سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

بمقام: ملتان شریف
بتاریخ: ۲۸؍ ذی الحج ۱۴۹۹ ھ

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِo
صَدَقَ اللّٰہُ مَوْلَانَا الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَبَلَّغَنَا رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ وَنَحْنُ عَلٰی ذَالِکَ لَمِنَ الشَّاہِدِیْنَ وَ الشَّاکِرِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مَحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ عَلَیْہِ

محترم حضرات!
آپ لوگ خراجِ تحسین کے لائق ہیں کہ اپنی مساعی جمیلہ سے سیدنا فاروق اعظم کی یاد میں یہ تقریب منائی۔ اللہ آپ سب کو سیدنا فاروقِ اعظم کے ایمان کامل کی جھلک عطا فرمائے۔ (آمین) اس سلسلہ میں مختصر سی باتیں عرض کروں گا کہ حضور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نبوت کے چھٹے سال مشرف با اسلام ہوئے۔
اسلام سے پہلے کفر میں انتہائی شدت رکھتے تھے۔
اور جس کسی کے متعلق معلوم ہوتا کہ وہ ایمان لے آیا ہے اور مسلمان ہوا ہے، اس کے ساتھ بہت ہی سختی فرماتے تھے۔ اللہ کے حبیب نبی اکرم
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ نے دعا فرمائی
اللّٰہم اید الاسلام بعمر بن الخطاب او بعمرو بن الہشام
اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام کے ساتھ اسلام کی مدد فرما۔ (۱)
حضور نے دعا فرمائی، ادھر یہ سلسلہ پیدا ہوا کہ حضرت عمر کے حق میں دعا رنگ لائی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر دعا کا ظہور اس طرح ہوا کہ حضرت عمر نے جب دیکھا کہ لوگ مسلمان ہو رہے ہیں تو انہوں نے کہا، اس سلسلہ کو ختم کر دوں اور معاذ اللہ حضور کو ختم کر دوں۔ اس جذبہ سے فاروقِ اعظم تلوار لے کر حضور کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں نعیم بن عبد اللہ سے ملے، پوچھا، اے عمر کہاں کا ارادہ ہے؟ (حضرت نعیم بن عبد اللہ پہلے اسلام لے آئے تھے، مگر اظہار نہ کرتے تھے) حضرت عمر نے جواب دیا کہ محمد ﷺ کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔ حضرت نعیم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، پہلے اپنے گھر کی خبر لو۔ تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو گئے ہیں۔ رُخ بدل گیا اور سیدھے بہن کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچے تو سورئہ طٰہٰ کے پڑھنے کی آواز آ رہی تھی۔ تو انہیں تعجب ہوا۔ حضرت عمر کے کانوں میں جب یہ آواز پہنچی
اِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی تو یہ آواز حضرت عمر کے دل میں اتر گئی۔ بلکہ دل کی گہرائیوں تک چلی گئی۔ یہ آواز کا اترنا کیا تھا۔ حضور کی دعا تھی۔
اللّٰہم اید الاسلام بعمر بن الخطاب
اے اللہ! اسلام کو عمر بن خطاب کے ساتھ مدد دے۔
حضرت عمر چونکہ کفر میں انتہائی شدت رکھتے تھے۔ بہن کو مارنا شروع کر دیا اور اتنا مارا کہ سر سے خون بہنے لگا۔
جب بہن خون خون ہو گئی تو کچھ دل میں نرمی پیدا ہوئی۔ تو فرمایا کہ کیا پڑھ رہی تھیں۔ انہوں نے پھر اسی آیت کو پڑھا
اِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی
جب حضرت عمر نے اس آیت کو دوبارہ سنا تو جو کچھ دل کی گہرائیوں میں پہلے اترا تھا۔ دوبارہ ابھر آیا اور فرمایا جن پر یہ کلام اترا ہے، ان کے پاس لے چلو۔ جب حضور ﷺ کے ہاں پہنچے تو سرکار دو عالم
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ دارِ ارقم میں تشریف فرما تھے۔
صحابہ کی تعداد تھوڑی تھی۔ بعض نے چالیس اور بعض نے پینتالیس لکھی ہے۔ مگر تحقیق یہ ہے کہ ۳۹ تھی اور ۴۰ ویں حضرت عمر مردوں میں تھے اور ۲۳ عورتیں مسلمان ہوئی تھی۔
حضور کے چچا حضرت حمزہ بھی مسلمان ہو چکے تھے۔ حضرت عمر جب وہاں پہنچے تو جو صحابہ حضور کی خدمت کے لئے وہاں متعین تھے، تو ان کو تشویش ہوئی۔ حضرت حمزہ نے فرمایا کہ تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ اسے آنے دو۔ اگر اچھے ارادہ سے آیا ہے تو بہتر ہے ورنہ اسی کی تلوار سے اس کی گردن اڑا دوں گا۔ جب حضرت عمر داخل ہوئے تو حضور نے فرمایا کہ عمر کیسے آئے ہو۔ حضرت عمر نے عرض کی سرکار کلمہ پڑھا دیں۔
اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
حضرت عمر کا اسلام لانا تھا۔ کلمہ شہادت پڑھنا تھا کہ خود حضور ﷺ نے نعرئہ تکبیر بلند فرمایا۔ آپ کے نعرئہ تکبیر بلند فرمانے پر صحابہ کرام نے بھی نعرئہ تکبیر بلند فرمایا۔ پھر اس نعرہ کی شان تھی کہ مکہ کی گلیوں میں بھی نعرے بلند ہوئے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس وقت سے پہلے ہم اسلام کو ظاہر نہیں کر سکتے تھے۔ علی الاعلان ارکان اسلام کی ادائیگی ممکن نہیں تھی۔
قریش نے روکا تو حضرت عمر نے سخت قتال کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ساتھ لے جا کر حرمِ کعبہ میں نماز ادا کی اور اسی موقع پر حضور ﷺ نے فاروقِ اعظم کا لقب عطا فرمایا۔
حضور نے سیدنا فاروقِ اعظم کو اس قدر نوازا کہ میں بیان نہیں کر سکتا اور یہ حضور ﷺ کی اپنی دعا کی اجابت تھی کہ وہ مسلمان ہو گئے۔ حضور ﷺ نے حضرت عمر کو اللہ تعالیٰ سے مانگ کر لیا۔ جو حضور کی دعا سے ظاہر ہے حضرت عمر حالت کفر میں جس قدر شدت اسلام پر رکھتے تھے، اسلام لانے کے بعد اس سے زیادہ شدت کفر پر ہو گئی اور اسی آیت کا مصداق قرار پائے
اَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ
حضور کی نوازش کا یہ عالم تھا کہ جس مجلس میں فاروق نہ ہوتے تھے، آپ فیصلہ نہیں فرماتے تھے۔ حضور سیدنا صدیق اکبر، فاروقِ اعظم عثمان غنی اور سیدنا علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رائے پر ہی سب کام سر انجام دیتے تھے۔
حضرت عمر کو اسلام سے اور حضور سے ایسی محبت ہوئی کہ ادنیٰ سی بات جو حضور کی شان کے خلاف ہوئی تھی، برداشت نہیں کرتے تھے۔
ابو الخویصرہ کا واقعہ سامنے ہے
اعدل یا رسول اللّٰہ یا رسول اللہ! انصاف کیجئے۔
حضورﷺ نے فرمایا میں عدل نہیں کروں گا تو کون عدل کرنے والا ہو گا۔ (۲)
فاروقِ اعظم نے تلوار نکالی اور حضور کی بارگاہ میں عرض کی، میرے آقا! مجھے حکم دیجئے کہ میں ابھی اس کی گردن اڑا دوں۔ حضور نے فرمایا، صبر کرو۔ اور اللہ کے رسولوں نے اس سے بھی زیادہ تکالیف اٹھائی ہیں اور صبر کیا اور میں بھی صبر کرتا ہوں۔ لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ کسی کو کیا معلوم کہ اس نے کیا کہا ہے۔

حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم
فاروقِ اعظم کے سامنے اگر کفر اور نفاق کی بات آتی تھی تو انتہائی شدت فرماتے تھے۔ ایک شخص نمازِ فجر میں ہمیشہ سورئہ عَبَسَ وَتَوَلّٰی پڑھتا تھا۔ اس سورت میں بظاہر حضور پر عتاب ہے۔ حقیقتاً عتاب نہیں بلکہ محبت کا خطاب ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو حضور کی خدمت میں ہوتے تھے۔ حضور کے انوار و تجلیات سے متاثر ہوتے رہے اور حضور انور کی تعلیمات کا اثر لیتے رہے اور ان کا کفر گھٹتا گیا۔ یہاں تک کہ کفر کی بجائے اسلام آ گیا او رایمان ان کے قلب میں جا گزیں ہو گیا۔ اور اب صرف بات یہ تھی کہ کلمہ پڑھیں۔ یہ سب کچھ حضور کے ارشادات عالیہ کی وجہ سے تھا کہ وہ اسلام قبول کرنے کے لئے بے تاب تھے اور حضور کی محفل میں آئے بیٹھے تھے۔
بڑے بڑے سردارانِ قریش حضور کی خدمت میں حاضر تھے اور آپ ان کو تبلیغ فرما رہے تھے اور حضور کا مقصد یہ تھا کہ یہ بڑے بڑے سردار اگر اسلام لے آئیں تو ان کے ساتھ بے شمار لوگ ہیں تو ان کے ساتھ وہ بھی مسلمان ہو جائیں گے۔ بات یہ ہے کہ حضور تبلیغ فرما رہے تھے اور تبلیغ حضور کا منصب تھا۔ قرآن نے کہا
یٰاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ
یہ میرے آقا کا منصب تھا۔ معلوم ہوا کہ سردارانِ قریش کو تبلیغ کرنا درحقیقت منصب کی تکمیل تھی اور اللہ کے حکم کو بجا لانا تھا۔ یہ تو حکم خدا تھا جس کی بجا آوری فرما رہے تھے۔ حضور اپنے تبلیغی مشن میں ایسے محو اور مستغرق تھے کہ حضور نے ابن ام مکتوم کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی۔ جس کی وجہ سے عبد اللہ ابن ام مکتوم بے قرار تھے۔ نابینا تھے۔ حضور کے حسن و جمال کا پرتو لگائے بیٹھے تھے تو اللہ نے اپنے حبیب ﷺ سے فرمایا
وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکَّٰی
اے میرے محبوب (ﷺ)! شاید وہ کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو جائے اور آپ نے ادھر توجہ نہیں فرمائی۔
وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکَّٰی مقصد کیا تھا؟ یہ تھا کہ وہ تو تزکیے کا حسن و جمال لے کر تیری بارگاہ میں حاضر تھا۔
تزکیہ کیا ہے؟ مصطفی کے حسن کی جھلک کا نام ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ
تو
یُزَکِّیْ کا فاعل کون ہے؟ یُزَکِّیْکا فاعل رسول ہیں۔ یُزَکِّیْ حسن رسالت ہے۔ کیا معنیٰ ہوئے کہ وہ حسن رسالت کو اپنے دل کے آئینے میں لئے بیٹھے ہیں۔ مقصد یہ ہوا کہ
اے پیارے حبیب آپ تو میرے حکم میں سرشار ہو کر تبلیغ فرما رہے ہیں اور وہ آپ کے جلوؤں میں گم ہے۔ آپ کو آپ کے حسن کے جلوؤں میں بیٹھے ہوئے کی پروا نہیں اور آپ حکم کی بجا آوری میں بیٹھے ہیں۔ آپ کو اپنے حسن کے جلوؤں کی پروا نہیں۔ آپ میری تبلیغ چھوڑ کر اپنے جلوؤں میں گم لوگوں پر نظر فرمائیں جو کہ آپ کی نظر شفقت کے متلاشی بیٹھے ہیں۔ اے حبیب! آپ کو تو حسن و جمال کی پروا نہیں رہی۔ ہمیں تو آپ کے حسن و جمال کا خیال ہے۔
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔
نتیجہ کیا نکلا؟ بظاہر تو عتاب ہے۔ بباطن محبت کا خطاب ہے۔ اب محبت کا خطاب وہ سمجھے گا، جس کے دل میں محبت رسول ہو گی۔ اور محبت رسول کیا ہے؟ محبت رسول ایمان ہے اور جو ایمان سے خالی ہے وہ اسے غضب سمجھے گا۔

منافق امام
وہ ایک منافق شخص تھا جس وجہ سے وہ
عَبَسَ وَتَوَلّٰی کی سورت کو حضور ﷺ پر غضب سمجھ کر نماز میں پڑھتا تھا اور جو شخص حضور پر غضب کو پسند کرے، وہ مومن کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کے دل میں تو ایمان کا ذرّہ بھی نہ ہو گا۔
تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب معلوم ہوا کہ ایک امام ہے جو ہمیشہ فجر کی نماز میں
عَبَسَ وَتَوَلّٰی کی سورت پڑھتا ہے تو حضرت عمر کی عظمتوں کو سلام کہتا ہوں ، آپ نے فرمایا، اس منافق کو قتل کر دو۔ کیونکہ سید عالم ﷺ کے عتاب سے لذت لیتا ہے اور اس کو مزہ آتا ہے۔ وہ پکا منافق ہے۔ آپ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ یہ کیا تھا؟ محبت رسول ﷺ تھی۔ بہر حال حضرت عمر حضور کی محبت کا مجسمہ ہیں اور ہر حال حضور پر جان نثار فرماتے تھے۔
آپ کو بدر کا واقعہ یاد نہیں۔ جب بدر میں آپ کو معلوم ہوا کہ حضرت عمر کے ماموں کفار کی طرف سے آئے ہیں تو آپ نے جیسے ہی اپنے ماموں کو دیکھا کہ مسلمانوں کے خلاف کفا ر کی طرف سے میدان میں آئے تو آپ تلوار لے کر ماموں کا مقابلہ کرنے چلے، جب تک ماموں کی گردن نہیں اتاری، اس وقت تک واپس نہ آئے۔ (۱)

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا واقعہ
حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ ایک بار دربارِ مصطفی ﷺ میں تھے کہ ایک واقعہ پیش آیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو تیاری کا حکم دیا کہ آپ خاموشی سے مکہ پر حملہ فرمانے والے تھے۔ حضور نے فرمایا کہ ہماری خبر قریش مکہ کو نہ پہنچے، کوئی یہ خبر کسی کو نہ بتائے۔ خاموشی سے تیاری کرو۔
ایک صحابی بڑ ے جلیل القدر اعلیٰ درجے کے بدری صحابی
حاطب بن ابی بلتعہ انہوں نے کیا کیا کہ حضورکے منع فرمانے کے باوجود ایک خط سردارانِ قریش کے نام لکھا کہ محمد ﷺ ایک عظیم لشکر لے کر مکہ پر چڑھائی کرنے والے ہیں اور تم اپنی حفاظت کا انتظام کر لو۔
حاطب بن ابی بلتعہ نے خط لکھ کر ایک کرائے کی عورت کو دے دیا کہ تم اونٹنی پر سوار ہو کر جاؤ اور یہ خط مکہ کے فلاں فلاں سردار کو دے آؤ۔ وہ عورت روانہ ہوئی۔ وہ عورت تیز رفتار اونٹنی پر قریش کی طرف چلی۔
حضور ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اللہ تعالیٰ اور ایک اور صحابی کو بلایا اور فرمایا کہ ایک عورت اونٹنی پر سوار مکہ جا رہی ہے اور حاطب بن ابی بلتعہ کا خط اس کے پاس ہے جو مکہ کے سرداروں کی طرف جا رہی ہے۔ جاؤ اور اس عورت سے خط بھی لے آؤ اور عورت کو بھی پکڑ لاؤ اور فرمایا کہ عورت فلاں منزل پر ہو گی، مل جائے گی۔ حضور نے منزل کی بھی نشاندہی فرما دی۔ چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور ان کے ساتھی ایک صحابی جن کو حضور نے آپ کے ساتھ منسلک کیا تھا، تیز سواریوں پر سوار ہو کر روانہ ہوئے اور واقعی جب وہ منزل مہران پر پہنچے تو وہ عورت مل گئی۔ بس حضرت علی نے اس عورت کو پکڑ لیا اور فرمایا جو خط لے آئی ہے، وہ مجھے دے دو۔ اس نے انکار کیا کہ خط نہیں ہے۔ حضرت علی نے فرمایا، اے عورت! جھوٹ نہ بول۔ یہ بات آقا دو عالم ﷺ نے فرمائی ہے۔ کائنات غلط ہو سکتی ہے، ان کی بات غلط نہیں ہو سکتی۔
اس عورت نے پھر انکار کیا۔ حضرت علی نے فرمایا، تیری تلاشی لوں گا۔ خط ضرور نکالنا ہے۔ تو تیار ہو جا اور عزت کے ساتھ خط مجھ کو دے دے۔ جب عورت نے دیکھا کہ حضرت علی واقعی میری تلاشی لے لیں گے تو اس نے بالوں کے جوڑے سے خط نکال کر دے دیا۔ حضرت علی خط اور عورت کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں لے آئے اور صحابی رسول حضرت علی کے ساتھ گئے تھے، واپس آئے۔ سرکار نے فرمایا، اس خط کو پڑھو اور جب خط پڑھا گیا تو خط کا مضمون وہی تھا جو حضور نے پہلے بتا دیا تھا۔
حضور نے حاطب بن ابی بلتعہ کو بلایا اور فرمایا، اے حاطب! تم نے یہ خط لکھا ہے۔ عرض کیا، یا رسول اللہ! ہاں، میں نے یہ خط لکھا ہے۔ فرمایا، تم نے یہ خط کیوں لکھا ہے جبکہ ہم نے منع کیا تھا۔ عرض کیا، حضور! میں نے یہ خط اس لئے لکھا تھا کہ جتنے مہاجرین مدینے میں ہیں، ان کے اعزاء و اقارب وہاں ہیں اور ان کے لئے ان کا ہونا ایک سہارا اور وسیلہ ہے۔ میں تو مکہ کا رہنے والا نہیں ہوں اور میرے اہل و عیال مکہ میں ہیں۔ میں نے سوچا کہ میں مکہ والوں پر ایک احسان کر دوں اور وہ اس احسان کے بدلے میں میرے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے اور یہ میرا یقین ہے کہ میں لاکھ خط لکھوں مگر جو فتح اللہ نے آپ کو دینی ہے، وہ اس خط سے بدل نہیں سکتی۔ میرے خط لکھنے سے آپ کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، مگر میرا کام بن جائے گا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑے غضب ناک ہوئے اور عرض کیا، میرے آقا! میں ابھی اس کی گردن اڑاتا ہوں۔ یہ حضور سے کمالِ محبت تھی کہ حکم عدولی بھی برداشت نہ کرتے تھے اور کفر و نفاق پر شدت تھی۔
حضور نے فرمایا، اے عمر یہ بدری ہے۔ ان کی کوئی لغزش قابلِ گرفت نہیں۔ لغزش ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔ اور حضور نے فرمایا، میں گواہی دیتا ہوں، اس نے جو کچھ کہا، سچ کہا ہے۔
حضرت عمر غصہ سے کانپ رہے تھے۔ حضور کے یہ الفاظ سن کر پانی پانی ہو گئے۔ غور فرمایئے۔ حضرت عمر کا غضب ناک ہونا اتنا متعجب نہیں ہے، وہ تو
اَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ کا مظہر ہیں۔

مومن کی علامت
حضرت عمر نے ایک بار بارگاہِ مصطفی ﷺ میں عرض کیا کہ میرے آقا آپ میری جان کے علاوہ کائنات کی ہر چیز سے مجھے زیادہ پیارے ہیں۔ حتیٰ کہ اولاد سے بھی زیادہ آپ سے مجھے محبت ہے۔ سرکار نے فرمایا، اے عمر! ابھی تو مومن نہیں؟ سرکار نے توجہ فرمائی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر عرض کی، میرے آقا آپ تو مجھے میری جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔ سرکار نے فرمایا، اے عمر! اب تو پکا مومن ہے۔
سرورِ عالم ﷺ نے حضرت عمر کو فضائل اور کمالات سے ایسا نوازا کہ حضرت عمر تمام مصائب میں ساتھ رہے اور حضرت عمر مسند خلافت پر بیٹھے تو کمالاتِ رسالت کا ظہور فرمایا۔ کیونکہ یہ تمام میرے آقا کا کرم تھا۔ وہ واقعات جو حضور کی حیات ظاہری میں ظاہر نہ ہوئے، مسند خلافت پر آنے کے بعد ظاہر ہوئے۔ کیونکہ سورج کے سامنے چراغ نہیں جلتا۔ ستارے نہیں جگمگاتے۔ حضور کے وصال کے بعد ابھی حضرت صدیق اکبر خلیفہ تھے کہ حضرت عمر نے اتنا بڑا کام کر دکھایا کہ امت مسلمہ اس احسانِ عظیم سے اپنی گردن نہیں اٹھا سکتی۔

تدوین قرآن مجید
ہوا یہ کہ حضور کے زمانہ میں قرآن مجید مکمل ایک جگہ نہ لکھا گیا تھا بلکہ صحابہ میں سے ہر ایک نے قرآن مجید کے کچھ اجزاء لکھ لئے تھے اور قرآن مکمل جمع نہیں ہوا تھا۔ ہوا یہ کہ خلافت صدیقی میں معرکہ مسیلمہ کذاب ہوا۔ مسیلمہ خبیث، جھوٹا مدعی نبوت تھا۔
سیدنا صدیق اکبر نے اس کے خلاف جہاد کیا۔ حتیٰ کہ مانعین زکوٰۃ اور مرتدین کے خلاف جہاد کیا۔ اب مسیلمہ کذاب کے مقابلہ میں لشکر کے ساتھ حضرت عمر موجود تھے اور صدیق اکبر نہ تھے۔ حضرت عمر نے دیکھا کہ حفاظِ قرآن ناپاک مدعی نبوت کے پیروکاروں کے اور ناپاک مرتدین کے ہاتھوں شہید ہونے لگے تو حضرت عمر یہ دیکھ کر ڈر گئے، لرز گئے کہ اگر حفاظ کرام اسی طرح شہید ہوتے رہے تو ہم قرآن پاک سے محروم ہو جائیں گے۔ کیونکہ قرآن پاک حفاظ کے سینوں میں محفوظ تھا۔ لکھا ہوا قرآن موجود نہ تھا۔ فوراً صدیق اکبر کے پاس آئے اور کہا کہ حفاظ انتہائی تیزی سے شہید ہو رہے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ قرآن ان کے سینوں میں ہے۔ کہیں ہم اس سے محروم نہ ہو جائیں۔ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ ادھر جنگ ہو رہی ہے اور ادھر حضرت عمر حضرت صدیق اکبر سے عرض کر رہے ہیں۔ حضرت صدیق اکبر نے فوراً جواب دیا اور فرمایا
یا عمر کیف افعل شیئا لم یفعلہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم
اے عمر! میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں، جو حضور نے نہیں کیا۔
حضرت عمر نے عرض کیا، میرے آقا! یہ صحیح ہے کہ حضور ﷺ نے نہیں کیا۔ مگر اس میں خیر کا پہلو ہے۔ اگر ہم نہ کریں گے تو قرآن کے بہت بڑے حصے سے محروم ہو جائیں گے۔ حضرت عمر کے اصرار پر حضرت صدیق اکبر فرماتے ہیں کہ
حتی شرح اللّٰہ صدری کما شرح اللّٰہ صدر عمر
حتیٰ کہ خدا نے میرے سینے کو اس چیز کے لئے کھول دیا، جس طرح حضرت عمر کے سینے کو کھولا تھا۔
حضرت عمر کا شرح صدر اس معاملہ پر پہلے ہوا اور صدیق اکبر کا شرح صدر بعد میں ہوا۔ صدیق اکبر نے حکم دیا، زید بن ثابت انصاری کو بلاؤ۔ وہ بلائے گئے۔
کیونکہ زید کاتب وحی تھے، حضرت ابو بکر صدیق نے زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو قرآن جمع کرنے کا حکم دیا تو زید بن ثابت انصاری نے وہی بات کہی جو حضرت ابو بکر نے حضرت عمر سے کہی تھی۔
کیف تفعلون شیئا ولم یفعلہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ہو واللّٰہ خیر فلم یزل ابو بکر یراجعنی
اے ابو بکر و عمر تم وہ کام کیسے کرتے ہو جو حضور نے نہیں کیا۔
اب صدیق اکبر نے وہی بات فرمائی کہ اس میں خیر کا پہلو ہے۔ مراجعت کلام کے بعد حضرت زید بن ثابت انصاری فرماتے ہیں کہ
حتی شرح اللّٰہ صدری للذی شرح لہٗ صدر ابی بکر و عمر
حتیٰ کہ خدا نے میرا سینہ کھول دیا جس طرح حضرت عمر اور ابو بکر کے سینے کو کھولا تھا۔
اس حدیث پاک سے بہت سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ اس وقت ان پر کلام نہیں کر سکتا۔ ایک بات عرض کروں گا کہ صدیق اکبر، زید بن ثابت کا پہلے پہل بار بار انکار کرنا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صدیق اکبر، فاروقِ اعظم اور حضرت زید سنت نبوی کے پیکر تھے اور گوارہ نہیں کر سکتے تھے کہ سنت نبوی کے خلاف کوئی کام کریں۔ جب شرح صدر ہوا تو پتہ چلا کہ سنت کے یہ معنیٰ نہیں ہیں کہ جو کام حضور نے کیا ہو بالکل وہی کیا جائے بلکہ جس کے لئے شریعت نے گنجائش دی، وہ یہ کہ جس کام کے خلاف شریعت میں حکم نہیں، وہ کام کرنا سنت کے خلاف نہیں۔ اگر اس میں خیر کا پہلو ہو۔
میلاد حضور نے کب منایا تھا؟ گیارہویں شریف حضور نے کب کی تھی؟ اسی طرح قرآن کو حضور نے کب جمع کیا تھا؟
اگر ایسا کام جو حضور نے نہیں کیا تو ایسے کام کو ناجائز اور بدعت سمجھ لیں تو پھر سارا قرآن بدعت قرار پائے گا اور حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت زید نے اس حقیقت کو واضح کر دیا کہ اگر حضور کسی کام کو نہیں کر گئے اور اس کام میں خیر کا پہلو ہے اور کوئی شخص اسے کرتا ہے تو وہ متبع سنت ہے۔ اس کو سنت کے خلاف قرار دینا درست نہیں۔ ہم سرکار پر صلوٰۃ وسلام پڑھتے ہیں۔ ہم سرکار کا میلاد پاک مناتے ہیں۔ ہم بزرگانِ دین کی روح مقدسات طیبات کو ثواب پہنچاتے ہیں اور ان کے ساتھ ہماری روحانی نسبت کا قیام ہوتا ہے۔ یہ سب فقراء، غرباء اور محتاجوں کا بھلا ہوتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ اس میں خیر کا پہلو ہے اور جس کام میں خیر کا پہلو ہو اور دلیل شرعی کے خلاف نہ ہو، اس کو سنت کے خلاف نہیں کہا جائے گا۔
بہرحال قرآن مجید جمع ہوا اس کی بنیاد کون؟ سیدنا حضرت عمر فاروق ہیں۔ حضرت صدیق اکبر نے سوا دو سال خلافت کی اور ایسے کام سرانجام دئیے جو ہم قیامت تک سرانجام نہیں دے سکتے۔ پھر حضرت فاروقِ اعظم نے دس برس خلافت فرمائی اور ایسے ایسے کام کئے، اس کی نظیر ہم کو کہیں نہیں ملتی۔

نظامِ جہاد
جہاد کے نظام میں آپ نے ساری دنیا کو فتح کیا، مشرق و مغرب تک کو فاروقِ اعظم نے فتح کیا۔ آپ کی فتوحات بلوچستان تک پہنچی ہیں۔ مکران تک فاروقی فوجیں آئیں۔ سیستان اور بلوچستان کے قرب و جواب کے سب علاقے حضرت عمر کے زمانے میں فتح ہوئے۔ ایران عہد فاروقی کی شمشیر خاردار کی وجہ سے فتح ہوا جو آج مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہم فخر کرتے ہیں کہ اسلام بھی ہمارا ہے، قرآن بھی ہمارا ہے۔
میرے دوستو!
یہ سب فاروقِ اعظم کی اہمیت اور جلال کی نشانیاں ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے میں تو یہ کہوں گا کہ یہ آپ کا جلال نہ تھا۔ درحقیقت خدا کے جلال کا ظہور تھا۔ اگر آپ فاروق اعظم کی فتوحات کا اندازہ لگائیں تو ایک ایک ماہ میں چوراسی چوراسی شہر فتح ہوئے۔ ان فتوحات کا نفع ذرا سامنے رکھیں تو پتہ چلے گا کہ فاروقِ اعظم کا اسلام میں کیا مقام ہے! کوئی کہتا ہے فاتح اعظم سکندرِ اعظم ہے، کوئی کہتا ہے فلاں ہے، کوئی کہتا ہے فلاں ہے اور میں کہتا ہوں فاتح اعظم فاروقِ اعظم ہیں۔

نظامِ عدل
فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے عدل کا آپ سے کیا کہوں۔ ایک مرتبہ مدائن کی فتوحات سے مال غنیمت آیا۔ مسجد نبوی کے فرش پر انبار لگا دیا۔ امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کو بلایا۔ آپ نے فرمایا، جو کچھ لینا چاہیں، لے لیں اور پھر ایک ایک ہزار درہم فاروق اعظم نے ان کو عطا فرمائے۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمر حاضر ہوئے اور عرض کیا، مجھے بھی عطا کیجئے۔ آپ نے فرمایا، تمہیں پانچ سو درہم ملیں گے۔ تو حضرت عبد اللہ نے عرض کی اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا، تو میرا بیٹا ہے۔ امام حسن اور حسین علی کے بیٹے ہیں۔ ان کی والدہ سیدہ طاہرہ فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں۔ یہ تھی عظمت اہل بیت اور عقیدت۔ حضرت عمر فاروقِ اعظم نے ہمیشہ حضور ﷺ کے اہلِ بیت کو مقدم کیا جبکہ جو خود خلیفہ وقت ہونے کے باوجود لباس میں چھ چھ پیوند لگے ہوتے تھے۔
۱۰ سال کی خلافت میں فقر کا یہ عالم کہ انہیں دنیا کا لالچ نہ تھا۔ ورنہ دنیا کا عیش تو کیا ہوتا۔ حالانکہ خود تاجر تھے۔ تجارت پیشہ تھے۔ ان کے لئے کوئی کمی نہ تھی۔ مگر مسند خلافت پر بیٹھے تو دو درہم یومیہ خرچ تھا جبکہ ایک درہم پانچ آنے اور دو درہم دس آنے کا بنتا ہے۔ ایسے امیر المومنین جن کی دھاک مشرق و مغرب پر تھی، پورے گھر کا خرچہ دس آنے یومیہ فرمایا کرتے تھے۔
یہ عدل نہ تھا تو او رکیا تھا؟ اور پھر جب روزینے مقرر ہوئے اور تنخواہیں دی گئیں تو مسلمانوں اور مجاہدین میں ایک معیار مقرر فرمایا اور ہر شخص کا روزینہ اس کے فضائل اور محامد کے مطابق فرمایا۔ لوگوں نے کہا کہ پہلے آپ اپنا وظیفہ مقرر فرمائیں۔ کہا، نہیں، پہلے میرا نام نہیں آ سکتا۔ پہلے رسول اکرم ﷺ کے خاندان کے نام آئیں گے۔ سب سے پہلے بنو ہاشم کا نام آئے گا اور بنو ہاشم میں سب سے پہلے حضرت عباس کا نام لکھا گیا، وہ آپ کے چچا تھے۔ پھر حضرت علی کا نام آیا۔ امام حسن و حسین کا نام آیا اور روزینے مقرر ہوئے۔ حضرت عباس کا روزینہ ۱۲ ہزار درہم مقرر ہوا۔ پھر اصحاب بدر اور اصحاب حدیبیہ کے نام آئے۔ اہلِ بیت کو سب سے زیادہ دیا گیا۔ ازواجِ مطہرات کے روزینے بھی مقرر ہوئے۔ حضرت بی بی عائشہ صدیقہ کا روزینہ ۱۲ ہزار مقرر ہوا جبکہ حضرت عمر نے اپنے لئے پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ یہ عالم تھا خلیفہ کا جو مشرق و مغرب پر حکم دیا کرتا تھا۔
لوگو ں نے حضرت عمر سے عرض کی کہ آپ ایک لباس بنا لیں کیونکہ غیر ملکی وفود آتے ہیں، وہ بڑے فاخرانہ انداز میں ہوتے ہیں۔
حضرت عمر نے فرمایا کہ حضور نے ایسا نہیں کیا، اس لئے میں ہرگز ایسے موقع پر نیا لباس نہ پہنوں گا۔
فاروقِ اعظم کے دسترخوان پر صرف ایک کھانا ہوتا تھا۔ جو کی روٹی کھاتے تھے اور گوشت کبھی کبھی کھانے میں ہوتا تھا۔ کبھی کھجور سے کھانا کھاتے تھے۔
فاروقِ اعظم کا کوئی محل نہ تھا۔ کوئی قصر نہ تھا۔ کوئی کوٹھی نہ تھی۔ لباس کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے بستر کا بھی تکلف نہیں فرماتے تھے۔ سفر میں خیمہ تک نہ ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ حج کے سفر میں سخت گرمی کا زمانہ تھا اور سنگریزے تپتے تھے۔ فاروقِ اعظم خیمہ کی بجائے کسی درخت پر چادر ڈال لیتے تھے اور اسی کے نیچے اپنا بسیرا فرما لیتے تھے۔ آپ کا یہ عالم تھا۔ اب آپ بتائیں، اگر انہوں نے دنیا کی خاطر خلافت کی تھی تو دنیا کا عیش تو کیا ہوتا۔ اگر دنیا کا عیش نہیں کیا تو اپنی اولاد کے لئے کچھ کرتے۔ مگر یہ حال تھا کہ آپ کو عیش و آرام سے غرض نہ تھی بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی خلافت تک کے معاملہ میں عبد اللہ بن عمر کا تصور تک نہ ہوا۔

محبتِ اہل بیت
بے شک مولائے کائنات کے خلیفہ امام حسن بنے۔ مگر عبد اللہ بن عمر حضرت فاروقِ اعظم کے خلیفہ نہ بنے۔ بے شک امام حسن کی عظمتوں کو سلام۔ ہماری آنکھوں پر وہ اہلِ بیت کے چمکتے ہوئے سورج اور چمکتے ہوئے آفتاب ہیں۔ مگر فاروقِ اعظم آپ کی عظمتوں کو جھک کر سلام کرتا ہوں کہ آپ نے اپنے بیٹے عبد اللہ تک کو خلیفہ نہیں بنایا اور نہ بننے دیا۔
حضرت علی مرتضیٰ نے حضرت امام حسن کو خلیفہ بنایا۔ حضرت امام حسن خلیفہ بنے حضرت علی کے لخت جگر تھے۔ حضور سرور عالم نے ارشاد فرمایا کہ اے اللہ! حسن و حسین کو میں دوست رکھتا ہوں تو بھی انہیں دوست رکھ اور جو ان سے دوستی رکھے، تو ان کو بھی دوست رکھ۔
اللّٰہم انی احبہما فاحبہما واحب من یحبہما (۱)
لیکن میرے دوستو علی کی مسند خلافت پر امام حسن بیٹھے مگر فاروقِ اعظم کی مسند پر ابن عمر نہیں بیٹھے۔ پتہ چلا فاروقِ اعظم کی خلافت نہ اپنے لئے تھی اور نہ اپنی اولاد کے لئے۔

رعایا کی حفاظت
بہرحال عرض کروں گا کہ خلافت کے زمانہ میں آپ مجاہدین کے گھروں میں جاتے تھے۔ ایسے مجاہدین جنہیں آپ نے جہاد پر بھیجا ہوتا تھا۔ ان مجاہدین کے گھر والوں کی ضرورت معلوم کرتے تھے۔ اپنی پشت پر سامان لاد کر لے جاتے اور مجاہدین کی گھریلو ضرورتیں پوری کرتے تھے۔ یا کہہ دیتے کہ اپنا کوئی غلام یا باندی ہو تو میرے ساتھ بھیجو جو ضرورت کسی کو ہو، مجھے بتاؤ۔ میں سب چیزیں مہیا کر دوں گا۔ بعض دفعہ سامان خود اٹھاتے، کوئی دوسرا اٹھانے کی کوشش کرتا تو فرمایا کرتے کہ قیامت کے دن تو میرا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اس لئے آج بھی میرا بوجھ نہ اٹھا۔ حضرت عمر اپنی رعایا کی حفاظت فرماتے تھے اور ان کی نگہداشت کے لئے گشت فرمایا کرتے تھے۔ یہ سب حضور کا کرم تھا۔ حضور کے کمالات کا ظہور تھا۔

فاروق اعظم کا بچپن
آپ اکثر بچپن کو یاد کیا کرتے تھے۔ جب وہ اونٹ چَراتے تھے۔ والد ڈنڈوں سے مارتے تھے۔ جب خلافت کے زمانے میں وہاں سے گزرے، جہاں اونٹ چراتے تھے تو آبدیدہ ہو گئے۔ لوگوں نے پوچھا، حضرت رونے کی وجہ بتایئے۔ فرمایا، یہ وہ جگہ ہے، جہاں میں اونٹ چَراتا تھا اور میرا باپ مجھے ڈنڈوں سے مارتا تھا۔ اور آج وہ وقت ہے کہ اللہ کے سوا مجھ پر کوئی حاکم ہی نہیں۔ یہ سب سرکار کا کرم ہے۔ (۱)
آپ سرکار مصطفی کی آغوش میں ہیں۔ حضور نے خود فرمایا، اللہ نے میرے دو وزیر آسمانوں میں بنائے ہیں اور دو وزیر زمین میں بنائے ہیں۔ آسمانوں کے وزیر جبرائیل او رمیکائیل ہیں اور زمین کے وزیر ابو بکر و عمر ہیں۔ (۲)
اس حدیث پاک سے پتہ چلا کہ حضور کی حکومت آسمانوں میں بھی ہے اور زمین پر بھی ہے۔ کیونکہ جہاں وزیر ہوتے ہیں وہاں حکومت ہوتی ہے۔ یہ نہیں ہوا کرتا کہ چین کے وزیر امریکہ میں جا بیٹھیں اور امریکہ کے وزیر روس میں جا بیٹھیں۔ جہاں جس کی حکومت ہوتی ہے، اس کے وزیر وہاں ہوتے ہیں۔ میرے آقاکی حکومت آسمانوں پر بھی ہے اور جبرائیل اور میکائیل آسمانوں پر میرے آقا کے وزیر ہیں اور ابو بکر و عمر زمین میں میرے آقا کے وزیر ہیں اور ان کی سلطنت زمینوں پر بھی ہے۔ تو معلوم ہوا حضور کی سلطنت بھی ہے اور وزیر بھی یعنی حضور بھی زندہ ہیں اور ابو بکر و عمر بھی زندہ ہیں اور وزیر بھی حضوری میں حاضر ہیں اور حضور کے وزیر حضوری ہیں۔ وزیر حضوری وہ ہوتا ہے کہ جب تک بادشاہ کا دربار ہے، وزیر بھی موجود رہتا ہے۔ آپ ایمان سے بتائیں کہ حضور کا دربار موجود ہے یا نہیں موجود ہے۔ لگا ہوا ہے۔ اگر ان کا دربار بند ہو جائے تو دنیا کا کاروبار بھی بند ہو جائے۔ دربار بھی ہر وقت کھلا ہوا ہے اور وزیر بھی دربارِ حضوری میں موجود ہیں اور حضرت عمر و ابوبکر حضوری وزیر ہیں۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج