فلسفۂ نماز

بمقام: جامعہ اسلامیہ بہاولپور
٭ نماز فارسی زبان کا لفظ ہے جبکہ عربی اور قرآن و حدیث میں
اَلصَّلٰوۃ کا لفظ آتا ہے۔ اَلصَّلٰوۃ کا لغوی مطلب ہے اَلدُّعَا بِالْخَیْرِ خیر کے ساتھ دعا کو صلوٰۃ کہتے ہیں۔ صرف دعا صلوٰۃ کا معنی نہیں۔ کیونکہ دعا عام ہے کہ وہ دعا، دعائے ضرر ہو یا دعائے نفع۔ لفظ صلوٰۃ دعائے ضرر کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اس دعا کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے جو نفع اور خیر پر مشتمل ہو اور نفع و خیر سے متعلق ہو۔ لفظ صلوٰۃ کے معنی ہیں دعا، جو دعائے خیر ہو۔ دعائے نفع ہو۔ اصطلاحِ شرع میں الصلوٰۃ سے وہ ارکانِ مخصوصہ مراد ہیں جن کی تشریح اور تفصیل حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنے عمل مبارک سے فرمائی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کو سرکار سے سیکھا اور آج تک حضورﷺ کی امت ان طریقوں کے مطابق نماز پڑھتی چلی آ رہی ہے اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اسی نماز کا ذکر بار بار فرمایا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ
اِنَّ الصَّلٰوۃَکَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًاo (النساء، آیت۱۰۳)
ترجمہ٭ بے شک نماز ایمان والوں پر فرض موقت ہے۔
٭ فرض موقت یعنی جب وقت ہوتا ہے تو نماز کا ادا کرنا مسلمانوں پر فرض ہوتا ہے۔ بہرحال نماز کا ذکر قرآن کریم میں بہت فرمایا گیا ہے بلکہ میں تو یہ عرض کروں گا کہ اللہ تعالیٰ نے جس خصوصیت، جس اہمیت اور جس کثرت کے ساتھ نماز کا تذکرہ اور حکم قرآن کریم میں فرمایا ہے کسی اور چیز کے متعلق اتنی اہمیت اور کثرت کے ساتھ قرآن پاک میں حکم نہیں دیا۔
٭ قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر نماز کا تذکرہ فرمایا۔ نماز کی اہمیت کو بیان فرمایا۔ نماز کی تفصیلات قرآن کریم میں آپ کو نہیں ملیں گی۔ اس کی تفصیل کے لئے آپ کو رسول اللہﷺ کی احادیث کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا۔ چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ
صلوا کما رأ یتمونی اصلی میرے صحابہ! تم اسی طرح نماز پڑھا کرو جیسا کہ تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا۔ گویا نبی اکرمﷺ نے اپنی سنت کریمہ سے نماز کی تفصیل بیان فرمائی اور وہی تفصیل ہمارے لئے قابل عمل اور قابل قبول ہے اور اسی پر ہمارا ایمان ہے۔ تو قرآن کریم نے صلوٰۃ کی فرضیت کا ذکر فرمایا اور متعدد مرتبہ بار بار قرآن کریم میں نماز کا ذکر آیا اور رسول اکرمﷺ نے نماز پڑھ کر ہمیں نماز کا طریقہ سکھایا۔ یہ دونوں باتیں اپنے ذہن میں رکھیئے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں نماز کا مفہوم ہر مسلمان جانتا ہے۔ جب لفظ نماز مسلمان کی زبان سے ادا ہوتا ہے اور قرآن و حدیث میں جب لفظ صلوٰۃ ہماری نظر سے گزرتا ہے۔ تو ہر مسلمان کے ذہن میں اس کے مخصوص شرعی معنی واضح ہوتے ہیں اور اس کے مفہوم کے بارے میں اس کو کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ صلوٰۃ سے مراد ارکانِ مخصوصہ ہیں اور ان ارکانِ مخصوصہ کی تفصیل سے مسلمان کا ایک ایک بچہ اور ایک ایک فرد واقف ہے اور جو نماز کی تفصیل سے واقف نہیں گویا وہ مسلمان نہیں۔ یہ بات اپنے ذہن میں رکھیے۔ اس کے بعد میں عرض کروں گا کہ اس نماز کی حکمت کیا ہے؟ اس کی مصلحت کیا ہے؟ اس کے ساتھ کون کون سے منافع وابستہ ہیں؟ اس مقام پر میں اپنی فرو مائیگی کا اعتراف کرتا ہوں بلکہ میرا تو یہ ایمان ہے کہ اگر ساری دنیا کے علماء، حکماء اور عقلا مل کر نماز کی حکمتوں پر کلام کریں، تب بھی حق ادا نہ ہو گا اور کوئی شخص بھی یہ دعویٰ نہ کر سکے گا کہ میں نے نماز کی حکمتوں کو مکمل طور پر بیان کر دیا۔ البتہ جو چند باتیں میرے ناقص ذہن میں کتاب و سنت کی روشنی میں آئی ہیں۔ آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ ویسے تو اتناکہہ دینا ہی کافی ہے کہ نماز حکیم مطلق کا حکم ہے اور حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ہمیں نماز پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی حکمت کیا ہو گی؟ اور کوئی مسلمان اس سے بڑھ کر کسی حکمت کا متلاشی نہیں ہوتا۔ لیکن لوگوں کے ذہن کو اجاگر کرنے اور قلوب کو مطمئن کرنے کے لئے چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ نماز کی حکمت اس وقت تک ہمارے ذہن میں صحیح طور پر واضح نہیں ہو گی، جب تک انسان کی ذات کا صحیح تصور ہمارے ذہن میں واضح نہ ہو۔
٭ انسان دو چیزوں کا مجموعہ ہے۔ روح اور بدن ایک روح حیوانی ہے جس سے انسان کی جسمانی حیات متعلق ہے اور پھر روح نباتی، جس کی وجہ سے انسان کے جسم کی نشو ونما ہوتی ہے اور پھر وہ روح انسانی ہے کہ جس کی وجہ سے انسان انسان کہلاتا ہے اور اس کے علوم اس کے معارف اور اس کے ادراکات سب اسی کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔ ان تمام کو آپ خواہ الگ الگ تصور میں لائیں۔ جیسا کہ بعض حکماء کا قول ہے۔ یا آپ بو علی سینا کا نظریہ اختیار کر لیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر صرف ایک ہی روح ہے اور اس کی بہت سی قوتیں ہیں۔ اور ان قوتوں کی وجہ سے لوگوں نے ارواح کے تعدد کا قول کیا۔ لیکن در حقیقت متعدد روحیں نہیں بلکہ انسان ایک ہی روح لے کر آیا ہے۔ اس کے اندر مختلف قسم کی قوتیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اور اس کے لئے کچھ آلات پیدا کیے ہیں۔ وہی نفس کے آلات ہیں، جن کے ذریعے مختلف کام سرزد ہوتے ہیں۔ جبکہ پہلے قول کے مطابق حکماء نے کہا کہ انسان کے اندر علیحدہ نفوس ہیں جو علیحدہ ارواح کے تابع ہیں۔
٭ بہرحال میری گزارش یہ ہے کہ انسان کی روح کو خواہ اس کے آلات اور قویٰ کے تعدد کے لحاظ سے آپ ذہن میں لائیں یا انسان کی روح اور اس کے نفوس کے تعدد کے اعتبار سے اس کی تفصیلات ذہن میں لائیں۔ یہ ماننا پڑے گا کہ انسان جسم و روح کا مرکب ہے اور روح کا تعلق عالم امر کے ساتھ ہے۔ عالم بالا کے ساتھ ہے۔ جبکہ جسم کا تعلق اس عالم اسفل کے ساتھ ہے۔ اس عالم ناسوت کے ساتھ ہے۔ چنانچہ جسم کے مشاغل اور جسم کی دلچسپیاں اس عالم دنیا اس عالم ناسوت سے متعلق ہیں۔ اگر انسانی مشاغل اور افعال صرف اسی دنیا تک محدود ہیں تو یہ روح جو عالم بالا سے آئی جو رب کا امر ہے، سر الٰہی ہے۔ مضمحل ہو جائے گی، پیاسی رہ جائے گی۔ جب انسان عالم ناسوت میں صرف جسمانی روابط میں، جسمانی خواہشات کی تکمیل میں اور جسمانی تقاضوں کو پورا کرنے میں منہمک رہے گا۔ تو انسان کا رابطہ اور تعلق، عالم بالا سے نہیں رہے گا اور جب تک اس کا رابطہ عالم ملکوت سے باقی نہ ہو رب کی بارگاہ سے نہ ہو اس کی انسانیت کا کوئی تصور قائم نہیں ہوتا۔ انسان حقیقی معنوں میں انسان اسی وقت ہے جب اس کا تعلق عالم ملکوت سے استوار ہے اور اس کا رابطہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے قائم رہے کہ جس اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ نے اس کو روح عطا فرمائی اور جس اللہ تعالیٰ نے اس کو جسم دیا اور جس اللہ تعالیٰ نے جسم اور روح کو ملا کر اسے انسان بنایا اور اس کے اندر انسانیت کے اوصاف اور خواص پیدا کیے۔ اس سے تعلق قائم رکھنا، انسانیت کی بقا کے لئے ضروری ہے اور یہ بات کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ جو چیز جس عالم سے متعلق ہے، اسکی غذا بھی اسی عالم سے حاصل ہو گی۔ روح عالم بالا سے متعلق ہے، اس لئے اس کی غذا بھی اس عالم سے حاصل ہو گی۔ اگر انسان اپنی جسمانی ضروریات میں منہمک رہے اور اپنے رب کیطرف متوجہ ہی نہ ہو تو یقینا یہ انسان بالکل ناسوتی ہو جائے گا۔ حیوانیت، بہیمیت، سبعیت اور درندگی کا مجسمہ ہو جائے گا۔ اس کے اندر کوئی معرفت نہ ہو گی۔ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی کوئی محبت نہ ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہ ہو گا، اللہ تعالیٰ سے کوئی رابطہ نہ ہو گا۔ حالانکہ انسان کی پیدائش کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور معرفت ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت، انسان کی تخلیق کا مقصد ہے۔ تو یہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا جب تک ہم نماز کو اختیار نہ کریں اور نماز کو قبول نہ کریں۔ نماز در حقیقت تخلیق انسان کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہے اور انسان کے ان روابط کو جن کے بغیر اس کی انسانیت بر قرار نہیں رہ سکتی، انہیں مضبوط کرنے کے لئے ہے۔ دن اور رات میں اگر انسان پانچ وقت کی نماز نہ پڑھے، اس کے روابط بارگاہ الوہیت کے ساتھ برقرار نہیں رہ سکتے۔ اس کی کوئی عظمت، اس کی تخلیق کا جو اصل مقصد ہے، وہ پورا نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ دنیا میں آ کر اپنے رب کی بارگاہ سے لا تعلق ہو اور ہمیشہ عالم ناسوت میں جسمانی خواہشات، جسمانی ضروریات کی تکمیل میں منہمک رہے تو اس کے اندر حیوانیت کا اس قدر غلبہ ہو گا کہ انسانیت کا کوئی نام و نشان نہیں رہے گا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ جسم کے تقاضے اس عالم جسمانی کے ساتھ پورے ہوتے رہیں اور روح کے تقاضوں کی تکمیل کے لئے عالم ارواح کی طرف توجہ رہے۔ اس لئے انسان کے معمولات رب نے اس طرح مقرر فرمائے کہ جسم وروح دونوں کے تقاضے پورے ہوتے رہیں۔ انسان صبح اٹھے اور سب سے پہلے اپنے رب کی بارگاہ میں سر بسجود ہو کہ اس نے اس بندے کو نیا دن دکھایا اور نیند جو آدھی موت ہے، نیند جو موت کی بہن ہے، اس سے بیدار فرمایا۔ اس طرح اپنے دن کا آغاز اس کے نام سے اور اس سے لو لگا کر کرے کہ شب بھر کی نیند جسم کا تقاضا تھا۔ اب صبح کو، روح کو خوراک نہ ملی تو جسمانی لذتیں اور راحتیں اس کو لے ڈوبیں گی۔ اس کے بعد انسان نے ناشتہ کیا اور پھر اپنے دنیاوی معمولات اور کاروبار میں مصروف ہو گیا۔ آدھا دن گزر گیا، جسمانی، ذہنی مشقت نے بھوک کو چمکا دیا، اس نے کھانا کھایا، لیکن صبح سے اب تک اسی دنیا سے تعلق رہا تو ضروری ہوا کہ روح کے تقاضوں کی طرف متوجہ ہو، چنانچہ پھر آرام کیا، استراحت کی اور پھر دنیاوی کاروبار میں لگ گیا۔ اس سے پہلے کہ اس کا انہماک اتنا شدید ہو کہ عالم بالا سے اس کے رابطے مضمحل ہونے لگیں، اس کو ایک بار پھر نماز کا حکم ہوا، اس کے بعد اس نے گھر کا رخ کیا۔ بیوی، بچوں کے ساتھ وقت گزارا، تفریح کی، گھریلو ضرورتوں کو پورا کیا۔ یہ سب اس دنیا کے جھمیلے ہیں۔ ان میں کھو کر وہ اپنے رب کی یاد سے غافل ہو سکتا تھا۔ چنانچہ پھر مؤذن نے پکارا اور رب کی طرف بلایا اور غروبِ آفتاب کے وقت یہ پھر اس کی بارگاہ میں جبیں سائی کے لئے حاضر ہوا۔ اب رات کا اندھیرا پھیلنے لگا، بھوک نے بھی ستایا۔ اس نے کھانا کھایا، خمار گندم نے بستر کی طلب کو بڑھا دیا۔ نیند نے آنکھوں میں ڈیرے ڈالے لیکن جس رب نے یہ دن عطا فرمایا اس کی ضروریات کو پورا فرمایا، اس کا شکر واجب ہے۔ اب وہ سونے والا ہے۔ کون جانے اس رات کے بعد زندگی کا دیا ٹمٹمائے گا یا بجھ جائے گا، صحر نمودار ہو گی یا قبر کی تاریکی مقدر ہو گی۔ تو اب یہ ضرورت ہے کہ یہ اس طرح سوئے کہ اگر قبر میں آنکھ کھلے، تب بھی گھبراہٹ اور ندامت نہ ہو۔ ایمان اور ایمان کے تقاضوں کی تکمیل کر کے سوئے۔ چنانچہ بستر میں جانے سے پہلے پھر اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری دے۔
٭ مختصر یہ کہ پانچ وقت کی نمازیں اس لئے ہیں کہ یہ انسان جو جسمانیت اور حیوانیت کا مرکب ہے، تحت اور فوق کا مجموعہ ہے۔ اس عالم اسفل کا اور اس عالم بالا کا مجموعہ ہے۔ خلق اور امر کا مجموعہ ہے۔ اس کی جسمانی حاجات تو اسی عالم دنیا میں پوری ہوتی رہیں اور ساتھ ساتھ اس کی روح کے تقاضوں اور حاجتوں کی تکمیل کا سامان بھی ہوتا رہے۔ جسم اور روح دونوں کی ضروریات کا لحاظ ضروری ہے۔ اگر انسان کو صرف روحانیت کی طرف متوجہ کر دیا جائے مثلاً ایک شخص کو کہا جائے کہ بھائی، تمہاری روح کا تقاضا یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ نماز پڑھو، روزہ رکھو، قرآن پڑھو اور تم درود شریف پڑھو بلکہ تم درود شریف ہی پڑھتے رہو کہ یہ روح کا تقاضا ہے اور ذکر الٰہی ہی کرتے رہو کہ یہ روح کی غذا ہے کیونکہ
اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْب اور اگر وہ روٹی مانگے تو کہو بھائی، روٹی تو ایسی چیز ہے جو کثیف ہے۔ اس کے اندر مادیت ہے اور اس کے اندر ایک قسم کی ظلمت کے اثرات ہیں۔ لہٰذا تم اللہ اللہ کرتے رہو تو بھلا کتنا عرصہ وہ ذکر الٰہی میں مشغول رہ سکے گا۔ نہ آپ اسے روٹی کھلائیں نہ اسے آپ پانی پلائیں، نہ موسم کے سرد و گرم سے اسے بچائیں تو یقینا ایک وقت ایسا ہوگا، جسمانی نظام برباد ہو جائے گا اور اس کی زندگی ختم ہو جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح جسم کے تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے تو جسمانی زندگی برقرار نہیں رہ سکتی، اسی طرح اگر روح کی حاجتوں اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے تو روحانی زندگی کا نظام برقرار نہیں رہ سکتا اور یہ فقط اسلام کی خصوصیت ہے کہ اسلام نے جہاں جسمانیت کے تقاضوں کو پورا کیا ہے وہاں روحانیت کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا ہے اور جسم کے تقاضوں کو وہاں رکھا، جہاں جہاں جسم کا تعلق تھا۔
٭ جسم کے اندر جوہریت ہے۔ علم جوہریت کو ہمارے روابط کا مرکز بنا دیا اور ہمارے جسم کے اندر نباتیت ہے تو نباتات کو ہماری جسمانی ضرورتوں کے انقضاء کا ایک دوسرا مرکز بنا دیا اور ہمارے اندر حیوانیت ہے۔ تو عالم حیوانیت کو ہماری جسمانی ضرورتوں کے انقضاء کا تیسرا مرکز بنا دیا۔ غرض یہ کہ جسم کے روابط جہاں جہاں ہیں، جس جس مقام پر ہیں، وہاں وہاں سے اس کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ اگر جسم کی دنیا کو آپ دیکھیں تو آپ کو حیرت ہو گی۔ جسمانیت کا یہ عالم ہے کہ آپ تمام عالم جسمانیت پر ایک نظر ڈالیں تو میں دعویٰ سے کہوں گا کہ عالم جسمانیت کی کوئی حقیقت ایسی نہیں ہے جو ہمارے جسم کے اندر مخفی نہ ہو اور جس کی لطیف حقیقت ہمارے جسم کے اندر نہ پائی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جسمانی حالتوں کے پورا ہونے کے لئے ہمیں ضرورت ہوتی ہے کہ ہم سبزی استعمال کریں اور ہم غلہ استعمال کریں اور جمادات کو استعمال کریں۔ علم الابدان کے ماہرین جانتے ہیںکہ جسم میں دھاتیں بھی ہوتی ہیں، مٹی کا جوہر بھی ہے اور بے شمار ایسے مرکبات جو بظاہر انسانی زندگی کے لئے مہلک اور نقصان دہ معلوم ہوتے ہیں، وہ بھی جسم انسانی کا حصہ ہیں۔ بلکہ انسان کو عالم صغیر کہا جاتا ہے اور یہ تمام دنیا، یہ عالم کبیر ہے اور ایسا کہنے کی وجہ یہی ہے کہ تمام جہانوں کی حقیقتیں انسان کے اندر رکھ دی گئی ہیں۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ معدنیات ہوں، نباتات ہوں یا جمادات، تمام حقائق کائنات کی لطیف حقیقتیں ہمارے جسم کے اندر ہیں اور ساتھ ہی تمام عالم ارواح کی لطیف حقیقتیں بھی ہماری رو ح میں جمع کر دی گئی ہیں۔ اس لئے جسم کی ترکیب جن جن مقامات پر جا کر رکتی ہے، ان تمام مقامات کو جسمانی ضرورتوں کا مرکز بنا دیا۔
٭ اس مقام پر میں مختصر طور پر چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ نبی اکرم سید عالم ا نے کلمہ شہادت کے بعد سب سے پہلے جو چیز ہمارے لئے سب سے زیادہ ضروری قرار دی، وہ نماز ہے۔ دیکھیے حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی متفق علیہ حدیث بار بار آپ نے سنی، ہزاروں مرتبہ آپ نے سنی۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا،
بنی الاسلام علی خمس پانچ چیزوں پر اسلام کی بنیاد قائم کی گئی ہے۔ سب سے پہلی چیز کیا ہے، شَہَـادَۃُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اس بات کی سچے دل سے گواہی دینا اور علم یقینی کا زبان سے اظہار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے عبد مقدس اور اس کے رسول برحق ہیں اور پھر کیا؟ یہ پہلی بنیاد تھی، دوسری بنیاد کیا ہے؟ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ نماز قائم کرنا۔ دیکھیے، کلمہ شہادت کے بعد اَقَامَ الصَّلٰوۃَ کا ذکر فرمایا، کلمہ شہادت تو مسلمان ہونے کے لئے پڑھنا ضروری ہے۔ جب تک کلمہ نہیں ہو گا، بندہ مسلمان نہیں ہو گا۔ اب جب اس نے کلمہ پڑھ لیا تو اسے نماز کا حکم ملا، معلوم ہوا کہ اسلام میں سب سے زیادہ فوقیت نماز کو دی گئی ہے۔ میں آپ سے صحیح عرض کرتا ہوں کہ اسلام کے معنی کو ایک طرف رکھیں اور نماز کے معنی کی تفصیل ایک طرف رکھیں تو ایسا معلوم ہو گا کہ اسلام اجمال ہے اور نماز اس کی تفصیل۔ بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسِ شَہَادَۃِ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ سوچیئے، اسلام کے دو معنی ہیں، ایک تو اس کے لغوی معنی، اسلام کے لغوی معنی کیا ہیں؟ گردن نہادن بطاعت، طاعت میں گردن کو رکھ دینا، یہ اسلام ہے۔ ہم اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں۔ یہ اسلام کے ظاہری معنی ہیں لیکن حقیقت اسلام یہ نہیں ہے۔ حقیقت اسلام اس وقت ہو گی، جس طرح ہم نے سر کو جھکا دیا، اسی طرح اپنے قلب کو بھی اپنے رب کے سامنے جھکا دیں اور اگر خالی سر جھک گیا اور ہمارا دل سرکش رہا تو پھر وہ اسلام نہیں پھر وہ نفاق ہے، جیسے ہمارا سر جھک گیا، اسی طرح ہمارا دل بھی جھک جائے، یہ اسلام کا حقیقی معنی ہے اور غور کیجیے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں تو ہمارا دل بھی جھکا ہوا ہوتا ہے۔ اور میں کہتا ہوں کہ اے مومن! جب تیری روح نماز پڑھتی ہے تو سر بھی جھکا ہوتا ہے۔ تیرا دل بھی جھکا ہوا ہے، تیری روح بھی جھکی ہوئی ہے اور میں تو پھر یہ کہوں گا کہ فقط روح نہیں ہے بلکہ جس قدر کامل ایمان ہو گا، جس قدر معرفت کے درجات سامنے ہوں گے، اسی قدر نماز زیادہ کامل ہو گی۔ جیسا کہ میں ابھی کہہ چکا ہوں کہ انسانیت کے دامن میں تمام حقائق کائنات سمٹے ہوئے ہیں تو جب انسان خدا کے دربار میں جھکتا ہے تو جس قدر وہ اپنی حقیقت انسانیت کے عرفان کے ساتھ جھکے گا اور اپنی حیثیت اور حقیقت کا جس قدر زیادہ علم ہو گا، اسی قدر نماز کامل ہو گی اور یہاں تک کہ جب اسے یہ یقین کامل ہو کہ اس کی ذات میں تمام کائنات کے حقائق جمع ہیں تو اس انسان کے سر جھکانے کے ساتھ یوں کہیے کہ تمام کائنات اس کے ساتھ رب کائنات کی بارگاہ میں جھک جائے گی۔ اسی لئے جب صدیق اکبر کا سر جھکتا تھا، فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر جھکتا تھا، عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر جھکتا تھا تو لوگوں کی نظروں میں صرف انہی کا سر جھکتا تھا، مگر میں کہتا ہوں کہ جب وہ سجدہ کرتے تھے تو تمام عالموں کی حقیقتیں ان کے سجدوں کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتی تھیں اور میں تو جانتا ہوں کہ بندہ جس قدر خدا کی بارگاہ میں جھکتا ہے، اسی قدر خدا کی کائنات خدا کے بندے کے ساتھ التفات اور تعلق رکھتی ہے۔ جس قدر بندہ خدا کے ساتھ سرکش بنتا ہے۔ اسی قدر کائنات بندے سے سرکش ہو جاتی ہے۔ تو اسلام کا لفظ ایک طرف رکھو اور الصلوٰۃ کا ایک طرف رکھو صلوٰۃ کے معنی کو آپ ڈھونڈیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اسلام کی پوری پوری تفصیل آپ نماز کے اندر پاتے چلے جائیں گے۔ کس طرح، اسلام کا معنی سر جھکانا اور نماز کے دوران ہم اپنی پیشانی اللہ کے حضور زمین پر رکھ دیتے ہیں، سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہ تو اسلام کے لغوی معنی ہیں جو نماز میں پائے گئے۔ لیکن اگر اسلام کو دیکھیں تو اس کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ کلمہ شہادت، نماز، زکوٰۃ، روزہ اورحج۔ اگر کلمہ شہادت پر کلام کریں تو نماز میں کلمہ شہادت ہے۔ آپ التحیات میں بیٹھتے ہیں تو پڑھتے ہیں
اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰۃُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ ط
٭ اب دیکھیے، ہم نے کلمہ شہادت نماز میں پڑھا۔ پورا کلمہ شہادت پڑھا
اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ ط تو کلمہ شہادت نماز کے اندر موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ نماز بذاتِ خود نماز ہے۔ یہ دو چیزیں ہوئیں۔ اب تیسری چیز کیا ہے؟ وَاِیْتَائِ الـزَّکٰـوۃِ زکوٰۃ ادا کرنا تو بے شک زکوٰۃ کے جو معنی اصطلاحی، شرعی ہیں، وہ تو یہاں نہیں پائے جاتے لیکن اتنی حقیقت سے کوئی ذی فہم انکار نہیں کر سکتا کہ زکوٰۃ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا دیا ہوا مال اللہ کی راہ میں اس کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جائے۔ خواہ وہ کتنا ہی قلیل کیوں نہ ہو، کسی وقت ہو، کسی نوعیت سے ہو۔ خدا کی راہ میں ہو اور خدا کی رضاکے لئے ہو۔ خدا کا دیا ہوا مال خدا کی راہ میں اس کی رضا کی خاطر خرچ کیا جائے۔ یہ زکوٰۃ کی لطیف حقیقت ہے۔ اور میں عرض کرتا ہوں، اگر آپ ذرا تامل سے کام لیں تو آپ نماز میں اس حقیقت کو پائیں گے اور نمایاں طور پر پائیں گے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے علماء نے نماز کو عبادتِ بدنیہ میں شمار کیا اور نماز یقینا عبادتِ بدنیہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن زکوٰۃکی لطیف حقیقت نماز کے اندر پائی جاتی ہے۔ دیکھیے، نماز کے لئے عورت پر سارے جسم کا چھپانا فرض ہے اور مرد کے لئے ناف سے گھٹنوں تک جسم کا چھپانا فرض ہے۔ جس کپڑے سے، جس لباس سے نمازی نے اپنے بدن کو چھپا لیا، وہ کپڑا اور وہ لباس شرعاً مال ہے اور جب تک اس مال کو خدا کے لئے خرچ نہ کیا جائے، خدا کی رضا کے لئے استعمال نہ کیا جائے، اس وقت تک نماز ادا نہیں کی جا سکتی۔ تو نماز کے فرض کو پورا کرنے کے لئے اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں اس کی رضا کے لئے خرچ کرنا ضروری ہوا۔ وہ لباس، وہ کپڑا، جو ہم نماز ادا کرنے کے لئے اللہ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں، زکوٰۃ کی وہ لطیف حقیقت ہے جو نماز میں پائی جاتی ہے۔ اب دین کے چوتھے ستون کی طرف آئیے۔ بظاہر نماز میں روزہ نہیں۔ لیکن یہاں بھی باریک بینی درکار ہے۔ جب ہم نماز ادا کرنا شروع کرتے ہیں تو وہ مفطرات ثلاثہ ، وہ امور جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ان سے اجتناب ضروری ہوتا ہے۔ نماز کا آغاز کر کے تکبیر تحریمہ کہہ کر اگر آپ کھانا کھائیں تو آپ کی نماز نہیں ہو گی۔ جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اگر ان میں سے کوئی کام انجام دیں تو نماز نہیں ہو گی۔ گویا جتنی دیر تک ہم نماز پڑھیں گے، اتنی دیر تک روزے سے رہیں گے۔ کوئی ویسے روزے سے ہو یا نہ ہو، اگر نماز پڑھے گا تو جتنی دیر تک نماز پڑھے گا، اتنی دیر کے لئے اسے روزہ رکھنا پڑے گا کہ جب اس نے اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہا تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ تک اسے روزہ دار رہنا پڑے گا۔
٭ اب اسلام کے پانچویں رکن حج کی بات کریں۔ ممکن ہے، آپ سوچیں گے کہ نماز میں حج تو ہرگز نہیں ہے۔ نہ وہاں طواف ہے، نہ صفا مروہ کی سعی ہے، نہ وقوفِ عرفہ۔ لیکن میں عرض کروں گا کہ اللہ تعالیٰ نے گویا یہ فرمایا کہ اے میرے بندو! اگر تم پانچ وقت دن میں کعبے نہیں جا سکتے تو کعبے کی طرف منہ کر کے تو کھڑے رہ سکتے ہو۔ یہ تمہارا کعبے کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونا اور قیام کرنا اور رکوع کرنا، سجود کرنا اور یہ ارکانِ صلوٰۃ کو ادا کرنا، یہ حج کی حقیقت ہے جو نماز میں رکھ دی ہے۔ نہ کعبے کے بغیر حج ہوتا ہے اور نہ کعبے کی طرف منہ کیے بغیر نماز ہوتی ہے اور یہ حقیقت بھی ظاہر ہے کہ حج کے لئے احرام ضروری ہے اور احرام میں وہ چیزیں جو عام حالت میں انسان کے لئے حلال اور جائز ہوتی ہیں۔ مثلاً بال ترشوانا، ناخن کاٹنا، خوشبو لگانا اور خوش بو دار چیزیں استعمال کرنا، بغیر ضرورت غسل کرنا وغیرہ۔ احرام باندھتے ہی، یہ حلال چیزیں انسان کے لئے حرام ہو جاتی ہیں۔ گویا جس طرح حج کا احرام باندھتے ہی حلال چیزیں انسان کے لئے حرام ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح
اَللّٰہُ اَکْبَرْ (تکبیر تحریمہ) نماز کا احرام ہے اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ یہ نماز کی تحلیل ہے۔ اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہتے ہی بعض وہ چیزیں جو ویسے حلال اور جائز تھیں، اب ناجائز ہو گئیں۔ یہ کب تک ناجائز رہیں گی، جب ہم اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ کہیں وہ تکبیر ہے اور یہ اس کی تحلیل ہے۔ اس طرح حج کے احرام کی طرح نماز کی تکبیر تحریمہ ہے۔ یہ نماز اور حج میں ایک اور مناسبت ہے۔ یہ حج کی لطیف حقیقت تھی جو نماز کے اندر رکھ دی گئی۔ تو نتیجہ یہ نکلا کہ نماز کے اندر چونکہ اسلام کے تمام بنیادی ارکان کی اصل اور روح پائی جاتی ہے۔ اس لئے اسلام کی روح نماز ہے۔ اسلام کے تمام ارکان کا خلاصہ نماز ہے۔ شہادتین کی بنیاد نماز کے اندر موجود ہے۔ زکوٰۃ کی پاکیزہ اور لطیف حقیقت نماز کے اندر موجود ہے۔ اسی طرح روزے اور حج کی پاکیزہ اور لطیف حقیقت نماز کے اندر موجود ہے۔


ایک شبہ
٭ لیکن اس مقام پر ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے۔ وہ یہ کہ اگر کوئی یہ کہہ دے کہ میاں جب ہم نے نماز پڑھ لی تو اب زکوٰۃ دینے کی حاجت نہیں۔ کیونکہ وہ ادا ہو گئی اور اب روزہ رکھنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ وہ بھی نماز میں رکھ لیا گیا اور حج کی کوئی حاجت نہیں رہی کیونکہ نماز پڑھ لینے کے بعد حج کی حقیقت بھی ہمیں حاصل ہو گئی۔


شبہ کا ازالہ
٭ تو اس کے جواب میں گزارش ہے کہ نماز کے اندر ان لطیف حقیقتوں کو اس لئے نہیں رکھا کہ نماز پڑھ کر ہم بہانہ بنا لیں اور باقی ارکان کو چھوڑ دیں۔ نہیں، بلکہ نماز میں ان لطیف حقیقتوں کو رکھنے کی حکمت یہ تھی کہ نمازی جب نماز پڑھے اور یہ لطیف حقیقتیں اس کی نماز میں پائی جائیں تو صرف نماز کی ادائیگی سے تمام ارکانِ اسلام کی ادائیگی مسلمان کے لئے آسان ہو جائے۔ جب وہ دن میں پانچ مرتبہ ان تمام ارکان کی تمام حقیقتوں کو محسوس کرے گا تو ارکان کی ادائیگی اور انجام دہی کے وقت گریز و اجتناب سے کام لینے کی بجائے، ان کی بجا آوری میں مشغول ہو جائے گا۔ جب دن میں پانچ مرتبہ وہ معبود انِ باطلہ کا انکار کرے گا اور اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے اور حضور اکرم ﷺ کی رسالت کا اقرار کرے گا تو اس کا سر کبھی خدا کے علاوہ کسی اور کے آگے نہ جھکے گا اور جب زکوٰۃ دینے کا وقت آئے گا تو نمازی کی روح مال کی محبت کا شکار ہو کر زکوٰۃ کی ادائیگی سے گریز نہ کرے گی کیونکہ زکوٰۃ کی لطیف حقیقت تو اس کی روح میں پہلے پیوست ہو چکی ہو گی اور جب روزہ رکھنے کا وقت آئے گا تو نمازی کی روح کبھی اس سے انکار نہ کرے گی اور جب حج کی ادائیگی کا سوال آئے گا تو نمازی کی روح اس سے فرار کی راہ تلاش نہ کرے گی۔
٭ بندہ جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور نماز شروع کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ ہاتھ اٹھا کر تکبیر کہتا ہے۔ مختلف احادیث میں بظاہر مختلف الفاظ ہیں۔ بعض احادیث میں سر تک بعض میں کانوں تک اور بعض میں شانوں تک ہاتھ اٹھانے ذکر آیا ہے۔ جس کے بارے میں فقہا نے تصریح فرمائی کہ ہاتھ اس طرح اٹھاؤ کہ اگر انگلیوں کا اعتبار کرو تو وہ سر کے مقابل ہوں، اگر ہتھیلیوں کو دیکھو تو وہ کانوں کے برابر ہوں اور اگر کلائی کو پیشِ نظر رکھو تو وہ شانوں تک ہو، گویا تمام احادیث پر عمل ہو جائے۔ بہرحال، اگر کوئی شخص فقہاء کی اس تحقیق سے اتفاق نہ کرے، تب بھی وہ ہاتھ اتنی بلندی تک ضرور اٹھائے گا کہ دیکھنے والے کو بخوبی اندازہ ہو کہ نماز پڑھنے والے نے نماز کی نیت کر لی ہے اور تکبیر تحریمہ کہہ لی ہے۔ بندہ ہاتھ اٹھا کر
اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہتا ہے۔ نماز کی ہر حرکت اور ہر سکون میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ بندہ تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے، باقی دنیا سے ناطہ توڑ کر بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہوتا ہے۔ گویا وہ یہ کہتا ہے کہ اے میرے مولا! میں اپنے جسمانی تقاضوں کی تکمیل اور دنیاوی کاروبار میں انہماک کے باعث تیری بارگاہ سے دور رہا۔ اب جبکہ میں تیرے حضور کھڑا ہوں تو اقرار کرتا ہوں کہ تو سب سے بڑا ہے۔ کچھ لوگ پتھروں کے بنائے ہوئے بتوں کو پوجتے ہیں، کچھ درختوں اور پہاڑوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں، کچھ چاند سورج کی پرستش کرتے ہیں، کچھ وہ ہیں جو پانی یا آگ کی پوجا کرتے ہیں۔ معبودانِ باطلہ کی عبادت کرتے ہیں، میرے مالک! میں تیری کبریائی کا اقرار اور اعلان کرتا ہوں کہ تو سب سے بڑا ہے، مناظر فطرت ہوں یا مظاہر قدرت، ہر شے تیری مخلوق ہے، تیری صنعت اور کاریگری کا نمونہ ہے، تو خالق و مالک ہے، تو سب سے بڑا ہے۔ تیرے مقابلے میں کوئی کچھ نہیں ہے۔ اس لئے اب جبکہ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اور تیری کبریائی کا اعلان کرتا ہوں تو میں دنیا اور اس کی ضرورتوں سے ہاتھ اٹھاتا ہوں، اپنے کاروبار اور اپنی زمین جائیداد سے ہاتھ اٹھاتا ہوں، اپنے رشتے ناطوں، اپنی اولاد سے ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ اب تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اور تو سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا ہے اور وہ صرف ایک دفعہ یعنی نیت باندھتے ہوئے تکبیر تحریمہ کے وقت اللہ اکبر نہیں کہتا بلکہ رکوع، سجدے اور قعدے میں جاتے ہوئے ہر بار بھی اللہ اکبر کہتا ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اس کی تسبیح میں مشغول ہے
وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ (س بنی اسرائیل آیت ۴۴)
٭ کوئی شے ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو۔ ہر چیز کی تسبیح اس کی شان اور اس کے حال کے مطابق ہے۔ جو جس حال میں ہے، اسی حال میں رب کی تسبیح میں مشغول ہے۔ اگر درختوں اور پہاڑوں کو دیکھیں تو وہ حالت قیام میں اس کی تسبیح کرتے نظر آتے ہیں۔ اوپر آسمان اور نیچے چوپائے حالت رکوع میں
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہہ رہے ہیں۔ حشرات الارض وغیرہ سجدے کی حالت میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی پکار رہے ہیں۔ زمین اور اس کے ساتھ کئی چیزیں حالت قعود میں اپنے رب کی الوہیت اور عظمت کی گواہی دیتی معلوم ہوتی ہیں۔ آبشار اور دریا حرکت کی حالت میں رب کی عبادت کر رہے ہیں اور پتھروں کی چٹانیں سکون کی کیفیت میں اس کی یاد میں محو محسوس ہوتی ہیں۔ غرض قیام و قعود، رکوع و سجود، حرکت و سکون، جس حال میں جو چیز جہاں ہے، اپنے خالق و مالک کی تسبیح و ثنا میں مصروف ہے۔
٭ چونکہ انسان تما م عالموں اور کائنات کی ہر شے کی حقیقتوں کا جامع ہے۔ اس لئے ضروری تھا کہ اس کی عبادت بھی تمام کائنات اور ہر مخلوق کی عبادت کا مجموعہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمام موجودات کی عبادتوں کے مختلف اور متعدد طریقے انسان کی عبادت میں شامل کر دئیے۔ قیام و قعود، رکوع و سجود، تمام مخلوق کی عبادت کا عطر ہیں اور نماز میں حرکت بھی ہے، سکون بھی، قیام و قعود اور رکوع و سجود کے وقت اور حرکت و سکون کے وقت بندہ
اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہتا ہے۔ گویا جب وہ حالت قیام کے لئے اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہتا ہے تو ان تمام چیزوں کی طرف سے خدا کی کبریائی کا اعلان کرتا ہے جو حالت قیام میں اس کی تسبیح کر رہی ہیں اور جب وہ رکوع میں جاتے ہوئے اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہتا ہے تو یہ اعلان اس ساری مخلوق کی طرف سے ہے جو حالت رکوع میں محو عبادت ہے۔ اسی طرح سجدے اور قعدے کے لئے اس کا اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہنا گویا سجدے اور قعدے کی حالت میں حمد و ثنا کرنے والی جملہ مخلوق کی نمائندگی ہے۔
٭ اب بندہ تکبیر تحریمہ کہہ کر ثناء پڑھتا ہے اور اس کے بعد سورئہ فاتحہ کی تلاوت کرتا ہے۔ سورئہ فاتحہ تو اسے ہر رکعت میں پڑھنی ہے۔ اس سورت میں کتنے اسرار و رموز ہیں؟ کتنے بھید ہیں؟ مجھ سا ناقص الفہم ان کا ادراک کیسے کر سکتا ہے؟ یہ تو ان برگزیدہ ہستیوں کا کام ہے کہ کسی نے کہا

حریفاں بادہ ہا خوردند ورفتند
تہی خمخانہ ہا کردند ورفتند

٭ وہ حضرات اس کے اہل ہیں۔ بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ بندہ جب سورئہ فاتحہ پڑھتا ہے، کہتا ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، حَمَدَنِیْ عَبْدِیْ میرے بندے نے میری حمد کی ہے۔ پھر بندہ کہتا ہے، اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ تو اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے، اَثْنٰی عَلَیَّ عَبْدِیْ میرے بندے نے میری ثناء کی، پھر بندہ کہتا ہے، مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ تو رب فرماتا ہے، مَجَدَنِیْ عَبْدِیْ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ اس کے بعد بندہ کہتا ہے، اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ تو ارشاد ہوتاہے، ہٰذَا لِیْ وَلِعَبْدِیْ مَاسَأَلَ میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے۔ معبود ہونا، یہ میری الوہیت کا تقاضا ہے اور مدد مانگنا، تیری بندگی کا تقاضا ہے۔ تو میرے بندے نے جو کچھ مانگا، وہ سب کچھ اس کے لئے ہے اور بندے نے کیا مانگا، اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ مجھے صراطِ مستقیم کی ہدایت فرما۔ بندہ رب کی بارہ میں عرض گزار ہے، اِہْدِ ہدایت فرما۔ یہ صیغہ امر کا ہے۔ جب خطاب کرنے والا بندہ ہو اور مخاطب رب ہو اور صیغہ امر کا ہو تو وہ ہمیشہ عاجزی، تذلل اور دعا کے معنی میں ہوتا ہے۔ حالانکہ امر کے اندر استعلاء ہوتا ہے لیکن جب یہ صیغہ استعمال کرنے والا بندہ ہے اور جس کو مخاطب کر کے یہ امر کا صیغہ بول رہا ہے، وہ خالق و مالک کائنات ہے، معبودِ حقیقی ہے تو اس کا یہ خطاب دراصل اس کی عاجزی ہے۔ اس کا تذلل ہے۔ اس کی دعا ہے۔ یہ التجا ہے، مولا! ہمیں سیدھی راہ دکھا دے، صراط مستقیم پر چلا دے، صراط مستقیم کی ہدایت دے دے۔ کیا یہ بندہ، یہ التجا کرنے والا، یہ دعا مانگنے والا، نماز پڑھنے والا۔ سیدھے راستے پر نہ تھا؟ یہ مسلمان ہے۔ یہ کلمہ گو ہے۔ یہ عبد ہے۔ یہ نمازی ہے۔ اس نے وضو کیا ہے۔ پاک لباس پہنا ہے۔ مسجد میں آیا ہے۔ تذلل اور خضوع و خشوع کے ساتھ اپنے رب کے دربار میں ہاتھ باندھے سر جھکائے عرض گزار ہے۔ اے رب، اے رحمن و رحیم، اے بدلے کے دن کے مالک، اے ہمارے معبود، اے ہماری جھولیوں کو بھرنے والے! مجھے سیدھا راستہ دکھا دے۔ اگر یہ سیدھے راستے پر نہیں، صراطِ مستقیم پر نہیں، اگر اسے ہدایت نہیں ملی تو کلمہ ایمان، وضو، مسجد میں حاضری، نماز ان سب کا کیا مطلب ہے اور اگر یہ سیدھے راستے پر ہے تو پھر ہدایت کیوں مانگ رہا ہے۔ جو چیز پہلے سے حاصل ہو اسے مانگنا بے عقلی ہے، نادانی ہے، یہ تو تحصیل حاصل ہے۔ تحصیل حاصل عبث ہے۔ محال بھی ہے۔ یہ محال چیز کے لئے دعا کیوں مانگ رہا ہے اور پھر از خود نہیں مانگ رہا۔ رب کے کہنے پر مانگ رہا ہے۔ اس کے جواب میں عرض کروں گا کہ نماز کی حقیقت کیا ہے؟ نماز ہمیں کیوں تعلیم کی گئی ہے؟ قرآن مجید میں یہ ارشاد ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (س ذاریٰت آیت ۵۶) انسان کی تخلیق کا مقصد خدا کی عبادت ہے۔ خدا کی معرفت کا حصول ہے اور نماز جو انسان کی تمام عبادتوں کا خلاصہ ہے، اس کا اصل مقصد بھی یقینا معرفت خداوندی ہے اور صراطِ مستقیم بھی وہی راستہ ہے جو ہمارے رب کی طرف جاتا ہے۔ جس پر چل کر ہم اپنے رب کی سے قریب ہو سکتے ہیں اور اپنے رب کی مغفرت حاصل کر سکتے ہیں۔ اس راستے کی بے شمار منزلیں ہیں۔ بے شمار درجات ہیں۔ یہ راستہ تو خدا کی طرف جاتا ہے اور خدا لا محدود ہے۔ خدا ایسا نہیں، جیسے آپ کہیں گے کہ یہاں سے شروع ہو کر یہاں تک ختم ہو گیا ہے۔ نہیں وہ لا متناہی ہے۔ جب خدا لا محدود ہے تو جو راستہ اس کی طرف جا رہا ہے، وہ بھی لا محدود ہے۔ اس کی بے شمار منازل اور بے شمار مراحل ہیں۔ اس کے بے شمار درجات ہیں۔ سب سے پہلا مرحلہ، سب سے پہلا مرتبہ سب سے پہلی منزل ایمانہے۔ پھر اس پر چلتے چلے جاؤ، گناہوں سے بچنا، نیکیوں کو اختیار کرنا، روزہ رکھنا، نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا، فسق و فجور سے اجتناب کرنا، اس کے احکامات کی بجا آوری میں مشغول رہنا، اس کی مرضیات پر عمل کرنا، اس کی خوشنودی طلب کرنا، بے شمار مراحل، بے شمار درجے ہیں۔ اس کی ذات لا متناہی ہے۔ اس لئے اس کی معرفت کے درجات بھی لا متناہی ہیں۔ یہ صراطِ مستقیم ہمیں اس کی طرف لے کر جا رہا ہے۔ اب کس مقام کو کہیں گے کہ بس اب ہم خدا تک پہنچ گئے۔ اب اس کی معرفت اور قرب کے درجات ختم ہو گئے۔ نہیں، بندہ نماز میں کھڑا عرض کرتا ہے کہ اے میرے مالک! تو نے مجھے توفیق بخشی، تو نے مجھے سیدھا راستہ دکھایا، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔ میرے مولا! اب مجھے معرفت کا اگلا درجہ بھی عطا فرما دے۔ یہ درجہ مل گیا۔ مولا! اب دوسرا درجہ دکھا دے۔ تیسرے درجے تک پہنچا دے۔ اب جو اس سے اگلا درجہ تیری معرفت کا ہے، وہ مجھے عطا فرما دے۔ گویا ہر ایک ہدایت مانگنے والا، اپنے حال کی مناسبت سے، اپنی شان اور اپنے مقام کے مطابق مانگ رہا ہے۔ میں جو اس کا گناہ گار بندہ ہوں، میں اس سے ہدایت مانگوں گا، اِہْدِ نَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کہوں گا تو وہ درجہ طلب کروں گا جو میرے حسب حال ہے اور اگر کوئی صالح، متقی، اللہ کا ولی اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کہے گا تو وہ اپنے مرتبے کے مطابق خدا تعالیٰ سے اس کی معرفت کے اگلے درجے کو طلب کرے گا۔ کوئی صحابی کہے گا تو وہ اپنے مقام کے مطابق کہے گا۔ خلفائے راشدین کہیں گے، حسنین کریمین کہیں گے، سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء کہیں گی، ازواجِ مطہرات کہیں گی تو اپنے حال کے مطابق خدا تعالیٰ کی معرفت کے درجات کی طلب کا اظہار ہو گا اور سرکارِ دو عالم نور مجسم ا معرفت کے جس درجے کو طلب فرمائیں گے، اس کا تو کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔
٭ معلوم یہ ہوا کہ نماز ان تمام عبادات کی جامع ہے جو انسان کے لئے ہیں اور انسان تمام مخلوقات کا جامع ہے۔ تو نماز نہ صرف تمام مخلوق کی عبادتوں کی جامع ہوئی بلکہ انسان کی اپنی دیگر تمام عبادات کی بھی جامع قرار پائی۔
 

پچھلا صفحہ

ہوم پیج