مناظرہ و مباہلہ
٭ مولوی عبد العزیز نے اس کے بعد اپنے تمام ہم خیال علماء کو اکٹھا کیا اور کہا کہ یہاں ایک بدعتی آ گیا ہے، اگر اس کے یہاں قدم جم گئے تو بڑی پریشانی ہو گی۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ حضرت ہم نے بارہا کوشش کی ہے لیکن ان کے علم اور زورِ بیاں کے آگے پیش نہیں جاتی۔ آپ کو فن مناظرہ میں بہت مہارت ہے اور علم و فضل میں بھی بلند مقام رکھتے ہیں۔ اس لئے آپ ان سے مناظرہ کریں۔ چنانچہ مولوی عبد العزیز اور اس کے حواریوں نے مناظرہ کی تیاری شروع کر دی اور کئی دن صرف کر کے بے شمار کتابوں پر نشان لگائے گئے۔ حضرت کا معمول تھا کہ روزانہ صبح درس کے بعد حضرت بہاؤ الحق رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضری دے کر آتے تھے۔ ایک دن وہاں سے واپس آ رہے تھے تو پیغام ملا کہ مولوی عبد العزیز نے گفتگو کے لئے حاجی ابراہیم کی کمپنی میں بلایا ہے۔ حضرت کاظمی صاحب اسی وقت اور اسی حال میں کمپنی تشریف لے گئے۔ مولوی عبد العزیز نے علم غیب کے مسئلہ پر گفتگو شروع کر دی۔ آپ نے حضورﷺ کے علم غیب کے اثبات پر مندرجہ ذیل آیات پیش کیں
عَالِمُ الْغَیْبِ فَلاَ یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًاoلا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْل (پ۲۹۔ سورۃ جن آیت ۳۶۔ ۳۷)
ترجمہ٭ اللہ تعالیٰ غیب کو جاننے والا ہے اور وہ اپنے غیب کو کسی شخص پر ظاہر نہیں کرتا، سوا ان کے جن سے وہ راضی ہو جائے جو اس کے رسول ہیں۔
وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَائُ (پ ۴۔ سورۃ آل عمران۔ آیت ۱۷۹)
ترجمہ٭ اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ تم کو اپنے غیب مطلع کرے لیکن اللہ تعالیٰ (اطلاع علی الغیب کے لئے) جسے چاہتا ہے، پسند کر لیتا ہے جو اس کے رسول ہیں۔
عَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُط وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا (پ ۵۔ سورۃ النساء۔ آیت ۱۱۳)
ترجمہ٭ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزیں آپ کو بتلا دیں جو آپ نہ جانتے تھے اور یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے۔
٭ ان تین آیتوں کے بعد آپ نے اثبات علم غیب کے لئے مندرجہ ذیل احادیث پڑھیں
عن عمر قال قام فینا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مقاما فاخبرنا عن بدء الخلق حتی دخل اہل الجنۃ منازلہم واہل النار منازلہم حفظ ذلک من حفظہ و نسیہ من نسیہ (بخاری) [کتاب بدء الخلق]
ترجمہ٭ حضرت عمر سے روایت ہے کہ ایک دن حضورﷺ نے ابتداء آفرینش عالم سے حوادث کی خبریں دینی شروع کیں۔ یہاں تک کہ جنتی جنت میں داخل ہو گئے اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو گئے۔ جس نے اسکو یاد رکھا، یاد رکھا اور جسنے بھلا دیا، بھلا دیا۔
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فعلمت ما فی السموت والارض وفی روایۃ فتجلی کل شیء وعرفت۔
ترجمہ٭ حضورﷺ نے فرمایا میں نے جان لیا جو کچھ تمام آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔(مشکٰوۃ شریف باب المساجد)
٭ اور ایک روایت میں یوں ہے، میرے لئے ہر چیز منکشف ہو گئی اور میں نے اس کو جان لیا۔ ان آیات اور احادیث کو سن کر مولوی عبد العزیز کہنے لگا، فتاوی قاضی خان میں ہے، جو شخص حضورﷺ کے لئے غیب کا مدعی ہو، وہ کافر ہے۔
٭ آپ نے فرمایا، عجیب بات ہے، میں قرآن و حدیث پیش کرتا ہوں اور تم اسکے مقابلہ میں قاضی خان کے اقوال پیش کرتے ہو اور قول بھی وہ جو
قَالُوْا کیساتھ مقرون ہے اور قاضی خان کی اصطلاح میں مقرر ہے کہ قَالُوْا کیساتھ جو قول ہو وہ ضعیف ہوتا ہے۔
٭ مولوی عبد العزیز نے کہا، تم حنفی ہو۔ فرمایا، ہاں ۔ کہا، حنفیوں کی کتاب شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے
ان الانبیاء لم یعلموا المغیبات من الاشیاء الا ما اعلمہم اللّٰہ تعالیٰ احیانا۔
ترجمہ٭ انبیا کو علم غیب نہیں ہوتا مگر ان باتوں کا جو اللہ تعالیٰ انہیں احیاناً بتلا دیتا ہے۔
٭ آپ نے فرمایا، یہ عبارت میرے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ اس عبارت میں اللہ تعالیٰ کے بتلائے بغیر جاننے کی نفی ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے علم کا قائل ہوں۔
٭ دوسرے یہ کہ اس عبارت میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کو احیاناً علم غیب عطا فرماتا ہے۔ اور احیان حین کی جمع ہے۔ اب میں بتلاتا ہوں کہ ایک حین میں حضورﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کتنا علم عطا فرمایا ہے۔ ترمذی شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دست قدرت میرے شانوں کے درمیان رکھا۔ جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینہ میں محسوس کی۔
فعلمت ما فی السمٰوٰت وما فی الارض۔ (پس میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔)
٭ غور کرو جب ایک حین میں حضورﷺکے علم کا یہ عالم ہے تو احیان میں ان کے علم کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔ مولوی عبد العزیز نے کہا، دکھاؤ! یہ حدیث کہاں ہے؟ آپ نے ان ہی کی کتابوں میں سے مشکوٰۃ شریف میں سے یہ حدیث نکال کر پیش کی۔ کہنے لگا، مشکوٰۃ بے سند کتاب ہے۔ میں اس کو نہیں مانتا۔ ترمذی میں دکھاؤ۔ آپ نے بسم اللہ پڑھ کر ترمذی شریف کھولی تو سامنے سورۃ ص کی تفسیر میں وہی حدیث نکل آئی۔ جب مولوی عبد العزیز کو یہ حدیث دکھائی تو وہ غصہ سے آگ بگولہ ہو گیا اور طیش میں آ کر کتاب کو پھینک دیا۔ جیسے ہی مولوی عبد العزیز نے ترمذی شریف اٹھا کر پھینکی، حضرت کاظمی صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا تو گستاخ اور بے ادب ہے۔ اب میں تجھ سے مناظرہ نہیں کرتا۔ مباہلہ کروں گا۔ چنانچہ دونوں نے یہ الفاظ کہے۔ اگر میرا مقابل حق پر ہو اور میں باطل پر ہوں تو میں ایک سال کے اندر خدا کے قہر و غضب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاؤں اور اگر میں حق پر ہوں تو میرا مقابل خدا کے عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جائے۔ مباہلہ کرنے کے بعد آپ وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔
٭ مولوی عبد العزیز جب گوجرانوالہ پہنچا اور صبح کی نماز کے بعد قرآن مجید کا درس دینے کے لئے بیٹھا اور بولنا چاہا تو الفاظ منہ سے نہ نکلے، زبان باہر نکل آئی۔ کافی دنوں تک علاج کی کوشش کی گئی لیکن ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ کوئی مرض ہو تو اس کا علاج کیا جائے۔ یہ تو عذابِ الٰہی ہے۔ بالآخر سال پورا ہونے سے پہلے ہی وہ عذابِ الٰہی میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گیا۔

قاتلانہ حملہ
٭ مولوی عبد العزیز کی شکست کے بعد حضرت کا عروج ظاہر ہوا اور ہر طرف سے لوگ آپ کو تبلیغ و ارشاد کے لئے بلانے لگے اور مسلک اہلسنّت کی اشاعت ہونے لگی۔ اہلسنّت کے اس غلبہ سے گھبرا کر مخالفین نے آپ کے قتل کی سازش تیار کی۔ چنانچہ مولوی حسین علی واں بھچروی کا شاگرد حبیب اللہ جو چنی گوٹھ میں رہتا تھا، اس نے حضرت کو بہاولپور کے ایک گاؤں بلہ جھلن میں تقریر کی دعوت دی۔ یہ ایسی جگہ تھی کہ یہاں سے اوچ شریف کا اسٹیشن بھی نو میل تھا اور تھانہ چنی گوٹھ بھی نو میل تھا۔ ایسی دور دراز جگہ پر تین محرم کو جمعہ کے دن حضرت کو تقریر کے لئے بلایا گیا۔ جلسہ میں کلہاڑی بردار لوگ کافی تعداد میں شریک تھے۔ اچانک مولوی حبیب اللہ تقریر کے دوران چلایا، قتل کر دو۔ چنانچہ کلہاڑی برداروں نے آپ پر حملہ کر دیا۔ جلسہ میں سنی لوگ بھی تھے۔ انہوں نے آپ کی طرف سے کافی مزاحمت کی لیکن حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے سر پر کلہاڑی کے پیہم وار کئے اور شدید ضربات سے آپ بے ہوش ہو گئے۔ شور مچ گیا کہ قتل ہو گیا ہے۔ تمام لوگ بھاگ گئے۔ ایک ہندو عورت آپ کو یہ کہہ کر اٹھا کر لے گئی کہ یہ سید کا بچہ ہے۔ تین دن تک آپ اس ہندو عورت کے گھر میں بے ہوش پڑے رہے۔ پھر ادھر ادھر لوگوں کو خبر ہوئی اور آپ کو ملتان لایا گیا، جہاں آپ چھ ماہ تک زیر علاج رہے۔ آپ کی عیادت کے لئے ہندوستان کے کونے کونے سے علماء و مشائخ تشریف لائے۔ ان بزرگوں میں حضرت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب، حضرت سید محدث کچھوچھوی، حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی اور مولانا حشمت علی خان صاحب کے اسماء خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج