محبتِ رسول

بمقام: نوری مسجد بالمقابل ریلوے اسٹیشن، لاہور
بتاریخ: ۹؍جنوری ۱۹۸۰ء بموقعہ: یومِ رضا

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ

صدرِ محترم، حضرات علمائے کرام، مشائخ عظام اور میرے پیارے محترم عزیز سامعین! اللہ تعالیٰ آپ حضرات پر ہمیشہ اپنی رحمتوں کی بارشیں فرمائے (آمین)
یہ مبارک اجتماع مرکزی مجلس رضا کے زیر اہتمام حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں منعقد ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ میرے ان سنی بھائیوں کو جزائے خیر عطا فرمائے، جنہوں نے اعلیٰ حضرت کی یاد کو تازہ کر دیا۔
نہایت مختصر وقت میں چند گزارشات پیش کروں گا۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کوئی غیر معروف نہیں۔ دنیائے علم کے آفتاب و ماہتاب ہیں، آپ کے مخالفین نے بھی آپ کے علمی اور تحقیقی مقام کو تسلیم کیا ہے۔ عام طور پر یہ کہا گیا ہے کہ کفر کا فتویٰ لگانے میں جلد بازی سے کام لیتے تھے لیکن میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے کسی ایسی بات پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا، جس پر ان کے مخالفین اور معترضین کفر کا فتویٰ نہ دے چکے ہوں۔ کوئی شخص قیامت تک ایسی کوئی بات ثابت نہیں کر سکتا کہ جس بات پر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے کفر کا فتویٰ لگایا ہو، مخالفین کے نزدیک بھی کفر نہ ہو۔
آپ کو معلوم ہو گا کہ
اشد العذاب جو مولوی مرتضیٰ حسن دیوبندی کا ایک رسالہ ہے، انہوں نے اس میں اعتراف کیا کہ مولانا احمد رضا خاں صاحب ان باتوں کو کفر سمجھتے ہوئے کفر کا فتویٰ نہ لگاتے تو خود کافر ہو جاتے۔ (۱)
یہ تو ایک بڑا تعصب ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ پر اس قسم کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ خدا کی قسم! اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ جیسا محقق اور محتاط عالم میری نظر سے نہیں گزرا اور نہ ہمارے علم کے گوشوں میں اس کا کوئی تصور ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے احتیاط کا تو یہ عالم تھا کہ امام الطائفہ (مولوی اسماعیل دہلوی) کی تکفیر میں بھی کف اللسان فرمایا اور یہ کمال احتیاط اور کمال حزم کا تقاضا تھا۔
ہمارے لئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا پیغام کیا ہے؟ محترم سامعین! وہ پیغام محبت رسول ﷺ ہے۔ اور اسی محبت رسولﷺ  کو انہوں نے اپنے ترجمہ قرآن پاک میں بھی ملحوظ رکھا۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے
وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی کا ترجمہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا، اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ضال کا ترجمہ خود رفتہ فرمایا۔ بعض دوسرے لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا آپ کو گمراہ پایا استغفر اللّٰہ۔ لیکن یہ الفاظ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اختیار نہیں فرمائے۔ لفظ ضال میں گم ہونے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ عربی کا محاورہ ہے ضل الماء فی اللبن پانی دودھ میں گم ہو گیا اور خود رفتہ کا ترجمہ بھی یہی ہے کہ پیارے محبوب ہم نے آپ کو اپنی محبت میں گم پایا۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی احتیاط سے ترجمہ فرمایا اور یہ اس بات کی دلیل ہے اور حقیقت ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ امت محمدیہ کے بڑے محسن ہیں اور ہدایت کی راہیں ہمارے لئے کھول دیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے فیوض و برکات سے مستفیض ہونے کا موقع عطا فرمائے۔
میں آپ کو بتاؤں کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا جو پیغام ہے وہ محبت رسول ہے۔ مجھے کسی نے کہا کہ بھئی اگر محبت رسول دیکھنی ہو تو بریلی چلا جا اور اگر اتباع رسول کا نقشہ دیکھنا ہو تو دیوبند چلا جا۔ میں نے کہا کہ بھئی آپ نے اتباع و محبت دونوں کو الگ کر دیا۔ خدا کی قسم! اتباع محبت سے الگ نہیں ہے اور محبت اتباع سے الگ نہیں ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اتباع محبت سے الگ کوئی چیز ہے تو وہ غلط سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ
اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میرے محبوب! آپ کہہ دیجئے کہ
اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو فَاتَّبِعُوْنِیْ تو میری اتباع کرو، میری پیروی کرو، تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ اللہ تم کو اپنا محبوب بنا لے گا۔ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ اور اللہ تو بہت ہی بخشنے والا مہربان ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا، اے میرے محبوب! آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمہیں اللہ کی محبت ہے تو تم میری اتباع کرو۔ یہ کس کو فرمایا
قل کا مخاطب تو حضورﷺ ہیں، اب حضور ﷺ کا مخاطب کون ہے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو مخاطب فرمایا اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ نے جو یہ فرمایا اِنْ کُنْتُمْ کُنْتُمْ یہ جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور اس کے مخاطبین کون ہیں؟ یعنی کُنْتُمْ کا مصداق کون ہے؟ وہ کون ہیں جن کو اللہ فرماتا ہے کہ اِنْ کُنْتُمْ اے میرے پیارے کہہ دے اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ سے تو کیا کرو؟ فَاتَّبِعُوْنِیْ میری اتباع کرو۔
تو میں آپ کو بتاؤں کہ حضورﷺ  نے کسی ایمان والے کو مخاطب نہیں فرمایا بلکہ حضور تاجدارِ مدنی
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ نے اس آیت کریمہ میں یہودیوں کو مخاطب فرمایا، نصرانیوں کو مخاطب فرمایا، اہلِ کتاب کو مخاطب فرمایا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے مخاطب نہیں۔ کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں دو جملے فرمائے۔ ایک جملہ شرطیہ ہو گیا۔ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو تم کیا کرو فَاتَّبِعُوْنِیْ میری اتباع۔ تو معلوم ہوا کہ کچھ ایسے لوگ تھے جو اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتے تھے مگر حضورﷺ  کی اتباع نہیں کرتے تھے۔
اب دیکھئے وہ کون لوگ تھے جو اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتے تھے اور حضورﷺ  کی اتباع نہیں کرتے تھے۔ کیا وہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہو سکتے ہیں؟ کیا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہوسکتے ہیں؟ کیا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہو سکتے ہیں؟ کیا وہ مومنین ہو سکتے ہیں؟ کیا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہو سکتے ہیں؟ کیا وہ صحابہ کرام، اہلِ بیت، ازواجِ مطہرات ہو سکتے ہیں؟ کیا وہ مومنین ہو سکتے ہیں؟ نہیں اور یقینا نہیں۔ ارے یہ تو وہ لوگ ہیں جو کہا کرتے تھے
نَحْنُ اَبْنَائُ اللّٰہِ وَاَحِبَّاؤُہٗ یہ وہ لوگ ہیں جو اہلِ کتاب ہیں، جو خدا کی محبت کے دعویدار تھے، مگر حضورﷺ  کی نبوت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ حضور تاجدارِ مدنی ﷺ کی اتباع سے گریز کرتے تھے۔
تو اب یہ آیت ہی غلط چسپاں کی جا رہی ہے۔ آیت تو نازل ہوئی کافروں کو خطاب کرنے کے لئے اور چسپاں کی جا رہی ہے ہم اہلِ سنت پر۔ عجیب تماشہ ہے۔ اس کا فیصلہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پہلے فرما گئے، بخاری شریف کی جلد ثانی میں یہ مشہور حدیث موجود ہے کہ
کان ابن عمر یر اہم شرار خلق اللّٰہ لانہم انطلقوا الی آیات نزلت فی الکفار فجعلوہا علی المؤمنین (۲)
یعنی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خوراج خدا تعالیٰ کی زمین پر بد ترین مخلوق ہیں۔ کیونکہ جو آیتیں کافروں کے حق میں اتری ہیں وہ ایمان والوں پر چسپاں کر دیتے ہیں۔ بھئی ایمان سے کہنا
مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کی تمام آیتیں کافروں کے حق میں اتریں یا نہیں۔ یقینا کافروں کے حق میں اتری ہیں۔ ارے من دون اللّٰہ کی عبادت کون کرتا تھا؟ کوئی مسلمان مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کا عابد تھا؟ یقینا نہیں۔ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ بھئی لات و منات یعوق و نسر اساف و نائلہ اور ہبل کی پوجا کرنے والے کون تھے؟ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کی تمام آیتیں نازل تو ہوئیں کافروں کے حق میں مگر چسپاں ہو رہی ہیں آج حضرت داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ماننے والوں پر۔
میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا قرآن حکیم میں فقط
مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کی آیتیں ہیں مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کی آیتیں تو پڑھتے ہو مگر باذن اللہ کی آیتیں بھی تو پڑھو، میرا سارے قرآن پر ایمان ہے۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کا مطلب کیا ہے؟ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کامطلب یہ ہے کہ جب تک اللہ کا اذن نہ ہو، اللہ کا حکم نہ ہو، اللہ کا ارادہ نہ ہو تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا، ہمارا یہ ایمان ہے۔ (بے شک ) حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رضی اللہ عنہ بے شک ہمیں فیض پہنچاتے ہیں لیکن اللہ کے اذن سے اللہ کے ارادے سے، اللہ کی مشیت کے تحت اللہ کے حکم سے ۔ اور مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کامطلب یہ ہے کہ اللہ کا ارادہ نہ ہو، اللہ کی مشیت نہ ہو اور کوئی کچھ کر دے، اللہ تعالیٰ نہ چاہے اور کوئی کچھ کرے۔ ارے مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ سے تو تنکا بھی نہیں ہل سکتا، لیکن باذن اللہ سے تو مردے بھی زندہ ہو جاتے ہیں۔ ہمارا ایمان مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کی آیتوں پر بھی ہے اور باذن اللہ کی آیتوں پر بھی ہے یہ نہیں کہ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ یعنی بعض آیتوں پر ایمان لاؤ بعض کے ساتھ کفر کرو، یہ ہمارا کام نہیں، ہم سارے قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، سارا قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔
میں عرض کر رہا تھا کہ اس آیت میں
اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْ نَ اللّٰہَ کے مخاطب تو یہودی اور نصرانی ہیں، وہ خدا کی محبت کے دعوے دار تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر میری محبت کا دعویٰ ہے تو میرے محبوب کے دامن سے لپٹ جاؤ، دعویٰ محبت کا اور پھر اتباع میرے محبوب کی نہیں کرتے، ان کو رسول نہیں مانتے، ان کی نبوت پر ایمان نہیں لاتے اور ان کی اداؤں کے سانچے میں نہیں ڈھلتے۔
اب اگر کوئی یہ کہے کہ ہم تو حضورﷺ  پر ایمان بھی لائے ہیں اور حضورﷺ  کی اداؤں کے سانچے میں بھی ہم ڈھل گئے، داڑھیاں ہماری دیکھو، نمازیں ہماری دیکھو، جبہ ہمارا دیکھو، لباس ہمارا دیکھو اور یہ ہمارا دینی کام، مشاغل، مدارس، تقریرو تحریر، وعظ، فتویٰ یہ سب دیکھو لہٰذا ہم تو اللہ کے رسول کی اتباع کرنے والوں میں شمار ہوں گے تو اس کے متعلق ایک بات آپ کو بتا دوں، میرے دوستو اور عزیزو! خوب سمجھ لیجئے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا کہ میرے محبوب آپ فرما دیجئے کہ اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو تم میری اتباع کرو۔ سن لیجئے
اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْ نَ اللّٰہَ یہ جملہ شرطیہ ہے اور فَاتَّبِعُوْنِیْ یہ جملہ جزائیہ ہے۔ معلوم ہوا کہ اتباع شرط محبت کی جزا ہے اور جب شرط نہ ہو تو مشروط کہاں سے لایا جائے گا جب شرط نہ ہو تو جزا کہاں سے آئے گی، پتہ چلا کہ جب تک محبت نہ ہو تو اتباع ہو ہی نہیں سکتی یعنی جب تک اللہ کی محبت نہ ہو رسول کی اتباع نہیں ہو سکتی۔ آپ کہیں گے کہ یہاں تو اللہ کی محبت کی بات کی جارہی ہے، رسول کی محبت کی بات تو نہیں ہے تو میں کہوں گا کہ اللہ کی محبت کو رسول کی محبت سے الگ کر کے مجھے دکھا دو، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اللہ کے کلام کو رسول کے قول سے الگ کر کے مجھے دکھا دو۔ قرآن سب اللہ کا کلام ہے یا نہیں؟ قرآن نے کہا اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ یعنی کلام میرا ہے مگر جب تک میرا رسول نہ کہے تو تمہیں کیا پتا چلتا کہ میرا کلام کیا ہے؟
عزیزان گرامی!
محبت کا مرکز حسن ہے خوب یاد رکھو! اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ ہزار کائنات کو اپنے حسن کا آئینہ بنایا، ہر قطرے میں اسی کا حسن چمک رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے ہر ذرے کو اپنی ہستی کی نشانی قرار دیا اور تمام حقائق کائنات کو اپنی الوہیت کی دلیل میں پیش کیا اور فرمایا
سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْآ فَاقِ
یعنی تمام آفاق عالم میں ہم اپنی قدرت کی نشانیاں اور اپنی معرفت کی دلیلیں اور اپنی ہستی کا ثبوت تمہیں پیش کریں گے۔ ہر ذرہ میری ہستی کی دلیل ہے ہر ذرے سے میری معرفت حاصل کرو۔
میرے دوستو!
اٹھارہ ہزار کائنات میں خدا کے حسن کے جلوے پھیلے ہوئے ہیں۔ مگر خدا نے ان سارے جلوؤں کو سمیٹ کر ایک انسان کے دامن میں رکھا انسانیت کا حسن بھی پھیلا ہوا تھا تمام جہانِ انسانیت کے حسن کو سمیٹا اور ایک نبی کے دامن میں رکھ دیا نبوت کی کائنات بھی پھیلی ہوئی تھی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ایک لاکھ یا دو لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے تمام انبیاء کے اندر وہ حسن سمٹ کر آیا اور دنیائے نبوت کے حسن کو سمیٹا تو رخسار مصطفی ﷺ میں رکھ دیا اور پھر کیا کہوں۔

رخ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری چشم خیال میں نہ دوکان آئینہ ساز میں

اگر تم نے خداکے حسن کو چمکتا ہوا دیکھنا ہے تو مصطفی ﷺ کا جمال دیکھ لو۔میرے دوستو! محبت کا مرکز حسن ہو تا ہے اور حضورﷺ  کی ذات مرکز حسن الوہیت ہے ۔ حضورﷺ  نے فرمایا اَنَامِرْأَۃُ جَمَالِ الْحَقِّ یعنی میں تو جمال حق کا آئینہ ہوں۔ نتیجہ کیا نکلا کہ جب محبت کا مرکز حسن ہے اور خدا کے حسن کی جلوہ گاہ حضورﷺ کی ذات مقدسہ ہے ۔ تو محبت اسی مرکز حسن کی طرف جائے گی اور جب تک محبت وہاں نہ جائے تو محبت پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔ اب بتاؤ رسول کی محبت خدا کی محبت سے الگ کیسے ہو؟ اور حضور کا حسن کیا ہے؟ ارے حضور کا حسن خدا ہی کا تو حسن ہے۔ بھئی بتاؤ! یہ خدا تعالیٰ کی صفات خدا کا حسن ہیں یا نہیں؟ اللہ کا علم، اللہ کی قدرت، اللہ کا اختیار، اللہ کی سماع، اللہ کی بصر، اللہ کا کلام، اللہ تعالیٰ کی حیا، یہ کیا ہیں؟ یہ اللہ کاحسن ہی تو ہیں۔ پھر بتائیے کہ حضورﷺ  کے اندر کس کا علم چمکا؟ ارے خدا تعالیٰ کا علم ہی تو حضورﷺ  کے اندر چمک رہا ہے اور خدا کی قدرت، خدا کا اختیار حضورﷺ  کے اندر چمک رہا ہے۔ رحمت خدا کی ہے مگر اس کا ظہور حضور کی ذات میں ہو رہا ہے۔ قرآن نے کہا، وَسِعَتْ رَحْمَتِیْ کُلَّ شَیْئٍ اور وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔ اللہ نے اپنے حسنِ رحمت کا آئینہ اپنے محبوب کو بنایا، اپنے علم، اپنی قدرت، اپنی سمع، بصر اور اپنے رؤف و رحیم ہونے کا آئینہ اپنے محبوب کی ذات کو بنایا۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے حسن کی جلوہ گاہ محمد مصطفی ﷺ کی درسگاہ ہے۔ لہٰذا جب تک حضور کی محبت نہ ہو، خدا کی محبت ہو ہی نہیں سکتی اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا کہ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوا اللّٰہَ یا فَاَطِیْعُوا اللّٰہَ چلیے اتباع کے بارے میں یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ بھئی اتباع جو ہے وہ تو نقش قدم کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیز ہے۔ اس لئے فَاتَّبِعُوا اللّٰہَ نہیں فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نقش قدم پر چلنا ممکن ہی نہیں۔ لیکن اطاعت تو نقش قدم سے پاک چیز ہے، لہٰذا فَاَطِیْعُوا اللّٰہَ فرما دیا جاتا۔
فَاتَّبِعُوْنِیْ اس لئے فرمایا کہ تمہارے سامنے میرا کھانا، میرا پینا، میرا سونا، میرا بیٹھنا، میرا چلنا پھرنا یہ ممکن ہی نہیں کیونکہ میں ان صفات سے پاک ہوں۔ تَعَالَی اللّٰہُ عَنْ ذٰلِکَ عُلُوًّا کَبِیْرًا۔اب جیسے میرا محبوب کھائے، ویسے تم کھاؤ، جیسے وہ چلے، ویسے تم چلو یعنی ان کی اداؤں کے سانچے میں ڈھل جاؤ، یہ بات مصطفیٰ کی ذات میں تو ہو سکتی ہے لیکن خدا کی ذات پاک تو ان چیزوں سے بلند و بالا ہے۔ جو کچھ میرا محبوب کرے گا وہ میرے ہی حکم کی تعمیل ہو گی۔ جس نے رسول کی اتباع کر لی اس نے میری اطاعت کر لی۔ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ۔ لہٰذا خدا کی محبت رسول کی محبت ہے اور رسول کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔
عزیزانِ گرامی!
تو میں کہہ رہا تھا کہ بغیر محبت کے اتباع نہیں ہوتی، کیونکہ محبت شرط ہے اور اتباع جزا ہے اور شرط کے بغیر جزا ہو نہیں سکتی۔ لہٰذا جب تک محبت نہ ہو اتباع نہیں ہو سکتی، اب آپ کہیں گے بھئی وہ تو کہتے ہیں کہ ہمیں محبت ہے، آپ کہتے ہیں ہمیں محبت ہے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی بات مانیں یا آپ کی بات مانیں؟
عزیزانِ گرامی!
میں ایک بات آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ محبت کی بہت سی نشانیاں ہیں، مگر میں جامع بات عرض کرتا ہوں کہ صرف دعویٰ محبت بے معنی چیز ہے جب تک اس کے وجود پر کوئی ثبوت نہ ہو۔ سنن ابو داؤد شریف کی حدیث ہے
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ واٰلہ وسلم حبک الشیٔ یعمی و یصم
یعنی حضور اکرم ﷺ نے فرمایا محبت والی آنکھ محبوب کا عیب دیکھنے سے اندھی ہو جاتی ہے اور محبت والا کان محبوب کا عیب سننے سے بہرا ہو جاتا ہے۔
یہ محبت کا کارنامہ اور محبت کا کرشمہ ہے کہ محبوب کا عیب دیکھنے سے محبت آنکھ کو اندھا بنا دیتی ہے اور محبوب کا عیب سننے سے محبت کان کو بہرا بنا دیتی ہے لیکن یہ تو اس وقت ہے جبکہ واقعی کوئی عیب ہو اور جہاں عیب ہی نہ ہو؟
دیکھئے، اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو محمد (ﷺ) بنایا، سورئہ محمد میں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ حضور کا نام احمد بھی ہے۔ حضورﷺ  کے بہت سے نام ہیں۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضورﷺ  کے چار سو سے زائد نام لکھے ہیں۔ حضور کا ہر نام ایک صفت پر دلالت کرتا ہے، ہر نام ایک کمال پر دلالت کرتا ہے اور جتنے کمالات زیادہ ہوتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اتنے اسماء زیادہ ہوں گے۔ ناموں کے زیادہ ہونے سے نام والا زیادہ نہیں ہوتا، نام والا ایک ہی رہتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان لی اسمآء انا احمد و انا محمد وانا الماحی الذی یمحو اللّٰہ من الکفر و الشرک وانا الحاشر وانا الذی یحشر الناس علی قدمی وانا العاقب (۳)
فرمایا، میرے بہت سے نام ہے، میں احمد بھی ہوں، میں محمد بھی ہوں اور ایک حدیث جسے شارح صحیح بخاری علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے مواہب اللدنیہ میں نقل کیا، اور یہ حدیث مسند ابو یعلی یا مسند ابن حبان میں بھی میری نظر سے گزری۔
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم انا احمد فی السماء و محمد فی الارض
فرمایا، میں آسمانوں میں احمد ہوں، زمینوں میں محمد ہوں، یہ حدیث مرفوع ہے۔ اس کا مطلب یہ سمجھنا کہ حضورﷺ  کا نام محمد آسمانوں میں بالکل ہے ہی نہیں اور اسی طرح زمینوں میں حضورﷺ  کا نام نامی احمد بالکل نہ ہو۔ یہ بات نہیں، بات یہ ہے کہ آسمانوں میں زیادہ مشہور نام احمد ہے اور زمینوں میں زیادہ مشہور نام محمد ہے۔ قرآن پاک میں بھی حضورﷺ  کا نام احمد آیا، آپ کو معلوم ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا
وَ مُبَشِّرًا م بِرَسُوْلِ یَّأْتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ
یعنی میں ایسے رسول کی خوشخبری سنانے آیا ہوں جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد ہو گا۔
یہاں اگر کوئی سوچے کہ احمد تو آسمانی نام ہے، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس نام کے ساتھ خوشخبری دینی تھی جو زمین میں مشہور تھا اور کلمہ میں ہم پڑھتے ہیں
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ تو لفظ محمد کے ساتھ خوشخبری کیوں نہیں دی؟ بشارت دینے کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ آنے والے کے حق میں تصدیق کی راہیں کھل جائیں اور لوگ آسانی سے تصدیق کر سکیں، تو اگر لفظ محمد کے ساتھ بشارت دیتے تو تصدیق کی راہیں بالکل کشادہ ہو جاتیں، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لفظ احمد کے ساتھ بشارت دی اور اس میں ابہام پیدا ہو گیا اور وہ اس لئے کہ ایک شخص غلام احمد قادیان میں پیدا ہوا۔ اس نے کہا کہ احمد تو میں ہوں، جس کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دے گئے ہیں۔ لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ تو اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت میں لفظ محمد ہوتا تو اس کو یہ موقع نہ ملتا۔ آخر ایسا کیوں ہوا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لفظ احمد کے بجائے لفظ محمد کے ساتھ بشارت کیوں نہ دی؟
اس کے متعلق ایک بات عرض کئے دیتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کو آپ سمجھتے ہیں، ان کی شخصیت اور ان کی عظمت اور اہمیت کیا ہے؟ ان کی خصوصیت کیا ہے؟ ایک قاعدہ یاد رکھیئے کہ ہر متکلم کا جو کلام ہوتا ہے، وہ متکلم کی خصوصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے، جیسے خدا بے مثل ہے
لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ خدا کا بے مثل ہونا خدا کی شان ہے، ایسے ہی اس کا کلام بھی بے مثل ہے فَأْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ قرآن کا بے مثل ہونا اس بات کا آئینہ دار ہے کہ خدا بے مثل ہے، ہر متکلم کا کلام متکلم کی خصوصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے، اب یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام متکلم ہیں۔ وَ مُبَشِّرًا م بِرَسُوْلِ یَّأْتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ یہ آیت تو قرآن پاک کی ہے لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے تو ان کی بشارت کی حکایت فرمائی ہے کیونکہ بشارت دینے والا اللہ تو نہیں ہے، بشارت دینے والے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ وہ بشارت دے رہے ہیں اس رسول کی جو ان کے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہو گا، اس کی وجہ کیا ہے؟
وجہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایسے لفظ سے بشارت دی اور بشارت میں وہ کلام کیا جو ان کی خصوصیت کا آئینہ دار ہے، اب ڈھونڈیں ان کی خصوصیات کیا ہیں؟ ان کی سب سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو آسمان سے بھیجا اور حضرت مریم کے گریبان میں انہوں نے پھونک ماری اور نفخ جبریل علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے شکم میں آئے۔ بتایئے جبریل کی پھونک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وجود میں بنیادی نقطہ رکھتی ہے یا نہیں؟ نفخ (پھونک) کا تعلق کس سے ہے؟ پھونک جبریل کی ذات سے اور جبریل علیہ السلام کا تعلق کہاں سے ہے، زمین سے ہے یا آسمان سے؟ یقینا آسمان سے ہے، تو پتا چلا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بواسطہ نفخ جبریل کے آسمانی الاصل ہیں۔ بتانا یہ تھا کہ جو جہاں کا ہوتا ہے، بولی وہاں کی بولتا ہے۔
انا احمد فی السماء ومحمد فی الارض انہوں نے لفظ محمد کی نفی تو نہیں کی، انہوں نے لفظ احمد کے ساتھ بشارت دی ہے اور بشارت دینے کا مقصد یہ ہے کہ میں آسمانی نام اس لئے بول رہا ہوں کہ میں خود آسمانی الاصل ہوں۔ بھئی پنجاب کا رہنے والا پنجابی بولے گا، سندھ کا رہنے والا سندھی بولے گا، بنگال کا رہنے والا بنگالی بولے گا، عرب کا رہنے والا عربی بولے گا، زمین کا رہنے والا زمین کی بولی بولے گا اور جس کی اصل آسمان کی ہو گی وہ آسمانی بولی بولے گا۔ انا احمد فی السماء ومحمد فی الارض
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو احمد بھی بنایا اور محمد بھی بنایا۔ لفظ احمد اور محمد دونوں حضور کے ذاتی نام ہیں۔ وقت کی قلت کی وجہ سے میں اس پر اب زیادہ بات نہیں کر سکتا۔ لفظ حمد کا مادہ کیا ہے؟ ح، م، د، حمد کا مادہ ہے یا نہیں؟ اور جب الف لام لگایا تو الحمد مصدر ہو گیا۔ یہ تو ہے مدلل اور جب اس کو مزید کیا تو التحمید بن گیا۔ لفظ محمد اسم مفعول کا صیغہ اور اس کے معنی اسم مبالغہ کے ہیں۔ اس کا مصدر التحمید ہے اور تحمید کس سے بنا ہے؟ احمد سے بنا ہے کیونکہ الحمد تھا مجرد اور التحمید ہوا مزید۔
یہ تمام علماء بیٹھے ہیں، علماء سے پوچھیں کہ مجرد کو جب مزید بنایا جائے تو کس حکمت کے لئے بنایا جاتا ہے؟ زیادتی لفظ زیادتی معنی پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ معنی کو زیادہ کرنا ہو تو لفظوں کو زیادہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسے قطع کے معنی ہیں کاٹ دیا، توڑ دیا یا ایک چیز کو آپ دو ٹکڑے کر دیں تو کہا جائے گا، قطع کر دیا اور اگر اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ٹکرے کرتے چلے جائیں تو پھر قطع نہیں کہیں گے پھر قطاع کہا جائے گا۔ تو جب معنی کو بڑھانا ہو تو لفظوں کو بڑھاتے ہیں۔ زیادتی لفظ زیادتی معنی پر دلالت کرتی ہے۔ تو حمد سے تحمید بنا اور تحمید سے محمد بنا۔
غور کرنے کی بات ہے کہ الحمد سے محمود مشتق ہوا اور التحمید سے محمد مشتق ہوا۔ محمود الحمد سے بنا اور محمد التحمید سے بنا۔ محمد کے معنی علماء نے لکھے
الذی حمد مرۃ بعد مرۃ والذی حمد کرۃ بعد کرۃ یعنی جس کی بار بار تعریف کی جائے اور جس کی بے شمار تعریف کی جائے وہ محمد ہوتا ہے۔ جس کی بار بار حمد کی جائے، جس کی بے شمار حمد کی جائے، جس کی بکثرت حمد کی جائے وہ محمد ہوتا ہے۔ محمد اللہ کا نام ہے یاحضور کا نام ہے؟ یقینا حضور کا ہی نام محمد ہے اور محمود اللہ کا نام بھی ہے اور حضور کا نام بھی ہے۔ محمود کے معنی ہیں حمد کیا ہوا اور محمد کے معنی ہیں بار بار حمد کیا ہوا، بے شمار حمد کیا ہوا، بکثرت حمد کیا ہوا۔
اب یہاں سوچنے کی بات ہے کہ بے شمار اور بار بار حمد کس کی ہوتی ہے؟ مسلمان جب بھی نماز پڑھتا ہے تو کہتا ہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ایمان سے کہئیے کروڑوں اربوں مسلمان چوبیس گھنٹے میں کتنی بار الحمد پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی کتنی حمد کرتے ہیں۔ بار بار حمد اللہ کی ہوتی ہے یا حضورﷺ  کی ہوتی ہے؟ ارے بار بار اور بے شمار حمد تو اللہ کی ہوتی ہے۔ تو چاہئے یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنا نام محمد رکھتا، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنا نام محمد نہیں رکھا، اللہ نے اپنا نام محمود رکھا اور حضور کا نام محمد رکھا، آخر یہ کیا بات ہے؟ تو مجھے کہنے دیجئے، اگر کسی نے فتویٰ لگانا ہے تو لگا دے یہ میرے ذوق کی بات ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے میری بات مجھے واپس کر دے یا کسی اور کو سنا دے۔ بھئی غور سے سنیئے، اصل بات یہ ہے کہ مجھے بخاری شریف کی ایک حدیث یاد آ رہی ہے، بخاری کے باب کتاب التفسیر میں وہ حدیث ہے اور اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ کے تحت حضرت ابو العالیہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ یہاں آپ کہیں گے کہ یہ تو ابو العالیہ کا قول ہے، حدیث کیسے ہو گیا؟ تو سنیے ہمارا اہلِ سنت کا یہ مسلک ہے بلکہ جمہور محدثین کا یہ مذہب ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا قول فعل تقریر حدیث ہے، صحابی کا قول فعل تقریر حدیث ہے اور تابعی کا قول فعل تقریر حدیث ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ حضورﷺ  کی حدیث حدیثِ مرفوع ہے، صحابی کی حدیث حدیثِ موقوف ہے اور تابعی کی حدیث حدیثِ مقطوع ہے، مگر حدیث ہونے کا اعتراف تو سب کو ہے۔ حضرت ابو العالیہ کا قول پیش کرتا ہوں جو محدثین کی اصطلاح میں حدیث ہے اور بخاری شریف جلد ثانی میں موجود ہے۔ قرآن کی آیت اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ کی تفسیر میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابو العالیہ کا قول نقل کیا ہے، فرماتے ہیں
صلوۃ اللّٰہ ثنائہ علیہ عند الملائکۃ (۴)
یہ الفاظ یاد رکھنے کے قابل ہیں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ یعنی اللہ اپنے نبی پر صلٰوۃ فرماتا ہے۔ اللہ کی صلوٰۃ کے بہت سے معنی ہیں، نور الانوار اور جمہور کی دوسری کتابوں میں آپ نے پڑھے ہوں گے۔ لیکن حضرت ابو العالیہ نے جو معنی بیان کئے ہیں، ان سے کسی اور معنی کی نفی نہیں ہوتی۔ آپ فرماتے ہیں صلوٰۃ اللّٰہ ثنائہ عند الملٰئکۃ یعنی اللہ کی صلوٰۃ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے نزدیک اپنے محبوب کی تعریف کرتا رہتا ہے۔ یصلون مضارع ہے اور مضارع میں اسمترار ہے۔ اب اللہ تعالیٰ یہ صلوٰۃ کب سے فرما رہا ہے اور کب تک فرماتا رہے گا؟ کوئی ابتداء ہے؟ اللہ تعالیٰ کے اس صلوٰۃ کی ابتداء کوئی بیان کر سکتا ہے اور کب تک اللہ تعالیٰ یہ کرے گا، کوئی بتا سکتا ہے کہ صلوٰۃ علی النبی کا یہ فعل کب تک ہو گا اور اس کی انتہا کب ہو گی؟ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ
کب سے اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کی تعریف کر رہا ہے اور کب تک کرے گا؟ کوئی نہیں بتا سکتا۔ اس میں استمرار ہے اور اللہ کی ثنا اپنے نبی پر مستمر ہے۔ دائم ہے۔ اللہ یہ ثناء کر رہا ہے اور ثناء کرتا رہے گا۔ ثناء کے معنی ہیں کسی کی خوبی بیان کرنا۔ حضورﷺ  کی ثناء تو اب ختم ہو جانی چاہئے تھی۔ اتنا عرصہ گزر گیا، تعریف ختم ہو جانی چاہئے تھی۔ لیکن ایمان سے کہئیے، یہ ثناء اب بھی ہو رہی ہے یا نہیں؟ اور جاری رہے گی کہ نہیں رہے گی؟ ارے حضورﷺ  کی خوبیاں ختم ہوں تو ان خوبیوں کا بیان بھی ختم ہو۔

حسنش غایتے داردنہ سعدی را سخن پایاں
بمیرد تشنہ مستسقی و دریا ہم چناں باقی

ان کے کمالات، ان کی خوبیوں کی انتہا ہو تو بات ختم ہو، اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کی ثناء فرما رہا ہے، ان کی تعریف کر رہا ہے۔ صلوٰۃ اللّٰہ ثناء ہ عند الملٰئکۃ یہ بات ذہن میں رکھئے اور سنئے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام محمد نہیں رکھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنا نام محمود رکھا۔ اللہ، اللہ حضرت حسان بن ثابت کے کلام میں ایک مصرعہ آتا ہے

فذو العرش محمود وہٰذا محمد

عرش والا محمود ہے یہ محمد ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنا نام محمد کیوں نہیں رکھا۔ اپنے محبوب کا نام صرف محمود رکھ دیتا اور اپنا نام محمد رکھ لیتا لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ محمد فقط حضور کا نام ہے۔ اللہ کے ناموں میں کہیں محمد نہیں ہے۔ یہ بات ضرور ہے کہ لفظ محمد کے جو معنی ہیں وہ ہم اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ کے لئے ثابت کرتے ہیں۔ کیونکہ محمد کے معنی ہیں بہت تعریف کیا ہوا۔ تو ہم مانتے ہیں کہ اللہ بہت تعریف کیا ہوا ہے۔ مانا کہ اللہ محمد ہے مگر لفظ محمد اللہ کا نام نہیں ہے، اللہ کا نام نہیں ہے، یہ نام فقط حضور کا ہے۔ اس کی وجہ آپ کو بتاؤں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری کائنات تو اللہ کی حمد کرتی ہے۔ ٹھیک ہے ناں؟ اور اللہ خود اپنے مصطفی کی حمد کرتا ہے۔ ارے اب خود ہی فیصلہ کر لو کہ بندوں کی حمد زیادہ ہو گی یا خدا کی حمد زیادہ ہو گی؟ کیا بندہ خدا کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ نہیں کر سکتا۔ معلوم ہوا کہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ خدا تعالیٰ کی حمد کرتا ہے۔ وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ مگر وہ تمام ذرات محدود ہیں۔ متناہی ہیں اور اللہ کی قسم خدا جو اپنے محبوب کی تعریف کرتا ہے، وہ لا متناہی ہے۔ تو بات سمجھ میں آ گئی۔
بھئی یہ بتایئے، تعریف عیب کی ہوتی ہے یا خوبی کی؟ یقینا تعریف خوبی کی ہوتی ہے اور عیب کی تو مذمت ہوتی ہے۔ آپ کسی کی خوبیاں بیان کرتے ہیں، جہاں عیب سامنے آ جائے گا، وہاں تعریف ختم ہو جائے گی اور حضورﷺ  کی تعریف کہیں ختم ہوتی ہے؟ ارے جہاں عیب ہو ہی نہ، وہاں تعریف کیسے ختم ہو؟ معلوم ہوا کہ یہاں عیب ہے ہی نہیں اور جو کوئی ان میں عیب تلاش کرے تو وہ محبت کی آنکھ نہیں کہلائے گی۔ یہ سمجھنے کی بات ہے کہ اتباع کا بنیادی نقطہ محبت ہے اور محبت کا بنیادی نقطہ
حبک الشیٔ یعمی ویصم ہے یعنی محبت کا کام یہ ہے کہ محبت والے کی آنکھ محبوب کا عیب دیکھنے سے اندھی ہو جاتی ہے، اسے محبوب کا عیب نظر نہیں آتا اور محبت والے کا کان محبوب کا عیب سننے سے بہرا ہو جاتا ہے اور یہ تو وہاں ہے جہاں عیب ہے اور جہاں عیب ہے ہی نہیں وہاں کسی کو عیب نظر آئے تو وہ محبت کی آنکھ کیسے ہو سکتی ہے۔ بعض لوگوں نے حضور پر نور ا کی پانچ غلطیاں نکالیں۔ نعوذ باللّٰہ! ایک اور شخص نے بائیس غلطیاں قرآن سے نکالیں۔ ہائے کاش، اتنا وقت ہوتا تو میں ایک ایک آیت پڑھ کر بتاتا کہ جن جن آیتوں کو انہوں نے رسول کی غلطی کی دلیل بنایا، خدا کی قسم وہ ایک ایک آیت جمالِ مصطفی ﷺ کی دلیل ہے اور کمالِ محمدی (ﷺ) کی دلیل ہے۔ عَبَسَ وَتَوَلّٰی۔ اَنْ جَآئَ ہُ الْاَعْمٰی۔ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰی۔ یٰاَیُّہَا النَبِّیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ۔ عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ۔ اللہ اللہ، اتنا وقت نہیں۔ ورنہ ایک ایک آیت کریمہ تقریر کا پورا موضوع ہے اور میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ان آیات کے اندر خدا نے اپنے محبوب کے حسن محبوبیت کا جلوہ ظاہر فرمایا ہے۔

آنکھ والا ترے جلوے کا تماشا دیکھے!
دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے؟

میرے دوستو اور عزیزو!
جو قوم رسولﷺ  میں عیب نکالتی ہے اور جو کہتی ہے کہ ان کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں، جو کہتی ہے کہ وہ مر کر مٹی میں مل گئے، جو کہتی ہے کہ جن کا نام محمد یا علی ہے ان کو کسی چیز کا اختیار نہیں اور جو معاذ اللّٰہ ان کو شک و شبہ میں مبتلا سمجھتی ہے، بھئی دجال کا مسئلہ عقلی مسئلہ ہے یاالہامی مسئلہ ہے؟ ارے یہ تو الہامی مسئلہ ہے۔ یہ تو وحی الٰہی سے متعلق ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی وحی سمجھنے میں، اللہ کی وحی کی مراد جاننے میں ساری عمر شبہ میں مبتلا رہے اور دجال کے بارے میں ان کا اندیشہ ساری عمر بالکل صحیح نہ ہوا اور شک و شبہ کا شکار رہے؟ بولو، کیارسالت کے معنی یہ ہیں؟ کیا رسالت کا مفہوم یہ ہے؟ کیا رسالت کے لئے یہ بات ممکن ہے؟ متصور ہے؟ جو لوگ آج یہ کہہ رہے کہ ساڑھے تیرہ سو برس نے یہ بات ثابت کر دی کہ رسول کا اندیشہ دجال کے بارے میں صحیح نہ تھا اور جو یہ کہے کہ معاذ اللّٰہ رسول اس معاملے میں شک و شبہ میں مبتلا رہے، ایمان سے کہنا کہ اس کی نظر کیسی نظر ہے؟ کیا یہ محبت کی آنکھ ہو سکتی ہے؟ بس پتا چل گیا کہ اتباع کا بنیادی نقطہ محبت ہے اور محبت کی دلیل محبوب کو بے عیب دیکھنا ہے۔ ارے لوگوں کو تو اپنے محبوب میں عیب ہوتے ہوئے بھی نظر نہیں آتا اور میرے آقا تو ہیں ہی بے عیب، محبت والوں کو تو عیب بھی حسن نظر آتا ہے اور جن آنکھوں کو حسن بھی عیب ہی نظر آئے تو وہ محبت کی آنکھ کیسے ہو سکتی ہے؟ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہی محبت کا پیغام ہمیں دیا اور میں اللہ کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ اتباع بغیر حُب کے نہیں ہو سکتی اور حُب کی انمٹ نشانی یہ ہے کہ حضور کی ذات میں کوئی غلطی نظر نہ آئے۔ حضورﷺ  کے کمالات کی نفی نہ کرتا ہو، حضورﷺ  کی حیات کا نافی نہ ہو، حضورﷺ  کے کسی کمال کا انکار نہ کرتا ہو، وہ حضورﷺ  کا محب ہو سکتا ہے۔ اور جن کی نگاہیں ہر وقت حضور کا عیب تلاش کر رہی ہیں کہ کسی بات کی لاعلمی ثابت ہو جائے، کسی بات میں معاذ اللّٰہ حضور سے غلط کام ہونا ثابت ہو جائے، کسی بات میں اجتہادی غلطی نکل آئے، کسی بات میں ان کا کوئی عیب ظاہر ہو جائے، ارے ظالمو! جب تمہاری نگاہیں عیب جو ہیں تو پھر یہ نگاہ صدیق اکبر کی نگاہ نہیں ہو سکتی۔ یہ تو ابو جہل کی نگاہ ہے۔ بلبل کا کام کیا ہے؟ جب اڑتی ہے تو اس کی نگاہیں دیکھتی ہیں کہ پھول کہاں ہے؟ وہ پھول کو ڈھونڈتی ہوئی جاتی ہے اور کرگس کی حالت کیا ہے؟ وہ جب اڑتا ہے تو دیکھتا ہے کہ مردار کہاں پڑا ہے؟
میرے دوستو!
جو حضور کے دشمن ہیں، وہ عیب کا مردار ڈھونڈ رہے ہیں اور جو چمنستانِ رسالت کی بلبلیں ہیں وہ حضور کے حسن و جمال کے پھول تلاش کر رہی ہیں۔ ایک بات آپ کو بتا دوں کہ محبت کی کھلی نشانی یہ ہے کہ جب محبوب کا نام آئے تو عظمت و وقار سے گردنیں جھک جائیں۔ جب محبوب کا نام آئے تو چہرے ہشاش بشاش نظر آئیں۔ مگر وہ چہرے جو کہ حضور کی عظمت کا ذکر سنتے ہی مرجھا جائیں اور جن پر سیاہی چھا جائے، کیا وہ محبت والے کا چہرہ ہو سکتا ہے؟ اللّٰہ اکبر۔ ارے بھئی، محبت والا جب محبوب کی بات سنتا ہے، اس کا چہرہ ہشاش بشاش نظر آتا ہے، عظمت و وقار سے اس کی گردن جھک جاتی ہے اور پھر بے اختیار اس کی زبان سے
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ کا نعرہ نکلتا ہے اور جب پیارے مصطفی کا نام آتا ہے تو بے اختیار اس کے انگوٹھے آنکھوں تک اٹھ جاتے ہیں۔ بے اختیار فرطِ محبت میں حضور کا نام اقدس چوم لیتا ہے۔ یہ تمہارا فرطِ محبت میں نام چومنا، یہ تمہارا جھومنا، یہ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ کا نعرہ بلند کرنا، یہ محبت کی نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک پر قائم رکھے۔ آمین۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج