اِجماعِ اُمت


۔ قال محمّد بن سحنون اجمع العلماء ان شاتم النّبی صلّی اللہ علیہ وسلّم المتنقّص لہٗ کافر والوعید جار علیہ بعذاب اللہ لہٗ وحكمہٗ عند الامّة القتل ومن شكّ فی كفرہٖ وعذابہٖ كفر۱۔
ترجمہ: محمد بن سحنون نے فرمایا، علماءِ اُمت کا اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والاحضور ﷺ کی توہین کرنے والاکافر ہے اور اُس کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید جاری ہے اور اُمت کے نزدیک اُس کا حکم قتل ہے۔ جو اُس کے کفر اور عذاب میں شک کرے، کافر ہے۔
۔ وقال ابو سلیمان الخطابی لا اعلم احدا من المسلمین اختلف فی وجوبِ قتلہٖ اذا کان مسلمًا۲۔
ترجمہ: امام ابو سلیمان الخطابی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے فرمایا، جب مسلمان کہلانے والا نبی ﷺ کے سبّ کا مرتکب ہو تو میرے علم میں کوئی ایسا مسلمان نہیں جس نے اُس کے قتل میں اختلاف کیا ہو۔
۔ واجمعت الامّة علٰی قتل متنقّصہ من المسلمین وسابہٗ۳۔
ترجمہ: اُمت کا اجماع ہے کہ مسلمان کہلا کر حضور کی شان میں سبّ اور تنقیص کرنے والاقتل کیا جائے گا۔
۔
قال ابو بکر بن المنذر اجمع عوام اھل العلم علٰی ان من سبّ النّبی صلّی اللہ علیہ وسلّم یقتل قال ذٰلك مالك بن انس واللّیث واحمد واسحاق وھو مذھب الشّافی قال القاضی ابو الفضل وھو مقتضی قول ابی بکر نِالصدیق رضی اللہ عنہ ولا تقبل توبتہ عند ھٰؤلاء وبمثلہٖ قال ابو حنیفة واصحابہٗ والثّوری واھل الكوفة والأوزاعی فی المسلمین لٰكنّھم قالوا ھی ردّة۱۔
ترجمہ: امام ابو بکر بن منذر نے فرمایا، عامہ علماء اِسلام کا اجماع ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو سَبّ کرے، قتل کیا جائے گا۔ اِن ہی میں سے مالک بن انس، لیث، احمد، اسحاق (رحمہم اللّٰہ) ہیں اور یہی شافعی کا مذہب ہے۔ قاضی عیاض نے فرمایا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے قول کا یہی مقتضیٰ ہے۔ (پھر فرماتے ہیں) اور اِن ائمہ کے نزدیک اس کی توبہ بھی قبول نہ کی جائے گی۔ امام ابو حنیفہ، اُن کے شاگردوں، امام ثوری، کوفہ کے دُوسرے علماء اور امام اوزاعی کا قول بھی اِسی طرح ہے۔ اُن کے نزدیک یہ ردّت ہے۔
۔ انّ جمیع من سبّ النّبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم او عابہ او الحق بہٖ نقصًا فی نفسہٖ او نسبہٖ او دینہٖ او خصلة من خصالہٖ او عرّض بہٖ او شبّھہٗ بشئ علٰی طریق السّبّ لہٗ او الازراء علیہ او التّصغیر بشانہٖ او الغضّ منہ والعیب لہٗ فھو سابٌّ لّہٗ والحكم فیہ حکم السّابّ یقتل كما نبیّنہٗ ولا نستثنی فصلًا مّن فصول ہٰذا الباب علٰی ھٰذا المقصد ولا نمتری فیہ تصریحًا کان او تلویحًا وھٰذا كلّہٗ اجماعٌ مّن العلماء وائمّة الفتوٰی من لدن الصّحابة رضوان اللہ علیھم الٰی ھلم جرا۲۔
ترجمہ: بے شک ہر وہ شخص جس نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی یا حضور ﷺ کی طرف کسی عیب کو منسوب کیا یا حضور کی ذاتِ مقدسہ، آپ کے نسب، دِین یا آپ کی کسی خصلت سے کسی نقص کی نسبت کی یا آپ پر طعنہ زنی کی یا جس نے بطریق سبّ اِہانت یا تحقیر شان مبارک یا ذاتِ مقدسہ کی طرف کسی عیب کو منسوب کرنے کے لیے حضور ﷺ کو کسی چیز سے تشبیہ دِی، وہ حضور ﷺ کو صراحۃ گالی دینے والا ہے، اُسے قتل کر دِیا جائے۔ ہم اِس حکم میں قطعاً کوئی استثنا نہیں کرتے۔ نہ ہم اِس میں کوئی شک کرتے ہیں۔ خواہ صراحۃ توہین ہو یا اشارةً کنایۃً۔ اور یہ سب علماءِ اُمت اور اہل فتویٰ کا اجماع ہے۔ عہد صحابہ سے لے کر آج تک۔ (رضی اللّٰہ عنہم)
۔ والحاصل انّہٗ لا شكّ ولا شبھة فی کفر شاتم النّبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم وفی استباحة قتلہ وھو المنقول عن الائمة الاربعة۱۔
ترجمہ: خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کو گالی دینے والے کے کفر اور اُس کے مستحقِ قتل ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ چاروں ائمہ (ابو حنیفہ، مالک، شافعی، احمد بن حنبل) سے یہی منقول ہے۔
۔ كلّ من ابغض رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم بقلبہٖ کان مرتدًا فالسّابّ بطریق اولٰی ثمّ یقتل حدًا عندنا۲۔
ترجمہ: جو شخص رسول اللّٰہ ﷺ سے اپنے دِل میں بغض رکھے وہ مرتد ہے۔ آپ ﷺ کو گالی دینے والا بطریق اولیٰ مستحقِ گردن زنی ہے۔ پھر (مخفی نہ رہے کہ) یہ قتل ہمارے نزدیک بطورِ حدّ ہو گا۔
۔ ابما رجل مسلم سبّ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم او كذّبہ او عابة او تنقصہ فقد کفر باللہ وبانت منہ زوجتہ۱۔
ترجمہ: جو مسلمان رسول اللّٰہ ﷺ کو سبّ کرے یا تکذیب کرے یا عیب لگائے یا آپ کی تنقیص شان کا (کسی اور طرح سے) مرتکب ہو، تو اُس نے اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اُس سے اُس کی زوجہ اُس کے نکاح سے نکل گئی۔
۔ اذا عاب الرّجل النّبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم فی شیء کان کافر او كذا قال بعض العلَماء لو قال لشعر النّبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم شعیر فقد کفر و عن ابی حفص الكبیر من عاب النّبیّ صلّی اللہُ علیہ وسلّم بشعرة من شعراتہ الكریمة فقد کفر و ذكر فی الاصل ان شتم النّبیّ کفر۲۔
ترجمہ: کسی شے میں حضور ﷺ پر عیب لگانے والا کافر ہے اور اِسی طرح بعض علماء نے فرمایا، اگر کوئی حضور ﷺ کے بال مبارک کو شَعر کے بجائے (بصیغہ تصغیر) شُعَیر کہہ دے تو وہ کافر ہو جائے گا۔ اور امام ابو حفص الکبیر (حنفی) سے منقول ہے کہ اگر کسی نے حضور ﷺ کے کسی ایک بال مبارک کی طرف بھی عیب منسوب کیا تو وہ کافر ہو جائے گا اور امام محمد نے مبسوط میں فرمایا کہ نبی ﷺ کو گالی دینا کفر ہے۔
۔ ولا خلاف بین المسلمین ان من قصد النّبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم بذٰلك فھو ممّن ینتحل الاسلام انّہٗ مرتد یستحق القتل۳۔
ترجمہ: کسی مسلمان کو اِس میں اختلاف نہیں کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ کی اہانت و اِیذا رسانی کا قصد کیا اور وہ مسلمان کہلاتا ہے، وہ مرتد مستحقِ قتل ہے۔
یہاں تک ہمارے بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کتاب و سنت اجماعِ امت اور اقوال علمائے دِین کے مطابق گستاخِ رسول کی سزا یہی ہے کہ وہ حَدًّا قتل کیا جائے۔ اِس کے بعد حسب ذیل اُمور کی وضاحت بھی ضروری ہے
 بارگاہِ نبوت کی توہین و تنقیص کو موجب حَدّ جرم قرار دینے کے لیے یہ شرط صحیح نہیں کہ گستاخی کرنے والے نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی غرض سے گستاخی کی ہو۔ یہ شرط ہر گستاخِ نبوت کے تحفظ کے مترادف ہو گی اور توہین رِسالت کا دروازہ کھل جائے گا۔ ہر گستاخِ نبوت اپنے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے یہ کہہ کر چھوٹ جائے گا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا میری غرض نہ تھی۔ علاوہ ازیں یہ شرط کتاب اللّٰہ کے بھی منافی ہے۔ سورة توبہ کی آیت ہم لکھ چکے ہیں کہ توہین کرنے والے منافقوں کا یہ عذر کہ ہم تو آپس میں صرف دِل لگی کرتے تھے۔ ہماری غرض توہین کی نہ تھی۔ نہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل کرنا ہمارا مقصد تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے مسترد کر دِیا اور واضح طور پر فرمایا
لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ بہانے نہ بناؤ، اِیمان کے بعد تم نے کفر کیا۔
 صریح توہین میں نیت کا اعتبار نہیں۔
رَاعِنَا کہنے کی ممانعت کے بعد اگر کوئی صحابی نیت توہین کے بغیر حضور ﷺ کو رَاعِنَا کہتا تو وہ وَ اسْمَعُوْا وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ کی قرآنی وعید کا مستحق قرار پاتا، جو اِس بات کی دلیل ہے کہ نیت توہین کے بغیر بھی حضور ﷺ کی شان میں توہین کا كلمہ کہنا کفر ہے۔
امام شہاب الدین خفا جی حنفی اِرقام فرماتے ہیں
المدار فی الحكم بالكفر علی الظّواھر ولا نظر للمقصود والنّیّات ولا نظر لقرائن حالہٖ۔
توہین رسالت پر حکم کفر کا مدار ظاہر الفاظ پر ہے۔ توہین کرنے والے کے قصد و نیت اور اُس کے قرائن حال کو نہیں دیکھا جائے گا۔ ورنہ توہین رسالت کا دروازہ کبھی بند نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ ہر گستاخ یہ کہہ کر بری ہو جائے گا کہ میری نیت اور اِرادہ توہین کا نہ تھا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ توہین صریح میں کسی گستاخِ نبوت کی نیت اور قصد کا اعتبار نہ کیا جائے۔
 یہاں اِس شبہ کا اِزالہ بھی ضروری ہے کہ اگر کسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجوہ کفر کی ہوں اور اِسلام کی صرف ایک وجہ کا احتمال ہو تو فقہاء کا قول ہے کہ کفر کا فتویٰ نہیں دِیا جائے گا۔ اِس کا ازالہ یہ ہے کہ فقہاء کا یہ قول اس تقدیر پر ہے کہ کسی مسلمان کے کلام میں ننانوے وجوہِ کفر کا صرف احتمال ہو، کفر صریح نہ ہو۔ لیکن جو کلام مفہومِ توہین میں صریح ہو اُس میں کسی وجہ کو ملحوظ رکھ کر تاویل کرنا جائز نہیں۔ اِس لیے کہ لفظِ صریح میں تاویل نہیں ہو سکتی۔ قاضی عیاض رحمۃ اللّٰہ علیہ نے لکھا:
قال حبیب ابن الرّبیع لان ادعاء التّأویل فی لفظ صراح لا یقبل۔
ترجمہ: حبیب بن ربیع نے فرمایا کہ لفظِ صریح میں تاویل کا دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا۔
کسی کلام کا توہین صریح ہونا عرف اور محاورے پر مبنی ہے۔ معذرت کے ساتھ بطور مثال پیش کرتا ہوں کہ اگر کسی کو ولد الحرام کہاجائے اور کہنے والا لفظ حرام کی تاویل کرے اور کہے کہ میں نے المسجد الحرام اور بیت اللّٰہ الحرام کی طرح معظم اور محترم کے معنیٰ میں یہ لفظ بولاہے، تو اُس کی یہ تاویل کسی ذی فہم کے نزدیک قابل قبول نہ ہو گی کیونکہ عرف اور محاورے میں ولد الحرام کا لفظ گالی اور توہین ہی کے لیے بولاجاتا ہے۔ اسی طرح ہر وہ کلام جس سے عرف اور محاورے میں توہین کے معانی مفہوم ہوتے ہوں، توہین ہی قرار پائے گا، خواہ اُس میں ہزار تاویلیں ہی کیوں نہ کی جائیں۔ عرف اور محاورے کے خلاف تاویل معتبر نہ ہو گی۔
 یہاں اِس شبے کو دُور کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر توہین رسول کی سزا حَدًّا قتل کرنا ہے تو کئی منافقین نے حضور ﷺ کی صریح توہین کی۔ بعض اوقات صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم نے عرض کی کہ حضور! ہمیں اِجازت دیں کہ ہم اِس گستاخ منافق کو قتل کر دیں، لیکن حضور ﷺ نے اِجازت نہیں دی۔
ابن تیمیہ نے اِس کے متعدد جوابات لکھے ہیں۔ جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے
ا۔ اس وقت اُن لوگوں پر حَدّ قائم کرنا فسادِ عظیم کا موجب تھا۔ اُن کے کلماتِ توہین پر صبر کر لینا اس فساد کی نسبت آسان تھا۔
ب۔ منافقین اعلانیہ توہین رسالت نہ کرتے تھے بلکہ آپس میں چھپ کر حضور ﷺ کے حق میں توہین آمیز باتیں کیا کرتے تھے۔
ج۔ منافقین کے ارتکابِ توہین کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم کا حضور ﷺ سے اُن کے قتل کی اِجازت طلب کرنا اِس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم جانتے تھے کہ گستاخِ رسول کی سزا قتل ہے۔
گستاخانِ شانِ رسالت ابو رافع یہودی اور کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا حکم رسول اللّٰہ ﷺ نے صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کو دِیا تھا۔ اِس حکم کی بناء پر صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم کو علم تھا کہ حضور ﷺ کی شان میں توہین کرنے والاقتل کا مستحق ہے۔
د۔ رسول اللّٰہ ﷺ کے لیے جائز تھا کہ وہ اپنے گستاخ اور مُوذی کو اپنی حیات میں معاف فرما دیں لیکن اُمت کے لیے جائز نہیں کہ وہ حضور ﷺ کے گستاخ کو معاف کر دے۔
نبی اکرم ﷺ اور دیگر انبیائے کرام اللّٰہ تعالیٰ کے اِس حکم کو بجا لائے کہ آپ معافی کو اختیار فرمائیں اور جاہلوں سے منہ پھیر لیں اور نیکی کا حکم دیں۔

(سورة اعراف، آیت ۱۹۹)

میں عرض کروں گا کہ گستاخِ رسول پر قتل کی حَدّ جاری کرنا ایسی حَدّ ہے جو رسول اللّٰہ ﷺ کا اپنا حق ہے۔ اگرچہ رسول اللّٰہ ﷺ کی توہین حضور کی اُمت کے لیے بھی سخت ترین اذیت کا موجب ہے اور اِس طرح اِس حَدّ کو پوری اُمت کا حق بھی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن بلا واسطہ نہیں بلکہ بواسطہ ذاتِ اقدس کے اور اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے حضور ﷺ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ اپنا یہ حق کسی کو خود معاف فرما دیں۔ جیسا کہ بعض دِیگر احکامِ شرع کے متعلق دلیل سے ثابت ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اُن احکام میں حضور ﷺ کو اختیار عطا فرمایا۔ مثلاً حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے حضرت ابو بردہ کو بکری کے ایک بچے کی قربانی کرنے کا حکم دِیا اور فرمایا:
ولن تجزی عن احد بعدك
کہ (یہ قربانی) تمہارے علاوہ کسی دُوسرے پر ہرگز جائز نہیں۔
اِسی طرح حضرت ابن عباس اور حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جب حضور ﷺ نے حرم مکہ کی گھاس کاٹنے کو حرام قرار دِیا تو حضرت عباس نے عرض کی
اِلّا الْاَذْخَر یعنی اذخر گھاس کو حرمت کے اِس حکم سے مستثنٰی فرما دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا اِلّا الْاَذْخَر یعنی اذخر کو حرمت کے حکم سے ہم نے مستثنٰی فرما دِیا۔
اِس حدیث کے تحت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ اور نواب صدیق حسن خان بھوپالی تحریر فرماتے ہیں
و در مذہب بعضے آن است کہ اَحکام مفوّض بُود بوے صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہر چہ خواہد و برہد کہ خواہد حلال و حرام گرداند و بعضے گویند با اجتہاد گفت۔ و اوّل اصح و اظہر است۔
یعنی بعض کا مذہب یہ ہے کہ احکامِ شرعیّہ حضور ﷺ کے سپرد کر دئیے گئے تھے۔ جس کے لیے جو کچھ چاہیں حلال اور حرام فرما دیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں، حضور علیہ الصلوٰة والسلام نے یہ اجتہاد کے طور پر فرمایا تھا اور پہلا مذہب اصح اور اظہر ہے۔
اِن احادیث کی روشنی میں حضور ﷺ کو یہ اختیار حاصل ہو سکتا ہے کہ کسی حکمت و مصلحت کے لیے حضور ﷺ اُن منافقین پر قتل کی حَدّ جاری نہ فرمائیں، لیکن حضور ﷺ کے بعد کسی کو یہ اختیار نہیں۔
آخر میں عرض کروں گا کہ توہین رسالت کی حَدّ اُسی پر جاری ہو سکے گی، جس کا یہ جرم قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو جائے۔ اس کے بغیر کسی کو اس جرم کا مرتکب قرار دے کر قتل کرنا ہرگز جائز نہیں۔ تواتر بھی دلیل قطعی ہے۔ اگر کوئی شخص توہین کے کلماتِ صریحہ بول کر یا لکھ کر اِس بات کا اعتراف کرے کہ یہ کلمات میں نے بولے یا میں نے لکھے ہیں تو یقیناً وہ واجب القتل ہے۔ خواہ وہ کتنے ہی بہانے بنائے اور کہتا پھرے کہ میری نیت توہین کی نہ تھی۔ یا اِن کلمات سے میری غرض یہ نہ تھی کہ میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاؤں۔ بہرحال وہ مستحقِ قتل ہے۔
علیٰ ہٰذا وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ کی توہین صریح کی تاویل کر کے اس کے مرتکب کو کفر سے بچانا چاہیں بالکل اُسی طرح قتل کے مستحق ہیں جیسا کہ خود توہین کرنے والا مستوجب حَدّ ہے۔ شاتم رسول کے حق میں محمد بن سحنون کا قول ہم شفاء، قاضی عیاض اور الصارم المسلول سے نقل کر چکے ہیں کہ
وَمَنْ شَكَّ فِیْ کفرہٖ وَعَذَابِہٖ كَفَرَ۔