فوائد حدیث
٭ جامعہ اسلامیہ (بہاولپور) میں ایک مرتبہ حدیث پڑھاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ایک تابعی نے رسول اللہﷺ سے روایت کی۔ اس پر ایک طالب علم نے سوال کیا کہ تابعی تو وہ ہوتا ہے، جس نے رسول اکرمﷺ کو نہ دیکھا ہو بلکہ آپ کے صحابی کو دیکھا ہو۔ تو تابعی حضور سے کیسے روایت کر سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا، ایک صحابی نے حضورﷺ سے حدیث سنی، بعد میں وہ العیاذ باللہ مرتد ہو گیا اور
مَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ مرتد ہونے کے بعد اس کے تمام اعمال اکارت ہوئے۔ شرفِ صحابیت بھی جاتا رہا۔ حضور کے وصال کے بعد وہ پھر ایمان لے آیا اور اس نے صحابہ کو دیکھا، اب وہ تابعی ہوا۔ اس کے بعد اگر وہ حضور سے سنی ہوئی کسی روایت کو بیان کرے تو وہ حضور سے تابعی کی روایت ہو گی، صحابی کی نہیں۔
٭ آپ سے سوال کیا گیا کہ بخاری شریف میں ہے کہ حضورﷺ نے عبد اللہ بن ابی کی نمازِ جنازہ پڑھائی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے حق میں استغفار سے منع فرمایا ہے
اِنْ تَسْتَغْفِرْلَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ (پ۱۰۔ س توبہ۔ آیت ۷۹)
٭ نیز جب آپ کے استغفار کے باوجود اس کی مغفرت نہ ہوئی تو آپ کی شان محبوبی اور استجابت دعا پر حرف آیا۔ علامہ کاظمی صاحب نے جواب میں فرمایا، حضور نے عبد اللہ بن ابی کے لئے دعا کب مانگی۔ نمازِ جنازہ میں آپ نے فرمایا،
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَ مَیِّتِنَا اے اللہ! بخش دے ہمارے زندوں کو اور ہمارے مردوں کو۔ اور وہ ہمارا کب تھا؟ جو کہتے ہیں ہمارا ہے انہیں مبارک ہو۔ رہا یہ سوال کہ کیا کوئی شخص اب بھی کسی مرتد کا جنازہ اس تاویل سے پڑھ سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا، وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا (س توبہ۔ آیت ۸۳) ان میں سے کسی کی نمازِ جنازہ نہ پڑھیں۔ حضور نے اس کی نمازِ جنازہ اس آیت کے نزول سے پہلے پڑھی تھی۔ لہٰذا حضور کا عمل جائز تھا اور اب جو پڑھائے گا، اس کا فعل نا جائز ہو گا۔ باقی یہ سوال کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اگر آپ اس کے لئے ستر مرتبہ بھی استغفار کریں تو میں نہیں بخشوں گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضورﷺ کی وسیع القلبی، حلم اور رحمت کا تو یہی تقاضا تھا کہ آپ اپنے بد ترین دشمنوں کے لئے بھی استغفار چاہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر فرما دیا کہ میں سب کو معاف کر سکتا ہوں مگر محبوب کے گستاخوں کو معاف کرنا، یہ تو قانونِ محبت کا خلاف ہے۔ جس طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر حضورﷺ نے حضرت علی سے فرمایا، میرا نام (محمد رسول اللہ) کاٹ کر محمد بن عبد اللہ لکھ دو۔ لیکن حضرت علی نے یہ نام نہیں کاٹا اور فرمایا، لَا اَمْحُوْکَ اَبَدًا اور ان کا یہ نام نہ کاٹنا اور آپ کی بات کا نہ ماننا اور لَا اَمْحُوْکَ اَبَدًا کہنا آپ کی محبت کی وجہ سے تھا۔ اسی طرح آپ کے استغفار کے باوجود اللہ تعالیٰ کا عبد اللہ بن ابی منافق کو نہ بخشنا اور لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ فرمانا آپ کی محبت کی جہت سے تھا۔
٭ ایک مرتبہ حضرت علامہ کاظمی صاحب سے کسی نے پوچھا کہ جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت عمر کی یہ رائے تھی کہ انہیں قتل کر دیا جائے اور حضرت ابو بکر صدیق اور بعض دوسرے صحابہ کی رائے یہ تھی کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ حضورﷺ نے حضرت ابو بکر کی رائے کو پسند کر لیا تھا او ربعد میں قرآن حضرت عمر کی رائے کے مطابق نازل ہوا۔ چنانچہ ارشاد ہوا
تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ (س الانفال) تم مال دنیا کا ارادہ کرتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ کرتا ہے۔ اس سے لازم آیا کہ حضرت عمر کی رائے حضور کے مقابلہ میں صحیح ہو۔ علامہ کاظمی صاحب نے جواب میں فرمایا، یہ وعید ان لوگوں کی طرف متوجہ ہے جو نئے نئے اسلام میں آئے تھے اور جنہوں نے مال دنیوی کی طمع میں فدیہ کی رائے دی تھی اور حضرت ابو بکر صدیق نے ان کے اسلام قبول کر لینے کی توقع سے، انہیں چھوڑنے کی رائے دی تھی تاکہ ان کی آخرت سنور جائے۔ اسی وجہ سے حضورﷺ نے اس رائے کو پسند کیا اور اسی بات کو پسند فرما کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ اللہ تعالیٰ آخرت کا ارادہ کرتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو اپنی رائے قرار دیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے ان لوگوں کے مقابل بہتر تھی، جنہوں نے مال دنیا کی طمع میں فدیہ کی رائے دی تھی اور جس رائے کو حضورﷺ نے پسند فرما لیا تھا یعنی حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کی رائے، وہ مطلقاً بہتر تھی۔
٭ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ثنے اپنے رسالہ شمول الاسلام میں لکھا ہے کہ امام رازی نے
اَلَّذِیْ یَرَاکَ حِیْنَ تَقُوْمُ وَتَقَلُّبَکَ فِی السَّاجِدِیْنَ کے تحت حضور کے والدین کریمین کے ایمان کو بیان کیا ہے۔ جب ہم نے تفسیر کبیر میں اس آیت کی تفسیر دیکھی تو یہ مسئلہ نہ ملا بلکہ اس کے برعکس یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے۔ جب حضرت علامہ کاظمی صاحب سے پوچھا تو آپ نے فرمایا امام رازی نے اسرار التنزیل میں اس آیت کے تحت یہ تفسیر کی ہے اور اس کا ذکر امام جلال الدین سیوطی نے اپنے رسالہ التعظیم والمنتہ میں کیا ہے۔ اور ہم اس مسئلہ کو ظنی طور پر مانتے ہیں اور شیعہ حضرات اس کو اصول سے مانتے ہیں۔ امام رازی نے تفسیر کبیر میں اس مسئلہ کے اعتقادی ہونے کا انکار کیا ہے اور اسرار التنزیل میں اس کے ظنی ہونے کا اثبات کیا ہے۔


نجدی قاضی سے گفتگو
٭ حضرت علامہ کاظمی صاحب حرم رسول میں حاضر تھے۔ پرسوز گزارشات اور التجائیں کر رہے تھے۔ چہرہ حضورﷺ کی طرف اور پیٹھ کعبہ کی جانب تھی۔ نجدی پہرہ داروں نے منع کیا اور کہا کہ کعبہ کی طرف پیٹھ نہ کرو۔ بلکہ کعبہ کی طرف منہ کر کے حضورﷺ کی طرف پیٹھ کر لو۔ آپ نے ان کے انکار کی طرف ذرا التفات نہ کیا۔ دوسرے دن آپ کو قاضی کے سامنے پیش کیا گیا۔ قاضی صاحب نے پوچھا، کیا آپ قبر رسول کو کعبہ سے افضل سمجھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ تم کعبہ کی بات کرتے ہو، میں تو اس جگہ کو عرش سے بھی افضل جانتا ہوں۔ اس نے پوچھا، کوئی دلیل؟ آپ نے فرمایا، دیکھو، ازروئے قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،
لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَ زِیْدَنَّکُمْ وہاں بھی شکر گزار رہے۔ اب چاہئے تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اور بلندی پر لے جاتا۔ یہاں تک کہ عرش پر لے جاتا لیکن اللہ تعالیٰ انہیں حضورﷺ کے پہلو میں لائے گا۔ معلوم ہوا کہ جو عظمت اور بلندی جوارِ مصطفی میں ہے، وہ عرش کو بھی حاصل نہیں ہے۔ حضرت کاظمی صاحب نے جب یہ دلیل قائم کی تو نجدی قاضی دم بخود رہ گیا۔
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج