بن ارقم کی تکذیب فرمائی اور عبد اللہ بن ابی کی تصدیق کر دی۔ حالانکہ عبد اللہ بن ابی جھوٹا تھا اور زید بن ارقم سچے تھے۔ گویا (معاذ اللّٰہ!) سرکار نے غلط فیصلہ فرمایا۔ میں خدا کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ علم و عقل کی روشنی میں یہ بات قطعاً باطل ہے کہ حضور سرورِ عالم ﷺ نے زید بن ارقم، فریق مقدمہ کو جھوٹا قرار دے دیا اور عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین کو مقدمے کا فریق بنا کر سچا قرار دے دیا۔ سچے کو جھوٹا قرار دینا اور جھوٹے کو سچا قرار دینا بہت بڑا جرم ہے اور رسول سے یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ قرآن نے
مِمَّا قَضَیْتَ فرمایا کہ میرے محبوب تیرا ہر فیصلہ ماننا ایمان ہے۔
بہرحال حدیث کی آئینی حیثیت کو وہی مانے گا جو رسول اکرم ﷺ کو آئینی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے اور رسول کی آئینی حیثیت کیا ہے؟
اقامہ اللّٰہ مقام نفسہ فی امرہ و نہیہ ووعدہ ووعیدہ
رسول اللہ
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کے قائم مقام، نائب مطلق اور نائب برحق ہیں، ہر امر اور نہی میں اور ہر وعد اور وعید میں۔
یہ حضور کی آئینی حیثیت ہے اور جن لوگوں نے رسول کی آئینی حیثیت کا انکار کیا، گویا حدیث کا انکار کیا۔ اگر حدیث کو مانتے تو پہلے رسول کی آئینی حیثیت کو تسلیم کرتے۔
بہرحال ہمارا مذہب اور ایمان یہ ہے کہ نظام مصطفیٰ کی پہلی بنیاد کلام اللہ اور دوسری حدیث رسول ہے۔ قرآن و حدیث کی آئینی حیثیت کے بغیر نظام مصطفی ﷺ کا تصور کوئی ذہن قبول نہیں کر سکتا۔
(نوٹ: اب حضرت امام اہلسنّت سامعین کو سوالات کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں)
سوال: (اس دوران کسی پروفیسر صاحب نے سوال کیا کہ) آپ کی کون سی بات قبول کریں۔ ایک وہ حدیث جو آپ بحیثیت رسول فرمائیں وہ تو قابل قبول ہے اور کیا وہ حدیث بھی قابلِ قبول ہے کہ جو آپ بحیثیت بشر فرمائیں؟
جواب: پہلے تو میں یہ عرض کروں گا کہ کیا کوئی شخص یہ بتا سکتا ہے کہ حضور کی بشریت، رسالت سے الگ تھی۔ یا کوئی ایسا وقت دکھاؤ کہ حضور بشر ہیں اور رسول نہیں۔ یا حضور رسول ہیں اور بشر نہیں۔ تو لہٰذا حضور کی بشریت، رسالت سے جدا ہو نہیں سکتی۔ اور اگر یہ مان لیا جائے کہ حضور نے یہ بات بشریت کی جہت سے فرمائی اور یہ بات رسالت کی جہت سے فرمائی تو پھر بھی حضور کے فرمانے پر موقوف ہے۔ کوئی بھی معلوم نہیں کر سکتا کہ یہ بات کس حیثیت سے فرمائی۔ پھر بھی سرکار ہی فرمائیں گے کہ یہ بات کس جہت سے ہے۔ بشریت کی جہت سے ہے یا رسالت کی جہت سے۔ تو نتیجہ یہ نکلا کہ ہر آن ہر بات حضور کی زبان اقدس پر موقوف ہے۔ اور میں یہ بات مانتا ہوں کہ سرکار نے بہت سی باتیں بشریت کی جہت سے فرمائیں۔
لیکن یہ سمجھنا کہ وہ حدیثیں قابل عمل نہیں، بہت بڑی غلط فہمی ہے کیونکہ بشریت والی بات بھی تو حضور نے فرمائی ہے۔ درحقیقت وہ ایسی بات نہیں کہ معاذ اللّٰہ باطل ہو اور حق کے خلاف ہو۔ بلکہ یہ حتمی بات جو سرکار نے بشریت کی جہت سے فرمائی، اس میں بہت بڑی حکمت ہے۔ اگر سرکار ہر بات رسالت کی جہت سے فرمائیں تو امت تمام احکام میں جکڑ کر رہ جائے گی۔ کیونکہ جو باتیں جن کی جہت رسالت سے ہو گی وہ تو مسلمانوں کے لئے قطعی حکم ہو گا۔ تو ان تمام امور میں امت جکڑ جائے گی لیکن سرکار تو امت کے لئے
رؤف رحیم ہیں۔ اس لئے اپنی امت کو جکڑ بندیوں سے بچانے کے لئے کہ یہ بات بشریت کی جہت سے فرما رہا ہوں اور یہ خود نہیں فرما رہا بلکہ اللہ کی طرف سے فرما رہا ہوں اور رسالت اور بشریت کی جہت کا فرق اس لئے نہیں کہ رسول کی حدیث میں آئینی حیثیت نہیں بلکہ اس لئے کہ امت کے لئے وسعت کی راہیں، رحمت اور رء وفی کا پہلو نکل آئے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے کہ حضور ﷺ کی ہر بات آئینی حیثیت رکھتی ہے یا نہیں، ایک حدیث سناتا ہوں اور یہ حدیث سنن ابو داؤد، سنن دارمی، مسند امام احمد میں ہے اور اس حدیث کے راوی اتنے ثقہ ہیں کہ کسی کو عیب جوئی کا ذرہ برابر بھی موقع نہیں مل سکتا اور راوی بھی بہت ہیں۔
اس حدیث پاک کے راوی عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میری یہ عادت تھی کہ
کنت اکتب کل شیء میں سرکار کی ہر بات لکھ لیا کرتا تھا۔ قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے روکا۔ وقالوا اور انہوں نے کہا انہ بشر یتکلم فی الغضب والرضاء کفار و مشرکین مکہ نے کہا وہ تو بشر ہیں، کبھی غصے میں بات کرتے ہیں اور کبھی راضی ہو کر۔ میرے کریم! اب میں کیا کروں اور میرے لئے کیا حکم ہے؟ کیا میں آپ کی ہر حدیث لکھوں یا نہ! تو سرکار نے فرمایا، اکتب یا عبد اللّٰہ اے عبد اللہ! میری ہر حدیث (بات) لکھ لیا کر۔ والذی نفسی بیدہ اس ذات پاک کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں، میری (محمد ﷺ کی) جان ہے ما یخرج منہ الاحق اس دہن پاک سے حق کے سوا کچھ نکلتا ہی نہیں۔ خواہ وہ بشریت کی جہت سے ہو یا رسالت کی جہت سے۔ ارے بشریت کی بات بھی تو وہی ہو گی جو رسول خود فرمائیں گے کہ میں نے یہ حکم حالت بشریت میں فرمایا اور اس میں ہماری سہولت ملحوظ خاطر ہے۔ ہمارے لئے راحت و فرحت کا پہلو بنی ہوئی ہے۔ اگر ہر بات سرکار رسالت کی جہت سے فرمائیں تو پھر ہم بہت سے احکام میں جکڑ جائیں گے اور ان پر عمل نہ ہو سکے گا۔ لہٰذا کوئی بات حضور نے من حیث البشریت فرمائی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حدیث کی آئینی حیثیت نہیں ہے بلکہ حضور کی حدیث اپنی آئینی حیثیت کو اور قوی کر دیتی ہے۔ اور کوئی سوال ہو تو فرمائیں۔
سوال: سامعین میں سے کسی نے عبد اللہ بن ابی اور حضرت زید بن ارقم کے واقعہ کو دہرا کر سوال کیا کہ حضرت زید بن ارقم کے خلاف اور عبد اللہ بن ابی منافق کے حق میں فیصلہ کیوں کیا گیا؟
جواب: آپ نے غور نہیں کیا۔ یہی بات تو سمجھا رہا ہوں کہ سرکار کا کوئی فیصلہ غلط نہیں ہو سکتا۔ یہ واقعہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے۔ غزوئہ مریسیع میں بنو مصطلق پر فتح پانے کے بعد ایک کنواں سے پانی بھرنے کے موقع پر عبد اللہ بن ابی نے کہا
لَئِنْ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ ط
اگر (اب) ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو عزت والا ذلت والے کو وہاں سے ضرو نکال دے گا۔ (منافقون: آیت ۸)
یعنی ہم ان مکہ سے آنے والے مہاجروں کو جو معاذ اللّٰہ سب ذلیل ہیں، نکال دیں گے۔ حضرت زید بن ارقم انصاری رضی اللہ عنہ نے، عبد اللہ بن ابی ابن سلول کا یہ قول سن کر، بہت ہی آزردہ خاطر ہو کر سرکار کی خدمت میں عرض کیا، حضور! عبد اللہ بن ابی یہ کہہ رہا ہے
لَئِنْ رَّجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ ط
پوری حدیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے ذرا غور فرمایئے تو سرکار نے عبد اللہ بن ابی کو بلایا اور زید بن ارقم سے سرکار نے فرمایا، کیا تم کوئی گواہ پیش کر سکتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا، میرے آقا میرے پاس تو کوئی گواہ نہیں۔
سرکار نے عبد اللہ بن ابی سے کہا، تو بتا، تو نے یہ الفاظ کہے یا نہیں کہے۔ تو اس نے جھوٹی قسم کھا لی کہ میں نے یہ الفاظ نہیں کہے۔ اب شریعت محمدی کا یہ اصول ہے کہ
البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر
گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہے اور اگر مدعی گواہ پیش کرنے سے عاجز ہو جائے تو مدعا علیہ پر ہے کہ وہ قسم کھا لے۔
ایک مرتبہ کسی مسئلہ پر ایک یہودی اور صحابی میں جھگڑا ہو گیا۔ صحابی سرکار کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا۔ حضور! میرا فلاں یہودی سے جھگڑا ہے۔ آپ میرا فیصلہ فرما دیں۔ سرکار نے فرمایا، تیرے پاس کوئی گواہ ہے۔ صحابی نے عرض کیا، حضور! میرے پاس تو کوئی گواہ نہیں۔ تو سرکار نے فرمایا، اگر تیرے پاس کوئی گواہ نہیں تو میں اس سے قسم اٹھواؤں گا۔ تو صحابی نے عرض کیا، میرے آقا! وہ تو بے ایمان ہے، فوراً جھوٹی قسم کھا جائے گا۔ تو آپ نے فرمایا، جھوٹ کا وبال اس پر ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس کا محاسبہ فرمائے گا۔ لیکن دنیا میں۔
البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر
گواہ پیش نہ کرنے کے بعد عبد اللہ بن ابی نے یہ قسم کھائی کہ میں نے بات نہیں کہی۔ تو اب حدیث کے الفاظ کے معنی یہ نہیں ہیں کہ واقعی حضور نے مجھے جھوٹا قرار دے دیا اور واقعی اسے سچا قرار دے دیا بلکہ معنے یہ ہیں کہ حضور نے میرے ساتھ وہ معاملہ کیا جو جھوٹے کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ وہ معاملہ کیا جو سچے کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ اس حدیث کا مطلب ہے اور اس کی تائید میں حضرت عائشہ صدیقہ کی وہ حدیث جو بخاری شریف میں ہے، بطور شاہد پیش کرتا ہوں۔
کاش بخاری شریف میرے سامنے ہوتی۔ البتہ آپ یقین فرمائیں، انشاء اللہ! میں وہی الفاظ پڑھوں گا، جو حدیث میں ہیں۔ ایک غزوہ سے واپسی پر آپ پر بہتان باندھا گیا۔ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی سرغنہ تھا۔ سفر سے واپسی پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ طیبہ بیمار ہو گئیں۔ تقریباً ایک ماہ تک آپ کو اس بہتان کا علم نہ ہوا۔ جب اس بہتان کا علم ہوا تو اور زیادہ بیمار ہو گئیں۔
اور دو راتیں اور ایک دن متواتر خون کے آنسو روتی رہیں۔ بڑی طویل حدیث ہے۔ المختصر، آپ ﷺ تشریف لاتے۔ حضرت عائشہ کی خیریت پوچھتے اور چلے جاتے لیکن اب کی دفعہ حضور تشریف لائے تو آپ کے قریب بیٹھ گئے۔ اس وقت آپ کی والدہ اور والد حضرت ابو بکر صدیق اور دیگر بہت سے صحابہ موجود تھے۔ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا
یا عائشۃ انہ بلغنی عنک کذا و کذا فان کنت بریئۃ فسیبرئک اللّٰہ وان کنت الممت بذنب فاستغفر اللّٰہ وتوبی الیہ (۲)
اے عائشہ! مجھے تمہارے متعلق یہ افواہ پہنچی ہے اگر تم پاک دامن ہو تو عنقریب اللہ رب العزت تمہیں بری فرما دے گا اور اگر تم گناہ میں ملوث ہو گئی ہو تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو اور توبہ کر لو۔
یعنی اے عائشہ! اگر تم کسی گناہ میں آلودہ ہوئی ہو تو تم اللہ سے مغفرت طلب کر لو۔ (حضرت اقدس مذکورہ الفاظ دہرانے پر بہت مغموم ہو گئے) حضور سید عالم ﷺ کا یہ فرمانا ضروی تھا۔ ورنہ لوگ یہی کہتے کہ جن پر الزام تھا ان سے کوئی بات نہ ہوئی تو ہو سکتا تھا کہ وہ اقرار کر لیتیں۔ لہٰذا سرکار کا مقصد تحقیق تھا کہ کوئی بات معرض خفا میں رہ نہ جائے۔ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ سرکار کا اپنا معاملہ تھا اس لئے بغیر پوچھے فیصلہ کر دیا۔
کبھی تو اس لئے حضور سید عالم نور مجسم ﷺ نے کہیں حضرت عثمان غنی اور حضرت علی سے پوچھا کبھی حضرت ربیعہ سے اور زینب بنت جحش سے پوچھا۔ حضرت عمر فاروق اور اسامہ سے پوچھا۔ سب سے حضور تصدیق و تحقیق فرماتے رہے۔
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ سرکار نے تحقیق اس لئے فرمائی کہ آپ کو علم نہیں تھا۔ اللہ اکبر! سرورِ عالم ﷺ نے خود فرمایا
مابغت امرء ۃ نبی قط
نبی کی بیوی اور بے حیائی کا کام کرے، یہ ممکن ہی نہیں۔
کبھی نبی کی بیوی سے کفر ہو گیا اور نوح علیہ السلام کی بیوی سے بھی کفر ہو گیا۔ باوجود اس کے کہ کفر کا کام بہت بڑا گناہ ہے۔ مگر بے حیائی اور بے شرمی کا کام نہیں جس کو کر کے وہ کسی کو منہ نہ دکھا سکے۔ اس لئے کبھی بھی کسی نبی کی بیوی نے بدکاری کا کام نہیں کیا۔
اب اگر حضورﷺ کو حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ طیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں بے علم اور لاعلم قرار دیا جائے تو ان باتوں میں سے ایک بات ماننی پڑے گی۔ کیا؟ کہ سرکار نے خود فرمایا
مابغت امرء ۃ نبی قط
کسی نبی کی بیوی نے بے حیائی اور بدکاری کا کام نہیں کیا۔
اور یہ حضور جانتے ہیں کہ صدیقہ میری بیوی ہیں اور میں نبی ہوں تو حضور کا یہ فرمان کہاں جائے گا کہ
مابغت امرء ۃ نبی قط کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی بے حیائی اور بدکاری کا کام نہیں کیا۔
اگر اس کے باوجود بھی حضور کی بیوی حضرت عائشہ صدیقہ کے بارے میں معاذ اللّٰہ یہ بدگمانی ہو کہ شاید ان سے غلطی ہو گئی ہو تو پھر یا تو آپ کے منکوحہ ہونے میں شک ہو گا یا آپ کے نبی ہونے میں شک ہو گا۔ لہٰذا نہ آپ کے منکوحہ ہونے میں شک ہو سکتا ہے اور نہ آپ کے نبی ہونے میں۔ تو عائشہ صدیقہ کے بارے میں حضور کو کیسے شک ہو سکتا ہے۔ تو حضور نے اپنے علم اور ذات کے لئے تحقیقات نہیں فرمائی بلکہ شوشہ اڑانے والوں کا منہ کالا کرنا مقصد تھا۔ کہ جتنی چاہو تصدیق کر لو۔ ان سے پوچھ لو، ان سے پوچھ لو۔ مہینوں تک تحقیق کرتے رہو۔ حق، حق ہو گا۔ باطل، باطل! اگر کسی کو کسی کے معاملات میں تنہائی کا موقع نہ دیا جائے اور تحقیقات کے لئے وقت نہ رکھا جائے تو لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگر حضو راتنی تحقیقات نہ فرماتے تو ادھر حضرت عائشہ صدیقہ کی پاکی معرض شکوک و شبہات میں پڑ جاتی اور ادھر نعوذ باللّٰہ حضور پر اعتراض ہوتا کہ اپنی بیوی ہونے کی وجہ سے زیادہ تحقیق سے کام نہیں لیا۔
بہرحال جب حضور نے پوچھا
یا عائشۃ انہ بلغنی عنک کذا و کذا فان کنت بریئۃ فسیبرئک اللّٰہ وان کنت الممت بذنب فاستغفر اللّٰہ وتوبی الیہ
اے عائشہ! مجھے تمہارے متعلق یہ افواہ پہنچی ہے۔ اگر تم پاک دامن ہو تو عنقریب رب العزت تمہیں بری فرما دے گا اور اگر تم گناہ میں ملوث ہو گئی ہو تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو اور توبہ کرو۔
رفعت و عظمت کا مجسمہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے سرکارنے یہ الفاظ فرمائے تو آپ کے دل پر جو گزری وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ تو حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہے کہ میں نے بڑے ضبط سے کام لیا اور میں نے کہا کہ
فلئن قلت لکم انی بریئۃ لا تصدقونی ولئن اعترفت لکم بامر واللّٰہ یعلم انی منہ بریئۃ لتصدقونی
اگر میں یہ کہوں بھی کہ میں اس بہتان سے پاک ہوں، تب بھی لوگ میری بات کی تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں اس گناہ کا اعتراف کر لوں اور اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے کہ میں اس سے پاک ہوں۔ تو ضرور میری تصدیق کی جائے گی۔
یعنی حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ اگر میں سچی بات کہوں تو تم میری تکذیب کرو گے۔ حالانکہ سرکار ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خطاب فرمایا تھا۔ مگر انہوں نے جمع کے صیغہ کے ساتھ، صحابہ کو مخاطب قرار دے کر کہا کہ اگر میں سچ کہوں تو تم مجھے سچا نہیں مانو گے۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو تم مجھے سچا مانو گے۔ علماء نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللّٰہ حضور، حضرت عائشہ کو جھوٹا قرار دے سکتے ہیں بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ اگر میں سچ کہوں تو میرے ساتھ جھوٹوں والا معاملہ ہو گا۔ اگر جھوٹ بولوں تو سچوں جیسا معاملہ ہو گا۔ اور میرے جھوٹ اور سچ کو میرا اللہ بھی جانتا ہے اور اس کا رسول بھی۔ مخاطب کون ہیں؟ صحابہ کرام اور پھر ایک حدیث میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ حضور! آپ نے میری طرف توجہ نہیں فرمائی اور میرے ساتھ وہ معاملہ فرمایا کہ جس کی میں مستحق نہ تھی۔ لیکن اپنے خیال میں حضور سرور عالم ﷺ کیونکہ رسول ہیں اور تمام علم و حکمت کے تقاضے آپ کے سامنے ہیں۔ اس لئے انہوں نے اپنے جذبات کا مظاہرہ کیا لیکن حقیقت یہ تھی کہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ نہیں کہنا چاہتیں کہ معاذ اللّٰہ مجھے جھوٹا قرار دیا گیا یا جھوٹا قرار دیا جائے گا بلکہ میرے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے گا جو جھوٹوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
اور جب حضرت عثمان غنی سے پوچھا، تمہاری کیا رائے ہے تو حضر عثمان غنی نے عرض کیا،
اشہد انہا بریئۃ
میں گواہی دیتا ہوں، بے شک وہ پاک دامنہ ہیں۔
اور شہادت علم یقینی کا نام ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے منافقین کو فرمایا
وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لَکٰذِبُوَْنَ (المنافقون: آیت ۱)
اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بے شک منافق ضرور جھوٹے ہیں۔
تو اللہ نے منافقین کو کیسے کاذب فرمایا؟ حالانکہ وہ تو حضور کو اللہ کا رسول مانتے تھے۔ مگر انہیں رسول ماننے پر کاذب نہیں فرمایا بلکہ
قَالُوْ نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ (پ ۲۸: المنافقون: آیت ۱)
(تو) کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک ضرور آپ اللہ کے رسول ہیں
یعنی ان کی شہادت کی رو سے اللہ نے ان کو جھوٹا قرار نہیں دیا۔ کیونکہ شہادت علم یقینی کے اقرار کے اظہار کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے محبوب! آپ کے رسول ہونے کا ان (منافقین) کے دل میں یقین نہیں ہے اور زبان سے کہہ رہے ہیں کہ
نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ
بے شک ضرور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
تو پتہ چلا شہادت علم یقینی کا نام ہے اور حضرت عثمان نے شہادت دی کہ
اشہد انہا بریئۃ
میں گواہی دیتا ہوں کہ صدیقہ پاک ہیں۔
سرکار نے پوچھا، اے عثمان! تیرے پاس اس کی کیا دلیل ہے؟ عرض کیا، میرے آقا! آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا کہ مبادا ناپاکی پڑی ہو۔ تو جس خدا نے آپ کے سائے کو ناپاکی سے بچایا، وہ آپ کے جسم کو نجاست سے کب ملوث فرمائے گا؟ لہٰذا میں شہادت دیتا ہوں کہ صدیقہ پاک ہیں۔ (۱)
اب ذرا غور فرمایئے، حضرت عثمان غنی نے علم یقینی کا اظہار فرمایا۔ اگر یہ بات واقعی دلائل اور شرع کے خلاف تھی تو حضور، حضرت عثمان غنی کو فوراً روکتے کہ اے عثمان! ہمیں تو یقین نہیں ہے اور تم کیسے شہادت دیتے ہو؟ کیا سرکار نے حضرت عثمان غنی کو شہادت دینے سے روکا؟ نہیں روکا۔ جب نہیں روکا تو اس حدیث کی تفسیر سے ثابت ہو گیا کہ حضرت عثمان کی گواہی حضور کی نظر میں کیسی تھی؟ جن کے غلاموں کو یقینی علم ہو، ان کے آقا کے علم کا کیا عالم ہو گا؟
عزیزانِ محترم!
میرے عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ حضرت زید بن ارقم کا اور عبد اللہ بن ابی کے بارے میں تصدقہ کے معنی یہ نہیں کہ واقعی مجھے جھوٹا قرار دیا گیا اور واقعی منافق کو سچا قرار دیا گیا بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ سرکار نے میرے ساتھ جھوٹوں والا معاملہ کیا اور منافق کے ساتھ سچوں والا۔ حضور کا یہ معاملہ فرمانا الگ بات ہے اور واقعی جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا قرار دینا یہ الگ بات ہے اور زبانِ رسالت کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا قرار دے دیں۔
بہرحال سرکار اس سے پاک ہیں۔تو اسی لئے اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کے ہر فیصلے کو مظہر ایمان قرار دیا اور فرمایا
فَلاَ وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ
تو (اے محبوب!) آپ کے رب کی قسم وہ لوگ مسلمان نہیں ہو سکتے، یہاں تک کہ حاکم مانیں آپ کو ہر اس جھگڑے میں جو ان کے درمیان پیدا ہو، پھر وہ نہ پائیں اپنے دلوں میں کوئی تنگی ہر اس فیصلے سے جو آپ نے کیا۔
حضور کے ہر فیصلے کے حق ہونے پر اس آیت قرآنی نے مہر لگا دی۔ اب بھی اگر کوئی نہ مانے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کے دل پر قفل لگی ہوئی ہے۔
سوال: سامعین میں سے، غالباً کسی پروفیسر صاحب نے سرکار کا کچھ انصار کو درختوں کی تلقیح (پیوند) کرنے سے منع فرمانے اور اگلے سال پھل ٹھیک نہ آنے کے بارے میں سوال کیا۔
جواب: ارے بھائی، اس کا جواب تو میں پہلے بھی دے چکا ہوں کہ سرکار نے فرمایا، میں جو کچھ اپنی طرف سے کہوں، تم پر واجب نہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضور نے جو بات فرمائی وہ حق نہیں تھی، وہ حق تھی اور اس کا جواب اس حدیث میں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا
اگر تم تلقیح کے عمل کو چھوڑ دو تو یہ تمہارے لئے اچھا ہو گا۔
تو اس کے بہتر ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اگر ترک کرتے رہتے تو یقینا ان کے لئے بہتر ہی تھا۔ بہتر ہی تھا۔ بہتر ہی تھا۔ لیکن اگر انہوں نے شکایت کی تو حضور نے ان کو ترک پر دوبارہ قائم ہونے کا حکم نہیں دیا۔ کیونکہ ایسا نہ ہو کہ تلقیح حرام ہو جائے اور پھر ان کے لئے مشکل ہو جائے۔ تو لہٰذا قیامت تک عمل تلقیح جاری رہے گا اور اسی لئے جاری رہے گا کہ سرکاری نے اس پر تلقیح ترک نہیں فرمائی اور اس کا جواب وہاں موجود ہے کہ یہ بات میں نے اپنی طرف سے فرمائی ہے۔ یعنی یہ نہیں کہ یہ حق نہیں ہے اور نہ اس میں تمہارے لئے کوئی تنبیہ کا پہلو ہے۔ اگر تم ترک تلقیح کر دو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور ترک تلقیح نہ کرو تو کوئی گناہ نہیں ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ یہ بہتر ثابت نہ ہوا یہ غلط ہے۔ اس لئے کہ حضور نے فرمایا کہ
ترکتم انہوں نے مطلقاً ترک نہیں کیا اور ایک سال بعد انہوں نے شکایت کر دی تو سرکار نے ان کو مزید تلقین نہیں فرمائی کہ نہیں ترک پر جاری رہو، ترک پر جاری رہو۔ اگر ایسا فرماتے تو پھر ان کے لئے تلقیح مشکل ہو جاتی اور ترک کرنا فرض ہو جاتا اور اسی چیز کو بتانے کے لئے تو حضور نے فرمایا تھا کہ جو بات میں اپنی طرف سے کہوں، اس کا کرنا فرض نہیں۔
اب اور کوئی بات فرمائیں۔
بہرحال میں آپ حضرات سے یہ التماس کروں گا کہ آپ اس بات کی کوشش اور توثیق کریں کہ ہمارے تعلیمی اداروں کو ان پروفیسرز، لیکچررز، اساتذہ سے پاک کیا جائے جو ان تعلیمی اداروں میں دھریت، ملحدانہ تعلیم اور بے دینی پھیلا رہے ہیں۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو اسلامی نظام کا نام لینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ تو ایسا ہے کہ ایک طرف کوئی عمارتیں بناتا جائے اور دوسری طرف اسے کوئی گراتا جائے۔
بہرحال اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔
 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج