مقام نبوت
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم

٭ محترم عزیزو!نبی وہ مقدس انسان ہے، جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ منصب ہدیٰ اور اپنے احکام کی تبلیغ کے لئے اپنے بندوں کی طرف بھیجے اور اس منصب ہدیٰ اور منصب تبلیغ احکام پر فائز اور مامور فرمائے۔
٭ علمائے علم لغت نے لفظ نبی کے آٹھ معنی لکھے ہیں۔ پہلے میں لغوی معنیٰ عرض کروں گا۔ اس کے بعد یہ عرض کروں گا کہ وہ تمام معنی شرعی نبی میں پائے جاتے ہیں۔ علماء علم لغت نے فرمایا
۱۔ اَلنَّبِیُّ ۲۔ اَلْمُخْبَرُ ۳۔ اَلطَّرِیْقُ الْوَاضِحُ ۴۔ اَلْخَارِجُ ۵۔ اَلْمُخْرَجُ ۶۔ اَلظَّاہِر ُ ۷۔ اَلسَامِعُ الصَّوْتِ الْخَفِیْ ۸۔ اَلْمُرْتَفَعُ
٭ لفظ نبی کے یہ آٹھ معنی علمائے علم لغت نے لکھے ہیں اور جس مقدس انسان کو اصطلاح شرع میں نبی کہا جاتا ہے اور جس کا مفہوم میں نہایت مختصر الفاظ میں عرض کر چکا ہوں، اس میں یہ آٹھوں معنیٰ لغت کے پائے جاتے ہیں۔
٭ نبی کو
مُخْبِرُ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ہدایاتِ الٰہیہ اور پیغاماتِ ربانیہ کی خبر اللہ کے بندوں کو دیتا ہے۔
٭ نبی کو
مُخْبَرُ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دیا جاتا ہے۔ نبی کو اَلطَّرِیْقُ الْوَاضِحُ اس لئے کہا جاتا ہے کہ چونکہ انسان کے مقصد تخلیق کی تکمیل کے لئے انبیاء علیہم السلام کی بعثت ہوتی ہے اور انسان کی تخلیق کا جو بنیادی مقصد ہے، وہ خدا کی معرفت اور خدا تک پہنچنا ہے، دینی و دنیوی سعادتیں حاصل کرنا اور نجاتِ اخروی پانا یہ نبی کی بعثت کا مقصد ہوتا ہے۔ تو گویا ان مقاصد کے حصول کے لئے طریق واضح اور روشن راستہ ہے۔ نبی کی ذات دنیوی سعادتیں اور نجاتِ اخروی حاصل کرنے کا روشن راستہ ہے، نبی خدا تک پہنچنے کا روشن راستہ ہے۔ اس لئے اَلطَّرِیْقُ الْوَاضِحُ کے معنیٰ بھی نبی شرعی میں پائے جاتے ہیں۔
٭
اَلْخَارِجُ کے معنی ہیں ایک جگہ سے نکل کر دوسری جگہ جانے والا، چونکہ نبی صاحب ہجرت ہوتا ہے اور ہجرت کے معنیٰ آپ جانتے ہیں کہ ایک جگہ سے نکل کر دوسری جگہ جانا، جیسے ہمارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے چل کر مدینہ منورہ پہنچے، اس میں خارج ہونے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ یعنی ہجرت کا مفہوم اس میں پایا جاتا ہے۔
٭ نبی کو
اَلْمُخْرَجُ اسلئے کہا جاتا ہے کہ چونکہ نبی اعدائے دین کی ایذا رسانی کی وجہ سے ایک جگہ سے نکل کر دوسری جگہ جاتا ہے اور وہ کفار سبب ہوتے ہیں نبی کے ایک جگہ سے نکل کر دوسری جگہ منتقل ہونے کا، تو اس اعتبار سے نبی کو مُخْرَجُ بھی کہا جا سکتا ہے۔
٭ نبی کو
اَلظَّاہِرُ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی کو وہ علاماتِ نبوت عطا فرماتا ہے اور وہ آیاتِ نبوت اور معجزات عطا فرماتا ہے کہ نبی جن کا حامل ہو کر کمالِ ظہور کی صفت کے ساتھ متصف ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا
یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَائَ ہُمْ
٭ تو اس کمال ظہور کی صفت کے ساتھ متصف ہونے سے نبی شرعی میں
اَلظَّاہِرُ کے معنیٰ بھی پائے جاتے ہیں۔
٭ نبی شرعی میں
اَلسَّامِعُ الصَّوْتِ الْخَفِیْ کے معنیٰ بھی موجود ہیں۔ کیونکہ اَلسَّامِعُ الصَّوْتِ الْخَفِیْ کا مفہوم یہ ہے کہ ہلکی سے ہلکی اور پوشیدہ سے پوشیدہ آواز سننے والا۔ آپ کو معلوم ہے کہ نبی، اللہ کا خطاب سنتا ہے، اللہ کا کلام سنتا ہے، اللہ کی وحی سنتا ہے۔ وہ ایسی ہلکی اور ایسی خفی ہوتی ہے کہ جس تک نبی کا ہی ادراک پہنچ سکتا ہے اور نبی کی ہی قوتِ سامعہ اس کا ادراک کر سکتی ہے۔ دوسروں کی قوت اس کے ادراک سے عاجز ہوتی ہے۔ بلکہ اس دنیا میں بھی ہلکی سے ہلکی آواز سننا یہ نبی کی شان ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا کہ جب سلیمان علیہ السلام اور ان کا لشکر وادیٔ نملہ سے گزرے تو چیونٹیوں کی ملکہ نے دیکھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر آسمان کی بلندیوں پر آ رہا ہے۔ اگر یہ لشکر یہاں اتر گیا تو یہ جو میری چھوٹی چھوٹی چیونٹیاں ہیں، یہ اس لشکر کے اترنے سے پامال ہو جائیں گی۔ تو چیونٹیوں کی ملکہ نے چیونٹیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اے میری چھوٹی چھوٹی چیونٹیو! تم اپنے سوراخوں میں داخل ہو جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ سلیمان علیہ السلام اور ان کا لشکر اتر کر تمہیں پامال کر دے۔ تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنْ قَوْلِہَا یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام چیونٹیوں کی ملکہ کی بات سن کر مسکرا پڑے۔ آپ کو معلوم ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام بہت فاصلے اور بلندیوں پر تھے اور چیونٹیوں کی ملکہ چیونٹیوں سے یہ بات زمین پر کہہ رہی تھی۔ اب دیکھیے کوئی انسان زمین پر موجود ہو تو کبھی چیونٹی کی آواز نہیں سنتا۔ لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام نے اتنی بلندیوں سے اس کی آواز کو سن لیا۔ تو ثابت ہوا کہ اَلسَّامِعُ الصَّوْتِ الْخَفِیْ کے معنی بھی نبی شرعی میں پائے جاتے ہیں اور اَلنَّبِیُّ کے معنی ہیں اَلْمُرْتَفَعُ رفعت اور بلندیوں والا۔ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی ساری کائنات سے بلند ہوتا ہے۔ وہ اپنے علم کے اعتبار سے، اپنے عمل کے اعتبار سے اور اپنے اخلاق کے اعتبار سے بلکہ یوں کہیے کہ نبی جسمانی اور روحانی اعتبار سے ساری کائنات سے بلند ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو وہ رفعت اور بلندی عطا فرماتا ہے جو کائنات میں کسی اور کے لئے متصور نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد رسول اللہﷺ  کے بارے میں فرمایا، وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (سورۃ الانشراح) اے محبوب! آپ کو اتنی رفعت عطا فرمائی گئی ہے کہ ہم نے آپ کے ذکر کو بھی آپ کیلئے بلند فرمایا۔ بہرحال یہ آٹھ معنیٰ نبی شرعی میں پائے جاتے ہیں اور یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ نبی اپنے کمالاتِ علمیہ اور عملیہ کے اعتبار سے تمام غیر انبیاء سے فائق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نبی کو وہ علم عطا فرماتا ہے جو غیر نبی کے لئے متصور نہیں۔ نبی کو وہ حکمت دیتا ہے جو کسی غیر نبی کیلئے متصور نہیں۔ نبی کے جسمانی قویٰ دوسرے انسانوں کے جسمانی قویٰ سے بہت بلندو بالا قویٰ ہوتے ہیں۔ نبی کے روحانی قویٰ، نبی کا علم، نبی کی عقل تمام انسانوں سے بلند و بالا اور اعلیٰ اور اتم ہوتی ہے۔
٭ آپ کو معلوم ہے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کی حکمت تو تخلیق انسانی کے مقصد کی تکمیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا،
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (سورۃ الذاریات آیت ۵۶) ہم نے جن و انس کو اپنی عبادت و معرفت کے لئے پیدا کیا ہے۔ عبادت کا مفہوم یہی نہیں کہ ہم پانچ وقت نماز ہی پڑھ لیں یا روزہ رکھ لیں یا زکوٰۃ دے دیں یا حج کر لیں۔ بلکہ انسان کی عبادت تو ہر سانس میں ہے۔ وہ جو سانس لے، جو عمل کرے، جو حرکت کرے، اس کے اندر اپنے رب کی رضا مقصود ہو جو کام بھی رضائے رب کے لئے کیا جائے اور وہ کام ایسا ہو کہ جس کام کے کرنے کا طریقہ شرع شریف سے ثابت ہے، وہ سب کام عبادت ہیں۔ یہاں تک کہ انسان کا کھانا کھانا بھی عبادت ہے۔ پانی پینا بھی عبادت ہے، اپنے اہل و عیال کے حقوق متعلقہ کا پورا کرنا، یہ سب عبادت ہے۔ چلنا پھرنا بھی عبادت ہے۔
٭ تو اب غور فرمائیے کہ انسان اپنی زندگی میں جتنے مرحلوں سے گزرے گا، وہ سب عبادت کے مرحلے ہیں۔ اب اسکو معلوم نہیں کہ کس طریقے سے میں اپنے رب کو راضی کروں اور کسطرح اپنی زندگی کو گزاروں اور کسطرح میں بات کروں اور کسطرح میں کوئی کام کروں اور میں اللہ تعالیٰ کی رضا کسطرح حاصل کروں۔ تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے رب سے اپنی کمزوریوں کی بنا پر وہ کوئی احکام نہیں لے سکتا، کوئی ہدایات نہیں لے سکتا اور کوئی حکم اپنے رب سے وہ حاصل نہیں کر سکتا۔ اسلئے کہ اسکے اندر کچھ ایسی بشری کمزوریاں ہیں کہ جن کمزوریوں کی وجہ سے وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے فیض حاصل نہیں کر سکتا۔ تو اب اگر اس کو کوئی فیض نہ پہنچے اور اس کو کوئی ایسا طریقہ حاصل نہ ہو، جس کی بنا پر وہ اپنے اس مقصد تخلیق میں کامیاب ہو تو کس طرح وہ کامیابی حاصل کرے گا اور وہ کیا کرے گا۔
٭ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مقصد تخلیق کی تکمیل کے لئے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا۔ اب وہ انبیاء بھی اگر انہی بشری کمزوریوں میں مبتلا ہوں تو پھر ان کی نبوت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے یہ بات طے شدہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے جسمانی قویٰ عام انسانی قویٰ سے بہت بلند و بالا اور قوی ہوتے ہیں۔ ان کی روحانیت بہت عظیم ہوتی ہے۔ ان کا علم بہت کامل ہوتا ہے۔ ان کی حکمت کامل ہوتی ہے۔ ان کے اخلاق اخلاقِ عظیمہ ہوتے ہیں، ان کا ہر قول، ان کا ہر فعل نبی اور رسول ہونے کی حیثیت سے شرع کی دلیل اور منجانب اللہ ہوتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا،
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (سورۃ الاحزاب آیت ۲۱) اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (سورۃ آل عمران آیت ۳۱) اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میرے محبوب! آپ فرما دیجئے کہ تم میری اتباع کرو اور اسی قرآن میں فرمایا، اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرٍ مِنْکُمْ (پ:۵، س: النساء، آیت: ۵۹)
٭ اگرچہ یہاں اللہ و رسول اور
اُولِی الْاَمْر تینوں کی اطاعت کا ذکر ہے لیکن اللہ کی اطاعت کے لئے اَطِیْعُوْا کا لفظ فرمایا اور رسول کی اطاعت کے لئے بھی اَطِیْعُوْا کا لفظ فرمایا اور اُولِی الْاَمْرٍ کا عطف کر دیا ماقبل پر۔ وہاں اَطِیْعُوْا کا لفظ ذکر نہیں فرمایا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ اُولِی الْاَمْرٍ کی اطاعت تو اسی بات میں ہو گی جو خدا اور رسول کے حکم کے مطابق ہو اور جو بات کسی غیر رسول کی خدا اور رسول کے حکم کے خلاف ہو تو ہرگز اس میں اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی اور جب بھی کوئی غیر رسول کوئی حکم ہمارے سامنے رکھے گا تو ہمیں حق ہے کہ ہم ان کے حکم کے صحیح ہونے اور اس کی اطاعت کے واجب ہونے پر ہم اس سے دلیل طلب کر لیں۔ اگر اس کا حکم صحیح ہے اور اس کے پاس اس حکم کے واجب الاتباع ہونے کی دلیل موجود ہے تو ہم اس کی اطاعت کریں گے اور اگر وہ حکم صحیح نہیں ہے اور اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو پھر ہم اس کی اتباع نہیں کریں گے اور اسی لئے رسول اکرم نے فرمایا
لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق
٭ یعنی ایسی بات میں مخلوق کی اطاعت نہیں ہو سکتی، جس میں خالق کی معصیت ہو تو اس لئے
اُولِی الْاَمْرٍ کے لئے مستقلاً اَطِیْعُوْا کا لفظ نہیں فرمایا بلکہ اس کا عطف ماقبل پر فرما دیا اور دونوں کے لئے فرمایا، اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ حالانکہ اَلرَّسُوْلَ میں بھی اَطِیْعُوْا کی بجائے عطف کیا جا سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے وہاں اَطِیْعُوْا فرمایا۔ یہ کیوں؟ مقصد یہ ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ کے حکم پر تم کوئی دلیل طلب نہیں کر سکتے۔ اسی طرح رسول کے حکم پر بھی تم کوئی دلیل طلب نہیں کر سکتے۔ بغیر طلب دلیل کے تم پر واجب ہے کہ خدا کی اطاعت کرو اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب رسول عام بشری کمزوریوں سے بالا تر ہو اور اگر اس کے اندر وہ بشری کمزوریاں ہیں اور اگر وہ غلطی کرتا ہے، اگر وہ گنہگار ہو سکتا ہے اور وہ اس قسم کی بشری کمزوریوں سے متصف ہو سکتا ہے تو پھر اس کی اطاعت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اس کی اطاعت کا واجب الاتباع ہونا، یہ متصور ہی نہیں ہوتا۔
٭ میں آپ کو بتاؤں کہ اللہ کی اطاعت بھی مستقلاً ہے اور رسول کی اطاعت بھی مستقلاً ہے۔ مگر یہ مستقلاً اس معنی میں نہیں ہے کہ خدا کی طرح معاذ اللہ، رسول بھی معبود ہوتا ہے۔ اللہ کا رسول معبود نہیں ہوتا، وہ تو عبد ہوتا ہے، وہ مخلوق ہوتا ہے، خالق نہیں ہوتا، وہ تو خدا نہیں ہوتا خدا نما ہوتا ہے۔بات یہ ہے کہ جس طرح اللہ کے حکم پر تم کوئی دلیل طلب کرنے کا حق نہیں رکھتے، اسی طرح رسول کے حکم پر بھی تم کوئی دلیل طلب کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ اس اعتبار سے ہم رسول کی اطاعت کو مستقل کہتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حکم تو رسول کا اپنا ذاتی ہو گا ہی نہیں، وہ تو اللہ ہی کا حکم ہو گا۔
٭ اللہ تعالیٰ کا حکم ہمیں رسول کی زبان سے ملے گا۔ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ رسول ہونے کی حیثیت سے رسول جو کچھ کہے گا اور وہ شرح کی دلیل قرار پائے گا۔ اسی لئے ہم رسول اللہ کی احادیث کو حجت شرعیہ سمجھتے ہیں اور ہمارا مسلک یہ ہے کہ قرآن میں سب کچھ ہے مگر اس کی وضاحت حدیث میں ہے اور حدیث میں بھی سب کچھ ہے۔ مگر اس کی وضاحت مجتہدین اور فقہاء کے اجتہادات میں ہے اور ان کی فقہ میں ہے۔ جس طرح کہ قرآن کا فہم اور قرآن پر عمل حدیث کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح احادیث کا فہم اور احادیث پر عمل کرنا، یہ فقہاء اور مجتہدین کے اجتہادات اور ان کی فقہ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ تو اس وقت اتنا موقع نہیں کہ میں ان تفصیلات میں جاؤں۔ میں نے اجمالی طور پر آپ کی خدمت میں عرض کر دیا ہے۔ بہرحال، مجھے بتانا یہ تھا کہ نبی عام بشری کمزوریوں سے بالکل پاک ہوتا ہے اور نبی بشر ضرور ہوتا ہے مگر وہ بے عیب بشر ہوتا ہے۔ نبی عبد ضرور ہوتا ہے مگر ایسا عبد ہوتا ہے کہ جو تمام عباد اللہ میں ممتاز، سب سے افضل اور اعلیٰ ہوتا ہے بلکہ وہ ایک ایسا عبد ہوتا ہے کہ جو اللہ اور عباد اللہ کے درمیان واسطہ ہوتا ہے اور وہ آئینہ ہوتا ہے حسن الوہیت کا اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے انعام کی جو ابتداء ہوتی ہے، وہ انبیاء سے ہوتی ہے۔ اسی لئے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِیْنَ
٭ جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا، جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہداء اور نیک لوگ۔(س: النساء، پ: ۵، آیت: ۶۹)
٭ کیونکہ نبوت پہلا انعام ہے اور نبوت سے صدیقیت کا ظہور ہو گا اور صدیقیت سے پھر شہادت اور صالحیت کا ظہور ہو گا۔ مجھے کہنے دیجیے کہ یہ صالحیت ہو یا شہادت یا صدیقیت ہو، یہ سب نبوت کا حسن ہیں اور نبوت بتمامہا یہ الوہیت کا حسن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو اپنے حسن الوہیت کا آئینہ بنایا۔ اللہ کے کلام کا جلوہ اللہ کے نبی کی ذات میں نظر آتا ہے۔ جب تک اللہ کا کلام، اللہ کا نبی ہمیں نہ سنائے ہمیں اللہ کے کلام کا علم ہی نہیں ہو سکتا۔ اللہ اپنے علم کا جلوہ اپنے نبی کو دیتا ہے، اپنی قدرت کا مظہر اپنے نبی کو بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے جلوے اپنے نبی کو عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام نیکیاں اور خوبیاں اور تمام اوصافِ حسنہ اور تمام کمالات کا آئینہ اپنے نبی کو بناتا ہے۔ پھر اس نبی سے ظہور ہوتا ہے تو صدیقین کا جلوہ سامنے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حسن الوہیت کے جلوے ہمیں انبیاء میں نظر آتے ہیں اور نبوت کے حسن کے جلوے ہمیں صدیقین میں نظر آتے ہیں۔
٭ صدیقیت کا کمال، شہادت کا کمال اور صالحیت کا کمال، ان سب آئینوں میں جو ہم دیکھ رہے ہیں، خدا کی قسم! ان سب کا منتہا نبوت کا مقام ہے اور نبوت اور کمالاتِ نبوت کا جو منتہا ہے، وہ بارگاہِ الوہیت ہے۔
٭ بہر نوع مجھے کہنے دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کو ایسی صفت عطا فرمائی کہ جس صفت کی بنا پر وہ تمام کائنات میں ممتاز ہے۔ نبی کو خدا سمجھنا یا خدا کا شریک سمجھنا یا خدا کا بیٹا سمجھنا شرک ہے۔ کوئی مسلمان اس کا قائل نہیں ہے۔ نبی خدا نہیں ہوتا۔ خدا نما ہوتا ہے یعنی خدا کے احکام کی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔ خدا کی معرفت عطا فرماتا ہے۔ نبی واجب الوجود نہیں ہوتا۔ وہ ممکن ہوتا ہے، نبی قدیم نہیں ہوتا، وہ حادث ہوتا ہے۔ نبی خالق نہیں ہوتا بلکہ وہ مخلوق ہوتا ہے اور نبی معبود نہیں ہوتا بلکہ وہ عبد ہوتا ہے۔ مگر ایسا عبد کہ تمام عباد میں ممتاز اور ایسا بشر کہ تمام بنی نوع بشر سے ممتاز، بے عیب اور بے نقص، تو اللہ تعالیٰ نبوت کے لئے ایک ایسے مقدس انسان کو منتخب فرماتا ہے جو کمالاتِ انسانیت سے متصف ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسمیں تمام علمی اور عملی استعداد کو پیدا فرما دیتا ہے اور اسیلئے قرآن کریم میں ایک اور مقام پر فرمایا
اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسٰلَتَہٗ (س: الانعام، آیت: ۱۲۴)
ترجمہ٭ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے۔
٭ معلوم ہوا
جعل رسالت کے لئے ایک خاص محل ہوتا ہے اور وہ محل وہ ہے کہ جو جسمانی، روحانی، ظاہری، باطنی طور پر اعلیٰ، اکمل اور اعظم ہوتا ہے۔ میں مختصر طور پر عرض کروں گا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے کمالات کا ظہور صدیقین میں ہوا، شہداء اور صلحاء میں ہوا۔ یہ نبوت کا آئینہ صدیقیت کا حسن اپنے اندر رکھتا ہے اور صدیقین کمال نبوۃ کا مظہر ہیں۔ اور مجھے کہنے دیجئے کہ جتنے صد یقین ہوئے اور امت مسلمہ میں صدیق اکبر جناب ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان کا کمال صدیقیت یہ حضور کے کمالِ نبوت کے حسن کا ظہور ہے۔ اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، جن کو اللہ تعالیٰ نے صدیقیت کے علاوہ شہادت بھی عطا فرمائی، یہ بھی حسن نبوت کا ظہور ہے۔ اور اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جن کو اللہ تعالیٰ نے حسن صدیقیت کے ساتھ حسن شہادت سے بھی نوازا، وہ بھی جمالِ نبوت ہے اور مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اللہ تعالیٰ نے حسن صدیقیت کے ساتھ حسن شہادت بھی ان کو عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اہل بیت اطہار، صحابہ کرام اور ازواجِ مطہرات رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو ان تمام خوبیوں سے نوازا اور مجھے کہنے دیجئے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی جو شہادت ہے وہ شہادتِ محمدی کا ظہور ہے۔ اس موضوع پر اور کچھ زیادہ تفصیل سے عرض نہیں کر سکتا۔ اتنا عرض کروں گا کہ دیکھیے، اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو بھی شہید فرمایا، وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَہِیْد (س بروج آیت ۹) اور رسول کے حق میں شہید کا لفظ ارشاد فرمایا، وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا اور اسی طرح مومنین کے حق میں فرمایا، لِتَکُوْنُوْا شُہَدَائَ عَلَی النَّاسِ (س بقرہ آیت ۱۴۳)
٭ اللہ بھی شہید ہے، رسول بھی شہید ہے اور مؤمنین بھی شہید ہیں۔ تو اب شہید کا مفہوم کیا ہے؟ اگر یہ کہیں کہ فقط مقتول فی سبیل اللہ کو شہید کہا جائے یعنی جو اللہ کی راہ میں مقتول ہو جائے، تو پھر نہ اللہ شہید ہو سکتا ہے ، نہ رسول شہید ہو سکتا ہے اور نہ تمام مؤمنین شہید ہو سکتے ہیں۔ اصل میں شہید کے معنی ہیں
الشہادۃ والشہود، الحضور مع المشاہدۃ اما بالبصر او بالبصیرۃ (۱)
٭ یعنی شہادت اور شہود کے یہ معنی ہیں کہ حاضر ہونا اور فقط حاضر ہونا نہیں بلکہ مشاہدے کے ساتھ حاضر ہونا، دیکھتے ہوئے، سنتے ہوئے اور جانتے ہوئے حاضر ہونا، یہ ہے شہادت اور شہود۔ میں تو مختصر طور پر عرض کرتا ہوں کہ اللہ کے شہید ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم و قدرت، اپنی حکمت اور سمع و بصر کے ساتھ تمام کائنات پر حاضر ہے۔ کائنات کا کوئی ذرہ ایسا نہیں ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ اپنے علم و قدرت اور اپنی سمع و بصر کے ساتھ حاضر نہ ہو۔اسی لئے ہم اللہ کے لئے حاضر ناظر کا لفظ استعمال کر جاتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ شہید ہے کہ وہ اپنی کائنات اور اپنے بندوں پر حاضر ہے اور مؤمنین شہید ہیں اس اعتبار سے کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ عظمت پناہ میں محل عزت پر حاضر ہیں۔ اس لئے مؤمنین کو شہید کہا گیا اور مقتولین فی سبیل اللہ ان کے لئے تو خاص قسم کا محل عزت اور محل کرامت مقرر فرمایا ہے جو خدا کی بارگاہ میں ہے اور جب یہ لوگ خدا کی بارگاہ میں اس محل عزت اور محل کرامت پر پہنچیں گے جو ان مقتولین فی سبیل اللہ کے لئے خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے تیار کیا ہے۔ تو یوں کہیے کہ اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور اس محل کرامت میں خدا کے سامنے موجود ہوں گے۔ تو جس قدر بھی مؤمنین مقتول فی سبیل اللہ ہیں، ان کے شہید ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اپنے اپنے مرتبے اور اپنے اپنے منصب کے مطابق یہ محل کرامت اور محل عزت پر خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ تو یوں کہیے کہ بندے کا حاضر ہونا، بندے کا شہید ہونا بایں معنیٰ ہے کہ وہ اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہے۔ خدا کا شہید ہونا بایں معنیٰ ہے کہ وہ اپنے بندوں پر حاضر ہے اس لئے شہید ہے اور بندے مؤمنین، مقتولین فی سبیل اللہ اپنے اپنے مناسب اور اپنے اپنے مراتب اور درجات کے اعتبار سے محل کرامت پانے کے لئے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہیں۔ لہٰذا مومن شہید ہے کہ وہ رب کی بارگاہ میں حاضر ہے اور رب اس لئے شہید ہے کہ وہ اپنے بندوں پر حاضر ہے اور رسول بھی شہید ہیں۔ قرآن نے کہا،
وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا (پ: ۲، آیت: ۱۴۳)
٭ رسول کے شہید ہونے کا مقصد کیا ہے؟ تو میں آپ کو بتا دوں کہ اس کے شہید ہونے کا مقصد یہ ہے کہ ہم تو خدا پر حاضر اور خدا ہم پر حاضر اور رسول ہم پر بھی حاضر اور خدا پر بھی حاضر، رسول بندوں پر بھی حاضر ہے کیونکہ اگر بندوں پر حاضر نہ ہو تو خدا کے ہاں وہ گواہی کیسے دے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰؤُلَائِ شَہِیْدًا (پ: ۵، س: النساء: آیت: ۴۱)
٭ ہر نبی اپنی امت پر شہید ہوتا ہے اور گواہ ہوتا ہے۔ اگر نبی اپنی امت اور اپنے غلاموں پر حاضر نہ ہو تو ان کی شہادت رب کی بارگاہ میں نہیں دے سکتا اور اگر وہ خدا پر حاضر نہ ہو تو اس کی شہادت بندوں کے سامنے دے نہیں سکتا۔ اس لئے نبی خدا پر بھی حاضر ہے اور بندوں پر بھی حاضر ہے۔ خدا کی بات بندوں کو پہنچاتا ہے اور بندوں کی بات خدا کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے اور اسی بنا پر اس کو شہید ہونے کا منصب حاصل ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی آیت اسی مضمون کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ
وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا اور فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا الخ
٭ بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام منصب نبوت پر جب فائز ہوتے ہیں تو انسانی تخلیق کے مقصد کی تکمیل کے لئے فائز ہوتے ہیں تو اس لئے اللہ تعالیٰ اس کام کو انجام دینے کے لئے انہیں کامل علم عطا فرماتا ہے اور ان کا کامل علم ایسا ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق فرمایا
وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَائَ کُلَّہَا (پ:۱، س: البقرۃ، آیت: ۳۱)
٭ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا
وَکَذٰلِکَ نُرِیْ اِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (انعام آیت ۷۵)
٭ اور اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ کے بارے میں فرمایا
وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ہ وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا ہ (پ: ۵، س: النساء، آیت: ۱۱۳)
٭ میں عرض کر رہا تھا کہ کامل علم جب تک نہ ہو، نبی منصب رسالت کے مطابق کام انجام نہیں دے سکتا اور نبی کے قویٰ اور نبی کا علم اگر کامل نہ ہو تو وہ ان تمام مناصب کی تکمیل نہیں کر سکتا۔ نبی کو اللہ تعالیٰ اتنی روحانی قوت عطا فرماتا ہے کہ وہ اپنی امت اور اپنے غلاموں کے قلوب کا تزکیہ کرتا ہے۔ اگر نبی کی روحانیت اکمل نہ ہو، نبی کی روحانیت قویٰ نہ ہو تو کیسے وہ ہمارا تزکیہ فرما سکتا ہے۔ قرآن نہ کہا
لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ (پ: ۴، س: آل عمران، آیت: ۱۶۴)
٭ تو اس آیت میں صاف واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نبیوں کو اسلئے بھیجتا ہے اور اپنے حبیب کو اسلئے بھیجا کہ ہمارے نفس کاتزکیہ کریں۔ ہمارے باطن کو پاک کریں۔ جب تک انکی روحانیت اتنی قوی نہ ہو کہ اسکا اثر ہمارے باطن تک پہنچے تو کسطرح ہم پاک ہو سکتے ہیں۔
 

پچھلا صفحہ             اگلاصفحہ

ہوم پیج