شیخ الاسلام
حضرت بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمۃ ملتانی

٭ حضرت غوث العالمین بہاؤ الحق والدین ۱۷؍ رمضان المبارک ۵۶۶ ھ جمعہ کے دن مدینۃ الاولیاء ملتان کے نواح میں پیدا ہوئے اور ۷؍ صفر المظفر ۶۶۶ھ جمعرات کے دن آپ کا وصال ہوا۔ اس طرح تقریباً ایک صدی تک آپ ملتان کے افق سماء پر روحانیت، صالحیت، ولایت اور پاکیزگی کا آفتاب بن کر چمکے۔ آپ نے اپنی روحانیت اور ولایت سے صرف ملتان والوں کو نہیں بلکہ دور دراز تک کے لاکھوں مسلمانوں کو منور و مستفیض فرمایا۔
٭ ملتان آپ کے زمانے میں سندھ کا دار الخلافہ تھا اور اس کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ سندھ اور پنجاب دونوں سے برابر کا تعلق رکھتا ہے۔ چنانچہ حضور غوث العالمین سیدنا بہاؤ الدین زکریا کے فیوض و برکات جو ملتان سے ظاہر ہوئے، انہوں نے سندھ کی سر زمین کو بھی روشن کیا اور پنجاب بھی ان کے انوار و برکات سے محروم نہ رہا۔


ظاہری و باطنی کمالات کا جامع
٭ حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا اولیاء کبار میں شمار کئے جاتے ہیں اور آپ ایک ایسی جامع ہستی تھے، جنہوں نے اپنے اندر علوم ظاہری اور علوم باطنی کے تمام کمالات کو جمع کر لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام نعمتوں سے ان کو نوازا تھا۔ ظاہری نعمتیں بھی ان کو عطا فرمائیں اور باطنی نعمتوں سے بھی ان کو نوازا۔ آپ کے ہاں دولت دنیا کی بھی کمی نہ تھی اور دین کی دولت بھی آپ کے پاس بفضلہ تعالیٰ کثرت سے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زراعت و تجارت کے ذریعے اموال کثیر عطا فرمائے اور مورخین نے لکھا ہے کہ آپ کی سالانہ اوسط آمدنی تقریباً پچھتر ہزار دینار تھی لیکن خزانۂ عامرہ سے ہمیشہ غرباء و مساکین اور اہل حاجت پلتے رہے اور آپ کا کثیر مال فقراء اور غرباء پر صرف ہوتا رہا۔


ولی کون؟
٭ آپ ولی کامل ہیں اور ولی ولا سے ماخوذ ہے۔ ولا سے مراد ہے محبت اور محبت سے یہاں خدا کی محبت مراد ہے جو کمال انسانی کا جوہر ہے۔ اس لئے ولی خدا کا دوست اور محب ہوتا ہے۔ اس کے دل میں خدا ہی کی محبت ہوتی ہے اور جس کے دل میں خدا کی محبت ہوتی ہے، وہ دنیا کی محبت اپنے دل میں نہیں رکھتا مال و دولت اور سیم و زر کی محبت اس کے دل میں نہیں ہوتی۔ حضرت غوث بہاؤ الحق والدین زکریا ملتانی باوجود اس کے کہ دولت دنیا سے بھرپور تھے لیکن آپ کے دل میں دولت دنیا کے لئے کوئی محبت نہ تھی۔

نہ مال و دولت دنیا نہ رشتہ و پیوند

٭ تواریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ اتفاق ایسا ہوا کہ پانچ ہزار اشرفیوں کا کوئی صندوق گم ہو گیا۔ جب آپ کو بتایا گیا تو آپ نے فرمایا الحمد للّٰہ! کچھ دنوں بعد وہ صندوق دستیاب ہو گیا اور آپ سے عرض کیا گیا کہ حضرت! پانچ ہزار اشرفیوں والا صندوق مل گیا ہے۔ تو آپ نے اس وقت بھی ارشاد فرمایا، الحمد للّٰہ! کسی نے آپ سے پوچھا، حضرت! اس وقت بھی آپ نے فرمایا تھا، الحمد للّٰہ اور اب بھی آپ فرما رہیں کہ الحمد للّٰہ اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے جواب دیا، جس وقت مجھے اس صندوق کے گم ہونے کی اطلاع ملی تو میں نے اپنے دل کا جائزہ لیا اور میں نے دیکھا کہ میرے دل میں اس صندوق کی گمشدگی کا کوئی ملال نہیں تھا۔ اس پر میں نے اللہ کی اس نعمت پر کہ میرا دل مال کی محبت سے پاک ہے، اللہ کا شکر ادا کیا اور جس وقت مجھے اس صندوق کے دوبارہ دستیاب ہونے کی خبر ملی تو اس وقت بھی میں نے اپنے دل کو ٹٹولا اور محسوس کیا کہ میرے دل میں اس کے ملنے کی کوئی خوشی نہیں پائی جاتی۔ چنانچہ میں نے اس وقت بھی الحمد للّٰہ پڑھا۔ کیونکہ میرا دل اس وقت بھی دنیا کے مال کی محبت سے خالی تھا اور اس میں اللہ کی محبت کے سوا کسی اور کی محبت نہ تھی۔


شان ولا یت
٭ مختصر یہ کہ ولایت کی شان یہ ہے کہ اللہ کی کامل محبت انسان کے دل میں پائی جائے اور جس کے دل میں اللہ ہی کی محبت ہو گی تو وہ جو کام بھی کرے گا، اللہ کی محبت کے لئے کرے گا کیونکہ جہاں خدا کی محبت ہو وہاں تو اطاعت کی محبت پائی جائے گی۔ وہاں تو حب حسنات اور حب خیرات ہو گی اور حب شہوات سے وہ بالکل پاک ہو گا۔ کیونکہ حب شہوات تو ان دلوں میں پائی جاتی ہے جو دل خدا کی محبت سے خالی ہوتے ہیں اور اولیاء اللہ تو خدا کی محبت کا مرکز ہوتے ہیں۔ ان کی پوری شخصیت خدا کی محبت سے رنگی ہوئی نظر آتی ہے اور خدا کی محبت سے ان کے قلوب بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فطرت اور ان کی طبیعت دنیوی امور کی محبت سے بالکل پاک ہوتی ہے اور وہ اللہ کا ذکر اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں اللہ کے ذکر میں لذت آتی ہے۔


علم کی تلاش
٭ حضور سیدنا غوث بہاؤ الدین زکریا ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی علوم میں بھی پوری دسترس رکھتے تھے۔ آپ نے علم کے حصول کے لئے دیار و امصار کا سفر اختیار کیا۔ آپ خراسان، عراق اور حجاز مقدسہ پہنچے اور وہاں اپنے زمانہ کے نامور علماء سے مروجہ علوم حاصل کئے۔ بالخصوص علم حدیث آپ نے ایسے اساتذہ سے حاصل کیا جو یکتائے زمانہ تھے۔


شیخ شہاب الدین سہروردی سے ملاقات
٭ تلاش مرشد میں آپ بغداد پہنچے اور یہاں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے کل سترہ دن ان کے پاس قیام فرمایا اور سترہ دن بعد ہی شیخ شہاب الدین سہروردی نے آپ کو خرقہ خلافت عطا فرمایا جو اصحاب پہلے سے ان کی خدمت میں مامور تھے، انہیں یہ دیکھ کر بڑا رشک آیا اور انہوں نے سوچا کہ ہم مدت سے یہاں موجود ہیں اور اس دولت سے محروم ہیں لیکن حضرت بہاؤ الدین زکریا کو یہ دولت فقط سترہ دنوں میں عطا کر دی گئی۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کو جب معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا تم گیلی لکڑی کی طرح ہو جب کہ بہاؤ الدین زکریا خشک لکڑی کی مانند ہیں جو بہت جلد آگ کو پکڑ لیتی ہے اور اس آگ سے مراد آتش عشق الٰہی ہے۔ کیونکہ اللہ کا عشق ہی تو ولایت کی حقیقت ہے۔


تبلیغ و اشاعت
٭ شیخ شہاب الدین سہر وردی سے روحانی فیوضات حاصل کرنے اور خرقۂ خلافت پانے کے بعد آپ نے سہروردی سلسلے کو ملتان میں قائم فرمایا، جس سے لاکھوں افراد نے فیوض و برکات حاصل کئے۔ تمام دیار و امصار میں آپ کی تعلیمات پھیلیں۔ آپ نے روحانیت کے علوم کو بھی پھیلایا اور ظاہری علوم کو بھی آپ نے فروغ دیا۔ آپ نے ملتان میں علوم اسلامیہ کا ایک عظیم الشان دار العلوم بھی قائم کیا، جس میں اس وقت کے بڑے بڑے علماء کے علاوہ ماور اء ا لنہر تک سے طلباء کو بلایا گیا۔ اس طرح رشد و ہدایت اور ترویج دین کا ایک عظیم سلسلہ یہاں قائم ہوا۔


تصنیف و تالیف
٭ آپ نے کئی ایک کتابیں بھی تصنیف فرمائیں لیکن اوراد کے متعلق جو کتاب آپ نے تحریر کی، وہ اب بھی پنجاب یونیورسٹی کے کتب خانے میں موجود ہے۔ آپ کی ایک اور مشہور کتاب بہائیہ ہے جو اگرچہ دستیاب نہیں ہوتی لیکن مختلف ادوار میں اہل علم نے اس کتاب سے استفادہ کیا۔ جس کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔
 

تعلیمات
٭ حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی کی تعلیمات میں خصوصیت کے ساتھ جو چیز پائی جاتی ہے جیسا کہ اخبار الاخیار میں حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی اور دیگر مورخین نے بھی لکھا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ جل مجدہ کی محبت کو ترقی دی جائے اور اپنے قلب کو اس کی محبت اور اس کی یاد سے حرارت پہنچائی جائے اور اللہ کا ذکر بکثرت کیا جائے۔ رسول کریم اکی اطاعت کو اپنا شعار بنایا جائے۔ غرباء و مساکین کے ساتھ رحمدلی سے پیش آیا جائے اور جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ مال و دولت عطا فرمائے، وہ خدا کی راہ میں خرچ کر دیا جائے۔
 

حق بحق رسید
٭ آپ جس وقت دنیا سے تشریف لے جانے والے تھے تو آپ کے بڑے صاحبزادے کی خدمت میں کسی شخص نے ایک سر بمہر خط پیش کیا اور کہا کہ آپ حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا کو یہ خط دے دیجئے چنانچہ وہ خط بڑے صاحبزادے لے کر آئے اور آپ کو پیش کیا اور جس وقت وہ خط دے کر واپس لوٹے تو دیکھا کہ وہ قاصد موجود نہ تھا۔ آپ سخت متعجب ہوئے۔ اسی وقت آپ کے کان میں آواز آئی حق بحق رسید یعنی بہاؤ الحق حق تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ گئے۔ اس آواز کو سن کر جب وہ اندر پہنچے تو دیکھا کہ حضور غوث بہاؤ الحق زکریا ملتانی کی روح مبارک قفس عنصری سے پرواز کر چکی ہے۔
٭ آپ کے وصال کے بعد آپ کی اولاد خصوصاً آپ کے صاحبزادے حضرت صدر الدین عارف اور پوتے حضرت شاہ رکن عالم نوری حضوری نے آپ کے مشن کو آگے بڑھایا اور انہوں نے ولایت کے انوار و برکات کو سر زمین ملتان اور دور دراز کے علاقوں تک پھیلا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ علم و شرف عطا کیا، جس سے تمام اہل علم واقف ہیں۔ آج تک آپ کے فیوض و برکات جاری ہیں اور سارے دیار و امصار خصوصاً سندھ سے لوگ بکثرت حاضر ہو کر آپ سے فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بزرگانِ دین کی تعلیمات پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان کی فیوضات سے نوازے۔


بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

٭ درج ذیل درود شریف کا ایک بار پڑھنا چالیس مرتبہ دلائل الخیرات پڑھنے کے برابر ہے۔
اللّٰہم صلّ علٰی سیدنا محمد وّ علٰی اٰلہ و اصحابہ وازواجہ و ذرّیّتہ واہل بیتہ عدد ما فی علمک صلٰوۃً دائمۃً بدوام ملکک (جامع الصلٰوۃ۔ ص ۱۹)
٭ شیخ عبد القادر البغدادی الصدیقی نے فرمایا مصائب کے وقت درج ذیل درود و سلام کو ایک ہزار بار پڑھنا تریاق مجرب ہے۔
الصلٰوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللّٰہ قد ضاقت حیلتی ادرکنی (افضل الصلٰوۃ۔ ص ۱۵۵)
٭ عارف مرسی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جس نے دن اور رات میں پانچ سو مرتبہ اس درود شریف پر ہمیشگی کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دیدار سے جاگتے ہوئے مستفیض ہو کر مرے گا، پہلے نہیں۔ وہ درود شریف یہ ہے
اللّٰہم صلّ علٰی سیدنا محمد عبدک و نبیّک و رسولک النّبی الامی وعلٰی الہ وصحبہ وسلّم۔ (افضل الصلٰوۃ۔ ص ۶۶)
٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا، جس نے جمعہ کے دن بعد نماز عصر کے اٹھنے سے پہلے اسی مرتبہ پڑھا، اس کے اسّی سال کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں اور اسی سال کی عبادت لکھی جاتی ہے۔ درود شریف یہ ہے
اللّٰہم صل علٰی سیدنا محمد النبی الامی وعلٰی آلہ وسلم تسلیما
٭ حضورﷺ پر جس نے یہ درود شریف
صلی اللّٰہ علٰی محمد پڑھا اس نے اپنے اوپر ستر دروازے رحمت کے کھول دئیے۔ اللہ تعالیٰ اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے گا تو اس سے بغض نہ رکھے گا، مگر وہ کہ جس کے دل میں نفاق ہے۔ (کشف الغمہ للشعرانی) حضرت حافظ سخاوی کی روایت میں ہے کہ اس درود شریف کو سات ہفتے تک پڑھنے والا دیدار سے مشرف ہو گا۔ حتیٰ کہ حدیثیں روایت کرے گا اور اس کی تائید میں ایک نابینے کا ذکر بھی کیا۔
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج