وسیلۂ قرب الٰہی

٭ محترم حضرات!سیدنا حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی مبارک یاد کے سلسلہ میں اس تقریب سعید کا اہتمام کیا گیا ہے اور حضرات اولیاء کرام بالخصوص سیدنا محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی تعلیمات اور ان کے فیوض و برکات اور ان کی کرامات کا ذکر اس جلسے کا موضوع ہے۔
٭ نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ قرآن و حدیث کی روشنی میں گفتگو کروں گا۔ قبل اس کے کہ میں اس آیت کریمہ کا ترجمہ کروں اور اپنے موضوع پر گفتگو کروں، یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اولیاء اللہ کی محبت اللہ کی محبت سے کوئی جداگانہ چیز نہیں ہے اور اولیاء اللہ کے کمالات اور ان کے ارشادات اور ان کی مقدس تعلیمات کتاب و سنت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اگر آپ غور کریں گے تو معلوم ہو گا کہ کتاب و سنت کی تعلیمات کا جو خلاصہ ہے، وہ حضرات اولیاء اللہ کی تعلیمات میں پایا جاتا ہے اور کتاب و سنت نے جن امور کو انسانیت کا کمال قرار دیا ہے، وہی امور بطور کمالات حضرات اولیاء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذواتِ قدسیہ میں پائے جاتے ہیں۔ اولیاء کی محبت عین اللہ کی محبت ہے اور یہ صحیح ہے، اولیاء کی تعظیم عین اللہ کی تعظیم ہے۔ اولیاء کی تعلیمات عین اللہ کی تعلیمات ہیں اور مجھے کہنے دیجیے اولیاء کے کمالات جلوہ ہیں کمالاتِ الوہیت کا اور تجلی ہیں جمالِ الوہیت کی۔ خدا کے کمال الوہیت اور جمال الوہیت سے الگ مستقل حیثیت میں ہم کوئی چیز اولیاء کے لئے ثابت نہیں کرتے اور ہم تو اولیاء کرام کو کسی اور نسبت کی بنا پر تسلیم نہیں کرتے بلکہ اولیاء اللہ کو ہمارا ماننا، ان کو تسلیم کرنا، ان سے محبت اور عقیدت رکھنا، صرف اور صرف اس لئے ہے کہ وہ اولیاء اللہ ہیں اور یہ قاعدہ ہے کہ محبوب کا محبوب، محبوب ہوتا ہے۔
٭ اللہ ہمارا محبوب ہے اور اولیاء اللہ کے محبوب ہیں۔ جب یہ اللہ کے محبوب ہیں تو ہمارے بھی محبوب ہیں۔ دوست کے دشمن کو ہم اپنا دوست نہیں بنا سکتے اور دوست کے محبوب کو ہم اپنا دشمن قرار نہیں دے سکتے۔ جس شخص کو ہمارے دوست سے عناد ہے۔ وہ کبھی ہمارا محبوب نہیں بن سکتا اور جس شخص کو ہمارے دوست سے محبت اور خلوص ہے، وہ کبھی ہمارا دشمن نہیں بن سکتا۔
٭ ہم اولیاء اللہ کو محض اس لئے مانتے ہیں کہ وہ اللہ والے ہیں اور ان کا ماننا در اصل اللہ کا ماننا ہے۔ ان کو اللہ سے کوئی نسبت نہ ہوتی تو ہمارا ان سے کیا تعلق تھا؟ ہمارا تعلق تو محض اس لئے ہے کہ وہ اللہ والے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان بزرگوں کی یاد مناتے ہیں۔
٭ حضور غوث پاک نہ صرف اللہ کے ولی ہیں بلکہ اولیاء کے سردار ہیں۔ اگر ہم ان کی یاد میں کوئی جلسہ منعقد کرتے ہیں، عرس مناتے ہیں، فاتحہ و نیاز کا اہتمام کرتے ہیں تبرک تقسیم کرتے ہیں، فقط اس لئے کہ یہ اللہ والے ہیں۔ اللہ سے ان کی نسبت ہے۔ اولیاء سے نسبت رکھنا اللہ سے نسبت رکھنے کی دلیل ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ والے اولیاء کا دن منا سکتے ہیں اور جو اللہ والا نہ ہو،اس کا اولیاء سے کیا تعلق؟ اولیاء سے تعلق اللہ والا ہونے کی دلیل ہے اور اللہ سے تعلق کی دلیل ہے۔ اولیاء سے محبت اللہ سے محبت کی دلیل ہے۔ اولیاء کی تعظیم اللہ کی عظمت کے اعتقاد کی دلیل ہے۔ اولیاء سے قرب اللہ کے قرب کے حصول کی دلیل ہے۔ جن لوگوں نے اولیاء سے علیحدگی اختیار کی، انہوں نے اللہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اور اللہ کا قرب اولیاء کا قرب ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ بات سمجھ نہیں آتی؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے
نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدط (پ: ۲۶، س: ق، آیت: ۱۶)
ترجمہ٭ ہم تو ان کی شہ رگ سے بھی زیادہ ان سے قریب ہیں۔
٭ اب ولی کی بیچ میں کیا ضرورت ہو گئی ہے؟ اللہ تو فرماتا ہے کہ ہم شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ بات تو ختم ہو گئی؟
٭ اب ہمیں کیا ضرورت ہے کہ اللہ کا قرب حاصل کریں۔ حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے، حضرت محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے خدا کا قرب حاصل کریں۔ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے، جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان
نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدط
٭ ہمارے پیش نظر ہے ۔ اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے کسی ولی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا خدا خود ہم سے قریب ہے۔ وہ ہماری بات کو سنتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور ہمارے دل کی بات کو جانتا ہے۔ وہ ہمارا سمیع و بصیر ہے اور ہمارے حالات کا علیم و خبیر ہے اور ہم سے قریب ہے تو ان اولیاء کرام کی درمیان میں کیا ضرورت پڑ گئی۔ یہ ہمیں خدا کے قریب کیسے کریں گے؟بلکہ یہاں تک بات سامنے آ گئی کہ یہ مشرکوں کا عقیدہ تھا۔ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ
مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی (پ: ۲۳، س: الزمر، آیت: ۳)
ترجمہ٭ ہم جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں تو محض اس لئے کہ یہ ہمیں خدا سے قریب کر دیں گے۔
٭ تو معلوم ہوا کہ کسی کو خدا سے قریب کرنے کا عقیدہ رکھنا، یہ تو مشرکوں کا عقیدہ ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ کہاں گیا ہے؟ ہمارا خدا تو ہم سے قریب ہے۔ لہٰذا ہمیں کیا ضرورت ہے کہ کسی کو خدا کے قرب کا وسیلہ اور ذریعہ بنائیں؟ یہ کیسی بات ہو گی؟ یہاں میں ایک بات عرض کر دوں۔ سنیے، پہلی بات تو یہ ہے، یہ کہنا کہ مخلوق کسی بندے کو اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کر سکتی، یہ بنیادی طور پر غلط ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہوتی تو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کیوں فرماتا
یَا اَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا (س: احزاب، آیت: ۴۵)
٭ پیارے حبیب ﷺ ہم نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا۔ مبشر بنا کر بھیجا۔ ہم نے آپ کو نذیر بنا کر بھیجا۔ ہم نے آپ کو اپنے حکم سے اپنے بندوں کو اپنی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا۔
اَللّٰہُ اَکْبَرْ! اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب اللہ کے بندوں کو اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف بلائیں گے تو اللہ کے بندوں کو اللہ سے قریب کریں گے کہ نہیں؟ تو یہاں
نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ
٭ آپ کو یاد نہیں آیا۔ خدا خود سمیع و بصیر ہے۔ وہ خود ہی اپنے بندوں کو اپنی طرف متوجہ کر لے
وَدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ
٭کی کیا ضرورت ہے؟اگر نبی کا آنا کسی حکمت پر مبنی ہو سکتا ہے تو اولیاء کا وجود بھی حکمت پر مبنی ہو سکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ انبیاء کرام کا تشریف لانا بھی خدا کے قرب کے منافی نہیں اور اولیاء اللہ کا ہمارے لئے وسیلہ قربِ خداوندی ہونا بھی اس آیت کے منافی نہیں۔ اب میں آپ کو مشرکین کے اس قول
مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی (س زمر آیت ۳)
٭کی حقیقت بتاتا ہوں۔
٭ وہ کہتے ہیں کہ ہم ان (باطل) معبودوں کی لات کی، عزیٰ کی، منات کی، ہبل کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔ بالکل ٹھیک ہے مشرکین یہی کہتے تھے۔ کم از کم
مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا کا ترجمہ تو سمجھو (ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لئے کرتے ہیں) بھائی کسی کے لئے عبادت تو کریں۔ عبادت تو کرتے ہیں اور عبادت بھی بتوں کی کرتے ہیں۔ کس لئے کرتے ہیں؟ یہ علیحدہ چیز ہے کہ ان کی غرض کیا ہے؟ مقصد کیا ہے؟ مگر وہ بتوں کی عبادت کے قائل ہیں۔
٭
اَلْحَمْدُ لِلّٰہْ! ہمارا یمان ہے کہ ہمارا معبود سوائے اللہ کے کوئی نہیں ہے۔ ہم نہ حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کی عبادت کرتے ہیں، نہ ہم حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی عبادت کرتے ہیں، نہ ہم حضرت خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی عبادت کرتے ہیں۔ ہم کسی بھی ولی کی عبادت نہیں کرتے۔ ہم کسی نبی کی عبادت نہیں کرتے۔ اگر خدا کے سوا کسی کی عبادت کرتے تو محمد ﷺ کی عبادت کرتے۔ مگر ہم ان کی بھی عبادت نہیں کرتے۔
مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی
٭ مشرکین کہتے ہیں، ہم ان کی عبادت کرتے ہیں۔ غیر اللہ کی عبادت کرنا یہی تو شرک ہے اور ہم کسی کی بھی عبادت نہیں کرتے اور کسی کے لئے بھی نہیں کرتے۔ یہاں دو باتیں ہے۔ ایک مشرکین غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ دوسرے اس لئے کہ وہ انہیں خدا سے قریب کر دیں۔ میں پوچھتا ہوں، کیا بتوں میں خدا سے قریب کر دینے کی صلاحیت تھی؟
٭ نہ تو ان میں خدا سے قریب کر دینے کی صلاحیت تھی اور نہ وہ معبود ہو سکتے تھے۔ کیونکہ معبود تو صرف ایک ہی ہے۔
٭ اول تو یہ کہ ہم اولیاء کی عبادت نہیں کرتے۔ پھر یہ کہ اگر ہم انہیں قربِ الٰہی کا وسیلہ اور ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تو کیا واقعی یہ قرب کا وسیلہ اور ذریعہ بننے کے اہل ہیں۔ اور بتوں میں یہ اہلیت کہاں تھی؟ وہ وسیلہ قربِ الٰہی ہونے کے لئے صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان کے ماننے والے ان کی عبادت کرتے تھے۔
٭ اور ہم اولیاء اللہ کو ماننے والے ان کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ اور اولیاء اللہ خدا کی بارگاہ میں قرب کا وسیلہ ہونے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
٭ اب رہی یہ بات کہ ایک مخلوق کیسے وسیلہ ہو جائے گی اور وسیلے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ وسیلے کے معنی ہیں
ما یتوسل بہ الی الشیء
٭وہ چیز وسیلہ ہوتی ہے، جس کے ذریعے ہم کسی تک پہنچیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ جل جلالہٗ تک پہنچنے کے لئے ہمیں کسی وسیلہ کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ وہ عالم الغیب ہے، عالم الشہادت ہے، سمیع ہے، بصیر ہے، خبیر ہے، قدیر ہے اور قریب ہے۔
٭ اب اس کی بارگاہ میں وسیلے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا حاجت ہے؟ اللہ کی ذات تو اس سے بہت بلند ہے کہ اس کے اور اپنے درمیان ہم کسی چیز کو وسیلہ بنائیں۔مخلوق تو وسیلہ بن نہیں سکتی کیونکہ
نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ
٭ اس کی شان ہے۔
٭ یہاں ایک بات عرض کرتا ہوں۔ پہلے تو قرآن کی صاف آیت ہے
یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ(پ: ۶، س: المائدہ، آیت ۳۵)
ترجمہ٭ میرے بندو! اللہ کی طرف کوئی وسیلہ ڈھونڈو۔
٭ یہ میری بات نہیں۔ قرآن ہے۔ حدیث بھی نہیں ہے، جس کو لوگ ضعیف کہہ دیں یا غلط کہہ دیں۔ یہ تو قرآن کی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ
٭ اس کی طرف کوئی وسیلہ ڈھونڈو۔ تو اب آپ بتائیں اللہ نے ہمیں وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا یا نہیں۔ تو جس چیز کا حکم خود خدا دے تو اس کو شرک کہنے والا پھر کون ہو گا؟ رہا یہ امر کہ وسیلے سے مراد یہاں اولیاء اللہ تھوڑے ہی ہیں؟ نماز ہے، حج ہے، روزہ ہے، زکوٰۃ ہے، اعمالِ صالح ہیں۔ تم نے اولیاء کو وسیلہ بنا لیا، یہ کیا بات ہوئی۔
٭ اگر یہ بات کہی جائے تو یہ اس سے بھی زیادہ غلط بات ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ بات یہ تھی کہ مخلوق ہمارے اور خالق کے درمیان وسیلہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔ جب وہ
نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ
٭ ہونے کی شان رکھتا ہے پھر مخلوق ہمارے اور اس کے درمیان وسیلہ بنے؟ یہ بات بنتی نہیں۔ یہاں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ جب کوئی بھی مخلوق وسیلہ نہیں تو یہ بتاؤ کہ اعمال مخلوق ہیں یا خالق۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ (س صٰفٰت آیت ۹۶)
٭ اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو ایمان سے کہنا اعمال خدا کی مخلوق ہیں یا نہیں؟ میں بڑی حیرت میں مبتلا ہوں کہ اعمال جو مخلوق ہے، وہ وسیلہ ہو سکتے ہیں اور وہ شخص جو اعمالِ صالح کا فاعل ہو وسیلہ نہیں ہو سکتا۔
٭ اعمالِ صالحہ کو قرآن کی روشنی میں ہم بے شک وسیلہ مانتے ہیں مگر یاد رکھو عمل تو کوئی چیز نہیں ہے، وہ تو ایک عرض ہے۔ ایک امر معنوی ہے، وہ تو خود تو پایا نہیں جاتا۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ نماز کہیں پائی جاتی ہے؟ بھائی نماز کہیں پائی جائے گی تو وہ نمازی میں پائی جائے گی، نمازی نماز پڑھے گا تو نماز کا وجود ہو گا۔ نمازی نہ ہو تو قیام کہاں ہو گا، رکوع کہاں ہو گا، سجود کہاں ہو گا؟ نمازی کا جسم کھڑا ہے تو قیام ہے، نمازی کا جسم جھکا ہے تو رکوع ہے، نمازی نے سر زمین پر رکھا ہے تو وہ سجدہ ہے۔
٭ نمازی نہ ہو گا تو نماز کہاں ہو گی؟ ہم اولیاء اللہ کو وسیلہ اس لئے کہتے ہیں کہ اعمالِ صالح کا وجود عامل کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ورنہ نمازی سے الگ ہو کر نماز کو ڈھونڈو۔
٭ روزہ دار تو دنیا میں کوئی نہ ہو اور روزہ آپ کو مل جائے۔ کہاں ملے گا؟ اور سچ بولنے والا کوئی نہ ہو تو سچ آپ کو کہاں ملے گا؟ اور قرأتِ قرآن کرنے والا کوئی نہ ہو تو آپ کو تلاوت کہاں ملے گی؟ کوئی بھی نیک عمل نہیں مل سکتا جب تک اس نیک عمل کو کوئی کرنے والا نہ ہو۔ تو عزیز دوستو! اعمالِ صالح کا وجود بغیر کرنے والے کے متحقق نہیں ہوتا۔
٭ ہم اولیائے کرام کی ذواتِ قدسیہ کو جو وسیلہ مانتے ہیں تو وہ اعمالِ صالح سے الگ متصور کر کے وسیلہ نہیں مانتے بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ اعمالِ صالحہ کے عامل ہیں نمازی ہیں، حاجی ہیں، روزہ دار ہیں، زکوٰۃ دینے والے ہیں۔اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں، عبادت گزار ہیں۔ ہم ان کے اعمال کی وجہ سے ہی تو انہیں وسیلہ مانتے ہیں۔
٭ اور ان کو وسیلہ ماننا در اصل اعمال ہی کا وسیلہ ماننا ہے۔ خدا کی قسم! یہ وسیلے کا حکم میں نے نہیں دیا بلکہ خود خدا نے دیا ہے۔ اعمالِ صالح کو میں اصل اور بنیاد مانتا ہوں۔ مگر یاد رکھیے، اولیاء اللہ کو وسیلہ قرار دینا انہی اعمال کی بنیاد پر ہے۔ اگر اعمال کا تصور ہٹا لیا جائے تو پھر اولیاء کا وسیلہ وسیلہ نہیں۔
٭ ابھی میں نے آپ کو بتایا کہ ہم ولی کو ولی مانتے ہی اس لئے ہیں کہ وہ اللہ والا ہے۔ وہ اللہ والا کب ہے؟ جب وہ روحانیت سے سرشار ہے۔ جب وہ عبادت گزار ہے، اللہ والا کب ہے؟ جب وہ اللہ کی محبت والا ہے، جب ہی تو وہ اللہ والا ہے۔
٭ اللہ کی محبت نیک عمل ہے۔ یہ روحانیت، یہ تقویٰ، یہ ریاضت، یہ طہارت، یہ مجاہدہ، یہ شب بیداری، یہ عبادت گزاری۔ یہ کیا ہیں؟ یہ نیک اعمال ہیں اور یہ نیک اعمال کرنے والے اولیاء اللہ ہیں۔ پھر ان کا وسیلہ ہونا، یہ اعمالِ صالح کی جہت سے ہے۔ تو ذرا عقل سے کام لو اور سوچو۔ اس لئے تو میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے خود وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بات تو ثابت ہے کہ کوئی نیک عمل اس وقت تک وسیلہ نہیں، جب تک کہ اس کا تعلق کسی نیک کی کی ذات سے نہ ہو۔ آپ سے پوچھتا ہوں، منافق نماز پڑھتے تھے یا نہیں؟ کلمہ پڑھتے تھے یا نہیں؟
٭ تو میرے پیارے دوستو! کیا ان کی نماز ان کے لئے وسیلہ تھی؟ کیا ان کا کلمہ ان کے لئے وسیلہ تھا؟ ہرگز نہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ منافق وہ نماز پڑھتے تھے، جس نماز کی کوئی نسبت پیارے مصطفیٰ سے نہ تھی۔ تو پتہ چلا کہ کلمہ اس وقت تک کلمہ نہیں، جب تک کہ اس کی نسبت کلمہ لانے والے کی ذات سے نہ ہو اور نماز اس وقت تک نماز ہے ہی نہیں، جب تک کہ نماز لانے والے کی ذات سے اس کا تعلق نہ ہو۔ ورنہ نقالی ہو گی اور نقالی کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے۔
٭ یہی فرق ہے اتباع میں اور نقالی میں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،
فَاتَّبِعُوْنِیْ میرے محبوب کی اتباع کرو۔ اتباع کے معنی یہ ہیں کہ میرے محبوب کی محبت میں اس قدر مستغرق ہو جاؤ کہ ان کی محبت کے تقاضے کی بنا پر تم ان کی اداؤں کے سانچے میں ڈھل جاو۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو عمل حضور نے کیا تم بھی کر لو۔ تمہاری نجات ہو جائے گی۔ نماز حضور نے پڑھی، قیام فرمایا، رکوع فرمایا، سجدہ فرمایا۔ اور یہ سارے اعمال منافق بھی کرتے تھے مگر ان کی نجات نہیں ہوئی۔ کیوں نہیں ہوئی؟ اس لئے کہ منافقین کا کوئی عمل بھی حضور کی محبت کی بنیاد پر نہ تھا۔ لہٰذا وہ اعمالِ صالح کی بنیاد بھی قرار نہ پائے۔
٭ اس لئے منافقین کی نمازوں کو ہم اتباعِ رسول نہیں کہہ سکتے۔ اتباعِ رسول کس کی نماز تھی؟ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی، اہل بیت اطہار کی، صحابہ کبار کی، ازواجِ مطہرات کی، تابعین کی، تبع تابعین کی، سلف صالحین کی، مشائخ کرام کی اور اولیاء اللہ کی۔
٭ ان حضرات کی جو عبادت تھی، خدا کی قسم! وہی عبادت ہے، وہی طاعت ہے، وہی نماز، ان کی سب نیکیاں حضورﷺ کی اتباع ہے اور جو حضور کی نسبت اور محبت سے خالی ہو، وہ اگر قیام بھی کرے، رکوع بھی کرے، سجدہ بھی کرے، کچھ بھی کرے، کوئی فائدہ نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا
سیأتی علی الناس زمان لا یبقٰی من الاسلام الا اسمہ ولا یبقٰی من القرآن الا رسمہ یقرء ون القرآن ولا یتجاوز القرآن عن حناجرہم
٭ پھر فرمایا
وفی روایۃ مساجدہم عامرۃ وہی خراب من الہدی یمرقون من الدین کما یمرق السہم من الرمیۃ فایاکم وایاہم لا یضلونکم ولا یفتنونکم وفی روایۃ تحقرون صلٰوتکم بصلا تہم
٭ حضورﷺ نے فرمایا، ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا نام رہ جائے گا۔ قرآن کی رسم رہ جائے گی۔ وہ قرآن پڑھیں گے مگر حلق سے نہیں اترے گا۔ کیسے اترے گا؟ حضورﷺ کی محبت کے بغیر تو قرآن حلق سے نہیں اترتا۔ فرمایا، لوگ نمازیں پڑھیں گے ایسی کہ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے۔ تم کہو گے، ہماری تو کچھ نمازیں نہیں، نمازیں تو ان کی ہیں، بڑی لمبی نمازیں پڑھتے ہیں۔ فرمایا، تمہیں اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ میں حقیر نظر آئیں گی۔ فرمایا، ان کی مسجدیں آباد اور نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوں گی، مگر حال یہ ہو گا،
یمرقون من الدین کما یمرق السہم من الرمیۃ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور میں داخل ہو کر پھر نکل جاتا ہے اور شکار کے گوشت پوست کا اور خون کا تیر پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح یہ لوگ دین میں داخل ہو کر نکل جائیں گے۔ دین کی کوئی برکت، نورانیت اور روحانیت ان کے اندر نہیں پائی جائے گی۔ حضورﷺ نے فرمایا، ان کی مسجدیں آباد ہوں گی لیکن ہدایت سے ویران ہوں گی۔ نمازی ہوں گے، نمازیں بھی پڑھیں گے، مگر ہدایت کا نام و نشان نہ ہو گا۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ حضورﷺ کے متبع نہ ہوں گے۔ صرف نقل کرنے والے ہوں گے۔ نقالی اور چیز ہے، اتباع اور چیز۔ نقالی سے نجات نہیں ہوتی، اتباع سے نجات ہوتی ہے اور اتباع وہ چیز ہے، جس میں متبوع کے ساتھ رابطہ ہو، نسبت ہو، تعلق ہو، لگاؤ ہو، محبت ہو۔ جب کوئی عملِ صالح، صالح کی ذات سے نسبت کے بغیر عملِ صالح قرار نہیں پاتا تو صالحین کو نظر انداز کر کے اور صرف اعمال کی ظاہری شکل و ہیئت کو وسیلہ قرار دے دینا، میری سمجھ میں نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ
ترجمہ٭ اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔


شبہ اور اس کا ازالہ
٭ اب آپ کا یہ تصور کہ بھائی جب اللہ قریب ہے تو خداکے قریب ہونے کے لئے وسیلے کی کیا ضرورت ہے؟ تو میں عرض کرتا ہوں، خدا سب کے قریب ہے کہ نہیں؟ یہ ہمارا ایمان ہے کہ خدا علماً قدرتاً سب کے قریب ہے اور کائنات کے ذرہ ذرہ پر خدا محیط ہے اور کائنات محاط ہے۔ ازروئے علم، ازروئے قدرت، ازروئے احاطہ، خدا سب کے قریب ہے اور خدا کسی سے دور نہیں۔ خدا ہر ایک کے قریب ہے، مگر خدا کے قریب کوئی کوئی ہے۔ شاید آپ دل میں یہ بات سوچیں کہ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ جب خدا سب کے قریب ہے تو پھر سب خدا کے قریب کیوں نہیں بلکہ کوئی کوئی ہے۔ ایک بات پوچھتا ہوں۔ یہ بتائیے، خدا کافروں کے ساتھ ان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے کہ نہیں؟ خدا ابو جہل کے قریب تھا کہ نہیں؟ اور اسی طرح ابو لہب، عتبہ، شیبہ، کعب بن اشرف اور رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی، یہ جتنے کفار، مشرکین اور منافقین ہیں، کیا اللہ ان کی شہ رگ سے زیادہ قریب نہیں تھا؟ پھر یہ بتائیے کہ یہ سب خدا کے مقربین ہیں؟ ابو جہل کو، عتبہ اور شیبہ کو خدا کا مقرب مانو گے؟ ہرگز نہیں۔ بے شک خدا تو ان کے قریب تھا، مگر وہ خدا کے قریب نہیں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خدا سب کے قریب ہے، مگر خدا کے قریب ہر ایک نہیں ہو سکتا۔ ابھی بات سمجھ نہیں آئی تو پھر میں بات سمجھائے دیتا ہوں۔ خدا کے قرب کا قیاس اپنے قرب پر کرنا یہ تو بالکل قیاس مع الفارق ہے۔ وہ تو زمان و مکان اور مسافت سے پاک ہے
تَعَالَی اللّٰہُ عَنْ ذَالِکَ عُلُوًّا کَبِیْرًا
٭ خدا کے قرب کے معنی ہی کچھ اور ہیں۔ یہ نہیں کہ تم میرے ساتھ مکانی طور پر قریب ہو گئے یا قریب آ بیٹھے تو میرے بدن کے قریب ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ اس قرب سے پاک ہے۔ کیونکہ وہ جسم اور جسمانیت سے پاک ہے۔ جہت علو اور جہت اسفل، تمام جہات سے پاک ہے۔ تو پھر خدا کے قرب کا کیا مفہوم ہو گا؟ خدا کے قرب کے معنی یہ ہیں کہ جس کو خدا کی جتنی معرفت حاصل ہو گی، وہ اتنا ہی خدا کے قریب ہو گا۔ خدا تو سب کے قریب ہے، مگر خدا کے قریب صرف وہی ہے، جس کو خدا کی معرفت ہے۔ آپ کلمہ پڑھتے ہیں،
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے خدا کے معبود اور محمدﷺ کے رسول ہونے کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کیا ہے۔ یہ آپ کی معرفت ہے اور جو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر یقین نہیں رکھتا، اسے خدا کی معرفت نہیں ہے کیونکہ اگر معرفت ہوتی تو وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر یقین رکھتا۔ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر یقین رکھنے والے خدا کی معرفت رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ خدا سے قریب ہیں۔ اب خدا کے قرب کے درجات اور اس کی معرفت کے درجات لا متناہی ہیں۔ نہ اس کے درجاتِ معرفت ختم ہوتے ہیں، نہ اس کے قرب کے درجات ختم ہوتے ہیں۔
٭ جتنے درجاتِ معرفت حاصل ہوتے جائیں گے، اتنا ہی قرب میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔
٭ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ درجاتِ معرفت بڑھیں اور بُعد ختم ہو
وَاللّٰہِ بِاللّٰہِ ثُمَّ تَاللّٰہِ اللہ والوں کے بغیر تم وہ درجاتِ معرفت طے نہیں کر سکتے۔ اس لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، وَدَاعِیًا اِلیَ اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا ہم نے جب لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا تو خدا کی توحید اور معبودیت کی تصدیق اور زبان سے اقرار کیا۔ یہ خدا کی معرفت ہے کیونکہ درجاتِ معرفت لا متناہی ہیں۔ لہٰذا ان لا متناہی درجاتِ معرفت کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں وسیلہ کی ضرورت ہے۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ انبیاء و رسل کو بھیجتا ہے کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یعنی توحید و رسالت کی تعلیم دیں اور خدا کی معرفت عطا کریں۔ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے کے لئے نبی کی ذات وسیلہ ہے۔ اس کے بعد معرفت کے درجات اور قرب کے مراتب حاصل کرنے کے لئے بھی وسیلے کی ضرورت ہے۔
٭ اب میں اس حقیقت کو ذرا اور واضح کرتا ہوں کہ اللہ تو ہم سب کے قریب ہے مگر سب اللہ کے قریب نہیں۔ اللہ سے قریب کوئی کوئی ہے اور وہ وہی ہے جس کو اللہ کی معرفت حاصل ہو گئی ہے۔ یہاں یہ سمجھنا بالکل غلط ہے کہ جب خدا ہر ایک کے قریب ہے تو ہر ایک بھی خدا کے قریب ہے۔
٭ مسئلہ کی مزید وضاحت کے لئے مثنوی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ سے ایک تمثیل مختصراً بیان کرتا ہوں۔ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جوہری کے پاس ایک ایسا بیش بہا لعل تھا، جس کی قیمت سوائے بہت بڑے بادشاہ کے کوئی اور ادا نہیں کر سکتا تھا۔ اس جوہری نے سوچا کہ میں لعل کس کے ہاتھ فروخت کروں۔ کوئی اس کی قیمت تو دے نہیں سکتا۔ کیوں نہ میں فلاں ملک کے بادشاہ کے پاس چلا جاؤں اور اسے جا کر لعل پیش کروں اور قیمت وصول کروں۔ چنانچہ وہ اپنا لعل لے کر اس ملک کی طرف روانہ ہو گیا۔ دور دراز کا سفر تھا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ایک آدمی کو پتا چل گیا کہ یہ جوہری بیش بہا لعل لیے جا رہا ہے اور یہ کسی بادشاہ کے پاس جا کر اس کی قیمت وصول کرے گا تو کیا اچھا ہو، میں اس کے ساتھ ہو لوں۔ اثنائے سفر میں جہاں موقع ملے، میں لعل لے کر چلتا بنوں۔ اس خیال سے وہ جوہری کے ساتھ ہو لیا۔ دورانِ سفر جب ان کی ملاقات ہوئی تو اس نے کہا، بھائی، تم بھی مسافر، میں بھی مسافر، کیوں نہ دونوں ایک ساتھ چلیں۔ تو جوہری نے انکار نہ کیا اور دونوں ایک ساتھ چل پڑے۔ رات کا وقت آیا تو جوہری نے سوچا، نا معلوم یہ کون ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرا لعل لے کر چلتا بنے۔ اس نے عقل سے کام لیا۔ اس نے کہا، بات یہ ہے کہ ہم دونوں مسافر ہیں۔ ایک دو ماہ کا سفر ہے۔ ظاہر ہے کہ جاگتے جاگتے طے نہیں ہو سکتا۔ بشری تقاضا ہے۔ سونا بھی ہے، آرام بھی کرنا ہے۔ اب اگر ہم دونوں سو جائیں تو دونوں کے لئے خطرہ ہے۔ کوئی تیسرا آ کر ہم دونوں کو ختم کر دے اور ہمارا سامان لے جائے تو دونوں کا نقصان ہو گا۔ اور اگر دونوں جاگتے رہیں تو کب تک جاگتے رہیں گے۔ اس کی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ آدھی رات تم سو جاؤ اور میں جاگتا رہوں اور آدھی رات میں آرام کروں، تم جاگتے رہو۔ بات معقول تھی۔ اس کے بغیر چارہ بھی نہ تھا۔ لہٰذا اسی پر فیصلہ ہو گیا۔ رات ہوئی سونے کا وقت آیا۔ جوہری نے کہا، آدھی رات تم سو جاؤ، جب وقت ہو گا، میں تمہیں اٹھا دوں گا اور میں سو جاؤں گا۔ جوہری نے اسے سلا دیا۔ تھکا ماندہ تھا، بے ہوش ہو کر سو گیا اور نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ جوہری نے سوچا، آدھی رات کے بعد میں نے اسے اٹھانا ہے اور جب میں سو جاؤں گا، اسی طرح بے خبر سوؤں گا تو اس بیش قیمت لعل کا کیا کروں؟ کافی سوچ بچار کے بعد جوہری نے لعل کو سونے والے کے کپڑوں میں اس طرح چھپا دیا کہ اسے مطلقاً احساس نہ ہوا۔ جب وہ مطمئن ہو گیا کہ اس نے لعل کو کپڑوں کے اندر محفوظ کر دیا ہے۔ آدھی رات گزری جوہری نے اسے اٹھا دیا۔ بھائی آدھی رات گزر گئی۔ اب تم جاگو، میں سوتا ہوں۔ تو خوشی خوشی اٹھ بیٹھا۔ اس نے جوہری سے کہا کہ ٹھیک ہے، اب تم سو جاؤ۔ جوہری اطمینان سے سو گیا کیونکہ اس کو لعل کی تو بالکل فکر نہ تھی۔ اب جب یہ سو گیا تو اس کے ساتھی نے اس کی تلاشی لینا شروع کر دی۔ اس کی ہر چیز کو ٹٹولا۔ جہاں جہاں ہاتھ مار سکتا تھا، مارے۔ مگر لعل جوہری کے پاس تھا ہی نہیں۔ ملتا کہاں سے؟ نہ ملا۔ وہ رات گزر گئی۔ دن کو یہ بڑا پریشان ہوا۔ مگر پھر یہ سوچ کر مطمئن ہو گیا، چلو آج نہ سہی کل سہی۔ کل نہ سہی پرسوںسہی۔ لعل تو میں لے لوں گا۔ دن گزر گیا، رات آ گئی۔ جوہری نے کہا، آدھی رات تم سو جاؤ۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ جوہری نے گہری نیند دیکھ کر لعل پھر اس کے کپڑوں میں چھپا دیا۔ صبح ہوئی، دوپہر ہوئی قیلولے کا وقت آیا۔ اس کا ساتھی آرام کر رہا تھا۔ جوہری نے چپکے سے اپنا لعل نکال لیا اور اس کو اچھالنے لگا۔ وہ بڑا پریشان ہوا کہ رات کو ڈھونڈتا رہا، مجھے نہیں ملا۔ دوسری رات ہوئی پھر اس نے یہی کام کیا، لعل کو اس کے کپڑوں میں چھپا دیا۔ دوپہر کو قیلولہ کے وقت وہ آرام کرنے کے لئے سویا تو پھر نکال لیا۔ نہ رکھنے کا اسے پتا چلا، نہ نکالنے کا۔ لیکن روزانہ شام کو جوہری لعل کو ہاتھوں میں لے کر اچھالتا ہے، ساتھی پریشان ہوتا ہے کہ رات کو میں تلاش کر کر کے مر جاتا ہوں، روزانہ اسی طرح ہوتا رہا، دو مہینے کا سفر تھا، آخر ختم ہو گیا۔ ساتھی بولا، سفر بخیر و خوبی ختم ہو گیا۔ مگر اللہ کے لئے مجھے تو یہ بتا دے کہ لعل تو کہاں رکھتا تھا؟ میں تلاش کر کر کے مر جاتا تھا۔ جوہری نے جواب دیا، میرا لعل تو تجھ سے قریب ہوتا تھا مگر تو لعل سے دور ہوتا تھا۔ اس نے کہا، یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ لعل تو مجھ سے قریب ہوتا تھا اور میں لعل سے دور۔ جوہری نے کہا، لعل میں تیرے کپڑوں میں چھپا دیتا تھا۔ تجھے معرفت ہی نہیں ہوتی تھی۔ تو اپنے سامان میں اپنے کپڑے میں اس کو تلاش نہیں کرتا تھا۔ حالانکہ لعل تیرے کپڑوں میں ہوتا تھا، تجھے اس کی معرفت نہیں ہوتی تھی، لعل تو تیرے قریب ہوتا تھا، مگر تو لعل سے دور ہوتا تھا۔
٭ مولانا روم اس حکایت کے آخر میں فرماتے ہیں
٭ اولیاء اللہ کا یہی مقام ہے کیونکہ انہیں خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے، وہ کہیں بھی ہوں، کسی صورت میں بھی ہوں، کسی لباس میں بھی ہوں، خدا سے قریب ہوتے ہیںاور جو خدا کے منکرین ہیں، وہ کہیں بھی ہوں، کسی بھی صورت میں ہوں، کسی لباس میں ہوں، خدا تو ان سے بھی قریب ہے، مگر وہ خدا سے دور ہیں۔ اب رہا یہ سوال کہ محمدﷺ کی ذات پاک کے وسیلہ عظمیٰ کے ہوتے ہوئے آپ اولیاء اللہ کو درمیان میں بحیثیت وسیلہ کیوں لاتے ہیں۔ محمدﷺ کا وسیلہ عظمیٰ ہی کافی ہے۔
٭ اولیاء اللہ محمدﷺ اور ہمارے درمیان وسیلہ ہیں اور رسول پاک خدا کے اور ہمارے درمیان وسیلہ ہیں۔ اولیاء کے راستوں پر چل کر ہم بارگاہِ رسالت تک پہنچتے ہیں اور بارگاہِ رسالت سے بارگاہِ خداوندی تک پہنچتے ہیں۔
سوال٭ وسیلے کے ذریعے آپ کو معرفت خداوندی حاصل ہو گئی یا نہیں۔ اگر معرفت حاصل ہو گئی ہے تو وسیلے کی اب حاجت نہیں رہی۔ اگر معرفت حاصل نہیں ہوئی تو پھر وسیلہ بے کار ہے۔ کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ وسیلہ کسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ جب حصولِ مقصد ہو گیا، وسیلہ کی حاجت بھی ختم ہو گئی۔ اب اسے ترک کرنا پڑے گا۔ مثلاً ہم گاڑی میں بیٹھ کر ملتان آ گئے۔ ملتان تک ٹرین وسیلہ تھی، اب جب ملتان کا سٹیشن آیا تو ہم نے سوچا، اگر ملتان اتر جائیں تو ہاتھ سے وسیلہ جاتا ہے۔ اگر نہ اتریں تو مقصد ہاتھ سے جاتا ہے۔ اب کیا کریں؟ مقصد کو حاصل کریں یا وسیلہ کو۔ قاعدہ تو یہ ہے، جب مقصد حاصل ہو جائے تو وسیلہ کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا اگر تمہیں خدا کی معرفت حاصل ہو گئی ہو تو وسیلے کو چھوڑ دو۔ اگر محمدﷺ کی بارگاہ تک پہنچ گئے تو اولیاء کے وسیلے کو چھوڑ دو۔ اگر بارگاہِ خداوندی تک پہنچ گئے ہو تو محمدﷺ کے وسیلے کو چھوڑ دو۔
٭ میرے دوستو! میں عرض کرتا ہوں، اگر مقصد متناہی ہو تو وسیلہ بھی متناہی ہوتا ہے۔ اگر مقصد غیر متناہی ہو تو وسیلہ بھی غیر متناہی ہوتا ہے۔
٭ آپ نے جو کراچی سے ملتان کی مثال دی، وہ متناہی مقصد کی مثال ہے۔ اگر مقصد غیر متناہی ہو تو وسیلہ بھی غیر متناہی ہو گا۔ہمارا مقصد خدا کی ذات ہے اور خدا کی ذات لا متناہی ہے۔ اس کی صفات لا متناہی ہیں بلکہ اس کی معرفت کے درجات بھی لا متناہی ہیں۔تم خدا کی معرفت کے درجات ختم کر دو، میں وسیلے کو چھوڑ دوں گا۔ مزید وضاحت کے لئے عرض کرتا ہوں۔ ہم ہر نماز میں سورئہ فاتحہ میں یہ کلمات پڑھتے ہیں
اِہْدِ نَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ
٭ یا اللہ! ہمیں سیدھی راہ دکھا۔ صراطِ مستقیم پر چلا۔ آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آج تک آپ کو سیدھی راہ نہیں ملی۔ پھر کوئی شخص یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ایک آدمی موت کے وقت بھی
اِہْدِ نَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ
٭ کہہ رہا ہے۔ گویا اب تک اسے سیدھی راہ نہیں ملی۔ کیا آپ اسے مان لیں گے؟ اگر آپ یہ بات تسلیم کر لیں کہ اسے اب تک راہ نہیں ملی۔ اگر نہیں ملی تو بے ایمان مرا۔ اگر اسے راہ مل گئی تو پھر
اِہْدِ نَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کی دعا کیوں مانگتا جا رہا ہے؟
٭ عزیزانِ گرامی! میں عرض کر دوں،
اِہْدِ نَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کی دعا سے مراد بھی اس کی معرفت کی راہیں ہیں اور اس کی معرفت کی راہیں کہیں ختم نہیں ہوتیں۔ لہٰذا ہماری دعا بھی کہیں ختم نہیں ہوتی۔ ہم معرفت کے جس درجے پر پہنچے، اس کے بعد ایک اور درجہ ہے۔ ہم نے کہا، مولا! اپنی معرفت کے اس درجے پر پہنچنے کی راہ دکھا۔ نہ اس کی منزلیں ختم ہو ں گی، نہ اس کی راہیں ختم ہوں گی اور نہ دعائیں ختم ہوں گی۔
کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ فَبِاَیِّ اٰلَائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ(پ: ۲۷، س: الرحمٰن، آیت: ۲۹)
٭ جسے منزل سمجھتا ہوں، وہ پھر منزل نہیں رہتی۔ حجابِ نور کا یہ سلسلہ یارب کہاں تک ہے۔
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج