عرفانِ ربانی کی ناطق دلیل
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم ط


٭ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ط (سورۃ توبہ آیت ۳۳)
ترجمہ٭ وہوہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ وہ اسے غالب کر دے تمام ادیان پر۔
٭ سب سے پہلے تو بات یہ ہے کہ
ھُوَ ضمیر ہے یہ اسم ہے اَلَّذِیْ اسم موصول ہے لیکن یہ بھی اسم ہے۔ یاد رکھیے کہ ضمیر ہو یا موصول یہ دونوں اسم مبہم ہوتے ہیں۔ ان میں پوشیدگی ہوتی ہے۔
٭
ھُوَ (وہ) اب آپ کو کوئی پتہ نہ چلا کہ کون سی ذات۔تو ضمیر میں بھی ابہام ہوتا ہے اور موصول میں بھی ابہام ہوتا ہے۔ ضمیر کا ابہام مرجع سے دور ہوتا ہے جدھر ضمیر لوٹتی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ مرجعِ ضمیر سے ضمیر کا ابہام دور ہو گا۔ مثلاً میں کہوں کہ زید (مرجع) آیا اور اس (ضمیر)نے کہااس نے یہ لفظ اس ضمیر ہے اب اس کا مرجع کیا ہے؟ زید ہے۔جب تک زید نہ ہو ضمیر کا پتہ نہیں چلتا اور اس کی پوشیدگی دور نہیں ہوتی۔ تو معلوم ہوا کہ ضمیر کی پوشیدگی مرجع سے دور ہوتی ہے اور اسم موصول میں جو ابہام اور پوشیدگی ہے وہ صِلے سے دور ہوتا ہے۔ صِلہ اسم موصول کے ابہام کو دور کرنے کے لئے ہے اور مرجع ضمیر کی پوشیدگی کو دور کرنے کے لئے ہوتا ہے۔
٭ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
ھُوَ الَّذِیْ ھُوَ ضمیر اَلَّذِیْاسم موصول۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں اسم مبہم بیان فرمائے۔ اب پتہ نہیں چلتا کہ ھو کون اور الذی کون۔تو بھئی بات یہ ہے کہ موصول کا ابہام صلے سے دور ہوتا ہے اور وہ موصول کہ ضمیر کا مصداق بھی وہی ہے۔ تو جب اس کا ابہام دور ہوگا تو ضمیر کا ابہام خود بخود دور ہو جائے گا۔
٭ ارشاد ہوتا ہے
اَلَّذِیْ یہ اَلَّذِیْ اسم موصول ہے اور اس کا صلہ ہے اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ اللہ وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا مقصد کیا ہے کہ جس طرح موصول کا ابہام صلے کے بغیر دور نہیں ہوتا، جس طرح ضمیر کا ابہام مرجع کے بغیر دور نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی معرفت میں تمہیں جو ابہام پڑ گیا ہے، وہ رسول کے بغیر دور نہیں ہوگا۔ مرجع کے بغیر ضمیر نہیں پہچانی جاتی۔ صلہ کے بغیر موصول کا پتہ نہیں چلتا اور رسول کے بغیر خدا کا پتہ نہیں چلتا۔ آپ کہیں گے کہ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ رسول کے بغیر خدا کا پتہ نہیں چلتا۔ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیَاتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ط (س آل عمران آیت ۱۹۰)
ترجمہ٭ بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اہل عقول کے لئے نشانیاں ہیں۔
٭ امورکائنات کا ہر ذرہ خدا کی قدرت کا نشان ہے اور نشان سے اگر پتہ نہ چلے تو وہ نشان کا ہے کا۔ تو آپ نے یہ کیسے کہہ دیا کہ رسول کے بغیر خدا کا پتہ نہیں چلتا۔ گھاس کا ایک تنکا بھی خدا تعالیٰ کی قدرت کا نشان ہے۔ چاند، سورج، یہ دن رات کی گردشیں، ہوائیں، سمندر، پہاڑ، نباتات، جمادات، موالید، عناصر، معانی، اعراض، جواہر اور جملہ کائنات کا ایک ایک ذرہ خدا کی قدرت خدا کی معرفت کا نشان ہے۔ اور نشان وہ ہوتا ہے جس سے کسی کا پتہ چلتا ہے ہم چاند کو دیکھتے ہیں ہمیں خدا کا پتہ چل جاتا ہے، ہر مصنوع سے صانع کا پتہ چلتا ہے۔ ہر مخلوق سے خالق کا پتہ چلتا ہے تو تم کیسے کہتے ہو کہ رسول کے بغیر خدا کا پتہ نہیں چلتا یہ بات تو سمجھ میں نہیں آتی۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ کائنات کا ہر ذرہ خدا کی معرفت کا نشان ہے۔
آمَنَّا وَصَدَّقْنَا۔ قرآن کہتا ہے۔
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَابِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآئِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ط(سورۃ البقرۃ آیت ۱۶۴)
ترجمہ٭ بے شک آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کی گردش میں اور جہازوں میں جو چلتے ہیں سمندر میں وہ چیزیں اٹھائے ہوئے جو نفع پہنچاتی ہیں لوگوں کو اور جو اُتارا اللہ نے بادلوں سے پانی پھر زندہ کیا اس کے ساتھ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد اور پھیلا دیئے اس میں ہر قسم کے جانور اور ہواؤں کے بدلتے رہنے میں اور بادل میں جو حکم کا پابند ہو کر آسمان اور زمین کے درمیان (لٹکتا رہتا) ہے ( ان سب میں ) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں۔،،
٭ اور نشانی وہی ہوتی ہے جس سے کسی چیز کا پتہ چلتا ہو۔ تو نشانی نشان والے کے لئے دلیل ہیء سورج کی دھوپ سورج کے لئے دلیل ہے، چاند کی چاندنی چاند کے لئے دلیل ہے۔ تو کائنات کا ایک ایک ذرہ خدا کی ہستی کی دلیل، اس کی قدرت اور صفت کا نشان ہے لیکن دلیلیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک خاموش دلیل اور ایک ناطق دلیل ۔
٭ کائنات کا ہر ذرہ خدا کی ذات کی دلیل اور خدا کی ہستی کا نشان ہے لیکن یہ وہ نشان اور وہ دلیلیں ہیں جو خاموش ہیں۔ یہاں تک کہ لوگوں نے ان دلیلوں کو دعویٰ بنا دیا تب بھی یہ دلیلیں خاموش رہیں۔ کیا چاند نے اپنے پوجنے والوں کو کہا کہ بے وقوفو تم مجھے پوجتے ہو میں تو دلیل ہوں تم دعویٰ کو تسلیم کرو اور دعویٰ کو پوجو، تو بھئی چاند کبھی نہیں بولا، سورج نہیں بولا، پتھروں کو لوگوں نے پوجا پتھر نہیں بولے، آگ کو پوجا، درختوں اور جانوروں کو پوجا یہ نہ بولے یہ سب دلیلیں تو تھیں مگر خاموش دلیلیں تھیں لوگ پوجتے رہے یہ خاموش رہیں اور ناطق دلیل تو ایک حضور پر نور محمد مصطفیﷺ کی ذات مقدسہ ہے اور یقین کیجئے کہ میرے آقا میرے مولا تاجدار مدنی جناب محمد مصطفی ﷺ ایسی ناطق دلیل ہیں کہ جو خاموش دلیل ان کے دامن میں آئی وہ بھی ناطق ہوگئی۔
٭ بتائیے کیا پتھر ناطق ہیں؟ یقینا نہیں، لیکن جب ابو جہل پتھر اپنے ہاتھ میں لایا تو ناطق ہوئے یا نہیں؟ مجھ سے اگر پوچھو تو میں کہوں گا کہ چاند بھی ناطق۱؎ ہوا اور سورج بھی ناطق ہوا۔ مگر نطق ایک ہی قسم کا نہیں ہوتا اور اس کے اندر حکمتیں ہیں۔ اگر چاند سے آواز پیدا ہوتی تو لوگ سمجھتے کہ پتہ نہیں یہ آواز کہاں سے آئی، چاند سے ایسی کوئی آواز پیدا نہیں ہوئی کہ لوگ شبہ میں پڑ جائیں بلکہ چاند کو ایسے ناطق کیا کہ اپنے محبوب کو حکم دیا کہ میرے پیارے تو اپنی انگلی اٹھا دے۔ حضورﷺ نے انگلی اٹھائی اور چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔ ایمان سے کہنا یہ اس کا ناطق ہونا نہیں تھا تو اور کیا تھا؟ چاند نے ناطق ہو کر بتا دیا اگر محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول نہ ہوتے تو میں دو (۲) ٹکڑے کیسے ہو جاتا؟ اگر سورج سے کوئی ایسی کوئی آواز آ جاتی تو لوگ گھبرا جاتے، دھوکے میں پڑ جاتے کہ پتہ نہیں یہ آواز کس کی ہے؟ کہاں سے آئی ہے؟ یہ کیسے یقین ہوتا کہ سورج بول رہا ہے لیکن جب میرے آقا سرور عالم ﷺ نے منزلِ صہبا پر ڈوبے ہوئے سورج کو اشارہ کیا تو حدیث پاک میں آتا ہے
عن اسمآء بنت عمیس ان النبی ﷺ کان یوحی الیہ وراسہ فی حجر علی فلم یصل العصر حتی غربت الشمس فقال رسول اللّٰہ ﷺ اصلیت یا علی قال لافقال اللّٰہم انہ کان فی طاعتک وطاعۃ رسولک فاردد علیہ الشمس قالت اسمآء فرأیتہا غربت ثم رأیتھا طلعت بعد ما غربت ووقفت علی الجبال والارض وذلک بالصھبأ فی خیبر
٭ یعنی حضرت اسماء بنت عمیس ثا سے مروی ہے کہ خیبر میں صہبا کے مقام پر سید دو عالم ﷺ حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کی گود میں سر مبارک رکھ کر آرام فرما رہے تھے اور حضورﷺ پر وحی نازل ہو رہی تھی۔ سورج غروب ہو گیا اور حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ نے ابھی عصر کی نماز نہ پڑھی تھی۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، اے پیارے علی! کیا ابھی نماز نہیں پڑھی؟ حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے عرض کیا، نہیں۔ تو رسول خدا ﷺ نے دعا کی، یا اللہ! پیارے علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھے۔ لہٰذا سورج کو واپس لوٹا دے۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ میں نے سورج کو دیکھا کہ سورج غروب ہو چکا تھا پھر سورج واپس آیا زمین اور پہاڑوں پر دھوپ چمکی۔
٭ کسی نے مجھ سے کہا کہ بھئی تم نے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو رسول اللہﷺ سے بھی بڑھا دیا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ایک نماز قضا ہوئی تو حضور ﷺ نے سورج واپس کر دیا۔ مگر خود حضورﷺ کی نماز قضا ہو گئی تو سورج واپس نہیں آیا۔ کیوں کہ غزوئہ خندق کے موقعہ پر حضورﷺ کی کئی نمازیں قضاء ہو گئیں تو حضورﷺ کی قضا نماز کے لئے تو سورج واپس نہیں آیا لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ایک نماز قضاء ہو گئی تو سورج واپس آ گیا۔ بھئی یہ کیا بات ہوئی، تم نے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو رسول اللہﷺ  سے بڑھا دیا۔
٭ میں نے کہا بھئی یہ بات نہیں کیوں کہ غلاموں کا جو کمال ہوتا ہے وہ غلاموں کا نہیں ہوتا، بلکہ آقاؤں کا ہوتا ہے۔ مولائے کائنات حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم غلام ہیں حضرت محمد رسول اللہﷺ  کے، ان کی قضا نماز کے لئے سورج کا واپس آنا، یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا کمال نہیں بلکہ آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکا کمال ہے
٭ رہا یہ سوال کہ حضورﷺ کی قضا نماز کے لئے سورج واپس کیوں نہ آیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ تمام قیامت تک آنے والے مومنوں کے لئے اسوئہ حسنہ حضورﷺ ہیں قرآن کہتا ہے
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ(سورۃ الاحزاب آیت ۲۱)
٭ اگر حضورﷺ کی قضا نماز کے لئے ڈوبا ہوا سورج واپس آ جاتا تو قیامت تک کے مسلمانوں کی قضاء نماز کے لئے سورج واپس آتا اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہوتا۔ بہرحال مجھے کہنا یہ تھا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی قضا نماز کے لئے میرے آقا حضور پر نور ﷺ نے سورج کو اشارہ فرمایا تو ڈوبا ہوا سورج واپس آ گیا۔
٭ میرے دوستو! یہ ڈوبا ہوا سورج واپس آیا، آپ نے اس کی حقیقت پر غور کیا۔ درحقیقت سورج بھی تو خدا کی دلیل ہے۔ مگر ایسی خاموش دلیل کہ لوگ سورج کو پوجتے رہے۔ اس دلیل کو دعویٰ بناتے رہے۔ مگر سورج کچھ بولا ہی نہیں لیکن حضور سرورِ کائنات ﷺکی یہ شان ہے کہ جو خاموش دلیل حضورﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ میں آئے وہ ناطق ہو جاتی ہے تو سورج نے حضورﷺ کے اشارے پر واپس آ کر گویا یہ نطق کیا کہ اگر حضورﷺ اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ کے سچے رسول نہ ہوتے تو میں اشارے سے کیسے واپس آتا۔
تو پتہ چلا کہ حضورﷺ ناطق دلیل ہیں اور کائنات کا ہر ذرہ اللہ تعالیٰ کی خاموش دلیل ہے اور میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر ناطق دلیل ان چیزوں کو دلیل نہ بتاتی تو ہمیں کیسے پتہ چلتا کہ یہ دلیل ہیں یا نہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے عقلاء ان دلیلوں کو دعویٰ بتاتے رہے تو معلوم ہوا کہ یہ وہ دلیلیں ہیں جو خاموش ہیں لیکن فرمایا اے میرے حبیب ﷺ ان کا دلیل ہونا بھی تو تیرا رہینِ منت ہے تو نے اپنی زبانِ نبوت سے فرمایا کہ یہ دلیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کی زبان سے کہلوایا
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیاَتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ط (س آل عمران آیت ۱۹۰)
٭ بے شک آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اہل عقول کے لئے نشانیاں ہیں۔
٭ پیارے محبوب! تو خدا کی وہ ناطق دلیل ہے کہ ان دلیلوں کے دلیل ہونے کا نطق بھی تو نے کیا اور یہ خاموش دلیلیں بھی تیری بارگاہ میں آ کر ناطق ہوئیں۔ معلوم ہوا کہ اصل دلیل تو حضورﷺ ہیں اور باقی حضورﷺ کے دامن سے لگ کر دلیل ہوئیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ اصل کے بغیر فرع نہیں ہوتی۔ جب اصل کے بغیر فرع ہوتی نہیں تو کوئی دلیل رسول کے بغیر نہ ہوئی اور دلیل نہ ہو تو دعویٰ کا پتہ نہیں چلتا گویا حضورﷺ نہ ہوتے تو خدا کا پتہ نہ چلتا۔
٭ عزیزانِ گرامی! اتنی بات آپ کو بتا دوں کہ انسانوں نے مظاہر کائنات کو کیوں پوجا؟ انسان کی فطرت میں تو خدا کی محبت تھی اور جس کی محبت تھی اسی کو پوجنا چاہئے تھا۔ یہ کیا کہ فطرت میں تو خدا کی محبت ہے اور پوج رہا ہے چاند اور سورج کو، یہ کیا بات ہوئی؟
٭ عزیزانِ گرامی! یہ دو باتیں ذہن میں یکجا جمع نہیں ہوتیں کہ انسان کے دل میں محبت تو خدا کی ہو اور پوجے غیر خدا کو۔ یہ بات کیا ہے؟
٭ اب پہلا جملہ میں نے کہا کہ انسان کے جوہر فطرت میں محبت تو ہے خدا کی۔ یہ پہلا مقدمہ ہے۔ اس مقدمے کے لئے میں فقط لفظ انسان ہی کو پیش کئے دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ انسان کی فطرت کا جوہر ہے کہ اس میں خدا کی محبت ہے یعنی خدا کی محبت انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ تو بھئی اس کی کیا وجہ ہے؟
٭ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو انسان کہتے ہی اس لئے ہیں کہ وہ
اَنَسَ سے بنا ہے اور اَنَس کے معنی ہیں کہ اس نے محبت کی اور محبت کس سے کی؟ اسی بنانے والے سے محبت کی تو انسان کہتے ہی اس کو ہیں کہ بنانے والے سے محبت اپنی فطرت میں رکھتا ہو بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ انسان کی فطرت کا جوہر ہی خدا کی محبت ہے، خدا کا اُنس ہے کیوں کہ اسی اَنَسَ سے تو وہ بنا ہے اور انس کے معنی ہیں کہ اس نے محبت کی اور اُنس کا ماخذ ہے۔ ا۔ن۔ س۔ اس کا مادہ ہے اور اس کے معنی محبت کے ہیں۔ تو پتہ نہیں چلتا کہ جس کی محبت کا جوہر اس کی فطرت میں ہے اس کی بجائے اس کے غیر کو پوجتا ہے۔
٭ میں نے ایک مرتبہ تقابل ادیان کا مضمون جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں پڑھا۔ یہ سوال میں نے خود کیا اور میں نے کہا کہ بھئی تقابل ادیان میں ایک عنوان وحدت ادیان بھی آتا ہے کہ تمام دینوں کی اصل ایک ہے۔ اختلاف بعد میں ہوئے اور اتنے ہوئے کہ پھر وہ اصولی اختلاف سے بھی آگے بڑھ گئے لیکن درحقیقت دین میں وحدت پائی جاتی ہے۔ دین ایک ہے اور پھر اس کے بعد جو مختلف راہیں ہوئیں وہ بعد کی چیز ہیں۔ تو اس سلسلے میں مَیں نے کہا کہ بعض لوگوں نے وحدت ادیان کا بنیادی نقطہ یہ قرار دیا کہ بھئی جب انسان خدا کی محبت اپنے اندر رکھتا ہے اور خدا کا اُنس اس کی فطرت میں ہے تو اب یہ مان لو کہ کوئی چاند کو پوجتا ہے تو وہ خدا ہی کو پوجتا ہے۔ اگر کوئی سورج کو پوجتا ہے تو وہ بھی خدا کو پوج رہا ہے۔ یہ دین جو الگ الگ ہیں یہ سب ایک ہی ہیں۔ چاند یا سورج کو پوجنے والا ہو، آگ یا پانی کو پوجنے والا ہو، یہ سب ایک ہی خدا کے پجاری ہیں جو ان تمام کا خالق ہے اور اسی کی محبت سب کے دل میں ہے، لہٰذا خواہ ظاہری صورت میں کوئی کسی کی پوجا کررہا ہو مگر ہم یہی سمجھتے ہیں کہ یہ خدا کی پوجا کر رہے ہیں۔
٭ میں نے کہا کہ بھئی یہ بڑی خطرناک بات ہے۔ اس شبہ کا ازالہ لوگوں کے ذہنوں سے نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ اس تصویر کا دوسرا رُخ میں آپ حضرات کے سامنے پیش نہ کر دوں۔ یہ شبہ بڑا قوی ہے۔ لوگ اس میں مبتلا ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ بھئی کوئی خدا کو پوجے ، کوئی رام کہے، کوئی رحیم کہے، کوئی اللہ کہے، کوئی گاڈ (GOD) کہے، بات ایک ہی ہے۔ وہ اگر مندر میں جاتے ہیں تو تم مسجد میں جاتے ہو۔ ان کا بھی ایک گھر مخصوص ہے۔ تمہارا بھی گھر مخصوص ہے۔ وہ اپنے آگے مورتی کو رکھتے ہیں تو تم اپنے آگے خانہ کعبہ کو رکھتے ہو، اس کے بغیر تمہاری نماز نہیں ہوتی تو آخر خانہ کعبہ بھی تو پتھروں کا بنا ہوا ہے اور کیا ہے؟ کسی نے اپنے آگے پتھر کو رکھ لیا، کوئی اور چیز کو اپنے آگے رکھ کر عبادت کرتا ہے۔ لہٰذا سب آپس کے جھگڑے ختم کرو، اسلام، یہودیت، عیسائیت، مجوسیّت، بت پرستی، دہریت وغیرہ یہ کوئی چیز نہیں جو دہر کو پوج رہے ہیں اصل مراد ان کی بھی یہی ہے کہ کوئی ایسی مخفی طاقت ہے جو درحقیقت مو ٔ ثر ہے۔ وہ اس کو دہر کہتے ہیں۔ تم اس کو اللہ کہتے ہو۔ کوئی اس کو گاڈ (GOD) کہتا ہے۔ کوئی رام کہتا ہے۔ کوئی رحیم کہتا ہے۔ لہٰذا سب ایک ہی ہیں۔ یہ شبہ بڑا قوی ہے۔ میں اس کا ازالہ کرنے کے لئے تصویر کا دوسرا رُخ پیش کرتا ہوں۔
٭ تصویر کا دوسرا ر ُخ یہ ہے کہ یہاں تک تو میں بھی متفق ہوں کہ خواہ کوئی چاند کو پوجنے والا ہو یا سورج کو، گائے کو پوجے یا پیپل کو، پتھر کو پوجے یا درخت کو۔ اتنا تو میں بھی جانتا ہوں کہ ان تمام کی پوجا کرنے کا سبب ایک ہی ہے کہ ہر پوجا کرنے والا اپنی اندر کی جوہری فطرت کی بنا پر مجبور ہے کہ جس اللہ اور جس رب کی محبت کا جوہر اس کی فطرت میں ہے، اس کی محبت کا جوہر اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ جس کی محبت میں تڑپ رہا ہے اس کو تلاش کر کے اسے پالے۔ کیوں کہ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب مل جائے۔ یہاں تک تو میں کہہ سکتا ہوں کہ چاند کو پوجنے والے مندر میں جانے والے اور مسجد میں جانے والے کسی ایک ہستی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں اور اس لئے تلاش کر رہے ہیں کہ خدا کی محبت کا جوہر ہر فطرت میں موجود ہے اور جب کسی کے دل میں محبت ہو تو ہر محبت والے کو محبت مجبور کرتی ہے کہ محبوب کو تلاش کرے۔
٭ اتنی بات تو آپ سب جانتے ہیں کہ عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ نے سب روحوں کو فرمایا کہ
اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ کیا میں تمہارا رب نہیں؟ تو سب نے کہا، کیوں نہیں! تو ہمارا رب ہے، سب سے پہلے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف فرمایا اور پھر تمام رسولوں نے، نبیوں نے، صدیقوں نے، شہیدوں نے، صالحین نے، اغواث نے، اقطاب نے، ابدال نے، ندباء نے، نقباء نے، تمام معصومین نے، مومنین نے، مومنات نے، عارفین نے، عارفات نے، سالکین نے، سالکات نے، سب نے کہا بلٰی پہلے بلٰی کا نعرہ حضورﷺ نے لگایا۔ ۱؎ پھر حضورﷺکے نعرے پر سب نے بلٰی کا نعرہ لگایا اور سب نے کہا کیوں نہیں ضرور تو ہمارا رب ہے اور جب یہ جسم یہاں آیا اور روح اس میں آئی تو روح نے کہا کہ جس کی ربوبیت کا میں نے وہاں اقرار کیا تھا وہ ہے کہاں؟
٭ اب کسی نے چاند کی طرف نظر اٹھا کر تلاش کیا، کسی نے سورج کی طرف نظر اٹھا کے تلاش کیا، کسی نے عناصر میں تلاش کیا، کسی نے پہاڑوں میں تلاش کیا۔ م!
٭ بس محبت ہے جو اس کو لئے پھرتی ہے جو کبھی آسمانوں کی جستجو کراتی ہے، کبھی زمینوں کی جستجو کراتی ہے، کبھی پانی کی جستجو کراتی ہے اور مجبور کرتی ہے کہ تلاش کرو اس محبوب کو جس کی ربوبیت کا اعتراف کیا ہے۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ محبت تو مجبور کرے گی کہ محبوب کی تلاش کرو لیکن کامیابی ضروری نہیں۔ کامیابی جب ہی ہو گی جب تلاش کا ذریعہ صحیح ہو گا اور اگر تلاش کا ذریعہ غلط ہے تو تلاش جاری رہے مگر کامیابی نہیں ہوگی۔
٭ ایک مثال سنئے کہ ایک پیالی میں چائے رکھی ہے اور آپ کو معلوم نہیں کہ اس میں چینی ہے یا نہیں تو آپ اس کو دیکھتے رہیں تو کیا آپ کو معلوم ہو گا کہ اس میں چینی ہے؟ بالکل معلوم نہیں ہوگا۔ آپ اپنے کان میں ڈالیں کہ شاید چینی کی آواز کان میں آ جائے تو آپ کو پتہ نہیں چلے گا۔ آپ اس میں انگلی ڈال کر دیکھتے رہیں کہ بھئی شاید انگلی کو پتہ چل جائے کہ چینی ہے یا نہیں۔ ہزار برس گزر جائیں تلاش جاری رہے گی مگر کامیابی نہیں ہو گی۔ کامیابی اس وقت ہو گی، جب آپ ایک گھونٹ چائے پئیں گے۔ وہ گھونٹ قوتِ ذائقہ سے مس ہو گا تو قوت ذائقہ بتا دے گی کہ چینی ہے یا نہیں تلاش کا ذریعہ اگر غلط ہو گا تو تلاش جاری رہے گی مگر کامیابی نہیں ہو گی۔
٭ میرے عزیزو! ہر انسان اپنی فطرت میں خدا کی محبت کا جوہر لے کر آیا ہے۔ وحدت ادیان کے فلسفہ سے یہاں تک تو میں متفق ہوں۔
٭ ہر انسان اسی محبت کے فطری تقاضے کی بنا پر اس رب کو تلاش کر رہا ہے کہ جس کو
بلٰی کہہ کر رب مانا ہے، وہ کہاں ہے تو تلاش کا ذریعہ جس نے عقل کو بنایا وہ دہریہ ہو گئے اور جس نے حواس کو ذریعہ بنایا وہ مظاہر پرست ہو گئے۔
٭ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عقل بھی ذریعہ نہیں ہو سکتی، ہاں عقل سے تم میری معرفت کے لئے مدد لے سکتے ہو اور حواس سے بھی تم میری معرفت کے لئے مدد لے سکتے ہو مگر حواس پر بھروسہ نہیں کر سکتے کیوں کہ یہ ناقص ہیں۔ عقل سے تم کام لے سکتے ہو لیکن اس عقل پر تم بھروسہ نہ کرو، کیوں کہ یہ عقل، عقل نا تمام ہے۔
٭ ارے میں کامل ہوں، عقل ناقص ہے، میں لامتناہی ہوں، حواس متناہی ہیں، میں لامحدود ہوں۔ اب اگر تم لا محدود کو تلاش کرنے کا ذریعہ محدود کو بنا لو اور لا متناہی کو تلاش کرنے کا ذریعہ متناہی کو بنا لو اور کامل کے لئے ناقص کو ذریعہ بنا لو تو کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کامیاب وہ ہو گا جس نے صحیح ذریعہ کو اختیار کیا اور وہ ناکام ہو گا جس نے غلط ذریعہ کو اختیار کیا۔ بس اسی دوسرے رخ کو سامنے رکھ لو اور اس اعتراض کا جواب سمجھ لو۔ اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کا جواب دیا ہے اور فرمایا
ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی
٭ مظاہر کائنات کو دیکھو اور ان سے کام لو، ان کو میرے محبوب کی زبان نے دلیل قرار دیا لیکن یاد رکھو کہ اگر تم نے تلاش کرنی ہے تو ان غلط ذریعوں کے اوپر اعتماد نہ کرو۔ میرے تلاش کرنے کا ذریعہ تمہارے حواس نہیں۔ میں حواس میں نہیں سما سکتا۔ میں تمہاری عقل کے دائرے میں محدود نہیں ہوسکتا۔ اگر مجھے تلاش کرنا ہے اور مجھے پانا ہے تو نہ میں حواس کی دنیا میں ملوں گا نہ میں عقل کی دنیا میں ملوں گا۔ اگر ملوں گا تو محمد مصطفیٰ ﷺکے واسطے سے ملوں گا۔
٭ خدا کی قسم! جس نے محمد مصطفیٰﷺ کو چھوڑ دیا۔ اس نے خدا تعالیٰ کو کبھی نہ پایا اور میں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ خدا کو تلاش کرنے کا کامیاب ذریعہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پاک ہے اور محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچنے کا ذریعہ اولیاء اللہ کی ذواتِ قدسیہ ہیں۔ اولیاء اللہ سے ہٹ کر محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچنا محال ہے اور محمد مصطفیٰ ﷺ سے ہٹ کر خدا تک پہنچنا محال ہے۔

وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْن

 


انسانیت کا مرکز توحید اور وسیلۂ رسالت ہے
٭ اقوامِ عالم کی تہذیب و تمدن اور معاشرے میں اصولی اور بنیادی اختلافات کی سب سے بڑی وجہ توحید باری کے عقیدے میں اختلاف کا پایا جانا ہے۔ بنی نوعِ انسان کو ایک مرکز پر لانے کا کوئی طریقہ اس سے بہتر نہیں ہوسکتا کہ انہیں معبود واحد کی وحدانیت کے اعتقادی مرکز پر جمع کردیا جائے لیکن فطرتِ انسانی محض عقل کی روشنی میں اس مرکزِ وحدت تک پہنچنے میں کسی ایسی دلیل کی محتاج تھی جو صحیح معنیٰ میں اسے منزلِ مقصود تک پہنچادے اور تمام بنی نوع انسان کے لئے ایسی کامل اور قطعی دلیل حضرت محمد رسول اللہﷺ  کی ذاتِ گرامی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ رسالت توحید کی دلیل ہے اور اس میں شک نہیں کہ کلمہ طیبہ
لا الہ الا اللہ دعویٰ ہے اور محمد رسول اللہ اس کی دلیل ہے اور اس دلیل کو دعویٰ سے اتنا قرب ہے کہ دونوں کے درمیان واؤ عاطفہ تک کی گنجائش نہیں معلوم ہوا کہ قربِ الٰہی کا ذریعہ صرف قربِ مصطفائی ہے اور توحید کا وسیلہ رسالت ہے۔ ؎

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ اونہ رسیدی تمام بولہبی است
(اقبال)

از علامہ احمد سعید کاظمی مدظلہٗ
(ماہنامہ السعید ملتان ش مئی جون ۱۹۶۴ء)
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج