بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ
کے مختصر حالاتِ زندگی

٭ ضیغم اسلام حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی ! سرمایہ افتخار، محدث بے بدل، فقیہہ اور عظیم ترین محقق تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم حدیث کی ترویج میں گزارا تھا۔ مختلف علمی موضوعات پر تحقیقی تصنیفات سپرد قلم کیں۔ سینہ میں ملت کا گہرا درد رکھتے تھے اور ہر ضرورت کے موقع پر ملک اور قوم کے لئے گراں بہا قربانیاں دیں۔ مسلک سے والہانہ لگن اور اہل سنت کے حقوق کی پامالی پر ہمیشہ مضطرب رہتے تھے۔
٭ حضرت کے تلامذہ کی بھی ایک طویل فہرست ہے جو ملک اور بیرون ملک میں دین کے متعدد شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ چشتی قادری نقشبندی اور سہروردی ان تمام سلسلوں میں اجازت بیعت حاصل تھی۔ مگر سلسلہ چشتیہ صابریہ میں بیعت کرتے تھے۔ تلامذہ کی طرح مریدین کا حلقہ بھی بہت وسیع ہے اور پاکستان کے قریہ قریہ میں آپ کے ارادتمند پھیلے ہوئے ہیں۔
٭ حضرت علامہ کاظمی صاحب بے حد منکسر المزاج اور متواضع شخصیت کے مالک تھے۔ جس شخص کو بھی آپ کیساتھ کچھ روز گزارنے کا اتفاق ہوتا تھا، وہ آپ کے حسن اخلاق کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ طبیعت میں سوز وگداز تھا۔ درسِ حدیث کیوقت اکثر آنکھیں اشکبار رہتی تھیں۔ ایک مرتبہ مدرسہ سراج العلوم خانپور ضلع رحیم یار خان کے سالانہ جلسہ میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کے عنوان پر تقریر کر رہے تھے۔ عجب سماں تھا۔ پنڈال میں ہزاروں کی تعداد میں سامعین بیٹھے ہوئے تھے اور سب کی آنکھوں سے سیل اشک جاری تھا۔ اس وقت آپ دورانِ تقریر سٹیج پر سے گر پڑے۔ ہر شخص پر رقت کا عالم طاری تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی یاد میں لوگوں کی آنکھوں سے آنسو نہ تھمتے تھے۔ ہچکیوں میں ڈوبی ہوئی آوازیں۔ اشکوں کا سیل رواں اور پرسوز نالے ۔ غرض تمام سامعین پر عجیب قسم کی از خود وارفتگی طاری تھی۔
٭ آپ کی علمی کاوشوں اور سیرت کی جھلکیوں کا مختصر خاکہ پیشِ خدمت ہے۔
٭ غزالی دوراں ابو النجم سید احمد سعید کاظمی کا سلسلہ نسب سیدنا امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ سے منسلک ہے۔ ۱۹۱۳ء میں آپ مراد آباد کے مضافاتی شہر امروہہ میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد کا اسم گرامی سید محمد مختار کاظمی ہے۔ ایام طفولیت میں ہی والد محترم کا سایہ اٹھ گیا تھا۔ آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے برادر معظم استاذ العلماء حضرت علامہ سید محمد خلیل صاحب کاظمی خاکی محدث امروہی رحمۃ اللہ علیہ کی زیر نگرانی ہوئی۔ حضرت سید محمد خلیل کاظمی علیہ الرحمۃ انتہائی جید فاضل عظیم محدث اور صاحب نظر درویش تھے۔ شعر و سخن سے بھی دلچسپی تھی اور ہمیشہ حضورﷺ کی محبت میں ڈوبی ہوئی نعتیں کہا کرتے تھے۔ چونڈیرہ ضلع بلند شہر شاہ جہاں پور اور امروہہ میں سالہا سال تدریس فرمائی۔ دورئہ حدیث شریف ہمیشہ پڑھایا اور مختلف فنون کی بڑی کتابیں بھی پڑھاتے رہے۔ کیسا ہی مشکل سوال ہو، فی البدیہہ ایسا سلجھا ہوا نفیس جواب ہوتا کہ زبان سے بے ساختہ
سبحان اللّٰہنکلے اور دل مطمئن ہو کر مسرور ہو جائے۔ پاک و ہند و دیگر ممالک اسلامیہ میں آپ کے شاگرد ہزاروں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
٭ حضرت علامہ کاظمی صاحب نے ابتداء سے انتہا تک تمام تعلیم اپنے برادرِ معظم سے ہی حاصل کی اور آپ ہی کے دست حق پرست پر (سلسلہ چشتیہ صابریہ) میں بیعت ہوئے۔ سولہ سال کی عمر میں سند فراغت حاصل کی۔ دستار بندی کے موقع پر حضرت شاہ علی حسین صاحب اشرفی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے اور اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ کے سر پر دستارِ فضیلت باندھی۔ اس تقریب میں حضرت مولانا معوان صاحب رامپوری، حضرت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی، مولانا نثار احمد صاحب کانپوری و دیگر علماء اکابر اور اعاظم مشائخ اہلسنّت موجود تھے، جنہوں نے آپ کو خصوصی دعاؤں سے نوازا۔

اگلاصفحہ

ہوم پیج