حیات النبیﷺ

بمقام: مدینہ منورہ
بتاریخ: اپریل ۱۹۷۸

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

(اپنے مخصوص لہجے میں خطبہ عربی کے بعد)
محترم حضرات!
ہم سب اس ارضِ مقدس پر حاضر ہیں۔ وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو دیارِ حبیب، دیارِ رحمت اور دربارِ نبوت میں پناہ گزیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ اس پناہ کو ہمیشہ قائم رکھے اور انہیں کبھی بھی دیارِ نبوت سے جدا نہ کرے۔ ہم تو اس قابل نہیں کہ دیارِ حبیب میں زیادہ عرصہ ٹھہر سکیں لیکن سرکار کا کرم ہے، ہم جیسے نابکاروں کو بھی یاد فرما لیا۔ میں جب بھی ارضِ مقدس پر آتا ہوں تو یہ سمجھتا ہوں

حرم کی زمیں اورقدم رکھ کے چلنا
ارے سر کا موقع ہے او جانے والے

میرے لئے یہاں کے آداب بجا لانا میرے ممکنات سے نہیں۔ اس لئے میں سرکار کی بارگاہ میں عرض کر دیتا ہوں کہ سرکار ایمان کے ساتھ رخصتی عطا فرما دیں۔ پھر ایمان کے ساتھ بلا لیں پھر ایمان کے ساتھ بھیج دیں۔ میں مدینے میں پھر آؤں پھر جاؤں پھر آؤں پھر جاؤں تمام عمر اسی میں تمام ہو جائے۔
میں اس بارگاہ اقدس میں لب کشائی کی طاقت نہیں پاتا۔ لیکن اہلِ مدینہ کا اصرار اور میرا انکار ممکن نہیں کیونکہ میں اہلِ مدینہ کی ناراضگی کسی حال میں بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ محترم حضرات! میں سراپا خطا اور قصور ہوں۔ بہرحال میں آپ حضرات سے دست بستہ اس مدینے والے آقا کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں کہ میری کوئی بات نا پسند ہو تو اللہ کے لئے مجھے معاف کر دینا۔ آپ کی ناراضگی ناقابلِ برداشت ہے۔ اس لئے کہ آپ دیارِ حبیب کے رہائشی ہیں۔

احسانِ الہی
عزیزانِ محترم! میں آپ کے سامنے قرآن مجید سے ایک آیت پڑھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ
بیشک اللہ نے بڑا احسان کیا ایمان والوں پر جب اس نے ان میں عظمت والا رسول بھیجا ان ہی میں سے۔
اور اس کا احسان یہ ہے کہ
یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ جو تلاوت کرتا ہے ان پر اس کی آیتیں وَیُزَکِّیْہِمْ اور انہیں پاک کرتا ہے وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔
وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ اور بے شک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔
لیکن میرے محبوب نے ان کو ضلالت و گمراہی سے نکال کر ہدایت عطا فرمائی ظلمت سے نور میں اور کفر سے ایمان میں لائے۔ باطل سے نکال کر راہِ حق عطا فرما کر خدا کے قرب میں پہنچا دیا۔ اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ و عم نوالہٗ نے اپنے بندوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا، جنہیں گنا بھی نہیں جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْہَا (پ ۱۴، النحل آیت ۱۸)
اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں گن نہ سکو گے۔
وَاَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّ بَاطِنَۃً
اوراپنی ظاہری و باطنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں۔
اللہ تعالیٰ نے اتنی نعمتیں عطا فرمائی کہ جن کو ہم گن نہیں سکتے لیکن کسی نعمت پر احسان نہیں جتایا۔ صرف ایک نعمت پر احسان جتایا۔ کیا؟
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا
قابلِ غور بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اور نعمتوں کی بنیاد پر احسان نہیں جتایا اور ہمیں بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا
لَا تُبْطِلُوْا صَدَقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی
نہ ضائع کرو اپنی خیراتیں احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر۔

احسان کے لوازمات
ہمیں تو احسان جتانے سے روک دیا اور خود احسان جتا رہا ہے۔ اس احسانِ عظیم میں تین باتیں قابلِ توجہ ہیں
٭ احسان میں ایک احسان جتانے والا ہوتا ہے۔
٭ دوسرا وہ جس پر احسان ہو۔
٭ تیسری وہ چیز جس کی بنیاد پر احسان جتایا جاتا ہے۔
ان تینوں باتوں میں سے ایک بات نہ ہو تو احسان جتانے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اب احسان جتانے والا کون ہے؟
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ احسان جتانے والا ہے اور احسان کن پر ہے؟ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ مومنین پر احسان ہوا ہے۔ کس نعمت کی بنیاد پر احسان ہوا؟ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا وہ نعمت عظمیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم کی ذاتِ مقدسہ ہے۔ اور وہ نعمت ہے کیوں؟ اس لئے کہ وہ نعمت عظمیٰ باقی ہے۔ اگر وہ نعمت باقی نہ ہو تو پھر احسان کیسا؟ اگر آپ کسی کو کوئی نعمت دیں اور پھر خود اس سے واپس لے لیں تو کیا آپ کو کوئی احسان جتانے کا حق رہے گا؟ ہر گز نہیں۔ یعنی آپ نے مجھے ایک چھوٹا سا رومال دیا اور پھر صبح آ گئے اور واپس لے گئے۔ آپ پھر تشریف لا کر یہ کہیں کہ بھائی میرا آپ پر بڑا احسان ہے کہ تمہیں رومال دیا تھا؟ تو ہم کہیں گے بھائی آپ نے احسان تو ضرور کیا تھا مگر آپ نے تو وہ رومال واپس لے لیا اب احسان کس چیز کا ہے۔ احسان کی بنیاد تو ختم ہو گئی تو احسان بھی نہ رہا۔ نعمت واپس کرنے کے بعد تو احسان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور وہ نعمت کیا ہے؟ ابھی میں نے بتایا، لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا وہ نعمت رسول کی ذات پاک ہے۔ اب اگر اللہ جل مجدہٗ نے رسول ہم سے واپس لے لیا تو پھر اللہ تعالیٰ احسان کس چیز کا جتا رہا ہے؟

شبہ اور اس کا ازالہ
اگر آپ یہ کہیں کہ یہ احسان تو صرف انہی لوگوں پر ہے جن میں رسول اللہ ا موجود تھے۔ جب تک رسول ان میں زندہ رہے ان لوگوں پر احسان تھا۔ تو جو لوگ بعد کو پیدا ہوئے ان پر تو کوئی احسان نہیں؟ اگر کوئی کہتا ہے کہ ہم پر کوئی احسان نہیں تو میں کہوں گا کہ
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اللہ تعالیٰ نے یہ احسان صرف اولین اور آخرین پر نہیں اور نہ صرف موجودین پر بلکہ احسان تو تمام مومنین پر فرمایا۔ اب یہ بتاؤ کہ تم مومن ہو یا نہیں۔ اگر تم کہو کہ ہم مومن ہی نہیں تو تم پر واقعی کوئی احسان نہیں۔ تو اس میں ہمارا کیا قصور؟ تم اپنے آپ کو خود ہی مومنین سے الگ کر لو تو تمہاری مرضی ! ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ مومنین جمع ہے اور اس پر الف لام داخل ہے۔ تو جب جمع پر الف لام داخل ہو تو پھر وہ جمعیت کے معنے میں نہیں رہتی تو وہ استغراق کے معنی میں ہوتی ہے۔ جمعیت باطل ہو جاتی ہے۔ جمعیت کے باطل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جمع کا اطلاق تین فرد سے کم پر نہیں ہوتا۔ لیکن استغراق میں ایک سے لے کر لامتناہی ہوتے ہیں۔ تو پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ایک مومن سے لے کر لامتناہی مومنین تک ہے۔ یعنی قیامت تک جتنے مومن پیدا ہوں گے، خدا کا یہ احسان ہر ایک مومن پر رہے گا۔ یہ نہیں کہ یہ احسان فقط اہلِ عصر (صحابہ) پر ہو بلکہ یہ احسان سارے مومنین پر ہے اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے
اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا (النسا، ۱۰۳)
بے شک نماز ایمان والوں پر وقت مقرر کیا ہوا فریضہ ہے۔
یعنی نماز مومنین پر
کِتَابًا مَّوْقُوْتًاہے۔ جب وقت آئے نماز فرض اور یہ نماز کن پر فرض ہے۔ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ مومنین پر۔ اور یہاں بھی یہ حکم مومنین پر ہے۔ اب یا تو یہ کہو کہ ہم تو اس زمانہ میں نہیں تھے۔ اس لئے ہم پر نماز فرض نہیں ہے۔ اگر تم پر احسان نہیں ہے تو تم پر نماز بھی فرض نہیں ہے۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ نماز ہم پر فرض ہے تو احسان تم پر پہلے ہے۔ وہاں بھی عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ ہے اور یہاں بھی عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ ہے۔ لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اور اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا۔ اگر نماز سب پر فرض ہے تو احسان بھی سب پر ہے۔ یعنی قیامت تک آنے والے ہر مومن پر احسان ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ احسان تب ہو گا، جب نعمت موجود ہو۔ اگر خدا نے رسول کو واپس لے لیا تو احسان کس بات کا؟ تو پتہ چلا کہ قیامت تک وہ نعمت باقی رہے گی تاکہ یہ احسان برقرار رہے اور اس لئے قرآن نے کہا
وَاعْلَمُوْآ اَنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ (الحجرات۔ پ۲۶، آیت ۷)
اور جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول (موجود) ہیں۔
اب جو لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کا رسول ہم میں موجود نہیں ہے۔ یعنی حضور زندہ نہیں تو میں کہوں گا کہ حضور نعمت ہیں۔ اور حضور موجود ہیں۔ اور موجود تبھی ہو سکتے ہیں، جب آپ زندہ ہوں۔ بغیر زندہ آپ موجود ہو ہی نہیں سکتے۔ رسالت تو ایک عمل ہے اور رسالت کے معنی پیغامبری کے ہیں کہ اللہ کا پیغام اللہ کی مخلوق تک پہنچانا۔ اور یہ پیغام پہنچانا ایک عمل ہے۔ تو آپ ہی بتائیں کہ مردہ عمل کیسے کرے گا؟ مردہ عمل ہرگز نہیں کر سکتا پھر اب اگر آپ یہ کہیں کہ اس وقت پیغام لانے کا مسئلہ تھا تو جب حضور کی وفات ہو گئی تو پیغام لانے کا مسئلہ ہی ختم ہو گیا۔ اب اگر آپ کی یہ بات مان لیں تو پھر رسالت کا خانہ ہی خالی ہو گیا۔ کیوں؟ اس لئے کہ جب رسول ہی نہ رہا تو عملِ رسالت کیسے جاری رہا؟ تو گویا عملِ رسالت بھی نہ رہا تو پھر ہم جو کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ کیا معنی؟ معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ عملِ رسالت جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہر نماز میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ کہتے ہیں۔

رسالت رسول کے بغیر ممکن نہیں
عزیزانِ محترم!
میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ جب نعمت موجود نہ ہو تو احسان نہیں ہوتا۔ اور رسول زندہ نہ ہو تو عملِ رسالت جاری نہیں رہتا آقائے مدنی تاجدارِ حرم ﷺ کی ذاتِ پاک پر تو خدا نے احسان جتایا کہ میں نے محبوب کی نعمت تم کو دی ہے۔ اگر نعمت نہ ہو تو احسان ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ نعمت سے صحتِ احسان ہے یعنی احسان ہے۔ اگر احسان ہے تو پھر رسول بھی ہیں۔ اب یہ کہنا کہ رسالت تو موجود ہے مگر رسول نہیں ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہوئی کہ کوئی صفت موصوف کے بغیر ہو جائے۔ صفت تو عرض ہوتی ہے اور موصوف قائم بالذات ہوتا ہے۔ یعنی صفت موصوف کے ساتھ ہوتی ہے۔ صفت کا وجود موصوف کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ کہیں آپ نے چراغ کے بغیر روشنی نہیں دیکھی ہو گی اور نہ کبھی آپ نے یہ دیکھا ہو گا کہ روشنی ہو اور چاند نہ ہو۔ سورج نہ ہو اور سورج کی روشنی ہو؟ رسالت ہو اور رسول نہ ہو؟ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اگر سورج کی روشنی ہے تو وہ سورج کے وجود کی دلیل ہے۔ یوں سمجھو کہ روشنی رسالت ہے اور رسول سورج ہے۔ تو لہٰذا تمہیں کبھی یہ شبہ ہوا کہ سورج کی روشنی تو موجود ہے۔ ذرا دروازہ کھول کر دیکھ لیں کہ سورج ہے کہ نہیں ہے؟ اور تمہیں کبھی بھی یہ خیال نہیں آیا ہو گا۔ جب تمہیں یہ خیال نہیں آیا تو رسالت کی موجودگی میں رسول کے نہ ہونے کا خیال کیسے آ گیا؟ تو پتہ چلا، جس طرح سورج کے بغیر روشنی نہیں ہو سکتی، اسی طرح رسول کے بغیر بھی رسالت نہیں ہو سکتی۔ اس لئے یہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کے رسول ہم میں موجود ہیں اور اللہ کے حبیب آج بھی رسول ہیں۔ کیونکہ جس طرح چاند، سورج اور چراغ کے بغیر روشنی ممکن نہیں اسی طرح رسول اور نبی کے بغیر بھی رسالت اور نبوت ممکن نہیں۔

ختم نبوت زندہ باد
اب ختمِ نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانا تب ہی جائز ہو گا جب خاتم الانبیاء کو زندہ مانو گے۔ حضور کو نعوذ باللہ مردہ مان کر ختمِ نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانا بے معنے ہے۔ یہ نعرہ تو ہمارا ہے کیونکہ ہم خاتم الانبیاء کو زندہ مانتے ہیں۔ اس بات کو تو عقل بھی نہیں مانتی کہ رسول نہیں ہیں اور رسالت ہے نبی نہیں ہیں اور نبوت ہے؟ تو لہٰذا ماننا پڑے گا خاتم الانبیاء زندہ ہیں تو نبوت زندہ ہے۔ یقینا رسول زندہ ہیں تو رسالت ہے۔ اگر رسول زندہ نہ ہوں اور نعمت رسول نہ ہو تو احسان کس نعمت کی بنیاد پر جتایا گیا۔
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ
عزیزانِ گرامی!
یہ بات بھی آپ کو بتا دوں کہ حضور تاجدارِ مدنی جناب محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ تمام عالموں کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ
اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو (اے محبوب!) مگر سارے جہانوں کے لئے رحمت
حضور تمام عالمین کے لئے رحمت ہیں اور تمام عالمین کے رسول ہیں۔ مسلم شریف کی حدیث ہے۔
قال رسول اللّٰہ ﷺ ارسلت الی الخلق کافۃً (۱)
میں اس ساری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
اور قرآن نے کہا
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا کَافَۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا
اور (اے محبوب!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر (قیامت تک) تمام لوگوں کے لئے اس حال میں کہ آپ خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے ہیں۔
تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا
بڑی برکت والا ہے وہ جس نے فیصلہ کرنے والی کتاب اپنے (مقدس) بندے پر اتاری تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔
وہ تو عالمین کے لئے نذیر ہیں۔ آپ ا کا وصف نذارت اور وصف انذار، وصف رسالت اور وصف نبوت سارے عالموں میں چل رہا ہے اور کوئی عمل چل ہی نہیں سکتا جب تک عمل کرنے والا زندہ نہ ہو۔ عمل خود دلیلِ حیات ہے اور بے عملی موت۔ جیسے نبض کا چلنا، دل کا حرکت کرنا، یہ عمل ہیں، اگر نبض کا چلنا بند ہو جائے اور دل کا حرکت کرنا رک جائے تو پھر موت ہے۔ عمل سے تو حیات کا پتہ چلتا ہے اور میرے آقا کا عملِ رسالت ختم ہو ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا آپ مردہ ہو ہی نہیں سکتے۔

زبردست شبہ
آپ کہیں گے کہ قرآن کہتا ہے
اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ
بے شک آپ پر موت آنی ہے اور یقینا انہیں بھی مرنا ہے۔
اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ فرماتا ہے
کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ ہرجان تو موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔
ایک مرتبہ خود سرکار نے فرمایا،
انی مقبوض میں تو قبض کیاجانے والا ہوں۔ (۲) اور پھر حضرت ابو بکر کا وہ خطبہ جو سرکار کی وفات شریفہ کے موقعہ پر پڑھا گیا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار کھینچ لی کہ جس نے کہا کہ سرکار نے وفات پائی، اس کی گردن اڑا دوں گا۔ سرکار کی وفاتِ شریفہ کے موقع پر حضرت عمر کے ہوش و حواس بالکل باختہ ہو گئے تھے۔ اگر یہ بات ہوئی تو پھر لوگ حضور کی وفات کے اعتقاد کو تسلیم نہیں کریں گے اور سرکار کی وفات کو مانیں گے ہی نہیں۔ پھر دین میں ایک بہت بڑا فتنہ پیدا ہو جائے گا۔ اس لئے کہ حی لا یموت تو اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔

شانِ ابوبکر صدیق
اس طرح لوگ دین سے دور ہو جائیں گے۔ ہر ایک کا علم اس کے لائق ہوا کرتا ہے۔ حضرت عمر کا علم بے شک ان کے ظرف کے لائق تھا ان میں کوئی کمی نہیں تھی اور ان کا کوئی قصور نہ تھا مگر حضرت عمر فاروق سے زیادہ شان حضرت ابو بکر صدیق کی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مقام پر اپنے آپ کو سنبھالا اور مسجد نبوی میں یہ خطبہ جو بخاری اور مسلم اور تمام کتب احادیث میں ہے، پڑھا۔ میں بخاری شریف سے خطبہ پڑھتا ہوں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خطبے میں فرمایا
من کان یعبد محمدًا فان محمدًا قدمات ومن کان یعبد اللّٰہ فان اللّٰہ حی لا یموت (۳)
تم میں سے اگر کوئی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی عبادت کرتا ہو تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر موت واقع ہو چکی اور اگر تم میں سے کوئی خدا کی عبادت کرتا ہو تو وہ سن لے
ان اللّٰہ حی لا یموت۔ بے شک خدا تو حی لا یموت ہے۔ اس کے بعد حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کا حال آہستہ آہستہ تدریجاً تدریجاً حضرت ابو بکر کے مقام پر اتر آیا۔

محترم حضرات!
یہ ساری باتیں میں نے وضاحت کر کے اس لئے کہی ہیں کہ اس پر فتن دور میں کہیں آپ کو کوئی پریشان نہ کرے اور آپ کو اس کا جواب نہ آئے تو میں ان سب اعتراضات کا جواب دیتا جاؤں۔
محترم حضرات!
اب کوئی ان ساری باتوں کو سامنے رکھ کر یہ کہہ دے کہ رسول اللہ زندہ موجود ہیں تو یہ آیات اور احادیث کہاں جائیں گی۔ اس سے قبل کہ میں آپ کو اس کا جواب دوں تو اپنا عقیدہ بیان کر دوں۔ میرا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خدا کی قسم کامل حیات کے ساتھ زندہ موجود ہیں بلکہ آپ کا جسد پاک ایک آن کے لئے بھی حیات سے محروم نہیں ہوا۔ کیونکہ جس وقت جسد پاک حیات سے محروم ہو جائے، اسی وقت عملِ رسالت منقطع ہو جائے اور رسالت کا خانہ خالی ہو جائے۔ آپ تو رسول رب العالمین، نذیرا نِ لعالمین اور رحمت للعالمین ہیں۔ آپ تو رسول الی الخلق کافۃً کی شان رکھنے والے ہیں۔ اگر ایک آن کے لئے بھی حیات منقطع ہو جائے تو دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے۔ ایک آن کے لئے بھی سرکار کی ذات پاک حیات سے خالی نہیں ہوئی۔ ہر مسلمان کا یہی عقیدہ ہونا چاہئے اور میرا بھی یہی عقیدہ ہے۔ آپ پھر یہی کہیں گے کہ ان آیات اور احادیث کا کیا مطلب ہو گا؟ تو میں آپ کو بات سمجھا دوں۔ اگر آپ نے میری یہ بات سمجھ لی تو میری نجات ہو گئی۔
حضور کا فرمان غلط نہیں ہو سکتا۔
عزیزانِ گرامی!
قرآن حق ہے۔ آمنا وصدقنا اور حدیث حق ہے۔ اور حدیث حق کیوں نہ ہو؟ وہ حضور کی بات ہی کب ہوتی ہے۔ قرآن نے کہا،
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اور وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں فرماتے
یعنی وہ اپنی خواہش سے بولتے ہی نہیں۔
اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی (پ ۲۷، س النجم، آیت ۳۔۴)
نہیں ہوتا ان کا فرمانا مگر وحی جو (ان کی طرف) کی جاتی ہے۔
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اس آیت
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی کے تحت فرماتے ہیں۔ کیف ینطق عن الہوٰی۔ ما لیس الہوٰی۔ جو خواہشِ نفس سے پاک ہیں وہ خواہش نفس سے کیسے بولیں گے؟ اس لئے ان کا بولنا ان کا بولنا ہی نہیں۔ ان کا فرمانا رب کا فرمانا ہے۔ تو اسی لئے میں کہتا ہوں کہ سارے جہاں کا نظام غلط ہو سکتا ہے، مگر خدا کی قسم! مصطفی کی زبان غلط نہیں ہو سکتی۔ نظام شمسی اور قمری کا غلط ہونا ممکن ہے۔ نظام ارضی اور سماوی کا غلط ہونا ممکن ہے۔ مگر زبانِ رسالت کا غلط ہونا ممکن ہی نہیں۔ اگر ہم سے کوئی پوچھے کیا وقت ہے دن ہے یا رات تو ہم وقت کے لئے گھڑی دیکھیں گے۔
دن رات کے لئے آسمان پر نظر دوڑائیں گے کہ دن ہے یا رات۔ کیونکہ واقع جو ہو گا وہی کہیں گے۔ اگر واقعہ یہ ہے کہ دن ہے تو دن کہیں گے۔ اگر واقع میں رات ہے تو رات کہیں گے۔ گویا ہم واقعہ کے دیکھنے کے محتاج ہیں۔ کہ جیسے واقعہ ہوگا ویسے ہی ہم کہیں گے۔ مگر خدا کی قسم! واقعہ مصطفی کا محتاج ہے۔ جیسا فرمائیں ویسا ہی واقعہ ہو جائے۔

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج