اِیْتُوْنِیْ بِقَرْطَاسٍ

٭ غزالی زماں رضی اللہ عنہ کی ایک تقریر کے دوران ایک معترض نے تحریراً سوال کیا، آپ نے نمازِ ظہر کے بعد کی نشست میں خطاب کرتے ہوئے
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰیo
٭ آیۂ کریمہ پڑھی تھی اور اس کی روشنی میں یہ کہا تھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہر قول وحی الٰہی ہے۔ اگر یہ بات اسی طرح درست ہے تو حضورﷺ کے ہر امر کی تعمیل لازمی قرار پائی جبکہ حدیث قرطاس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس موقع پر سرکار کے فرمان کی تعمیل نہیں کی گئی بلکہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا
حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہ
٭ آپ مہربانی فرما کر اس آیت کریمہ کی روشنی میں اس حدیث کی وضاحت کریں۔
٭ امام اہلسنّت نے اس سوال کا جو جواب عطا فرمایا، وہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
جواب٭ حضورﷺ نے جو فرمایا کہ مجھے کاغذ دو میں تمہیں ایک ایسی چیز لکھ کر دوں جو تمہیں گمراہی سے بچائے گی۔ یہ فرمان کسی خاص شخص سے نہیں تھا۔ بلکہ اس وقت جو لوگ بھی جتنے صحابی اور اہل بیت سے جتنے مقدس نفوس وہاں تھے، ان سب سے خطاب تھا۔ حضورﷺ پر اس وقت بتقاضائے بشریت بیماری کا غلبہ تھا۔ حضرت عمر نے سرکار کی تکلیف کا خیال کرتے ہوئے عرض کی
وعندنا کتاب اللّٰہ
٭ اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب (قرآن مجید) موجود ہے۔
وہو حسبنا اور وہ ہمارے لئے کافی ہے۔ یہ گزارش حضورﷺ کی نافرمانی نہ تھی بلکہ کسی خاص شخص کو مخاطب کئے بغیر یہ فرمان دراصل مخاطبین کا امتحان تھا۔ حضورﷺ چونکہ چشم عالم سے روپوش ہونے والے تھے اور سفر آخرت پر روانہ ہونے کو تھے۔ اسلئے یہ اطمینان ضروری تھا کہ وہ حضرات صحابہ کرام جو ہر مشکل کے حل کیلئے سرکارﷺ سے رجوع کیا کرتے تھے۔ سرکار کے پردہ فرمانے کے بعد اپنے مسائل کے حل اور مشکلات کی آسانی کے لئے الہامی تعلیمات اور فرامین نبوی کی روشنی میں امت مسلمہ کی رہنمائی کر سکیں گے۔ حضورﷺکے فیض صحبت سے ان میں یہ استعداد اور صلاحیت پیدا ہوئی ہے یا نہیں کہ وہ قرآن مجید اور سنت رسول سے تمام پیش آنے والے مسائل حل کر سکیں۔ اس وقت آپ کے پاس موجود افراد میں وہ لوگ بھی موجود تھے جو آپ کی نیابت کرنے والے اور مسند خلافت پر جلوہ فگن ہونے والے تھے۔ آپ کی صحبت کے انوار اور نور نبوت کی روشنی نے ان کے سینوں کو چمکا دیا تھا۔ اگر آپ کی نیابت کرنے والے اس اہل نہ ہوتے کہ آئندہ پیش آنے والے جملہ معاملات و مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں حل کر سکیں تو اس کا مطلب تو معاذ اللہ یہ ہو گا کہ آپ دین کو ختم کئے جا رہے تھے۔ چنانچہ اس کی وضاحت کے لئے آپ نے خدا کے فرمان کے مطابق کہا کہ کاغذ لاؤ میں تمہیں ایسا نوشتہ دوں جو تمہیں گمراہی سے بچائے گا تاکہ آپ کے اس فرمان کے جواب میں آپ کے صحابیوں میں سے کوئی بول اٹھے اور عرض کرے کہ سرکار! آپ ہم سے اس عالم میں رخصت نہیں ہو رہے جب ہمیں اپنی آئندہ زندگی اور بنی نوع آدم کی فلاح کے لئے کسی مزید حکم کی ضرورت ہو بلکہ آپ نے ہم میں وہ نور بصیرت پیدا فرما دیا ہے کہ اللہ کی کتاب ہمارے لئے کافی ہے۔ مقصد وحی اور منشائے نبوت حضرت عمر کے حسبنا کتاب اللّٰہ کہنے سے پورا ہو گیا۔ وگرنہ حضرت عمر کی اس گزارش کے بعد سرکار مزید اصرار فرماتے اور ان کو جھڑک دیتے کہ میں تم سے کاغذ مانگ رہا ہوں اور تم میرے حکم کی تعمیل کی بجائے اپنے لیاقت و قابلیت کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہو۔ میں نبی ہوں، وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے جو کچھ میں تمہیں بتانے والا ہوں، وہ تم از خود کیسے جان سکتے ہو؟ اور پھر اس مقام پر سیدنا صدیق اکبر، سیدنا عثمان غنی اور مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ کا حضرت عمر کی بات کے جواب میں سکوت اختیار کرنا اور تکرار نہ کرنا اس بات کو مزید تقویت پہنچاتا ہے کہ یہ عالی مرتبت ہستیاں بھی منشائے رسالت کو پا چکی تھیں اور گویا حضرت عمر نے ان سب کی ترجمانی کی تھی کیونکہ سرکار کا فرمان ہے
ان الحق ینطق علی لسان عمر
٭ اگرچہ چند صحابہ نے حضرت عمر سے اختلاف ضرور کیا لیکن وہ عظمت و شان کے حامل ہونے کے باوجود اس مقام پر نہ پہنچے تھے جو ان اکابر صحابہ کرام کا مقام تھا۔ اسلئے ان کا اختلاف در اصل مشورے پر مبنی سمجھا جائے گا اور اکابر صحابہ کا سکوت حضرت عمر کے قول کی تصدیق متصور ہو گا اور نہ خود سرکار نے انہیں سرزنش فرمائی۔ اس لئے بعض صحابہ کے اختلاف کا وہ مفہوم نہیں ہو گا جو معترض نے سمجھا ہے۔
٭ معترض خواہ حضورﷺ کے ہر فرمان کو وحی سمجھے یا نہ سمجھے، اس بات کا قائل تو ضرور ہو گا کہ حضورﷺ جب دینی امور کی تشریح و تعبیر سے آگاہ فرماتے تھے اور دین سے متعلق احکامات کی تبلیغ فرماتے تھے۔ تو وہ فرمودات تو یقینا وحی الٰہی کے تابع ہوتے تھے۔ اب یہ سوچئے کہ یہ معاملہ دین سے متعلق تھا یا نہیں؟ ضلالت و گمراہی سے بچنا اور صراط مستقیم کو اختیار کرنا تو دین کا مقصود و مدعا ہے۔ اس لئے یہ فرمان یقینا وحی الٰہی ہو گا کہ یہ
من حیث الرسول ارشاد ہے۔ اب اگر یہ تشریح جو میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہے، تسلیم نہ کی جائے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ ایک ایسی تحریر جو دین سے متعلق تھی اور بحکم خداوندی سرکارﷺ وہ تحریر عطا فرمانے والے تھے، حضرت عمر کے کہنے پر سرکار ﷺ نے عطا نہ فرمائی تو اس کا مفہوم تو یہ ہو گا کہ معاذ اللہ حضورﷺ خود بھی امر الٰہی کی تکمیل سے پہلو تہی کے مرتکب ہوئے اور ایسا ممکن نہیں ہے، وہ اس لئے کہ قرآن نے کہا،
یٰاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ (س مائدہ آیت ۶۷)
ترجمہ٭ اے رسول، پہنچا دیجیئے جو اتارا گیا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو اپنے رب کا پیغام آپ نے نہ پہنچایا۔
٭ گویا ماننا پڑے گا کہ دین کے مسائل، گمراہی سے بچنے اور صراط مستقیم اختیار کرنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت تھی، وہ آپ نے اپنی امت تک یقینا پہنچائی اور اس حدیث مبارکہ میں حضرت عمر کے عرض گزار ہونے کے بعد آپ نے کوئی شے تحریر نہ فرمائی۔ اس لئے ماننا پڑے گا کہ حضرت عمر کے قول سے آپ کے فرمان کا مقصد پورا ہو گیا تھا۔
٭ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ وہ وقت ایسا تھا جب تعلیم عام نہ تھی۔ ہر شخص پڑھنا لکھنا نہ جانتا تھا اور کاغذ قلم بھی عام نہ تھے اور ہر شخص کے پاس نہ ہوتے تھے اور یہ بات بھی تمام اہل علم جانتے ہیں کہ سیدہ فاطمۃ الزہرا کا حجرہ مسجد نبوی سے متصل تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا شمار کاتبین وحی میں سے تھا، اس لئے جب سرکارﷺ نے کاغذ مانگا تو سب سے پہلے حضرت علی کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ اپنے گھر سے جو سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ کے حجرے سے بہت قریب تھا، فوراً کاغذ قلم لا کر سرکارﷺ کی خدمت میں پیش کر دیتے۔ ان کا ایسا نہ کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بھی حضرت عمر کی بات سے متفق تھے۔
٭ اس مضمون میں نہایت قابل ذکر بات یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز جس کے باعث امت مسلمہ گمراہی سے بچتی اور ہمیشہ صراط مستقیم پر رہتی اور جو ہماری ہدایت کے لئے بے حد ضروری تھی۔ اگر ہم تک نہیں پہنچی تو یقینا دین نامکمل رہ گیا کیونکہ وہ بات تو ہمیں معلوم ہی نہیں جو سرکارا تحریر فرمانا چاہتے تھے اور وہ گمراہی سے بچنے میں ہماری راہنما ثابت ہوتی لیکن قرآن مجید اعلان کر رہا ہے کہ
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ دین تو مکمل ہو گیا اور اس کی وضاحت حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کر رہے ہیں کہ سرکارﷺکے رب نے دین کی تکمیل کر دی ہے اور آپ کی زبان اقدس سے ہمیں یہ بشارت سنائی جا چکی ہے اور آپ نے ہماری تربیت فرمائی ہے۔ اس لئے سرکار! آپ کے فرمان کے مقصد کی تکمیل کرتے ہوئے میں عرض کرتا ہوں کہ آپ کی نظر اور صحبت کی برکت سے آپ کے غلام اس قابل ہو چکے ہیں کہ وہ کتاب اللہ کی روشنی میں صراط مستقیم تلاش کر سکیں اور گمراہی سے محفوظ رہ سکیں۔
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج