اسلامی معاشرے میں طلباء کا کردار

٭ امام اہلسنّت، غزالی دوراں حضرت علامہ سید احمد سعیدؒ شاہ صاحب کاظمی کی وہ تقریرِ جامع جو انہوں نے انجمن طلباء اسلام کے مرکزی اجتماع منعقدہ کراچی میں بروز اتوار ۷؍ اپریل ۱۹۶۸؁ء کو فرمائی۔

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم اَمَّا بَعْدُ
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارَکَ وَسَلَّمَ

٭ عزیز طلباء! یہاں حاضر ہو کر اور آپ حضرات کا یہ اجتماع دیکھ کر میں اس قدر مسرور ہوں کہ میں اپنے ان جذباتِ مسرت کو ظاہر کرنے کے لئے نہ الفاظ پاتا ہوں، نہ اس کے لئے وقت کی گنجائش محسوس کرتا ہوں۔ میں رسمی گفتگو کا عادی نہیں اور اس کیلئے وقت بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا یہ اجتماع اگرچہ بہت بڑا نہیں لیکن بڑے بڑے اجتماعات کے مقابلے میں آپ کا یہ اجتماع میرے لئے انتہائی مسرت کا باعث ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ حضرات قوم کی متاعِ عزیز ہیں۔ قوم کی نشو و نما، قوم کی فلاح، قوم کی اصلاح، قوم کی بقا، یہ آپ حضرات کے دامنوں سے وابستہ ہے۔ معاشرے میں طلباء کا کیا کردار ہے؟ اور انہیں کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟ یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے۔ اس کو نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔
٭ آپ کو معلوم ہے کہ حیاتِ انسانی کے دو ستون ہیں۔ ایک علم، دوسرا عمل۔ علم بنیاد ہے اور عمل اس بنیاد کی تعمیر۔ علم ایک درخت ہے اور عمل اس درخت کے پھول ہیں۔ حضور تاجدارِ مدنی جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے دین متین کا جو نقشہ پیش فرمایا ہے، اس میں جمود نہیں ہے۔ اسکے اندر استنباط کیلئے، سوچنے کے لئے اور صحیح لائنوں پر غور و فکر کیلئے بڑی وسعتیں ہیں مگر افسوس کہ ہماری اپنی تنگ نظری نے ان وسعتوں کو محدود کر دیا۔ ہم یہ سمجھے کہ حقائق کائنات پر غور کرنا اور حقائق کے علم کا حصول بے کار سی بات ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کے جس ذرہ کا آپ علم حاصل کریں گے، وہ آپ کے حق میں نور ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ علم کا مقصد کیا ہے؟ علم کیے معنی ہیں جاننا۔ کس چیز کا جاننا؟ جو چیز ہے، اس کو جاننا لیکن نہ ہونے والی چیز کو ہم جانیں کہ وہ ہے تو یہ علم نہ ہو گا، جہل ہو گا۔ مثلاً اب رات نہیں ہے اور اگر کوئی شخص جانے کہ یہ رات ہے تو یہ جاننا کہاں ہے؟ یہ تو نہ جاننا ہے۔ جو چیز ہے نہیں، اس کو ہم جانیں کہ ہے اور جو چیز ہے، اس کو ہم جانیں کہ نہیں ہے، یقین کیجئے کہ ہست کو نیست جاننا اور نیست کو ہست جاننا، یہ دونوں جہل ہیں۔ علم کے معنی یہ ہیں کہ نیست کو نیست اور ہست کو ہست جانے۔ یہ ہے علم۔


حقیقت کائنات
٭ عزیزانِ گرامی! آج دنیا جس چیز کو علم قرار دے رہی ہے، وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدائے قدوس جل مجدہٗ کی ذات ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی اور ساری کائنات میں جو کچھ ہے، اسی کی صفات کی ظہور ہے۔ اسی کے اسماء کا اور اسی کے افعال کا ظہور ہے اور یوں کہیے کہ حقائق کائنات، اٹھارہ ہزار عالم، یہ سب کچھ اسی ذاتِ واجب الوجود کا ظہور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا ہے اور خدا کے سوا کچھ نہیں۔ جس چیز کو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہے، خدا کی قسم! اس کا کوئی مستقل وجود نہیں۔ مستقل وجود اگر ہے تو صرف خدا کا ہے۔ واجب الوجود کا ہے اور جس قدر کائنات ہمیں نظر آ رہی ہے، سب اسی کے وجود کے ظلال ہیں۔ اسی کے وجود کا ظہور ہیں۔ اسی کے وجود کی حقیقتوں کی نمائندگی، کائنات کا ہر موجود ذرہ کر رہا ہے۔ میں کائنات کے وجود کی نفی نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی عاقل کر سکتا ہے۔ اس لئے کہ ہمارے علم، کلام کی بنیاد ہی حقائق کائنات کا ثبوت ہے کیونکہ جب تک ہم حقائق کائنات کو ثابت نہیں مانیں گے تو اس وقت تک ہم مخلوق کو خالق پر دلیل کیسے بنائیں گے؟ ہمارا تو نظریہ یہ ہے کہ زمین و آسمان کی جس چیز کو دیکھو، اسے دیکھ کر خدا کی ہستی کو پہچانوں اور کائنات کے ہر ذرہ کو دلیل قرار دو اور کہو کہ شمس و قمر اور زمین و آسمان خدا کے ہونے کی دلیل ہیں۔ ہم تو تمام حقائق کائنات کو خدا کی ہستی کی دلیل بناتے ہیں اور اگر یہ چیزیں ہیں نہیں تو پھر دلیل کس کو بنائیں گے؟ عدم کو تو دلیل بنا ہی نہیں سکتے۔ اس لئے ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حقائق کائنات موجود ہیں مگر ان کا وجود مستقل نہیں۔ مستقل وجود اگر ہے تو فقط واجب کا ہے۔ تمام حقائق کائنات،اسی واجب کا ظہور ہیں۔ لیکن آج اس علم کا جو مفاد دنیا میں ہمارے سامنے ہے، وہ یہ کہ جو کچھ ہے، وہ صرف مادہ ہے اور خدا کا تو کوئی وجود ہی نہیں۔ یعنی جو ہے اس کو نیست قرار دے دیا اور نیست کو ہست سمجھ لیا۔ کائنات کا وجود کوئی مستقل وجود نہیں ہے اور مستقل وجود فقط خالق کائنات کا ہے۔ لیکن آج اس مادہ پرستی کی دنیا میں علم و فضل کے دعویٰ کی دنیا میں، اس علم کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو تھا اس کو کہہ دیا کہ یہ نہیں اور جو نہیں تھا، اس کو کہہ دیا کہ یہ ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے

خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ حسنِ کرشمہ ساز کرے

٭ علم کا مقتضیٰ یہ ہے کہ عدم کو عدم جانے اور وجود کو وجود۔ ہست کو ہست جانے اور نیست کو نیست۔ اور یقین کیجئے کہ اس علم کا سرچشمہ فقط حضرت محمدﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔ اس راہ میں لوگوں کو بڑی ٹھوکریں لگتی ہیں۔
٭ یہ وادی اتنی آسان نہیں کہ جہاں سے انسان آسانی سے گزر جائے۔ بڑے دشوار گزار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور حضور نبی کریم ا نے جو شاہراہ، ہمارے لئے متعین کی ہے، اس کے متعلق زبانِ رسالت نے فرمایا کہ
ترکتم علی ملت بیضاء لیلہا ونہارہا سواء
٭ میں نے تمہارے لئے وہ راہ بنائی ہے کہ تم آنکھ میچ کر گزر جاؤ، اس کے دن رات برابر ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ راہ سے ہٹنے نہ پاؤ اور اگر راہ سے ہٹ گئے تو ادھر بھی ہلاکت و تباہی کے گڑھے ہیں اور ادھر بھی۔ کیونکہ وہاں ہلاکت کے گڑھوں کے سوا کچھ ہے ہی نہیں اور صراطِ مستقیم، یہ وہ راہ ہے کہ جس کے اندر کوئی کانٹا نہیں، کوئی خطرہ اور خدشہ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس صراطِ مستقیم پر اللہ کے پیارے رسولﷺ نے ہم کو لگایا ہے، وہ ہمارے لئے شاہراہِ علم و عمل ہے۔ ہماری زندگی کا پہلا ستون علم ہے جو کہ بنیاد ہے عمل کی اور عمل اس کی بنیاد پر تعمیر ہے۔


حقیقت علم
٭ طلباء کی شخصیت کیا ہے؟ طلباء کا مقام کیا ہے؟ میں گوشت پوست کو طلباء کی شخصت قرار نہیں دیتا۔ میرے لئے طلباء کی شخصیت کا وجود اس کا ذہن ہے جو علم کی طلب والا ہے۔ علم ایک نور ہے اور نور جہاں آتا ہے، ظلمت دور ہو جاتی ہے اور جہاں ظلمت دور نہ ہو گویا وہاں نور آیا ہی نہیں۔ طلباء کے راہِ راست پر ہونے کی علامت یہ ہے کہ جن طلباء کا ذہن صاف و روشن ہے تو خوب سمجھ لو کہ وہ طالب علم ہیں، علم کی راہوں پر چل رہے ہیں اور علم حاصل کر رہے ہیں۔ جو طالب علم اپنے ذہن کے اندر کوئی روشنی نہیں پاتے تو سمجھ لو کہ وہ علم سے محروم ہیں۔ علم ایک ایسا نور ہے جو دل و دماغ کو روشن کرتا ہے۔ طلبا جو اس نورِ علم سے محروم ہیں، ان کو ان امور کی طرف توجہ کرنا چاہئے جو اس کی راہ میں رکاوٹ اور مانع بنے ہوئے ہیں اور جو علم کے لئے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، ان رکاوٹوں کو دور کرے اور ان راہوں کو صاف کرے، جن راہوں سے ذہن اور دل کے اندر نور آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کا ذہن، علم کے نور سے منور اور روشن ہو گا تو پھر ان کا عمل اور کردار بھی روشن ہو گا کیونکہ عمل کی عمارت تو ہمیشہ علم کی بنیادوں پر قائم ہوا کرتی ہے۔ تاریک کردار اس کا ہو گا، جس کا دماغ تاریک ہو گا۔ طلباء کا معاشرے میں یہ مقام ہے کہ وہ اپنے ذہن کو روشن کر کے قوم کے ذہن کو روشن کریں۔ طلباء کی جس جماعت کا ذہن روشن نہیں، سمجھیے، وہ اپنے مؤقف پر نہیں۔ ان کا وہ مقام نہیں ہے۔ تو طلباء کا پہلا مقام یہ ہے کہ وہ علم کے نور سے اپنے ذہن کو منور اور پھر وہی روشنی قوم تک پہنچا کر قوم کی ذہنی تاریکوں کو روشنی میں بدل دیں۔ یہ طلباء کا معیاری اور بنیادی کردار ہونا چاہئے۔ اس کردار کو ادا کیے بغیر طالب علم کا کوئی ابتدائی مقصد ہے نہ انتہائی اور یہ روشنی جو تمہارے دماغوں کو صاف کرے گی، وہ مادی علوم سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس کا حاصل کرنا اسلامی علوم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس لئے کہ مادے میں تاریکی ہے۔ وہ خود تاریک ہے۔ تاریکی سے تاریکی کے سوا کیا مل سکتا ہے۔ اگر آپ کو یہ نور حاصل کرنا ہے تو آپ اسلامی تعلیم کی طرف توجہ دیں۔
٭ میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ اسلامی علوم کیا ہیں؟ آپ شاید یہ کہیں کہ یہ ہمیں سائنس سے ہٹاتے ہیں، دنیا کے علوم سے ہٹاتے ہیں لیکن خدا کی قسم! کائنات کا کوئی علم ایسا نہیں جو غیر اسلامی ہو۔ اسلامی علم سے کیا مراد ہے؟ اسلامی علم سے مراد یہ ہے کہ جس چیز کا علم تم حاصل کرو تو یہ سمجھو کہ وہ چیز خدا نے بنائی ہے۔ اس کی یہ صفت، یہ خصوصیت، یہ کیفیت اسی نے پیدا کی ہے، اس چیز کے اثرات کو دیکھتے جاؤ، ان خصوصیات کا تجزیہ کرتے جاؤ، جن چیزوں کے اندر حرارت ہے، اس چیز کی حرارت کو دیکھ کر حرارت پیدا کرنے والے کو پہچانو۔ کسی چیز کے اندر برودت ہے تو پھر اس سے برودت پیدا کرنے والے کو پہچانو۔ کیونکہ کسی پیدا کرنے والے کے بغیر کوئی چیز پیدا نہیں ہوا کرتی۔ اگر تمہارا دماغ حرارت و برودت کے اندر پھنس کر رہ گیا تو سمجھو کہ تاریکی میں مبتلا ہو گئے۔ اگر یہ سمجھا کہ وہ ٹھنڈک ہے، یہ گرمی ہے، یہ خشکی ہے، اس چیز میں فلاں صفت ہے، یہ تاثیر ہے، یہ خصوصیت ہے، ان تمام اثرات و خصوصیات کو معلوم کرتے چلے جاؤ اور حقائق کائنات سے واقف ہوتے چلے جاؤ اور جب کبھی حقیقت کا انکشاف ہو، سمجھو کہ حقیقت بنانے والے کے بغیر اس حقیقت کا وجود نہیں ہو سکتا۔


ایک شبہ کا ازالہ
٭ یہاں ایک بات سمجھانا ضروری ہے کہ وہ طلباء جن کے ذہن مادی علوم میں گھرے ہوئے ہیں اور اسلامی علوم کی ہوا نہیں لگی، ان کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو گئی ہے کہ یہ خدا کا تصور اور خدا کی ذات کا عقیدہ، محض ایک توہم ہے۔ لوگوں نے یوں ہی لوگوں کو ڈرانے کے لئے خدا کا تصور لوگوں کے ذہنوں میں ڈال دیا ہے۔ جیسے بچوں کو کہتے ہیں کہ
ہوّا آ گیا ہے۔ ارے بھائی! اگر خدا نہیں تو یہ نظام کائنات آخر کیا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ مادہ کے اندر یہ صفات خود بخود موجود ہیں۔ ایک مادہ ایک وقت میں ایک حال میں ہے۔ پھر وقت گزرا، دوسرے حال پر آیا۔ پھر وقت گزرا تیسرے حال پر آیا۔ اس طرح مادے کے اندر جو خواص چھپے ہوئے ہیں، وہ ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ مادے کے اندر تمام ترقیات کے اثرات ہیں اور مادہ اپنے اپنے وقت میں ترقی کے منازل طے کرتا جاتا ہے۔ تو یہ تمام مادی خواص اور مادی اثرات ہیں۔ گندم کا ایک دانہ ہوتا ہے۔ اس کو زمین میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ ایک نرم و نازک شاخ کی صورت میں نمودار ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ہم کئی گندم کی بالیاں حاصل کر لیتے ہیں تو یہ مادے کی خصوصیات اور اثرات ہیں جو اپنے اپنے موقعوں پر جیسا ماحول، ان کی کیفیات کے ظہور کے لئے مہیا ہوتا جاتا ہے، اس کے مطابق وہ مادے کے اثرات قائم ہوتے جاتے ہیں اور ان کے اپنے ذاتی اثرات ہیں۔ان کی خصوصیات جو خود بخود ظاہر ہوتی ہیں، اس لئے نہیں کہ کسی بنانے والے نے بنائی ہوں یا پیدا کرنے والے نے پیدا کی ہوں۔


ازالہ
٭ دیکھیے، یہ ایک ایسی بات ہے، جس کا جواب مشاہدات کی دنیا میں نہیں دیا جا سکتا اور اس کی وجہ یہ ہے، مشاہدات کی دنیا میں یہ سوال بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن میں نے ارخا، عنان کے طور پر یہ بات تسلیم کر لی اور اس کے بعد پھر میں جواب کی طرف آتا ہوں۔


مادہ پرستوں کا عقیدہ
٭ بات یہ ہے کہ تمام نظام کائنات کے بارے میں خدا کے منکروں کا مادہ پرستوں، مادی علوم کے ماہرین کا بنیادی نظریہ یہی ہے کہ مادے کے اندر جو یہ اثرات و خواص ہیں، وہ وقت آنے پر ظاہر ہو جاتے یہں۔ اب ہم نے ان سے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ مادے کے اندر ان اثرات و خواص کا مختلف مقامات پر مختلف صورتوں میں پایا جانا جو کہ فعل و ظہور ہے تو اس کا تعلق کسی امر خارج کے ساتھ ہے یا یہ بھی مادے کی طرف سے ہے؟ انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ یہ اثرات تو مادے ہی کے ہیں لیکن ان کا ظہور کسی سے متعلق نہیں بلکہ وہ ایک امر اتفاقی ہے۔ جیسا قضیہ اتفاقیہ ہوتا ہے یعنی اتفاق سے ایک مادہ سورج بن گیا، اتفاق سے ایک مادہ چاند بن گیا، اتفاق سے مادہ کے کچھ اجزاء نے مختلف صورتیں اختیار کر لیں۔ یہ تو محض اتفاق کی بات ہے۔ یہ نہیں کہ اس کا تعلق کسی خارجی حقیقت کے ساتھ ہو۔ رہا یہ کہ ان کا اس نوعیت کے ساتھ ظاہر ہونا، اس ظاہر ہونے میں، کسی ظاہر کرنے والے کا دخل نہیں بلکہ یہ قضیہ اتفاقیہ ہے، جیسا کہ اتفاق ہو گیا کہ آپ یہاں بیٹھے ہیں اور میں آیا۔ میں نے آپ کو دیکھ لیا۔ آپ نے مجھے دیکھ لیا۔ میں نے کچھ کہا، آپ نے میری باتیں سن لیں۔ یہ گویا قضیہ اتفاقیہ ہے۔ یہ ان مادہ پرستوں کا نظریہ ہے۔ اب میں اس نظریہ کو ایک دلیل سے توڑتا ہوں۔
٭ دیکھیے صاحب، جو چیز محض اتفاقی ہو، اس کا کیا حال ہوتا ہے؟ اور اس نظام عالم کا کیا حال ہو گا؟ ذرا دونوں کے حال پر ایک نظر ڈالیے تو آپ دیکھیں گے کہ اٹھارہ ہزار کائنات کا نظام اتنا منظم، اتنا مربوط اور مستحکم ہے کہ ایک کڑی دوسرے کی کڑی سے جدا نہیں کی جا سکتی۔ چاند، سورج، ہوا، آگ اور پانی، جواہر و عناصر اسی طرح دیگر اجزاء ہیں۔ ان کا باہمی ربط کیا خوب ہے۔
٭ ہم جانتے ہیں اگر ہوا، پانی نہ ہو تو ہماری حیات باقی نہیں رہ سکتی۔ زمین نہ ہو تو ہم کہاں ٹھہریں گے۔ چاند سورج نہ ہوں تو ان کی طرف سے جو اثرات و خواص نباتات و جمادات پر مرتب ہوتے ہیں، وہ کہاں ہوں گے؟ درختوں، پھلوں اور غلوں کی لذتیں اور گو ناگوں مزے اور پھر ہر چیز کا مختلف رنگ اور مختلف حالت میں ہونا، یہ سب چاند اور سورج کی گردشوں کے اثرات ہیں۔ جن سے یہ چیزیں رونما ہوتی ہیں۔ کھیتیاں اور پھل پکتے ہیں۔ کہیں حیوانات ہیں اور کہیں درخت، کہیں پانی اور آگ ہے، کہیں ہوا ہے، کوئی نظام اراضی ہے تو کوئی نظام سماوی۔ اسی طرح اگر ہم اپنے وجود پر بھی نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ سر سے لے کر پاؤں تک ایک خاص ربط ہے۔ ہمارے بالوں کا رابطہ ہماری کھال کے ساتھ ہے۔ کھال کا رابطہ، گوشت کے ساتھ ہے اور گوشت کا ربط ہماری استخوان کے ساتھ ہے اور پھر ایک ایک رگ کا تعلق نیچے سے لے کر اوپر تک رابطہ ہے۔ اگر ہماری انگلیوں کے جوڑ نہ ہوں تو ہم انہیں کھول سکتے ہیں اور نہ بند کر سکتے ہیں۔ اگر یونہی ایک سیدھی سی ہڈی رکھ دی جاتی تو پھر یہ انگلیاں سیدھی ہی کھڑی رہتیں۔ اگر ہماری پشت کے اندر مہرے نہ رکھے جاتے تو اٹھنا بیٹھنا ممکن نہ تھا۔ جسم ایک تختے کی طرح رہ جاتا۔ جسے چاہو کھڑا کر دو، چاہو تو لٹا دو۔ ہمارے گھٹنے کے جوڑ اس نوعیت کے ساتھ پیدا کئے گئے ہیں کہ ہم ان کو سکیڑنا چاہیں تو سکیڑ سکتے ہیں، موڑنا چاہیں تو موڑ سکتے ہیں، سیدھا کرنا چاہیں تو سیدھا کر سکتے ہیں۔ ہماری آنکھیں، ہمارے کان، ہماری زبان، ہمارے دانت سب اپنی اپنی جگہوں پر لگے ہوئے ہیں۔ اب بتائیے کہ یہ دانت جو اللہ تعالیٰ نے منہ میں پیدا کئے ہیں اگر سر کے اوپر پیدا کر دیتا۔ بھئی یہ بھی تو قضیہ اتفاقیہ ہے نا! اتفاق سے کسی کے دانت سر پر ہی ہو جاتے تو کون سی بات تھی۔ کسی کی زبان آپ کان کی جگہ نہیں دیکھیں گے۔ کسی کا پاؤں سر پر نہیں دیکھیں گے۔ کسی کا پاؤں پیٹھ پر نہیں دیکھیں گے۔ یہ کیا ہے؟ ہمارے وجود کا نظام اتنا منظم، مربوط اور مستحکم ہے کہ اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔


نظام کائنات
٭ لیکن میرے دوستو! اگر اس نظام کو ہم قضیہ اتفاقیہ قرار دیں تو خوب سمجھ لیجئے کہ جو عمل اتفاقیہ ہو جائے، اس کے اندر نظم و ضبط نہیں ہوا کرتا۔ یہ ارتباط اس بات کی دلیل ہے کہ کسی ارتباط پیدا کرنے والے نے ارتباط پیدا کیا ہے۔ کسی نظام قائم کرنے والے نے نظام قائم کیا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب آپ بازار میں چلتے ہیں تو آپ کس انداز سے چلتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کی رفتار غلط نہ ہو، آپ کا قدم زیادہ آگے نہ بڑھ جائے۔ آپ چھوٹا قدم نہ اٹھائیں۔ اتنی تیزی سے نہ چلیں کہ لوگ دیکھ کر آپ پر ہنسنے لگیں اور نہ اتنے آہستہ چلیں کہ لوگ سمجھیں کہ شاید یہ زمین سے چپکے ہوئے ہیں۔ تو آپ اتنا آہستہ نہیں چلتے، اتنا تیز نہیں چلتے، قدم آپ کا نہایت ہموار ہوتا ہے اور اپ کے جسم کی حرکات بالکل معتدل ہوتی ہیں اور آپ کے جسم کے تمام اعضاء بالکل اعتدال کے ساتھ متحرک ہوتے ہیں لیکن کہیں کیلے کے چھلکے پر پاؤں پڑ گیا تو دھڑام سے گرے، تو ایمان سے کہنا کہ آپ کا گرنا اتفاقی ہے یا نہیں۔ اب اس گرنے کو قضیہ اتفاقیہ کہیے اور اس نظم و ضبط کے ساتھ چلیے کہ آپ کو مربوط نظام کے تحت لائے۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ جب آپ گریں گے تو گرنا اتفاقی ہے نا، لیکن گرنے میں کیا وہ نظم و ضبط باقی رہے گا؟ بتائیے، اگر اس منظم کائنات کو اتفاقیہ مان لیا جائے تو پھر گرنے میں نظم و ضبط ہونا چاہیے۔ کیونکہ کائنات کا نظم و ضبط تو ہمارے سامنے ہے۔ اس لحاظ سے گرتے وقت آپ خوب سنبھل کر گریں کہ پاؤں جہاں ہونے چاہئیں، وہیں ہوں۔ ہاتھ بالکل غیر محل پر نہ ہوں اور پاؤں بالکل نامناسب جگہ پر نہ ہوں اور سر کہیں ایسی نا مناسب جگہ پر نہ ہو، جہاں سر کی توہین ہو جائے۔ لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ سر جہاں پڑ گیا، پڑ گیا۔ ہاتھ جہاں گر گئے، گر گئے اور پاؤں جہاں پڑ گئے، پڑ گئے۔ کوئی اس کے اندر نظم و ضبط نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا کہ جو قضیہ اتفاقیہ ہوتا ہے، اس میں نظم و ضبط نہیں ہوا کرتا۔ چونکہ ساری کائنات میں نظم و ضبط ہے۔ اس لئے پتہ چلا کہ جہاں نظم و ضبط ہو، وہ اتفاقی بات ہے اور جہاں نظم و ضبط ہو وہ کسی ضبط قائم کرنے والے کی انضباط پر ہوا کرتا ہے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ کائنات کے ذرے ذرے کو دیکھو اور نظام قائم کرنے والے کی دلیل قائم کر کے اس کی ہستی کو پہچانو۔ کائنات کا ہر نظام دعویٰ ہے اور نظم اس کی دلیل۔ ہم مانتے ہیں کہ مادے کے اندر خواص ہوتے ہیں۔ جیسے پانی بارد راطب ہے۔ آگ حارس یابس ہے۔ حار کے معنی ہیں، گرم اور یابس کے معنی ہیں، خشک۔ بارد کے معنی ہیں، ٹھنڈا اور راطب کے معنی ہیں، تر۔ آگ اور پانی دونوں متضاد ہیں۔ ایک خشک ہے اور دوسرا تر۔ ایک گرم ہے اور دوسرا سرد۔ لیکن یہ دونوں طرح کے اثرات مادہ گھر سے نہیں لایا۔ یہ اثرات دینے والا خدا ہے۔ آگ کو حرارت دینے والا خدا ہے۔ جس نے ابراہیم علیہ السلام کے لئے فرمایا،
یَا نَارُ کُوْنِیْ بَرَدًا وَّ سَلَامًا عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ کیونکہ حرارت میں نے دی ہے، اس لئے جب چاہوں گا، حرارت رکھوں گا اور جب چاہوں گا، سلب کر لوں گا۔ پانی کے اندر خواص میں نے رکھے ہیں۔ پانی کا کام سیال ہونا ہے لیکن جب چاہوں گا، کہہ دوں گا کہ اے نیل! ٹھہر جا، میرے کلیم گزرنے والے ہیں۔ پانی کا سیلاب، پانی کی سیال، پانی کا بہنا، یہ سب خواص میرے دئیے ہوئے ہیں۔ یہ نہیں کہ وہ مادے کے ذاتی خواص ہیں بلکہ یہ میرے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ تو جو چیزیں میری پیدا کی ہوئی ہیں وہ پیدا کرنے سے پہلے بھی میری قدرت میں تھیں اور پیدا کرنے کے بعد بھی میری قدرت میں ہیں۔ میں چاہوں تو اس کو باقی رکھوں اور چاہوں تو فنا کر ڈالوں۔
٭ یہ ہے وہ بنیادی نکتہ، جس پر سارے علم کا دار و مدار ہے۔ اس لئے میں کہوں گا کہ سائنس کا علم غیر اسلامی نہیں ہے۔ آپ دنیا کے کسی علم کو لے لیں، وہ خواہ ریاضیات سے متعلق ہو یا ارضیات سے۔ فلکیات سے متعلق ہو یا حقائق کائنات سے میں کہتا ہوں کہ ہر علم اسلامی ہے۔ مگر اسلامی جب ہو گاکہ جب ہر چیز کو جان کر اور ہر علم کو حاصل کر کے، خدا کا علم حاصل کیا جائے۔ آپ سائنس پڑھیں یا ریاضی، جغرافیہ پڑھیں یا تاریخ، ان تمام علوم کا مرکز و محور خدا کی معرفت ہے۔ اور خدا کی ذات پر یقین ہے۔ یہ ایک بنیادی بات ہے۔ اگر آپ نے اپنی اسلامی تعلیمات کے محور کو چھوڑ دیا تو آپ کے ذہن کو آوارہ کر دیا جائے گا۔
٭ اسلامی تعلیمات کا مقصد صرف یہی نہیں کہ آپ قرآن مجید کے ترجمہ کے سوا کچھ نہ پڑھیں۔ آپ قرآن مجید کا ترجمہ بھی پڑھیں اور جن چیزوں کا ذکر آپ نے قرآن میں پڑھا، ان کی حقیقتوں کو جاننے کیلئے آپ جدید تعلیم کی طرف بھی توجہ دیں۔ قرآن نے کہا،
وَالسَّمَاء وَالطَّارِق تو تم آسمان کی حقیقتوں کو جاننے کے لئے جیسی بھی جدو جہد کرو گے، وہ بھی اسلامی اور قرآنی علم قرار پائے گا۔ آسمان سے رات کو آنے والے لطیف اثرات زمین کے کرہ میں پیوست ہوتے ہیں اور پھر اس سے معدنیات کا ظہور ہوتا ہے۔ کہیں نباتات کا ظہور ہے تو کہیں جمادات کا۔ کہیں سنکھیا پیدا ہو رہی ہے تو کہیں تریاق۔ کہیں لوہا پیدا ہو رہا ہے تو کہیں کوئلہ۔ اسی زمین میں لوہے کی، سونے کی،چاندی کی اور پٹرول کی کانیں ہے۔ یہ جتنی چیزیں ہے، یہ سب وَالسَّمَاء وَالطَّارِق کے اندر مذکور ہیں۔


آغوشِ مادر
٭ آج اگر ہمارے عزیز طلباء کے اندر کچھ کوتاہیاں ہیں تو یہ صرف ان کا قصور نہیں بلکہ یہ ان کے گہوارے کا قصور ہے، جس گہوارے کے اندر ہمارے طلباء کو تربیت دی گئی ہے۔ کیونکہ گہوارے کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ ہماری قوم کی ماؤں اور بہنوں کی گود میں امام ابو حنیفہ جیسے لعل کھیلا کرتے تھے۔غالی، رازی، بو علی سینا، بڑے بڑے علماء و صوفیاء، زہاد و عباد اور محدثین و مفسرین، یہ سب ہماری ماؤں اور بہنوں کی گود میں تربیت پانے والے ہوئے۔ تصوف کی طرف آئیے، حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ جیسی مقدس ہستیاں اسی قوم کی ماؤں اور بہنوں نے ایسے بچوں کو جنم دیا اور اپنی مبارک آغوش میں پالا اور اپنی تربیت سے انکے ذہنوں کو منور کیا۔
٭ عزیزانِ گرامی! یاد رکھیے کہ ہماری تربیت کا گہوارہ بڑا غلط ہے۔ گہوارے کے اثرات کے متعلق مجھے ایک تاریخی واقعہ یاد آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا۔ عیسائی سلطنت روم کو فتح کرنے کے بعد، مجاہدین نے، روم کی گوری چٹی عورتوں سے نکاح کرنا چاہا۔ امیر لشکر کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں تم کو اجازت نہیں دوں گا۔ حالانکہ قرآن کی رو سے جائز ہے۔ لیکن بہت سی چیزیں بعض اوقات مضمر ہو جاتی ہیں۔ مثلاً انار کھانا کوئی حرام نہیں، جائز ہے لیکن ایک شخص ایسے مرض میں مبتلا ہے کہ انار کھائے تو اس کو بہت نقصان پہنچے گا۔ اس لئے ڈاکٹر منع کرے گا کہ انار مت کھانا، حالانکہ وہ جائز ہے۔ اس طرح بے شک عیسائی عورتوں سے نکاح جائز ہے مگر بعض حالات ایسے ہوتے ہیں کہ جائز چیزیں مضمر ہو جاتی ہیں۔ تو امیر لشکر نے کہا کہ میں تم کو اجازت نہیں دوں گا۔ جب تک امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب نہ دیں۔ کیا پیارے الفاظ ہیں۔ اے فاروقِ اعظم! آپ پر خدا کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں۔ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم! عمر خدا کے حلال کو حرام نہیں کر سکتا اور خدا کے حرام کو حلال نہیں کر سکتا۔ جو اللہ اور اللہ کے رسولﷺ نے حلال کیا، وہ حلال ہے لیکن اے میرے عرب کے مجاہدو اور بہادرو! میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ تم روم کی گوری چٹی عیسائی عورتوں سے نکاح نہ کرو۔ اس لئے کہ اگر تم نے ان سے نکاح کیا تو ہو گا یہ کہ یہ بچے تمہارے ہوں گے اور ان کی گودوں میں پلیں گے اور تربیت پائیں گے، تو مجھے خطرہ ہے کہ کہیں عرب کی تہذیب روم میں گم نہ ہو جائے۔
٭ اس واقعہ سے یہ بتانا مقصود تھا کہ تربیت کے ماحول کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ ہمارے عزیز طلباء کے اندر بڑی اچھی اچھی صلاحیتیں ہیں اور اگر یہ صلاحیتیں نہ ہوتیں تو وہ طلب علم کے میدان میں کیسے آتے؟ ان کا طلب علم کے میدان میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے اندر بڑی بڑی عظیم صلاحیتیں موجود ہیں۔ اب اس کے باوجود بھی اگر کچھ کوتاہیاں پائی جاتی ہیں تو ان سب کو طلباء کے سر نہ تھوپا جائے بلکہ ان کو یہ بتایا جائے کہ جس آغوش میں یہ پل کر آئے ہیں، اس آغوش میں کچھ کوتاہیاں ہیں۔ ہماری قوم کے وہ ماں باپ، جن کی گود میں پل کر یہ بچے، طالب علمی کی صف میں آئیں تو ان کا کردار ایسا پیارا ہو، ان کی آغوش اتنی پاک ہو کہ اس آغوش میں پلے ہوئے بچے آگے چل کر قوم کی کایا پلٹ دیں۔ عزیزانِ محترم! خدا نخواستہ، اگر تمہارا ذہن گمراہ ہو گیا تو ساری قوم گمراہ ہو جائے گی۔ اگر تمہارا دماغ روشن نہ ہوا تو قوم کا دماغ روشن نہیں ہو سکتا۔ اگر تمہارا کردار غلط ہوا تو قوم کا کردار بھی غلط ہو جائے گا۔ تم نے قوم کے کردار کو بچانا ہے۔ قوم کے دماغ کو روشن کرنا ہے۔ ملک کا مستقبل تمہارے دامن سے وابستہ ہے۔ تمہاری قوم کی فلاح، قوم کی نجات، قوم کی ذہنی نشو ونما اور قوم کی تمام ذہنی ارتقاء کا دار و مدار، تمہارے اپنے ذہنی ارتقاء پر ہے۔ قوم کے ارتقاء کا مدار ہمارے اپنے کردار پر ہے۔ اس لئے تمہارا ذہن روشن اور کردار بلند ہونا چاہیے۔ تم اپنی اس روشن دماغی اور خوش کرداری کے ساتھ اپنی قوم کی، وہ وہ بہترین خدمت انجام دے سکتے ہو کہ جو خدمت معاشرے میں تمہارے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔
یہ مختصر سا میرا خطاب تھا۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ! میرے عزیز طلباء کو اس کی توفیق عطا فرما کہ وہ اپنے ذہن کو روشن اور کردار کو بلند کریں۔

وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج