نورِمبینﷺ

بمقام: ملتان شریف
بموقع: عید میلاد النبی

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

صدر محترم علماء اہلسنّت و جملہ برادرانِ اہلسنّت!
اللہ تعالی کا اہل سنت پر اتنا کرم ہے کہ ہم اس کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرنا اس کی خوشی کا باعث ہے اور اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر نعمت ہم کو عطا فرمائی۔
وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْہَا (پ ۱۴، النحل ع ۲، آیت ۱۸)
اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں گن نہ سکو گے۔
وَاَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃً (پ ۲۱، لقمٰن، آیت ۲۰)
اور اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں۔
لیکن ایک وہ نعمت ہے کہ جس کے دامن سے ہر نعمت وابستہ ہے اور میں پورے وثوق سے عرض کرتا ہوں کہ جس زحمت کا دامن اس نعمت سے وابستہ ہو جائے تو وہ زحمت، زحمت نہیں رہتی بلکہ نعمت اور رحمت بن جاتی ہے اور جس نعمت کا تعلق اس نعمت سے قطع ہو جائے تو وہ نعمت، نعمت نہیں رہتی بلکہ زحمت بن جاتی ہے اور مرکز نعمت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔
اَلَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ کُفْرًا (پ ۱۳ سورئہ ابراہیم، آیت ۲۸)
جنہوں نے اللہ کی نعمت کو نا شکری سے بدل دیا۔
اس آیت کے تحت بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں
نعمۃ اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ (ﷺ) اللہ کی نعمت تو محمد رسول اللہ (ﷺ) ہیں۔
اور اسی لئے اللہ نے فرمایا
وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (سورۃ الضحٰی، آیت ۱۱)
اور اپنے رب کی نعمت کا (خوب) بیان فرمائیں۔
رب کی نعمتوں پر خوب اظہار فرحت کرو مگر مسرت، فرحت اور خوشی کا اظہار وہی کرے گا جو اس کو نعمت سمجھے گا۔ الحمد للّٰہ! اہل سنت کا اعتقاد ہے کہ سب نعمتیں حضرت محمد ﷺ سے حاصل ہوئی ہیں۔
واللّٰہ یعطی وانا قاسم
اللہ تعالیٰ دیتا ہے؟ لوگوں نے کہا، حضور علم دیتے ہیں۔ ارے کس نے کہا حضور علم نہیں دیتے۔ میں کہتا ہوں حضور علم، عمل اور ہر نعمت دیتے ہیں۔ وہ کون سی نعمت ہے جو سرکار نے ہمیں نہیں دی۔ بلکہ میرا تو یہ ایمان ہے کہ جو نعمت حضور نے نہیں دی وہ نعمت، نعمت ہی نہیں۔ جن لوگوں کو مالِ حرام کھانے میں مزہ آتا ہے اور لوگ اس کو نعمت سمجھتے ہیں۔ مگر حرام مال سرکار نے ہمیں نہیں دیا اور ہم نے اپنے فعل اور کسب سے اس کو حرام بنا دیا۔ یہ مال اللہ کے حکم کے مطابق نہیں ملا۔ اگرچہ یہ مال ہمارے کسب حرام سے پہلے نعمت اورحلال تھا۔ مگر مصطفی سے تعلق الگ ہوا تو وہ زحمت بن گیا اور میں آپ سے کیا کہوں، قتل سے زیادہ اور کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور شہید کون ہے؟ جو اللہ کی راہ میں قتل ہو
وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ (پ ۲، البقرہ، آیت ۱۵۳)
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں، انہیں مردہ مت کہو۔
اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو مردہ مت کہو۔ شاید کوئی مجھے کہے کہ مردہ کہنے سے روکا ہے بلکہ فرمایا
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو۔
یعنی گمان بھی نہ کرو کہ وہ مردہ ہیں اور پھر آپ کو معلوم ہے کہ قتل ایک ایسی تکلیف ہے کہ اس کے مقابلے میں انسان ہر تکلیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے، مگر قتل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔

(۱) واقعہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ
عزیزانِ گرامی!
اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے کس شان سے قتل ہوتے ہیں، میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ حضورﷺ  کے سچے صحابی اور عاشق رسول تھے جب دشمنوں نے آپ کو قید کیا تو منوں لوہا پہنا دیا اور لوہے کے پنجرے میں مقفل کر دیا کھانے کو خنزیر کا گوشت اور پینے کو شراب دیتے لیکن حضرت خبیب ایک نظر بھی نہ دیکھتے چھ ماہ تک اسی طرح قیدوبند کی تکلیفیں برداشت کرتے رہے۔ دشمنوں نے حضرت خبیب سے کہا کہ اضطرار کی حالت میں حرام چیز حلال ہو جاتی ہے تو تم خنزیر کا گوشت کیوں نہیں کھاتے۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے کہ اضطرار کی حالت میں حرام حلال ہو جاتا ہے لیکن تم میرے محبوب کے دشمن ہو میں سمجھتا ہوں کہ میرے اس کھانے پر تم خوش ہو جاؤ گے میں اپنے محبوب کے دشمن کے خوش ہونے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اللہ اکبر! ان کی کیا محبت تھی۔
اور پھر مشرکین مکہ ان کے پنجرے کے اندر تازہ انگوروں کے خوشے رکھے ہوئے دیکھ کر حیران ہوتے تھے کہ یہ کہاں سے آتے ہیں۔ جب قید کا وقت ختم ہوا قتل کرنے کے لئے پنجرے کے باہر نکالا گیا تو انہوں نے آپ سے پوچھا کہ کوئی آرزو اور تمنا ہے آپ نے فرمایا، ہاں ایک تمنا ضرور ہے مدت ہوگئی ہے منوں لوہا مجھ پر لدا ہوا ہے نماز جیسا کہ میرے رب کا حکم ہے نہیں پڑھ سکا۔ اب جی چاہتا ہے کہ نہا دھو کر کپڑے صاف کر کے دو رکعت نماز ایسے پڑھ لوں جیسے میرا دل چاہتا ہے چنانچہ انہوں نے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دے دی۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ حسب منشا نماز پڑھنے کھڑے ہوئے مگر مختصراً قیام رکوع اور سجود کے بعددو رکعت نماز مکمل کر کے سلام پھیر دیا۔ مشرکین یہ دیکھ کر حیران ہوئے اور کہا کہ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ آپ لمبی نماز پڑھیں گے آپ نے فرمایا دل تو یہ چاہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نماز لمبی کر کے پڑھ لوں مگر میرے دل میں خیال آیا کہ اگر میں نے اس طرح لمبی نماز پڑھی تو تم یہ خیال کرو گے کہ موت کے ڈر سے نماز کو لمبا کر دیا ہے۔ میں تو اپنے آقا کا غلام ہوں اور مصطفی کے غلاموں کے بارے میں یہ تصور قائم کیا جائے کہ موت کے ڈر سے نمازیں لمبی کر دیتے ہیں تو میں نے نماز کو مختصر کر دیا۔ یہ طعنہ میں برداشت نہیں کر سکتا۔ جب آپ کو سولی پر چڑھایا گیا تو آپ یہ چاہتے تھے کہ جب مجھے قتل کیا جائے تو میرا رُخ مدینے کی طرف کر دیا جائے۔ مگر کافر تو مدینے والے کی دشمنی میں قتل کر رہے تھے، وہ کب مان سکتے تھے۔ آپ نے فرمایا، پرواہ نہیں ہے؟ جب میرا دل مصطفی (ﷺ) کی طرف ہے جدھر چاہو رخ کر کے مجھے قتل کر دو۔ میں جامِ شہادت نوش کرنے کے لئے تیار ہوں۔
یہ سب کچھ رضائے رب کی خاطر ہے۔ اور پھر میرا رب اتنا بھی نہیں کرے گا کہ میرے بند بند اور جوڑ جوڑ میں برکت دے اور میری یہ تمنا پوری کر دے کہ جب میرا بدن خاک ہو جائے تو مدینے کی گلیوں کی ہوا میں اڑا دیا جائے۔
عزیزانِ محترم!
یہ بیان نہیں کر سکتا کہ کن کن تکلیفوں کے ساتھ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا۔ سولی پر چڑھانے سے پہلے کسی نے پیچھے سے نیزہ مارا اور وہ نیزہ پیچھے سے آگے سینے کے باہر نکل گیا اور خون کا فوارہ نکلا۔ خون کو ہاتھ میں لیتے جاتے تھے اور سر کے اوپر ڈالتے جاتے تھے۔ اپنے خون میں نہا رہے تھے اور زبان سے یہ فرما رہے تھے
ربِّ کعبہ کی قسم جو مراد گھر سے لے کر چلا تھا، پوری ہو گئی۔
اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں نے کتنی تکالیف اٹھائیں۔
عزیزانِ گرامی!
قیامت کے دن جب سب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ کی طرف سے ایک فرشتے کو حکم ہو گا کہ ان جنتیوں سے پوچھو ، تم میں کوئی ایسا ہے کہ جو دنیا میں واپس جانا چاہے۔ سب انکار کر دیں گے اور کہیں گے کہ ہم دنیا میں واپس نہیں جانا چاہتے۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ مصیبتوں اور مشقتوں کا گھر ہے اور یہاں کون سی نعمت ہے جو ہمیں حاصل نہیں۔ اِلَّا شَہِیْدٌ مگر شہید کھڑا ہو جائے گا اور کہے گا، مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج دو تو سب حیران ہوں گے اور فرشتہ پوچھے گا، اے شہید! تجھے کون سی نعمت حاصل نہیں، جس کے لئے تو دنیا میں جانا چاہتا ہے۔ تو شہید کہے گا، یہاں سب نعمتیں حاصل ہیں، مگر خدا کے نام پر سر کٹانے، سینے میں زخم کھانے اور خون کا فوارہ بہنے میں جو لذت وہائی آئی تھی، وہ لذت یہاں محسوس نہیں ہو رہی۔ لہٰذا ہمیں دنیا میں پھر بھیج دو تاکہ خدا کی راہ میں قتل ہوتے وقت جو مزہ آیا تھا، وہ مزہ ہم پھر لوٹیں۔
ارے قتل ہونا تو زحمت تھا، مگر مصطفی کے دامن سے لگ گیا تو رحمت ہو گیا۔
اَلَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ کُفْرًا (پ ۱۳، س ابراہیم، آیت ۲۸)
جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا۔
عزیزانِ گرامی!
میں کہنا یہ چاہتا تھا کہ یہ سنیوں کا نصیبہ ہے کہ اس نعمت عظمیٰ پر مسرت اور فرحت کا اظہار کرتے ہیں۔ حضور کی ولادت پاک کی خوشی میں بڑے بڑے عظیم الشان جلسے منعقد کرتے ہیں۔ یہ سنیوں کا مقدر ہے۔ اے اللہ! سنیوں کے مقدر کو دوبالا کر دے۔ اے اللہ! ہم تیرے حبیب کا میلاد منا ہی نہیں سکتے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو پیدا کرنے کی خاطر سارا جہاں بنایا۔ کیوں؟ اس لئے کہ
لَوْ لَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ (۲) لَوْ لَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْجَنَّۃَ (۳)
میرے پیارے! یہ سب تیرے ہی جشن میلاد کے لئے تو بنایا ہے۔ کون ہے جو خدا جیسا فرش بچھائے۔ خدا جیسا شامیانہ لگائے بلکہ خدا نے ساری کائنات کو اپنے محبوب کی پیدائش کے لئے سجایا ہے۔ آج ہم جو کچھ زیبائش کرتے ہیں بشرطیکہ اس میں ریا، دکھاوا اور اسراف نہ ہو، فقط محبت اور اخلاص ہو تو عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
قَدْ جَآئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ (پ ۶، المائدہ، آیت ۱۵)
بے شک جلوہ گر ہوا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب
وہ نور کون ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، حضرت امام مجاہد، عطا بن ابی ربیعہ اور حضرت عکرمہ سے پوچھو تو یہ صاف صاف لفظوں میں کہتے ہیں کہ
قَدْ جَآئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اسی آیت کے تحت حضرت علامہ الوسی بغدادی تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں کہ
ای نور الانوار و نبی المختار محمد رسول اللّٰہ ﷺ
نور سے مراد حضور ہیں اور نور الانوار میں نور کی اضافت انوار کی طرف ہے اور انوار جمع ہے جب جمع پر الف، لام، آئے تو استغراق کے معنی پیدا ہوتے ہیں، کیا مطلب؟ مطلب یہ کہ میرے آقا فقط نور نہیں بلکہ تمام نوروں کے نور ہیں؟ جس طرح آپ نوروں کا نور ہیں اسی طرح آپ روح الارواح بھی ہیں۔ اگر بدن سے روح نکل جائے تو بدن بے جان ہو کر گر پڑتا ہے۔ اسی طرح حضور کی روحانیت کا فیض ہماری روحوں سے نکل جائے تو روحیں بے جان ہو کر گر پڑیں۔ آپ روحوں کے روح اور نوروں کے نور ہیں۔ اگر نور سے حضور کی نورانیت سلب ہو جائے تو نور ظلمت بن کر رہ جائے۔ ہر نور کا نور محمد مصطفی ﷺ ہیں۔ لوگوں نے کہا، وہ نورِ ہدایت ہیں یا پھر زیادہ سے زیادہ علم کا نور ہیں۔ حالانکہ کئی موقعوں پر حضور کے علم کا انکار موجود ہے۔ میں نے کہا، جب اللہ نے کوئی قید اور تخصیص نہیں فرمائی تو ہمارا اور آپ کا کوئی حق نہیں کہ ہم قید لگائیں۔ وہ تو نور مطلق ہیں۔ اگر ہدایت کا نور ہیں تو آپ ہیں
ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی (سورئہ توبہ، آیت ۳۳، الفتح، آیت ۲۸)
(اللہ) وہی ہے، جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین عطا فرما کر بھیجا اور علم کا نور بھی مصطفی ہیں
وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا ( نساء، ۱۱۳)
اور آپ کو سکھلایا جو کچھ آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بڑا فضل ہے
ایمان اور عرفان کا نور سرکار ہیں۔ قرآن اور اسلام کا نور مصطفی ہیں۔ جسم و جان کا نور حضور ہیں۔ زمین و آسمان کا نور نبی محترم ہیں۔ ارے آقا تو ہر نور کا نور ہیں۔

شبہ اور اس کا ازالہ
عزیزانِ محترم!
اللہ تعالیٰ نے نور کے ساتھ کتاب مبین کا ذکر فرمایا۔ کیا بات ہے؟ آپ کہیں گے کہ حضور تشریف لائے مگر سرکار پر کئی برس نورِ نبوت چمکا اور پھر آپ قبر انور میں تشریف لے گئے۔ لہٰذا وہ نور ہمارے لئے تو کچھ نہ ہوا۔ کیونکہ ہم تو چودہ سو سال بعد پیدا ہوئے۔
تو میں کہتا ہوں کہ ہمارے لئے سب کچھ ہوا بلکہ قیامت تک آنے والے مومنوں کے لئے سب کچھ ہوا۔ مگر کوئی اپنے آپ کو مومن بھی سمجھے۔ اگر کوئی اپنے آپ کو مومن نہ سمجھے تو اس کے لئے کچھ ہی نہیں ہوا۔ غور سے سن لو۔ سید عالم ﷺ کی نورانیت فقط ظاہری نہیں باطنی بھی ہے۔ فقط حسی نور نہیں، معنوی بھی ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضور سید عالمﷺ  جب مسکراتے تھے تو دندانِ مبارک سے نور کی شعاعیں نکلتی تھیں اور یقین کیجئے کہ ایمان کے نور کا مرکز اور آفتاب فقط ذات پاک سید عالمﷺ  ہے۔ اگر آفتاب نہ رہے تو اس کی شعاع کبھی بھی باقی نہ رہے گی۔ کیونکہ شعاعیں آفتاب کے ساتھ ہی منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ اگر سورج طلوع ہو تو شعاعیں بھی ساتھ ہی نمایاں ہو جاتی ہیں اور جب سورج غروب ہو جائے تو شعاعیں بھی ساتھ ہی ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں اور حضور ایمان کا آفتاب ہیں یعنی ایمان وجودِ محمدی کی شعاع کا نام ہے اور جو کہے کہ ہم چودہ سو برس کے بعد پیدا ہوئے تو ہمیں کچھ نہ ملا تو ان کے اندر ایمان نہیں۔ ہمارے دلوں کا ایمان آفتابِ محمدی کی شعاع کا نام ہے۔ مرکزِ ایمان مصطفی ﷺ ہیں۔ آپ کہیں گے کہ ہم نے آقا کے حلیہ مبارک کی زیارت نہیں کی اور ہم نے آپ کے حسن و جمال کو نہیں دیکھا تو میں کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے ظاہری و باطنی حسن و جمال کو قرآن میں رکھ دیا ہے اور خوب یاد رکھو؟ قرآن کیا ہے؟ جمالِ محمدی کا آئینہ ہے۔ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے صحابہ نے آپ کے حسنِ خلق کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا
کان خلقہ القرآن (۴)
آپ کا خلق دیکھنا ہو تو قرآن کو دیکھ لو۔
تو صحابہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا
کانہ ورقۃ مصحف (۵)
حضور کا منور چہرہ قرآن کا ورق ہے۔
عزیزانِ گرامی!
اللہ تعالیٰ نے قرآن کے تیس پاروں کے ایک ایک ورق میں اپنے محبوب کے حسن و جمال کو ہمارے سامنے رکھ دیا۔ مگر

آنکھ والا تیرے جلوے کا تماشہ دیکھے
دیدئہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے

یہ قرآن جو ہمارے سینوں، زبانوں اور ہاتھوں میں ہے، یہ جمالِ محمدی کا آئینہ ہے۔ قرآن بھی نور ہے اور سرکار بھی، تو آپ کہیں گے کہ دو نوروں کا کیا مطلب؟ کیا ایک نور کافی نہ تھا؟ تو بھائی میں عرض کروں گا کہ جب تک دونوں جمع نہ ہوں اس وقت تک کسی تیسری چیز کا انکشاف نہیں ہوتا یعنی تیسری چیز کا انکشاف دو نوروں پر موقوف ہوتا ہے۔ آپ لوگوں نے میلاد النبی کی خوشی میں طرح طرح کی روشنیوں سے جلسہ گاہ کو سجا رکھا ہے، کہیں ٹیوب لائٹ اور کہیں بلب ہیں۔ یہ روشنی ایک نور ہے۔
ایک روشنی ہماری آنکھ میں ہے، یہ باہر کی روشنی خارجی ہے اور آنکھ کی روشنی داخلی ہے۔ اگر خدانخواستہ بجلی فیل ہو جائے اور تمام بلب اور ٹیوب لائٹ بجھ جائیں تو نہ آپ مجھے دیکھ سکیں گے اور نہ میں آپ کو۔ حالانکہ آپ کی آنکھوں میں بھی روشنی ہے اور میری آنکھ میں بھی۔ ہماری آنکھوں میں نور ہے مگر ہم ایک دوسرے کو خارجی نور کے بغیر نہیں دیکھ سکے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ تیسری چیز کی حقیقت تب ہی منکشف ہو گی، جب دونوں نور جمع ہوں گے۔ اگر خارجی نور ہو اور داخلی نور نہ ہو تب بھی حقیقت منکشف نہیں ہو گی اور اگر داخلی نور ہو اور خارجی نور نہ ہو تب بھی تیسری چیز کی حقیقت عیاں نہیں ہوتی۔ ایک نابینا کے لئے لاکھ بلب اور ٹیوب لائٹ لگا دو اسے کچھ نظر نہیں آئے گا۔
اس لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو نور عطا فرمائے۔ ایک سیدِ عالمﷺ  کی ذاتِ اقدس اور دوسرا قرآنِ حکیم ہے۔ ان دو نوروں کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کے حسن و جمال کے جلوے منکشف ہوئے ہیں اور معراج کی رات سرکار نے اللہ تعالیٰ کا بلا واسطہ دیدار کیا اور اس کے حسن کے جلوے تو بلا واسطہ بات تھی مگر بالواسطہ اللہ تعالیٰ کے حسن و جمال کے جلوے کائنات کے ذرے ذرے اور تخلیق عالم، آسمانوں اور زمینوں میں چاند اور سورج میں، ہواؤں اور خلاؤں میں، دریاؤں اور سمندروں میں، تحت الثریٰ اور عرشِ علیٰ میں ہیں۔ اگر یہ دونوں نور تمہارے پاس ہیں تو خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ کے حسن و جمال کے جلوے اٹھارہ ہزار کائنات کی چھپی ہوئی حقیقتیں تمہارے سامنے منکشف ہوں گی۔
عزیزانِ محترم!
ایک شخص نے آ کر کہا کہ ایک سائنسدان کا علم نبی کے علم سے زیادہ ہوتا ہے۔ میں نے کہا، ارے خدا تجھ کو خراب کرے تو کیسی بات کہتا ہے۔ میں سائنسدان کے علم کو مانتا ہوں مگر اس کا علم ظنی ہے اور میرے آقا کا علم قطعی ہے اور پھر نبی کے علم میں ظنیت کا احتمال تک نہیں ہوتا اور تم کہتے ہو کہ انہیں صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حلال و حرام کا علم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَکَذٰلِکَ نُرِیْ اِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ (پ ۷، انعام، آیت ۷۵)
اسی طرح ہم نے دکھائی ابراہیم ں کو ساری بادشاہی (کل مخلوقات) آسمانوں اور زمینوں کی اور اس لئے کہ وہ علم الیقین کے ساتھ عین الیقین والوں میں سے (بھی) ہو جائیں۔
یعنی ہم نے جس طرح اپنے محبوب محمد مصطفی
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ کو تمام حقیقتیں دکھائیں، اسی طرح ہم نے ابراہیم ں کو ملکوت السمٰوٰت بھی دکھائے اور ملکوت الارض بھی! اب بتائیے کہاں کہاں سائنس دان کا علم مقابلہ کرے گا۔
سائنسدانوں کا یہ حال ہے کہ آج ایک مفروضہ اور نظریہ قائم کیا اور دوسرے آنے والے سائنسدان نے اس کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا اور اس سے پہلے نظریہ کو غلط ثابت کر دیا۔ لیکن نبی کی وہ اٹل بات ہے کہ جو کچھ فرمایا وہ دین ہے۔ اس کے خلاف کبھی کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ نبی کی ذات حق کا معیار ہوتی ہے۔ نبی جو کچھ کہتا، سنتا اور بولتا ہے، وہ حق ہوتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص والی حدیث پر غور کرو کہ بلاتخصیص سرکار کی ہر حدیث لکھ لیا کرتے تھے۔ سرکار کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ سرکار قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے آپ کی ہر بات لکھنے سے روکا ہے اور
قالوا انہوں نے کہا انہ بشر وہ تو بشر ہیں۔ یتکلم فی الغضب والرضا کبھی وہ غصے میں اور کبھی راضی ہو کر بات کر جاتے ہیں تو ہر بات نہ لکھا کرو۔ میرے آقا! اب میں کیا کروں؟ سرکارنے فرمایا، اکتب یا عبد اللّٰہ اے عبد اللہ! میری ہر بات لکھ لیا کرو۔ اس لئے کہ
فو الذی نفسی بیدہ ما یخرج منہ الا حق و اشار الی فمہ (۶)
ترجمہ: جس ذات پاک کی قدرت میں، میری(محمد ﷺ کی) جان ہے اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس دہن (پاک) سے حق کے سواکچھ نکلتا ہی نہیں۔
عزیزانِ گرامی!
ہمارے نزدیک سرکار کی ذات معیارِ حق ہے اور ہمارے نزدیک وہ مقدس ہستیاں بھی معیارِ حق ہیں، جن کو حضور نے مظہر حقانیت بنایا اور فرمایا، عمر وہ ہیں جن کی زبان اور دل پر حق بولتا ہے۔ (۷)
عزیزانِ محترم!
اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات کو بے نقاب کرنے کے لئے اپنے محبوب کو نورانیت عطا فرمائی اور سرکار نے بلا شبہ جو جو حقیقت جس وقت ظاہر کرنا تھی، ظاہر فرماتے گئے۔ کچھ حقیقتیں ایسی تھیں، جن کے ظاہر کرنے کا حکم نہیں تھا، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اشیاء حضور پر منکشف نہیں تھیں۔ حضور پر ہر چیز منکشف تھی۔ اس لئے سرکار اللہ کی بارگاہ میں دعا کیا کرتے تھے
اللّٰہم ارنا حقائق کل اشیاء کما ہی
اے اللہ! تو مجھے تمام اشیاء کی حقیقتیں اسی طرح دکھا دے، جیسے وہ ہیں۔
یہ دعا اللہ نے اپنے حبیب کو تعلیم فرمائی اور آپ نے یہ دعا فرمائی
رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا (پ ۱۶، طٰہٰ، آیت ۱۱۴)
خود ہی دعا کی تعلیم فرمائے اور اس کا حکم دے اور پھر دعا خود ہی قبول نہ فرمائے۔ یہ عجیب فلسفہ ہے۔ سرکار تو مستجاب الدعوات ہیں۔ سرکار کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ العیاذ با اللّٰہ! ارے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تو بڑی شان ہے۔ مومنین کاملین کی بھی دعائیں رد نہیں ہوتیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ
مجھ سے دعا کرو، میں (خدا) قبول کروں گا یعنی تم مانگو میں دوں گا۔

بابافرید گنج شکر کا واقعہ
عزیزانِ گرامی!
ایک مولانا حضرت بابا فرید گنج شکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، حضور! بہت تنگ دست ہوں، دعا فرمائیں یا کچھ عطا فرمائیں۔ بابا صاحب نے مٹی کا ڈھیلا منگوایا ، اس پر تین دفعہ
قل ہو اللّٰہ پڑھ کر دم کیا تو سونا ہو گیا۔ مولانا بہت خوش ہوگئے کہ سونا بھی لے کر جا رہا ہوں اور سونا بنانے کا نسخہ بھی۔ گھر جا کر بیوی سے کہا کہ ہم بابا صاحب سے سونے کے ساتھ سونا بنانے کا نسخہ بھی لائے ہیں۔ وہ بھی بہت خوش ہو گئی۔ چنانچہ انہوں نے سونا بنانے کا کہا تو مولانا نے ڈیڑھ من مٹی جمع کر لی اور رات بھر قل ہو اللّٰہ پڑھ کر پھونک مارتے رہے۔ صبح ہوئی تو چہرہ غبار آلود تھا۔ مولانا کو بہت غصہ آیا۔ بابا فرید گنج شکر کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، حضور! آپ نے ہمارے ساتھ مذاق کیا ہے۔ آپ نے پڑھا تو کچھ اور تھا اور ظاہر قل ہو اللّٰہ کیا۔ میں تو تمام رات قل ہو اللّٰہ پڑھ کر پھونکتا رہا ہوں، وہ مٹی سونا تو سونا، لوہا بھی نہیں بنی اور میرا تو ستیا ناس ہو گیا۔ آپ نے فرمایا، قل ہو اللّٰہ تو وہی ہے مگر بابا فرید کی زبان کہاں سے لاؤ گے۔
میرے آقا! آپ کی عظمتوں پر قربان ہو جاؤں۔ آپ نے اپنی زبانِ مقدس کے انوار و برکات اپنے مقربین کو بھی عطا فرمائے اور یہ وہی مقربین ہیں جن میں بابا فرید گنج شکر بھی شامل ہیں۔
عزیزانِ محترم!
آقائے مدنی تاجدارِ حرم ﷺ نور ہیں۔ سرکار نے فرمایا، اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا اور وہ نور ستر ہزار حجاباتِ عظمت میں تربیت پاتا رہا، پھر وہ نور وہیں حضرت آدم علیہ السلام کی پیشانی میں چمکا۔ آدم علیہ السلام سے وہ نور مبین اصلاب طاہرہ سے ارحام طیبہ میں منتقل ہوتا ہوا حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور والدہ ماجدہ سیدہ طیبہ طاہرہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک پہنچا۔ سید عالمﷺ  اپنی والدہ ماجدہ سیدہ طاہرہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم اقدس سے طلوع ہوئے۔ بارہ ربیع الاول، پیر کا دن اور صبح صادق کا وقت تھا۔ لوگ آپ کی پیدائش کے لئے چھ اور نور تاریخوں کا قول کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے یہ تاریخیں بھی تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں لیکن اہلِ مدینہ کے نزدیک حضور کی ولادتِ با سعادت کا دن بارہ ربیع الاول ہے۔ یہ تعامل اہلِ مدینہ سے ثابت ہے۔ امام مالک اہلِ مدینہ کے تعامل کو بہت بڑی دلیل سمجھتے ہیں۔ ہم حنفی ہو کر یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ معاذ اللہ امام مالک گمراہی پر تھے۔ اختلافی مسائل میں اختلافات ہوا کرتے ہیں مگر یہاں اختلاف کی کوئی گنجائش ہی نہیں کیونکہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ تعامل اہلِ مدینہ کے مطابق بارہ ربیع الاول کو ہی ولادتِ با سعادت کا دن مناتے تھے اور ایصالِ ثواب کے لئے ہدیہ پیش کرتے تھے اور یہ ساری باتیں فتاویٰ عزیزی میں ہیں اور پھر سرکار صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔ اس وقت رات کی ہلکی سی تاریکی اور دن کا ہلکا سا اجالا ہوتا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیدا فرما کر دن اور رات کو شرف بخشا۔ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے برکت عطا فرمائی تو آپ یہ کہیں گے، ایسا وقت تو مغرب کو بھی ہوتا ہے۔ تو میں کہوں گا کہ ٹھیک ہے مگر مغرب کے وقت دن جا رہا ہے اور رات آ رہی ہے یعنی نور جا رہا ہے اور ظلمت آ رہی ہے اور پھر صبح صادق کا وقت کہ رات جا رہی ہے اور دن آ رہا ہے یعنی ظلمت جا رہی ہے اور نور آ رہا ہے اور حضور کا آنا تو ایسا ہی تھا کہ
قَدْ جَآئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ اور نور کے آنے کا وقت ہی وہی موزوں ہوتا ہے جو ظلمت کے جانے کا

وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

پچھلا صفہ                             اگلاصفحہ

ہوم پیج