خیر و شر

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم ط

٭ اللہ رب العزت نے نظام کائنات کو ایک نہج، ایک اصول، اور ایک حکمت پر قائم فرمایا۔ فطرت کے اصول اور قوانین قدرت، اللہ رب العزت کی مستحکم و مضبوط حکمتیں تمام نظامِ کائنات کی بنیاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں فرمائی کہ جس کے اندر خیر اور شر کے دونوں پہلو نہ ہوں۔ رب کائنات نے ایک قانون نظام کائنات کی بنیاد کے طور پر قرآن مجید میں اس نوعیت کے ساتھـ بیان فرمایا کہ اگر قرآن کو غور سے پڑھا جائے تو آفتاب سے زیادہ روشن ہو کر یہ حقیقت ہماری نگاہوں کے سامنے آجائے گی کہ کائنات میں ایک چیز کا پہچاننا اس کی ضد کے پہچاننے کے ساتھ متعلق فرمایا گیا ہے۔ جس کے لئے عربی کا مشہور مقولہ ہے کہ :
اَلْاَشْیَائُ تُعْرَفُ بِاَ ضْدَ ادِھَا
ترجمہ٭ یعنی چیزیں اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں۔
٭ آپ جانتے ہیں کہ نور کی ضد ظلمت ہے اگر ظلمت کا وجود نہ ہو تو نور کی معرفت نہ ہو۔ موت کی ضد حیات ہے۔ اگر موت نہ ہو تو حیات کے معنی مفہوم نہ ہوں۔ خیر کی ضد شر ہے۔ اگر شر نہ پائی جائے تو خیر کے معنی اور مفہوم لوگوں پر واضح نہ ہوں اسلام کی ضد کفر ہے اور ہدایت کی ضد ضلالت ہے۔
٭ خوب سمجھ لیجئے کہ ہدایت کا وجود ضلالت کی وجہ سے ظاہر ہوا۔ اسلام کی حقیقت کفر کی ظلمتوں کی وجہ سے بے نقاب ہو کر سامنے آئی۔ کفر کی ظلمتوں کے وجود کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن اس حقیقت کو بھی کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ کفر کی تاریکیوں سے اسلام کے نور کی ایسی وضاحت ہوئی کہ ابدا لاباد تک انسان کا ذہن ان حقیقتوں سے بھر پور ہو گیا، جو حقیقتیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے دامن میں رکھی ہیں۔ معلوم ہوا کہ ضلالت کے مفہوم نے ہدایت کے معنی کو، موت کے تخیل نے حیات کے تخیل کو اور شر کے تصور نے خیر کے تصور کو اجاگر کر دیا۔ ثابت ہو ا کہ چیزیں اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ یاد رکھیئے کہ یہ ایک اصول ایسا ہے کہ جس کو قرآن مجید نے متعدد مقامات پر بیان فرمایا اور اگر آپ انسان کی پیدائش کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ اصول آپ کو بالکل واضح طور پر سمجھ میں آجائے گا۔
٭ سب سے پہلے انسان سید نا آدم علیہ السلام ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس مشاہدات میں، اس عالم اجسام میں، اس عالم ناسوت میں اپنا خلیفہ بنا کر ہدایت کا جھنڈا لہرانے کے لئے بھیجا، لیکن ہدایت کا منبع، وجود آدم ابھی دنیا میں جلوہ گر بھی نہ ہوا تھاکہ ان کے مقابلے میں ضلالت کا تصور قائم ہو چکا تھا اور اس کو ہم شیطان کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ
کَانَِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ یعنی علم الٰہی میں تو وہ پہلے ہی سے کافر تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ ہدایت کے ساتھ ضلالت کا تصور بھی موجود تھا۔ شیطان جو کہ مرکز ضلالت اور مرکز کفر ہے۔ اس کی ضلالتوں کے ظہور سے ہمیں یہ سبق ملا کہ شیطان کفر اور ضلالت کی راہوں پر چل کر راندئہ درگاہ ہوا۔ ذلیل ہوا، مردود ہوا، مطروو ہوا۔
٭ اب اگر کوئی خدا کا مقبول بننا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان راہوں سے بچے جن راہوں پر چل کر شیطان راندئہ درگاہ ہوا۔ آپ نے دیکھا کہ شیطان کی ضلالت کے تصوّر نے ہدایت کو کس قدر نمایاں کر دیا کہ جن راہوں پر شیطان چلا، وہ ایسی راہیں تھیں کہ جن پر چلنے والا خدا کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے۔ اب اگر ان راہوں سے کسی کو بچنا ہے تو ضروری ہے کہ یہ راہیں اس کے سامنے ہوں۔ تاکہ اس کے ذہن میں خیر کی راہوں کا تصوّر اجاگر ہو سکے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہدایت کی راہوں کو واضح کرنے کے لئے ضلالت کی راہوں کو پہلے دکھا دیا اور قرآن مجید میں فرمایا،
وَھَدَ یْنٰـہُ النَّجْدَیْن ہم نے دونوں راہیں( انسانوں کے سامنے ) رکھ دیں کہ یہ خیر ہے، وہ شر ہے، یہ ہدایت ہے، وہ گمراہی ہے۔ یہ اسلام ہے، وہ کفر ہے۔ شر اورخیر کا تقابل کر کے بتا دیا ہے کہ جب تک تیرے سامنے شر کا تصوّر نہیں آئے گا، اس وقت تک تو خیر کی راہوں کو اختیار نہیں کرے گا اور شر سے بچ نہیں سکے گا۔ شر سے بچنے کے لئے اس کا ظاہر ہونا ضروری ہے۔ اللہ ضرورت سے پاک ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہمیں معلوم ہوکہ شر کیا ہے؟ برائی کیا ہے؟ معصیّت کیا ہے؟ کفر کیا ہے؟ کس بات سے خداناراض ہوتاہے۔ جب تک یہ حقیقت کھل کر ہمارے سامنے نہ آئے ہم خدا کے غضب سے بچ نہیں سکتے بلکہ اس بات کا یقین ہے کہ الٹا خدا کے غضب کو دعوت دیدیں۔
٭ یہ پہلا مقدمہ تھا جس کو میں نے قرآن پاک کی روشنی میں نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ پیش کیا۔ اب دوسرے مقدمے کو لے لیجئے اور وہ یہ ہے کہ جب خدا نے ہر چیز میں خیر اور شر دونوں پہلوؤں کو رکھا ہے تو آپ کہیں گے کہ کفر و ضلالت میں کون سا ٰخیر کا پہلو ہے۔ میں ابھی ابھی آپ کو بتا چکا ہوں کہ اس میں خیر کا پہلو یہ ہے کہ اگر کفر و ضلالت کی راہیں ہمارے سامنے نہ ہوں توہم ان سے بچ نہیں سکتے۔ ان سے بچنا یہ خیر ہے۔ لہٰذا اس میں بھی خیر کا پہلو موجود ہے اور اگر اس سے بھی زیادہ نمایاں طور پر آپ اس حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو قرآ ن کی صریح نص موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شر اب او رجوئے کے متعلق فرمایا کہ
اِثْمُھُمَا اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا یعنی یہ جوا اور یہ شراب ان دونوں کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔ معلوم ہوا کہ ان میں خیر اور نفع کا پہلو پایا جاتا ہے۔ لیکن خیرو نفع کا پہلو بہت ہی مغلوب ہے اور شر اور ضرر کا پہلو بہت قوی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے نجاست، گندگی، اور شیطانی عمل قرار دیا۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے نفع کا ذکر فرمایا تو پتہ چلا کہ ہر چیز کے اندر خیر و شر کے پہلو پائے جاتے ہیں۔ لیکن فرق اتنا ہے کہ کسی میں خیر کو غالب کر دیا گیا اور کسی میں شر کوغالب کر دیا گیا اور جہاں شر غالب ہو اس سے ہمیں بچنا ہے اور جہاں خیر غالب ہو، اس کو اختیار کرنا ہے۔ اب اگر آپ دوسرے انداز سے سوچیں توایک اور اعترا ض آپ کے ذہن میں پیدا ہوگا۔ مثلاً آپ کہیں گے کہ ہمیں یہ تو معلوم ہوگیا ہے کہ کفر کے اندر بھی خیر کا پہلو ہے ، گو بے حد قلیل ہے لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسلام میں بھی کوئی شر کا پہلو ہوگا؟ نیز ہدایت میں بھی کوئی نہ کوئی شر کا پہلو ہونا لازمی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ شر عام ہے اس سے کہ وہ شر اخروی ہویا دنیوی یاجسمانی ہو یا روحانی ہو۔ ظاہری ہو یا باطنی، قلیل ہو یا کثیر، محسوس ہو یامعقول ہو، یعنی احساس کے ادراک سے تعلق ہو یا عقل کے ادراک سے تعلق ہو۔ اب مجھے بتائیے کہ جو لوگ ایمان کو، دیانت کو تقویٰ کو، پرہیزگاری کو اختیار کرتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار ارشاد فرمایا کہ تمہیں نیکی کے کاموں میں تکلیف تو ضرور ہوگی، مگر یہ سمجھ لو کہ یہ تکلیف محض عارضی ہے۔ قلیل ہے اور اس تکلیف کو محسوس مت کرنا بلکہ اس راحت پر نظر رکھنا جو ابدی او ردائمی ہے آپ بتائیے کہ ہم روزہ رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں۔ یہ شر قلیل ہے۔ زکوٰۃ دینے میں آدمی اپنی جیب سے پیسے دیتا ہے۔ پیسہ دینا بھی بظاہر شر قلیل ہے۔ ہم جو نماز پڑھتے ہیں اس میں کچھ وقت لگاتے ہیں رکوع اور سجدے کرتے ہیں گرمی کے زمانے میں گھر سے چل کر مسجد میں جاتے ہیں۔ گرمی کی تکلیف برداشت کرتے ہیں سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے ہیں جماعتوں میں شرکت کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ یہ سب زحمتیں اور یہ سب تکالیف قلیل اور عارضی ہیں۔ علیٰ ہٰذا القیاس۔ جن لوگوں نے کلمہ حق بلند کیا، آپ جانتے ہیں کہ وہ کتنے مصائب و آلام میں مبتلا ہوئے خود اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
وَ زُلْزِ لُوْحَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ۔
٭ یعنی ان پر اتنے مصائب و آلام آئے کہ وہ ہلا دئیے گئے یہاں تک کہ رسول اور ایمان والوں کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا کہ کب اللہ کی مدد آئے گی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا
اَ لَا اِنَّ نَصْرَاللّٰہِ قَرِیْبٌ
ترجمہ٭ خبردار ہو جاؤ کہ اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔
٭ یہ جو تم پر تکلیف آئی تم ہلا دئیے گئے ہو، یہ جو اذیت کا ایک پہلو طاری ہوا یہ شر قلیل ہے اس سے مت گھبرانا بلکہ خیر کثیر پر نظر رکھنا اور دیکھنا کہ اس کے عواقب و نتائج کتنے زریں و بہترین ہیں۔
٭ دیکھئے شہیدوں کا کتنا بڑا مرتبہ ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ شہداء کے لئے نور کے منبر بچھائے گا۔ انہیں نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا اور شہیدوں سے کہا جائے گا کہ تم جس کو چاہتے ہو شفاعت کراؤ۔
٭ ان کی شفاعت، حضور اکرم کی شفاعت کبریٰ کا ایک پہلو اور صدقہ ہو گا اس لئے کہ اصل شفاعت ِکبریٰ کے مالک تو حضور ہیں۔ اب بتائیے کہ یہ کتنا اعزاز و اکرام اور مرتبہ ہے جو اللہ تعالیٰ شہداء کو عطا کرے گا اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ شہیدوں کے لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف ارشاد فرمایا
وَلَا َتقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَائٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ
ترجمہ٭ شہداء کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور نہیں
٭ دیکھئے اللہ تعالیٰ نے ان کو ابدی حیات کے ساتھ مشرف فرمایا اور ان کو بڑی عزت اور بڑی کرامت عطا فرمائی لیکن آپ جانتے ہیں کہ شہادت کا درجہ پانا آسان کام نہیں ہے جو لوگ میدان کارزار میں شہادت کا درجہ پاتے ہیں ان کو میدان میں کس قدر تکلیفیں ہوتی ہیں کس قدر وہ زخم خوردہ ہوتے ہیں اور کس قدر ان پر مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، اب یہ تکلیف کیا ہے؟ یہ شر قلیل ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جس کے دل میں خدا اور اس کے رسول کی محبت غالب ہو وہ ان تکلیفوں کے مقابلے میں کروڑوں راحتوں کو ٹھوکر مار دے گا اور کہے گا کہ مجھے کوئی راحت درکار نہیں ہے بلکہ ہر راحت سے بڑھ کر مجھے وہ زحمت عزیز ہے جو خدا اور اس کے رسول کی رضا کی راہ میں حاصل ہو رہی ہو۔ شہید کے اسی جذبہ ٔ صادق کا نتیجہ ہے کہ حضور تاجدار مدنی نے فرمایا کہ شہید قتل کا درد اور تکلیف محسوس نہیں کرتا لیکن ایسے جیسے کہ تم میں سے کسی شخص کو چیونٹی کے کاٹنے یا کسی کی چٹکی بھر لینے کی تکلیف محسوس ہوتی ہو۔
٭ ظاہر ہے کہ یہ کوئی خاص تکلیف نہیں لیکن بظاہر یہ بات مشاہدات کے خلاف معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے کہ جب کوئی قتل ہوگا اس کی ہڈیاں ٹوٹیں گی، اسکے سینے میں نیزے داخل کئے جائیں گے۔ خون کے فوارے جاری ہوں گے تو تکلیف تو لازماً ہو گی لیکن حضور نے فرمایا کہ شہید کو انتہائی معمولی تکلیف ہو تی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ الشہید میں الف لام عہد کا ہے اور شہید سے وہ شہید مراد ہے جس کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت اس درجہ غالب ہو چکی ہو کہ اس کا دل یہ چاہتا ہو کہ ایک جان نہیں کروڑوں جانیں ہوں تو میں اپنے محبوب کی عظمت پر قربان کر دوں۔

کروں تیرے نام پہ جان فدا
نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا
کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں

٭ اگر کسی شخص کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت اس درجہ کی پیدا ہو گئی ہے تو یہ محبت تکلیف اور احساس کے درمیان حائل ہوجاتی ہے اور تکلیف محسوس نہیں ہونے دیتی۔ یہ محبت ایک حجاب ہے، تکلیف اور محسوس کرنے والے کے درمیان اگر کسی شخص کا آپریشن کرنا ہوتا ہے تو سرجن کے نشہ سونگھانے کے بعد مریض کی ہڈیاں کاٹتے رہو، گوشت چیرتے رہو، رگیں کاٹتے رہو، ٹانکے لگاتے رہو اس کو بالکل پتہ نہیں چلتا لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا ہڈیاں کٹنے کی تکلیف نہیں ہوتی۔ آپ کہیں گے کہ تکلیف تو ہوتی ہے لیکن نشہ تکلیف اور احساس کے درمیان حجاب بن جاتا ہے، اگر وہ نشہ اتر جائے تو پھر اس مریض سے پوچھو کہ تیرا کیا حال ہے؟ اسی طرح شہید کو بھی تکلیف کا درد اس لئے محسوس نہیں ہوتا کہ اللہ اور اسکے رسول کی محبت اس کے دل میں اس درجہ غالب ہو جاتی ہے کہ وہ تکلیف اور احساس کے درمیان حجاب بن جاتی ہے اور بھئی جس کے دل میں رسول اللہ کی محبت غالب ہو جائے اس کی تو بہت بڑی شان ہے وہ تو بڑی عظمت والا انسان بن جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی محبت مصر کی جن عورتوں کے دلوں میں پیدا ہو چکی تھی، ان کا یہ حال تھا کہ جب زلیخا نے کہا کہ ذرا اس چھری سے پھل تراشو تو میں نہیں کہتا، قرآن نے کہا کہ وَقَطَّعْنَ اَیْدِیَہُنَّ مطلب یہ کہ انہوں نے پھل نہیں کاٹا، ہاتھوں کو کاٹ لیا۔ مگر ہاتھوں کو کاٹنے کے باوجود یہ نہیں کہا کہ ہائے، ہم نے ہاتھ کاٹ لئے بلکہ یہ کہا کہ
حَاشَا لِلّٰہِ مَاھٰذَا بَشَرًا اِنْ ھٰذَا اِلَّا مَلَکٌ کَرِیْم
ترجمہ٭ یعنی خدا کی قسم! یہ تو بشر ہے ہی نہیں، یہ تو کوئی ملک کریم (فرشتہ) ہے
٭ دیکھا آپ نے، انہوں نے کوئی بات ہاتھ کٹنے کی نہیں کی کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی محبت کا غلبہ ان کے دل و دماغ پر ایسا تھا کہ تکلیف اور اس کے احساس کے درمیان حائل ہو گیا۔ اگر حضرت یوسف علیہ السلام کی محبت کا غلبہ ہاتھ کٹنے کی تکلیف محسوس نہیں ہونے دیتا تو جہاں حضور کی محبت کا غلبہ ہو وہاں سر کٹنے کی تکلیف کیسے محسوس ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں آیا کہ قیامت کے دن وہ مخصوص شہداء جن کا میں ذکر کر رہا ہوں، جب ان کو تمام جنتیوں کے ہمراہ بلایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ تم دنیا میں جانا چاہتے ہو تو تمام جنتی انکار کر دیں گے کہ کون سی راحت ہے جو جنت میں ہمیں میسر نہیں ہے کہ ہم دنیا میں جا کر مصیبت میں مبتلا ہوں، سب جنتی انکار کر دیں گے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ پیش کش ہو گی کہ تم جتنی دنیا چاہتے ہو اس سے بہت زیادہ عطا کر کے ہم تم کو بھیجیں گے لیکن حدیث میں آیا کہ
الّا شہید۔ سوائے شہید کہ جو کھڑا ہو جائے گا اور کہے گا کہ مجھے دنیا میں پھر بھیج دو! اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے میرے شہید! سب جنتیوں نے دنیا میں واپس جانے سے انکار کر دیا، تجھے یہاں کون سی تکلیف ہے اور یہاں کون سی راحت نصیب نہیں ہے کہ تو دنیا میں جانا چاہتا ہے۔ تو شہید دست بستہ عرض کرے گا کہ مولیٰ ہر نعمت تیری جنت میں موجود ہے اور تیری جنت میں کوئی کمی نہیں ہے لیکن تیرے نام پر تیری محبت میں سر کٹانے کا جو مزہ وہاں آیا تھا وہ یہاں نہیں آرہا۔ جب وہ مزا یاد آتا ہے تو یہ سب نعمتیں ہیچ معلوم ہوتی ہیں۔ جنتیوں کو یہ نعمتیں مبارک رہیں ہمیں تو دنیا میں پھر بھیج دے تاکہ تیرے نام پر پھر سر کٹائیں اور پھر وہ حلاوت پائیں اور پھر دنیا میں جائیں اور پھر تیرے نام پر سر کٹائیں اور پھر وہ حلاوت پائیں اور پھر دنیا میں جائیں اور پھر تیرے نام پر سر کٹائیں۔ ہمیشہ کے لئے سر کٹانے کے کام پر مقرر کر دے۔
٭ اللہ اکبر! میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ مقام ان مخصوص شہداء کا ہے جن میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت اس قدر غالب ہو جائے کہ وہ تکلیف اور احساس کے درمیان حجاب بن جائے لیکن اگر یہ عارضی نہ ہو تو ظاہر ہے کہ گردن کٹنے کی، ہڈیوں کے کٹنے کی تکلیف ہوتی، یہ تکلیف شر قلیل ہے۔
٭ شہادت ایک بہت بڑی نعمت ہے، مگر اس کے اندر بھی شر قلیل کا پہلو پایا جاتا ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ ہر چیز میں خیر اور شر دونوں پہلو رکھ دئیے گئے ہیں مگر فرق اتنا ہے کہ کسی میں شر غالب ہے اور کسی میں خیر غالب ہے۔جہاں خیر غالب ہے اس کے کرنے کا اور جہاں شر غالب ہے اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
٭ عزیزانِ گرامی!آپ کو معلوم ہے کہ دنیا کی لذتیں، دنیا کی خواہشات جب انسان پوری کرتا ہے تو اس کو کتنا مزہ آتا ہے لیکن آپ خوب جانتے ہیں کہ جو لوگ دنیا کی لذتوں اور خواہشات میں مستغرق ہو گئے، ان کا کیا حال ہوا ہے؟ وہ ہلاک ہوگئے۔ اب یہ دنیا کی خواہشات میں استغراق، یہ خیر قلیل ہے لیکن اس کے نتیجہ میں ہلاک ہونا، یہ شر کثیر ہے۔
٭ ان تمام جزئیات کو پیش نظر رکھ کر یہ اصول قرآن کریم کی روشنی میں ہم کو بالکل حق نظر آتا ہے کہ ہر چیز میں خیر اور شر دونوں پہلو پائے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کے طفیل ہمیں ان چیزوں کو اختیار کرنے کی توفیق عطا کرے جن میں خیر کثیر ہو۔ آمین!
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج