توحید اور شرک

خدا کی وحدانیت
اللہ تعالیٰ کی ذات ایک ہے، اس کا موجو د ہونا اور ایک ہونا ایسا ہے کہ جاہلیت زدہ لوگوں کو اس کی تفصیل کی ضرورت ہو تو ہو، ورنہ اس دور میں سلیم الفطرت انسان کے لئے محض اس مسئلہ کی طرف توجہ دلانا ہی کافی ہے۔
٭ عربی کا مشہور مقولہ ہے
الاشیاء تعرف باضدادھا یعنی ہر چیز اپنی ضد کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے، مثلاً راحت کا ادراک وہی کرسکتا ہے جو کبھی پریشان ہوا ہو، جس نے کبھی رنج وغم نہ پایا ہو وہ راحت کی لذت سے آشنا نہیں ہوسکتا۔ دن کا اندازہ رات کے بغیر نہیں لگایا جاسکتا، اسی طرح ظلمت کے بغیر نور کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور یہی وجہ ہے کہ باطل کا تصور اگر کسی کے سامنے نہ ہو تو وہ حق کی لذتوں سے آشنا نہیں ہو سکتا، اسی طرح جو یہ نہ سمجھے کہ شرک کسے کہتے ہیں ، وہ توحید کو نہیں جان سکتا ، جس طرح حق کی پہچان باطل کے تصور سے ہوتی ہے ، اسی طرح یقیناً توحید کا صحیح ادراک بھی تب ہوگا جب ہم سمجھیں کہ شرک کسے کہتے ہیں۔
٭ ﷲ تعالیٰ نے توحید اور شرک کے حالات کو واضح طور پر بیان کیا اور لادینی کے تمام تصورات کو مٹا دیا، لیکن تعجب ہے کہ قرآن کریم کی تصریحات کے باوجود بھی مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوگیا، لیکن یہ چیز الجھی ہوئی ان ہی لوگوں کے لئے ہے جن کے ذہن الجھے ہوئے ہیں۔


توحید کا معنٰی
٭ توحید کا معنی ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کو اس کی ذات اور صفات میں شریک سے پاک ماننا ، یعنی جیسا اللہ ہے ویسا ہم کسی کو اللہ نہ مانیں ، اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کو اللہ تصور کرتا ہے تو وہ ذات میں شرک کرتا ہے۔
٭ علم ، سمع ، بصر وغیرہ اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں اگر ان صفات میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرائیں تو ہم مشرک ہوں گے۔


توحید اور شرک میں فرق
٭ ہمیں توحید کا معنٰی معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے ساتھ ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
٭ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ علم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اگر ہم کسی دوسرے کے لئے علم ثابت کریں تو کیا یہ شرک ہوگا؟ سمیع و بصیر اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں ، اگر ہم کسی دوسرے کے لئے سننے اور دیکھنے کی صفات ثابت کردیں تو کیا یہ بھی شرک ہوگا؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے لئے صفت حیات ثابت ہے، اگر ہم کسی دوسرے کو حیات کی صفت کا حامل کہیں تو کیا ہم مشرک ہوں گے؟۔
٭ اللہ تعالیٰ کی حیات اور انسانی حیات۔ اللہ تعالیٰ کی حیات پر تو سب کا ایمان ہے اور جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے صفت حیات دی ہے وہ سب اس صفت کے حامل ہیں ، پس ہم نے اپنے لئے بھی حیات کی صفت کو جانا اور اللہ تعالیٰ کے لئے بھی صفت حیات کو مانا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جو حیات ہم اللہ تعالیٰ کے لئے مانتے ہیں وہ حیات نہ ہم اپنے لئے مانتے ہیں نہ کسی اور کے لئے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیں زندگی دینے والا ہے، اللہ تعالیٰ کو کوئی حیات دینے والا نہیں ، ہماری حیات عارضی ہے اس کی دی ہوئی ہے، محدود اور فانی ہے، اللہ تعالیٰ کی حیات عارضی نہیں ، عطائی نہیں اور محدود بھی نہیں ، پس جب معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی حیات باقی ہے اور ہماری فانی ، تو شرک ختم ہوگیا ، یہی تصورات تمام مسائل میں پیش کرتے چلے جائیے بات واضح ہوجاتی ہے۔


قدرت خداوندی اور اختیار انسانی
٭ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندرکوئی قوت پیدا نہیں کی ؟ اگر نہیں کی تو پھر پتھر اور انسان میں کیا فرق ہوگا؟۔
٭ اللہ تعالیٰ قادر ومختار ہے اور انسان کی وہ قدرت اور اختیار جو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے اندر پیدا کی ، اس کی وجہ سے انسان بھی مختار ہوا کہ نہیں ؟ تو پھر اللہ بھی مختار اور بندہ بھی مختار، یہ کیا ہوا؟ سنیئے ! اللہ تعالیٰ مختار ہونے میں محتاج نہیں ، اللہ تعالیٰ کو اختیار کسی سے عطا نہیں ہوا بلکہ ذاتی ہے اور بندہ مختار ہونے میں محتاج ہے۔


علم ایزدی اور علم انسانی
٭ علم انسانیت کا زیور ہے، لیکن علم تو خدا کی صفت ہے ، تو کیا یہ شرک ہوگا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو علم اللہ تعالیٰ کا ہے وہ بندے کا نہیں ، اللہ تعالیٰ کا علم اپنا ہے ، اور ہمارا علم اُسی کا عطا کردہ ہے۔
٭ اسی طرح اللہ تعالیٰ سمیع وبصیر ہے اور فرماتا ہے ہم نے انسان کو سمیع وبصیریعنی سننے اور دیکھنے والا بنایا ، تو اللہ تعالیٰ کی یہ تمام صفات بے نیاز و غنی ہوکر ہیں اور بندوں کی یہ صفات اُس کے حاجت مند اور نیاز مند ہوکر ہیں ، کیونکہ انہیں یہ صفات رب نے دیں اور وہ خود اور اس کی صفات رب کے قبضہ اور قدرت میں ہیں ، الوہیت اور عبدیت کے درمیان یہی فرق ہے۔
٭ اب شرک کا مطلب واضح ہوگیا کہ جو صفات اللہ تعالیٰ کی اپنی ہیں یعنی کسی کی عطا کردہ نہیں ، وہی کسی اور کے لئے ثابت کرنا شرک ہے ، اور اُن صفات سے شرک لازم نہیں آتا جو اللہ تعالیٰ نے کسی کو بخشی ہیں ، اگر انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صفات نہ بخشی ہوں تو پھر نہ کوئی سننے والا ہو ، نہ دیکھنے والا ، نہ زندہ ہو، نہ کوئی علم والا ہو، پس ہم یہی کہیں گے کہ جو صفات اللہ تعالیٰ کی ہیں وہ بندے کی نہیں ہوسکتیں ، اللہ تعالیٰ کی صفات ازلی و ابدی ہیں ، بندے کی عارضی ہیں ، اللہ تعالیٰ کے کمالات بغیر کسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں ، اور انسان کے کمالات اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے ہیں ۔
٭ اگر ہم کسی کے لئے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت اور اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ اختیار مانیں، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سمع وبصر مانیں تو شرک نہیں ، کیونکہ جب عطا کا تصور آیا تو شرک کی نفی ہوگئی۔


ایک سوال
٭ لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوگیا ، آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیز کا تصور آگیا تو شرک ختم ہوگیا ، حالانکہ یہ بات نہیں کیونکہ مشرکین بتوں کی پوجا کرتے تھے ، اُن سے پوچھا گیا کہ تم جو بتوں کی پوجا کرتے ہو تو ان کو کس نے پید اکیا ؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
ولئن سأ لتھم من خلقھم لیقولن اللہ فانی یؤ فکون(سورۃ زخرف ، آیت ۸۷) ترجمہ ۔ اور اگر اے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ ان سے پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے پھر وہ کہاں اوندھے بہکے جاتے ہیں۔
٭ معلوم ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے کے تصور کو مان لینے سے مقصد پورا نہ ہوا اور محض مخلوق کا تصور کرنا شرک سے بچنے کے لئے کافی نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص صفات میں کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرانا اور یہ ماننا کہ خدا کی ہر صفت اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے ، بھی ضروری ہے۔
٭ مشرکین کا اعتقاد۔ یہ درست ہے کہ مشرکوں نے اپنے باطل معبودوں کو مخلوق مانا ، لیکن جب مان لیا تو ان کو تسلیم کرنا چاہئیے تھا کہ مخلوق خالق کی محتاج ہے اور خالق کے وجود کے بغیر مخلوق کا وجود نہیں ہو سکتا اور مخلوق جس طرح پیدائش میں خالق کی محتاج ہے اسی طرح موت کے لئے بھی اسی کی محتاج ہے ، یہ اعتقاد ضروری تھا لیکن ان مشرکین نے کہا ! یہ ٹھیک ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا لیکن پیدا کرنے کے بعد اُن کو الوہیت دے دی ، لہذا اب اللہ تعالیٰ کوئی کام نہ کرے اور یہ کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اب ان کو اپنے حکم میں نہیں رکھا اور استقلال کی صفت ان کو دے دی کہ میرا حکم نہ بھی ہو تو تم کام کرسکتے ہو، یہ تھا ان جاہلوں کا اعتقاد ، حالانکہ ان کو سمجھنا چاہئیے تھا کہ جو چیز مخلوق ہے وہ مستقل نہیں ہوسکتی۔


الوھیت عطائی نہیں ہوسکتی
٭ اللہ تعالیٰ سب کچھ دے سکتا ہے مگر الوہیت نہیں دے سکتا، کیوں کہ الوہیت مستقل ہے اور عطائی چیز مستقل نہیں ہوسکتی، الوہیت استقلال ہی کے معنی میں ہے، لیکن مشرکین کا تصور یہ تھا کہ ، انہوں نے کہا کہ لات و منات وغیرہ ایسے زاہد وعابد لوگ تھے کہ اللہ نے کہا تمہاری عبادت کمال کو پہنچ گئی ، اب میں تم پر یہ عنایت کرتا ہوں کہ تم آزاد ہو، میں تم پر نہ کچھ فرض کرتا ہوں اور نہ کوئی پابندی لگاتا ہوں ، پس اس طرح انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے تمام معبودوں کو الوہیت دے دی۔
٭ جس شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو وصف الوہیت عطا فرمادیا ہے ، وہ مشرک اور ملحد ہے، مشرکین اور مومنین کے مابین بنیادی فرق یہی ہے کہ وہ غیر اللہ کے لئے عطائے الوہیت کے قائل تھے اور مومنین کسی مقرب سے مقرب ترین حتیٰ کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بھی الوہیت اور غنائے ذاتی کے قائل نہیں۔


ہر کام باذن اللہ عین توحید ہے
٭ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے!
٭
من ذالذی یشفع عندہٗ الا باذنہٖ(ترجمہ) کون ہے جو شفاعت کرے بغیر اذن خداوندی کے۔ پتہ چلا کہ بغیر اذن خدا وندی کے شفاعت کا اعتقاد شرک ہے ، اور اذن کے ساتھ عین توحید ہے ، پس جب یہ عقیدہ آیا کہ فلاں شخص اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی حاجت پوری کرسکتا ہے تو شرک ہے اور جب اذنِ الٰہی کا عقیدہ آیا تو شرک ختم۔


حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کا زندہ کرنا
٭ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب قوم کے سامنے تعلیم رسالت پیش کی تو انہوں نے کہا!
وما اُبری الاکمہ والابرص واحی الموتیٰ باذن اللہ(سورہ آل عمران، آیت۴۹ )
ترجمہ۔اور اچھا کرتا ہوں اندھے اور کوڑھی کو اور مردے کو زندہ کرتا ہوں اللہ کے حکم سے۔
٭ اب دیکھئے شفاء دینا اور مردے کو زندہ کرنا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے ، اس لحاظ سے توحضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے کاموں کا دعویٰ کیا ، لیکن آپ آگے فرماتے ہیں
باذن اللہ یعنی میں جو کچھ کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کے اذن سے کرتا ہوں، پس جہاں اذن الٰہی آجائے تو شرک چلا جاتا ہے اور جہاں اذن گیا توحید بھی گئی ، یہی اذن الٰہی ہونا اور نہ ہونا توحید اور شرک کا بنیادی نکتہ ہے۔


ایک شبہ کا ازالہ
٭ اگر آج کوئی یہ کہے کہ میں مادر زاد اندھوں کواللہ کے اذن سے اچھا کردوں گا اور حالانکہ اسے اذن نہیں دیا گیا ، تو اس کا یہ کہنا شرک تو نہ ہوگا کیوں کہ اُس نے خود اچھا کرنے کا دعویٰ نہیں کیا ، بلکہ باذن اللہ کہا، لیکن بغیر اذن کے اذن کہنا اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنا ہے، اور یہ خدا پر بہتان باندھنے والا جھوٹا کہلا سکتا ہے، اسے ہم کافر تو کہہ سکتے ہیں لیکن مشرک نہیں کہہ سکتے۔
٭ اب اگر کوئی اولیاء اللہ کو باذن اللہ حاجت روا کہے تو شرک تو ختم ہوگیا ، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے ان کو اذن دیا ہے؟ اگر اذن دیا تو اس کی کیا دلیل ہے؟ ۔
٭ اس سوال میں مشرکین تو دونوں طرح سے پٹ گئے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر بتوں کو حاجت روا مانا ، دوسرا یہ کہ اگر وہ اذن کے ساتھ حاجت روا مانتے بھی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اذن دیا نہ تھا تو اس طرح بھی پٹ گئے، ایک تو یہ کہ وہ حاجت روائی کے اہل نہ تھے اور ان کو حاجت روا مانا ، دوسرا یہ کہ اذن الٰہی کا محتاج بھی نہ مانا ، پس وہ کفر میں بھی مبتلا ہوئے اور شرک میں بھی۔
٭ اب آئیے مومنین کی طرف کہ وہ شرک سے پاک ہیں کہ ان کے پاس باذن اللہ کا ثبوت ہے اور وہ باذن اللہ حاجت روا مانتے ہیں ، دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی اللہ نے ان کو اذن دیا ہے؟ ، اب خطرہ یہ ہے کہ ان پر کفر ثابت نہ ہوجائے ، کیونکہ کفر بھی تو مصیبت ہے، ہم نے یہ بتانا ہے کہ ہمارے اعتقاد میں نہ شرک کا شائبہ ہے اور نہ ہی کفر کا۔
٭ لیکن اس سے پہلے ایک بنیادی بات کہہ دوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو شرف انسانیت عطا فرمایا ہے ، اس کے متعلق چند چیزیں قرآن وحدیث کی روشنی میں سامنے لائیں تو بات بالکل واضح ہوجائے گی۔


مقصدِ تخلیق انسان
٭ ﷲ تعالیٰ نے ہر چیز کو کسی نہ کسی کام کے لئے پیدا کیا ہے ، سورج اپنا کام کرتا ہے، درخت اپنا کام کرتے ہیں ، پانی ، ہوا اپنا کام کررہے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ، اس کا بھی تو کوئی کام ہو گا، اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا !
وماخلقت الجن والانس الا لیعبد ون۔
ترجمہ۔ہم نے جنوں اور انسانوں کو عبادت کے لئے ہی پیدا کیا ۔
٭ عبادت تب ہوتی ہے جب معرفت ہو، پس اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی معرفت کے لئے پیدا کیا، اب خدا کی معرفت کا مفاد کیا ہے ؟، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کو کوئی جس قدر پہچانتا جائے گا یعنی جتنی معرفت ہوتی جائے گی اسی قدر اللہ کا قرب اس کے نزدیک بڑھتا جائے گا، معلوم ہوا کہ انسان کا مقصدِ حیات خدا کی معرفت ہے، اور معرفت کا نتیجہ قرب ہے، تو یوں کہیئے کہ قرب الٰہی انسانیت کا کمال ہوا ، اب اس کمال کو ذرا تفصیل کی روشنی میں دیکھیں تو تمام مسائل حل ہو جائیں۔ آئیے اس قرب کے مفہوم ، قرب کے انجام اور قرب کے معنی کو دلائل شرعیہ میں تلاش کریں۔


حدیث قدسی
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ تعالیٰ قال من عادیٰ لی ولیا فقد اٰذنتہٗ بالحرب وما تقرب الی عبدی بشی احب الی مما افتر ضت علیہ وما یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احببۃ فاذا احببۃ فکنت سمعہٗ الذی یسمع بہ و بصرہ الذی یبصر بہ و یدہ التی یبطش بھا ورجلہ التی یمشی بھا وان سألنی لا عطینّہ ولئن استعاذنی لاعیذ نہ۔(بخاری شریف ،مطبوعہ مجتبائی ، جلد ۲، ص۹۶۳۔مشکوٰۃ ، مطبوعہ مجیدی کانپور، کتاب الداعوات ، جلد۱)
٭ ترجمہ۔اللہ تعالیٰ نے ( اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس پر) فرمایا کہ جس نے میرے ولی سے عداوت کی میرا اس سے اعلان جنگ ہے اور جن چیزوں کے ذریعے بندہ مجھ سے نزدیک ہوتا ہے ، ان میں سب سے زیاد ہ محبوب چیز میرے نزدیک فرائض ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میری طرف ہمیشہ نزدیکی حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو جب میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو اس کے کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگ کر کسی بُری چیز سے بچنا چاہے تو میں اُسے ضرور بچاتا ہوں۔
٭ بعض لوگ اس حدیث کا یہ معنٰی بیان کرتے ہیں کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے اس کا محبوب بن جاتا ہے تو پھراس کے بعد وہ اپنے کانوں سے کوئی ناجائز بات نہیں سنتا ، اپنی آنکھوں سے خلاف حکم شرع کوئی چیز نہیں دیکھتا، اپنے ہاتھ پاؤں سے خلاف شرع کوئی کام نہیں کرتا۔
٭ حدیث کے یہ معنی بالکل غلط ہیں اور یہ حدیث شریف میں تحریف کرنے کے مترادف ہے ، کیونکہ اس معنی سے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے نزدیکی حاصل کرنے والا بندہ محبوب ہونے کے بعداپنے کسی عضو یا حصہ سے گناہ نہیں کرتا اور اپنے کان، آنکھ، ہاتھ اور پاؤں سے جو کام کرتا ہے وہ سب جائز اور شرع کے مطابق ہوتے ہیں ، لیکن اس معنی کو جب الفاظ حدیث پر پیش کیا جاتا ہے تو حدیث شریف کا کوئی لفظ اس کی تائید نہیں کرتا، کیونکہ ایک معمولی سمجھ والا انسان بھی اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ گناہوں سے بچنے کی وجہ سے تو وہ محبوب بنا ، اگر گناہوں میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی محبوبیت کا مقام حاصل ہو سکتا ہے تو تقویٰ اور پرہیز گاری کی تو پھر ضرورت ہی نہیں رہتی، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے!
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ
ترجمہ۔ آپ فرمائیے (انہیں کہ) اگر تم محبت کرتے ہو اللہ سے تو میری پیروی کرو(تب) محبت فرمانے لگے گا تم سے اللہ ۔
٭ معلوم ہوا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع یعنی تقویٰ اور پرہیز گاری کے بغیر مقامِ محبوبیت ِ خدا وندی کا حصول ناممکن ہے۔
٭ بندہ پہلے بُرے کاموں کو چھوڑتا ہے ، اُن سے توبہ کرتا ہے ، فرائض و نوافل ادا کرتا ہے، تب وہ محبوب ہو جاتا ہے ، محبوب ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ اس بندے کے کان ہوجاتا ہے ، جس سے پھر وہ سنتا ہے ، اللہ اس کی آنکھ ہوجاتا ہے ، جس سے وہ دیکھتا ہے، اللہ اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے ، جس سے وہ پکڑتا ہے ، اللہ اس کے پاؤں ہوجاتا ہے ، جس سے وہ چلتا ہے، یہ سب کچھ محبوب بننے کے بعد ہوتا ہے ، لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ بندہ بُرے کام بھی کرے اور محبوب بھی بن جائے اور بعد میں برے کام چھوڑے۔[۱]
٭ تو بندہ جب اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفت سمع، بصر اور قدرت کے انوار ، بندے کی سمع ، بصر اور قدرت میں ظاہر ہونے لگتے ہیں اور اس طرح یہ مقرب بندہ صفات الٰہیہ کا مظہر بن جاتا ہے ، یعنی یہ بندہ اللہ تعالیٰ کے نور سمع سے سنتا ہے، اسی کے نور بصر سے دیکھتا ہے ا ور اسی کے نور قدرت سے تصرف کرتا ہے، نہ خدا بندے میں حلول کرتا ہے اور نہ بندہ خدا ہوجا تا ہے، بلکہ خدا کا یہ مقرب بندہ مظہر خدا ہو کر کمال انسانیت کے اس مرتبہ پر فائز ہوتا ہے جس کے لئے اس کی تخلیق ہوئی تھی ، اگر آپ غور فرمائیں گے تو آ پ پر واضح ہو جائے گا کہ آیت کریمہ
وما خلقت الجن و الانس الا لیعبد ون کے معنی یہی ہیں جن کا مصداق یہ عبد مقرب ہے، عبادت کے معنی پامالی کے ہیں ، عبد مقرب اپنی انانیت اور صفاتِ بشریت کواپنے رب کی بارگاہ میں پامال یعنی ریاضت و مجاہدہ کے ذریعے ان کو فنا کردیتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس بندے میں اس کی اپنی صفات ِ عبدیت کی بجائے صفاتِ حق متجلی ہوتی ہیں اور انوار صفات الٰہیہ سے وہ بندہ منور ہو جاتا ہے ، جب قرآن سے ثابت ہے کہ درخت سے انی انا اللہ کی آواز آسکتی ہے تو عبدِ مقرب کے لئے کیونکر محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات سمع وبصر کا مظہر نہ ہوسکے۔
٭ علامہ امام فخر الدین رازی رحمتہ اللہ علیہ اسی حدیث قدسی کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں !
وکذلک العبد اذاواظب علی الطاعات بلغ الی المقام الذی یقول اللہ کنت لہ سمعاً و بصراًفاذا صار نور جلال اللہ سمعاً لہ سمع القریب والبعید واذا صار ذلک النور بصرا لہ رای القریب والبعید واذا صار ذلک النور یداً لہ قدر علی التصرف فی الصعب والسھل وابعید والقریب انتھیٰ۔[۲]
ترجمہ۔ اور اسی طرح جب کوئی بند ہ نیکیوں پر ہمیشگی اختیار کر لیتا ہے تو اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے
کنت لہٗ سمعاً وبصراً فرمایا ہے، جب اللہ کے جلال کا نور اس کی سمع ہو جاتا ہے تو وہ دور و نزدیک کی آوازوں کو سن لیتا ہے اور جب یہی نور اس کی بصر ہوگیاتو وہ دور و نزدیک کی چیزوں کو دیکھ لیتا ہے اور جب یہی نور ِ جلال اس کا ہاتھ ہو جائے تو یہ بندہ مشکل اور آسان ، دور اور قریب چیزوں میں تصرف کرنے پر قادر ہو جاتا ہے۔
٭ حدیث قدسی کی شرح میں امام رازی رحمتہ اللہ علیہ نے مقرب بندہ کی شان میں جو کچھ لکھا ہے وہ عبد اور بشر سمجھتے ہوئے لکھا ہے ، جس سے ظاہر ہے کہ اس طرح ان صفاتِ عالیہ کا اس بندہ کے لئے ماننا اس کی عبدیت اور بشریت کے منافی نہیں۔
٭ یہ انسانیت کا کمال ہے کہ بندہ صفاتِ خداوندی کا مظہر ہوجائے ، جب اللہ تعالیٰ کی صفت سمع کی تجلیاں اس کی سمع میں چمکنے لگیں گی تو یہ ہر قریب و بعید کی آواز کو سن لے گا۔یہ اس کی ذاتی صفت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تجلی کا ظل ہے ، عکس ہے اور پرتو ہے، پرتو اور ظل غیر مستقل ہوتا ہے اور پرتو والا مستقل ہوتا ہے۔ پس اصل توحید تو یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کا اتنا قرب حاصل کرے کہ خدا کی صفات کا آئینہ بن جائے۔
٭ امام رازی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بصر کا نور جب اس کی بصر کے صیقل شدہ آئینے میں چمکے گا تو وہ ہر نزدیک اور دور کی چیز کو دیکھ لے گا۔
٭ جب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نور کے جلوے اس کے ہاتھ پاؤں اور دل و دماغ میں ظاہر ہوں گے تو یہ ہر آسان ہر مشکل اور ہر دور ونزدیک کی چیز پر قادر ہوجائے گا، اب بتائیے کہ جب مشکل بندے کی قدرت میں ہوگئی تو مشکل کشا نہیں تو اور کیا ہے؟۔
٭ مگر خوب یاد رکھئیے کہ خدا کا مشکل کشا ہونا ذاتی ہے اور بندے کا مشکل کشاہونا عطائی ہے کیونکہ بندہ اگر کسی کی کوئی مشکل حل کرتا ہے یا حاجت پوری کرتا ہے تو اللہ کی دی ہوئی طاقت و اختیار سے کرتا ہے اور اللہ اذن سے کرتا ہے۔
٭ پس واضح ہو گیا کہ ہمارا یہ عقیدہ شرک کی تمام جڑوں کو کاٹنے والا ہے، اب بتائیے کہ عین توحید کو لوگ شرک کہتے ہیں تو اسلام پھر کیا ہوگا؟۔
٭ پس یہ ادراک، علم سمع اور بصر جو ان مقربینِ بارگاہ الٰہی میں پائے جاتے ہیں اور جن میں دلیل موجود ہے ، ان میں آسان سے آسان کام پر بھی اولیاء اللہ کی قدرت ثابت ہوگئی اور مشکل و بعید چیزوں پر بھی ان کی قدرت ثابت ہو گئی اور یہ دلیل قائم ہو گئی کہ یہ نفع پہنچانے والے ہیں اور بارگاہ رب العالمین میں دعائیں کر کے رب کو راضی کرنے کی صلاحیتیں رکھنے والے ہیں ، ان میں مشکل کشائی کی قدرتیں بھی ہیں ، دور سے دیکھنے کی قدرتیں بھی ہیں اور بعید کی آواز کو بھی سن سکتے ہیں ۔
٭ کفار مکہ تو خدا پر یہ بہتان باندھتے تھے کہ خدا نے ان پتھروں اور بتوں کو اختیار دے رکھا ہے اور اذن دے دیا ہے ، حالانکہ ایسا نہیں تھا ، اور جب ہم نے ان انبیاء و اولیاء پر اذن کی شرط لگائی تو شرک دور ہو گیا اور جب ان کے اختیار کو ثابت کردیا تو کفر بھی جاتا رہا ۔
٭ الحمد ﷲ ، ہم باذن اللہ کا اعتقاد کرکے شرک سے پاک اور انبیاء و اولیاء کے اختیارات ثابت کرکے کفر سے بھی پاک ہیں۔
٭ بعض لوگوں کی یہ عادت ہے کہ جو آیات ِ قرآنی بتوں کے حق میں آئی ہیں، اُن کو مومنوں پر چسپاں کرتے ہیں اور اس طرح بھولے بھالے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔
٭ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما خارجی گروہ کو ساری مخلوق سے بُرا جانتے تھے اور فرمایا ان لوگوں نے اپنا طریقہ یہ بنا لیا ہے کہ جو آیات کفار و مشرکین کے حق میں نازل ہوئیں ہیں ان کو مومنوں پر چسپاں کردیتے ہیں ۔[۳]
٭ کسی محترم دوست نے ایک سوال پوچھا ہے ، مناسب ہے کہ اس کے متعلق چند جملے عرض کردوں تاکہ سابقہ مضمون نامکمل نہ رہے۔
٭ سوال۔ کمال انسانیت کا جو معیار کتاب و سنت کی روشنی میں ہمارے سامنے آیا وہ ٹھیک ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات آئینہ اور مظہر تجلیات ربانی بن جائے ، یہ بات زندگی میں تو ممکن ہے ، لیکن مرنے کے بعد تو وہ صرف مٹی کا ایک ڈھیر ہے ، اس وقت اس کے کمالات کا اعتراف کرنا کہاں مناسب ہے کہ مرنے کے بعد بھی وہ ابھی تک موردِ تجلیات الٰہی ہے اور ابھی تک انسان کامل ہے،، مرنے کے بعد تو یہ بات ختم ہوجانی چاہئیے ، ان کا سننا، دیکھنا، قریب و بعید کی آواز سننا ، نزدیک و دور کی اشیاء کو دیکھنا اور ان پر قدرت رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا مظہر قرار پانا ختم ہو جانا چاہئیے ، کیونکہ جب موت آئی تو تمام کمالات ختم ہوگئے۔
٭ جواب۔یہ بات ذہن میں اس لئے پیدا ہوئی کہ ہم نے انسانیت کے مفہوم کو نہ سمجھا، ہم نے خیال کیا کہ یہ گوشت اور پوست ہی انسان ہے۔
٭ یہ غلط ہے ، یاد رکھئیے کہ یہ مفہوم انسانیت ، حقیقتِ انسانیت نہیں ، حقیقت انسانیت وہ چیز ہے جو مرنے کے بعد بھی زندہ اور باقی رہتی ہے، یہ جسم اور روح جن کا مجموعہ ہمیں انسان نظر آتا ہے ، ان دونوں میں جو اصل حقیقت ہے وہ روح ہے ، اس کی دلیل یہ ہے کہ جسم تو گل سڑ جاتا ہے ، اگر جسم کو اصل حقیقت قرار دے دیا جائے تو پھر یہ تو مرنے کے بعد فنا ہوجاتا ہے ، معلو م ہوا کہ اصل حقیقت تو روح ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبر جنت کا باغ ہے یا جہنم کا گڑھا ہے۔[۴] وہ جنت کا باغ اور دوزخ کا گڑھا کس کے لئے ہے ؟ یقین کیجئے اسی روح کے لئے ہے ، اجزائے جسمانی چاہے بکھرے ہوئے ہوں یا اکٹھے ہوں ، ان کا تعلق روح سے اس طرح ہوتا ہے جیسے سورج کا تعلق اشیاء ہے، اگر کہیں ریت کا ڈھیر پڑا ہو یا سنگلاخ زمین ہو یا گرد و غبار فضا میں ہو تو بھی سورج کی کرنوں کا تعلق اُس سے ہے ، اسی طرح جسم کے اجزاء پر روح کی شعاعیں پڑتی ہیں ، تو مرنے کے بعد بھی روح کا تعلق اس سالم بدن یا جسم کے متفرق اجزاء سے ضرور ہو گا، البتہ روح کا تعلق جو بدن سے اَب ہے وہ تعلق مرنے کے بعد اور روح کے بدن سے نکل جانے کے بعد بدل جائے گا۔
٭ پس اصل حقیقت روح ہے جو آفتاب کی حیثیت رکھتی ہے اور جسم فانی ہے ، ظاہر ہے کہ مرنے کے بعد پھٹ جائے گا ، منتشر ہو جائے گا ، تو اس کا نظام بھی فانی ہے، ایک مرتبہ کھانا کھایا پھر ضرورت ہوگئی ، جسم کا کمال بھی فانی ہے ، کئی طاقت ور انسان پیدا ہوئے لیکن جب موت آئی تو اُن کی انگلی بھی نہیں ہلتی ، لیکن روح باقی ہے تو اس کی صفات بھی باقی ہیں اور اس کے کمالات بھی باقی ہیں۔
٭ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ روح بمنزلہ آفتاب کے ہے ، روح اگر خوش ہے تو جسم کے اجزاء پر اچھے تاثرات دے گی اور اگر روح ناخوش ہے تو اپنا بُرا اور ناخوش اثر دے گی ، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قبر میں کوئی گرمی یا عذاب نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی قبر میں کوئی باغ وغیرہ نظر آتا ہے۔
٭ تو اس کا جواب یہ ہے کہ روح اگر خوش ہے تو بدن پر خوشی کے اثرات وقف کرے گی اور اگر تکلیف میں ہے تو بدن پر تکلیف کے اثرات چھوڑے گی ، لیکن وہ خوشی یا تکلیف کے اثرات عالم برزخ میں ہوں گے اور کسی کو نظر نہیں آئیں گے ، مثلاً کسی کے ذہن میں غمی یا خوشی کے اثرات ہیں یا کسی کے سر میں درد ہے تو اس کے سر کے عالم کو آپ کس طرح جان سکیں گے ؟ درد والے سر پر آپ ہاتھ رکھ دیں یا لاکھ آلات لگائے جائیں ، تو کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ سر کے اندر درد ہے یا نہیں؟ ہلکا درد ہے یا تیز درد ہے؟ ، یہ تو اُسی کو پتہ ہے جس کو درد ہے ، اسی طرح قبر میں جو مردہ یا مردے کے اجزاء پڑے ہیں ، یقیناً ان پر روح نے راحت یا رنج کے اثرات چھوڑے ہیں ، مگر وہ ہمیں معلوم نہیں ہوتے ، مردے کی تکلیف کا اثر مردے کے اجزاء ہی کو محسوس ہوگا نہ کہ زمین کو جس پر وہ اجزاء پڑے ہیں۔
٭ ایک شخص عالم خواب میں دیکھتا ہے کہ اس کے مکان کو آگ لگ گئی ہے ، اس کی چارپائی جل رہی ہے ، وہ خود جل رہا ہے ، چیخ رہا ہے ، آپ اس کو دیکھیں تو کیا آپ کو اس کی چارپائی جلتی ہوئی نظر آئے گی؟ یقیناً نہیں ، تو اسی طرح عالم برزخ میں کافروں کو عذاب ہوتا ہے مگر ہمیں قبر کے اندر عذاب گرمی اور آگ معلوم نہیں ہوتی۔


فشار قبر
٭ حدیث شریف میں آتا ہے کہ مرنے کے بعد جب انسان کو قبر میں دفن کیا جاتا ہے تو قبر تنگ ہو جاتی ہے ، مومن ہو اس کو بھی دباتی ہے اور کافر ہو اس کو بھی دباتی ہے ، مومن کو قبر کیوں دباتی ہے ؟ یہ اس لئے کہ قبر تو آغوش مادر ہے ، قبر کی آغوش میں مردہ ایسے ہے جیسے ماں کی گود میں بچہ ، اُمّ ، ماں کو کہتے ہیں اور اصل کو بھی کہتے ہیں ، بچے کی اصل ماں ہے ، اسی طرح تمام بنی آدم کی اصل زمین ہے اور اصل ماں ہوتی ہے ، پس ہم پیدا ہوئے اور اپنے احوال میں مبتلا ہو گئے اور یہ ایسا ہے کہ جیسے کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے اور آغوشِ مادر کا زمانہ ختم ہونے پر وہ بازار گلیوں میں جاتا ہے ، اگر بچہ اچھا ہے اور ماں اس کی خصلتوں سے خوش ہے، اس صورت میں ماں منتظر رہے گی کہ کب میرا بچہ آئے ، میرے سینے سے لگے اور میرے دل کو ٹھنڈا کرے، لیکن ایک بچہ بُرا ہے اس صورت میں ماں اس سے جلی بیٹھی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ آئے اور میں اس کو سزا دوں ، اسی طرح قبر ہر بنی آدم کے لئے منتظر ہے۔
٭ ماں جب بچہ کو آغوش میں دبا کر پیار کرتی ہے و اس بچہ کو کچھ نہ کچھ تکلیف تو ضرور ہوتی ہے لیکن بچہ اس تکلیف کو تکلیف نہیں سمجھتا ، پس قبر جب مومن کو دباتی ہے تو مومن کو وہ تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔
٭ معلوم ہوا کہ اگر روح کو فانی قرار دیں تو یوں سمجھئے کہ قبر کا عذاب اور ثواب سب کچھ ختم اور حساب کتاب بھی نہ ہو اور پھر حشر نشر کیسا؟ کیوں کہ ثواب و عذاب تو روح کے لئے ہے ، اگر روح کو فانی مان لیں تو سارا دین ختم ہو کر رہ جائے۔
٭ ہم نے ثابت کردیا کہ روح باقی ہے اور جب روح باقی ہے تو حقیقتِ انسانیت اسی روح کا نام ہے ، اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں دیں ، جسم اور روح ، ان میں جسم فانی ہے اور روح باقی ہے، پس فانی کے اثرات اور وصف بھی فانی ، کیونکہ موصوف فانی ہو تو اس کی صفات بھی فانی ہوتی ہیں ، لہذا بدن فانی تو بدن کے سب کمالات بھی فانی ہیں۔
٭ اب بتائیے کہ مظہر تجلیاتِ صفات الٰہی اور آئینہ جمال رب ہونا یہ صفت روح کی ہے یا جسم کی؟ یقیناً یہ روح کی صفت ہے، تو معلوم ہوا کہ موصوف جب باقی ہے تو اس کی صفت بھی باقی ہو گی، نماز روزہ، حج، زکوٰۃ نیکی کے کام ہیں ، یہ سب اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اللہ کا ذکر ہے ، یہ روح کی غذا ہے، تو کیا مرنے کے بعد ایمان، نماز اور دوسری نیکیاں ختم ہوجائیں گی یا باقی رہیں گی؟ یقیناً باقی رہیں گی، تو بھائی مرنے کے بعد تمہاری تمام روحانی صفتیں باقی رہیں اور ولی کے مرنے کے بعد اُس کے تمام روحانی کمالات ختم ہوجائیں، یہ عجیب بات ہے، پس ان حضرات کی قبور کے اندر بھی روحانیت زندہ ہوتی ہے اور روحانی کمالات بھی باقی ہوتے ہیں۔


عہد رسالت کا واقعہ
٭ ترمذی شریف کی حدیث ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی رسول نے ایک قبر پر اپنا خیمہ نصب کیا لیکن اس کو اس جگہ قبر ہونے کا علم نہ تھا ، کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ یہاں کسی انسان کی قبر ہے اور اس میں سے سورہ ملک (پ ۲۹) پڑھنے کی آواز آرہی ہے ، جب وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو تمام واقعہ بیان کیا ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ ملک روکنے والی اور نجات دینے والی ہے اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے۔
٭ اگر مرنے کے بعد قبر میں کوئی چیز باقی نہ ہوتی تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس صحابی سے فرماتے کہ بھئی یہ تمہارا وہم ہے ، یا فرماتے کہ کوئی فرشتہ ہو گا یا کوئی جن تلاوت کررہا ہو گا ، قبر میں مرنے کے بعد کچھ نہیں ہوتا ، لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا اور کوئی تردید نہیں فرمائی۔


دورِ صحابہ کا واقعہ
٭ یہ تو عہد رسالت کا واقعہ ہے اب دورِ صحابہ کا واقعہ سنئیے!
٭ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں مکہ مدینہ کے درمیان نہر کھودی گئی تو اتفاقاً وہ نہر اسی راستے سے آئی جس میں اُحد کا قبرستان آتا تھا ، مزدور کام کررہے تھے، ایک مزدور نے کھدائی کرتے ہوئے زمین میں پھاوڑا مارا تو اتفاقاً وہیں ایک شہید دفن تھا ، تو وہ پھاوڑا اُس کے پاؤں کے انگوٹھے میں جا لگا اور خون جاری ہو گیا۔ [۵]
٭ یہ تو قبر میں حیات جسمانی کی دلیل ہے کہ مرنے کے بعد ان کے جسم میں بھی زندگی موجود ہے اور چہ جائیکہ روح جو ہے ہی باقی۔


زمانہ تابعین کا واقعہ
٭ امام ابو نعیم حیلۃ الاولیاء میں حضرت سعید بن جبیررضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ وحدہٗ لا شریک کی قسم ! میں نے اور حمید طویل رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ثابت بنانی رضی اللہ عنہ[۶] کو قبر میں اتارا تھا ، جب ہم کچی اینٹیں برابر کر چکے تو ایک اینٹ گر گئی،میں نے انہیں دیکھا کہ وہ قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں ، وہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ اگر تونے کسی مخلوق کو قبر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے تو مجھے بھی اجازت فرما، اللہ تعالیٰ کی شان سے بعید تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی دعا کو رد فرمادے ۔ [۷]
٭ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ شعب الایمان میں اپنی سند سے قاضی نیشا پور ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صالح عورت کا انتقال ہو گیا ، ایک کفن چور اس کے جنازہ کی نماز میں اس غرض سے شامل ہوگیا تاکہ ساتھ جا کر اس کی قبر کا پتہ لگائے ، جب رات ہو گئی تو وہ قبرستان میں گیا اور اُس عورت کی قبر کھود کر کفن کو ہاتھ ڈالا تو وہ خدا کی بندی بول اُٹھی کہ سبحان اللہ ایک جنتی شخص ایک جنتی عورت کا کفن چُراتا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میری اور ان تمام لوگوں کی مغفرت فرما دی جنہوں نے میرے جنازے کی نماز پڑھی اور تو بھی اُن میں شریک تھا ، یہ سن کر اُس نے فوراً قبر پرمٹی ڈال دی اور سچے دل سے تائب ہو گیا۔ [۸]
٭ پس ولیوں کا تو یہ حال ہے کہ چور جائے اور ولی بن کر آئے، اب کوئی کہے کہ مرنے کے بعد اُن کی کوئی روحانی طاقت نہیں تو یہ سراسر غلط ہے ، کیونکہ روح تو اپنے لوازمات کے ساتھ باقی ہے۔
٭ حدیث قدسی میں ہے کہ میرا بندہ جب میرا مقرب ہوا تو اس نے اپنے کلام کو میرے کلام کا اور اپنی صفات کو میری صفات کا آئینہ دار بنا دیا تو اب مجھ سے کچھ مانگے تو میں اس کو عطا کروں گا، وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اُ سے پناہ دوں گا ، یہ سب کمالات اس کی روح کے لئے ہیں اور جب تک روح چلے گی یہ سب باتیں بھی ساتھ چلیں گی،اس حدیث میں وقت کی کوئی قید نہیں مطلب یہ ہے کہ جب مانگے میں ضرور دوں گا، تو اَب وہ چاہے دنیا میں مانگیں یا موت کے بعد کے جہان میں مانگیں یا آخرت میں مانگیںوہ مانگ سکتے ہیں اور خدا ضرور دیتا ہے۔
٭ ہم اولیاء اللہ کے مزارات پر اس لئے جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ
ان سألنی لا عطینہٗ یعنی اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتے ہیں تو میں ان کو ضرور دیتا ہوں، تو کسی مزار پر جاکر یہ کہنا کہ اے اللہ کے ولی خدا سے دعا کریں کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو کوئی قباحت نہیں، اب اگر کوئی کہے کہ ولی کے پاس جانے سے کچھ نہیں بنتا تو اس نے ولی کا کچھ نہ بگاڑا بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو جھٹلایا۔
٭ اب بات یہ ہے کہ کسی نے مزار پر جاکر کہا کہ اے اللہ کے ولی باذن اللہ ہمارا یہ کام کردو ، وہ کام نہ ہوا تو اولیاء اللہ کو بُرا کہنے لگے، دیکھئے اللہ تعالیٰ تو کسی اذن کا محتاج نہیں وہ فرماتا ہے !
ترجمہ۔ میرے بندو مجھ سے دعا مانگو میں قبول کروں گا۔(پ ۲۴)
٭ اب دیکھئے ایک شخص کو پھانسی کا حکم ہو گیا ، اِ دھر تم دعا مانگتے ہو کہ اے اللہ اس کو پھانسی سے بچالے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے تقدیر مبرم (نہ ٹلنے والی تقدیر) میں لکھ دیا تو وہ ضرور پھانسی چڑھے گا ، اب خدا کا کچھ بگاڑ کر دکھاؤ ، وہ تو فرماتا ہے تم مجھ سے دعا مانگو میں قبول کروں گا ، اب یہاں تم خدا کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تو اولیا ء اللہ کا کیا بگاڑو گے وہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور اذن کے سوا چلتے ہی نہیں ۔
٭ جب زندہ لوگوں میں سے اہل خیر اور صالحین سے دعا کی درخواست جائز ہے ، پھر جب یہ حضرات جن سے زندگی میں طلب دعا کرتے تھے ، وصال فرماجائیں اور برزخی حیات سے مشرف ہوجائیں تو ان سے اب طلب دعا میں کیا قباحت پیدا ہو جاتی ہے ، ان کی بزرگی ، ان کا تقرب اور ان کی مبارک روحانیت پر تو موت نہیں آئی، موت تو صرف جسم پر ہے نہ کہ روح پر ، وہ تو زندہ ہے ، اُس کا شعور و ادراک ، قوت سماعت اور استجابت دعا بھی باقی ہے بلکہ ساری کرامتیں باقی ہیں کیونکہ یہ اُس کے روحانی کمالات ہیں اور روح فانی نہیں، اس لئے یہ کمالات بھی فانی نہیں۔
٭ یہ تو تھی عالم دنیا اور عالم برزخ کی بات، اب سوال یہ ہے کہ عالم آخرت میں بھی اولیائے کرام کا فائدہ ہوگا یا نہیں؟۔
٭ تو میں عرض کرتا ہوں کہ آخرت میں بھی ان بزرگوں کا فائدہ ہو گا، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اُمت کے علماء ، حفاظ اور شہداء شفاعت کریں گے ، حتیٰ کہ ایک بچہ بھی جس کے والدین مومن ہوں وہ اُن کے لئے سفارش کرے گا۔
٭ اگر انبیاء اور اولیاء سے مدد مانگنا شرک ہے تو یہ شرک آخرت تک چلے گا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ اب تو شرک ہے لیکن آخرت میں عین توحید ہو جائے، کیونکہ شرک تو ہر زمانہ میں شرک ہی رہے گا، آخرت میں بھی کوئی غیر اللہ سے مدد مانگے تو شرک ہی ہوگا ، تو جناب یہ شرک تو قیامت تک چلے گا، کیوں کہ ہول محشر سے بڑھ کر تو کوئی قیامت نہیں ہوگی اور اُس وقت تمام لوگوں کی نظر کسی اللہ کے بندے کو تلاش کرنے میں ہوگی، سب آپس میں کہیں گے کہ کوئی ایسی ہستی ڈھونڈو جو تمہاری شفاعت کرے۔
٭ سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں آئیں گے کہ آپ ابوالبشر آدم ہیں ، آپ ہماری شفاعت کریں ، آدم علیہ السلام یہ نہیں فرمائیں گے کہ تم شرک کررہے ہو ، مجھ سے کیا مانگتے ہو ، جاؤ خدا کے پاس ، نہیں بلکہ وہ بھی غیر کی راہ دکھائیں اور فرمائیں گے
نفسی نفسی اذھبوا الیٰ غیری ۔[۹]
٭ دیکھئے کہ جب غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک ہے تو قیامت کے دن جو لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے ۔ کیا وہ مشرک ہوں گے؟ یہاں تو پھر حضرت آدم علیہ السلام بھی نہیں بچتے وہ بھی اُن کو خدا کا راستہ نہ بتائیں گے بلکہ کسی غیر کا راستہ بتائیں گے اور فرمائیں گے
اذھبو الیٰ غیری پس تمہارے فتوے کی رُو سے تو معاذ اللہ حضرت آدم علیہ السلام بھی مشرک ہوئے اور اُن کے پاس جانے والے بھی مشرک ہوئے۔
٭ تو جناب آپ کے تمام فتوے غلط ہیں کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام تو مشرک ہو نہیں سکتے ، پھر سب لوگ آدم علیہ السلام کی راہنمائی سے حضرت نوح علیہ السلام کے پاس پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیںگے ، ہر ایک یہی کہے گا
اذھبو الیٰ غیری۔
٭ اب ان کو خیال آئے گا کہ چلو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں چلیں، جب وہاں پہنچیں گے تو آپ کی بارگاہ میں بھی وہی مدعا عرض کریں گے جو دیگر انبیاء کرام کے حضور عرض کر چکے تھے ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سماعت فرمانے کے بعد یہ نہیں فرمائیں کہ بھئی تم تو پکّے مشرک ہو ، فلاں فلاں نبی کے پاس گئے پھر میرے پاس آئے ہو، جاؤ خدا کے پاس ، نہیں نہیں ایسا نہیں فرمائیں گے ، بلکہ فرمائیں گے
انا لھاہاں اس کام کے لئے تو میں ہوں، یعنی آدم ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام نے نفسی نفسی اذہبو الیٰ غیری اس لئے کہا تھا کہ تم مجھ تک پہنچ جاؤ اور اس کام کے لئے تو میں ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ ہی کو یہ اعزاز عطا فرمایا ہے۔

خلیل ونجی مسیح و صفی ،سبھی سے کہی ،کہیں نہ بنی
یہ بے خبری کہ خلق پھری کہاں سے کہاں تمہارے لئے

٭ انبیاء علیہم السلام کے نفسی نفسی کہنے میں حکمت یہ ہے کہ جب سردار موجود ہو تو سردار کے ہوتے ہوئے اس کا کام نیچے والے نہیں کریں گے ، کمشنر موجود ہو تو کمشنر کا کام ڈپٹی کمشنر نہ کرے گا ، پس مطلب یہ تھا کہ تم سب کے پاس گھوم آؤ جو کام کوئی نہ کرے وہ میرا محبوب کرتا ہے اور حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاانالھا کہ اس کام کے لئے تو میں ہوں۔
٭ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم اُس وقت اللہ تعالیٰ کے دربار میں سر جھکا دیں گے
فیقال یا محمد ارفع رأسک وقل تسمع وسل تعطہ واشفع تشفع حکم دیا جائے گا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سر اٹھاؤ اور کہو آپ کی بات کی شنوائی ہوگی اور جو مانگو عطا ہوگا اور شفاعت فرمائیے آپ کی شفاعت قبول ہوگی، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کی شفاعت فرمائیں گے پھر انبیاء و اولیاء اور مومنین کو شفاعت کرنے کی اجازت مرحمت ہوجائے گی۔
٭ دیکھئے اگر انبیاء واولیاء کے پاس جانا اور اُن سے مدد مانگنا شرک ہے تو یہ شرک تو پھر آخرت تک چلے گا، پس معلو ہوا کہ جو یہاں شرک سمجھتے ہیں وہ وہاں بھی نہیں جائیں گے اور جو جائیں گے نہیں تو شفاعت کیسے پائیں گے ؟، کرنے والا تو سب کچھ خدا ہے، مگر خدا وند کریم اپنے بندوں کا احترام کرتا ہے اور اعزاز بخشتا ہے، جو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ولی کچھ نہیں ہوتے ہیں، سب فراڈ ہے ، تو وہ بھی سن لیں ، حدیث قدسی کے شروع ہی میں ہے کہ
من عاد لی ولیا فقد اذنتہ بالحربیعنی جس نے میرے ولی سے عداوت کی اُس کے ساتھ میرا اعلان جنگ ہے۔
٭ تو دوستو اولیاء کرام نہ خدا کے شریک ہیں نہ ساجھی ہیں وہ تو خدا کے اذن اور حکم کے تابع ہیں، معلوم ہوا کہ
من دون اللہ تو ایک تنکا بھی نہیں ہلا سکتا اورباذن اللہ سے مردے بھی زندہ ہو جاتے ہیں، اب جو لوگ من دون اللہ کی باتیں باذن اللہ پر چسپاں کرتے ہیں خدا ان کو ہدایت دے۔
٭ اب ایک بات میری نظر میں ایسی باقی ہے جو اہل علم طبقہ کے لئے قابل تشریح ہے، وہ یہ کہ جو لوگ اللہ کے مقربین اور حضرات اولیاء کرام کے تصرفات بعد الوفات اور اور علم وادراک بعد الممات کے قائل نہیں اور اس امر کو توحید کے منافی سمجھتے ہیں ، اُن کی طرف سے علی العموم یہ شبہ پیش کیا جاتا ہے اور اچھے خاصے پڑھے لکھے طبقہ کو متأ ثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آپ لوگ تو اولیاء اللہ کے علم و ادراک بعد الوفات کا عقیدہ رکھتے ہیں ، حالانکہ قرآن پاک میں صاف وارد ہے کہ انبیاء کرام کو موت کے بعد کوئی ادراک اور کوئی علم نہیں ہوتا اور جو انبیاء نہیں بلکہ اولیاء ہیں اُن کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کیونکر صحیح ہوگا ۔
٭ اس شبہ کو کہ مرنے کے بعد اولیاء اللہ بے خبر ہوتے ہیں قرآن مجید کی ایک آیت سے مؤ ید کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، میں اس کا جواب دیتا ہوں ، تاکہ اس شبہ کا ازالہ ہو جائے، وہ آیت یہ ہے!
او کالذی مرّ علیٰ قریۃ وھی خاویۃ علی عروشھا قال انی یحیی ھذہ اللہ بعد موتھا فا ماتہ اللہ مائتہ عام ثم بعثہٗ قال کم لبثت قال لبثت یوماً او بعض یوم قال بل لبثت مائتہ عام۔(پ۳، سورہ بقرہ، آیت نمبر ۲۵۹)
ترجمہ۔ یا مثل اس شخص کے جو گزرا ایک بستی پر وہ اس حال میں تھی کہ گری پڑی تھی اپنی چھتوں کے بل ، کہنے لگا کیوں کر زندہ کرے گا اسے اللہ تعالیٰ اس کے ہلاک ہونے کے بعد، پس حالتِ موت رکھا اسے اللہ تعالیٰ نے سو سال تک، پھر زندہ کیا اُسے فرمایا کتنی مدت تو یہاں ٹھہرا رہا، اُس نے عرض کی میں ٹھہرا ہوں گا ایک دن یا دن کا کچھ حصّہ، اللہ نے فرمایا نہیں بلکہ ٹھہرا رہا ہے تو سو سال۔
٭ اللہ نے کچھ امثال بیان فرمائے ، ایک یہ کہ حضرت عزیر علیہ السلام جو ایک دراز گوش یا حمار شریف پر سوار ہو کر تشریف لے جارہے تھے اور کسی ایسے مقام سے گزرے جہاں عمارتیں گر چکی تھیں اور اس بستی کے کھنڈرات پڑے تھے، (مفسرین نے لکھا ہے کہ اس بستی سے مراد بیت المقدس ہے)جب آپ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے اے اللہ ! تو ان کے مرنے کے بعد ان کو کس طرح زندہ فرمائے گا اور کس طرح اُٹھائے گا، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو سو سال تک حالت موت میں رکھا اور پھر ان کو اٹھایا اور فرمایا تم یہاں کتنی دیر ٹھہرے رہے ،انہوں نے جواب دیا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرا رہا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تو یہاں سو برس تک ٹھہرے رہے ہو۔
٭ اللہ تعالیٰ نے اُن کے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے رہنے کے جواب میں بتایا اور ثابت کردیا کہ اُن پر سو برس تک موت طاری رہی، اَب شبہ پیدا ہوا کہ اگر اُن کو معلوم ہوتا تو وہ سو برس کی بجائے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ کیوں کہتے؟ پس معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد اُن کو کوئی علم وادراک نہ رہا تھا۔
٭ جس آسان طریقہ سے یہ شبہ بیان کیا جاتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ اُسی آسان اور سہل طریقہ سے اس شبہ کو دور کردوں ، تو سنییٔ!
٭ سب سے پہلے میں یہ عرض کروں گا کہ قرآن مجید میں حضرت عزیر علیہ السلام کا ذکر نہیں آیا بلکہ فرمایا
کالذی مرّ علیٰ قریۃ ( مثل اس شخص کے جو گزرا ایک بستی پر)یہاں الذی کا لفظ آیا ہے اور الذیکی تفسیر میں کئی قول آئے ہیں ، جن میں سے کوئی قول ایسا نہیں جس پر قطعیت کا حکم لگایا جاسکے،(قطعیت سے مراد یہ ہے کہ جس طرح قرآن کا انکار کفر ہے وہ بھی کفر ہو) الذی سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک عزیرعلیہ السلام ہیں ، لیکن یہ قول محض مفسرین کا قول ہے ، پس یہاں قطعیت کا حکم نہیں آسکتا، اس کے علاوہ تفاسیر میں چند اقوال ہیں جن میں سے ایک قول یہ بھی ہے کہ الذی سے مراد ایک کافر ہے (تفسیر بیضاوی) لہذا اگر ہم اس سے مراد ایک مرد کافر لیں تو اب جہاں ایک قول کافر کے بارے میں آئے وہاں عزیر علیہ السلام کو کیسے لائیں؟ کیونکہ ایسی بات سے قطعی طور پر کسی نبی کو متعین کرنا باطل ہے، لہذا تمہارا یہ قول قابل سماعت نہیں۔
٭ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر
الذی سے مراد عزیر علیہ السلام ہیں اور مرنے کے بعد ان کو کو ئی علم نہیں تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ جس کو کسی بات کا علم نہ ہو اس سے کسی علم کی بات کا دریافت کرنا کیسے صحیح ہے ، جماد، پتھر اور مٹی کے اندر تو کوئی علم نہیں ہوتا اور جب وہ ( معاذاللہ) مٹی پتھر ہیں تو کیا علم کی بات ان سے پوچھنا غلط نہیں؟ شاید آپ کہیں کہ خدا کی شان یہ ہے کہ خدا کوئی کام کرے تو خدا کے کام پر کوئی سوال نہیں کرسکتا کہ اللہ نے ایسا کیوں کیا۔
٭ میں عرض کروں گا کہ اگر آیت کا مطلب یہ لے لیا جائے تو خدا تعالیٰ کے کمال حکمت پر دھبہ آئے گا اور اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، خدا تعالیٰ سب پر قادر ہے اور قاہر ہے، سب کو اپنی قدرت اور احاطہ میں لینے والا ہے، جو چاہے کرے اور جو کرے گا حکمت کے تقاضے سے کرے گا، وہ کسی سے مقہور نہیں ہے، تو جو علم و ادراک نہ رکھتا ہو اُس سے علم کی بات پوچھنا حکمت کے تقاضے کے خلاف ہے، اور وہ بات جو حکمت کے تقاضے کے خلاف ہو اللہ تعالیٰ سے منسوب کرنا حماقت ہے، پس یہ سوال اس سے کیا جارہا ہے جو محل ادراک ہے اور علم رکھتا ہے۔
٭ یہاں دو چیزیں ہیں ، سائل اور مسؤل عنہ
٭ سائل کا سوال ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ محلِ ادراک یعنی ادراک والا ہے، کیونکہ سوال کرنے والا حکمت کے تقاضوں سے دور نہیں ، وہ علیم وخبیر ہے اور اللہ تعالیٰ کا علیم و خبیر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جس سے سوال فرمارہا ہے وہ علم اور ادراک والا ہے۔
٭ اگر عزیر علیہ السلام کو علم و ادراک نہ ہوتا تو چاہئیے تھا کہ وہ خاموش ہو جاتے یا کہتے کہ میں تو مرنے کے بعد مٹی ، پتھر اور جماد ہو گیا تھا ، میں تو جب بتاؤں کہ مجھے کچھ علم ہو ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ میرے مولا میں
یوماً او بعض یوم یعنی ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرا ، تو پتہ چلا کہ وہ اپنے علم وادراک کا اعتراف کررہے ہیں اور اس کے مطابق بیان کررہے ہیں، پس اللہ تعالیٰ کا سوال کم لبثتَ (کتنی دیر ٹھہرے) حکمت کے مطابق ہے، دوسرے یہ کہ اگر اُن کو کوئی علم نہ ہوتا تو وہ یہ بات نہ کہتے، یہ دونوں باتیں دلیل ہیں کہ وہ محلِ ادراک ہیں ۔
٭ اَب یہاں ایک شبہ پیدا ہو گیا کہ جو بات واقع میں تھی وہی بتاتے، علم معلوم کے مطابق ہونا چاہئیے لیکن یہاں ان کا علم تو معلوم کے خلاف ہے اور جو علم معلوم کے خلاف ہو وہاں تو لا علمی پیدا ہوگئی۔
٭ دیکھئے لوگوں نے اس حقیقت کو نہ سمجھا، جتنی گفتگو میں نے کی ہے اس کامفاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر علیہ السلام کو محلِ ادراک جان کر سوال کیا اور انہوں نے اپنے علم و ادراک کو مان کر جواب دیا، یہ دونوں باتیں ذہن میں رکھ کر یہ بات سمجھئے۔
٭ اب اس جگہ
یوماً او بعض یوم کی بنا پر شبہ یہ ہے کہ اگر واقعی اُن کو علم تھا تو یوماً کے بعد اَوْ جو کہا، اس سے تو شک معلوم ہوتا ہے ، لہذا اُن کو شک تھا اور صحیح مدت کا علم نہیں تھا۔
٭ میں کہتا ہوں کہ دیکھئے
او کالذی مر علیٰ قریۃ میں بھی اَ وْ موجود ہے اور یہ اللہ کا کلام ہے ، اب بتاؤ کیا یہاں بھی اَ وْ شک کے لئے متعین ہوگا ؟ نہیں ، میں عرض کرتا ہوں کہ اَوْ ہمیشہ شک کے لئے نہیں آتا، یہاں اَ وْ تاخیر کے لئے ہے ، یعنی او بعض یوم سے مراد یوم تقرر نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ میں اتنی دیر ٹھہرا کہ جو مدت قلیلہ تھی، اب اے مخاطب تجھ کو اختیار ہے کہ اس مدت قلیلہ کو ایک دن اندازہ کرے یا ایک دن سے کم، اور یہ دونوں مدت قلیلہ ہیں ، تو معنی یہ ہوئے کہ اے مولا میں تو مدت قلیلہ ٹھہرا ہوں اب اس کا اندازہ تو یوماً سے لگالے یا او بعض یوم سے، معلوم ہوا کہ محض مدت قلیل مراد ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ اَو ْ اس لحاظ سے استعمال کیا ہے کہ وہاں مخاطب کو اختیار دیا ہے کہ اَب تو اس کو اس سے اندازہ کرلے یا اُس سے۔
٭ اب آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا
بل لبثت مائتہ عام ( بلکہ تو ٹھہرا رہا ہے سو برس تک) اب پھر سوال پیدا ہوگیا کہ بل تو ابطال کے لئے آتا ہے، لہذا اللہ تعالیٰ نے بل کہہ کر عزیر علیہ السلام کے کلام کو باطل کردیا اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ وہ قلیل مدت باطل ہے اور طویل مدتمائتہ عام یعنی سو برس صحیح ہے، پس اگر مائتہ عام صحیح ہے تو یوماً او بعض یوم غلط ہے، اور حضرت عزیر علیہ السلام نے مدت قلیلہ کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ باطل ہے، تو معلوم ہوا کہ اُن کا کلام واقع کے مطابق نہیں ہے، لہذا کذب ہوا، کیونکہ کلام کا واقع کے مطابق ہونا صدق ہے اور کلام کا واقع کے مطابق نہ ہونا کذب ہے۔
٭ اب اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے تو اُن کا یہ قول باطل ہوا، یعنی واقع کے مطابق نہ ہوا اور یہی کذب ہے اور حضرت عزیر علیہ السلام نے یہی کیا یعنی واقع کے مطابق نہ بتایا تو ان کا کلام سچا نہ رہا۔
٭ لیکن نبی تو نہ قصداً جھوٹ بولتا ہے اور نہ بلا قصد جھوٹ بولتا ہے، لہذا صاف معلوم ہوا کہ آیت کے معنٰی یہ نہیں ہیں، اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو حضرت عزیر علیہ السلام کی طرف کذب منسوب ہوگیا ، اور نبی جھوٹ بولتا نہیں کیونکہ جو جھوٹا ہو وہ نبی ہو ہی نہیں سکتا، لہذا آیت کے معنی غلط کئے گئے ہیں۔
٭ پس اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ ایک امر کو دو واقعوں کی صورت میں ظاہر کردے، اگر حضرت عزیر علیہ السلام کی طرف جھوٹ کی نسبت کریں تو یہ غلط ہے کیونکہ نبی جھوٹ نہیں بول سکتا اور اگر وہ جھوٹے نہیں تو پھر (معاذا ﷲ ) خدا تعالیٰ کا قول جھوٹا ہوگا، یہ تو اور بھی زبردست مصیبت ہوگئی، تو معلوم ہوا کہ دونوں قول جھوٹ نہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ ایک امر کو دو واقعی صورتوں میں نمایاں کردے۔
٭ حقیقت یہ ہے کہ مدت تو سو برس کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سو برس کی مدت کوعزیر علیہ السلام کے لئے اتنا چھوٹا کرکے گزارا کہ اُن کے لئے وہ
یوماً او بعض یوم ہو کر گزرا۔پس حضرت عزیر علیہ السلام کا علم اس واقعہ کے مطابق ہے جو ان پر گزرا اور اللہ جل جلالہٗ کا کلام اس واقع اور حقیقت کے مطابق ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر گزارا، لہذا اللہ تعالیٰ کا کلام بھی سچا ہے اور حضرت عزیر علیہ السلام کا کلام بھی سچا ہے، اس کی دلیل میںایک واضح اور روشن بات یہ ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا مگر اہل ایمان صلحاء و اولیاء اور شہداء کے لئے ایک وقت کی نماز سے بھی جلدی گزر جائے گا ، قیامت میں اگر صالحین سے دریافت کیا جائے گا کہ تم یہاں کتنا عرصہ ٹھہرے تو وہ اپنا تجربہ و مشاہدہ کے مطابق وقت کا اختصار بیان کریں گے اور اگر کفار و مشرکین سے دریافت کیا جائے تو وہ اپنا ماجرا بیان کریں گے اور ہر ایک اپنے قول اور دعوے میں سچا ہوگا۔
٭ اب بتائیے کہ جو اللہ پچاس ہزار برس کو ایک وقت کی نماز کے عرصہ میں تبدیل کر سکتا ہے ، تو کیا وہ سو برس کے عرصہ کو ایک دن یا دن کے کچھ حصے میں تبدیل نہیں کرسکتاَ پس اللہ تعالیٰ کا کلام اس اصل واقع کے مطابق ہے اور حضرت عزیر علیہ السلام کا کلام انُ کے علم کے مطابق ہے۔
٭ اب دوسری مثال سنئیے، قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے
٭ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو سیر کرائی رات کے تھوڑے سے حصہ میں (پ ۱۵)
٭ اب اندازہ لگائیے کہ وہ تھوڑاعرصہ کتنا ہے کہ جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک تشریف لے جاتے ہیں اور اسی عرصہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے مصافحہ فرماتے ہیں ، اسی مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء علیہم السلام کو نماز پڑھائی ، پھر حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا ، ابواب سے گزرنا ، وہاں انبیاء علیہم السلام سے ملاقات کرنا ، بیت المعمور ملاحظہ فرمانا، سدرۃ المنتہیٰ پر جبرئیل علیہ السلام کا علیحدہ ہونا ، پھر رفرف پر جلوہ گر ہونا، پھر دریائے نور میں غوطہ زن ہونا اور پھر ظاہر ہونا، پھر اللہ تعالیٰ کے حجابات ِ عظمت کا مشاہدہ فرماتے ہوئے وہاں جانا جہاں نہ کوئی مکان ہے نہ زمان ہے ، پھر عرش عظیم پر جلوہ گر ہونا ۔ عرش سے اوپر جانا، اس کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کے قرب خاص سے مشرف ہونا اور دیدار فرمانا ، پھر نمازیں لینا ، پھر نمازوں کی تعداد کم کرانے کے لئے بار بار حضرت موسیٰ علیہ السلام تک جا کر اللہ تعالیٰ کے حضور جانا، اب آپ بتائیں کہ ان سب کاموں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کتنا عرصہ تھا اور یہ کتنا وقت گزرا، پس حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو سفر معراج کا یہ اتنا طویل عرصہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھارہ سال تک سیر فرماتے رہے لیکن دنیا کے لئے اتنا طویل تھا کہ جب تشریف لائے تو بستر گرم تھا ، دروازے کی کُنڈی ہل رہی تھی اور وضو کا پانی چل رہا تھا۔[۱۰]
٭ پس ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ ایک ہی وقت کو کسی کے لئے طویل کردے اور کسی کے لئے کم کردے ، اسی طرح اوّلاً وہ واقع سو برس کا تھا لیکن حضرت عزیر السلام کے لئے وہ قلیل کردیا گیا، معلوم ہوا کہ
بل کا ابطال اس واقعہ کے مطابق تھا جو کہ علم الٰہی میں تھا۔
٭ اب میں ساری بحث کا فیصلہ قرآن کریم سے عرض کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں آگے ارشاد فرمایا:
٭
فانظر الیٰ طعامک و شرابک لم یتسنہ وانظر الیٰ حمارک (پ۳)
ترجمہ۔ اب( ذرا )دیکھ اپنے کھانے اور پینے (کے سامان) کی طرف یہ باسی نہیں ہوا اور دیکھ اپنے گدھے کو۔
٭ یعنی انگور اور انجیر کے رس کو دیکھئے کہ ویسا ہی ہے اس سے بو تک نہیں آئی اور گدھے کے اعضاء بکھر گئے اور ہڈیاں چمک رہی ہیں(تفسیر ابن عباس)
٭ اب دیکھئے اللہ تعالیٰ نے جب سو برس کا عرصہ گزارا تو وہ سب کے لئے سو برس گزرنا چاہئیے تھا یعنی کھانے پینے کی چیزوں پر بھی اور حمار پر بھی سو برس گزرتے ، لیکن ہوا کیا َ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھ کہ بالکل متغیر نہیں ہوئے ان میں ذرا فرق نہ آیا، اب غور کرو جو چیز جلد خراب ہوجانے والی تھی وہ بالکل نہ بدلی اور گدھا جو طاقت ور ہوتا ہے اُس کی تمام ہڈیاں منتشر پڑی ہیں۔
٭ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عزیر علیہ السلام میں نے یہ سو برس کا عرصہ تجھ پر
یوماً او بعض یوم کرکے گزارا ، جس طرح تیرے لئے یہ عرصہ تھوڑا کیا تیرے کھانے اور پینے کی چیزوں کے لئے بھی قلیل کردیا تاکہ تیرے کھانے اور پینے کا تازہ ہونا تیرے یوماً او بعض یوم کی دلیل ہوجائے، پس تیرے دعویٰ کی دلیل تو یہ طعام اور انگوروں کا رس رکھا ہے، اب میرے دعویٰ کی دلیل یہ ہے کہ تو اپنے حمار یعنی گدھے کی طرف دیکھ ، سو برس میں جو اس کا حال ہونا چاہئیے وہی اس کا ہے، پس دونوں قول سچے ہیں۔
٭ میں نے ایک ایک جُزالگ الگ کرکے بیان کردیا ، اب کوئی کانٹا نہیں ڈال سکتا، یہ دھوکا میرے ساتھ بھی لیہ( ضلع مظفر گڑھ) کے مناظرہ میں پیش آیا ، میں نے جواب اسی طرح جامعیت کے ساتھ بیان کر دیا ، خدا کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ اس جواب کے بعد حاضرین و ناظرین پر صمٌ بکمٌ کا منظر طاری تھا۔
٭ تو دوستو : جس کو صاحب قرآن سے نسبت نہیں اُس کو قرآن سے کیا نسبت ہوسکتی ہے، یہ قرآن کی حقیقتیں تب کھُلتی ہیں جب صاحب قرآن سے نسبت ہو۔

(وما علینا ا لا البلاغ )


حواشی
[۱]۔ مولوی انور شاہ صاحب کشمیری ، صد مدرس دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنی تصنیف فیض الباری شرح صحیح بخاری ، جز چہارم، صفحہ۴۲۸ پر اس حدیث قدسی کے تحت یہی معنی لکھے ہیں۔
[۲]۔ امام فخر الدین رازی، تفسیرکبیر، سورہ کہف(آیۃ ام حسبت ان اصحٰب الکہف)، جلد۲۱، صفحہ ۹۱
[۳]۔
وکان ابن عمر یراھم شرار خلق اللہ وقال انھم انطلقو الیٰ اٰیات نزلت فی الکفار فجعلو ھا علی المومنین (بخاری شریف ،جلد ۲، باب قتال الخوارج،ص۱۰۲۴)
[۴]۔ امام جلال الدین سیوطی شافعی، شرح الصدور (عربی)، مطبوعہ مکتبہ غوثیہ مدین (سوات)، ص ۶۳
[۵]۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی ، جذب ا لقلوب، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کر اچی ، ص۲۰۳
[۶]۔ ثابت بن اسلم بنانی بصری تابعی ہیں ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے روایت کی ہے، یہ چالیس سال حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہے ، شعبہ کہتے ہیں کہ ایک دن اور ایک رات میں قرآن ختم کیا کرتے تھے اور صائم الدہر تھے ، ۱۲۳ھ میں وفات ہوئی۔
[۷]۔علامہ عبدالغنی نابلسی فلسطینی، کشف النور (عربی)، مطبوعہ مکتبہ قادریہ لاہور، ص۹
[۸]۔ امام جلال الدین سیوطی(متوفی۹۱۱ھ)، شرح الصدور(اردوترجمہ) مطبوعہ کراچی، ص۲۰۵
[۹]۔بخاری شریف
[۰ا]۔ تفسیر روح المعانی (عربی) پ ۵ا
نوٹ٭ علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اللہ علیہ (متوفی ۹۸۶اء)نے یہ تقریر بروز پیر ۹؍ رمضان المبارک۳۸۲اھ بمطابق ۴؍ فروری ۹۶۳اء کو جامعہ انوار العلوم کچہری روڈ ملتان میں بسلسلہ درس قرآن حکیم فرمائی ، جناب محمد مختار احسن ایم اے مرحوم ( پاکستان کے مشہور خطاط ابن کلیم کے بڑے بھائی)نے اسے لکھا ، خلیل احمد رانا نے اسے ترتیب دیا۔

خلیل احمد رانا
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج