حاضر جوابی
٭ ۱۹۷۵ء میں رمضان المبارک کے جمعۃ المبارک کے موقع پر راقم الحروف جامع مسجد شاہی عید گاہ، ملتان میں جمعہ کی نماز کے لئے حاضر ہوا۔ دورانِ تقریر کسی نے سوال کیا کہ آپ لوگ حضورا کی بہت تعریف کرتے ہیں اور حد سے زیادہ تعریف کرنا اللہ سے بڑھانا ہے۔
٭ علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کی کوئی حد ہے؟ وہ کہنے لگا کہ نہیں، وہ تو لا محدود ہے۔ آپ نے فرمایا، تو بھئی، ہم کیسے بڑھا سکتے ہیں! یہ جواب سن کر وہ خاموش ہو گیا۔
٭ ۲۷؍ ربیع الاول ۱۴۰۰ھ بمطابق ۱۵؍فروری ۱۹۸۰ء بروز جمعۃ المبارک راقم الحروف حضرت مولانا حامد علی خاں صاحب نقشبندی مجددی رامپوری علیہ الرحمہ کے چہلم پر جامع مسجد غوثیہ، قلعہ کہنہ قاسم باغ، ملتان میں حاضر ہوا۔ حضرت علامہ قبلہ کاظمی صاحب نے دورانِ تقریر حیاتِ اولیاء کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نے مسئلہ حیات النبی پر تقریر کی تو ایک ڈاکٹر صاحب، جن کی دوکان لوہاری دروازہ (ملتان) کے باہر ہے، انہوں نے یہ اعتراض کیا کہ کاظمی صاحب ویسے ہی عقیدت کی بنا پر کہہ رہے ہیں، میں نہیں مانتا کہ قبر میں بھی کوئی زندہ ہوتا ہے۔
٭ قبلہ کاظمی صاحب نے فرمایا کہ میں اس ڈاکٹر کی دوکان پر چلا گیا۔ اتفاق سے اس ڈاکٹر کی دوکان کے سامنے ایک حاملہ اونٹنی کھڑی تھی۔ علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب آپ قبر میں تو کسی کو زندہ نہیں مانتے لیکن اس اونٹنی کے پیٹ میں جو بچہ ہے، وہ تو زندہ ہے۔ کہنے لگا، ہاں زندہ ہے۔ علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا کہ اگر اس بچہ کو نکال کر اس اونٹنی کے پیٹ میں آپ کو بند کر دیا جائے تو کیا آپ زندہ رہیں گے۔ اگر اس میں بچہ زندہ ہے تو آپ کو بھی زندہ رہنا چاہئے۔ کہنے لگا کہ یہ نظام اور ہے۔ علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا کہ اگر یہ نظام اور ہے تو وہ قبر کا نظام بھی اور ہے۔ وہ خاموش ہو گیا۔
٭ ۱۵؍ ذیقعدہ ۱۴۰۰ ھ بمطابق ۲۶؍ ستمبر ۱۹۸۰ بروز جمعۃ المبارک جامع مسجد شاہی عید گاہ، ملتان میں راقم الحروف حاضر تھا۔ دورانِ تقریر حضرت علامہ کاظمی صاحب سے کسی نے اعتراض کیا کہ آپ لوگ حضورﷺ کی بہت زیادہ تعریف کرتے ہیں حالانکہ التحیات میں ہے کہ
اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے بندے ہیں۔ تو بندے کی سی تعریف کرنی چاہئے۔
٭ حضرت علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا کہ بھئی التحیات میں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ بھی تو ہے۔ اگر حضور ﷺ عام بندے ہیں اور ان میں کوئی تخصیص و فضیلت نہیں تو آپ التحیات میں السلام علیک یا فلاں صاحب یا خان صاحب یا چوہدری کیوں نہیں کہتے۔ معلوم ہوا کہ حضورﷺ عبد خاص ہیں اور ایسے عبد کہ تمام عباد اللہ میں ممتاز ہیں۔ عبد کے معنی بندہ ہیں۔ بندہ غلام کو بھی کہتے ہیں، جو کسی کی ملک ہو۔ تو سب بندے اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں۔ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔ لیکن ان میں مراتب کا فرق ہے۔ دیکھیئے، ایسے بندے بھی ہیں جو اللہ کو مانتے ہی نہیں اور نافرمان ہیں اور ایسے بندے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں لیکن ان سے کچھ غلطیاں اور گناہ سرزد ہو جاتے ہیں اور ایک ایسے بندے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہر امر کی تعمیل کرتے ہیں۔
٭ جس طرح اللہ کو نہ ماننے والا، خدا کے ماننے والے گناہ گار بندے کے برابر نہیں، اسی طرح خدا کو ماننے والا گناہ گار بھی اللہ کے ماننے والے کامل و اکمل بندے کے برابر نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ حضورﷺ کے عبد ہونے کے یہ معنی نہیں کہ حضورﷺ ہمارے جیسے بندے ہیں بلکہ یہ معنی ہیں کہ حضور ﷺ معبود نہیں۔ الحمد للّٰہ! ہمارا ایمان ہے کہ حضورﷺ اللہ کے عبد ہیں اور جو عبد نہ ہو وہ تو معبود ہوتا ہے اور ہم حضور پر نور ﷺ کو عبد مانتے ہیں۔ مگر بقول علامہ اقبال علیہ الرحمہ

عبد دیگر عبدہ چیزے دگر
او سراپا انتظار ایں مُنْتَظَرْ

شیعہ عالم سے گفتگو
٭ ۱۹۵۴ء کا واقعہ ہے کہ موضع احسان پور ضلع رحیم یار خان کے شیعہ حضرات نے اہلسنّت کو مناظرہ کے لئے زبانی چیلنج کیا، جس کو اہلسنّت نے منظور نہ کیا اور ان سے تحریری چیلنج کا مطالبہ کیا، مگر شیعوں نے صاف انکار کر دیا۔ اہلسنّت نے شیعہ حضرات کے جلسہ کے ایام میں ایک تبلیغی جلسہ مقرر کر کے حضرت علامہ کاظمی صاحب علیہ الرحمہ اور بعض دوسرے علماء اہلسنّت کو دعوت دی۔ صاحب دعوت محمد حسن صاحب نے شیعہ حضرات کے زبانی چیلنج اور جلسہ کا ذکر بھی کر دیا۔ حضرت علامہ کاظمی صاحب احتیاطاً ضروری کتابیں ہمراہ لے کر احسان پور تشریف لے گئے۔ حضرت قبلہ سلطان بالا دین اویسی صاحب بھی علماء اہلسنّت کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ احسان پور پہنچ کر معلوم ہوا کہ مشہور شیعہ عالم مولوی اسماعیل آف گوجرہ منڈی (ضلع فیصل آباد) آج تمام دن اہلسنّت کو اپنے مخصوص انداز میں مناظرے کا چیلنج دیتا رہا۔ علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا کہ مولوی اسماعیل صاحب کو یہیں بلا لیجئے۔ جو کچھ بات چیت ہو گی، ہمارے ان کے مابین بالمشافہ ہو جائے گی۔ چنانچہ بصد مشکل مولوی اسماعیل صاحب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تشریف لے آئے۔ اہلسنّت اور شیعہ کے داعیان جلسہ بھی موجود تھے اور ان کا خیال تھا کہ بنات النبی ﷺ اور نکاح اُمِّ کلثوم اور باغ فدک کے مسئلہ پر سنی شیعہ علماء کی گفتگو ہو جائے اور ہم لوگ جانبین کی گفتگو سن لیں۔ جن لوگوں کے دل میں شکوک و شبہات ہیں، اس طرح وہ آسانی سے زائل ہو جائیں گے۔ لیکن مولوی اسماعیل صاحب بنات النبی ﷺ اور نکاح اُمِّ کلثوم کے مسئلہ پر گفتگو کرنے کے لئے کسی طرح تیار نہ ہوئے اور مسئلہ خلافت اور مسئلہ فدک پر مناظرہ کے لئے بار بار چیختے رہے۔
٭ حضرت علامہ کاظمی صاحب نہایت متین، سنجیدہ، مہذب اور باوقار عالم دین تھے۔ آپ کی گفتگو بھی نہایت سنجیدہ اور فاضلانہ تہذیب کے ساتھ تھی۔ علامہ کاظمی صاحب نے مولوی اسماعیل گوجروی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ مولانا جس مسئلہ پر آپ گفتگو کرنا چاہیں گے، انشاء اللہ تعالیٰ میں اسی مسئلہ پر گفتگو کروں گا، مگر یہ بتائیے کہ بنات النبیﷺ اور نکاح اُمِّ کلثوم کے مسئلہ پر گفتگو کرنے سے آپ اس قدر پہلو تہی کیوں فرما رہے ہیں۔ خلافت کا مسئلہ تو ایک بنیادی مسئلہ ہے، اس پر ضرور گفتگو ہونی چاہئے اور باغ فدک کے مسئلہ پر بھی بات کرنے کے لئے حاضر ہوں لیکن میری ناقص رائے میں اگر بنات النبیﷺ اور نکاح سیدہ اُمِّ کلثوم کا مسئلہ طے ہو جائے تو یہ مسئلہ باغ فدک کے فیصلہ کی بہ نسبت منزلِ مقصود سے زیادہ قریب ہو گا کیونکہ باغ فدک کے مسئلہ میں میرا منصب یہ ہو گا کہ میں دلائل کی روشنی میں اس امر کو ثابت کروں کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا باغ فدک نہ دینا ان کے حق میں موجب طعن نہیں اور آپ کا منصب یہ ہو گا کہ (معاذ اللّٰہ) اس چیز کو آپ ان کے لئے موجب طعن ثابت کریں۔ ثبوت طعن آپ کا منصب ہے اور نفی طعن میرا ذمہ۔ اور یہ ظاہر ہے کہ نہ ثبوت طعن کے لئے عدم ایمان و نفی خلافت حقہ لازم ہے، نہ نفی طعن ثبوت ایمان و خلافت کو مستلزم ہے۔ البتہ اگر بنات النبی ﷺ کا مسئلہ زیر بحث آ جائے اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عقد میں زمانۂ اسلام میں (غیر مومنین کے ساتھ مومنات کا نکاح حرام ہونے کے بعد) نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیوں کا ہونا دلائل سے ثابت ہو جائے۔ نیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بیٹی اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح پایۂ ثبوت کو پہنچ جائے تو یہ امر منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لئے بہترین ذریعہ اور قریب ترین راستہ ہے۔ مولوی اسماعیل صاحب گوجروی حضرت علامہ کاظمی صاحب کے جامع کلام کو پوری طرح نہ سمجھ سکے۔ انہوں نے یک لخت شور مچانا شروع کر دیا اور اپنی رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمانے لگے کہ واہ کاظمی صاحب کبھی رشتہ داریوں سے بھی مسائل حل ہوا کرتے ہیں۔ اگر حضور (ﷺ) کی بیٹیوں کا نکاح (حضرت) عثمان رضی اللہ عنہ سے یا (حضرت) عمر رضی اللہ عنہ کا نکاح اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا سے ثابت ہو جائے تو اس سے فقط رشتہ داری ثابت ہو گی، ایمان و خلافت کا ثبوت کیسے ہو گا؟ علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا کہ مولانا! آپ میرا مطلب نہیں سمجھے۔ میں رشتہ داری کو دلیل ایمان و خلافت نہیں بنا رہا۔ میرا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مومنات کا نکاح غیر مومنین سے حرام کر دیا تو اگر اس حکم کے بعد حضورﷺ یا حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کسی غیر مومن سے اپنی مقدس مومنہ صاحبزادی کا نکاح فرمائیں تو نعوذ باللّٰہ حضرت محمدﷺ اور حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم فرمانِ خداوندی کے نافرمان قرار پائیں گے اور یہ ظاہر ہے کہ آپ اسے محال ہی کہیں گے۔ اس لئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غیر مومن ہونا بھی محال ہو گا۔ رشتہ داری کو ہرگز اپنے دعویٰ کی دلیل نہیں بناتا۔ رشتہ داریوں کو دلیل بنانا تو آپ حضرات کا کام ہے۔ کیونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ اور اہل بیت کرام کے صحابہ کرام پر افضل ہونے کی دلیل آپ کے نزدیک بھی قرابت اور رشتہ داری ہے، جسے آپ خواہ مخواہ میرے سر پر تھوپ رہے ہیں۔
٭ مولوی اسماعیل صاحب سے علامہ کاظمی صاحب کے ارشادات کا کوئی جواب نہ بن آیا اور کھسیانے ہو کر وہی باتیں دہرانی شروع کیں۔ فرمانے لگے، رشتہ داریوں سے ایمان ثابت ہوتا تو آپ کے نزدیک حضور ﷺ کے والد مومن ہوتے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ کی لڑکیوں کے متعلق آپ کے اہلسنّت کا مذہب ہے کہ کافروں سے بیاہی گئیں۔ اب بتائیے رشتہ داری دلیل ایمان ہے تو ان کفار کو بھی آپ مومن تسلیم کرتے ہیں، جن سے حضور کی بیٹیوں کا نکاح ہوا تھا۔
٭ علامہ کاظمی صاحب نے نہایت متانت اور سنجیدگی سے جواب دیا کہ مولانا! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضورﷺ کی نورانی صاحبزادیوں کا نکاح زمانۂ اسلام میں ہونا تو ایک ایسی حقیقت ہے جس کو آپ کے شیعہ علماء بھی نہیں چھپا سکتے۔ انشاء اللہ! آپ کی کتابوں سے ثابت کروں گا کہ حضرت ذو النورین رضی اللہ عنہ کو بارگاہِ نبوت سے یکے بعد دیگرے دو نور (دو صاحبزادیوں کی شکل میں) زمانۂ اسلام میں عطا ہوئے۔ آپ اس مسئلہ پر گفتگو کے لئے آمادہ تو ہو جائیں، پھر آپ پر واضح کر دیا جائے گا کہ بے بنیاد روایات سے فریب دہی کا پردہ کس طرح چاک کیا جاتا ہے۔ آپ ایک روایت ایسی پیش کریں کہ حضور نبی کریمﷺ نے زمانۂ اسلام میں کسی بے دین کے ساتھ اپنی صاحبزادی کا نکاح کیا ہے اور بحمدہٖ تعالیٰ میں آپ کی مستند کتابوں سے ابھی ثابت کروں گا کہ حضورﷺ نے زمانۂ اسلام میں اپنی دو صاحبزادیوں کا نکاح (یکے بعد دیگرے) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے اور حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ نے اپنی بیٹی حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا۔ حضور ﷺ کے والدین کریمین کا مسئلہ تو اسے آپ نے بالکل بے محل پیش کر دیا۔ اول تو میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ رشتہ داری میرے نزدیک ہرگز دلیل ایمان نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ اور حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کا آپ کے مسلّمہ اصول کے موافق احکام خداوندی کی نافرمانی سے پاک ہونا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمررضی اللہ عنہ کے ایمان کی دلیل ہے۔ دوسرے یہ کہ میرا مسلک اس مسئلہ میں یہ ہے کہ حضور سرورِ کونین ﷺ کے والدین کریمین مومن تھے۔
٭ مولوی اسماعیل صاحب حضرت علامہ کاظمی صاحب کے اس واضح اور روشن جواب کو بھی نہ سمجھ سکے۔ بڑے زور سے چلا کر بولے۔ ارے مسلمانو! میں سنیوں کی پانچ سو کتابوں سے ابھی ثابت کر سکتا ہوں کہ سنیوں کے مذہب میں رسول اللہ کے والدین کفر پر مرے اور ہائے مسلمانو! رسول اللہ کی کتنی توہین ہو گئی۔ ہائے ہائے رسول اللہ کے والدین کو سنی کافر کہتے ہیں۔ دیکھو، یہ سنیوں کی کتاب ہے، اس میں لکھا ہے،
ماتا علی الکفر(شرح فقہ اکبر)
٭ حضرت علامہ کاظمی صاحب نے نہایت فاضلانہ انداز میں فرمایا کہ مولانا! آپ کی گفتگو مجھ سے ہو رہی ہے، نہ کہ ان حاضرین سے۔ آپ میری طرف متوجہ ہو کر بات کیجئے۔ میں آپ کو جواب دوں گا۔ ان عوام سے آپ کیا تخاطب فرما رہے ہیں۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ حضورﷺ کے والدین کریمین کے ایمان یا عدم ایمان کی صراحت کسی نص قطعی میں وارد ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر وارد ہوئی ہے تو وہ نص قطعی پیش فرمائیں، ورنہ انکار کریں کہ یہ مسئلہ منصوص قطعی نہیں۔ مولوی اسماعیل صاحب اس سوال کا کوئی جواب نفی یا اثبات میں نہ دے سکے۔ علامہ کاظمی صاحب نے مکرر فرمایا کہ مولانا فرمائیے۔ حضورﷺ کے والدین کریمین کے ایمان یا عدم ایمان کی صراحت کسی نص قطعی میں ہے یا نہیں؟ لیکن مولوی اسماعیل صاحب مبہوت ہو کر رہ گئے۔ بالآخر علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا کہ مولانا! میں دعوے سے کہتا ہوں کہ یہ مسئلہ نص قطعی میں منصوص و مصرح نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ جو مسئلہ منصوص قطعی نہ ہو وہ ظنی اور کبھی مجتہد فیہ ہوتا ہے۔ علماء نے کتاب و سنت کے دلائل میں غور و خوض کیا اور اپنے اپنے اجتہاد سے کام لیا۔ اجتہادی مسائل میں عموماً اختلاف واقع ہو جاتا ہے۔ اس لئے یہ مسئلہ بھی مختلف فیہ بین العلماء ہو گیا۔ بعض نے عدم ایمان کا قول کیا اور بعض نے ایمان کا اور بعض نے سکوت اختیار کیا۔ چونکہ تینوں قول اجتہادی ہیں، اسلئے کسی کے قائل کی تضلیل و تفسیق نہیں کی جا سکتی۔ محض رشتہ داری ہمارے نزدیک دلیل ایمان نہیں جیسا کہ آپ کے نزدیک ہے۔ اسلئے اجتہاد اور دلائل میں غور وخوض کی ضرورت پڑی اور اختلاف واقع ہوا لیکن اصل دین سے چونکہ اس مسئلہ کو تعلق نہیں اسلئے ہمارے نزدیک یہ فروعی مسائل میں ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس مسئلہ کے ذکر سے بجز نقصان کے آپ کو کیا فائدہ پہنچا؟
٭ مولوی اسماعیل صاحب پھر وہی بڑے زور سے دونوں ہاتھ رانوں پر مار کر فرمانے لگے، ہائے مسلمانو! غضب ہے۔ رسول اللہ کی اس سے بڑھ کر بھی کوئی توہین ہو سکتی ہے کہ حضور کے والدین کو کافر کہا جائے۔
٭ علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا، اچھا مولانا یہ فرمائیے کہ حضورﷺ کے والدین کریمین کے ایمان کا مسئلہ آپ کے نزدیک اصولی ہے یا فروعی؟ مولوی اسماعیل صاحب اس سوال کا بھی کوئی جواب نہ دے سکے۔ علامہ کاظمی صاحب نے مکرر فرمایا، مولانا! فرمائیے، آپ بولتے کیوں نہیں۔ جلدی بتائیے، آپ کے نزدیک یہ مسئلہ اصولی ہے یا فروعی؟ قبلہ کاظمی صاحب کے بار بار دریافت فرمانے پر بھی مولوی اسماعیل صاحب خاموش رہے۔ بالآخر شیعہ مفتی عابد حسین آف ڈیرہ غازی خان کہنے لگے کہ یہ مسئلہ اصولی بھی ہے، فروعی بھی۔ مولوی عابد حسین کے اس انوکھے جواب پر اہل فہم حاضرین ہنس پڑے تو مولوی اسماعیل صاحب جلدی سے فرمانے لگے، نہیں نہیں، ہمارے نزدیک یہ مسئلہ فروعی ہے۔
٭ قبلہ کاظمی صاحب نے نہایت متین انداز میں فرمایا کہ مولانا! ابھی تو آپ ارشاد فرما رہے تھے کہ مسلمانو! رسول اللہ کی اس سے بڑھ کر کیا توہین ہو سکتی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کے والدین کو کافر کہہ دیا جائے۔ آپ کے اس ارشاد کا واضح مطلب یہی ہے کہ اس مسئلہ میں ایمان نہ ماننے کا قول توہین رسول ہے۔ اب آپ اس مسئلہ کو فروعی فرما رہے ہیں۔ آپ کی ان دونوں باتوں کا صاف نتیجہ ہے کہ توہین رسول کا مسئلہ بھی آپ کے نزدیک فروعی ہے۔ العیاذ باللّٰہ! کسی مسلمان کا یہ عقیدہ نہیں ہو سکتا، جو اس وقت آپ نے ظاہر فرمایا۔ مولوی اسماعیل صاحب اور اس کے ساتھی قبلہ کاظمی صاحب کی اس گرفت سے جانبر نہ ہو سکے۔


عیسائی مبلغ کا قبول اسلام
٭ مولانا ابن بشیر صاحب دہلوی اس مبارک موقعہ پر موجود تھے، جس میں عبد المسیح صاحب مبلغ عیسائی مشنری نے اسلام قبول کرنے کا اعلان فرمایا۔ علامہ ابن بشیر صاحب مدرسہ عربیہ انوار العلوم کے فاضل ہیں۔ انہوں نے یہ انٹرویو ہفت روزہ سیر وسفر ملتان کے لئے حاصل کیا تھا۔ ماہنامہ السعید (ملتان) جولائی ۱۹۶۳ء نے بھی یہ انٹرویو یوں شائع کیا۔
٭ ۱۷؍ جون کی شام مدرسہ عربیہ انوار العلوم میں روح پرور اجتماع تھا، جس میں ایک عیسائی مبلغ نہایت شستہ اور فصیح عربی میں اپنے اسلام لانے پر فخر کرتے ہوئے یہ اعلان کر رہا تھا
٭ میں نے اسلام کو دین حق پایا۔ یہ دین صحیح معنی میں وحدانیت کی تعلیم دیتا ہے۔ اب میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم خدا کے رسول اور اس کے بندے ہیں اور خدا وحدہٗ لاشریک ہے۔ مجھے اسلام لانے پر فخر ہے۔
٭ عبد المسیح (سابقہ نام) کی یہ تقریر قریباً نصف گھنٹہ جاری رہی۔ اس کے بعد علامہ کاظمی صاحب نے ان کو کلمہ طیبہ پڑھایا۔ دین پر استقامت کی تلقین فرمائی اور ان کا نام عبد الرحمن رکھا اور حاضرین کو مختصراً یہ بتایا کہ ان سے ملاقات کب ہوئی تھی اور پانچ یوم سے ملتان میں کن کن مسائل پر گفتگو ہوئی اور علمی و عقلی دلائل سے کس طرح یہ ثابت کیا گیا کہ اسلام دین حق ہے۔ خداوند تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ اس کی ذات
لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ہے۔ حاضرین نے پرجوش نعرہ ہائے تکبیر و رسالت بلند کئے اور اسلام زندہ باد کے نعروں سے اپنے بھائی کا استقبال کیا اور علامہ کاظمی صاحب کی علمیت پر نعرہ ہائے تحسین بلند کئے۔
٭ میں نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نو مسلم عبد الرحمن سے عرض کیا کہ میں آپ سے جریدہ سیر و سفر کے لئے انٹرویو لینا چاہتا ہوں۔ عبد الرحمن صاحب نے فرمایا کہ اس وقت تو بے حد مصروفیت ہے۔ کل کوئی سا وقت رکھ لیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور واپس چلا آیا۔
٭ دوسرے روز صبح ۹ بجے مدرسہ انوار العلوم پہنچا۔ دار الحدیث میں حضرت علامہ کاظمی صاحب اور عبد الرحمن صاحب مع چند علماء و طلباء تشریف فرما تھے۔ علامہ کاظمی صاحب عبد الرحمن صاحب سے عربی میں گفتگو کر رہے تھے۔
٭ عبد الرحمن صاحب کے متعلق عرض کر دوں کہ ان کو عربی، انگریزی اور اردو پر پورا پورا عبور حاصل تھا۔ وہ ہر سہ زبانوں کو مادری زبانوں کی طرح بولتے ہیں۔ انجیل اور قرآن پر گہری نظر ہے۔ مسیحیت اور اسلام کا بڑا گہرا مطالعہ ہے۔ پاکستان، ہندوستان، ایران، شام اور مصر میں عیسائیت کی تبلیغ کرتے رہے ہیں۔ ہر بات مدلل طریقہ پر کرتے ہیں اور دوسرے سے بھی دعوے کے ساتھ دلیل طلب کرتے ہیں۔ بڑے بڑے علماء سے ملاقاتیں کر چکے ہیں بلکہ بعض کو تو عیسائیت کی دعوت بھی دی ہے۔ علامہ کاظمی صاحب جب گفتگو سے فارغ ہوئے تو میں نے اپنا منشا ظاہر کیا۔ عبد الرحمن صاحب مسکرا کر خاموش ہو گئے۔ میں نے ان کی مسکراہٹ کو رضا مندی پر محمول کرتے ہوئے اپنے سوال کی ابتداء کی۔
سوال٭ آپ یہ فرمائیے، وہ کون سی بات تھی، جس نے آپ کو اسلام کی طرف متوجہ کیا۔ کوئی خاص واقعہ تھا یا کسی مسلمان کی زندگی سے آپ متاثر ہوئے؟
جواب٭ عبد الرحمن صاحب نے میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا، مجھے متاثر کرنے والے صرف اسلام کے زریں اصول تھے۔ کوئی واقعہ یا شخصیت نہیں۔
٭ میں نے ذرا وضاحت چاہی تو فرمانے لگے۔ دیکھیے، اصل چیز وحدانیت ہے۔ آپ نظام کائنات پر غور فرمائیں تو یہ چیز واضح ہو گی کہ اس نظام کو قائم کرنے اور چلانے والی کوئی ذات ضرور ہے۔ یہ سب کچھ اپنے آپ نہیں ہو رہا بلکہ کسی کے حکم کے ماتحت ہے۔ پھر نظام کائنات کا احسن طور پر ہونا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ وہ ذات ذاتِ واحد ہے۔ اگر چند خدا ہوتے تو فساد برپا ہو جاتا اور یہ حسن ترتیب باقی نہ رہتی۔ میں نے اسلام اور دیگر مذاہب کا بڑا گہرا مطالعہ کیا۔ مجھے اسلام میں وحدانیت ہی ملی۔ دوسرے مذاہب میں تثلیث ہے۔ کہیں مختلف شکلوں میں خدا کی جلوہ نمائی ہے، کہیں ستاروں کی پرستش ہے تو کہیں سورج کی پوجا۔ خود عیسائیت میں کہیں یہ تصور ملتا ہے کہ خدا پہلے چھپا ہوا تھا، پھر بشکل مسیح جلوہ نما ہوا۔ کہیں حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا مان کر تین کے درمیان مشترک مانا جاتا ہے۔ اس بات نے مجھے مجبور کیا کہ میں قرآن کا مطالعہ کروں۔
سوال٭ قرآن کے مطالعہ سے آپ پر کیا اثر مرتب ہوا؟
جواب٭ قرآن کے واضح دلائل نے یہ ثابت کیا کہ خدا
وحدہٗ لاشریک ہے۔ وہ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ہے۔ وہ خاندان، عزیز و اقارب سب سے پاک ہے۔ پھر قرآن کا اندازِ بیان، اس کی فصاحت و بلاغت، اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ یہ بندے کا کلام نہیں بلکہ خدا کا کلام ہے۔
سوال٭ پھر تو آپ کو قرآن کے مطالعہ کے بعد ہی مسلمان ہو جانا چاہئے تھا۔ تاخیر کا کوئی خاص سبب تھا؟
جواب٭ آپ کا خیال صحیح ہے۔ مگر قرآن پاک کی بعض آیات کے متعلق میرے کچھ شبہات تھے۔ میں ان کے تسلی اور تشفی بخش جواب چاہتا تھا۔
سوال٭ تو آپ نے اس سلسلہ میں علماء سے ملاقات کی؟
جواب٭ جی ہاں! میں نے بہت سے علماء سے ملاقات بھی کی اور خط و کتابت بھی۔ ہر دو طرح سے سوال و جواب جاری رہے۔ میں پھر سوال و جواب پر اعتراض کرتا تھا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ بعض نے میرے متعلق یہ خیال کیا کہ میں صرف ان حضرات کو پریشان کر رہا ہوں۔ بعض نے الزامی جوابات دئیے، بعض غصے ہو گئے۔ بعض نے کہا، پھر کسی وقت ملاقات کرنا۔ ہم اور علماء کو جمع کریں گے۔
سوال٭ آپ کی علامہ کاظمی صاحب سے کب ملاقات ہوئی اور کس طرح؟
جواب٭ جیسے میں نے ابھی عرض کیا کہ میں اپنے شبہات کے سلسلہ میں علماء سے ملاقات کرتا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ تم کاظمی صاحب سے ملاقات کرو۔ وہ محرم میں کراچی تشریف لائیں گے۔ یہ ایک سال قبل کا واقعہ ہے۔ میں ان دنوں کراچی میں تھا۔ ذی الحجہ کے آخری ایام تھے۔ میں ملاقات کرنے کے لئے ٹھہر گیا۔ جب حضرت کاظمی صاحب کراچی تشریف لائے۔ میں نے آپ کی تقریر آرام باغ میں سنی۔ میں نے ایک پرچہ لکھ کر بھیجا، جس میں اعتراض کیا گیا تھا۔ کاظمی صاحب نے اس کا مدلل جواب دیا۔ میں نے سوچا، ان سے ضرور ملاقات کیجائے۔ ویسے بھی کراچی کے اکثر علماء مجھ سے شناسا تھے۔ دوسرے روز مجھے کاظمی صاحب کی خدمت میں ہاؤسنگ سوسائٹی لے جایا گیا۔ میری حضرت علامہ کاظمی صاحب سے پہلی ملاقات تھی۔ میرے اعتراضات کا انہوں نے جواب دیا۔ مگر ان کی مصروفیت اور مختصر قیام کی وجہ سے طویل ملاقات نہ ہو سکی۔ علامہ کاظمی صاحب نے مجھے ملتان آنے کی دعوت دی اور دعوتِ اسلام بھی پیش کی۔ میں نے عرض کیا،
اُفکرُ یعنی میں سوچوں گا۔
٭ ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔ خلش باقی تھی۔ میں تشفی چاہتا تھا۔ کراچی سے حیدر آباد، سکھر اور بہاولپور میں مختلف علماء سے گفتگو کی۔ مقصد میں کامیابی نہ ہوئی۔ میں نے سوچا ملتان قریب ہے۔ کاظمی صاحب نے بھی دعوت دی تھی۔میرے دل میں ان کے جوابات کی لذت ابھی تک باقی تھی۔ میں ملتان آ گیا۔
سوال٭ آپ کتنے یوم کاظمی صاحب سے مناظرہ فرماتے رہے؟ اور کن مسائل پر گفتگو ہوتی رہی؟
جواب٭ میں نے پانچ دن تک کاظمی صاحب سے ان تمام مسائل پر گفتگو کی، جن کے متعلق میرے ذہن میں عرصہ سے شبہات تھے اور ان کے تسلی بخش جواب مجھے نہیں ملے تھے۔
سوال٭ اب آپ کو تسلی ہو گئی یا کچھ شبہات باقی ہیں؟
جواب٭ میرا ایمان لانا یعنی دین اسلام کو قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ میں مطمئن ہو گیا ہوں۔
سوال٭ اپنے کچھ اعتراض آپ بتا سکتے ہیں، جن کی تشفی کاظمی صاحب نے فرمائی؟
جواب٭ پانچ روز کی گفتگو مکمل طور پر تو نہ بتا سکوں گا، البتہ چند اہم اعتراض اور شبہات بتائے دیتا ہوں۔
٭
ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کے متعلق میرا شبہ یہ تھا کہ جب خدا عرش پر رونق افروز ہے اور عرش مسلمانوں کے نزدیک محدود ہے تو اس پر بیٹھنے والا بھی محدود ہو گا حالانکہ خداوند تعالیٰ ہر لحاظ سے یعنی ذات اور صفات کے لحاظ سے غیر محدود ہے تو پھر اس آیت کا کیا مفہوم ہو گا؟
سوال٭ کاظمی صاحب نے اس کا جواب کیا دیا؟
جواب٭ کاظمی صاحب سے ہی معلوم فرما لیں، وہ آپ کو بہت بہتر طریقے سے بتا سکیں گے۔
٭ میں حضرت علامہ کاظمی صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔ عرض کیا، حضرت آپ فرمائیں۔
٭ حضرت علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا،
اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کے معنی جو انہوں نے سمجھے ہیں، وہ صحیح نہیں۔ اِسْتَوٰی بمعنی جَلَسَ نہیں ہے بلکہ بمعنی اِسْتَعْلٰی ہے۔ پروردگار کی بلندی اور غلبہ مراد ہے نہ کہ رب کا بیٹھنا۔ اس صورت میں وہ شبہ ختم ہو جاتا ہے جو غلط مفہوم لینے سے پیدا ہوتا ہے۔
٭ میں نے پھر عرض کیا ان کا دوسرا اعتراض کیا تھا؟
٭ کاظمی صاحب نے فرمایا، ان کا دوسرا اعتراض یہ تھاکہ قرآن پاک کی آیت ہے،
وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہٖ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے نہیں کوئی رسول بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان کے ساتھ۔
٭ ان کا اعتراض یہ ہے کہ آپ کی زبان تو اردو ہے۔ نبی کی زبان عربی تھی۔ تو پتہ چلا کہ ان کی بعثت آپ کی طرف نہ تھی، صرف عربوں کے لئے تھی۔ کیونکہ قرآن
بِلِسَانِ قَوْمِہٖ فرما رہا ہے۔ یا یہ کہ وحی کا نزول اردو میں بھی ہوا ہو۔
٭ علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا، میں نے جواب دیا ہے کہ قوم اور امت میں فرق ہے۔ قوم سے مراد یہ ہے کہ جس میں نبی کی پیدائش ہو، وہ نبی کی قوم ہے۔ ہم نبی کی امت ہیں، قوم نہیں۔ قرآن نے
بِلِسَانِ اُمَّتِہٖ نہیں فرمایا بلکہ بِلِسَانِ قَوْمِہٖ فرمایا ہے۔ نبی کی زبان وہ ہوتی ہے، جس قوم میں وہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر بِلِسَانِ اُمَّتِہٖ ہوتا تو اعتراض درست ہوتا مگر اس آیت میں بِلِسَانِ قَوْمِہٖ ہے۔ لہٰذا یہ اعتراض بھی درست نہیں۔
٭ میں نے پھر عرض کیا، کوئی اور اہم سوال جو انہوں نے کیا ہو، وہ بھی فرما دیں۔
٭ علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا، یہ چار پانچ دن اعتراضات اور ان کے جوابات دینے میں ہی گزرے ہیں، آپ کیا کیا نوٹ کریں گے۔ میں نے عرض کیا پھر بھی کچھ نہ کچھ تو اور فرمائیں۔
٭ علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا، ایک اعتراض یہ بھی تھا۔ قرآن کریم کی آیت ہے۔
مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ مِّنَ التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ (سورۃ المائدہ۔ آیت ۴۸۔ پ ۶) جس کا معنی یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ کا نبی تصدیق کرنے والا ہے اس کی جو تمہارے پاس توریت اور انجیل سے ہے۔ تو جب خدا کا نبی تصدیق کر رہا ہے تو توریت اور انجیل تحریف شدہ نہیں ہو سکتی۔ اگر تحریف شدہ ہے تو تصدیق کیسی؟ اور وہ بھی نبی کی۔ پتہ چلا کہ مسلمانوں کا یہ اعتراض غلط ہے کہ توریت اور انجیل میں تحریف ہوئی۔
سوال٭: آپ کا کیا جواب تھا؟
جواب٭ علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا، میں نے ان کو بتایا کہ
مِـنَ التَّـوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ میں مِنْ بیانیہ ہے۔ جسکے معنی یہ ہیں کہ خدا کا نبی تصدیق کرنیوالا ہے، اسکی جو تورات اور انجیل میں سے ہے۔ ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے کہ ہم تورات اور انجیل کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس پر ایمان رکھتے ہیں جو منزل من اللّٰہ ہے اور یہی مفہوم ہے اس آیت کا۔ توریت اور انجیل سے جو ہے، خدا کا نبی اس کا مصدق ہے۔
٭ علامہ کاظمی صاحب سے میں نے عرض کیا، آپ کو اس کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ آپ کی عظیم قابلیت اور قوی دلائل سے ان کے شبہات دور ہو گئے اور خداوند قدوس نے ان کو ہدایت فرمائی۔
٭ علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا، اصل بات یہ ہے کہ
وَاللّٰہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ پروردگار نے جب چاہا، ہدایت فرما دی۔ میرے دلائل یا علمیت کو دخل نہیں۔ دوسرے علماء کرام نے بھی ان کو یہی جواب دئیے ہوں گے۔ مگر اب پروردگار نے ان سے غفلت کے پردے دور فرما دئیے اور ان کو ہدایت نصیب ہوئی۔ دعا کرو کہ پروردگار انہیں استقامت عطا فرمائے۔
٭ میں نے عبد الرحمن صاحب سے عرض کیا، علامہ کاظمی صاحب کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے جواب دیا، آپ کی علمیت کا اندازہ تو اس سے ہو سکتا ہے کہ میرے شبہات کی تسکین کاظمی صاحب نے فرمائی۔ آپ کی شخصیت علمی دنیا میں مایہ ناز شخصیت ہے۔ حاضر جوابی قدرت نے کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے۔ حافظہ غضب کا ہے اور سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اپنے علم پر غرور اور تکبر نہیں۔ آپ کی ذات انکساری اور محبت کا نمونہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ علامہ سید احمد سعید کاظمی صاحب ملتان میں ایک عظیم علمی شخصیت تھے۔ ملتان کے علمی حلقے علامہ موصوف کے تبحر علمی اور اندازِ بیان سے بے حد متاثر تھے۔ کاظمی صاحب کی علمی کاوشوں نے ملتان کی عظمت کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ اس کی زندگی میں ایک عرصے کا اور اضافہ کر دیا۔


انبیاء کرام کی موت کے بارے میں ایک سوال
٭ جامعہ انوار العلوم، کچہری روڈ، ملتان کے سالانہ جلسہ دستارِ فضیلت کے موقع پر کسی نے علامہ کاظمی صاحب سے انبیاء کرام علیہم السلام کی موت کے اختیاری یا اضطراری ہونے کے بارے میں سوال کیا۔ علامہ کاظمی صاحب نے جواب میں فرمایا، ہم اہلسنّت کا مذہب یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو جو اختیار ہوتا ہے، وہ خود بخود نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے دینے سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس مخلوق کو جو بھی اختیار دیتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دئیے بغیر کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ دیکھیے انسان کو بھی مختار کہا جاتا ہے، کیونکہ اگر وہ مختار نہ ہو تو اس سے مواخذہ کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ کسی انسان کو اسکی غلطی پر اور اسکے جرم پر مواخذہ کرنا اور اسکی سزا دینا، یہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جب اختیار ہو۔ اور بغیر اختیار کے مواخذہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تو اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم کسی کے اختیار کو خدا کے دینے کے بغیر تسلیم کر لیں۔ کیونکہ خدا کے دینے کے بغیر اختیار کا عقیدہ رکھنا، یہ تو اللہ تعالیٰ کیساتھ دوسرے کو شریک بنانا ہے۔ اور ہم تو اللہ تعالیٰ کیساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے۔ جب یہ بات آپ سمجھ گئے تو بات واضح ہو گئی کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ جو موت دیتا ہے، وہ اختیاری ہوتی ہے اور وہ اختیار اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ چنانچہ حضور نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا میں رہے یا اللہ کے پاس چلا جائے۔ تو اللہ کے اس بندے نے اللہ کے پاس جانے کو اختیار کر لیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ یہ سن کر رو دئیے تو بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا کہ اس بات میں رونے کی کیا وجہ ہے؟ لیکن جس طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ کی بات کو سمجھا، دوسرے صحابہ کرام نے نہیں سمجھا۔
٭ وہ سمجھ گئے کہ یہ اختیار موت کے بارے میں ہے۔ اور اختیار دینے والا اللہ ہے اور جس کو اختیار دیا گیا ہے، وہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ تو ثابت ہوا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی موت ہماری موت کی طرح اضطراری نہیں ہوتی بلکہ وہ اختیاری موت ہوتی ہے۔ موت کا فرشتہ جب نبی کی بارگاہ میں قبض روح کے لئے حاضر ہوتا ہے تو وہ اذن طلب کرتا ہے اور اس کے اذن طلب کرنے کی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی کو اختیار دیتا ہے۔ مشکوٰۃ شریف کی صحیح حدیث ہے کہ ملک الموت اذن طلب کئے بغیر ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کو ایک طمانچہ مارا۔ حدیث میں آیا ہے کہ ملک الموت کی آنکھ پھوٹ گئی۔ ملک الموت اللہ تعالیٰ کے دربار میں واپس گئے اور عرض کیا کہ اے اللہ! تو نے مجھے اپنے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو تیرے پاس نہیں آنا چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے ملک الموت! تم میرے اس مقدس اور پیارے بندے کلیم اللہ کے پاس پھر جاؤ اور ان سے کہو کہ آپ اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھ دیں، جتنے بال آپ کے ہاتھ کے نیچے آ جائیں، ہر بال کے عوض آپ کی ایک سال عمر بڑھ گئی۔ ملک الموت حاضر ہوئے اور یہ پیش کش کی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمیں اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہونے سے کسی قسم کا کوئی توقف نہیں۔ مقصد یہ تھا کہ اے ملک الموت! آپ اذن طلب کئے بغیر آئے۔ اگر آپ اذن طلب کر کے آتے تو یہ بات نہ ہوتی۔ ہمیں اپنے رب کی بارگاہ میں جانے سے گریز نہیں۔ ہم تو اپنے رب کی بارگاہ میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ملک الموت کو طمانچہ مارا اور آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اسی بنا پر کہ انہوں نے اذن طلب نہیں کیا تھا۔ اور اذن طلب کرنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ اپنے نبی کو اختیار دیتا ہے کہ چاہے دنیا میں رہے اور چاہے خدا کے پاس چلا جائے۔
٭ شاید کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طمانچے سے ملک الموت کی ایک آنکھ پھوٹ گئی تو وہ ایک آنکھ سے رہ گئے۔ تو ایسی بات نہیں ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ
فرد اللّٰہ علیہ عینہ یعنی اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کی آنکھ ان کو واپس کر دی۔ اور یہ جو صدمہ طاری ہوا، یہ صورتِ بشری پر طاری ہوا۔ ورنہ ملکیت کا مقام کچھ اور ہے اور نبوت کا مقام تو ملکیت کے مقام سے بھی اونچا ہے، اور اتنا اونچا ہے کہ اس بلندیٔ مقام کو کوئی پا نہیں سکتا۔ آپ مجھے بتائیں کہ اگر ملک الموت روح قبض کرنے کے لئے ہم میں سے کسی کے پاس آ جائے تو آپ ایمان سے بتائیں کہ ہم ملک الموت کے سامنے بے اختیار ہو جائیں گے یا نہیں۔ خواہ کوئی کتنا ہی بڑا طاقت ور ہو، کتنا بڑا حاکم کیوں نہ ہو، موت کے فرشتے کو واپس نہیں کر سکتا۔ لیکن نبوت کا مقام یہ ہے کہ موت کا فرشتہ نبی کے سامنے بے اختیار ہے، اس کی روح قبض نہیں کر سکتا۔
٭ محدث ابن منیر رحمۃاللہ علیہ نے نقل فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے ملک الموت کو طمانچہ مارا تو ان کی ایک آنکھ پھوٹ گئی۔ حالانکہ موسیٰ علیہ السلام کے بازو میں اتنا زور اور ان کے طمانچے میں اتنی قوت تھی کہ
لتدقت السمٰوٰت السبع من لطمۃ موسٰی ۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام اگر آسمانوں کو ایک طمانچہ مار دیں تو ساتوں آسمان چورہ چورہ ہو جائیں۔ جب موسیٰ علیہ السلام کے طمانچے میں اتنا زور ہے تو کیا وجہ ہوئی کہ ملک الموت کی صرف ایک آنکھ پھوٹی؟ چاہئے تو یہ تھا کہ وہ پورے ختم ہو جاتے۔ کیونکہ جب اتنا زور ہے کہ ساتوں آسمان چورہ چورہ ہو جائیں تو ملک الموت بھی انہی آسمانوں کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہیں، تو یہ بھی ختم ہو جاتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ملک الموت کی صرف آنکھ پھوٹی، اس کی وجہ کیا تھی؟ ابن منیر رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مقدر فرما دیا تھا کہ قیامت تک کے انسانوں کی روح نکالنے والے ملک الموت ہیں۔ تو اس لئے موسیٰ علیہ السلام کے طمانچے سے فقط ان کی آنکھ پھوٹی اور باقی صحیح سالم رہے۔ اور اسکی وجہ فقط یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے بازو میں کمزوری پیدا نہیں ہوئی تھی، بلکہ تقدیر الٰہی حائل ہو گئی تھی۔ اور اس تقدیر الٰہی نے ملک الموت کو ختم ہونے سے بچا لیا۔ اگر تقدیر الٰہی حائل نہ ہوتی تو ملک الموت علیہ السلام کا وجود ہی باقی نہ رہتا۔ جب بازوئے کلیم میں اتنا زور اور اتنی طاقت ہے تو بازوئے حبیب کے زور کا کیا عالم ہو گا؟ اب یہ زور کیا ہے؟ ارے یہی تو طاقت ہے۔ یہی تو اختیار ہے اور یہی قدرت ہے۔ تو اب اگر ہم کہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی موت بھی اضطراری ہوتی ہے تو بھائی ان لوگوں کی موت اضطراری ہوتی ہے جو نبی کی بجائے متنبی ہو جائیں اور ان کو اتنا اختیار بھی نہیں ہوتا کہ وہ بیت الخلاء سے گھر واپس جا سکیں۔ تو جہاں اتنا بھی اختیار نہ ہو تو سمجھ لو کہ وہاں نبوت نہیں ہے۔ نبوت کا مقام تو یہ ہے کہ اگر ایک طمانچہ ماریں تو لتدقت السمٰوٰت السبع ساتوں آسمان چورہ چورہ ہو جائیں۔ یہ کمال قدرت ہے اور کمال اختیار ہے۔ مگر یہ اختیار انبیاء علیہم السلام کا اپنا ذاتی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار دیا ہے تو ہم سے الجھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ الجھنا ہے تو خدا سے الجھو کہ یہ اختیار کیوں دیا ہے؟ ہمارا تو اس میں قصور ہے نہیں۔ اور میں تو بارگاہِ نبوت کو اتنا بااختیار سمجھتا ہوں کہ جہاں ساری کائنات بے اختیار ہو، نبی وہاں با اختیار ہوتا ہے۔ لہٰذا نبی کی موت کا قیاس اپنی موت پر کرنا یہ قیاس مع الفارق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خوش عقیدگی نصیب فرمائے اور بد عقیدگی سے بچائے۔
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج