مقربینِ خدا

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ (پ۱۱: یونس: ۶۴)
ان کے لئے بشارت ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں

محترم حضرات!
اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ اپنے مقربین کو دنیا اور آخرت کی بشارتیں فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
ذَالِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۔یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
یہی بہت بڑی فلاح، کامیابی و کامرانی ہے کہ اللہ تعالیٰ جل مجدہ نے اس آیت کریمہ میں معرفت اولیاء کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے حق میں جو کچھ ارشاد فرمایا، اس کی تفصیل قیامت تک نہیں ہو سکتی۔ چند گزارشات پیش کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ
خبردار! بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اس آیت میں
الا کلمہ تنبیہ ہے کہ غافلو! بے خوف سونے والو! ہوشیار خبردار اور بیدار ہو جاؤ۔ کیوں؟ اس لئے کہ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ بے شک اللہ کے ولیوں پر لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کلمہ تنبیہ فرما کر اولیاء اللہ کی شان بیان فرمائی۔ اس کا مقصد کیا ہے؟
اللہ جل مجدہٗ نے کلمہ تنبیہ کیوں فرمایا؟ حالانکہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، ارکان اور احکام شرع کو قرآن میں بیان فرمایا لیکن یہ کلمہ تنبیہ
الا اولیاء اللہ کے حق میں فرمایا۔ کیوں؟ اس لئے کہ لوگ اولیاء اللہ کے مقام کو نہیں جانتے اور نہ لوگوں کو ان کی معرفت حاصل ہے۔ اب یہاں جتنے لوگ بیٹھے ہیں، مجھے ان کی معرفت نہیں کہ ان میں کتنے ولی ہیں۔
اللہ جل مجدہٗ نے ان کی معرفت کے حصول اور ان کی شان کو جاننے کے لئے ان کی بارگاہ میں ادب و احترام کے تقاضوں کو پورا کرنے اور گستاخی سے بچنے کے لئے تنبیہ فرمائی کہ تم بیدار، ہوشیار اور خبردار ہو کر بارگاہِ ولایت کی طرف متوجہ ہو جاؤ کہ کہیں تم سے ادنیٰ درجہ کی بے ادبی نہ ہو جائے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جل مجدہ نے پہلے ہی فرما دیا
من عادٰی لی ولیًا فقد اذنتہٗ للحرب (حدیث قدسی) (۱)
جس نے میرے ولی سے دشمنی کی میری طرف سے اس کو میرا اعلانِ جنگ ہے۔ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کا یہ اعلانِ جنگ قبول کرے۔
عزیزانِ گرامی!

گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را راہنما

حضور سیدی داتا گنج بخش علی ہجویری رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ایسے کامل ولی ہیں کہ ہزاروں لاکھوں کامل اولیاء اللہ نے یہاں سے فیض پایا۔ حتیٰ کہ چشتیوں کے سرتاج، آفتاب و ماہتاب اور امام سلسلہ طریقت سیدی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ بھی اس آستانہ عالیہ پر آ کر معتکف اور مستفیض ہوئے۔ اور وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو عقیدت اور محبت کے ساتھ یہاں حاضر ہوتے ہیں اور اپنی مرادوں سے اپنے دامن بھر کر جاتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کی مرادیں کس شکل اور کس نوعیت سے پوری ہوتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ علم اور حکمت الٰہیہ کے مطابق ان کا ظہور کب ہوتا ہے؟ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو مانگا وہی مل گیا بعض دفعہ اس کی مثل ملا۔ کبھی ایسا ہوا جتنا مانگا اس کی (مثل) برائی، تکلیف اور بلا ٹل گئی، بعض دفعہ دعاؤں کو آخرت کے لئے جمع کر لیا جاتا ہے اور بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعاؤں کو رفع مراتب اور عروج درجات کے لئے محفوظ رکھ لیتا ہے۔ بہرحال داتا کے دربار پر حاضری دینے اور اس حاضری میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ان حضرات کے توسل اور وسیلے سے طلب کرنے اور مانگنے والا کبھی خالی نہ جائے گا۔ ہاں جو یہ خیال کر کے آئے کہ خالی جاؤں گا تو وہ خالی ہی جائے گا۔
عزیزانِ محترم!
اولیاء، ولی کی جمع ہے۔ ولی فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور علماء لغت نے ولی کے انیس، اکیس اور تیئیس معنی بیان کئے ہیں۔ لفظ ولی کے معنی کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں۔ فقط اتنا عرض کرتا ہوں کہ ولی کے معنی متصرف قریب، محب اور محبوب کے ہیں۔ یعنی جو قریب، محبت کرنے والا، محبت کیا ہوا اور تصرف کرنے والا ہو۔

مقامِ ولایت کبھی زائل ہونے والی چیز نہیں
عزیزانِ گرامی!
اللہ تعالیٰ جن خوش نصیب بندوں کو مقام ولایت عطا فرماتا ہے ان کی ولایت کو کبھی زائل نہیں فرماتا۔ یہ نہیں کہ جب تک وہ دنیاوی زندگی میں زندہ رہے تو ولایت کے کمال پر فائز رہے اور جب ان کا وصال ہوا تو ولایت ختم ہو گئی۔ ایسا نہیں ہوا کرتا۔ لوگ یہی کہتے ہیں کہ یہ بزرگ اور اللہ کے نیک بندے تھے۔ ان کی زندگی میں ان کے پاس آنا، ان کی زیارت کرنا، دعائیں کرانا فائدہ مند ہو سکتی تھیں۔ اب ان کے مرنے کے بعد ان کے پاس کیا رکھا ہے۔ وہ مر کر مٹی ہو گئے ہیں۔ اب ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔ اب یہاں آ کر کیا لو گے؟ یہ ایک ایسا غلط نظریہ ہے کہ اس کی اسلام کی تعلیم کی روشنی میں کوئی بنیاد نہیں۔ کیونکہ نبوت، صدیقیت، شہادت، صالحیت، ولایت اور ایمان و تقویٰ ایسی نعمتیں، کمالات اور اوصاف ہیں جو ملنے کے بعد واپس نہیں ہوتے۔ موت کا قانون نبی، صدیق اور ولی پر طاری ہوتا ہے، مگر نبوت، صدیقیت اور ولایت مردہ نہیں ہو سکتی۔ وہ زندہ ہے۔ ولایت زندہ ہے اور ولایت صفت ہے اور صفت کا وجود موصوف کے بغیر محال ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ صفت عرض ہے اور عرض قائم بالذات نہیں ہوتا۔ عرض جوہر کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ ولایت کا وجود دلیل ہے کہ ولی موجود ہے۔ صالحیت صالح کے ہونے کی دلیل ہے۔ اگر تم کہو کہ صالحیت مر گئی تو پھر میں یہی کہوں گا کہ تمہارا ایمان بھی مر گیا اور تمہارے سارے اعمال ختم ہو گئے۔
تمہارے حج، زکوٰۃ، روزے، نمازیں اور دیگر نیکیاں جو ایمانی کمالات ہیں، سب ختم ہو گئے۔ عجیب نظریہ ہے۔

ایک زبردست شبہ
عزیزانِ محترم!
لوگ یہ کہتے ہیں کہ تم نبیوں اور ولیوں کو زندہ مانتے ہو۔ بس صرف اتنا مانتے ہو کہ ایک آن کے لئے ان پر قانونِ موت طاری ہوتا ہے پھر حیاتِ مثل سابق وہی ہوتی ہے۔ گویا ایک آن کے بعد ان کو حیاتِ سابق مل گئی تو تم نے زندہ کو غسل دیا، کفن پہنایا اور قبر میں دفن کر دیا۔ تو گویا تم نبیوں اور ولیوں کو زندہ درگور کرنے والی قوم ہو۔ یہ ایک زبردست شبہ ہے۔ اس کا ازالہ میں کر دینا چاہتا ہوں۔ بشرطیکہ آپ متوجہ رہیں۔

شبہ کا ازالہ
عزیزانِ گرامی!
نہایت اجمال کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور اولیاء کرام پر موت کا قانون طاری اس لئے ہوتا ہے کہ الوہیت اور عبدیت کا فرق قائم ہو جائے۔ لوگوں نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو پوجا۔ حضرت عیسیٰ اور عزیر علیہم الصلوٰۃ والسلام کی پرستش کی۔ بہت سے ولیوں کو معبود بنایا اور وہ معبود نہیں ہو سکتے؟ کیوں؟ اس لئے کہ جو معبود ہو اس کے لئے موت کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ موت کا قانون طاری ہو تو اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور اولیاء اللہ پر موت کا قانون طاری کرنا اپنا قانون بنا دیا اور فرمایا
کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ
اور رسول کریم ﷺ کے متعلق آیا
اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمْ مَّیِّتُوْنَ (پ۲۳: آیت ۳۰)
اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود فرمایا،
انی مقبوض میں قبض کیا جانے والا ہوں۔
ان آیات و حدیث سے ثابت ہو گیا کہ انبیاء و صلحاپر موت واقع ہو گئی پھر یہ کہنا کہ ان کو حیات دوبارہ مل گئی، تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان مقدس حضرات کو زندگی دوبارہ ملنا بھی قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً (پ۱۴: س النحل: آیت ۹۷)
تو ہم اسے زندہ رکھیں گے، پاکیزگی کے ساتھ۔
ان کا موت کے بعد زندہ ہونا اور موت کا طاری ہونا، دونوں باتیں قرآن سے ثابت ہیں۔ بعض لوگوں نے
فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً سے حیات اخروی مراد لی ہے اور میں بھی کہتا ہوں کہ حدیث میں آتا ہے
مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتہٗ (۲)
جو مرگیا، اس پر قیامت قائم ہو گئی۔
اور قیامت عالم آخرت سے تعلق رکھتی ہے۔ لہٰذا اس کے مرنے کے بعد حیات اخروی ہو گی۔ رہا یہ کہ وہ حیات جسمانی، برزخی، اخروی یا حقیقی اور مجازی ہو گی یعنی وہ حیات کیسی ہو گی؟ تو بھائی اس کے لئے آپ کو ایک بات بتاتا ہوں کہ اللہ نے اس کو حیات سے تعبیر فرمایا اور قرآن نے
فَلَنُحْیِیَنَّہٗ انبیاء و صدیقین اور صالحین اور مومنین کے لئے فرمایا اور اس کو یہ کہنا کہ وہ عالم آخرت کی حیات ہے تو میں نے بتا دیا کہ حدیث میں آیا
جو مرگیا اس پر قیامت قائم ہو گئی۔
موت کے بعد جو حیات ہو گی وہ اس آیت کا مصداق قرار پائے گی۔ اب وہ حیات جسمانی ہے یا روحانی، دنیاوی ہے یا اخروی۔ میں اس کا قائل نہیں ہوں کیونکہ حیات حیات ہے، حیات کے معنی ہیں الحیاۃ صفۃ
حیات ایک ایسی صفت ہے جو سمع، بصر، ارادے، علم اور قدرت کو صحیح قرار دیتی ہے۔
اس صفت مشاھدہ کا نام حیات ہے۔ یہ اعتراض صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو بدن کے اندر روح کو حیات سمجھتے ہیں کہ روح ہے تو حیات ہے اور روح نکل گئی تو موت ہے۔ میں کہتا ہوں حیات اور موت کا یہ مفہوم بالکل غلط ہے جو کسی دلیل شرعی سے ثابت نہیں۔ حیات ایک عام چیز ہے جو ممکن کے لئے بھی ہے اور واجب کے لئے بھی۔ ایسے ہی جیسے وجود ممکن کے لئے بھی ہے اور واجب کے لئے بھی، اگر آپ حیات کے لئے مستقل یہی تعریف کریں کہ روح ہے تو حیات ہے ورنہ موت ، تو اللہ کے لئے صفت حیات کبھی ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ اللہ روح اور بدن سے پاک ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ روح بدن میں ہے تو حیات ہے، یہ غلط ہے۔ کیونکہ حیات وہ صفت مشاھدہ ہے کہ جو علم، قدرت حیات، ارادہ، سمع اور بصر کو صحیح قرار دینے والی ہو۔ اس صفت کا نام حیات ہے۔ اگر اس کا تعلق جسم سے ہو جائے تو جسمانی حیات ہے۔ اس کا تعلق روح سے ہو تو روحانی حیات ہے۔ دنیا میں ہو تو دنیاوی حیات ہے۔ قبر میں ہو تو برزخی حیات ہے۔ اور اگر آخرت میں ہوتو اخروی حیات ہے۔ تو جنہوں نے دنیا اور برزخی حیات میں فرق نکالا تو انہوں نے غلط سمجھا۔ اور یہ فرق قرآن و حدیث کی روشنی میں غلط ہے۔ کیونکہ حیات تو ایک صفت ہے۔ جو علم، قدرت، ارادہ، سمع اور بصر کو صحیح قرار دیتی ہے۔ اور پھر یہ کہنا کہ حیات برزخی کی حقیقت اور ہے اور اخروی کی اور! اور حیات دنیاوی کی حقیقت اور! تو یہ کہنا بھی غلط ہے۔ کیونکہ حیات بذاتِ خود ایک حقیقت ہے۔ اس کا تعلق دنیا میں ہو تو دنیاوی حیات ہے۔ عالم برزخ میں ہو تو برزخی۔ عالم آخرت میں ہوتو اخروی۔ مگر حقیقت نہیں بدلے گی۔ یہ دنیاوی، برزخی اور اخروی کے الفاظ علماء نے زمان و مکان کے اعتبار سے استعمال کئے ہیں، حقیقت کے اعتبار سے نہیں ـ(آپ نے بار بار زور دے کر فرمایا) حقیقت حیات (صفت حیات) ایک ہے، اس لئے صدیقین، شہداء اور اولیاء زندہ ہیں۔ بلکہ
فَلَنُحْیِیَنَّہٗ میں ہٗ کی ضمیر ہر عمل صالح کرنے والے مومن کی طرف ہے۔ لہٰذا اس حیات میں ہر مومن شامل ہے۔

ایک اعتراض
اگر آپ کہیں کہ ہمارے نزدیک حقیقت کے اعتبار سے حیات کی کوئی تخصیص نہیں تو پھر آپ نے اس کو زندہ درگور کیسے نہیں کیا؟
جواب: تو میں کہوں گا کہ آپ اس حقیقت کو کبھی نہ بھولئے گا کہ غسل دینا ، کفن پہنانا اور دفن کرنا، یہ احکام قانونِ موت کے ساتھ متعلق ہیں اور یاد رکھئے کہ
اذا ثبت الشیء ثبت بجمیع لوازمہ
جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے جمیع لوازمات و مناسبات کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔
لہٰذا جب ہم کسی اللہ کے ولی، صدیق، شہید اور صالح کو غسل دیتے اور کفن پہناتے ہیں اور جنازہ پڑھ کر دفن کرتے ہیں تو یہ احکام الٰہی جو موت کے قانون کے وقت مرتب ہوتے ہیں، ہم بجا لاتے ہیں۔

ایک اور اعتراض
آپ کہیں گے کہ آپ حیات کو مانتے ہیں تو پھر زندہ درگور کرنے کا کیا مفہوم ہو گا؟
جواب: تو میں عرض کروں گا کہ حقیقت حیات یقینا ایک ہے یعنی نبی کے لئے بھی اسی طرح ہے، جیسی پہلے تھی۔ صدیق، شہید اور اولیاء کی حیات بھی اس طرح جیسے پہلے تھی، کوئی فرق نہیں۔ حقیقت بالکل نہیں بدلی۔ مگر فرق اتنا ہے کہ وہ ظاہری حیات ہماری آنکھوں سے غائب ہو گئی۔ حدیث پاک ہے کہ
ملائکہ ہماری آنکھوں سے غائب ہیں۔
جس طرح ملائکہ کے وجود کو ہم مانتے ہیں۔ مگر نظر نہیں آتے، اسی طرح ہم انبیاء، صدیقین، شہداء اور اولیاء کی حیات کو مانتے ہیں مگر وہ بھی ہمیں نظر نہیں آتے۔ تو کسی چیز کا ہمیں نظر نہ آنا، نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے اور وہ ہماری آنکھوں سے اس لئے غائب ہیں کہ اگر ہم ان کے اندر آثارِ حیات کا اپنے حواس سے مشاہدہ کریں تو ہمارے لئے ان کو غسل دینا، کفن پہنانا، جنازہ پڑھنا اور دفن کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آثارِ حیات کو ہمارے لئے غائب کر دیا تاکہ ہم احکام شرع بجا لائیں۔ میں سمجھانے کے لئے ایک مثال دیتا ہوں کہ چراغ ایک گھر میں روشن ہے لیکن آپ نے اس چراغ کو اٹھا کر ایک الٹی دیگ کے نیچے رکھ دیا۔ اب گھر کے اندر اندھیرا ہو گیا۔ مگر چراغ الٹی دیگ کے نیچے ویسے جل رہا ہے۔ اس کا نور ختم نہیں ہوا۔ فرق اتنا ہے کہ پہلے اس چراغ سے گھر جگمگا رہا تھا۔ اب وہ خود سمٹ کر دیگ کے اندر موجود ہو گیا ہے اور ہمیں اس لئے اندھیرا نظر آتا ہے کہ ہماری آنکھوں سے غائب کر دیا گیا ہے۔ ملائکہ کی طرح انبیاء، صدیقین، شہداء اور اولیاء کی حیات کو ہمارے حواس سے غائب کر دیا گیا، مثل چراغ کے کہ روشن ہے تو گھر جگمگا رہا ہے اور اگر روشنی ہانڈی یا دیگ کے نیچے ہے تو گھر بے نور ہے مگر اس کی روشنی قائم ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار جب مدینہ میں تشریف لائے تھے اور مدینے میں جلوہ گر ہوئے تو مدینے کی ہر چیز روشن ہو گئی اور جب حضور قبرِ انور میں جلوہ گر ہوئے تو ہر چیز تاریک نظر آنے لگی۔ تو پتہ چلا وہ نور فنا نہیں ہوا، وہ نورِ حیات ختم نہیں ہوا، وہ موجود ہے۔ مگر ہمارے مشاہدے، حواس اور آنکھوں سے غائب ہو گیا۔ نورِ حیات کے غائب ہونے اور قانونِ موت کے طاری ہونے کو ایک ساتھ ملانے کے بعد غور کرو تو کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا اور کسی قسم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بہرحال میں نے حقیقت حال سمجھانے کے لئے بتا دیا کہ انبیاء پر قانونِ موت اس لئے طاری ہوا کہ الوہیت کی نفی ہو جائے اور موت کے بعد ان کی حیات کو ہمارے مشاہدے اور حواس سے اس لئے غائب کر دیا گیا تاکہ قانونِ موت کے احکام مرتب ہونے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
عزیزانِ محترم!
مشہور حدیث پاک ہے کہ ایک اعرابی قرآن مجید کی یہ آیت پڑھ کر آیا کہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والو! میرے حبیب کی بارگاہ میں آ جاؤ اور میرے حبیب تمہاری سفارش فرما دیں تو مجھے
غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ پاؤ گے۔ چنانچہ وہ اعرابی حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ سرکار اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ بہت رویا اور سرکار کی قبر انور سے لپٹ گیا۔ قبر انور سے آواز آئی
کہ تجھے اللہ نے بخش دیا ہے۔
اس آواز کو ابن تیمیہ اور اس کے متبعین نے نعوذ باللّٰہ شیطان کی آواز کہا۔ اس سے مومن کے قلب کو انتہائی صدمہ ہوا۔ یہ ان کی بد عقیدگی کا بنیادی نقطہ ہے۔
عزیزانِ گرامی!
میں نے مسلم شریف کی یہ حدیث بارہا پڑھائی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر سرکار گزر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ میں دیکھ رہا ہوں۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام سرخ اونٹی پر سوار، احرام باندھ کر تلبیہ کہتے ہوئے جا رہے ہیں۔ پھر فرمایا، میں موسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھ رہا ہوں کہ حج کا احرام باندھے تلبیہ کہتے جا رہے ہیں۔ تو نگاہِ نبوت نے انبیاء کو حج کرتے دیکھا۔ معدوم تو دیکھنے کی چیز نہیں ہوتی۔ حقیقت ہی ہمیشہ رنگ لاتی ہے اور کائنات کی ہر چیز غلط ہو سکتی ہے، مگر نگاہِ نبوت غلط نہیں ہو سکتی۔ حضور نے خود ان کا واقع میں زندہ ہونا دیکھا۔ سرکار کی نظر مبارک اور زبانِ اقدس سے ان کا زندہ ہونا ثابت ہو گیا۔ یہی نہیں بلکہ ایک اور مسلم شریف کی حدیث کہ معراج کی رات
مررت علی موسٰی لیلۃ اسری بی عند الکثیف الاحمر وہو قائم یصلی فی قبرہٖ (۳)
معراج کی رات میں سرخ ٹیلے کے قریب موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا۔ وہ اپنی قبر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔
حدیث پاک کے دوسرے الفاظ یہ ہیں کہ
مررت علی الکثیب الاحمر بقبر موسٰی فرأیتہ یصلی قائم فی قبرہٖ
فرمایا، میں کثیب الاحمر کے مقام پر موسیٰ علیہ السلام کی قبر سے گزرا
فرأیت پس میں نے دیکھا یصلی قائم فی قبرہٖ کہ اپنی قبر انور میں کھڑے ہو کر وہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ اب قبر انور میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا اور سرکار کا یہ فرمانا فرأیتہ کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا ان کی شبیہ اور صورت کا ذکر ذکر نہیں فرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھنے کا ذکر ہے۔ اگر وہ زندہ نہ ہوتے تو موسیٰ علیہ السلام کو دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ بہرحال لوگ لاکھ شکوک و شبہات پیدا کریں۔ الحمد للّٰہ! مرد مومن کامل اس کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔ مومن کا قلب زبان مصطفی اور نگاہ مصطفی کو قبول کرے گا۔ جب حضور نے ان کو زندہ دیکھا تو کسی شبیہ اور صورت کے دیکھنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔
عزیزانِ محترم!
قانون موت کا طاری ہونا، غسل کفن و دفن کے احکام کا پورا ہونا۔ بالعموم عادتًا آثار حیات کو ہمارے حواس سے غائب کر دینا اس لئے کہ الوہیت کی نفی ہو جائے اور پھر اگر کسی نے خرق عقل کے طور پر کچھ دیکھا تو اس لئے کہ حقیقت کا پتہ چل جائے۔ اس کے لئے میں ایک حدیث پیش کرتا ہوں۔ اس حدیث کو ابن عساکر دیگر محدثین اور شیخ اجل امام عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مدارج النبوت میں نقل فرمایا۔ حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جب قبر انور میں جلوہ گر ہوئے تو زیارت کرنے والوں نے زیارت کی۔ آخر میں قثم بن عباس رضی اللہ عنہ نے زیارت کی تو دیکھا حضور انور کے لب مبارک ہل رہے ہیں۔ کانوں کو حضور کے دہن اقدس کے قریب کیا تو سنا، سرکار فرما رہے تھے
اللٰہم اغفر لامتی قثم بن عباس کا یہ دیکھنا خرق عادت کے طور پر ہے۔ اور پھر صرف یہ نہیں بہت سے اولیاء اللہ کے وفات پانے اور موت کا قانون طاری ہونے کے بعد ان کے آثارِ حیات کو بہت سے لوگوں نے خرق عادت کے طور پر دیکھا۔ میں ان سب کی تفصیلات بیان نہیں کرسکتا۔
حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ صحابہ نے سفر میں ایک جگہ قیام کیا۔ اچانک ایک جگہ سے سورۂ
تبارک الذی پڑھنے کی آواز آئی اور ہمیں یقین ہوا کہ یہاں قبر ہے اور اس میں کوئی انسان سورۂ تبارک الذی پڑھ رہا ہے۔ پھر یہ واقعہ صحابہ نے حضور کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کی، حضور! ہمیں پتہ نہیں تھا کہ یہاں کوئی قبر ہے۔ اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں
فاذا فیہ انسان یقرء تبارک الذی بیدہ الملک حتی ختمہا
حضور اچانک اس قبر میں محسوس ہوا کہ اس میں کوئی انسان ہے، جس نے
تبارک الذی پوری پڑھ ڈالی۔ (۴)
سرکار نے یہ الفاظ صحابہ سے سنے۔ سکوت فرما کر اس کو برقرار رکھا تو اب
واذا فیہ انسان یہ حضور کی حدیث ہو گئی قبر میں انسان کا تبارک الذی پڑھنا حدیث سے ثابت ہو گیا۔ یہ آواز عادتاً سننے والی نہیں ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طور پر یہ آواز سنوا دی تاکہ پتہ چل جائے کہ قبریں خالی نہیں ہوا کرتیں۔ مومن قبروں میں زندہ ہوا کرتے ہیں۔ اور پھر یہ قرآن مجید میں موجود ہے کہ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ اور زبانِ رسالت نے انبیاء کے بارے میں فرما دیا کہ
ان اللّٰہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء (الحدیث) (۵)
بے شک اللہ نے زمین پر حرام فرما دیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔
اور مزید حدیث میں آتا ہے
الانبیاء احیاء فی قبورہم و یصلون
انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں۔ (۶)
آپ لوگوں کے مصرفات کی طرف متوجہ ہوں گے یا اللہ اور اس کے رسول کے فرمان پر ایمان لائیں گے۔ ہمارے لئے اللہ اور رسول کا فرمان ہی قابلِ اتباع ہے۔
عزیزانِ گرامی!
لوگ ان آستانوں کو مراکز شرک قرار دے رہے ہیں۔ واللّٰہ باللّٰہ ثم تا اللّٰہ اگر توحید کا مرکز ہیں تو یہی آستانے ہیں اور میں یہ کوئی جذباتی بات نہیں کہہ رہا۔ یہ حقیقت ہے کہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ میں ل استغراق کے لئے ہے۔ یعنی تمام خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ جب تمام خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں تو پھر کسی کی خوبی نہیں ہونی چاہئے۔ نبی، صدیق، شہید اور نہ کسی اور چیز میں کوئی خوب ہو۔ مظاہر کائنات میں ہزاروں خوبیاں ہیں۔ جیسے جنت، حورانِ جنت، ملائکہ، زمین و آسمان، چاند اور سورج میں بے شمار خوبیاں ہیں۔ اور پھر یہ کیسی بات ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ سب خوبیاں رب العالمین کی ہیں۔ تو پھر یہ مفہوم کیسے واضح ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ تمام خوبیاں تو اس کی ہیں مگر جس میں چاہے اپنی خوبیاں چمکا دے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خوبیوں کو جزوی طور پر کائنات میں چمکا دیا۔ جزوی خوبیوں کے جلوؤں کو دیکھ کر لوگوں نے خدا کی توحید کا سبق نہیں لیا۔ اگر ایسا ہوتا تو انبیاء کی حاجت ہی نہ ہوتی۔ عقلاء، حکماء اور فلاسفہ نے اللہ کے حسن کے سب جلوؤں کو دیکھا۔ مگر ذہن اللہ کی طرف منتقل نہیں ہوا۔ ہر (خوبی) اس چیز کی طرف منسوب کر کے گمراہی میں بھٹکتے رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حسن کے اجتماعی جلوے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو عطا فرمائے۔ انبیاء کے جلوے صدیقین میں، صدیقین سے شہداء میں، شہداء کے جلوے صالحین میں چمکے۔ اس لئے اولیاء اللہ کے ان سب مراکز میں اللہ کے حسن کے جلوؤں کی خوبیاں نظر آ رہی ہیں۔ آستانوں کو شرک کہنے والو! ذرا سوچو! اگر سورج کے نیچے کروڑوں شیشے رکھ دئیے جائیں تو سب کے سب چمک جائیں گے۔ ایک شیشے میں سورج کا جلوہ نظر آیا تو کیا وہ سورج کا شریک بن گیا، نہیں بنا۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ شیشہ شفاف ہو۔ سورج کی روشنی کو اپنے اندر لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ تو سورج سے کروڑوں شیشے روشن ہو جائیں تو شرک نہیں ہوتا بلکہ ہر شیشہ اس سورج کے حسن کا مظہر قرار پاتا ہے۔ اگر ایک اللہ کا بندہ اپنے دل کے شیشے کو صاف کر کے اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جائے تو یقینا شیشہ قلب مومن میں اسی کا حسن و جمال چمکتا ہوا نظر آئے گا۔ مگر

آنکھ والا تیرے جلوے کا تماشا دیکھے!
دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے؟

یہ انبیاء، صدیقین، شہداء، صالحین، اولیاء کرام اور داتا گنج بخش سب حسن الوہیت کے مراکز اور آئینے ہیں۔ ان میں خدا کا حسن چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لئے ان کو ولی فرمایا۔ جب ان میں اس کے حسن کے جلوے چمکے تو قریب ہوئے اور ان کے دل میں اللہ کی محبت پیدا ہوئی۔ جب محبت پیدا ہوئی تو اللہ نے ان کو اپنا محبوب بنا لیا اور ان کو تصرف کا حق دے دیا۔ لہٰذا ولی قریب بھی ہیں اور محب بھی۔ محبوب بھی ہیں اور صاحب تصرف بھی۔
 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج