سفر نامہ حجازمقدس

بمقام: عید گاہ
بتاریخ: ۱۴؍مارچ ۱۹۷۸ء
(خطبہ اور تلاوتِ آیات کے بعد)

اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مَحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ عَلَیْہِ

محترم حضرات!
آپ حضرات کی مستجاب دعاؤں کے صدقے میں اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ کا بڑا فضل اور کرم شامل حال ہوا اور حضور تاجدارِ مدنی کی رحمت اور عنایت شامل ہوئی۔ یہ فقیر اپنے رفقائے سفر سمیت حرمین طیبین سے وابستہ ہو کر ملتان سے کراچی پہنچا۔ کراچی کا سفر جو صرف ایک گھنٹہ میں طے ہونا تھا، چار گھنٹے میں طے ہوا۔ تفصیل بیان کرنے کے قابل نہیں۔ میں اتنا عرض کروں گا کہ سرکارِ مدینہ کی نظر رحمت شامل نہ ہوتی تو ہمارا کراچی پہنچنا ممکن ہی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی رحمت ہوئی کہ ہم کراچی پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ نے ہم سب کی جانوں کو محفوظ رکھا۔
ہم کراچی سے جدہ شریف پہنچ گئے۔ جدہ میں مدینہ منورہ سے ہمارے عزیز گاڑی لے کر آئے ہوئے تھے۔ ظہر کی نماز حدیبیہ کے مقام پر میں نے جماعت کے ساتھ خود پڑھائی۔
الحمد للّٰہ! یہ فقیر اور محمد شفیع صاحب جو مجھے ہر جمعہ ہار پہناتے ہیں، میرے ساتھ رہے۔ ہم لوگ رات ہی رات اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ ہم سیدھے حرم شریف پہنچے۔ ہم نے سب سے پہلے عمرے کے لئے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور ہر پھیرے میں حجرِ اسود کو چومنے کی سعادت حاصل کی۔ پھر صفا و مروہ کی سعی کی۔
میرے ساتھ مستورات تھیں۔ ان کے بال میں نے خود کاٹے۔ ہم لوگ احرام کی چادریں اوڑھے گاڑی میں بیٹھے۔ سیدھے مدینے پاک کا رُخ کیا۔ مغرب کے وقت پہنچ گئے۔ حرم شریف کی حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ اب میں آپ سے کیا کہوں کہ وہ کیا وقت اورگھڑیاں تھیں؟ بس اتنی بات کہتا ہوں کہ جب التحیات پر بیٹھ کر
ایہا النبی کہنے کا وقت آتا تھا تو پتہ چلتا تھا کہ ایہا النبی کہنے کا تو یہی مقام ہے۔ روضہ رسول پر حاضر ہو کر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ کیونکہ پندرہ دن کا ویزا تھا اور قانون کی روشنی میں ہم پندرہ دن سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ قانون جہاں کا بھی ہو، میں کتنی پابندی کرتا ہوں۔ وہاں ویزا کی معیاد کو بڑھانے، ان کے لئے چکر کاٹنا اور لوگوں کی منت کرنا میرے بس کا کام نہ تھا۔ الحمد للّٰہ! پہلے بھی یہی ارادہ تھا کہ سرکار اپنے کرم سے حرمین طیبین کی زیارت کا شرف عطا فرما کر حاضری قبول فرمالیں۔ الحمد للّٰہ! ایسا ہی ہوا۔ سرکار کی بارگاہِ اقدس میں چھ سات دن رہے۔ میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اتنی بات عرض کروں گا کہ جیسے کوئی انتہائی پیاس کے عالم میں میٹھے پانی کے چشموں پر پہنچے اور سیراب ہو کر واپس آئے۔ ہم مضطرب اور بے چین تھے۔ جب سرکار کی بارگاہ سے واپس آیا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسا کہ بالکل سیراب کر دیا گیا ہوں۔
الحمد للّٰہ! تمام مقاماتِ مقدسہ کی زیارات پر حاضر ہوا۔ میرا چھوٹا بچہ طاہر اور تمام ساتھی میرے ساتھ تھے۔ پھر حضرت مولانا ضیاء الدین دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں حاضری تھی۔ اب ان کے ہاں روزانہ میلاد پاک ہوتا ہے۔ ہماری تقریروں کا پروگرام مختلف مقامات پر کبھی ان کے ہاں کبھی ان کے ہاں رکھا گیا۔ میں ان کی خواہشات کو پورا کرنے کے قابل نہ تھا۔ میری ساری تقریریں محمد شفیع صاحب نے ریکارڈ کر لیں۔ میری تقریریں ان کے پاس ہیں اور یہ میرے پاس ہیں۔
بہرحال وہاں کیسی کیسی لذتیں آئیں بیان نہیں کر سکتا۔ لوگوں نے کمال کر دیا۔ غارِ حرا میں داخل ہو گئے۔ اس دفعہ کیا گزشتہ سال بھی میں اس قابل نہ تھا کہ اوپر چڑھ سکوں۔ وہاں اوپر چڑھنا ہر ایک کا کام نہیں۔ کیا عجیب لطف تھا؟ کیا عجیب سماں تھا؟ کچھ بیان نہیں کر سکتا۔ سبحان اللّٰہ!
پھر ہم نے مسجد قبلتین، مسجد قبا اور مسجد جمعہ کی زیارت کی۔ حضور مسجد جمعہ بموقع ہجرت جب مدینہ منورہ تشریف لائے اور جمعہ کا وقت ہو گیا۔ وہاں حضور نے نمازِ جمعہ فرض ہونے پر پہلی نمازِ جمعہ پڑھی تھی۔ اس مسجد میں جا کر ہم نے نماز پڑھی۔ وہاں مسجد حضرت علی، مسجد حضرت عثمان، مسجد حضرت عمر، مسجد حضرت ابو بکر صدیق اور مسجد حضرت فاطمہ کی زیارت کی اور وہ کنواں جو حضرت عثمان غنی نے یہودیوں سے خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کیا تھا، کی زیارت کی۔ اب اس کو بند کر دیا گیا ہے (اسے بئر عریض کہتے ہیں) لیکن اس کی یاد لوگوں کے دلوں میں تازہ رہے گی۔
حضرت طلحہ کا ایک بہت بڑا باغ تھا۔ اس میں ایک کنواں تھا۔ باغ کے کچھ نشانات نظر آئے لیکن اب وہاں آبادی ہو گئی ہے۔ بڑی بڑی عمارتیں ہیں۔ کنواں بند کر کے اس پر کمرہ بنا دیا گیا تھا۔ سرکار کی ولادت پاک کی جگہ بھی دیکھی۔ وہاں اب لائبریری بنا دی ہے اور ہجرت کے راستے میں جہاں جہاں سرکار نے نمازیں پڑھی تھیں، وہ تمام نشانات ختم ہو گئے ہیں اور حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مکان دیکھا جو مسجد قبا کے قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں میرے اور آپ کے شامل حال ہوں۔ یہ بھی عرض کر دوں کہ میں پھر عرض کر کے آیا ہوں کہ سرکار کم از کم ایک مرتبہ مجھے پھر بلا لیں اور میں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ انشاء اللہ العزیز ایک مرتبہ پھر حاضری ضرور ہو گی۔
محترم حضرات!
اس میں شک نہیں، دیارِ مدینہ اور مکہ کی برکتیں ہر وقت، ہر حال، ہر آن موجود ہیں۔ دیکھنے والے ان برکتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور ان کے وجود کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اگر کسی کی آنکھ مشاہدہ نہ کرے تو خدا کی قسم! ایمان والوں کا دل ضرور گواہی دیتا ہے کہ رحمتوں کی بارش ہر وقت، ہر حال اور ہر آن ہو رہی ہے۔
میں نے آپ کے سامنے ایک آیت
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ پڑھی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ دیارِ مدینہ، مکہ اور دیگر مقاماتِ مقدسہ میں اللہ کی رحمتوں کی جو بارش ہو رہی ہے، اس کا مرکز، محور حضور نبی کریم کی ذاتِ مقدسہ ہے یعنی میرے آقا رحمتوں کی بارش کا مرکز ہیں، جن کی رحمتوں کی بارش نے ہر مقام کو مقدس کر دیا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے اتنی بات جان لینا کافی ہے کہ
وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ o وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ o وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ o
قسم انجیر کی اور زیتون کی اور طورِ سینین کی اور اس امن والے شہر (مکہ) کی۔
اَلتِّیْنِ کے معنی انجیر کے ہیں۔ زَیْتُوْنِ ایک پھل ہے اور طُوْرِ سِیْنِیْنَ وہ پہاڑ ہیں، جہاں موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے انوار اور فیوض و برکات حاصل کئے اور شرف کلام سے مشرف ہوئے۔ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ
لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انجیر اور زیتون کے پھل کی قسمیں فرمائیں ہیں۔ یہ ٹھیک ہے لیکن اسی میں ایک نکتہ ہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ طورِ سینین ایک پہاڑ تھا جس پر انجیر ہی کے درخت تھے اور ان پہاڑوں کی نسبت انبیاء علیہم السلام سے تھی۔ یعنی انجیر کے درختوں کی نسبت پہاڑوں سے پہاڑوں کی نسبت جماعت انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے اور جماعت انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نسبت سید الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ سے تھی۔ جبلِ تین، جبلِ زیتون، جبلِ طورِ سینین اور بلد الامین کی قسمیں فرمانا دراصل حضور سرورِ عالم سے دور کی نسبتوں کی بنا پر ہے۔
آپ کہیں گے کہ مکہ مکرمہ کی عظمت و برکت حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کی وجہ سے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ حضرات قدسیہ کون ہیں؟ حضرت محمد رسول اللہ کے جدِّ کریم ہیں اور ان کی پیشانیوں میں حضور کا نور پاک چمکتا تھا۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اور حضرت ھاجرہ کی یادوں کو تازہ فرمایا لیکن آپ کو اس کی دلیل بتاؤں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ اور اس امن والے شہر (مکہ) کی (قسم)مکہ مکرمہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا (آل عمران: ۹۷)
اور جو اس میں داخل ہوا، وہ بے خوف ہو گیا۔
وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ کی قسم کا سبب یہاں بیان نہیں فرمایا۔ اس کا سبب قرآن میں دوسری آیت میں فرمایا
لَآ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ ( س البلد) میں قسم فرماتا ہوں، اس شہر کی۔
کیا وجہ؟ اس کی وجہ حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت ھاجرہ، حجرِ اسود، مقام مستلزم، رکن شامی، رکن یمانی، حطیم کعبہ، مقامِ ابراہیم، باب رحمت، مسجد حرام اور حرم محترم نہیں بلکہ اس کی وجہ اے میرے محبوب تیرے قدم ہیں۔
وَاَنْتَ حِلٌّ م بِہٰذَا الْبَلَدِ (پ۳: س البلد: آیت ۲)
اس حال میں کہ (اے محبوب!) آپ اس شہر میں جلوہ گر ہیں۔
اس شہر میں آپ خرام ناز فرما رہے ہیں کیونکہ ان نسبتوں کا مہبط و محور حضور سید عالم محمد عربی
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ ہیں۔ اسلئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن
اے میرے پیارے محبوب! سارے عالموں کے لئے تو ہی نعمت ہے۔ زمین کی سوراخوں میں رہنے والی چیونٹیوں سے لے کر سدرہ پر رہنے والے جبریل، سب کے لئے مصطفی رحمت اور نعمت ہیں۔ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ساتھ العالمین میں ہر کسی کو اور ہر چیز کو حضور کی ذاتِ مقدسہ سے فیض پہنچ رہا ہے۔ حضور کی نسبتوں کی وجہ سے حرمِ کعبہ اور حرم مدینہ بلکہ مکہ مکرمہ کے کونے کونے کا ذرّہ ذرّہ قابلِ تعظیم ہے۔ میں آپ سے کیا کہوں کہ

در زمینے کہ نشانِ کف پائے تو بود
سالہا سجدہ گاہ تو آن خواہند بود

پیارے محبوب! یہ زمین آپ کے نشانِ قدم کی برکت کا نتیجہ ہے۔ سالہا سال لوگ وہاں سجدے کرتے رہیں گے۔
ہم انہیں نسبتوں کو لے کر گئے تھے اور یقین کیجئے جو ان نسبتوں کو لے کر جائے گا تو وہ وہاں سے کچھ لائے گا اور جو ان نسبتوں کو یہاں رکھ کر جائے گا وہ کچھ بھی نہیں لائے گا۔ میں نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جو حضور کے نور اور ایمان سے بھرپور ہیں اور ان کے پیمانے ایسے چھلک رہے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی دیکھا جو خالی ہیں۔
اے دیارِ حبیب! تیری عظمتوں کا کیا عالم ہے۔ میں نے تو یہ دیکھا کہ زمین کا ہر ذرّہ وہ کشش رکھتا ہے کہ

زفرق تابقد مش ہر کجا کہ می نگرم
کرشمہ دامن دل می کشد کہ اینجا است

مدینے کی مٹی سب نعمتوں سے افضل ہے۔ مگر اس کے لئے جس کے دل میں حضور کی محبت ہو۔ اگر حضور کی محبت نہیں تو سب کچھ بے کار ہے۔

مسجد نبوی کو روضہ سے الگ کرنے کی سازش
میرا ایمان ہے کہ کوئی طاغوتی طاقت حضور کے روضہ اقدس کو گزند نہیں پہنچا سکتی۔ میں مطمئن ہوں۔ آپ کسی کی بات پر کان نہ دھریں۔ اگر کسی نے حضور کی عظمت کے خلاف ارادہ کیا تو ختم ہو جائے گا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ اس دلیل سے مسجد نبوی کو روضہ اقدس سے الگ کیا جارہا ہے۔
اَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللَّٰہِ اَحَدًا
بے شک مسجدیں اللہ کے لئے ہیں اور اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو۔
مسجد نبوی میں لوگ رسول اللہ کو پکارتے ہیں تو اس لئے حضور کے روضے کو مسجد سے الگ کر دو اور میرے آقا اپنے ساتھ اسے جوڑ گئے کہ کوئی طاغوتی طاقت جدا نہیں کر سکتی۔ سرکار فرما گئے
مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَ مِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ (۱)
میرے گھر اور منبر کے درمیان جنت کا باغ ہے۔
مسجد سے منبر الگ نہیں ہو سکتا منبر مسجد میں ہوتا ہے۔ اب کوئی طاغوتی طاقت اس جنت کے خطے کو مسجد سے الگ کرے تو وہ خود ہی کٹ جائے گا۔
الحمد للّٰہ! میں مطمئن ہوں کہ کوئی شخص بھی سرکار کے دیار کو گزند نہ پہنچا سکے گا اور نہ ہی گنبد خضرا کو۔ اور اگر کسی نے کوئی ارادہ کیا بھی تو اس کا آخری سانس ہو گا۔ کیوں؟ اس لئے کہ ایک طویل واقعہ علامہ سیوطی نے اپنی کتاب وفا الوفا میں لکھا ہے۔ تفصیل بتانے کا وقت نہیں۔ اتنی بات عرض کر دوں کہ کچھ لوگ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے جسد عنصری کو نکالنے کی غرض سے پھاوڑے اور کہیاں لے کر لوگوں سے ساز باز کر کے روضہ میں داخل ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ زمین پھٹ گئی اور وہ سب کے سب زمین میں دھنس گئے اور کسی کا نام و نشان نہیں رہا۔ تو جن لوگوں نے حضرت عمر اور ابو بکر صدیق کی گستاخی کرنا چاہی تو یہ حال ہوا اور جو سرکار کے ساتھ گستاخی کرے گا، اس کا کیا حال ہو گا؟ اب میں دعا کرتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ

مدینے کے خطے خدا تجھ کو رکھے
اے غریبوں فقیروں کو ٹھہرانے والے

یہ عرض کر کے آیا ہوں کہ سرکار ایک مرتبہ پھر بلا لیں۔ خدا جانے وہ کیسے خوش نصیب لوگ ہیں جو دیارِ حبیب میں مستقل طور پر اقامت پذیر ہیں۔ میں تو چند دن بھی ٹھہرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ میں فقط یہی چاہتا ہوں کہ سرکار کو سلام کروں اور سرکار سے ایمان لے کر واپس آ جاؤں۔ وہ بڑے خوش نصیب لوگ ہیں۔ خدا ہمیں ویسے خوش نصیب بنائے۔ آمین!
میں نے حرم کعبہ، حرم مدینہ اور دیگر مقاماتِ مقدسہ و تمام مساجد میں آپ تمام حضرات کو تصور میں لا کر حضور کی بارگاہِ اقدس میں پیش کیا کہ حضور یہ آپ کے امتی اور غلام ہیں۔ ان پر اپنی رحمت کی بارش فرمادیں۔ آقا! ان کے صدقے میں مجھ کو بھی کوئی قطرہ عطا فرمادیں۔
(اس دوران محمد شفیع صاحب ادب سے کھڑے ہو کر عرض گزار ہوئے کہ اہلِ مدینہ کے لئے دعا فرمائیں۔ انہوں نے آپ سے دعا کے لئے درخواست کی تھی) محمد شفیع صاحب بڑے مزے کے آدمی ہیں کہ مدینہ منورہ میں پاکستانیوں کے لئے دعا منگواتے رہے اور یہاں اہلِ مدینہ کے لئے دعا منگوا رہے ہیں۔ یا اللہ! مکہ والوں کی خیر ہو، مدینہ والوں کی خیر ہو، الٰہی دیارِ حبیب میں رہنے والوں کی خیر ہو، عالمِ اسلام کی خیر ہو، یا اللہ! مکہ کی خیر ہو، مدینہ کی خیر ہو، مکہ اور مدینہ میں رہنے والوں کی خیر ہو۔ آمین!

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا محمد وعلٰی اٰلہٖ واصحابہٖ وبارک وسلم
 

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج