امام اعظم بحیثیت محدثِ اعظم
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم

٭ محترم حضرات! میں اتنی بار خانیوال آیا لیکن آپ بتائیے کہ میں نے آج تک شوکافی (۱) کے بارے میں کچھ کہا؟ کبھی میں نے نواب صدیق حسن بھوپالی (۲) کے متعلق کچھ ذکر کیا؟ یا کبھی میں نے کسی اہل حدیث عالم کا نام اپنی گفتگو میں لیا؟ لیکن آج مجھے نہایت دکھ ہوا اور میرا دل بہت زخمی ہوا، جب میں نے سنا کہ خانیوال کی سرزمین پر امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر طعن کیا گیا، ان کی توہین کی گئی اور ان کے حق میں نازیبا کلمات کہے گئے۔ مجھے یہ سب کچھ جان کر نہایت دکھ پہنچا اور میرا دل بہت زخمی ہوا۔ لیکن اس سب کے باوجود بھی میں صبر کروں گا اور صبر کا مطلب یہ ہے کہ میں گالی کا جواب گالی سے نہیں دوں گا اور میں دریدہ دہنی کا جواب دریدہ دہنی سے نہیں دوں گا بلکہ میں برائی کو اچھائی سے رفع کروں گا۔
محترم حضرات! میں نے آپ کے سامنے قرآن پاک کی ایک آیت کریمہ کا کچھ حصہ تلاوت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ(پ ۲۳۔ س الزمر۔ آیت ۹)
٭ یعنی اے میرے محبوب ﷺ آپ ارشاد فرما دیں کہ کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو کہ جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے؟ کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ علم والوں کی شان تو یہ ہے کہ
اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ (پ ۲۲۔ س فاطر۔ آیت ۲۸)
٭ اللہ کے بندوں میں اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔
٭ یعنی اللہ کا خوف اور اللہ کی خشیت دل میں رکھنے والے اگر ہیں تو فقط علماء ہیں اور یاد رکھیئے وہ کیسے علماء ہیں؟ ہم جیسے نہیں۔ استغفر اللّٰہ!
چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ ہم جیسے لوگوں نے تو آج علم کا نام بدنام کر دیا۔
٭ میرے دوستو اور عزیزو! یہاں علماء سے مراد ایسے علماء ہیں جیسے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا فاروقِ اعظم، سیدنا عثمانِ غنی ذو النورین، سیدنا علی کرم اللہ وجہہ، سیدنا حسن بصری (۱)، سعید بن مسیب (۲)، سعید بن جبیر (۳) رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے اور مجھے کہنے دیجئے کہ علماء سے مراد ہم جیسے لوگ نہیں بلکہ علماء سے مراد وہ مقدسین اور طیبین و طاہرین ہیں جنہوں نے علم کے چشمے جاری کر دئیے۔ ان میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ہیں، عبد اللہ بن عمر ہیں (۴)، عبد اللہ بن عباس (۵) ہیں اور ان کے شاگرد سعید بن جبیر ہیں۔ علقمہ بن قیس اور ان کے شاگرد حضرت ابراہیم نخعی ہیں اور ابراہیم نخعی کے شاگرد سیدنا حماد ہیں اور حضرت حماد کے شاگرد امام ابو حنیفہ ہیں رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
٭ اے عبد اللہ بن مسعود! کروڑوں سلام ہوں آپ پر، آپ نے جو علم حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کو دیا، اس کا تصور بھی ہمارے ذہن میں نہیں آ سکتا۔ اور یہ علم وہ تھا، جو حضرت عبد اللہ بن مسعود (۶) رضی اللہ عنہ نے مشکوٰۃ نبوت سے حاصل کیا۔ نبی کریم ﷺ کے نورانی سینہ مبارک سے جو علم حضرت ابن مسعود نے حاصل کیا، اس علم سے آپ نے حضرت علقمہ (۷) کا سینہ روشن کر دیا۔ اور اے علقمہ! آپ پر کروڑوں سلام ہوں کہ آپ نے اس علم سے ابراہیم نخعی (۸) کے سینے کو منور کر دیا۔ اور اے ابراہیم نخعی! کروڑوں سلام ہوں آپ پر کہ آپ نے حضرت حماد (۹) کے سینے کو علم کا خزینہ بنا دیا اور اے حماد کروڑوں سلام ہوں آپ پر کہ آپ نے حضرت امام ابو حنیفہ کو اپنی مسند علم پر بٹھا دیا۔
٭ میرے دوستو! یہ ہیں وہ اہل علم، جن کے لئے قرآن نے کہا
اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ (پ ۲۲۔ س فاطر۔ آیت ۲۸)
٭ اے امام ابو حنیفہ کو ضعیف السند کہنے والو! میں تمہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ آج تمہیں کتنا ہی فخر کیوں نہ ہو اپنی محدثیت پر لیکن تم امام ابو حنیفہ کے دربانوں کی گردِ راہ کو بھی نہیں پا سکتے کیونکہ ابو حنیفہ تو ایسے قوی السند تھے کہ دنیا تو سند حدیث میں ضبط کتاب پر اعتماد کرتی ہے لیکن امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ جب تک ضبط حافظہ سے کوئی حدیث روایت نہ کرے ہم اعتبار نہ کریں گے۔
٭ ارے تم نے انہیں اہل الرائے کہہ کر ان پر طعن کیا، مگر میں تو رائے کو برا نہیں سمجھتا۔ میں تو اس رائے کو برا سمجھتا ہوں جو اللہ کے فرمان کی مقابل ہو۔ ایسی رائے یقینا مذموم ہے۔ کیونکہ وہ سیدھا دوزخ کا راستہ ہے۔ لیکن میں تمہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ امام ابو حنیفہ کی وہ رائے نہ تھی بلکہ امام ابو حنیفہ کی رائے وہ تھی جو جنت کا راستہ دکھاتی، توحید کی راہیں روشن کرتی اور بارگاہِ رسالت کی طرف رہنمائی کرتی تھی۔ جو امام ابو حنیفہ پر اس لئے طعن کرتا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے اپنی رائے سے کیوں کہا تو میں اسے کہتا ہوں کہ (۱) مجتہد کو اپنی رائے سے کہنے کا حق ہے۔ اگر امام ابو حنیفہ کے اجتہاد کی بنا پر تم انہیں اہل الرائے کہتے ہو اور اس اجتہاد پر انہیں مطعون کرتے ہو تو پھر تمہارا یہ طعن تو نعوذ باللہ بارگاہِ رسالت تک پہنچے گا۔ اس لئے کہ حضور ﷺ نے بھی اجتہاد فرمایا تھا۔ حالانکہ حضور ﷺ کو اجتہاد کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ آپ تو وہ مقدس ہستی ہیں، جن کی طرف اللہ تعالیٰ کی وحی آتی تھی۔ بات یہ ہے کہ بارگاہِ نبوت کی اداؤں کے بغیر دین مکمل نہیں ہوتا۔ چنانچہ اگر حضور ﷺ اجتہاد نہ فرماتے تو اجتہاد کے جواز کے لئے دلیل کہاں سے آتی؟ معلوم ہوا مجتہدین کے اجتہاد کے لئے دلیل فراہم کرنے کے لئے سرکارِ دو عالم ﷺ نے نہ صرف خود اجتہاد فرمایا بلکہ صحابہ کرام کو بھی اجتہاد کے مواقع فراہم کیے۔
٭ بخاری شریف میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کو بنو قریظہ کی جانب بھیجا اور ارشاد فرمایا
لا یصلین احد العصر الا فی بنی قریظۃ
٭ یعنی تم میں سے کوئی بھی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنو قریظہ جا کر۔ اور مسلم شریف میں یہ حدیث یوں ہے کہتم میں سے کوئی ظہر کی نماز بنو قریظہ کے پاس پہنچے بغیر نہ پڑھے۔
٭ اب دیکھیے کہ ظہر عصر کی مغائر ہے کہ نہیں ہے؟ اگر کوئی عصر کی نیت کر کے ظہر کی نماز پڑھ لے تو کیا اسکی نماز ہو گی؟ ہرگز نہیں ہو گی کیونکہ عصر اور ہے اور ظہر اور ہے۔ اب بنو قریظہ کی جانب جس جماعت کو حضورﷺ نے بھیجا، اس کیلئے حضور ﷺ کے الفاظ بخاری میں ہیں کہ تم میں سے کوئی بھی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنو قریظہ جا کر اور مسلم میں ہیں کہ تم میں سے کوئی ظہر کی نماز بنو قریظہ کے پاس پہنچے بغیر نہ پڑھے۔ معلوم ہوا کہ دونوں حدیثوں میں تغائر ہے اور حدیثوں میں یہ اختلاف ایک حقیقت ثابتہ ہے۔
٭ اب امام ابو حنیفہ پر الزام لگانے والوں میں سے میں پوچھتا ہوں کہ بتاؤ جو جماعت حضورﷺ نے بنو قریظہ کی جانب بھیجی، اس جماعت کو آپ نے ظہر کی نماز کے بارے میں فرمایا یا عصر کی نماز کے متعلق؟ بتاؤ ان مختلف احادیث میں تطبیق کیسے کرو گے؟ کیا رائے کے بغیر کام چلے گا؟ ہرگز نہیں، رائے کے بغیر یقینا کام نہیں چلے گا۔ کیونکہ تم رائے کے بغیر دونوں حدیثوں میں تطبیق نہیں کر سکتے۔ زیادہ سے زیادہ محدثین کے حوالے سے یہ کہو گے کہ دونوں حدیثیں تعدد واقعہ پر محمول ہیں یعنی ایک جماعت کو حضورﷺ نے ظہر سے پہلے بھیجا اور فرمایا تم میں سے کوئی بھی ظہر کی نماز بنو قریظہ کے پاس پہنچے بغیر نہ پڑھے اور دوسری جماعت کو حضورﷺ نے عصر سے پہلے روانہ کیا اور فرمایا، تم میں سے کوئی بھی عصر کی نماز بنو قریظہ کے پاس پہنچے بغیر نہ پڑھے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ تعدد واقعہ پر کوئی دلیل لاؤ اور کوئی ایسی حدیث بھی پیش کرو، جس سے ثابت ہو کہ حضورﷺ نے ایک جماعت کو ظہر سے پہلے بھیجا اور دوسری جماعت کو ظہر کے بعد بھیجا ہو لیکن دس ہزار مرتبہ بھی تم مر کر زندہ ہو جاؤ تو تعدد واقعہ پر تم حدیث نہیں لا سکتے۔ معلوم ہوا کہ محدثین نے یہ توجیہ اپنی رائے سے کی ہے اور رائے کو ہم مانتے ہیں، تم نہیں مانتے۔ اگر تم پاؤں چھپاتے ہو تو سر کھلتا ہے اور سر چھپاتے ہو تو پاؤں کھلتے ہیں۔
٭ اب ہوا یہ کہ جب حضورﷺ نے اس جماعت کو بھیجا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص عصر کی نماز بنو قریظہ پہنچے بغیر نہ پڑھے، لیکن بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے ہی وقت اتنا تھوڑا رہ گیا کہ اگر بنو قریظہ پہنچتے ہیں تو عصر کی نماز قضا ہو جاتی ہے۔ اب مسئلہ پیدا ہو گیا کہ حضورﷺ کا تو حکم یہ ہے کہ
لا یصلین احد العصر الا فی بنی قریظۃ یعنی تم میں سے کوئی شخص عصر کی نماز بنو قریظہ پہنچے بغیر نہ پڑھے، لیکن اس صورت میں تو نماز قضا ہو جاتی ہے اور اگر نماز پہلے ادا کرتے ہیں تو حضورﷺ کی حکم عدولی ہوتی ہے۔ اب اس اختلاف کی صورت میں بعض صحابہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا(پ ۵۔ س النساء۔ آیت ۱۰۳)
ترجمہ٭ بے شک نماز ایمان والوں پر وقت مقرر کیا ہوا فریضہ ہے۔
٭ نماز فرض موقت ہے۔ لہٰذا وقت سے مفر نہیں کیا جائے گا اور ہم ابھی نمازِ عصر ادا کریں گے تاکہ نماز وقت پر ادا ہو جائے اور حضورﷺ کے فرمان کا مطلب یہ تھا کہ تم اتنی جلدی چلنا کہ نمازِ عصر بنو قریظہ جا کر ادا کرو۔ اب اتنی جلدی نہیں چلے تو یہ ہماری غلطی ہے چنانچہ ہم نماز ادا کر لیتے ہیں۔ اس لئے ایک جماعت نے بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے عصر ادا کی، مگر کچھ صحابہ نے کہا کہ قضا اور ادا تو ہم جانتے نہیں، ہم تو حضورﷺ کے فرمان پر عمل کریں گے کہ نمازِ عصر بنو قریظہ پہنچے بغیر نہیں پڑھیں گے۔ اب صحابہ کی دونوں جماعتوں میں اختلاف ہو گیا کیونکہ دونوں نے اپنے اجتہاد سے کام لیا اور جب یہ دونوں جماعتیں یعنی اپنی رائے سے کام لینے والی حضور اکرم ﷺکے سامنے پہنچیں تو حدیث میں آتا ہے کہ
فلم یعنف واحدًا منہم یعنی حضورﷺ نے کسی جماعت سے اظہارِ ناراضگی نہیں فرمایا۔
٭ مجھ سے درسِ حدیث میں کسی طالب علم نے سوال کیا کہ حدیث میں آتا ہے کہ حضورﷺ نے اظہارِ ناراضگی کسی جماعت کے لئے نہیں فرمایا لیکن یہ بتائیے کہ آپ نے یہ کیوں نہیں فرمایا کہ فلاں جماعت ثواب پر تھی اور فلاں خطا پر۔ میں نے عرض کیا، حضورﷺ کو معلوم تھا کہ میری امت میں قیامت تک اجتہاد کا سلسلہ جاری رہے گا اور لوگ قیامت تک مجتہدین کے اجتہاد پر عمل کرتے رہیں گے اور ان کے اس اجتہاد کی خطا ظاہر نہیں ہو گی۔ اس لئے آپ نے پردہ پوشی فرمائی تاکہ دونوں جماعتوں کو ان کا ثواب ملتا رہے۔ اب اللہ بھی اجتہاد کرنے پر ان سے ناراض نہیں اور نہ رسول ان سے ناراض ہیں۔ اگر کوئی ناراض ہوتا ہے تو پھر ہوا کرے۔
٭ حدیث پڑھنے والوں سے پوچھو، سند حدیث اور خصوصاً حدیث کے بارے میں امام بخاری اور امام مسلم کی آراء میں اختلاف ہے۔ امام مسلم کہتے ہیں کہ راوی اور مروی عنہ کا معاصر ہونا کافی ہے، ہم اس کی حدیث کو قبول کر لیں گے، خواہ راوی کا مروی عنہ سے لقاء (ملاقات) ثابت ہو یا نہ ہو۔ اور امام بخاری کہتے ہیں کہ اگر راوی، مروی عنہ کا ہم عصر ہے تو ہم ہرگز اس کی حدیث کو قبول نہیں کریں گے اور اس کے انقطاع پر محمول کریں گے جب تک کہ راوی کی مروی عنہ سے ملاقات ثابت نہ ہو۔ اب بتاؤ کہ امام مسلم کی رائے اور ہے اور امام بخاری کی رائے اور۔ لیکن حدیث نہ ان کے پاس ہے، نہ ان کے پاس۔ تو یہ دونوں اصحابِ رائے ہوئے کہ نہیں؟
٭ اسی طرح اصولِ حدیث کے علماء سے پوچھو کیا حدیث مجرد (ایسی حدیث جس کے سلسلہ روایت کو ذکر نہ کیا گیا ہو) کو انہوں نے صحیح قرار دیا ہے؟ حدیث مجرد ضعیف ہے کہ نہیں؟ اور میں خدا کی قسم کھا کر عرض کرتا ہوں کہ بخاری میں کتنی حدیثیں مجرد ہیں، لیکن چونکہ امام بخاری کی رائے یہ ہے کہ یہ صحیح ہیں اس لئے تم نے ان کی صحت پر صاد (سکوت) کر دیا۔ امام بخاری کی رائے تمہارے نزدیک صحیح ہے لیکن امام ابو حنیفہ کی رائے تمہارے نزدیک قابل قبول نہیں۔ یہ ہے سوچ کا مقام!
٭ پھر میں کہتا ہوں کہ ابی اسحق سے زہیر کی روایت کو امام بخاری نے صحیح مان کر اپنی جامع میں شامل فرمایا اور امام ترمذی نے اسے قبول نہیں کیا اور فرمایا کہ زہیر کا ابی اسحق سے سماع بوجہ علت خفیہ آخری عمر میں ہے۔ اس کے برعکس ابی اسحق سے اسرائیل کی روایت کو قبول فرماتے ہیں۔ دونوں کی رائیں مختلف ہو گئیں۔ میں حیران ہوں کہ امام ابو حنیفہ کی وہ حدیثیں جو متفق الاسانید ہیں، اگر تمہارے سامنے پیش کی جائیں تو تم اس پر ضعف کا الزام لگا کر رد کر دیتے ہو اور اگر امام ترمذی منقطع اور مراسیل سے استدلال کریں تو تم خاموش بیٹھے رہتے ہو۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟
٭ سن لو! میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ امام بخاری کی بہت سی آراء امام مسلم کے خلاف ہیں اور امام مسلم کی بہت سی آراء امام بخاری کے خلاف ہیں۔ مقدمہ ابن الصلاح اٹھا کر دیکھو، وہاں ان کی عبارت میں کتنی شدت پائی جاتی ہے امام بخاری کے متعلق۔ لیکن میں امام بخاری اور امام مسلم دونوں کا احترام کرتا ہوں کیونکہ وہ امیر المومنین فی الحدیث ہیں اور ان کا ہم پر بڑا احسان ہے۔ اے امام بخاری! رحمۃ اللہ علیہ آپ کی عظمتوں کے سامنے ہماری گردنیں جھکی ہوئی ہیں۔ اور اے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ آپ کی بارگاہ میں بھی ہماری عقیدتیں سرنگوں ہیں۔ لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ تمام محدثین سرنگوں ہیں بارگاہِ امام ابو حنیفہ میں (رضی اللہ عنہ) کیونکہ امام بخاری اور امام مسلم کو اگر تم مجتہد بھی قرار دو گے تو سوائے علم حدیث کے ان کا اجتہاد کسی اور مقام پر نہیں پہنچے گا۔ اور اے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ! آپ پر کروڑوں رحمتیں ہوں کہ آپ نے اجتہاد فرما کر ہدایت کی راہوں کو روشن کردیا، کیونکہ آپ تو تفسیر میں بھی مجتہد ہیں، آپ تو کلام میں مجتہد ہیں، آپ تمام علوم دینیہ میں مجتہد ہیں، علی الاطلاق مجتہد ہیں۔ اب بتاؤ جو ایک علم میں مجتہد ہو، اس کی رائے کو تو مجتہد کی رائے کہہ کر تسلیم کرتے ہو اور جو مجتہد مطلق ہو، اس کے اجتہاد کو غلط کہہ کر طعن کرتے ہو،

ناطقہ سربگریباں ہے، اسے کیا کہیئے

٭ ارے امام ابو حنیفہ پر طعن کرنے والو! میں تم سے اگر خدا کے واحد ہونے کا معنیٰ پوچھ لوں تو تم نہیں بتا سکتے۔ تم کیا جانو، توحید کیا ہے؟ دیکھیئے، قرآن نے کہا، اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ (سورئہ نحل آیت ۲۲) یعنی تمہارا خدا تو خدائے واحد ہے۔ اب آپ بتائیے، اللہ کو واحد مانتے ہو یا نہیں مانتے؟ اور واحد کے معنیٰ ہیں ایک، لیکن ایک بھی تو لفظ ہے، ا س کے کیا معنی ہیں؟ چنانچہ لفظ واحد پر علماء نے بحث کی اور انہوں نے کہا کہ واحد کی بہت سی قسمیں ہے۔ ان میں ایک ہے واحد عددی، ایک ہے واحد جنسی اور ایک ہے واحد نوعی۔
۱۔ واحد عددی کا معنیٰ ہے الواحد نصف الاثنین یعنی دو کا آدھا ایک ہوتا ہے (ہاتھ کے اشارے سے فرمایا) یہ دو ہیں، ان دو کا آدھا ایک ہے۔ اب میں تم سے پوچھتا ہوں کہ
اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِد کے کیا معنی کرو گے؟ دو خداؤں کا آدھا؟ تو پہلے دو خدا مانو، پھر اس کا آدھا مانو تو پھر ایک کہو۔ اب ہے کوئی دو خداؤں کو ماننے والا؟
۲٭ واحد جنسی کا معنیٰ ہے کہ جس کی جہت وحدت جنس ہو، جیسے میں کہوں الحیوان واحد یعنی حیوان ایک ہے۔ خواہ وہ گدھا ہو یا گھوڑا، بکرا ہو یا ہاتھی کیونکہ حیوانیت جنس ہے اور وہ سب میں قدر مشترک ہے۔ مگر جنس تو فصل کے بغیر ہوتی نہیں اور جہاں جنس ہوتی ہے وہاں فصل بھی ضرور ہو گی۔ اب بتاؤ، خدا کو کیا کہو گے؟ کیا خدا کی کوئی جنس ہے؟ اگر جنس نہیں ہے تو پھر واحد جنسی کیسے کہو گے؟ خدا تعالیٰ چونکہ جنس سے پاک ہے اس لئے خدا کو واحد جنسی بھی نہیں کہہ سکتے۔
۳٭ واحد نوعی واحد کی تیسری قسم ہے یعنی ایسا واحد کہ جس کی وحدت مستفاد ہو جہت نوع سے، جیسے الانسان واحد یعنی انسان ایک ہے، خواہ کہیں کا رہنے والا ہو، مغرب کا ہو یا مشرق کا، نیک ہو یا بد کیونکہ انسان نوع ہے اور اس کی دو ذاتیات ہیں، حیوان اور ناطق دونوں کو ملاؤ تو انسان بنتا ہے۔ اب نوع بنتی ہے جنس اور فصل کو ملا کر، مگر جنس اور فصل جہاں ملے گی وہاں ترکیب ہو گی اور جہاں ترکیب ہو گی وہاں حدوث ہو گا۔ اب بولو خدا حادث ہے یا قدیم ہے، یقینا خدا تعالیٰ قدیم ہے۔ لہٰذا خدا تعالیٰ واحد نوعی بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ نوع سے پاک ہے۔
٭ اب بتاؤ!
اِلٰہُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِد کے کیا معنیٰ کرو گے۔ وہ خدا ایک ہے، مگر کیسا ایک ہے؟ وہ عدد کے اعتبار سے ایک ہے؟ جنس کے اعتبار سے ایک ہے یا وہ نوع کے اعتبار سے ایک ہے؟ ارے نہیں بتا سکتے۔
٭ یہاں پھر تمہیں چوتھی بات کہنی پڑے گی اور وہ رائے سے کہنی پڑے گی اور کہنے والوں نے کہا کہ
اِلٰہُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِد تمہارا الٰہ تو الٰہ واحد ہے، اس میں واحد کا لفظ حق ہے اور اس کے معنیٰ بھی حق ہیں مگر اس کے معنیٰ یہ نہیں کہ دو کا آدھا ایک ہے یا اس کی جنس ایک ہے یا اس کی نوع ایک ہے، بلکہ اس واحد سے مراد ایسا واحد ہے جس کی جہت وحدت عین ذات ہو اور وہ ازلاً ابداً بتقاضائے ذات ایک ہو، جس کا ایک ہونا ازلاً ابداً اور وجوباً ہو اور وہ کسی مرجع کی ترجیع کا محتاج نہ ہو۔
٭ اب بتاؤ! واحد کا یہ معنیٰ تم کہاں سے لاؤ گے؟ کوئی قرآن کی آیت پڑھو کہ واحد کے یہ معنیٰ ہوں یا کوئی حدیث لاؤ جس میں واحد کے یہ معنیٰ درج ہوں۔ اللّٰہ اکبر! پتہ چلا کہ تم تو توحید کے مسئلہ میں بھی رائے کے بغیر زبان نہیں کھول سکتے۔
٭ ارے تم امام ابو حنیفہ کو اہل الرائے کہتے ہو، میں کہتا ہوں کہ یہ رائے تو اجتہاد ہے اور خود حضور اکرم ﷺ نے اجتہاد فرمایا اور اسی لئے فرمایا کہ اجتہاد کے جواز پر دلیل قائم ہو جائے اور پتہ چل جائے کہ مجتہد کا اجتہاد عین دین ہے، کیونکہ یہ مصطفیٰ کریم ﷺ کی ادا اس کے لئے اصل ہے اور اسی لئے جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اجتہاد کا موقع فراہم کیا۔ اگر اجتہاد نہ ہو تو دین چل نہیں سکتا کیونکہ ہزاروں مسائل ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ قرآن و حدیث میں بالوضاحت ان کا ذکر نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص نے بغیر چشمے کے ایک واقعہ دیکھا، دوسرے نے چشمہ لگا کر اور تیسرے شخص نے دور بین لگا کر اسی واقعہ کو دیکھا۔ اب بتاؤ چشمہ کے بغیر دیکھنا، چشمہ لگا کر دیکھنا اور دور بین کی مدد سے دیکھنا تینوں کا حکم ایک ہے یا کوئی فرق ہے؟ کسی نے کسی چیز کو بالمشافہ دیکھا، کسی نے اسے عکس کی صورت میں دیکھا، کسی نے پانی میں عکس دیکھا اور کسی نے آئینہ میں عکس دیکھا، ایک نے بالواسطہ دیکھا اور دوسرے نے بلا واسطہ دیکھا۔ اب دیکھنا ان تمام میں مشترک ہے لیکن بتائیے ان سب کا حکم ایک ہے یا الگ الگ؟ اگر کہتے ہو کہ ان سب کا حکم ایک ہے تو میں کہوں گا تم رائے سے کہتے ہو اس کے لئے قرآن و حدیث سے کوئی دلیل لاؤ۔ اسی طرح ہوائی جہاز میں نماز پڑھنے کا مسئلہ پیدا ہو گیا کہ نماز ہو گی یا نہیں؟ اگر تم کہتے ہو ہو گی، تب بھی دلیل لاؤ اور اگر کہتے ہو نہیں ہو گی، تب بھی دلیل دینا ہو گا۔ لیکن سن لو تم جو کچھ بھی کہو گے، اپنی رائے سے کہو گے اور دس ہزار بار تم پر قیامت قائم ہو جائے تم اجتہاد کے بغیر دلیل نہیں لا سکتے اور اگر لاؤ گے تو امام ابو حنیفہ کے محتاج ہو کر رائے سے دلیل لاؤ گے۔
میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرنے والوں سے پوچھتا ہوں کہ تم ہر جگہ یہ کہتے پھرتے ہو کہ فلاں کام رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا تم کیوں کرتے ہو؟ یہ بدعت ہے۔ اسی طرح جس کام کے لئے قرآن و حدیث میں کوئی دلیل نہ ہو تو کہتے ہو، بدعت ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ احادیث نقل کرنے سے پہلے محدثین نے جو طریقہ اختیار کیا ہے، اسے کس خانہ میں رکھو گے؟ مثلاً امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب الجامع الصیحیح میں کوئی حدیث درج نہیں کی۔ مگر پہلے میں نے غسل کیا اور دو رکعت نفل پڑھے۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ مقدمہ فتح الباری میں نقل کرتے ہیں
قال البخاری ما کتبت فی کتاب الصحیح حدیثا الا اغتسلت قبل ذلک او صلیت رکعتین۔ (۱)
اب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اس فعل پر کوئی دلیل لاؤ۔ کوئی حدیث پیش کرو جس میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ہو کہ جب میری کوئی حدیث نقل کرو تو دو رکعت نفل پڑھ لیا کرو۔ اب بتاؤ حدیث درج کرنے کا یہ طریقہ کہیں قرآن میں آیا ہے؟ یا کسی حدیث میں آیا ہے؟ معلوم ہوا کہ حدیث درج کرنے کا یہ طریقہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی رائے سے اختیار کیا اور جس کام کے لئے قرآن و حدیث میں کوئی دلیل نہ ہو تم کہتے ہو کہ بدعت ہے۔ اب بتاؤ کہ امام بخاری کا یہ عمل تم کس خانہ میں رکھو گے؟
لوگوں نے کہا کہ امام حافظ شمس الدین ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے میزان الاعتدال میں امام ابو حنیفہ کو ضعفاء میں شمار کیا ہے۔ اللّٰہ اکبر! میں پوچھتا ہوں کہ امام ذہبی کی یہی ایک تصنیف ہے؟ ارے تذکرۃ الحفاظ کا مصنف بھی تو ذہبی ہے، اس تذکرۃ الحفاظ میں ذرا امام صاحب کا تذکرہ تو دیکھو۔ (۱) خدا کی قسم! ایمان تازہ کر دینے والا تذکرہ ہے اور پھر اسی تذکرہ میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہاں تو میں ابو حنیفہ کے متعلق کچھ بھی نہیں لکھ سکا میں نے امام ابو حنیفہ کے مناقب میں ایک مستقل رسالہ لکھ دیا ہے (۲) حیرت ہے کہ پھر بھی یہ امام ذہبی پر تہمت لگاتے ہیں کہ انہوں نے امام ابو حنیفہ کو ضعفاء میں شمار کیا ہے۔ اسی طرح امام نسائی کے متعلق بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک امام ابو حنیفہ ضعیف السند ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جس امام کا دعویٰ یہ ہو کہ ضبط صدر کے بغیر ہم کسی کی روایت قبول نہیں کریں گے، اس پر یہ الزام کہ وہ ضعیف السند تھے کس قدر افسوس ناک ہے۔
ہم سے کہا جاتا ہے کہ جو اہل حدیث نہ ہو، وہ اہلسنّت نہیں ہو سکتا۔ لیکن میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آج تک مسلک کے اعتبار سے کسی کو اہل حدیث نہیں کہا گیا۔ اگر اہل حدیث کہا گیا تو محض فن کے اعتبار سے کہا گیا ہے، جیسے علم اصول والوں کو اہل علم اصول کہا گیا، لکھنے والوں کو اہل قلم کہا گیا، منطق کا علم رکھنے والوں کو اہل منطق کہا گیا، اسی طرح فقط محدثین یعنی حدیث کا علم رکھنے والوں کو اہل حدیث کہا گیا، لیکن خدا کی قسم! مسلک کے اعتبار سے آج تک کوئی اہل حدیث نہیں ہوا۔ جن کے بارے میں بھی اہل حدیث کہا گیا ہے وہ محض فن کے اعتبار سے اہل حدیث کہا گیا کیونکہ اگر حدیث مسلک کی بنیاد ہوتی تو حضور ﷺ
علیکم بسنتی نہ فرماتے بلکہ علیکم بحدیثی فرماتے۔ مگر حضور ﷺ نے یہ نہیں فرمایا۔ تو پتہ چلا کہ مسلک کی بنیاد حدیث نہیں ہو سکتی بلکہ مسلک کی بنیاد سنت ہے۔
اور میں عرض کر دوں کہ حدیث پر تم عمل نہیں کر سکتے کیونکہ حدیث مطلقاً قابل عمل نہیں ہے بلکہ سنت قابل عمل ہے۔ دیکھئے جو حضور ﷺ نے کہا وہ حدیث ہے، جو کیا وہ حدیث ہے اور جو آپ کے سامنے کیا گیا اور آپ نے اسے برقرار رکھا، وہ حدیث ہے لیکن آپ حدیث کو اپنے عمل کی بنیاد قرار نہیں دے سکتے کیونکہ حدیثوں میں تو اختلاف ہے، حدیثوں میں تعارض بھی ہے جیسا کہ میں نے پہلے مثال دی، ان میں ناسخ و منسوخ بھی ہیں۔ اس لئے حدیث قابل عمل نہیں ہے بلکہ اگر عمل کرنا ہے تو سنت پر عمل کریں گے کیونکہ سنت قابل عمل ہے۔ اگر کوئی عمل بالحدیث کا مدعی ہے تو میں بخاری شریف کی ایک حدیث پیش کرتا ہوں، کوئی آئے اور اس پر عمل کر کے دکھائے۔
بخاری شریف کی حدیث ہے
کان یصلّی وہو حامل امامۃ بنت زینب بنت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم۔ (۱)
یعنی حضور ﷺ نماز اس طرح پڑھتے تھے کہ آپ اپنی نواسی امامہ کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔ اب بتائیے بخاری شریف کی حدیث ہے کہ حضور ﷺ اپنی نواسی کو گود میں لئے نماز پڑھتے تھے۔ تو اب ذرا اس حدیث پر عمل کر کے دکھاؤ اور اپنی نواسیوں کو گود میں لے کر نماز پڑھا کرو اور اگر اپنی نہ ہو تو کسی کی اٹھا لاؤ کیونکہ نواسی کے بغیر تو حدیث پر عمل نہیں ہو گا۔ اسی طرح حضور ﷺ نے ازواج مطہرات کے ساتھ حسن معاشرت کے طور پر جو طریقے اپنائے، کیا تم وہ طور طریقے اختیار کر سکتے ہو؟ یقینا، نہیں کر سکتے، تو معلوم ہوا کہ حدیث پر عمل نہیں ہو سکتا بلکہ سنت پر عمل ہو سکتا ہے اور سنت وہ ہے جسے میرے آقا حضور نبی کریم ﷺ نے
مسلوک فی الدین قرار دیا ہو یعنی دین پر چلنے کا راستہ بتا دیا ہو۔ اسی لئے آپ نے علیکم بحدیثی نہیں فرمایا بلکہ علیکم بسنتی (۱) فرمایا۔ لہٰذا ہم اہل حدیث نہیں بلکہ ہم اہل سنت ہیں اور میں یہ بتا دوں کہ دنیا میں دو ثلث (تہائی) حنفی ہیں اور یہی سواد اعظم ہیں (۲) اب سچ بتاؤ حضور تاجدار مدنی ﷺ کی امت کی اکثریت جس جانب ہو گی، وہ حق ہو گا یا معمولی سی اقلیت حق پر ہو گی اور اے آقائے نامدار تاجدارِ مدینہ ﷺ میں آپ کی عظمتوں پر قربان جاؤں کہ آپ نے دین کو اتنا کامل اور روشن کر کے ہمارے سامنے رکھا اور فرمایا ترکتکم علٰی ملۃ بیضاء لیلہا ونہارہا سواء (۳) یعنی تمہیں ایسی راہ پر چھوڑے جا رہا ہوں، جس کا دن رات واضح ہے، تم آنکھیں بند کئے چلے آؤ، مگر راہ نہ چھوٹے۔
انتہائی تھکان اور کمزوری کے باعث میری طبیعت انتہائی ناساز ہے، اس لئے انہی کلمات پر اکتفا کرتا ہوں ورنہ میں دلائل کا اتنا انبار لگا دیتا کہ آپ سن نہ سکتے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ راہ نہ چھوٹے، جس پر تیرے نیک بندے گامزن ہیں۔
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج