انوار العلوم کا قیام
٭ دورانِ علاج ہر وقت عیادت کرنے والوں کا جم گھٹا رہتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ اس حملہ کا تو کوئی ایسا افسوس نہیں ہے لیکن یہ حسرت دل میں رہ گئی کہ زندگی میں کوئی عظیم کام سر انجام نہیں دیا۔ منشی اللہ بخش ٹین مرچنٹ رحمۃ اللہ علیہ نے، جو اس وقت آپ کی عیادت کے لئے آئے ہوئے تھے، یہ سنتے ہی دس ہزار روپے آپ کی خدمت میں پیش کیے۔ ان کی بیگم نے اپنے سونے کے کڑے اتار کر دئیے کہ انہیں بیچ کر میری طرف سے نذر کر دیں۔ حضرت علامہ کاظمی صاحب کی اہلیہ نے بھی اپنا تمام زیور اتار کر نذر کر دیا۔ آپ نے اس رقم سے ملتان کے وسط میں زمین خرید کر جامعہ انوار العلوم قائم کر دیا۔


تحریک پاکستان
٭ حضرت علامہ کاظمی صاحب نے بر صغیر کے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے قیام کے لئے بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ مسلم لیگ کے سٹیج سے قیام پاکستان کی توثیق کے لئے بنارس کانفرنس میں شرکت کی۔ جس زمانہ میں کانگریسی اور احراری علماء سر دھڑ کی بازی لگا کر پاکستان کی مخالفت کر رہے تھے، اس وقت حضرت علامہ کاظمی صاحب، حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی، پیر سید جماعت علی شاہ صاحب، مولانا ابو الحسنات، مولانا عبد الحامد بدایونی اور مولانا عبد الغفور ہزاروی رحمہم اللہ تعالیٰ کی رفاقت میں الگ قومیت اور آزادی پاکستان کے لئے سعیٔ مسلسل اور جہد پیہم کر رہے تھے۔


جمعیۃ العلماء پاکستان کی بنیاد
٭ قیام پاکستان کے بعد حضرت علامہ کاظمی صاحب نے نئے حالات کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ وہ لوگ جو کل تک پاکستان کی مخالفت کر رہے تھے، پاکستان بننے کے بعد انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی اور دیکھتے دیکھتے وہ حکومت کی نظر میں سرمۂ چشم بن کر سما گئے۔ اس وقت آپ نے اہلسنّت کے اتحاد اور تنظیم کی ضرورت محسوس کی تاکہ اہلسنّت کو سیاسی استحکام اور قوت حاصل ہو۔ اس مقصد کے لئے آپ نے مولانا ابو الحسنات سے خط و کتابت کی اور ان پر تشکیل جمعیت کے لئے زور ڈالتے رہے۔ نیز آپ نے پاکستان کے تمام علماء کے نام خط لکھے۔ تا آنکہ مارچ ۱۹۴۸ء میں تمام علماء ملتان میں جمع ہوئے، جن میں حضرت مولانا ناصر جلالی (کراچی)، علامہ عبد الغفور ہزاروی (وزیر آباد)، مولانا ابو النور محمد بشیر (سیالکوٹ)، مولانا ابو الحسنات (لاہور) اور مولانا غلام جہانیاں (ڈیرہ غازی خان) کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں۔
٭ ملتان کے اجلاس میں اہلسنّت کی تنظیم کا نام جمعیۃ العلماء پاکستان تجویز کیا گیا اور حضرت علامہ مولانا ابو الحسنات کو جمعیت کا صدر اور حضرت علامہ کاظمی صاحب کو جمعیت کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا گیا۔
٭ حضرت علامہ کاظمی نے اپنی نظامت کے دوران جمعیت کو بے حد فروغ دیا اور جمعیت کے ذریعے ملک و ملت کی بیش از بیش خدمات انجام دیں۔ جہادِ کشمیر، دستور سازی، تحریک تحفظ ختم نبوت، تبلیغ و اشاعت، سیلاب زدگان کی مدد، غرض ہر خدمت اور ضرورت کے موقع پر آپ نے جمعیت کے پرچم کو سربلند رکھا۔


اسلامی یونیورسٹی بہاولپور میں آپ کی خدمات
٭ محکمہ اوقاف نے علوم اسلامیہ کے تخصص اور تحقیق کے لئے بہاولپور میں جامعہ اسلامیہ کو قائم کیا۔ اس جامعہ کے شعبہ حدیث میں بلند پایہ محقق اور ماہرِ حدیث کی ضرورت تھی جو اس میں قوی دستگاہ رکھتا ہو۔ محکمہ اوقاف نے آپ سے شیخ الحدیث کا منصب قبول کرنے کی درخواست کی۔ اگرچہ انوار العلوم کو چھوڑنا آپ کے لئے بارِ خاطر تھا تاہم جامعہ اسلامیہ میں اہلسنّت کی نمائندگی اور مسلک کے تحفظ کی خاطر آپ نے یہ عہدہ قبول کر لیا اور بعد کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ آپ کا یہ فیصلہ بروقت اور صحیح تھا۔ آپ نے ۱۹۶۳ء سے ۱۹۷۴ء تک جامعہ اسلامیہ میں شعبہ حدیث کے سربراہ کی حیثیت سے کام کیا۔


تعلیمی دور کا ایک مناظرہ
٭ دورانِ تعلیم امروہہ میں آریا سماج کا مشہور مناظر پنڈت رام چند آیا اور اس نے تناسخ اور قدامت عالم پر مناظرہ شروع کیا۔ اس مناظرہ میں علماء اسلام نے شرکت کی اور مباحثہ میں حصہ لیا۔ حضرت علامہ کاظمی صاحب نے بھی اپنے برادرِ معظم حضرت سید محمد خلیل کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی اجازت اور دعاؤں کے ساتھ اس مباحثہ میں شرکت کی۔
٭ پنڈت رام چند نے قدم عالم اور تناسخ پر قرآن کی دو آیتوں سے استدلال کیا اور کہا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،
کُوْنُوْا قِرَدَۃً خَاسِئِیْنَ نیز فرماتا ہے، مَنْ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ غَضِبَ عَلَیْہِ وَجَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ (پ ۶۔ سورۃ مائدہ۔ آیت ۵۹)
٭ ان آیتوں سے ظاہر ہوا کہ بعض یہودیوں کو اللہ تعالیٰ نے بندر کی جون میں اور بعض عیسائیوں کو خنزیر کی جون میں تبدیل کر دیا اور یہ بعینہٖ تناسخ ہے۔ نیز حدیث شریف میں ہے کہ مرنے کے بعد شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی شکل میں اڑتی پھرتی ہیں اور یہ بھی تناسخ ہے اور تناسخ قدم عالم کو مستلزم ہے۔
٭ حضرت علامہ کاظمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جواب میں فرمایا کہ تناسخ اسے کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک جاندار کی روح دوسرے جسم میں منتقل ہو جائے اور یہاں یہودی اور عیسائی مرے تو نہ تھے بلکہ زندگی میں ہی ان کی انسانی شکل کو مسخ کر کے انہیں بندروں اور خنزیروں کی شکل میں متشکل کر دیا تھا۔ لہٰذا یہ تناسخ نہیں تماسخ ہے اور ارواحِ شہداء کی جو آپ نے حدیث پیش کی ہے، اس میں حضورﷺ نے برزخ اور معاد کا حال بیان کیا ہے اور آپ معاد کے قائل نہیں ہیں۔ پنڈت رام نے کہا کہ اب تو میں جا رہا ہوں، آئندہ پھر بحث کروں گا۔
٭ حضرت علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا، دیکھو موت کا کوئی پتہ نہیں ہے، لہٰذا مجھے یہ بتا کر جاؤ کہ اگر تم مر گئے تو آئندہ سال کس جانور کی جون میں آ کر مجھ سے ملاقات کرو گے۔ اس جواب پر وہ بہت خوش ہوا اور جاتے وقت آپ کو اپنی گھڑی انعام میں دے گیا۔


مولانا محمد ادریس کاندھلوی سے گفتگو
٭ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران مختلف مکاتب فکر کے علماء کراچی میں اکٹھے ہوئے۔ ایک مجلس میں مولانا ظفر احمد انصاری، مفتی محمد شفیع، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، سید ابو الاعلیٰ مودودی اور حضرت قبلہ کاظمی شاہ صاحب جمع ہوئے۔ اثنایٔ گفتگو میں حضرت کاظمی صاحب نے مولانا محمد ادریس کاندھلوی سے فرمایا، آپ نے اپنی کتاب الکلام میں مرزا غلام احمد قادیانی کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نبی کے لئے ضروری ہے کہ اس کا حسب نسب اپنے زمانہ کے تمام احساب و انساب سے افضل ہو حالانکہ یہ بات بے دلیل ہے۔ مولانا محمد ادریس کاندھلوی نے کہا، میں نے حدیث شریف کا ترجمہ کیا ہے۔ بخاری شریف میں ہے،
کذالک تبعث الانبیاء فی احساب قومہم (انبیاء علیہم السلام اپنی قوم کے بہترین نسب سے مبعوث کئے جاتے ہیں)۔
٭ حضرت علامہ کاظمی صاحب نے فرمایا، حدیث کا ترجمہ تو یہ ہے کہ جس قوم کی طرف نبی مبعوث ہو، اس کا نسب اس قوم میں افضل ہوتا ہے۔ آپ نے لکھا ہے، نبی کا نسب اپنے زمانہ میں سب سے افضل ہوتا ہے۔ کہنے لگے، اگر میں نے یہ لکھ دیا تو کیا خرابی لازم آئی۔ حضرت نے فرمایا، خرابی یہ ہے کہ ترمذی شریف میں حدیث ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے اولادِ ابراہیم میں اسماعیل کو فضیلت دی اور اولادِ اسماعیل میں کنانہ کو فضیلت دی اور کنانہ میں قریش کو اور قریش میں بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں مجھے فضیلت دی۔ اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ حضرت ابراہیم کے دو فرزندوں اسحٰق اور اسماعیل علیہم السلام میں حضرت اسماعیل کا نسب حضرت اسحٰق سے افضل تھا اور جس زمانہ میں نسل اسحٰق سے بنی اسرائیل کے انبیاء مبعوث ہوئے، اس وقت حضرت اسماعیل کی اولاد بھی موجود تھی اور ان کا نسب بنی اسرائیل کے انبیاء سے افضل تھا۔ اب اگر نبی کے لئے ضروری ہو کہ اس کا نسب اپنے زمانہ کے تمام انساب سے افضل ہو تو لازم آئے گا کہ بنی اسرائیل کے انبیاء انبیاء نہ رہیں۔ کیونکہ ان کا نسب اپنے زمانہ کے نسب اسماعیل سے افضل نہ تھا اور انبیاء بنی اسرائیل کی نبوت کے انکار سے بڑھ کر اور کون سی خرابی ہو گی۔ جب حضرت نے یہ ایراد قائم فرمایا تو مولانا ادریس کاندھلوی سے کوئی جواب نہ بن پڑا اور مجلس وہیں برخاست ہو گئی۔ نیز اگلے ایڈیشن میں انہوں نے اس سے رجوع بھی کر لیا۔
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج