گستاخِ رسول کا قتل

غلافِ کعبہ سے لپٹے ہوئے توہین رسول کے مرتکب مرتد کو مسجد حرام میں قتل کرنے کا حکم رسول اللّٰہ ﷺ نے دِیا۔
حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دِن رسول اللّٰہ ﷺ مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔ کسی نے حضور ﷺ سے عرض کی، حضور! (آپ کی شان میں توہین کرنے والا) ابن حنظل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا:
اقتلوہ اُسے قتل کر دو۔


یہ عبد اللّٰہ بن حنظل مرتد تھا۔ اِرتداد کے بعد اُس نے کچھ ناحق قتل کیے۔ رسول اللّٰہ ﷺ کی ہجو میں شعر کہہ کر حضور کی شان میں توہین و تنقیص کیا کرتا تھا۔ اُس نے دو گانے والی لونڈیاں اِس لیے رکھی ہوئی تھیں کہ وہ حضور ﷺ کی ہجو میں اشعار گایا کریں۔ جب حضور ﷺ نے اُس کے قتل کا حکم دِیا تو اُسے غلافِ کعبہ سے باہر نکال کر باندھا گیا اور مسجد حرام میں مقامِ ابراہیم اور زَم زَم درمیان اُس کی گردن ماری گئی۔


یہ صحیح ہے کہ اُس دِن ایک ساعت کے لیے حرمِ مکہ کو حضور ﷺ کے لیے حلال قرار دے دِیا گیا تھا لیکن بالخصوص مسجد حرام میں مقامِ ابراہیم اور زَم زَم کے درمیان اُس کا قتل کیا جانا اِس بات کی دلیل ہے کہ گستاخِ رسول باقی مرتدین سے بدرجہا بدتر و بدحال ہے۔