آؤ رب کی رحمت کی طرف

وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا اَنْفُسَہُمْ جَائُ وْ کَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَلَہُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا o (پ: ۵، س: النساء، آیت: ۶۴)
ترجمہ٭ اور اگر وہ کبھی اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تو آ جاتے، تیرے پاس، پھر مغفرت طلب کرتے اللہ سے اور مغفرت طلب کرتا ان کے لئے رسول۔ تو ضرور پاتے، اللہ کو بہت قبول کرنے والا بے حد مہربان۔
٭ یعنی ارشاد ہوتا ہے کہ فاسق و فاجر، گناہ گار و بدکار، اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے، کاش! اے محبوب تیری بارگاہ میں آ جاتے، اپنے کئے پر نادم، اپنی بداعمالیوں پر شرمندہ اور تیری بارگاہ میں آ کر وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے، اپنے گناہوں کی بخشش چاہتے۔ اور اے محبوب! اگر تو بھی ان کے لئے ہاتھ اٹھا دیتا، ان کی سفارش کر دیتا، ان کے لئے مغفرت طلب کر لیتا تو وہ گناہ گار مجھے توبہ قبول کرنے والا پاتے، رحم کرنے والا پاتے۔ میں ان کے گناہوں کو بخش دیتا۔ ان کی سزا کو معاف کر دیتا۔ ان کی توبہ قبول کر لیتا۔
٭ یہاں چار باتیں کہی گئی ہیں
٭ خطا کار و گناہ گار حضور کے پاس آئیں۔
٭ اپنے کئے پر نادم ہوں اور خدا سے مغفرت طلب کریں۔
٭ رسول کریمﷺ بھی ان کے لئے مغفرت طلب فرمائیں۔
٭ پھر وہ اللہ کو
تَوَّاب۔ و رَحِیْم پائیں گے۔
٭ پہلی بات یہ کہی گئی ہ کہ خطا کار و گناہ گار، اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے، تمام میرے محبوب ﷺکے پاس آئیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لوگ مجرم تو خدا کے ہیں، اللہ کی نافرمانی کے مرتکب ہو کر گناہ گار ہوئے ہیں اور اللہ ہر جگہ موجود ہے۔ ہر مقام پر ہے اور اس نے اعلان بھی فرما دیا ہے کہ
نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (پ: ۲۶، س: ق، آیت: ۱۶)
٭ ہم تو اس کی رگ و جان سے، اس سے زیادہ قریب ہیں۔ تو اس نے چونکہ نافرمانی خدا کی، کی ہے، اسلئے معافی بھی اس سے مانگی جائے۔ پھر اور کہیں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اور چونکہ رب ہر جگہ ہے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے پاس جائیں گے تو اللہ ملے گا اور اگر ادھر ادھر ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نہیں ملے گا۔ جب ایسا ناممکن ہے تو سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں حاضری کی شرط کیوں رکھی؟ کہ وہاں جا کر رب تعالیٰ سے استغفار کریں۔
٭ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گویا یہ فرمایا ہے کہ اے محبوب ﷺ! جب وہ تیرے پاس آئیں گے تو
لَوَجَدُوا اللّٰہَ وہ اللہ کو پا لیں گے اور کس حال میں پائیں گے؟ تَوَّابًا رَّحِیْمًا توبہ قبول کرنے والا، بے حد رحم کرنے والا پائیں گے۔ اگر ان خطا کاروں کو میری رحمت سے حصہ چاہیے تو وہ تیری بارگاہ میں آئیں۔ اگر اپنے گناہوں کی بخشش چاہیے تو تیری بارگاہ میں حاضر ہوں وگرنہ میں تو ہر جگہ ہوں، لیکن میں صرف تَوَّاب و رَحِیْم ہی نہیں قَہَّارُ و جَبَّارُ بھی ہوں۔ اگر وہ مجرم تیرا دامن چھوڑ کر آئیں گے تو ضروری نہیں کہ مجھے تَوَّاب و رَحِیْم پائیں۔ یہ ضمانت ان کے لئے ہے جو تیرا دامن پکڑ کر آئیں گے۔
٭ اور دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ خطا کار خود بھی مغفرت طلب کریں۔ کیونکہ معافی اس کو ملتی ہے، جسے خود بھی اپنی غلطی کا احساس ہو۔ اپنے جرم کا اعتراف کرے، تبھی معافی کا سوال پیدا ہو گا۔ اور اگر کوئی اپنی غلطی کا اقرار ہی نہی کرے، یہ تسلیم ہی نہ کرے کہ اس سے گناہ سر زد ہوا ہے تو معافی کس بات کی ہو گی؟
٭ اور تیسری بات یہ بتائی کہ رسول اکرمﷺ بھی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والوں کی مغفرت طلب فرمائیں۔ وہ اس لئے کہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تو مجرم ہیں اور مجرم کے لئے معافی طلب کرنے پر معافی کا ملنا ضروری نہیں ہوتا۔ وہ اس لئے کہ معافی تو معاف کرنے والے کے کرم پر منحصر ہے۔ معافی مانگنے والے مجرم کا حق نہیں ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب! گناہ گاروں کی بخشش کے لئے محض ان کا مغفرت طلب کرنا کافی نہیں بلکہ اس کے لئے میری رحمت اور میرے کرم کا شامل ہونا بھی ضروری ہے اور اے محبوب! جب میں نے تجھے مجسم رحمت بنا کر بھیجا ہے تو ان کے حق میں تیرا ہاتھ اٹھا دینا میری رحمت کی ضمانت ہے۔ صرف ان کا بخشش طلب کرنا نہیں۔ اس لئے
وَاسْتَغْفَرَلَہُمُ الرَّسُوْلُ فرمایا کہ جب سرکارِ دو عالم ﷺ رحمت مجسم ہوئے، مغفرت فرمائیں گے، تب وہ گناہ گار معافی کے مستحق قرار پائیں گے اور اس طرح وہ اپنے رب کو تواب اور رحیم پائیں گے۔


ایک اعتراض کا جواب
٭ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت تو صرف سرکارِ دو عالم ﷺ کے زمانے کے لئے تھی۔ جب سرکار روئے زمین پر لوگوں کے سامنے موجود تھے اور لوگ وہاں پہنچ سکتے تھے۔ اب جب سرکار پردہ فرما چکے ہیں تو اب سرکار کی بارگاہ میں حاضری کیوں کر ممکن ہے؟ اور یہ بھی کہ اگر آج بھی سرکار اپنے مزارِ اقدس میں جلوہ فگن ہیں، تب بھی مدینہ جا کر حاضری تو ہر ایک کے لئے ممکن نہیں۔ تو وہ گناہ گار جو استطاعت نہیں رکھتے، وہ اپنی بخشش کیسے کروائیں؟
٭ جواباً عرض ہے کہ حضور ﷺ جس وقت ظاہری حیات کے ساتھ تشریف فرما تھے، اس زمانے میں بھی اسلام مشرق و مغرب میں پھیل چکا تھا۔ دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے، مسلمان ہو چکے تھے۔ اس وقت بھی تمام مسلمان سرکار کی بارگاہ میں حاضر نہ ہو سکتے تھے۔ سفر کی دشواریاں اور فاصلوں کی طوالت پھر وسائل کی کمی وغیرہ ایسے اسباب تھے کہ تمام مسلمان اس وقت بھی حاضری کی سعادت سے بہرہ مند نہ ہو پاتے تھے۔ بعض اوقات کچھ مزید مجبوریاں بھی دامن گیر ہوتی تھیں۔ حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی مثال سامنے رکھیے جو یمن میں رہتے تھے اور جن کے حوالے سے حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ یمن سے محبت کی بو آتی ہے لیکن اس محبت اور تعلق کے باوجود وہ سرکار کی بارگاہ میں حاضر نہ ہو پائے۔ اسی طرح ہزاروں مسلمان اس زمانے میں بھی بارگاہِ رسالت میں حاضری سے قاصر رہے۔ تو کیا یہ آیت کریمہ ان کے لئے نہ تھی؟ اور یہ کہنا کہ یہ آیت اس زمانے کے ان مسلمانوں کے لئے تھی جو بارگاہِ رسالت میں پہنچ سکتے تھے، قطعاً قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
٭ علاوہ ازیں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ قرآن مجید قیامت تک کے لئے ہے اور رہتی دنیا تک یہ قابل عمل رہے گا۔ منبع رشد و ہدایت اور مخزنِ علم و حکمت رہے گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ قرآن کا کچھ حصہ تو قابل عمل ہو اور کچھ اب عمل کے قابل نہ رہا ہو۔ جیسا کہ قرآن مجید نے خود وضاحت کی
تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا(س: الفرقان، آیت: ۱)
ترجمہ٭ بڑی برکت والا ہے وہ، جس نے فیصلہ کرنے والی کتاب اپنے (مقدس) بندے پر اتاری تاکہ وہ تمام جہانوں کو ڈرانے والا ہو۔ اور مزید فرمایا
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ (س: البقرۃ، آیت: ۱۸۵)
ترجمہ٭ رمضان کا مہینہ وہ ہے، جس میں قرآن اتارا گیا، لوگوں کو ہدایت کرنے والا۔
٭
النَّاس قیامت تک آنے والے تمام انسان شامل ہیں۔ لہٰذا قرآن کی آیت وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا اَنْفُسَہُمْ بھی سرکارِ دو عالم ﷺ کے زمانے تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے ہے۔
٭ رہی یہ بات کہ ادھر تو حکم ہے کہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے، محبوب ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں اور ادھر ہر شخص کے لئے تو سرکار کی بارگاہ میں حاضری ممکن نہیں ہے۔ تو بات کیسے بنے گی؟ مسئلہ کیسے حل ہو گا؟
٭ تو اس کا حل یہ ہے کہ حضورﷺ حیاتِ ظاہری میں بھی اللہ کے رسول تھے اور اب بھی اللہ کے رسول ہیں۔ اس لئے تمام مسلمان جب کلمہ پڑھتے ہیں تو اقرار کرتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ، اللہ کے رسول ہیں۔ یہ کوئی نہیں کہتا کہ سرکار اللہ کے رسول تھے۔ چنانچہ سرکارِ دو عالم ﷺ جس طرح اپنی حیاتِ ظاہری میں مسند رسالت پر جلوہ فگن تھے، اسی طرح آج بھی ہیں اور ہر منصب و عہدہ کسی نہ کسی شان، اختیار یا اتھارٹی (Authority) سے مشروط ہوتا ہے، چونکہ سرکار آج بھی منصب رسالت کے حامل ہیں، اس لئے اس منصب کی رعایت سے سرکار کو جو شان، جو مقام اور جو اختیار ملا تھا، وہ بھی یقینا باقی ہے۔ کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے مناسبات اور لوازمات کیساتھ ثابت ہوتی ہے۔ جب رسالت و نبوت ثابت ہے تو اسکے لوازمات اور مناسبات بھی یقینا ثابت ہیں اور چونکہ آیت کریمہ میں بارگاہِ رسالت کی حاضری کا حکم ہے اور رسالت جاری و ساری ہے۔ اس لئے یہ حکم آج بھی نافذ العمل ہے۔
٭ اب رہا یہ مسئلہ کہ خدا تو ہر جگہ ہے، اس سے مغفرت کہیں بھی طلب کی جا سکتی ہے لیکن بارگاہِ رسالت میں حاضری کیلئے تو زادِ راہ، وقت، مصروفیات سے چھٹکارا اور ذمہ داریوں سے مہلت درکار ہے اور ساتھ ہی جسمانی صحت بھی ضروری ہے۔ تو ہر شخص اس بار کو کیسے اٹھا سکتا ہے؟ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مشکل کو اس طرح حل فرمایا کہ
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ یہ نبی ایمان والوں کیساتھ انکی جانوں سے زیادہ قریب ہیں۔ یعنی اے ایمان والو! یہ تردد نہ کرو کہ اب اس بارگاہ میں حاضری کیسے ہو گی؟ حالات سازگار نہیں، زادِ راہ پاس نہیں، مصروفیات اجازت نہیں دیتیں، صحت اس قابل نہیں، یہ مت سوچو، یہ فکر نہ کرو۔ وہ اس لئے کہ اپنے نبی محترم کو تمہاری جانوں سے بھی زیادہ تم سے قریب کر دیا ہے۔ تردد اور فکر تو اس وقت ہو، جب دوری ہو، جب فاصلہ ہو، تمہاری جانوں اور تمہارے درمیان فاصلہ ممکن ہے لیکن اگر تم صاحب ایمان ہو تو نبی مکرم سے دور نہیں ہو سکتے۔ وہاں فاصلے اور مسافت کا کوئی تصور نہیں۔
٭ اس لئے جہاں ہو، جس حال میں ہو، اگر تم سے گناہ سرزد ہو جائے، اگر بتقاضائے بشریت غلطی کا ارتکاب کر بیٹھو تو اپنے کئے پر نادم ہو جاؤ۔ میرے محبوب کا تصور کرو جو تمہاری جانوں سے زیادہ قریب ہے۔ اس کی بارگاہ کا تصور باندھ کر مجھ سے استغفار کرو اور اگر تم نے ایسا صدقِ دل سے کیا، تمہاری نیت درست ہوئی، تم واقعی اپنے کیے پر شرمندہ ہوئے تو میرا محبوب کریم ہے، تمہارے لئے
رَؤُوْفُ و رَحِیْمُ ہے۔ وہ تمہارے حال پر ضرور کرم فرمائے گا اور تمہارے لئے مغفرت طلب کرے گا۔ اس طرح تم میری مغفرت اور بخشش کے حق دار ہو جاؤ گے۔ جیسے ہی تم نے اپنی توجہ کو میرے محبوب کی بارگاہ میں حاضر کیا اور میرے محبوب نے تمہارے حال پر التفات کیا، تم فوراً مجھے تَوَّاب و رَحِیْم پاؤ گے۔
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج