فضائلِ مدینہ منورہ

بمقام: عید گاہ
بتاریخ: ۱۰؍اپریل ۱۹۷۸ء

محترم حضرات!
مدینے کی برکتیں کیا بیان کروں۔ حضورﷺ کی آمد سے قبل مدینہ یثرب کہلاتا تھا۔ بیماریوں کا گھر سمجھا جاتا تھا۔ آقا تشریف لائے مدینے کو امن کا شہر بنا دیا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ مدینے کے دونوں پہاڑوں کے درمیان حرم پاک ہے۔ یہاں کے جانوروں کو ڈرانا، کسی کو کسی قسم کی تکلیف پہنچانا جائز نہیں۔ سرکار نے فرمایا
ان ابراہیم حرم المکۃ انی حرمت المدینۃ مابین لابتیہا لا یقطع عضا ہہا ولا یصاد صیدھا رواہ مسلم عن جابر علیہ السلام
بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو صاحب حرمت و عزت بنایا اور میں مدینہ منورہ کے اس خطہ کو تکریم و تعظیم بخشتا ہوں جو دو پہاڑوں کے درمیان ہے۔
میرے آقا اس حرم کی پاک زمین پر کھڑے ہو کر دعا فرما رہے ہیں۔ اے اللہ! یہاں کسی پرندے کو نہ چھیڑا جائے۔ وہاں کسی درخت اور کسی رہنے والے کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ (۱)
جس نے حرم مدینہ پاک میں کسی کو ڈرایا۔ تو حضور نے فرمایا
من اذی اہل المدینۃ اذاہ اللّٰہ و علیہ لعنۃ اللّٰہ والملٰئکۃ والناس اجمعین لا یقبل منہ صرف ولا عدل (۲)
اس پر اللہ کی لعنت، اس کے فرشتوں کی اور ان پر سب کی لعنت ہو۔ نہ اس کے فرض قبول ہوں ، نہ نفل
عزیزانِ محترم!
بارگاہِ رسالت میں جو پناہ ہے اور کہیں نہیں ہے۔ اس پناہ کو اللہ تعالیٰ نے زبانِ رسالت پر ارشاد فرمایا
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ جَآئُ وْ کَ (پ۵: النساء: ۶۴)
کاش وہ لوگ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم و ستم کئے اور زیادتیاں اور خطائیں کیں اے حبیب! تیرے دربار میں آ کر
فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ مغفرت طلب کرتے اللہ سے اور فقط ان کی مغفرت چاہنے سے کچھ نہیں ہو گا وَاسْتَغْفَرَلَہُمُ الرَّسُوْلُ اور مغفرت طلب کرتا ان کے لئے رسول تو کیا ہوتا؟ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (تو ضرور پاتے اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، بے حد رحم فرمانے والا)
عزیزانِ گرامی!
اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے
تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًاo
بڑی برکت والا ہے وہ جس نے فیصلہ کرنے والی کتاب اپنے (مقدس) بندے پر اتاری تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس بندے حضرت محمد ﷺ پر قرآن نازل فرمایا تاکہ یہ (قرآن) العالمین کے لئے نذیر ہو جائے۔ قرآن آج بھی ہمیں یہ حکم اور پیغام دے رہا ہے کہ جانوں پر ظلم کرنے والو! میرے محبوب کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو جاؤ۔ اللہ کی مغفرت طلب کرو۔ پھر میرے محبوب تمہارے حق میں لب مبارک ہلائیں۔ تمہاری سفارش فرمائیں تو پھر یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کو
تواب الرحیم پاؤ گے۔

شبہ
اگر حضور کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہونا بے فائدہ ہے تو یہ آیات کہاں جائیں گی۔ قرآن تو قیامت تک کے لئے ہے اور العالمین کے لئے ہے۔ اگر یہ کہو کہ یہ آیت اسی زمانہ کے لئے خاص تھی کہ جانوں پر ظلم کرنے والو! میرے حبیب کے پاس آ جاؤ تو
اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ میں بھی ویسے ہی مخاطب کا صیغہ ہے جیسے وَلَوْ اَنَّہُمْ میں ہے۔ تو پھر نماز بھی اس زمانہ کے لئے خاص ہونی چاہئے تھی۔ اگر وہاں مخاطب اور غیر مخاطب قیامت تک مرادہیں تو یہاں بھی قیامت تک مراد ہیں۔ اس لئے ہمارا ایمان ہے کہ وَلَوْ اَنَّہُمْ میں ہم سب مراد ہیں۔ اگر سب مراد ہیں تو ہم جیسے گناہ گار، سیاہ کار اور خطا کار سب مراد ہیں۔
محترم حضرات!
ایک حدیث یاد آ گئی۔ اس حدیث کو ائمہ اربعہ نے بھی روایت کیا اور اس کی سندیں تواتر تک پہنچ گئی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک اعرابی حضور تاجدارِ مدنی
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا۔ بعد کو معلوم ہوا کہ حضور اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔ مرقد اطہر کے اندر جلوہ گر ہیں۔
تو وہ اعرابی بے ہوش ہو کر مدنی کریم ﷺ کی قبر انور سے لپٹ گیا۔
اور عرض کی، یا رسول اللہ (ﷺ)! میں سیاہ کار، گناہ گار، خطا کار اپنے گناہ بخشوانے کے لئے یہ آیت
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ جَائُ وْ کَ پڑھ کر آیا ہوں۔ میرے آقا! میں تو آپ کی سفارش حاصل کرنے، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ میرے آقا! جب تک میرا مقصد پورا نہیں ہوگا، میں واپس نہیں جاؤں گا۔
تو حدیث میں آتا ہے
فنودی من القبر انہ قد غفرلک
سرکار کی قبر انور سے آواز آئی کہ اے میرے غلام! تجھے میرے اللہ نے بخش دیا۔
عزیزانِ محترم!
اس حدیث پاک سے بہت سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حضور تاجدار مدنی ﷺ حیاتِ حقیقی کے ساتھ قبر انور میں زندہ ہیں اور اگر زندہ نہ مانیں تو
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ جَآئُ وْکَ
کا کیا مقصد اور مطلب ہو گا؟ جب سرکار نہ ہوں تو خطا کاروں کا آپ کی بارگاہ میں آنے کا کیا مقصد ہو گا؟ شرع میں ایک مسئلہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ
واللّٰہ! لا اکلمہ کلامی خدا کی قسم! میں کبھی اس سے بات نہیں کروں گا۔ فتکلمہ بعد موتہ تو اس نے مرنے کے بعد اس سے کلام کیا۔ اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ کلام کے قابل نہیں رہا۔ اگر میرے آقا مردہ ہوں تو آپ اس قابل کب ہیں، کوئی آپ کے پاس اپنی حاجتیں پیش کرے۔ مرنے والا تو کسی قابل نہیں ہوتا۔ وہ تو کسی کام کا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ میرے آقا زندہ ہیں اور ان کے دامن سے لپٹنے والا ہر غلام زندہ ہے۔ مومن اور کافر کا فرق یہی ہے کہ کافر مرتے ہی مر جاتا ہے بلکہ مرنے سے پہلے ہی مر جاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے
فَاِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی (پ ۲۱: الروم: آیت ۲۵)
میرے پیارے ان کو تو کیا سنائے گا یہ تو چلتے پھرتے مردے ہیں۔ ابو جہل، ابو لہب، عتبہ، شیبہ کو خدا نے ان کی زندگی میں مردہ فرمایا اور مومنین کے لئے آیت
َبلْ اَحْیَآئٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ (س آل عمران: آیت ۱۶۹)
بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔
میرے پیارے جو تیرے دامن سے لپٹ گیا وہ حیات ابدی کے ساتھ زندہ ہو گیا۔ میں ہر مومن کو اس کے مرتبہ کے مطابق زندہ مانتا ہوں۔ خاص مومن کی زندگی عام مومن کی زندگی سے اعلیٰ ہے۔ خاص الخواص کی زندگی ان سے اعلیٰ ہے۔ صدیقین کی زندگی سب سے اعلیٰ ہے اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی زندگی کا تو کہنا ہی کیا؟ ان کی زندگی تو ہمارے تصور سے بالاتر ہے اور سرکار وادی ارزق دیکھ کر فرما رہے ہیں کہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام اونٹی کی مہار ہاتھ میں لئے تلبیہ کہتے ہوئے آ رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تلبیہ کہتے ہوئے گزر رہے ہیں اور اسی طرح حضرت یحییٰ علیہ السلام تلبیہ کہتے ہوئے آ رہے ہیں۔ اس لئے حدیث میں آتا ہے۔ ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں اور امام بیہقی نے کتاب حیاۃ الانبیاء میں روایت کیا
عن انس علیہ السلام ان النبی ﷺ قال الانبیاء احیاء فی قبورہم یصلون ویحجون
حضرت انس علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنی قبور میں زندہ ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں۔
قرآن مجید کی مذکورہ آیت سے بھی حضور کا زندہ ہونا واضح ہے۔ کیونکہ حضور زندہ نہ ہوں تو نعوذ باللّٰہ مردہ کے پاس آنا، کے کیا معنی؟ بعض زندہ ہوتے ہیں کہ پتہ نہیں چلتا کہ کوئی کیا کہہ رہا ہے۔ اس کی سوچ محدود ہوتی ہے لیکن حضور اپنی حیاتِ طیبہ کے ساتھ زندہ ہیں کہ سنتے بھی ہیں اور جانتے بھی۔ ہر آنے والے کو دیکھ بھی رہے ہیں اور سفارش فرما رہے ہیں۔ حضور ہمارے ہر ایک کے حالات سے اتنے آگاہ ہیں کہ ہم خود اتنے اپنے حالات سے آگاہ نہیں۔ حضور ہمارے ظاہر و باطن سے آگاہ ہیں۔ حضور ہمارے ابتداء و انتہا سے آشنا ہیں۔ اس لئے سرکار سے التماس ہے کہ ہمارا خاتمہ با لخیر ہو جائے۔ (آمین)
عزیزا نِ محترم!
اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ نے ہمارے لئے پناہ کی جگہ کو باقی رکھا۔ اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ نے اپنے حبیب کی ذات پاک کو اپنی رحمتوں کا خزانہ اور ماخذ بنا دیا۔ خدا کی قسم! کوئی لاکھ مرتبہ مکہ جائے، مگر مصطفی ﷺ کے درِ اقدس سے فیض نہ پائے تو اس کو کوئی فائدہ نہیں۔ حدیث میں ہے کہ
من حج البیت ولم یزرنی فقد جفانی ـ(۳)
جس نے حج کیا، اس نے میری زیارت نہ کی، پس بے شک اس نے مجھ پر ظلم کیا۔
فائدہ تو تب تھا کہ سرکاری کی زیارت نصیب ہوتی۔ کیونکہ رحمتوں کا خزانہ اور ماخذ حضو رکی ذات اقدس ہے۔ قرآن خود کہتا ہے
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ جَائُ وْکَ
اور یہ حکم قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لئے ہو گا۔ قرآن قیامت تک قائم رہے گا اور جو قرآن کی یہ آیت پڑھے گا، یہ حکم اس کی طرف متوجہ ہو گا کہ اپنی جانوں پر زیادتیاں کرنے والو! میرے حبیب کی بارگاہِ اقدس میں آ جاؤ، مغفرت طلب کرو۔ حضور سفارش فرمائیں تو پھر مجھے توبہ قبول کرنے والا، بے حد رحم کرنے والا پاؤ گے۔ مومن کے لئے حضور کے بغیر کوئی دولت نہیں۔ ہزاروں، اربوں، کھربوں دین و دنیا کی نعمتیں حضور کی عظمت پر قربان ہوں۔ اس آیت کریمہ سے حضور کی محبت کا جلوہ مومن کے دل میں فروغ پاتا ہے اور مومن کے دل کی کلی کھل جاتی ہے اور اس کے ایمان کے نور سے کائنات روشن اور معطر ہو جاتی ہے۔ حضور کی محبت والا دل تو بڑی عظمت والا ہوتا ہے۔

شبہ
اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ مدینے پہنچنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو ان کا اس آیت پر عمل کیسے ہو گا؟

شبہ کا ازالہ
عزیزانِ گرامی!
مصطفی ﷺ سب کے رسول ہیں۔ آپ ہمت والوں کے بھی رسول ہیں اور بے ہمت والوں کے بھی۔ سہارا والوں کے نبی ہیں اور بے سہاروں کے بھی۔ وسیلہ والوں کے بھی نبی ہیں اور بے وسیلہ والوں کے بھی۔ لاچار، بے کس، غریب، مسکین، اپاہج اور بیماروں کے بھی رسول ہیں تو یہ لوگ مدینہ منورہ نہیں پہنچ سکتے تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ خوشخبری دیتا ہے
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ (پ۲۱: الاحزاب: آیت ۶)
یہ نبی ایمان والوں کے ساتھ ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہیں۔
یعنی تمہاری جان تم سے دور ہو سکتی ہے مگر میرے حبیب تم سے زیادہ قریب ہیں۔ اگر میرے حبیب تم سے دور ہو جائیں تو عمل رسالت کا پیہم ہونا باطل ہو جائے۔
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ
میں اولیٰ کے معنی اولی
تصرف، التقرب اور احب کے ہیں۔ یعنی اولیٰ کے معنی سب سے زیادہ تصرف کا حق دار، سب سے زیادہ قریب، سب سے زیادہ محبوب کے ہیں جو سب سے زیادہ تصرف کا حق دار ہوتا ہے، وہی سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ مثلاً نا بالغ لڑکی کے نکاح پر باپ کا راضی ہونا دادا کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اگر باپ نابالغ لڑکی کے نکاح پر راضی نہیں تو دادا کا اس پر کوئی تصرف نہیں ہو سکتا کیونکہ باپ دادا کی نسبت زیادہ قریب ہو گا۔ معلوم ہوا کہ میرا محبوب تم سب سے زیادہ اتنا قریب ہے کہ جتنا کہ تم بھی اپنے قریب نہیں ہو۔ احب کے معنے سب سے زیادہ محبوب کے ہیں اور جو سب سے زیادہ محبوب ہو گا وہ سب سے زیادہ قریب ہو گا۔ کیونکہ اَلْمَرْأُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ (۴) ہر شخص اپنے چاہنے والے کے ساتھ ہو گا۔
اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ اے ایمان والو! میرا محبوب تمہاری جانوں سے تم سے زیادہ قریب ہے۔ مگر فرق اتنا ہے، تمہیں اس کی معرفت نہیں اور اگر معرفت حاصل ہو گئی اور اس بات کی حقیقت کو پہچان لیا کہ میری جان سے مجھ سے زیادہ قریب ہیں تو تم حاضر ہو گئے۔ یہیں سے سرورِ عالم ﷺ سے مغفرت کی دعائیں حاصل کرو اور رحمت کے خزانے سمیٹو۔ اگر کوئی مدینے پہنچ جائے اور قرب حاصل نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں۔ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

دوراں با خبر در حضور
ونزدیکاں بے بصر دور

نزدیک ہو کر بے بصر ہے وہ دور ہے یعنی مدینہ پہنچ کر بھی حجاب اور غفلت کے پردے نہ اٹھیں اور حضور کو دور سمجھیں تو وہ قریب ہو کر بھی دور ہیں اور ظاہر میں جو حضور سے دور ہو مگر پردے اٹھے ہوئے ہیں تو وہ سرکار کے حضور بیٹھے ہیں۔
عزیزانِ محترم!
میرے آقا کے کمالِ رحمت کا مظہر صدیقین، شہداء، صالحین، غوث، اقطاب، ابدال، اوتاد، نجبا اور نقبا ہیں اور اولیاء کاملین کی جماعت میں سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ حضور کی کمالِ رحمت کا مظہر اتم ہیں۔ آپ لوگ بارگاہِ غوثیت میں قرب حاصل کرنے کے لئے جو نذرانے پیش کرتے ہیں، وہ بھی بارگاہِ نبوت کا قرب ہے۔ کیونکہ قرب والوں کا قرب بھی اس کے محبوب کا قرب ہوتا ہے۔ لہٰذا حضور غوث پاک کا قرب، قربِ نبوی ہے اور قربِ نبوی در حقیقت قربِ خداوندی ہے۔
 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج