اسلام دین فطرت ہے

بمقام: عید گاہ، ملتان شریف
بتاریخ: ۲۴؍مارچ ۱۹۷۸ء

عزیزانِ گرامی!
یہ دنیا فانی ہے۔ دنیاوی زندگی بالکل نا پائیدار اور بے ثبات ہے۔ اس کو بالکل بقا نہیں۔ ہمیں آخرت کی فکر کرنی چاہئے کہ کیا کرنے آئے اور کیا کر کے جا رہے ہیں۔ اور اس کا کیا انجام پائیں گے۔ محترم حضرات! اسلام ایک عظیم، فطری اور پیدائشی دین ہے۔ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ
(اے لوگو!) اپنے اوپر لازم کر لو اللہ کی بنائی ہوئی سرشت (دین اسلام) کو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا۔ (پ ۲، س الروم، آیت ۸۰)
یہ آیت قرآنی اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ
فطرت اللّٰہ التی جس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا، کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی اور یہ وہی دین اسلام ہے، جس کے لئے زبانِ رسالت نے فرمایا
کل مولود یولد علی الفطرۃ (۱)
ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔
اسلام کا نام فطرتی دین ہے اور ہم اسلام کو فطرت کیوں کہتے ہیں؟ (اس لئے) کہ ایک چیز کے کئی نام ہوتے ہیں۔ (ایسے ہی جیسے) کئی معنوں کا ایک لفظ۔ ان معنوں میں کئی صفتیں پائی جاتی ہیں۔ یہ الفاظ بھی کسی نہ کسی صفت کو ظاہر کرتے ہیں اور اللہ کی بھی یہی شان ہے۔
لَہُ الْاَسْمَائُ الْحُسْنٰی یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (پ ۲۸، سورئہ الحشر، آیت ۲۳)
اسی کے لئے سب اچھے نام، اس کے لئے پاکی بیان کرتی ہیں وہ سب چیزیں جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں اور وہی ہے نہایت غلبے والا، بڑی حکمت والا۔
اللہ تعالیٰ ایک ہے لیکن اس کے صفاتی نام بے شمار ہیں۔ اسی طرح سید عالمﷺ  کی ذاتِ گرامی ایک ہے مگر آپ کے نام بہت ہیں۔ کہیں سرکار نے اپنا نام
انا احمد، انا محمد اور کہیں اناقاسم، انا حاشر فرمایا تو ناموں کی کثرت نام والے کے کمالات پر دلالت کرتی ہے۔ اصولی طور پر تو اسلام کا نام دین ہے لیکن دین کے معنے اسلام بھی ہیں اور فطرت بھی۔ زیادہ عرض کرنے کا موقع نہیں ورنہ میں بہت کچھ کہتا۔ فقط میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام کا نام فطرت کیوں ہے؟
عربی زبان کا قاعدہ اور کلیہ یہ ہے کہ جس فعل یا اسم میں تین حرف یعنی ف، ط، ر، کا مادہ واقع ہو جائے تو اس کے معنیٰ شگاف کے ہو جاتے ہیں۔ اب انسان کے شگاف اور دین کے شگاف کا کیا مطلب؟
فطرت کے معنے دین ا س لئے ہیں کہ جب انسان عدم سے عدم کے پردے کو پھاڑ کر اور شگاف ڈال کر عالم شہود اور وجود پر جلوہ گر ہوا اور پیدا ہوا تو دین اسلام پر پیدا ہوا۔ یہ اور بات ہے کہ پیدا ہونے کے بعد کوئی کسی کو ہندو، یہودی، عیسائی اور مجوسی بنا لے یعنی پیدا ہونے والا مسلمان ہی پیدا ہوا ہے اور اسلام اس کا پیدائشی دین ہے اور اسلام کے معنی اطاعت میں گردن رکھ دینا اور سر بسجود ہوناکے ہیں یعنی جب انسان اس دنیا میں آتا ہے تو سب سے پہلے اس کا سر ہوتا ہے جو زبانِ حال سے یہ گواہی دیتا ہے کہ
فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا
میں اپنے رب کے سامنے سجدہ کرتا ہوا اور اطاعت کرتا ہوا پیدا ہوا ہوں۔

ایک شبہ کا ازالہ
کوئی شخص یہ کہہ دے کہ دنیا میں اور بھی تو بہت سے معبود ہیں۔ سورج کاپجاری کہہ دے کہ وہ سورج کو سجدہ کرتا ہوا پیدا ہوا اور چاند کا پجاری کہہ دے کہ وہ چاند کی اطاعت کرتا ہوا پیدا ہوا، اسی طرح مجوسی (آگ کے پجاری)، درختوں اور سمندروں کے پجاری دعویٰ کر سکتے ہیں۔ مگر سر اسی کے سامنے ہو جو وہاں موجود ہو اور جو وہاں موجود نہ ہو اس کے سامنے سر کیسا؟ پیدا ہونے والا رات کو پیدا ہوتا ہے تو سورج نہیں اور دن کو پیدا ہوتا ہے تو چاند نہیں۔ جنگل میں پیدا ہوتا ہے تو سمندر نہیں اور اسی طرح سمندر میں پیدا ہو تو وہاں درخت نہیں۔ تو وہ صرف خداوند قدوس ہی ہے جو ہر پیدا ہونے والے بچے کے سامنے موجود ہے جیسا کہ فرمایا
فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ
تو جہاں کہیں تم ہو (قبلہ کی طرف) منہ کر دو، وہیں اللہ (تمہاری طرف) متوجہ ہے
لہٰذا پیدا ہونے والے کا سر سوائے ایک خدا کے کسی کے سامنے نہیں جھکتا۔ کوئی پیدا ہونے والا کفر پر پیدا نہیں ہوا۔ اس لئے میں سرکار کے والدین کریمین طیبین کو مومن کہتا ہوں اور کوئی بھی ثابت نہیں کر سکتا کہ حضور کے والدین، طیبین نے کبھی کفر کیا ہو یا بت پرستی۔ بلکہ فرمانِ نبوی ہے کہ میں طاہرین، طیبین ارحام میں منتقل ہوتا ہوا آیا ہوں۔ (۲)

ایک شبہ
لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کے والد کافر تھے کیونکہ قرآن ان کو کافر کہتا ہے
وَاِذْ قَالَ اِبْرَاہِیْمُ لِاَبِیْہِ اٰزَر (پ ۷، سورئہ الانعام آیت ۷۴)
جب ابراہیم نے اپنے باپ ا ٰزر سے کہا
حضور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہیں یعنی حضور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اور حضرت ابراہیم کے والد نعوذ باللہ کافر تھے تو حضور کا پاک ارحام اور پشتوں سے منتقل ہونا کیسے صحیح ثابت ہو گا؟

شبہ کا ازالہ
اس کا جواب میں کئی مرتبہ دے چکا ہوں۔ اب بھی اس کا جواب دیتا ہوں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ابی عربی زبان کا لفظ ہے اور عربی زبان وہ جانے جو عربی زبان جانتا ہو۔ قرآن مجید میں ہے
وَمِنْ اٰبَآئِہِمْ وَ ذُرِّیّٰتِہِمْ (الانعام، آیت ۸۷)
اور (ہم نے ہدایت فرمائی) ان کے باپ دادا اور ان کی اولاد کو
اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے حالانکہ قرآن خود کہتا ہے کہ عیسٰی علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ جیسے
وَلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ حالانکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، وَکَذَالِک اسی طرح پیدا ہو جائے گا۔ پھر قرآن نے فرمایا
فَاَرْسَلْنَا اِلَیْہَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا (پ ۱۶، مریم، آیت ۱۷)
تو ہم نے ان کی طرف اپنے فرشتے (جبریل) کو بھیجا تو اس نے اس (مریم) کے سامنے تندرست آدمی کی صورت اختیار کی۔
یعنی ہم نے جبریل کو انسانی بشری شکل میں مریم کے پاس بھیجا اور اس نے مریم کے گریبان میں پھونک ماری تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے رحم میں آ گئیء تو اب ابا کا مطلب کیا ہوا؟ اس کا مطلب یہ کہ ابی باپ، دادا، نانا، چچا اور ماما کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تو پتہ چلا اٰزر حضرت ابراہیم کے والد نہیں بلکہ چچا ہیں کیونکہ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم کے لئے کہیں بھی نعوذ باللہ لوالدہ نہیں آیا بلکہ لابیہ آیا جو باپ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور نانا کے لئے بھی۔ چچا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ماما کے لئے بھی۔ تو معلوم ہوا کہ ا ٰزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچا تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تارخ تھا اور وہ مومن تھے۔ اس دلیل سے بھی میں حضور کے والدین کریمین طیبین طاہرین کو مومن کہتا ہوں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضور کے والدین طاہرین کو قبور سے زندہ کیا گیا اور وہ آپ پر ایمان لائے۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ مطلب لیا کہ وہ مسلمان اور مومن نہ تھے۔ آپ پر ایمان لا کر مسلمان اور مومن ہوئے۔ خدا کی قسم! اس کا مطلب یہ نہیں بلکہ وہ مسلمان اور مومن تھے کیونکہ اصل کے خلاف کوئی نفی ہو تو اس کی نفی کی جائے۔ جب اصل کے خلاف کوئی نفی نہیں تو پھر بتاؤ کہ آپ کے والدین کو قبروں سے دوبارہ زندہ کیوں کیا گیا؟
عزیزانِ محترم!
وہ مومن تو پہلے ہی تھے۔ دوبارہ قبور سے زندہ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ حضور کی امت شرفِ صحابیت رکھے اور والدین اس سعادتِ عظمیٰ سے محروم ہیں۔ لہٰذا ان کو شرفِ صحابیت بھی عطا فرمایا گیا۔
بہرحال بات دور چلی گئی۔
میں عرض کر رہا تھا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ ہمارا سر خدا کی بارگاہ میں علامتًا جھکتا ہے۔ حقیقتاً نہیں اور علامت حقیقت کے خلاف ہو تو جرم ہے۔ مثلًا ایک شخص مجسٹریٹ کا لباس پہن لے اور وہ مجسٹریٹ نہ ہو تو مجرم ہے۔ ہم سر تو زمین پر رکھیں مگر دل خدا کے سامنے سرکش ہو تو کیا ہمارے اندر اسلام کی حقیقت پائی جائے گی۔ ہرگز نہیں! ہم نے کہا، ایمان لائے۔ اللہ نے کہا، خبر دار، تم نے ظاہرًا اقرار کیا ہے مگر تمہارے دلوں میں فتور بھرا ہوا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ جب تک سر کے ساتھ دل، جسم کے ساتھ روح اور ظاہر کے ساتھ باطن نہ جھکے اور تمہارے عمل، اخلاق، نفسیات، حسیات، ارادات اور خواہشات اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک نہ جائیں، تم اس وقت تک مومن ہو ہی نہیں سکتے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے حقیقی بھائی پیر ومرشد کی خدمت میں حاضر تھا اور ایک فقیر صدا دے رہا تھا کہ ہزاروں خدا ہیں، لاکھوں خدا ہیں، کروڑوں خدا ہیں، خدا ہی خدا ہیں۔ میں نے عرض کی، حضور! یہ کیا کہہ رہا ہے؟ یہ تو نہیں سنا جاتا۔ آپ نے فرمایا، یہ قرآن کی آیت کا ترجمہ کر رہا ہے۔ میں خاموش لرزہ براندام ہو گیا۔ آپ نے آیت پڑھی
اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰہُ (پ ۱۹، س الفرقان، آیت ۴۲)
کیا آپ نے اسے دیکھا، جس نے اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا
یعنی جس کے نفس کی ایک خواہش ہے، اس کا ایک خدا ہے، جس کی دو خواہشات ہیں اس کے دو خدا ہیں، جس کی جتنی خواہشات ہیں، اس کے اتنے خدا ہیں۔ لہٰذا خدا ہی خدا ہیں۔ ارے کعبہ کے بتوں کو توڑنا کیا تھا؟ حضور نے فرمایا، میں کعبہ کے بتوں کو توڑتا ہوں اور تم دل کے بتوں کو توڑ کر اپنے اندر کو تمام ناپاک خواہشات سے پاک کر دو۔ کیونکہ مومن کا دل کعبہ ہے۔ زبانِ رسالت پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (حدیث قدسی)
(لایسعنی ارضی ولا سمائی ولٰکن یسعنی قلب عبدی المؤمن) (۳)
(کہ اے میرے محبوب! ) نہ آسمان اپنے اندر مجھے سما سکتا ہے اور نہ زمین، ہاں! میں اپنے بندئہ مومن کے دل میں سما جاتا ہوں۔
عزیزانِ گرامی!
میرے عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اسلام بڑا کامل، اصلی اور پیدائشی دین ہے۔ اس میں سب کچھ ہے۔ سب سے پہلی اور بڑی بات یہ ہے کہ بندے کا سر ہو اور رب کا در ہو۔ یہ کب ہو گا؟ جب لوگوں کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کی محبت والے کون لوگ ہیں؟ جن کے دل حضور کی محبت سے سرشار ہیں۔ خدا تک پہنچانے والے کون ہیں؟ وہ سرکار ہیں۔ کیونکہ خدا کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں۔ خدا کا کلام کسی کان نے سنا نہیں۔ وہ دیکھنے، سننے، چھونے سے پاک ہے۔ کیونکہ چھونے، دیکھنے، سننے میں وہی آئے گا جو محدود ہو گا۔ اللہ تو لا محدود ہے
لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (پ ۷، الانعام آیت ۱۰۳)
نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ احاطہ کئے ہوئے ہے سب نگاہوں کا اور وہی ہے ہر چیز کی تاریکیوں اور مشکلات کو جاننے والا اور ظاہر و باطن سے خبردار۔
میں اس لئے بار بار مجدد الف ثانی کی یہ بات دہراتا ہوں کہ

من خدا را ازاں می پرستم کہ وے خدائے محمد است
میں خدا کی پوجا اس لئے کرتا ہوں کہ وہ محمد ﷺ کا خدا ہے۔

اگر حضرت محمد ﷺ نہ ہوتے تو ہم نہ ہوتے۔ ہم نہ ہوتے تو خدا کو پوجنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا کیونکہ حضرت محمد ﷺ کے بغیر کوئی ہوتا تو خدا کا پتہ چلتا یعنی محمد عربی ﷺ کے بغیر کوئی نہ ہوتا۔
تمام انبیاء علیہم السلام روحِ مصطفی کے فیض یافتہ ہیں۔ ہر نبی نے روح مصطفی سے فیض پایا۔ میں نہیں کہتا۔ روح اسلام نے فرمایا
کُنْتُ نَبِیًّا وَاٰدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ (۴)
یہ ترمذی کی صحیح حدیث ہے، فرمایا، میں اس وقت نبی تھا، جب آدم علیہ السلام ابھی جسم اور روح کے درمیان تھے۔ ابھی خمیر بھی تیار نہیں ہوا تھا۔ لوگوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ آدم علیہ السلام جب جسم اور روح میں تھے تو حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے علم میں نبی تھے۔
تو میں ان سے یہ پوچھتا ہوں کہ فقط حضور ہی اللہ کے علم میں نبی تھے اور کوئی نبی بھی اللہ کے علم میں نہ تھا؟
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ
ارے یہ بھی کوئی کہنے کی یا پتے کی بات تھی؟ نہیں لیکن محدثین نے کیا کہا؟ محدثین نے کہا کہ
کُنْتُ نَبِیًّا وَّاٰدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ
آدم علیہ السلام کا ابھی جسم روح سے نہیں ملا تھا بلکہ ان کے جسم کا ابھی پتلا بھی تیار نہیں ہوا تھا۔ میں اس عالم کے اندر تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ارواح کو نبوت کی تعلیم دیتا تھا۔ اس لئے فرمایا کہ میں نبیوں کا نبی ہوں۔ ہر نبی میری نبوت کا فیض یافتہ ہے۔

محبت باعث نجات ہے
عزیزانِ گرامی!
میں عموماً کہا کرتا ہوں کہ جس کے دل میں خدا کی عظمت ہو گی، اس کے دل میں اس کے حبیب کی بھی عظمت ہو گی اور میں نے ہزاروں مرتبہ کہا ہے کہ محبت ہی نجات کی دلیل ہے۔ اگر دل میں سرکار کی عظمت ہے تو محبت ہو گی۔ شریعت محمدیہ میں محبت سے بڑھ کر کوئی دلیل ہی نہیں۔ اب لوگوں کے دلوں میں نہ آقا کی عظمت ہے، نہ حیا اور محبت۔

شبہ
اب لوگوں نے کہا کہ ہمارے دلوں میں رسول اللہ
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کی محبت کیسے پیدا ہو کیونکہ ہم تمام گناہوں میں اور گمراہیوں میں مبتلا ہیں۔

شبہ کا ازالہ
بلا شبہ گمراہی اور گناہ محبتِ رسول سے جدا کرتے ہیں لیکن یاد رکھو گمراہی اور بدعملی کی بھی دو قسمیں ہیں
٭ ایک بد عملی ایسی ہے کہ جس میں انسان شیطان کے اغوا سے بالکل مغلوب ہو کر غرق ہو جائے یعنی گناہ انسان کی رگ و ریشہ میں رچ بس جائے۔ اس کا تصور بھی مومن اپنے ذہن میں نہیں لا سکتا۔ اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے۔ (آمین)
٭ دوسری بدعملی وہ ہے کہ بتقاضائے بشری انسان سے کوئی خطا ہو جائے۔ شراب کی حرمت کے بعد بعض صحابہ نے شراب پی لی۔ بعض صحابہ سے چوری کا فعل سرزد ہو گیا اور بعض صحابہ اور صحابیات سے بھی ایسا جرم ہو گیا جن پر سو یا ۸۰ کوڑے مارنے کی سزا آئی لیکن حال کیا تھا؟ حال یہ تھا کہ ان سے گناہ برداشت نہیں ہوتا تھا۔ ایک دفعہ ایک صحابیہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضری ہوئیں اور عرض کیا، حضور! بتقاضائے بشری مجھ سے ایسا فعل سرزد ہو گیا ہے جسے میں برداشت نہیں کر سکتی۔ خدا کے لئے مجھے سو کوڑے مارے کر پاک کیجئے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ جب تک تمہارے ہاں بچہ پیدا نہ ہوجائے یہ سزا تم کو نہیں مل سکتی۔ اب تو واپس چلی جا۔ چنانچہ وہ عورت واپس چلی گئی۔ بچہ ہونے کے بعد وہ عورت حضور کی خدمت میں واپس آ گئی اور عرض کیا، حضور مجھے پاک فرمائیں۔ سرکار نے فرمایا، کیا اس بچے کو کوئی دودھ پلانے والی ہے؟ اس نے کہا، اور تو کوئی نہیں۔ فرمایا، پھر اسے دودھ پلاؤ، جب یہ بچہ دودھ مقررہ مدت دو سال تک نہ پی لے، اس وقت تک ہم تمہیں سزا نہیں دے سکتے۔ صحابیہ پھر چلی گئیں۔ مقررہ مدت دودھ پلانے کی ختم ہونے پر روٹی کا ٹکڑا بچہ کے ہاتھ میں دے کر حاضرِ خدمت ہو گئی۔ عرض کی، حضور! اب یہ تو روٹی کا ٹکڑا کھانے لگا ہے۔ اب مجھے گناہ سے پاک کر دیں۔ سرکار نے حکم جاری کر کے ۱۰۰ کوڑے لگوائے۔ فرمایا، اس کی وہ توبہ ہے کہ اگر سارے مدینے میں تقسیم کی جائے تو سارے مدینے والوں کی مغفرت ہو جائے۔ صحابہ سے بتقاضائے بشری گناہ ہو جاتے اور گناہ برداشت نہ ہوتا۔ پاک ہونے کے لئے حاضرِ خدمت ہو جاتے اور سرکار انہیں پاک فرماتے۔ یہ حضور کے زمانہ والوں کا ایمان تھا اور آج ہمارے ایمان کا کیا حال ہے۔ اول کوئی مجرم خود بخود نہیں آتا اور اگر کوئی خود بخود بھی آ جائے تو بغیر ضمانت کے کوئی چھوڑتا نہیں۔ مگر وہ صحابیہ کہ جرم کا کسی کو پتہ نہیں، آئی، حضور کے حکم سے بغیر ضمانت کے چلی گئی اور پھر آئی اور گئی پھر دو سال کی مدت تک دودھ پلا کر پھر آئی۔ یہ تھے ایمان والوں کے گناہ کہ بتقاضائے بشریت گناہ سرزد ہوا تو ایمان نے برداشت نہ کیا۔ اگر ایک گناہ کسی ایمان دار کو ایسا مل جائے جس کے بعدوہ ایسی توبہ کر لے تو خدا کی قسم! ہم جیسے گندوں کی ہزاروں برس کے روزوں اور عبادتوں سے افضل ہے۔ غرض یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس چیز کا نام ایمان ہے۔ حیوانیت اور انسانیت میں یہی فرق ہے۔

ظاہر وباطن کا فرق
ظاہر کے بغیر باطن چل سکتا ہے لیکن باطن کے بغیر ظاہر بالکل نہیں چل سکتا۔ باطن کے بغیر بات نہیں بنتی۔ ہمارے ظاہر بہت اچھے ہیں۔ مگر ہمارے اندر بہت خرابیاں بھی بھری ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ (آمین) ظاہر و باطن کے بارے میں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مثال دی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک شکاری شکار کرنے جاتا اور ہِرنِیاں شکاری کو دیکھ کر بھاگ جاتیں۔ شکاری بڑا پریشان ہوا۔ اس نے سوچا، ایسے بات نہیں بنے گی۔ شکاری لباس میں ہِرنِیاں میرے قریب نہیں آئیں گی۔ چنانچہ انہوں نے صوفیا کرام کا لباس پہن لیا۔ اس لباس میں ایک کنوئیں کے قریب ایسے بیٹھ گیا جیسے کوئی نیک صالح بزرگ اللہ کی یاد میں مستغرق ہو۔ ہرنی آئی، کنوئیں سے پانی پینے لگی۔ صوفی کے لباس میں ملبوس شکاری نے تاڑ کر ایک لکڑی ماری تو اس بچاری کی ٹانگ توڑ دی۔ ہرنی بھاگنے میں کامیاب ہو گئی اور اس (ہرنی) نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے قوت گویائی کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو انسانی زبان عطا کر دی۔ اس نے قاضی کی عدالت میں مقدمہ دائرہ کر کے کہا کہ میرا انصاف کیجئے۔ چنانچہ شکاری کو عدالت میں بلا لیا گیا۔ قاضی نے صوفی نما شکاری سے کہا کہ تو نے اس ہرنی کی ٹانگ کیوں توڑی؟ اس نے کہا یہ تو میرا شکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال کیا ہے۔ یہ تو بھاگ گئی ورنہ میں نے کبھی کا اس کو ذبحہ کر کے کھا بھی لیا ہوتا۔ قاضی نے ہرنی سے کہا کہ بات تو شکاری کی ٹھیک ہے تو اس کے لئے حلال ہے اور اس کی غذا ہے۔ تیرا دعویٰ تو اس قابل نہیں کہ اس کے خلاف ایکشن (Action) لیا جائے۔ ہرنی نے کہا، حضور! میرا یہ دعویٰ نہیں کہ اس نے میری ٹانگ کیوں توڑی؟ میرا دعویٰ تو یہ ہے کہ اس کا یہ لباس (صوفیوں والا) اتروا دیں اور شکاریوں والا لباس پہنوا دیں۔ پھر دیکھیں کہ کون ہم میں سے اس کے قریب آتا ہے۔
مولانا روم فرماتے ہیں کہ ہم انسان کے لباس میں حیوانی کام کرتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہم سے یہ انسانی لباس اتار لے اور ایسا پہلے ہو چکا ہے کہ انسان بندروں کی شکلوں میں ہو گئے۔ ہم میں اللہ کا خوف اور ڈر نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ اپنا خوف اور ڈر عطا فرمائے۔ (آمین)

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج