لَایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا کی تشریح

بمقام: عید گاہ، ملتان
بتاریخ: ۵؍ مئی۱۹۷۸ء

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ o
صَدَقَ اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَنَحْنُ عَلٰی ذَالِکَ لَمِنَ الشَّاہِدِیْنَ وَ الشَّاکِرِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مَحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ عَلَیْہِ

محترم حضرات!
حاصل زندگی وہی لمحات ہیں جو اللہ کے پیارے حبیب ﷺ کی حاضری میں اور یاد میں گزر جائیں۔ اللہ کی ذات ایسی ذات ہے جس کو ماننا ضروری ہے دنیا میں کثرت سے لوگ پائے جاتے ہیں جو خدا کو ماتنے ہیں۔ لیکن خوب یاد رکھئے کہ محض اللہ کی ذات کو مان لینا ہرگز نجات کے لئے کافی نہیں ہے۔ نجات کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کیا جائے۔ اللہ کے رسول پر ایمان لا کر رسول کی تعلیم کے مطابق اللہ پر ایمان لایا جائے۔
اگر کوئی شخص رسول کی دعوت کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑا دے اور محض اپنی عقل اور اپنی سوچ سمجھ کے مطابق کسی نہ کسی صورت میں خدا کی ہستی کو مان لیتا ہے تو خدا کی قسم ہرگز نجات کے لئے کافی نہیں ہے۔ جو شخص رسول کی دعوت کا انکار کرتا ہے وہ رسول کا انکار کرتا ہے۔ رسول کی ذات کو پس پشت ڈال دینا اور خدا کی ذات کو کسی نہ کسی صورت میں مان لینا ہرگز معیار نہیں ہے۔
آپ شاید یہ سوچیں کہ رسول بھی تو خدا کی ذات ہی کو منوانے کے لئے آتے ہیں اور رسول کا مقصد خدا کی ذات کو منوانا ہے۔ جب کوئی شخص اصل مقصد کو لے لے تو پھر اس کی نجات ہونی چاہئے۔ مگر یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ اصل مقصد تو خدا کی ذات کو ماننا ہے مگر کوئی شخص خدا کی ذات اور صفات کو رسول کے بغیر جان ہی نہیں سکتا۔ خداکو کسی نہ کسی صورت میں مان لینا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ خدا کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے جو کہ رسول کے بغیر جاننا ممکن نہیں ہے۔
ہندو بھی خدا کو کسی نہ کسی صورت میں مانتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ بھی کسی نہ کسی صورت میں مانتے ہیں۔ اس لئے جب کوئی شخص اپنی عقل اور سوچ کی روشنی میں خدا کو مانے گا تو اصل میں وہ خدا کو نہیں مانے گا کیونکہ اس کی معرفت اور اس کا علم ناقص ہے۔ اس لئے وہ اس کی تصدیق ناقص ہو گی۔ ناقص تصدیق کا مدار نجات نہیں ہے۔ نجات کا مدار وہ تصدیق ہے جو کامل ہو، صحیح ہو۔ اس لئے خدا کی ذات کا صحیح علم اور معرفت رسول کے بغیر ممکن نہیں۔
ایک سوال: سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی شخص نے رسول کا زمانہ نہیں پایا اور نہ اس کے پاس رسول کی دعوت پہنچی اور وہ خدا کو کسی نہ کسی صورت میں مان لے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا وہ نجات پائے گا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ علماء کرام کا فیصلہ یہ ہے اور قرآن مجید بھی کہتا ہے کہ جس کو رسول کی دعوت نہیں پہنچی اور اس نے کسی رسول کا زمانہ نہیں پایا، وہ مجبور ہے۔ وہ اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ خدا کی معرفت حاصل کر سکے۔ کیونکہ اسے اس کی قدرت اور طاقت نہیں ہے تو جس بات پر بندے کو قدرت نہ ہو خدا اس کا حکم اپنے بندے پر نافذ نہیں کرتا۔ قرآن میں یہ فیصلہ ہے کہ
لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا (البقرہ)
اللہ کسی بندے کو اس بات کی تکلیف نہیں دیتا جو اس کی قدرت میں نہ ہو۔
تو ایسی صورت میں وہ لوگ جن تک رسول کی دعوت نہیں پہنچی یا جنہوں نے رسول کا زمانہ نہیں پایا، ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ یہ تسلیم کر لیں، اپنی عقل کی روشنی میں عقل کی رہنمائی کے ذریعے کہ کوئی بننے والا بغیر بنانے والے کے نہیں ہوتا۔ دنیا فانی ہے، کائنات حادث ہے۔ حادث بغیر محدث کے، وجود موجد یا موجب کے بغیر نہیں ہوتا۔ مثلاً یہ لاؤڈ سپیکر ہمارے سامنے ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کو کس نے بنایا۔ مگر یہ ضروری ہے کہ جب یہ سامنے آیا تو اس کا بنانے والا کوئی ہے۔ اسی طرح یہ کافی نہیں کہ مان لیا جائے کہ چاند ہے، سورج ہے، زمین یا نظامِ شمسی موجود ہے۔ نظامِ قمری، نظامِ فلکی، نظامِ ارضی موجود ہیں۔ یا روحانی نظام اور عالمِ تحت عالمِ حوت (ھوت) کا نظام عالمِ نہی، عالمِ امر وغیرہ کوئی نظام ناظم کے بغیر نہیں چل سکتا۔ لہٰذا کوئی چیز اور کوئی ذات ہے جو چاند، سورج کو چلاتی ہے۔ نظام ہائے عالم کو بر قرار رکھتی ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ
لَوْ کَانَ فِیْہِمَا اٰلِـہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا
اگر ایک نظام کو چلانے والے کے سوا کوئی دوسرا الٰہ ہوتا تو یہ نظام کب کا خراب ہو گیا ہوتا
کیونکہ اگر دو خدا ہوتے تو دونوں ایک دوسرے کی مرضی کے خلاف حکم چلاتے تو نتیجہ فساد ہوتا۔
سورج چاند چل رہے ہیں۔ رات دن بدل رہے ہیں۔ گرمی ہے، سردی ہے۔ یہ برسات ہے، بہار ہے، یہ خزاں ہے۔ زمین و آسمان ہیں۔ نباتات ہیں، جمادات ہیں، حیوانات ہیں۔ جسمانی اور روحانی نظام ہیں۔ سب کچھ بتا رہا ہے کہ کوئی ناظم ہے، جو اسے چلاتا ہے۔ عقل بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ میرا بھی کوئی بنانے والا ہے۔ تو یہ بات ثابت ہوئی کہ جس نے رسول کا زمانہ نہ دیکھا ہو دعوتِ رسول اس تک نہ پہنچی ہو، اس کے لئے اتنا کافی ہے کہ مان لے کہ میرا کوئی بنانے والا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی نجات کے لئے اتنا کافی ہے۔باقی امور کا وہ مکلف نہیں ہے۔
اسی طرح حضور کے والدین کو ہم مومن کہتے ہیں۔ نبی کریم کے جو والدین کریمین ہیں۔ حضور کے والد ماجد اور والدہ ماجدہ طیبہ طاہرہ ایسے زمانے میں تھے، جس زمانے میں رسول کی کوئی شریعت موجود نہیں تھی۔ ان کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ بت پرست نہ تھے۔ کوئی شریعت بھی نہ تھی۔ حلال و حرام کے احکامات ان کے سامنے نہ آئے۔ عبادات، معاملات اور شرعی احکام ان کے سامنے نہ تھے۔ لہٰذا وہ کسی حکم کے مکلف نہیں۔ ان کو اللہ نے ایک بات کی تکلیف دی ہے کہ وہ خدا کو مان لیں کہ ان کا بنانے والا کوئی ہے اور اللہ کی صفات اورمعرفت کی راہیں کیا ہیں، اس کا مکلف انہیں نہیں کیا گیا۔ کیونکہ یہ بات رسول کے بغیر کسی کو نہیں مل سکتی۔
اسی بناء پر حضور کے والدین کو ہم مومن کہتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ وہ کسی بت کو نہ پوجیں۔ کسی کو خدا کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ چنانچہ حضور کے والدین نے کبھی شرک نہیں کیا۔ اگر کوئی دس ہزار دفعہ مر کر پیدا ہو تو وہ یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ حضور کے والدین نے کسی بت کو پوجا ہو۔ اسی اصول پر حضور کے والدین مومن ہیں۔ باقی اس کے علاوہ کوئی اور سبیل نہیں ہے کہ رسول کی تعلیمات کے بغیر نجات ہو سکے۔ خدا کا ہر حکم نبی کی تعلیم ہے۔ رسول کی تعلیم ہے۔
عزیزانِ گرامی!
اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ رسول وہ ہے جس کے ذریعے خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ
وہ جس نے بھیجا رسول ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ
اللّٰہ اللّٰہ اللّٰہ۔ خدا نے اپنی معرفت کا دروازہ اپنے رسول کی ذات کو قرار دیا ہے۔ کہ میری معرفت حاصل کرنا چاہتے ہو تو میرے رسول کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ رسول کی ذات خدا سے بالا و بلند ہے (نعوذ باللّٰہ) ہم ہرگز نہیں کہتے کہ خدا کا ماننا بعد کو ہے اور رسول کا ماننا اول ہے۔ اصل مقصود خدا ہی کا ماننا اور جاننا ہے لیکن رسول کے بغیر معرفت الٰہی جاننا ممکن نہیں ہے اور جن لوگوں نے اس اصول کو نہیں مانا انہوں نے حضور کے والدین کریمین کو معاذ اللّٰہ مومن نہیں مانا اور میرا ایمان ہے کہ حضور کے والدین کریمین کو مومن نہ ماننے والا مومن نہیں ہے۔ مومن نہیں ہے۔ (نعرہ) مطلب یہ کہ ان کو ایمان کے انوار نصیب نہیں ہوئے جنہوں نے حضور کے والدین کے مومن ہونے کا انکار کیا ہے۔ انہوں نے حقائق پر غور نہیں کیا ہے۔ ان دلائل پر غور نہیں کیا اور انکار کر بیٹھے۔ معاذ اللّٰہ وہ مومن نہیں۔ اللہ ان پر رحم فرمائے۔
اسی لئے میں یہ کہتا ہوں کہ حضور کے والدین کریمین نے چونکہ رسول کا زمانہ نہ پایا اور نہ بت پرستی کی اور نہ ہی شرک کیا۔ اس لئے وہ شریعت کے مکلف نہ تھے مگر خدا کو مانتے تھے اس لئے وہ مومن ہیں۔ فرمانِ خدا کے مطابق وہ مکلف نہیں یعنی
لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا

ایمان کی کسوٹی

مگر آج کے اس دور میں ہم سب مکلف ہیں کیونکہ ہم نے حضور کی دعوت سنی اور شریعت کو پایا۔ اس لئے لازم ہے کہ ہم رسول پر ایمان لائیں جس کے ذریعے خدا کی معرفت حاصل ہو سکے اور یہی ایمان کی کسوٹی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سنار کے پاس ایک پتھر ہوتا ہے اور وہ اس پر سونے کو رگڑ کر دیکھتا ہے اور سونے کے کھوٹا کھرا ہونے کو پرکھتا ہے۔ جس پتھر کے ذریعے اس نے سونے کا حال معلوم کیا، اگر وہ پتھر خود ہی غلط ہو جائے تو سونے کا حال کیسے معلوم ہو گا؟

معیار حق
رسول کی ذات معیار ہے حق کا۔ اور اگر رسول کی ذات میں غلطی ہو تو پھر وہ حق کا معیار نہیں رہتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ رسول کی ذات غلط کار نہیں ہو سکتی اور میرا یہ ایما ن ہے اور اس بات پر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کا پیدا کرنے والا رب گواہ ہے کہ رسول کی ذات غلط کار نہیں ہے۔ اگر ایسا ہو تو ہمیں حق نصیب ہی نہیں ہو سکتا۔
رسول کی کئی حیثیتیں ہیں۔ وہ رسول ہیں، نبی ہیں اور بشر بھی ہیں اور اگر کوئی یہ کہے کہ وہ بشر ہونے کی حیثیت سے معیار نہیں ہیں تو یہ غلط ہے، گمراہی ہے۔ کیونکہ رسول کی ذات رسول کی حیثیت سے حق ہے اور بشریت اور رسالت الگ الگ نہیں ہیں بلکہ جس لمحے حضور رسول ہیں، اسی لمحے بشر بھی ہیں۔ اس لئے حضور ہر حیثیت میں رسالت کے درجہ عالیہ پر فائز ہیں اور رسالت اور بشریت الگ نہیں۔ اس لئے حضور معیارِ حق ہیں کیونکہ رسول کی حیثیت سے حق ہیں بلکہ میرا ایمان ہے کہ حضور ہر حیثیت سے حق ہیں۔ بشریت کے ناطے سے بھی اور رسالت کے ناطے سے بھی آپ حق کا معیار ہیں اور بشریت و رسالت بلکہ ہر حیثیت سے رسول معیارِ حق ہیں۔ ہر امتی کے لئے رسول کے احکامات پر عمل واجب ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ
بے شک تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں احسن نمونہ ہے۔
اور رسول
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ حق کے ساتھ تشریف لائے اور معیارِ حق صرف حضور کی ذات ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حضور کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لئے اگر اللہ کی معرفت جاننا ہے تو رسول کے در پر آؤ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہمیں حضور کو معیارِ حق سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین آمین

وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج