انجمن طلباء اسلام سے کسی کالج میں خطاب

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عزیز طلبا!
مجھے بڑی مسرت ہے کہ آپ نے نہایت محبت کے ساتھ یہ محفل سجائی اور ہمیں دعوت دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ طلباء ہماری قوم و ملک کا عظیم سرمایہ اور متاعِ عزیز ہیں۔ ہماری نسلوں کی بہبود و فلاح طلباء کی بہبود و فلاح پر موقوف ہے۔ ہمارے عزیز طلباء معاشرے میں بہت اونچا اور بلند مقام رکھتے ہیں اور ان کی عظمتوں کو کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ طلباء کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بہت سنگین اور شدید قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان تعلیمی اداروں میں کئی قسم کے لوگ ہوں گے۔ بعض آپ کے مذہب کا نام لے کر آپ کے نظریات سے اختلاف کریں گے۔ بعض سرے سے مذہب کا انکار کریں گے۔ کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو مذہب کا انکار نہیں کریں گے اور نہ ہی بظاہر آپ کے نظریات سے متصادم ہوں گے لیکن ان کی اخلاقی حالت اس قدر گری ہوئی ہو گی کہ ان کے اخلاقی ماحول کو آپ برداشت نہیں کر سکیں گے۔ مگر آپ کو حسنِ اخلاق اور تدبیر سے کام لینا ہو گا۔ بڑے نرم لہجے میں بڑی خوبی کے ساتھ اپنے علم اور عقل کی روشنی میں اپنا موقف ان پر واضح کریں۔ بغیر منفی انداز اختیار کرنے کے نہایت مثبت طریقے سے آپ اپنے نظریات کو دلائل کی روشنی میں ان پر واضح کریں۔ ایک دو یا تین مرتبہ آپ کی بات کا ان پر اثر نہ ہو۔ آپ مایوس نہ ہوں۔ پھر انہیں دعوتِ فکر دیں اور اپنے ماحول میں بدلنے کی کوشش کریں۔ اپنے ماحول میں بدلنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی دلیل کے ساتھ قائل ہوتا ہے تو اسے دلیل سے قابو کریں۔ کسی مسئلہ میں آپ کو دلائل درکار ہوں تو ان حضرات سے رابطہ رکھیں جو آپ کے ساتھ دلیل کے میدان میں تعاون کریں اور اگر آپ ان کو دلائل کے میدان میں قائل نہیں کر سکتے تو آپ ان کو اپنے کردار سے متاثر کریں۔ آپ کا کردار اتنا بلند اور اونچا ہونا چاہیئے کہ دوسرا شخص دیکھتے ہی مغلوب و مرغوب ہو، آپ کی سچائی اور نظرئیے کی صداقت کو تسلیم کر لے۔
اپنے عزیز محترم امجد علی چشتی کے خیالات پر نہایت ہی خوشی کا اظہار کرتا ہوں (انہوں نے حضرت صاحب قبلہ سے پہلے تقریر کی تھی) اور ان کی تائید میں چند باتیں عرض کرتا ہوں اور آخر میں یہ عرض کروں گا کہ زیادہ سے زیادہ اپنے قلم میں زور پیدا کریں اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اس نظرئیے کے تحفظ کے لئے صرف کریں کہ جو نظریہ آپ کے سکول، کالج اور یونیورسٹی میں داخل ہوتا ہے، اس نظرئیے کی وضاحت کے لئے میں یہ عرض کرتا ہوں کہ آپ انجمن طلباء اسلام ہیں اور اسلام کے معنی اطاعت میں گردن رکھ دینے کے ہیں۔ اور دین اسلام کے لئے قرآن نے کہا
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ (پ۳: عمران: آیت ۱)
میں غیر مبہم الفاظ میں واضح طور پر کہوں گا کہ دین جس چیز کا نام ہے، خدا کی قسم! وہ صرف محمد مصطفی کی ادائیں ہیں۔ یعنی سرکار نے جو کچھ کر کے دکھایا اور جو کہا، اس کا نام اسلام ہے۔ آپ کہیں گے کہ قرآن تو حضور کا کہا ہوا نہیں ہے۔ تو میں کہوں گا کہ قرآن بھی حضور کا کہا ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے۔
اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ
یہ قرآن بھی اسی دہن پاک سے اور حدیث بھی اسی دہن پاک سے نکلتی تھی۔ فرق یہ ہے کہ قرآن پاک کی عبارت اور الفاظ حسنِ الوہیت کا آئینہ ہیں اور حدیث حسنِ رسالت کا آئینہ ہے۔ سرکار نے
بِسْمِ اللّٰہِ سے وَالنَّاسِ تک جو کچھ فرمایا، وہ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ آیت کا مصداق ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہم پر تلاوت فرماتے ہیں۔ اسی دہن مقدس سے ہمیں سارا قرآن اور حدیث ملا۔ لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ ان میں الفاظ کا تفاوت بہت واضح ہے۔ یعنی کوئی حدیث بھی کسی آیت کے متشابہ نہیں ہے۔ خواہ کسی ان پڑھ کو بھی قرآن کی آیت اور حدیث پڑھ کر سنائیں تو وہ بھی واضح طور پر بتا دے گا کہ یہ قرآن کی آیت ہے اور یہ حدیث ہے۔ یہ حضور کی صداقت کی چمکتی ہوئی دلیل ہے۔ سرکار نہ کہتے تو ہمیں پتہ نہ چلتا۔ جو کچھ حضور نے کہہ دیا، وہ اسلام ہے، خواہ حدیث کی صورت میں یا قرآن تلاوت کرنے کی صورت میں کہا ہو۔
بہرحال سارا دین حضور کا کہنا اور کرنا ہے۔ جو کہہ دیا وہ ادائے گفتار ہے اور جو کر دیا وہ ادائے کردار ہے۔ حضور کی ادائے گفتار اور ادائے کردار کا نام اسلام ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے آپ یوں سمجھ لیجئے کہ حضور مثل سورج کے ہیں اور اسلام مثل سورج کی شعاعوں کے ہے۔ جس طرح سورج کی شعاعوں کو سورج سے جدا نہیں کر سکتے، اسی طرح اسلام کو حضور کی ذاتِ اقدس سے جدا نہیں کر سکتے اور یہی وجہ ہے کہ حضور کی ذاتِ مقدسہ معیارِ حق ہے اور اب آپ اندازہ کریں کہ حضور کی اہمیت دین اسلام میں کیسی ہے؟ بعض لوگ حضور کو یقینا معیارِ حق تسلیم نہیں کرتے۔ کہنے کو کچھ کہتے ہیں۔ مثلاً کسی نے رسائل مسائل میں یہ کہہ دیا کہ چودہ سو سال کے عرصہ نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ حضور کا دجال کے بارے میں جو اندیشہ تھا، صحیح نہیں تھا۔ اب اس دجال کے مسئلہ کا تعلق نہ دنیاوی اور سیاسی ہے۔ نہ معاشرتی اور سیاسیات سے ہے۔ اس کا تعلق صرف اعتقادیات سے ہے اور ہر مسلمان کا دجال پر عقیدہ ہے اور چودہ سو سال تک وہ غلطی ویسی ہی آ رہی ہو تو پھر حضور معیارِ حق کیسے رہے؟ ان کے نزدیک تو گویا حضور معیارِ حق نہ ہوئے۔ کیونکہ جو رسول کے اندیشہ، فکر اور سوچ کو غلط کہے اس کے لئے حضور کی ذات ہرگز معیارِ حق نہیں ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ حضور ہر غلطی اور خطا سے پاک ہیں۔

ایک شبہ کا ازالہ
آپ کہیں گے کہ علماء نے کہا ہے کہ اگر نبی سے کوئی لغزش اور خطا ہو جائے تو نبی اس پر برقرار نہیں رہتا۔ تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ نبی سے لغزش اور خطا ہو جاتی ہے۔ لہٰذا نبی سے کلیتًا اور قطعًا لغزش اور خطا کی نفی کرنا صحیح نہ ہوا۔
اس کے متعلق میں آپ سے عرض کر دوں کہ دراصل نبی سے لغزش یا خطا کا صدور ہونا اس کا یہ مفہوم نہیں کہ نبی نے جو کام بطور لغزش کیا اور اس پر قائم نہ رہا، وہ واقعی خطا یا لغزش ہے۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کام کو جسے صورتًا لغزش اور خطا سے تعبیر کیا گیا، خدا کی قسم! حقیقتًا وہ خطا نہیں ہے۔
میں اس کی مثال دیتا ہوں۔ حضور نبی کریم نے ایک مرتبہ بعض اعضاء کو تین، بعض کو دو اور بعض کو ایک مرتبہ دھویا۔ حالانکہ سرکار کا ارشاد ہے کہ وضو میں اثبات سے کام لو۔ اثبات کا معنی ہے کہ کامل طور پر وضو کرو۔ اب لوگوں نے کہا، سرکار نے ایک مرتبہ ایسا کیا۔ مگر اس بات پر برقرار نہیں رہے۔ اب اس کو خطا اور لغزش سمجھنا بڑی غلطی ہے۔ کیونکہ رسالت ایک عظیم منصب ہے۔ جو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے، وہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ حضور کا ایسا کرنا تعلیمِ امت کے لئے تھا کہ اگر کسی نے ایک مرتبہ دھویا تب بھی وضو ہو جائے گا، دو مرتبہ دھونے سے بھی وضو ہو جائے گا۔ لیکن فضیلت تین مرتبہ اعضاء دھونے میں ہے۔ اور یہ حکم حضور نے اپنے عمل سے ظاہر فرمایا اور حضور سید عالم کا یہ عمل اور یہ طریق کار امت کے سامنے نہ ہوتا تو فرمانِ نبوی کافی تھا۔ مگر جو اثر حضور کے عمل کی بنا پر صحابہ کے ذہنوں پر مرتب ہوگا، وہ بہت قوی ہو گا۔ اس لئے صحابہ کرام حضور تاجدارِ مدنی کے ہر عمل کے شیدائی تھے اور سرکار کے عمل کے لئے چشمِ براہ رہتے تھے کہ سرکار کی ادائیں ہمارے سامنے آئیں ہم انہیں سمیٹ کر اپنے اندر محفوظ کریں اور اگر حضور ایسا عمل نہ فرماتے تویہ مسئلہ کیسے سامنے آتا؟ تو پتہ چلا کہ جس چیز کو لوگوں نے خطا اور لغزش سے تعبیر کیا وہ صورتاً لغزش اور خطا ہے لیکن حقیقتاً منصب رسالت کی تکمیل ہے۔
اب حضور تاجدارِ مدنی سے ایسے بے شمار کام ہوئے ہیں کہ جن کو لوگوں نے لغزش سے تعبیر کیا لیکن وہ صورتاً خطا ہے اور حقیقتاً خطا نہیں ہے۔ اگر حضور کی لغزش کو ہم اپنی بڑی فرض عبادت کے مقابلے میں لے آئیں تو ہماری فرض عبادات کا ثواب اتنا نہیں ملے گا، جتنا حضور کو اس خطا کا ثواب ملے گا۔ کیوں؟ اس لئے کہ حضور نے اپنے منصب رسالت کی تکمیل اور تبلیغ دین کے لئے اپنا فریضہ ادا فرمایا۔ تو پھر حضور کے فریضہ سے تمہارے فرائض کو کیا نسبت؟ چہ نسبت خاک را باعالم پاک ۔ بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ معیارِ حق صرف حضور کی ذات مقدسہ ہیے اور اس کا یہ کہنا کہ چودہ سو برس نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ دجال کے بارے میں حضور کا اندیشہ صحیح نہیں تھا۔ یہ کہنے کے بعد پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم حضور کو معیارِ حق کہتے ہیں مگر سرکار کو وہ قطعاً معیارِ حق تسلیم نہیں کرتے۔ سرکار کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے۔

میعار حق
بہرنوع اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ
اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان کی جو تم میں اولی الامر ہوں۔ (پ ۵: النساء: آیت ۵۹)
اللہ تعالیٰ نے یہاں دو جگہ
اَطِیْعُوْا کا لفظ فرمایا لیکن جب اُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ کی باری آئی تو اَطِیْعُوْا کا لفظ نہیں فرمایا۔ کیوں؟ اس لئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت مستقل ہے۔ لیکن اُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ کی اطاعت مستقل نہیں۔ اور اُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ میں امر کی اطاعت فقط آپ کے احکام نہیں ہیں اور نہ امراء مراد ہیں بلکہ اُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ میں تمام علماء راسخین، ائمہ مجتہدین اور فقہا کرام شامل ہیں۔ ہم اللہ اور رسول کے علاوہ صرف اس کی اطاعت کریں گے جو خدا اور رسول کے مطابق عمل کرے گا۔
جس بات میں اللہ اور رسول کی نافرمانی ہوتی ہو، اس میں آپ کسی کی اطاعت نہیں فرمائیں گے۔ کیونکہ ان
امراء کی اطاعت مستقل نہیں تھی۔ اس لئے وہاں اطیعوا کا لفظ ساتھ نہیں فرمایا۔

شبہ
یہاں کسی کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ رسول کی اطاعت تو خدا کے حکم میں ہوتی ہے۔ رسول تو ہمیں صرف خدا کا پیغام پہنچا رہا ہے۔ مستقل اطاعت تو فقط اللہ کی ہوئی۔

شبہ کا ازالہ
اس کا جواب یہ ہے کہ مستقل اطاعت کا مفہوم جو سوال کرنے والے کے ذہن میں پیدا ہوا ہے۔ وہ یہ نہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا، مگر اس لئے کہ اس کی فرماں برداری کی جائے، اللہ کے حکم سے۔ (پ ۵: النساء: آیت ۶۴)
یہاں مستقل اطاعت کا مفہوم یہ نہیں کہ آپ کو جو کوئی حکم دے گا، آپ اس کی اطاعت کریں گے اور پھر اطاعت کرنے کے لئے پہلے آپ یہ دیکھیں گے کہ یہ حکم صحیح ہے یا غلط۔ تو اس کے لئے ہم کوئی دلیل طلب کریں گے یا پھر کسی کسوٹی پر پرکھیں گے۔ اگر اس کا حکم کسی کسوٹی کے مطابق صحیح نہیں ہے تو ہم نہیں مانیں گے۔ لیکن خدا اور رسول کا حکم اس سے بلند ہے۔ جب خدا ہمیں حکم دے تو ہم اس کی دلیل ہرگز طلب نہیں کر سکتے۔ اسی طرح جب خدا کا رسول ہمیں کوئی حکم دے تو یہاں بھی کوئی دلیل طلب نہیں کر سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یا رسول اللہ()! آپ نے جو حکم دیا ہے، اس کی دلیل دیں ورنہ ہم آپ کی اطاعت نہیں کریں گے۔ دلیل مانگنا مستقل اطاعت کی دلیل نہیں اور دلیل طلب نہ کرنا یہ مستقل اطاعت کی دلیل ہے۔
عزیزانِ محترم!
میں عرض کر رہا تھا کہ حضور تاجدارِ مدنی محمد مصطفی احمد مجتبیٰ کی ذات ِ مقدسہ ہمارے لئے معیارِ حق ہے۔ آپ کے احکام کی اطاعت کے لئے کسی اور معیار اور دلیل کی ضرورت نہیں۔
آپ اسی واقعہ کو دیکھ لیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ، سرکار کی ہر مجلس میں بیٹھتے تھے اور آپ کی ہر بات لکھ لیا کرتے تھے۔ اس حدیث پاک کو ابو داؤد، مسند امام احمد، مسند دارمی، طبرانی، امام بیہقی اور دیگر بہت سے محدثین نے روایت کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سرکار کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں۔ سرکار! قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے روکا اور کہا کہ حضور کی ہر بات نہ لکھا کرو۔ کیونکہ
انہ بشر یتکلم فی الغضب والرضاء
وہ تو بشر ہیں۔ کبھی غصے میں بات کرتے ہیں اور کبھی رضامندی کی حالت میں لہٰذا ہر بات لکھنے کے قابل نہیں ہوتی
میرے آقا! اب آپ مجھے حکم دیں کہ میں کیا کروں؟ آپ کی ہر حدیث لکھوں یا نہ لکھوں۔ آپ نے فرمایا،
اکتب یا عبد اللّٰہ (اے عبد اللہ میری ہر حدیث لکھ لیا کرو۔) کیوں؟ اس لئے کہ
فوالذی نفسی بیدہ ما یخرج منہ الا حق واشار الٰی فمہٖ
میں اس خدائے پاک کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس دہن پاک سے ماسوائے حق کے کچھ نکلتا ہی نہیں۔
یہی وجہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا
اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ (النساء: آیت ۵۹)
اطاعت کرو رسول کی اور اطاعت کرو اللہ کی۔
تو رسول کی اطاعت مستقل ہے اور مستقل سے مراد یہ نہیں کہ حضور کا مقام خدا کے برابر ہے۔ معاذ اللہ! بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح خدا کے حکم پر اطاعت کے لئے دلیل طلب کرنا ممکن نہیں، یہ مستقل اطاعت کا مفہوم ہے اور حضور کے علاوہ جو کوئی حکم دے گا، ہم دلیل طلب کریں گے، اس کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کوئی کسوٹی اور معیار تلاش کریں گے۔ اگر معیار کے مطابق صحیح ہو گا تو عمل کریں گے ورنہ نہیں۔
عزیزانِ گرامی!
آپ تو انجمن طلبا اسلام ہیں یعنی آپ اسلام کے طلبا ہیں اور اسلام حضور کی اداؤں کا نام ہے۔ حضور خود معیارِ حق ہیں۔ اگر کوئی نظریہ آپ کے سامنے حضور کے معیارِ حق ہونے کے خلاف آئے تو اس نظرئیے کو باطل قرار دے دیں۔ آپ منفی انداز اختیار نہ کریں بلکہ مثبت انداز اختیار کریں اور بچوں کے ذہن میں یہ ڈالیں کہ تمام حقائق کائنات اور حقائق عالم سے اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کا ظہور ہوتا ہے۔ خدا کی ذات کسی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ خدا کی ذات جو حقیقت ثابتہ ہے اور یہ ہمارا دعویٰ ہے کہ اللہ معبود ہے۔ یہ تو ایک بدیہی دعویٰ ہے۔ کسی بدیہی دعویٰ کے لئے دلیل کی حاجت نہیں ہوتی۔ ہاں اغبا لوگوں کے لئے تبلیغ کی حاجت ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر کسی نے کوئی دلیل پیش کی تو وہ صورتاً دلیل ہے۔ حقیقتاً وہ تنبیہ ہے کیونکہ کسی بدیہی دعویٰ پر دلیل نہیں لایا کرتے۔ اگر وہ بدیہی بات کو نہ سمجھتے تو پھر اس کے لئے تنبیہ کی ضرورت ہوتی۔ لہٰذا جن حضرات نے خدا کی ہستی پر دلائل قائم کئے، در اصل وہ دلائل صورتاً ہیں، حقیقتاً وہ تنبیہات ہیں۔ علماء نے اغبا قسم کے لوگوں کے لئے تنبیہات قائم کیں۔ خدا کا ہونا حقیقت ثابتہ ہے اور بدیہی بات ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار ان اغبا کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ خدا کا انکار کرنے والو! ذرا ارضی و سماوی، شمسی و قمری، جسمانی و روحانی، تحت وفوق اور امر و خلق کے نظاموں پر نظر ڈالو اور دیکھو کہ خدا کی ہستی اس قدر نمایاں اور ظاہر ہے۔ ان تنبیہات کے باوجود کوئی نہ مانے تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی دن کو رات اور رات کو دن کہے۔ اس کا کوئی علاج نہیں، یہ کفر عنادی ہے۔
بہر نوع میں عرض کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ مقدسہ کا ہونا امر بدیہی ہے اور اس کی معرفت کی راہوں کے لئے ہمیں کسی دلیل کی حاجت اور ضرورت ہے اور اس لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو دلیل بنا کر بھیجا اور نبی اللہ تعالیٰ کی معرفت کی راہوں کے دروازوں کو کھولنے کے لئے آئے کہ اس راہ پر چلو گے تو اللہ تعالیٰ کی معرفت نصیب ہو گی اور پھر اللہ تعالیٰ کی معرفت کے کئی منازل اور درجات ہیں۔ ان درجات کی کوئی انتہا نہیں۔ لا متناہی ہیں اور مولانا روم نے اسی طرف اشارہ فرمایا کہ

اے برادر بے نہایت در گریز
گرچہ بردرمی رسی بروئے مے

ایک مناظرہ

مجھے اچانک ایک پنڈت رام چندر سے پرانا مناظرہ یاد آ گیا۔ انہوں نے کہا، تمہارے رسول کو معاذ اللہ ہدایت ملی ہی نہیں۔ کیونکہ وہ آخری وقت تک اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ہی فرماتے رہے اور تم بھی آج تک یہی کہتے آ رہے ہو۔
تو ہم نے کہا، ہدایت تو خدا کی معرفت کی راہوں کے منازل کے لئے ہے اور طلب ہدایت کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ جب تو خود لا متناہی ہے تو تیرے درجات بھی لا متناہی ہیں اور جب درجات لا متناہی ہیں تو اس کی طلب بھی لا متناہی ہے۔ ہم معرفت کے جس درجہ پر پہنچے، اس کے بعد ایک اور درجہ آیا تو ہم نے اس کے حصول کے لئے پھر
اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کہا۔ اسی طرح سلسلہ جاری رہا۔ اس کا مقصد یہ کہ ہمارے مدعا کی کوئی انتہا نہیں۔ تو جب مدعا لا متناہی ہے تو طلب خود بخود لا متناہی ہے۔ اور یہاں ان لوگوں کا جواب بھی ہو گیا جو یہ کہتے ہیں کہ خدا پر ایمان لانے کے بعد اب رسول کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ مقصد کے حصول تک کے لئے وسیلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مقصد کے حصول کے بعد وسیلہ کی ضرورت نہیں رہتی لیکن ان لوگوں کا اعتراض یہ ہے کہ ایک شخص جہاز پر سوار ہو کر لاہور سے راولپنڈی پہنچا اور اس کا راولپنڈی پہنچنے کا وسیلہ جہاز بنا۔ اب سب سواریاں اتر رہی ہیں مگر وہ شخص جہاز پر چمٹا بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ میں اپنے وسیلہ کو نہیں چھوڑتا۔ لوگ اسے بے وقوف کہیں گے۔ اب اس مثال کو کوئی سامنے رکھ کر یہ کہہ دے کہ خدا پر ایمان لانا مقصد تھا تو وہ پورا ہو گیا۔ اب خوامخواہ رسول کا دامن پکڑے بیٹھے ہو۔ جب مقصد حاصل ہو جائے تو وسیلے کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یا یہ کہو کہ ہم خدا پر ایمان نہیں لائے یعنی ہمیں مقصد ملا ہی نہیں۔ یا بے ایمان بنو یا انکار کرو کہ ہمیں ایمان ملا ہی نہیں اور جب ایمان نصیب ہو گیا تو اب وسیلے کو چھوڑ دو۔

اعتراض کا جواب
اب میں اس کا جواب عرض کر دوں کہ یہاں دو باتیں ہیں۔ ایک مقصد کا حاصل ہونا اور دوسرا مقصد کا برقرار رہنا۔ بلا شبہ مقصد کا حاصل ہونا بھی مقصد ہے اور اس کا برقرار رکھنا بھی مقصد ہے۔ ایمان باللہ ضرور مقصد ہے مگر اس کا برقرار رہنا باولیٰ مقصد ہے۔ اس لئے اس مقصد کے لئے ہم رسول کا دامن پکڑتے ہیں۔ ایمان بااللہ اگرچہ کمی و بیشی کو قبول نہیں کرتا لیکن متعلقات ایمان میں کمی و بیشی ضعف اور قوت ہوتی ہے۔ متعلقات ایمان کیا ہیں؟ وہ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانے کے ساتھ اس کی معرفت کا حاصل ہونا اور اس کی معرفت لا متناہی ہے۔ اسی لئے جس کسی کو خدا کی معرفت زیادہ ہو گی، اس قدر اس کا ایمان قوی ہو گا اور جس کو معرفت الٰہی کم ہو گی، اس کا ایمان ضعیف ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایمان خالد بن ولید کا تھا کہ اس سے کہا گیا کہ آپ کا خدا پر ایمان ہے تو ذرا زہر کی شیشی پی لیجئے تو آپ نے ساری زہر پی لی اور آپ کو کچھ بھی نہیں ہوا۔ کیوں؟ اس لئے ان کا خدا پر ایمان قوی تھا اور وہ قوت ہمارے ایمانوں میں نہیں۔ لہٰذا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ اس لئے ہم دامن رسول نہیں چھوڑ سکتے۔ کیونکہ مقصد کی بقاء دامن رسول کے علاوہ ممکن نہیں ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ ہمارے مقاصد لا متناہی ہیں اور اللہ کی معرفت کی ہر منزل ہمارا مقصد اور ہر مقصد کو پانے کے لئے وسیلہ رسول کی ضرورت ہے۔ لہٰذا تم اللہ کی معرفت کے منازل کی حد مقرر کر دو تم ہم اس حد پر پہنچ کر وسیلہ رسول ختم کر دیں۔
خلاصہ یہ ہوا کہ ہمارے نظرئیے کی بنیاد اوّل رسول ہیں جو معیارِ حق ہیں۔ اب جو نظریہ سوشلزم، کمیونزم، لا دینی اور ملحدانہ یا اس معیارِ حق سے متصادم ہو اس کو رد کر دو۔ اس اعتقادی نظریئے کے ساتھ ہمارا دوسرا نظریہ پاکیزگی اخلاق ہے۔ ہم یہ تعلیم نہیں دیتے کہ آپ کسی کے ساتھ لڑ پڑیں۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ ان کے اخلاق کو سنوارنے کی کوشش کریں اور خود ان کے ساتھ اخلاق کے ساتھ پیش آئیں۔ یہ ہمارے انجمن طلباء اسلام کا مقصد ہونا چاہیئے اور آپ کو با کردار اور با اخلاق ہونا چاہیئے۔ اگر آپ کے اخلاق پاکیزہ ہوں گے تو دوسروں کو بد اخلاقی اور بد کرداری سے روک سکیں گے۔
عزیزانِ محترم!
ہمارا یہ بنیادی اعتقادی نظریہ ہے کہ رسول کی ذات معیارِ حق ہے۔ اس کے بعد ہم نے جو خدا کو نہیں پہچانا تو گویا ہم نے دلیل رسول کو نہیں پہچانا۔ کیوں؟ اس لئے کہ اگر رسول نہ آتے تو ہمیں خدا کی معرفت کیسے نصیب ہو سکتی تھی؟ یعنی خدا کی معرفت ممکن ہی نہ تھی۔

قرآن پاک تمام علوم کا سرچشمہ ہے
بہرنوع علم ایک نور ہے۔ فقط دین کا علم نور نہیں۔ دنیا کا علم بھی نور ہے بلکہ میرے نزدیک تو دنیا ہی ایک دین ہے۔ مومن کے لئے علم دنیا کا ہو یا دین کا، وہ نور ہے۔ کیونکہ تمام علوم کا سرچشمہ قرآن کریم ہے۔ اب دنیا میں جتنے علوم مروجہ ہیں، ان سب کی بنیادیں ہمارے علماء اسلام نے جاری فرمائیں۔ انسان خواہ کوئی علم پڑھے، اس کا مقصد خدا کی معرفت ہونا چاہیئے۔ جو بندہ خدا کی معرفت سے الگ ہو گیا، وہ خدا کی ذات سے الگ ہو گیا اور جس کا خدا پر ایمان نہیں، وہ کتنے ہی علوم پڑھے، وہ بالکل بے سود و بے کار ہیں اور جس نے ہر علم کی انتہا کو خدا کی معرفت قرار دیا تو وہ محمود و مسعود اور کامیاب و کامران ہے اور یہی حقیقت ہے، جسے قرآن نے پیش کیا اور تمام علوم کی طرف ہمیں متوجہ کیا۔ جن علوم سے کائنات کا راز تمہارے سامنے کھل کر آئے، ان کو خدا کی معرفت قرار دو اور ہر علم کے حصول کے لئے آگے بڑھتے رہو، اسلام ہمیں نہیں روکتا بلکہ اسلام قرآن کی روشنی میں ہمیں آگے بڑھنے کا درس دیتا ہے۔
الحمدللّٰہ! ہمارے انجمن طلبا اسلام والے نوجوان بڑے جری ہیں۔ میں نے جو واقعات سنے، بڑا متاثر ہوا۔ ہمیشہ جبر و استبداد کے سامنے سینہ سپررہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمت عطا فرمائے۔ ہمت و جرأت کے بارے میں میں آپ کو ایک چھوٹا سا واقعہ سنا کر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔
سعید بن جبیر
سعید بن جبیر جو حضرت عبد اللہ بن عباس کے شاگرد ہیں، ان کے علم، اخلاق و کردار اور ہمت جرأت کا کیا کہنا؟ کہ آپ نے حجاج بن یوسف ثقفی کے ظلم و ستم کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ حجاج بن یوسف نے آپ کو بلایا اور پوچھا،
ما تقول لی؟ میرے بارے میں تو کیا کہتا ہے؟ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا، انت عادل انت قاسط تو عادل ہے تو قاسط ہے۔ حجاج بن یوسف کے چمچے بڑے خوش ہوئے کہ اس کی اتنی بڑی تعریف کر دی۔ لیکن حجاج بن یوسف کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے کہا، خوش ہونے والو، بڑے جاہل ہو۔ اس نے تو مجھے بڑی گالی دی ہے۔ آج تک مجھے کسی نے بھی ایسی گالی نہیں دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ (س انعام: آیت ۱)
پھر جنہوں نے کفر کیا وہ (دوسروں کو) اپنے رب کے ساتھ برابر کرتے ہیں
عادل کے معنی برابر کے ہیں اور قرآن کی زبان میں عادل مشرک کو کہتے ہیں یعنی جو بندوں اور بتوں کو خدا کے برابر کرے گا، وہ مشرک ہو گا۔ اس نے
انت عادل کہہ کر مجھے مشرک بنایا کہ تو اپنے آپ کو خدا کے برابر کر رہا ہے اور اپنے ناپاک حکم کی تعمیل کر رہا ہے اور انت قاسط کہہ کر مجھے جہنم کا ایندھن بنا دیا۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا جنہوں نے کفر کیا، انہوں نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَاَمَّا الْقَاسِطُوْنَ فَکَانُوْا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا (الجن: آیت ۱۵)
اور بہرحال ظالم تو وہ جہنم کا ایندھن ہوئے۔
سب قاسط جہنم کا ایندھن ہیں اور تم کہتے ہو کہ اس نے تعریف کی۔ ہاں البتہ اس نے مجھے مقسط کہا ہوتا تو پھر تو کوئی بات نہ تھی۔ کیونکہ مقسط عادل کو کہتے ہیں۔ جب حجاج نے یہ بات کہی تو لوگ بہت حیران اور پریشان ہوئے۔ چنانچہ لوگوں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ تیری مراد کیا تھی؟ تو آپ نے فرمایا کہ میرے قول کی تشریح اور تصدیق حجاج نے قرآن کی آیت پڑھ کر کردی۔ میری بھی یہی مراد تھی۔ چنانچہ انہوں نے جلاد کو آپ کے قتل کا حکم دے دیا اور جلاد آپ کے پاس آیا اور آپ نے یہ دعا کی کہ
اللّٰہم لا تسلط علٰی احد بعدی الٰہی میرے بعد اس کو کسی پر مسلط نہ کرنا۔ میں ہی اس کا آخری تختہ مشق بنوں۔ چنانچہ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا سر قلم کر دیا گیا اور آپ کے سر مبارک سے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی آواز آ رہی تھی۔ آپ نے سر کٹا کر یہ ثابت کر دیا کہ
اِنَّ صَلاَتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (پ۸: انعام)
بے شک میری نماز اور میرا حج و قربانی (سب عبادات) اور میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لئے ہے۔ جو رب ہے سارے جہانوں کا۔
ان کا مرنا تو ظاہری تھا۔ حقیقتاً تو ان کو زندگی نصیب ہوئی۔
ہمارے اکابر اور اسلاف کا حق کے مقابلے میں اس قدر مظالم کا برداشت کرنا اور سینہ سپر ہو کر کھڑے ہونا ہمارے لئے قابلِ تقلید ہے اور الحمد للّٰہ! ہمارے طلبا بڑے جری ہیں اور انشاء اللہ کبھی بھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ اپنے نظرئیے کو برقرار رکھیں گے اور اپنے کردار اور اخلاق کو بلند کریں گے اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو فرمان بردار بنائے۔ (آمین)
 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج